جب ’ہوا ہماری مخالف ہو‘
یسوع کے شاگردوں کے کشتی میں سوار ہوکر گلیل کی جھیل کو پار کرنے کی حقیقی سرگزشت کو بیان کرتے ہوئے انجیلنویس مرقس لکھتا ہے کہ ”وہ کھینے سے بہت تنگ“ تھے ”کیونکہ ہوا اُنکے مخالف تھی۔“ جب یسوع ساحل سے اُنہیں مشکل میں دیکھتا ہے تو وہ معجزانہ طور پر پانی پر چل کر اُن کے پاس آ پہنچتا ہے۔ جب وہ ”کشتی پر اُنکے پاس آیا،“ تو ”ہوا تھم گئی۔“—مرقس ۶:۴۸-۵۱۔
اِسی بائبلمصنف نے بیان کِیا کہ پہلے بھی ایک موقع پر ”بڑی آندھی چلی“ تھی۔ اس پر یسوع نے ”ہوا کو ڈانٹا . . . پس ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہو گیا۔“—مرقس ۴:۳۷-۳۹۔
اگرچہ آجکل ہمیں ایسے معجزانہ واقعات کو دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوتا تو بھی ہم اِن سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس نازک دور میں رہنے والے ناکامل انسانوں کے طور پر ہم مصیبت کی آندھیوں سے بچ نہیں سکتے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) درحقیقت، بعضاوقات ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ ذاتی آزمائشوں سے پیدا ہونے والی پریشانی طوفان کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ لیکن چھٹکارا ممکن ہے! یسوع دعوت دیتا ہے: ”اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تمکو آرام دونگا۔“—متی ۱۱:۲۸۔
جب ایسا دکھائی دے کہ ’ہوا ہماری مخالف ہے،‘ تو ہم بھی دلی ”اطمینان“ محسوس کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ یہوواہ کے یقینی وعدوں پر بھروسہ رکھنے سے ہمیں ایسا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔—مقابلہ کریں یسعیاہ ۵۵:۹-۱۱؛ فلپیوں ۴:۵-۷۔