یہوواہ آپکو کیسے یاد رکھے گا؟
”اَے میرے خدا. . .مجھے یاد کر۔“ نحمیاہ نے بارہا اِن الفاظ میں یہوواہ سے التجا کی۔ (نحمیاہ ۵:۱۹؛ ۱۳:۱۴، ۳۱) یہ قدرتی بات ہے کہ جب لوگ سنگین مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ ایسی ہی التجاؤں کیساتھ خدا کی طرف رُجوع کرتے ہیں۔
تاہم، جب لوگ خدا سے یاد رکھنے کی گزارش کرتے ہیں تو اُن کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ یقیناً، وہ خدا سے محض اپنے نام کو یاد رکھنے سے زیادہ کی اُمید رکھتے ہیں۔ بِلاشُبہ، وہ بھی یسوع کے ساتھ سزا پانے والے مجرموں میں سے ایک کی طرح کی اُمید رکھتے ہیں۔ دوسرے مجرم کے برعکس، اُس نے یسوع سے منت کی: ”جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔“ وہ چاہتا تھا کہ یسوع اُسے محض ایک شخص کے طور پر ہی یاد نہ رکھے بلکہ اُس کے حق میں کچھ کرے—اُسے زندہ کرے۔—لوقا ۲۳:۴۲۔
بائبل اصول پسندی سے واضح کرتی ہے کہ خدا کے نزدیک ”یاد کرنے“ کا مطلب مثبت کارروائی کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، جب طوفانی بارش کا پانی زمین پر ۱۵۰ دن تک چڑھتا رہا تو ”خدا نے نوؔح کو . . . یاد کِیا اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی رُک گیا۔“ (پیدایش ۸:۱) صدیوں بعد فلستیوں کے ہاتھوں اندھا ہو جانے اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے سمسون نے یوں دُعا کی: ”[یہوواہ] . . . مجھے یاد کر اور مَیں تیری منت کرتا ہوں . . . فقط اِس دفعہ اَور تُو مجھے زور بخش۔“ یہوواہ نے سمسون کو مافوقالبشر قوت عطا کرکے اُسے یاد کِیا تاکہ وہ خدا کے دشمنوں سے بدلہ لے سکے۔ (قضاۃ ۱۶:۲۸-۳۰) اِسی طرح سے یہوواہ نے نحمیاہ کی کوششوں کو بھی برکت دی اور یروشلیم میں سچی پرستش بحال ہو گئی۔
پولس نے لکھا: ”جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لئے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کتابِمقدس کی تسلی سے اُمید رکھیں۔“ (رومیوں ۱۵:۴) ماضی میں اُسکے ایماندار خادموں کی طرح اگر ہم یہوواہ کی مرضی پوری کرنے کے طالب ہوکر اُسکو یاد کرتے ہیں تو ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ روزمرّہ کی ضروریات پوری کرنے میں ہماری مدد، مشکلات میں ہماری حمایت کرنے اور بدکاروں کے سلسلے میں کارروائی کرتے وقت ہمیں نجات بخشنے سے ہمیں یاد کرے گا۔—متی ۶:۳۳؛ ۲-پطرس ۲:۹۔