ایک ”مُقدس“ مقام کیلئے کشمکش
جولائی ۱۵، ۱۰۹۹ کو پاپائےروم کی اجازت سے کی جانے والی پہلی کروسیڈ [صلیبی جنگ] نے یروشلیم کا اختیار سنبھالنے کے اپنے مقصد کو حاصل کِیا۔ قتلِعام انتہائی خوفناک تھا! بچنے والوں میں صرف شہر کا گورنر اور اُس کا محافظ تھا کیونکہ اُنہوں نے بہت بھاری رشوت دی تھی۔ اپنی کتاب دی کروسیڈز میں پادری انٹونی برج بیان کرتا ہے کہ باقی کے مسلمان اور یہودی باشندوں کے ساتھ کیا واقع ہوا: ”ایک مرتبہ جب کروسیڈرز کو شہر میں منمانی کرنے کی اجازت مل گئی تو وہ اس حد تک جنونی ہو گئے کہ اُنہوں نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ . . . اُنہوں نے شہر میں ملنے والے ہر مرد، عورت اور بچے کو قتل کر دیا۔ . . . جب قتل کرنے کیلئے کوئی نہ بچا تو فاتحین نے خدا کا شکر ادا کرنے کیلئے جلوس کی شکل میں شہر کی گلیوں سے ہوتے ہوئے . . . ہولی سپلکر چرچ (کنیستہ القیامہ) کا رُخ کِیا۔“
کروسیڈر کی فتح کے بعد، رومن کیتھولک، ایسٹرن آرتھوڈکس اور دوسرے نامنہاد مسیحی مذاہب کے درمیان ہونے والی آویزش دُنیائےمسیحیت کی یروشلیم میں موجودگی کا مظہر تھی۔ یروشلیم کے مُقدس مقامات اور اسکے گردونواح کے متعلق مختلف چرچ لیڈروں کے درمیان پایا جانے والا اختلاف ۱۸۵۰ میں ہونے والی کریمیا جنگ کا بڑا سبب تھا۔ انگلینڈ، فرانس اور اوٹومین کی ریاست نے روس کے خلاف جنگ میں نصف ملین جانیں ضائع کر دیں۔
جنگ بھی یروشلیم اور اُس کے مُقدس مقامات سے متعلق دُنیائےمسیحیت کے اختلافات کو حل نہ کر سکی۔ اوٹومین کے باشندوں نے، جو اُس وقت ملک پر حکمران تھے، مُقدس مقامات کو مختلف ایمان کے حامیوں کے درمیان تقسیم کرنے سے امن لانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر منسی ہیرل نے اپنی کتاب دس از جیروصلم میں بیان کِیا، ”اقوامِمتحدہ نے نومبر ۱۹۴۷ کی تقسیم کی قرارداد کے ساتھ اس اصول کو بھی قبول کر لیا۔ اسلئے یہ بینالاقوامی قانون کا حصہ ہے۔“ اس کے نتیجے میں ہولی سپلکر چرچ کو رومن کیتھولکس، گریک آرتھوڈکس، آرمینیوں، ارامیوں اور قبطیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آخر میں ایتھوپیائی باشندوں نے بھی اپنے کچھ ارکان کے چھت پر بنی رہائشگاہوں میں رہنے کی وجہ سے اس چرچ کیلئے دعویٰ کر دیا۔ بہترے لوگ ہولی سپلکر چرچ کو دُنیائےمسیحیت کا سب سے مُقدس مقام خیال کرتے ہیں۔ یہ مقبروں، بتوں اور مورتوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک اَور نامنہاد مُقدس مقام جس کا پروٹسٹنٹ بہت احترام کرتے ہیں وہ گورڈن کی کلوری ہے جسے وہ مقام تصور کِیا جاتا ہے جہاں یسوع کو مصلوب اور دفن کِیا گیا تھا۔
بہت عرصہ پہلے یسوع نے مُقدس مقامات کیلئے عقیدت رکھنے والی ایک عورت کو بتایا تھا: ”وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یرؔوشلیم میں۔ . . . سچے پرستار باپ کی پرستش روح اور سچائی سے کرینگے۔“ (یوحنا ۴:۲۱-۲۴) لہٰذا سچے مسیحی مُقدس مقامات کو قابلِاحترام خیال نہیں کرتے۔ رومی فوج کے ہاتھوں ۷۰ س.ع. میں بےوفا یروشلیم کی تباہی دُنیائےمسیحیت کیلئے آگاہی کی ایک علامت ہے۔ اس کی بتپرستی، تفرقے اور خون کا جرم اسکے مسیحی ہونے کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ اسلئے وہ اسی بربادی کا سامنا کرے گی جسکے بارے میں خدا نے پہلے سے بتا دیا ہے اور جو بڑے بابل میں شامل تمام مذاہب کا مقدر ہے۔—مکاشفہ ۱۸:۲-۸۔