شادیاں جو یہوواہ کو جلال دیتی ہیں
مسیحی شادیوں پر مندرجہذیل مضمون بنیادی طور پر ایتھوپیا کے ملک میں بہت سے ایسے لوگوں کو عامہاریک زبان میں مفید رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کِیا گیا تھا جو حال ہی میں یہوواہ کے گواہ بنے ہیں۔ یہ چند مقامی رسمورواج پر باتچیت کرتا ہے جو شاید آپکے علاقے میں مختلف ہوں۔ آپ غالباً اس فرق کو دلچسپ پائینگے۔ اس کیساتھ ہی ساتھ، مضمون بائبل پر مبنی متوازن مشورت پیش کرتا ہے جو آپکے علاقے میں شادی کی رسومات مختلف ہونے کی صورت میں بھی موزوں دکھائی دیگی
”مسیحی شادیاں جو خوشی لاتی ہیں،“ جون ۱۹۸۵ کے مینارِنگہبانی میں مطالعے کے شاندار مضمون کا عنوان تھا۔ اُسی شمارے میں اگلے مضمون کا عنوان تھا ”شادی کی ضیافتوں میں متوازن لطف اُٹھائیں۔“ (شادی کی بابت سوچبچار کرنے والے کسی بھی شخص کیلئے مزید دانشمندانہ مشورت کتابوں اپنی خاندانی زندگی کو خوشحال بنانا، باب ۲ اور یور یوتھ—گیٹنگ دی بیسٹ آؤٹ آف اِٹ، ۱۹ اور ۲۰ ابواب میں پائی جاتی ہے۔)a اُن مضامین کے شائع ہونے کے بعد بیشتر لوگ یہوواہ کے گواہ بنے ہیں، پس ہم چند نکات پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے علاقے کیلئے خاص طور پر موزوں ہوں، نیز دیگر مناسب نکات پر بھی غور کرینگے جو شادی کی تقریبات کو ایسا بنانے میں ہماری مدد کرینگے جن سے شادی کے موجد، یہوواہ کو عزت ملیگی۔
سب سے پہلے اس سوال پر غور کرنا ضروری ہے کہ شادی کب ہونی چاہئے؟ کیا شادی کی تاریخ شادیوں کے مقامی روایتی موسم کے مطابق مقرر کرنی چاہئے؟ مقامی اعتقاد ہے کہ سال کے کسی بھی دوسرے وقت پر ہونے والی شادی کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ بےبنیاد توہمپرستی ہے اِسلئےکہ متعدد بیاہتا جوڑے جو خوشی کیساتھ اور متحد ہوکر یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اُنہوں نے روایتی موسم میں شادی نہیں کی تھی۔ ہم خوشقسمتی یا بدقسمتی پر یقین نہیں رکھتے۔ (یسعیاہ ۶۵:۱۱؛ کلسیوں ۲:۸) اگر ہم اُنکے توہمات کے مطابق شادی کی تاریخ مقرر کرتے ہیں تو ہم بےایمان رشتےداروں کی سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنے میں مدد نہیں کرینگے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسیحی کسی بھی مہینے میں شادی کر سکتے ہیں۔
جب شادی کی ضروری سرکاری تقریب کے بعد شادی کی تقریر کا بندوبست کِیا جاتا ہے تو یہ دانشمندانہ بات ہوگی کہ دونوں تقریبات میں کئی دنوں کا وقفہ نہ ڈالیں۔ اگر جوڑا شادی کی تقریر کنگڈم ہال میں چاہتا ہے تو اُنہیں کنگڈم ہال کے استعمال کیلئے کافی پہلے کلیسیائی بزرگوں سے درخواست کرنی چاہئے۔ مقامی بزرگ اِس بات کا یقین کر لینگے کہ تقریب کے انتظامات کے سلسلے میں اُنکا ضمیر صاف ہے۔ وقت کا تعیّن اِس طریقے سے کِیا جانا چاہئے کہ کلیسیائی کام میں کوئی خلل نہ پڑے۔ شادی کی تقریر پیش کرنے کیلئے جس بھائی کا انتخاب کِیا جاتا ہے وہ مفید مشورت فراہم کرنے کیلئے اور یہ یقین کرنے کیلئے متوقع دُلہے اور دُلہن سے پیشگی ملاقات کریگا کہ شادی کی راہ میں کوئی اخلاقی یا قانونی رُکاوٹیں تو حائل نہیں ہیں، نیز، وہ بعدازاں کسی بھی سماجی اجتماع کے طےشُدہ پروگراموں سے متفق ہے۔ شادی کی تقریر تقریباً نصف گھنٹے کی ہونی چاہئے اور روحانی پہلو پر زور دیتے ہوئے ایک پُروقار طریقے سے پیش کی جانی چاہئے۔ شادی کی تقریر بعد میں کھانےپینے کے کسی بھی انتظام سے یقیناً زیادہ اہم ہے۔
