معاف کرنے والے کیوں بنیں؟
کینیڈا کے دی ٹرانٹو سٹار کی رپورٹ کے مطابق، ”سائنسدانوں کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ معافی یقیناً جذباتی—اور ممکنہ طور پر جسمانی—صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔“ تاہم، سٹینفورڈ یونیورسٹی، یو.ایس.اے. کا پروفیسر کارل تھوریسن، سٹینفورڈ فارگیونس پراجیکٹ کا ممتاز محقق بیان کرتا ہے کہ ”بہت کم لوگ معافی اور اسکے فوائد کو سمجھتے ہیں۔“
حقیقی معافی مسیحیت کا ایک اہم پہلو ہے۔ دی ٹرانٹو سٹار کی رپورٹ بیان کرتی ہے کہ اسکا مطلب ”ناانصافی کا شکار ہونے کے باوجود تمامتر خفگی کو دُور کرکے خطاکار کیساتھ رحم اور محبت سے پیش آنا ہے۔“ اس بات کو مدِنظر رکھنا لازمی ہے کہ معافی اور کسی خطا سے چشمپوشی، لاپرواہی، غفلت یا پہلوتہی برتنے میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اسکا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم مسلسل کسی بدسلوکی کا نشانہ بنتے رہیں۔ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ حقیقی معافی کی کُنجی ”غصے اور منفی احساسات کو اپنے دل سے نکال دینا ہے۔“
محققین کا کہنا ہے کہ معافی کے جسمانی فوائد پر ابھی مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم، وہ ”تناؤ، پریشانی اور افسردگی میں کمی“ جیسے نفسیاتی فوائد کی تصدیق ضرور کرتے ہیں۔
افسیوں ۴:۳۲ معاف کرنے کی ایک عمدہ وجہ بیان کرتی ہے: ”ایک دوسرے پر مہربان اور نرمدل ہو اور جس طرح خدا نے مسیح میں تمہارے قصور معاف کئے ہیں تم بھی ایک دوسرے کے قصور معاف کرو۔“ دیگر معاملات کی طرح معافی کے سلسلے میں بھی ہمیں خدا کی مانند بننے کی تاکید کی گئی ہے۔—افسیوں ۵:۱۔
رحم کی گنجائش ہونے کے باوجود دوسروں کو معاف نہ کرنا خدا کے ساتھ ہمارے اپنے رشتے کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہوواہ ہم سے ایک دوسرے کو معاف کرنے کی توقع کرتا ہے۔ اس صورت میں ہم اُس سے اپنے گناہوں کی معافی کیلئے بھی دُعا کرنے کے قابل ہونگے۔—متی ۶:۱۴؛ مرقس ۱۱:۲۵؛ ۱-یوحنا ۴:۱۱۔