بُتپرستانہ بنیادوں پر کھڑی عمارت
روم، اٹلی میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز کئی اثرآفرین قدیم عمارتوں میں سے ایک پینتھیون (ایک قدیم رومی عبادتگاہ) ہے۔ رومی فنِتعمیر کا یہ شاہکار اُن چند عمارتوں میں سے ایک ہے جو معقول حد تک اُسی حالت میں ہیں جیسی وہ قدیم وقتوں میں تھیں۔ اگرپا نے ۲۷ ق.س.ع. میں اس کی تعمیر کا آغاز کِیا جبکہ حیدریان نے ۱۲۰ س.ع. میں اسے ازسرِنو تعمیر کِیا۔ اس عمارت کی ایک حیرانکُن خصوصیت اسکا ۱۴۲ فٹ قطر کا بڑا گنبد ہے جو جدید زمانہ میں چوڑائی کے اعتبار سے فضیلت رکھتا ہے۔ شروع میں پینتھیون دراصل بُتپرستوں کا ایک مندر ہوا کرتا تھا جسکا اصلی یونانی لفظ کے مطابق مطلب ہے ”سب دیوتاؤں کی جگہ۔“ ابھی تک اسے رومن کیتھولک چرچ خیال کِیا جاتا ہے۔ اتنی حیرانکُن تبدیلی کیسے ممکن ہوئی؟
پوپ بونیفس چہارم نے ۶۰۹ س.ع. میں طویل عرصے سے غیرمستعمل اس مندر کو ایک ”مسیحی“ چرچ کے طور پر دوبارہ مخصوص کِیا۔ اُس وقت اسے سانتا ماریا روٹنڈا چرچ کا نام دیا گیا۔ ایک اطالوی جیزواِٹ رسالے لا شیولٹا کیٹولیکا کے اندر ۱۹۰۰ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، بونیفس کے ذہن میں یہ تھا کہ اسے خاص طور پر ”مسیحی حلقے کے تمام شہیدوں بلکہ تمام مُقدسوں مگر سب سے بڑھکر خدا کی کنواری ماں کی تعظیموتکریم“ کے لئے استعمال کِیا جائے۔ آجکل رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے پینتھیون کو دئے گئے نام—سانتا ماریا آڈ مارٹیرس یا اس کی متبادل صورت، سانتا ماریا روٹنڈا—اس غیرصحیفائی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔—مقابلہ کریں اعمال ۱۴:۸-۱۵۔
یہی مضمون مزید بیان کرتا ہے کہ پینتھیون کو اس کے نئے مقصد کے مطابق ڈھالنے کیلئے ”بہت ہی کم کام کرنے کی ضرورت تھی۔ بونیفس نے اپنے پیشرو، سینٹ گریگری اعظم [پوپ گریگری اوّل] کے قائمکردہ سادہ اور عالیظرف ضابطوں کی پیروی کی جو بُتپرستوں کے مندروں کو مسیحی عبادت کے لئے ڈھالنے میں مثالی اور ماہر تھا۔“ وہ ضابطے کیا تھے؟
سن ۶۰۱ میں بُتپرست برطانیہ کو جانے والے ایک مشنری کے نام خط میں گریگری نے یہ ہدایت دی: ”اُس ملک میں بُتوں کے مندروں کو توڑا نہ جائے؛ تاہم اُن میں موجود صرف بُتوں کو توڑا جائے . . . اگر وہ مندر اچھی حالت میں ہوں تو اُنہیں شیاطین کی پرستش سے بدل کر سچے خدا کی عبادت کیلئے ڈھال لیا جائے۔“ گریگری کا خیال تھا کہ اگر بُتپرست لوگ یہ دیکھیں گے کہ اُنکے مندروں کو تباہ نہیں کِیا گیا تو وہ وقتاًفوقتاً وہاں آنے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتے ہیں۔ پوپ نے لکھا، اگرچہ بُتپرست لوگ ”شیاطین کے حضور بہت سے بیل ذبح“ کرتے تھے، اب اُمید یہ تھی کہ ”وہ شیطان کیلئے نہیں بلکہ خدا کی ستائش سے ذاتی تسکین حاصل کرنے کیلئے جانوروں کی قربانی کِیا کرینگے۔“
رومن کیتھولکازم نے ”مسیحی“ اولیاء کے لئے مخصوص گرجاگھروں کو بالکل پُرانے مندروں جیسے بنانے سے بُتپرستوں کے طرزِعبادت کی ”برابری“ بھی کی۔ قدیم تہواروں میں تھوڑا بہت ردوبدل کر کے اُنہیں ”مسیحی“ رنگ دے دیا گیا۔ لا شیولٹا کیٹولیکا کے الفاظ کے مطابق: ”آجکل تمام علماء اس بات سے واقف ہیں کہ ابتدائی مسیحیوں کی کچھ رسومات اور مذہبی تقریبات بعض بُتپرستانہ کاموں سے کافی زیادہ مناسبت رکھتی تھیں۔ یہ کام لوگوں کو بہت پسند تھے اور رسومات بھی قدیم دُنیا کی نجی اور عوامی زندگی کا خاص حصہ تھیں۔ مہربان اور دانشمند، ابتدائی چرچ کی نظر میں اُسے اُنہیں ختم کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ بلکہ، انہیں مسیحی سانچے میں ڈھالنے، انہیں نئی قدرومنزلت اور حیاتِنو دینے سے اس نے زوردار مگر بامروّت ذرائع سے ان پر غلبہ پا لیا اور یوں کسی بھی شورش کے بغیر ہر خاصوعام کی حمایت حاصل کر لی۔“
بُتپرستانہ جشن اپنانے کی ایک واضح مثال کرسمس ہے۔ دراصل، ۲۵ دسمبر کی تاریخ پر قدیم رومی لوگ دائس ناتالس سولس اِنوِکتے یعنی ”ناقابلِتسخیر سورج کا جنم دن“ مناتے تھے۔
بُتپرستوں کے دل جیتنے کی آرزو میں چرچ نے سچائی کا دامن چھوڑ دیا۔ اس نے متضاد عقائد کی آمیزش، ”لوگوں میں مقبول“ بُتپرستانہ اعتقادات اور رسمورواج کو ضم کرنے کو جائز قرار دے دیا۔ نتیجتاً ایک دوغلا، برگشتہ، سچی مسیحیت سے نہایت مختلف چرچ سامنے آیا۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ”تمام دیوتاؤں“ کیلئے وقف پُرانا رومی مندر—پینتھیون—مریم اور دیگر ”مُقدسین“ کیلئے مخصوص رومن کیتھولک چرچ بن گیا۔
تاہم، یہ بات واضح رہے کہ ایک مندر کی مخصوصیت یا کسی تہوار کا نام بدل لینا ’شیاطین کی پرستش کو سچے خدا کی پرستش‘ میں بدلنے کیلئے کافی نہیں ہے۔ پولس رسول نے سوال کِیا: ”خدا کے مقدِس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟ . . . خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] فرماتا ہے کہ اُن میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ تو مَیں تم کو قبول کر لونگا۔ اور تمہارا باپ ہونگا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہو گے یہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] قادرِمطلق کا قول ہے۔“—۲-کرنتھیوں ۶:۱۶-۱۸۔