مسیحی شادی یہ ظاہر کرنے کا ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ ہم ”دُنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۴؛ یعقوب ۱:۲۷) ہمارا نظمونسق نمایاں ہونا چاہئے۔ اِسکا یہ مطلب ہوگا کہ ہم لوگوں کو انتظار کروانے، ممکنہ طور پر کلیسیائی کارگزاریوں میں خلل پیدا کرنے کی بجائے وقت پر پہنچیں۔ خاص طور پر دُلہن کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہئے چونکہ دُنیاوی رشتےدار اُسے دیر کرنے—گویا اپنی اہمیت بڑھانے کی تاکید کر سکتے ہیں۔ وقت کی پابندی کرنے سے ایک پُختہ مسیحی بہن ظاہر کر سکتی ہے کہ اُس کے نزدیک فروتنی اور پاسولحاظ جیسی روحانی صفات اہم ہیں! نیز، اگر تقریب پر تصاویر کھینچنے کیلئے کسی فوٹوگرافر کو مدعو کِیا جاتا ہے تو نظمونسق اہم ہے۔ یہ بھی اچھا ہوگا کہ فوٹوگرافر سے اِس بات کا تقاضا کِیا جائے کہ وہ کوٹ، ٹائی اور پتلون پہن کر آئے اور جب وہ تصویریں کھینچتا ہے تو تقریر میں خلل پیدا نہ کرے۔ دُعا کے دوران تصاویر نہیں کھینچی جانی چاہئیں۔ ہمارا نظمونسق یہوواہ کیلئے عزت کا باعث بنیگا اور ایک عمدہ گواہی دیگا۔ سماجی رسمورواج کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو تقریب کے حقیقی مطلب کو ماند کر دینگے۔
کامیاب شادی کیلئے استقبالیہ کوئی ضروری نہیں ہے لیکن اِس طرح کی پُرمسرت تقریب کے سلسلے میں کوئی صحیفائی ممانعت بھی نہیں ہے۔ تاہم، سچے مسیحیوں کے ایسے اجتماعات کو دُنیاوی استقبالیوں سے مختلف ہونا چاہئے جنکے نمایاں پہلو فضولخرچی، بِلانوشی، بسیارخوری، وحشیانہ موسیقی، شہوتانگیز رقص اور حتیٰکہ جھگڑے ہوتے ہیں۔ بائبل ”ناچرنگ“ کو جسم کے کاموں سے منسوب کرتی ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۱) جب اجتماع بہت بڑا نہیں ہوتا تو اُسے موزوں طور پر قابو میں رکھنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ مقبول رسومات کو پورا کرنے کیلئے کوئی شامیانہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر بعض جگہ یا موسمی وجوہات کی بِنا پر شامیانہ لگانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ذاتی معاملہ ہے۔
تجربے نے ظاہر کِیا ہے کہ مہمانوں کی تعداد محدود رکھنے کا ایک اچھا طریقہ واضح تحریری دعوتنامے استعمال کرنا ہے۔ پوری کلیسیاؤں کو مدعو کرنے کی بجائے انفرادی دعوت دینا زیادہ دانشمندانہ بات ہے اور سلیقہشعار مسیحیوں کے طور پر، ہمیں اس کیلئے احترام دکھانا چاہئے کہ جتنے لوگوں کو بلایا گیا ہے اُتنے ہی جائیں۔ تحریری دعوتنامے استقبالیہ پر کسی خارجشُدہ شخص کے آ جانے سے شرمندگی اُٹھانے سے بچنے کیلئے بھی ہماری مدد کرتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت سے بھائی اور بہنیں شاید وہاں سے جانے کا انتخاب کریں۔ (۱-کرنتھیوں ۵:۹-۱۱) اگر کوئی جوڑا بےایمان رشتےداروں یا واقفکاروں کو بلاتا ہے تو بِلاشُبہ ”اہلِایمان“ کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے، انکی تعداد محدود ہی ہونی چاہئے۔ (گلتیوں ۶:۱۰) بعض نے دُنیاوی واقفکاروں اور بےایمان رشتےداروں کو استقبالیہ کی بجائے شادی کی تقریر پر ہی بلانے کا انتخاب کِیا ہے۔ کیوں؟ اسلئےکہ ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ جب دُنیاوی رشتےداروں نے شادی کے استقبالیہ پر کوئی ایسی شرمناک حالت پیدا کر دی کہ بہت سے بھائیوں اور بہنوں نے محسوس کِیا کہ وہ وہاں نہیں ٹھہر سکتے۔ بعض مسیحی جوڑوں نے قریبی خاندانی افراد اور مسیحی دوستوں کیلئے سادہ سے کھانے کا اہتمام کِیا ہے۔
یوحنا ۲:۸، ۹ کی مطابقت میں ”میرِمجلس“ کا انتخاب کرنا عملی ہے۔ دُلہا ایک ایسے قابلِاعتماد مسیحی کا انتخاب کرنا چاہیگا جو اِس بات کا دھیان رکھیگا کہ نظمونسق اور اعلیٰ معیار برقرار رکھے جائیں۔ اگر دوستاحباب تحائف لاتے ہیں تو یہ ”آنکھوں کی شیخی [”نمودونمائش،“ اینڈبلیو]“ کے بغیر ہونا چاہئے۔ (۱-یوحنا ۲:۱۶) موسیقی قابلِاعتراض دھنوں، پُرشور یا وحشیانہ تال کے بغیر مسرورکُن ہو سکتی ہے۔ بہتیرے لوگوں نے اِس بات کو کافی مفید پایا ہے کہ کوئی بزرگ بجائی جانے والی موسیقی کو پہلے سنے۔ رقص پوشیدہ پھندوں کا سبب بن سکتا ہے چونکہ بہت سے رقص باروری رقص کی اصل سے ہیں اور نامناسب شہوانیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ”کیک اور مشروبات کا لمحہ“ بعضاوقات دُنیاوی لوگوں کیلئے بےقابو ہو جانے کا اشارہ ثابت ہوا ہے۔ درحقیقت، بہتیرے مسیحی جوڑوں نے فیصلہ کِیا ہے کہ مسائل سے بچنے کیلئے شادی کے استقبالیہ پر الکحل کا استعمال نہ کریں۔
چونکہ ہم یہوواہ کو عزت دینا چاہتے ہیں اِسلئے ہم حد سے زیادہ اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کیلئے نمودونمائش سے بچینگے۔ دُنیاوی کُتب نے بھی فضولخرچی کے مقبول رُجحان کی مخالفت کی ہے۔ ایک جوڑے کیلئے دھومدھام سے شادی کرنے کی خاطر مقروض ہو جانا اور پھر اُس ایک دن کے اخراجات ادا کرنے کیلئے کئی سالوں تک محرومیوں کا شکار رہنا کسقدر غیردانشمندانہ بات ہوگی! بِلاشُبہ، موقع کی مناسبت سے پہنے جانے والے کسی بھی لباس کو حیادار اور باسلیقہ، خدا کی تعظیم کرنے کا دعویٰ کرنے والے شخص کے شایانِشان ہونا چاہئے۔ (۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰) ”مسیحی شادیوں سے معقولپسندی ظاہر ہونی چاہئے“، کے مضمون (دی واچٹاور جنوری ۱۵، ۱۹۶۹) نے لباس کی بابت یہ دلچسپ تبصرے پیش کئے:
”کسی کی شادی ایک خاص تقریب ہوتی ہے اِسلئے خوش اور پُرکشش نظر آنے کی طرف عموماً توجہ دی جاتی ہے۔ تاہم اِسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو ایک خاص قسم کا گون یا سوٹ پہننا چاہئے۔ ایک شخص کیلئے مقامی انداز، خرچ اور ذاتی ذوق کا لحاظ رکھنا اچھا ہوگا۔ . . . تاہم، کیا مہنگی پوشاک خریدنا معقول بات ہوگی جوکہ اپنے یا دوسروں کیلئے مالی دباؤ کا سبب بنتی ہے؟ . . . بعض دُلہنوں نے کسی اچھی سہیلی یا رشتےدار کے گون کو استعمال کرنے سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ دوسروں نے اپنا ذاتی عروسی جوڑا بنانے سے، اِس طریقے سے ممکنہ طور پر ایک ایسے لباس سے بڑی تسلی حاصل کی ہے جسے مستقبل میں دوسرے مواقع پر بھی استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ نیز ایک جوڑے کیلئے اپنے نہایت پُرکشش عام کپڑوں میں شادی کرنا بھی بالکل موزوں ہے۔ . . . دوسرے جو شاید ایک دھومدھام والی شادی کی استطاعت رکھتے ہیں ذاتی طور پر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ زمانے کی نزاکت کے پیشِنظر ’سہولت والی شادی‘ کریں۔“
اِسی طرح، عروسی پارٹی (دُلہے کے دوست اور دُلہن کی سہیلیاں) کو بہت بڑا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بھی اپنے لباس اور اطوار سے اپنے لئے بیجا توجہ حاصل کرنا نہیں چاہینگے۔ اگرچہ ایک خارجشُدہ شخص کو کنگڈمہال میں تقریر پر حاضر ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جون ۱۹۸۵ کے مینارِنگہبانی نے بیان کِیا: ”عروسی پارٹی میں ایسے لوگوں کا ہونا غیرواجب بات ہوگی جو کلیسیا سے خارج کر دئے گئے ہیں یا جن کا بدنام طریقِزندگی بائبل اصولوں سے شدید ٹکراتا ہے۔“
اگرچہ یسوع ایک شادی پر حاضر ہوا تو بھی ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ اُس نے بڑے شوروغل والے کاروں کے جلوس کو شہر میں گھومنے کے مقبول رواج کو پسند کِیا ہوگا؛ بعض دفعہ تو پولیس نے عروسی جلوس میں ڈرائیوروں کو ہارن بجانے پر جرمانہ بھی کِیا ہے۔ (دیکھیں متی ۲۲:۲۱۔) المختصر، مختلف قوموں کے لوگوں کی نمودونمائش مخصوص اطوار کی نقل کرنے کی بجائے، مسیحیوں کو اُس حکمت کو ظاہر کرنا چاہئے جو منکسرالمزاج لوگوں میں ہوتی ہے۔—امثال ۱۱:۲۔
تاہم پڑوسیوں، دُنیاوی ساتھی کارندوں یا دُور کے رشتےداروں اور واقفکاروں کی شادیوں پر حاضر ہونے کی بابت کیا ہے؟ ہر مسیحی کو اِس معاملے میں ذاتی طور پر فیصلہ کرنا چاہئے۔ اِس بات کو ذہن میں رکھنا اچھا ہے کہ ہمارا وقت قیمتی ہے کیونکہ ہمیں اپنی خدمتگزاری، ذاتی مطالعے اور دیگر خاندانی اور کلیسیائی کاموں کیلئے وقت درکار ہے۔ (افسیوں ۵:۱۵، ۱۶) ویکاینڈز پر ہمارے اجلاس اور میدانی خدمت ہوتی ہے جس سے ہم غفلت برتنا نہیں چاہتے۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) متعدد شادیوں کے اوقات اسمبلیوں یا خداوند کے عشائیے سے وابستہ خاص خدمتی کاوشوں سے تصادم کرتے ہیں۔ ہمیں خود کو ویسی ہی خصوصی کوششیں کرنے سے توجہ ہٹانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے جیسی تمام دُنیا میں خداوند کے عشائیے پر حاضر ہونے کیلئے ہمارے بھائی کر رہے ہیں۔ سچائی کا علم حاصل کرنے سے پہلے، ہم شاید ایسے حالات میں دُنیاوی لوگوں کیساتھ کافی وقت صرف کر چکے ہیں جن سے خدا کی بےحرمتی ہوتی تھی۔ (۱-پطرس ۴:۳، ۴) اَب ہماری ترجیحات مختلف ہیں۔ کسی دُنیاوی جوڑے کو ایک کارڈ بھیجنے سے یا کسی اَور دن پر مختصر سی ملاقات کرنے سے مبارکباد دینا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔ بعض نے نئے نویلے جوڑے کیلئے بعض موزوں صحائف پیش کرنے سے ایسے مواقع کو گواہی دینے کیلئے استعمال کِیا ہے۔
ایک ایسی شادی جہاں پر روحانی پہلو دُنیاوی طریقوں پر سبقت رکھتے ہیں واقعی یہوواہ کو عزت بخشے گی۔ دُنیا بشمول اِسکے توہمات اور بےاعتدالیوں سے الگ رہنے کا یقین کرنے سے، اِسے معمول کی تھیوکریٹک کارگزاریوں میں مخل ہونے کی اجازت نہ دینے سے اور نمودونمائش کی بجائے انکساری دکھانے سے، مسیحی تقریب سے لطفاندوز ہونگے۔ علاوہازیں، وہ نیک ضمیر اور خوشگوار یادوں کیساتھ مڑ کر تقریب کو دیکھنے کے قابل ہونگے۔ دُعا ہے کہ حکمت اور معقولیت دکھانے کیساتھ ہماری تمام مسیحی شادیاں خلوصدل مشاہدین کو گواہی دیں۔
]فٹ نوٹس[
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