آپ مستقبل کی بابت جان سکتے ہیں!
بیشتر لوگ مستقبل کی بابت بڑی سنجیدگی سے سوچتے ہیں۔ وہ منصوبہسازی کرنا، دانشمندی سے سرمایہکاری کرنا اور تحفظ محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا یہ یقین کر لینے کا کوئی طریقہ ہے کہ آنے والا کل ہمارے لئے کیا تھامے ہوئے ہے؟
مستقبل کے واقعات کی بابت جاننے کی کوشش میں انسانوں نے ہر ممکن طریقہ آزما لیا ہے۔ فیوچرالوجسٹس کہلانے والے معاشرتی علوم کے ماہرین حالیہ رُجحانات کا تجزیہ کرتے اور انکی بنیاد پر پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ ماہرینِمعاشیات بھی اپنے شعبے میں اسی طرح سے پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ نجومی اور فالناموں، کرسٹل بال اور سفلی علوم پر آس لگاتے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد انکی پیروی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، فرانسیسی نجومی، ناسٹراڈامس صدیوں پہلے مر جانے کے باوجود ابھی تک مقبولِعام ہے۔
پیشینگوئیاں کرنے کے خواہاں یہ تمام اشخاص انتہائی ناقابلِبھروسہ اور مایوسکُن ثابت ہوئے ہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ وہ یہوواہ اور اس کے کلام کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ان بنیادی سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں: ’مَیں کس طرح یقین رکھ سکتا ہوں کہ جن باتوں کی بائبل میں پیشینگوئی کی گئی ہے وہ وقوع میں آنے والی ہیں؟ انسانوں کی بابت خدا کے مقصد میں وہ کیسے موزوں ٹھہرتی ہیں؟ میرا خاندان اور مَیں کیسے ان پیشینگوئیوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟‘ بائبل ان سوالات کا جواب فراہم کرتی ہے۔
بائبل پیشینگوئی کئی دیگر طریقوں سے بھی افضل ہے۔ علمِنجوم کی پیشینگوئیوں کے برعکس، یہ ذاتی آزاد مرضی کیلئے گنجائش فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا، کوئی بھی شخص مقدر کے زیرِاثر نہیں ہے۔ (استثنا ۳۰:۱۹) ناسٹراڈامس کی لکھی ہوئی کتابوں جیسی تصانیف اخلاقی اعتبار سے کھوکھلی ہیں اور اسی کھوکھلےپن کو وہ رمزیہ اور سنسنیخیز باتوں سے پُر کرتی ہیں۔ لیکن بائبل پیشینگوئی ایک پُختہ اخلاقی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ وضاحت کرتی ہے کہ خدا کیوں اپنے مقصد کی مطابقت میں کارروائی کرنے والا ہے۔ (۲-تواریخ ۳۶:۱۵) نیز، یہوواہ کی پیشینگوئیاں کبھی ادھوری نہیں رہتیں کیونکہ ”خدا . . . جھوٹ نہیں بول سکتا۔“ (ططس ۱:۲) پس، خدا کے کلام سے راہنمائی حاصل کرنے والے لوگ لاحاصل چیزوں پر اپنا قیمتی وقت اور پیسہ خرچ کئے بغیر باشعور، بامقصد اور خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں۔—زبور ۲۵:۱۲، ۱۳۔
ایسے ہی دیگر کئی نکات پر پوری دُنیا میں منعقد ہونے والے یہوواہ کے گواہوں کے ۲۰۰۰/۱۹۹۹ ”خدا کا نبوّتی کلام“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر گفتگو کی گئی تھی۔ تقاریر، انٹرویو، مظاہروں اور بائبل ڈرامے نے شاندار روحانی ورثے پر حاضرین کی توجہ دلائی جس سے خدا کے نبوّتی کلام کا مطالعہ کرنے اور اس کا اطلاق کرنے والے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اگلا مضمون کنونشن کی بعض ہیجانخیز باتوں کا اعادہ کریگا۔