کیا خدا دُنیا کو تباہ کریگا؟
پوپ جان پال II کے مطابق، انسان اعتماد کیساتھ مستقبل کی توقع کر سکتے ہیں۔ پوری تاریخ کے دوران، اُس نے بیان کِیا، ”انسان طوفان سے قبل بیانکردہ گناہوں سے بھی بڑے بڑے گناہ کرتے آئے ہیں۔“ چنانچہ، پوپ وضاحت کرتا ہے، ”نوح کیساتھ خدا کے عہد کے الفاظ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی گناہ ایسا نہیں جو خدا کیلئے اس دُنیا کو تباہ کرنے کا جواز پیش کر سکتا ہے جسے اُسے نے خود خلق کِیا تھا۔“
کیا یہ سچ ہے کہ خدا کبھی بھی دُنیا کو تباہ نہیں کریگا؟ بائبل بیان کرتی ہے کہ طوفان کے بعد، خدا نے نوح سے کہا: ”سب جاندار طوفان کے پانی سے پھر ہلاک نہ ہونگے اور نہ کبھی زمین کو تباہ کرنے کے لئے پھر طوفان آئیگا۔“ (پیدایش ۹:۱۱) پوپ بیان کرتا ہے کہ ان الفاظ سے خدا نے ” [زمین کو] تباہی سے محفوظ رکھنے کیلئے خود کو پابند“ کر لیا تھا۔
بائبل بیان کرتی ہے کہ خالق ہمارے سیّارے کی تباہی کی اجازت نہیں دیگا۔ ”زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے،“ بائبل بیان کرتی ہے۔ (واعظ ۱:۴) تاہم طوفان سے اَور بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے—ایسی بات جسکا پوپ نے ذکر نہیں کِیا تھا۔
یسوع نے کہا کہ مستقبل میں اُسکی موجودگی کے وقت کے دوران زمین پر حالات بالکل ویسے ہی ہونگے ”جیسا نوؔح کے دنوں“ میں تھے اور لوگوں کو اُس وقت تک ”خبر نہ ہوئی“ ”جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا۔“ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) اسی طرح پطرس رسول نے لکھا کہ جیسے ”اُس وقت کی دُنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی“ ویسے ہی ”بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کا دن“ موجودہ دُنیا پر منڈلا رہا ہے۔—۲-پطرس ۳:۵-۷۔
کیا یسوع اور پطرس نوح کیساتھ خدا کے عہد کو بھول گئے تھے؟ ہرگز نہیں! جیسےکہ اُس نے نوح کیساتھ عہد میں بیان کِیا، خدا اس بدکار نظام کو ختم کرنے کیلئے پانی کے طوفان کو استعمال نہیں کریگا۔ اسکی بجائے، وہ ”بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خداوند،“ یسوع مسیح کی طاقت کو استعمال کریگا۔ (مکاشفہ [اپوکالپس] ۱۹:۱۱-۲۱) لہٰذا، بائبل کے مطابق، زمین تباہ نہیں کی جائیگی بلکہ بدکار نوعِانسان کی ”دُنیا“ یقیناً ختم ہو جائیگی۔ (امثال ۲:۲۱، ۲۲؛ مکاشفہ ۱۱:۱۸) بعدازاں، ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“—زبور ۳۷:۲۹۔