یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م00 1/‏5 ص.‏ 32
  • اُس نے اُصول کی خاطر جان دے دی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اُس نے اُصول کی خاطر جان دے دی
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
م00 1/‏5 ص.‏ 32

اُس نے اُصول کی خاطر جان دے دی

‏”‏ہمیں یہوواہ کا ایک گواہ اگسٹ ڈکمین (‏پیدائش ۱۹۱۰)‏ یاد ہے۔“‏ زاکسن‌ہاؤسن میں سابقہ مرکزِاسیران سے حال ہی میں ملنے والی ایک تختی (‏تصویر میں دکھائی دے رہی ہے)‏ پر یہ عبارت کندہ تھی۔ ایک یہوواہ کے گواہ کو ایسا اعزاز کیوں حاصل ہوا؟ باقی عبارت اسکی وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏[‏اُسے]‏ ستمبر ۱۵، ۱۹۳۹ کو مذہبی اعتقادات کی بِنا پر فوجی خدمات انجام دینے سے انکار کرنے کے جُرم میں ایس‌ایس نے سب کے سامنے گولی مار دی۔“‏

اگسٹ ڈکمین کو زاکسن‌ہاؤسن کے مرکزِاسیران میں ۱۹۳۷ میں قید کِیا گیا تھا۔ سن ۱۹۳۹ میں دوسری جنگِ‌عظیم چھڑ جانے کے تین دن بعد، اسے فوج میں بھرتی ہونے کی درخواست پر دستخط کرنے کا حکم دیا گیا۔ جب اُس نے انکار کر دیا تو کیمپ کے کمانڈر نے ہنرک ہم‌لر، ایس‌ایس (‏شٹزسٹیفل،‏ ہٹلر کے خاص گارڈ)‏ کے سربراہ سے رابطہ کرکے ڈکمین کو کیمپ کے تمام لوگوں کے سامنے جان سے مار ڈالنے کی اجازت طلب کی۔ ستمبر ۱۷، ۱۹۳۹ کو جرمنی سے دی نیو یارک ٹائمز نے خبر دی:‏ ”‏۲۹سالہ اگسٹ ڈکمین، .‏ .‏ .‏ فائرنگ سکواڈ کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔“‏ اخبار نے بیان کِیا کہ وہ مذہبی اعتقادات کی بِنا پر جنگ میں شرکت کرنے سے انکار کرنے والا جرمنی کا پہلا باشندہ تھا۔‏

ساٹھ سال بعد، ستمبر ۱۸، ۱۹۹۹ کو برانڈن‌برگ میموریل فاؤنڈیشن نے ڈکمین کی موت کی یادگار منائی اور اب یہ یادگار تختی تمام سیاحوں کو اُسکی بہادری اور مضبوط ایمان کی یاد دلاتی ہے۔ اس سابقہ کیمپ کی بیرونی دیوار پر ایک اَور تختی سیاحوں کو یاد دلاتی ہے کہ ڈکمین زاکسن‌ہاؤسن میں اپنے اعتقادات کی خاطر اذیت کا نشانہ بننے والے تقریباً ۹۰۰ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک تھا۔ بہتیرے گواہوں نے دوسرے کیمپوں میں اذیت اُٹھائی تھی۔ جی‌ہاں، مراکزِاسیران کی ہولناک حالتوں کے باوجود بہتیروں نے خدائی اُصولوں کی پابندی کی۔‏

یہوواہ کے گواہوں کے نزدیک ”‏اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار“‏ رہنا ایک مسیحی فریضہ ہے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱‏)‏ تاہم، جب حکومتیں اُنہیں خدا کے قوانین کی خلاف‌ورزی کرنے پر مجبور کرتی ہیں تو وہ مسیح کے رسولوں کے نمونے کی پیروی کرتے ہیں جنہوں نے کہا تھا:‏ ”‏ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ نتیجتاً، ایک ایسی دُنیا میں جہاں قبائلی اور نسلیاتی عداوتیں خوفناک سفاکیوں کا سبب بنی ہیں، اگسٹ ڈکمین کی طرح، یہوواہ کے گواہ ہر جگہ امن کے طالب رہتے ہیں۔ وہ بائبل کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔“‏​—‏⁠رومیوں ۱۲:‏۲۱‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں