یہوواہ فیاضی کو پسند کرتا ہے
موزمبیق میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ دفتر کو مندرجہذیل خط وصول ہوا:
”میری عمر سات سال ہے۔ ابھی مَیں پرائمری سکول میں ہی پڑھتا ہوں۔ مَیں آپکو کچھ پیسے بھیج رہا ہوں جو مَیں نے ایک چوزے کو پال کر کمائے ہیں۔ مَیں نے اُسے ۱۲،۰۰۰ میٹیکس [۱ یو۔ایس۔ ڈالر] میں فروخت کِیا ہے۔ مَیں یہوواہ کا شکرگزار ہوں کہ پہلی ہی مرتبہ مَیں نے جس چوزے کو پالا وہ موٹاتازہ مُرغ بن گیا۔ میری خواہش ہے کہ میرا یہ نذرانہ یہوواہ کے بادشاہتی کام کیلئے استعمال کِیا جائے۔
”مکررآنکہ: میرے والد نے اس خط کو لکھنے میں میری مدد کی ہے۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صرف مالدار لوگ ہی فیاضدل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم اُس بیوہ کے متعلق بائبل کا بیان پڑھتے ہیں جس نے ہیکل کے خزانے میں صرف ”دو دمڑیاں“ ڈالیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ فیاضی کا اندازہ مقدار سے نہیں بلکہ دل کے نیک ارادوں سے لگایا جاتا ہے۔—لوقا ۲۱:۱-۴۔
یہوواہ محبت سے معمور دل کیساتھ پیش کئے جانے والے ہر نذرانے کی قدر کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ علاوہازیں، جو لوگ اُس کی بادشاہت کے لئے اپنا وقت، توانائی یا مادی وسائل صرف کرتے ہوئے اُس کی فیاضی کی نقل کرتے ہیں، یہوواہ اُنہیں برکتوں سے مالامال کر دیتا ہے۔—متی ۶:۳۳؛ عبرانیوں ۶:۱۰۔