یہوواہ کا وفادار رہنا
اگرچہ، وفاداری آجکل شاذونادر ہی نظر آتی ہے توبھی یہ سچے خدا یہوواہ کے خادموں کی امتیازی صفت ہے۔ ایک وفادار شخص آزمائشوں اور وقت کے تھپیڑوں کے باوجود ثابتقدمی اور استقلال کا دامن نہیں چھوڑتا۔ نیک بادشاہ حزقیاہ کی مثال پر غور کریں۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”اُسکے بعد یہوداہ کے سب بادشاہوں میں اُسکی مانند ایک نہ ہوا اور نہ اُس سے پہلے کوئی ہوا تھا۔“ کس چیز نے حزقیاہ کو لاثانی بنا دیا تھا؟ جھوٹے معبود مولک کے پرستاروں کے درمیان رہنے کے باوجود وہ ”[یہوواہ] سے لپٹا رہا۔“ جیہاں، حزقیاہ ”[یہوواہ] کی پیروی کرنے سے باز نہ آیا بلکہ اُس کے حکموں کو مانا۔“—۲-سلاطین ۱۸:۱-۶۔
پولس رسول بھی یہوواہ کا وفادار تھا۔ مسیحی یونانی صحائف میں موجود اس کی خدمتگزاری کا ریکارڈ اس بات کی واضح طور پر تصدیق کرتا ہے کہ اُس نے وفاداری اور پورے دلوجان سے خدا کی خدمت کی تھی۔ اپنی زمینی زندگی کے آخر میں پولس اپنی بابت یہ کہہ سکتا تھا: ”مَیں اچھی کشتی لڑ چکا۔ مَیں نے دَوڑ کو ختم کر لیا۔ مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا۔“—۲-تیمتھیس ۴:۷۔
حزقیاہ اور پولس وفاداری کی کتنی عمدہ مثالیں ہیں! دُعا ہے کہ ہم بھی اُنکے ایمان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے عظیم خدا یہوواہ کے وفادار رہیں۔—عبرانیوں ۱۳:۷۔