سوالات از قارئین
▪ ایک مسیحی خاندان کو کیا کرنا چاہیے اگر انکے بچے کو ایک ایسے سکول میں جانا پڑتا ہے جہاں مذہبی تعلیم لازمی ہے؟
مسیحی والدین اس چیز میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ انکے بچوں کو جھوٹے مذہب کے عقائد سکھائے جائیں۔ لیکن ایسی صورتیں ہو سکتی ہیں جہاں بچے جماعت میں انکار نہیں کر سکتے جہاں پر کہ مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے، اگرچہ وہ جھوٹے مذہبی کاموں یا رسومات میں حصہ نہیں لیں گے۔
خدا کے دوست ابرہام نے بچوں کیلئے مذہبی تعلیم کے سلسلے میں ایک اچھا نمونہ قائم کیا۔ اس نے اپنی اولاد کی پرورش کنعان میں کی، جہاں پر وہ مذہبی غلط کاری اور نفرتانگیز ”متبرک“ کاموں کے گھیرے میں تھے۔ مقابلہ کریں خروج ۳۴: ۱۵-۱۱، احبار ۱۸:۳۰-۲۱، استثنا ۷:۵-۱، ۲۵، ۲۶، ۱۸:۱۴-۹۔) تاہم، وہ اپنے خاندان کیلئے مذہبی تعلیم کا ذریعہ تھا۔ خدا کو یقین تھا کہ ابرہام ”اپنے بیٹوں اور گھرانے کو جو اسکے پیچھے رہ جائینگے وصیت کریگا کہ وہ [یہوواہ] کی راہ میں قائم رہ کر عدل اور انصاف کریں۔“ پیدایش ۱۸:۱۹۔
ایک نوجوان کے طور پر، یسوع نے بھی سچی پرستش کے سلسلے میں خاندانی اور کلیسیائی تعلیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔ یوں وہ ”حکمت اور قدوقامت میں اور خدا کی اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔“ لوقا ۲:۲ ۵۔
دنیا کے زیادہ حصوں میں مسیحی نوجوان پبلک سکولوں میں دنیاوی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سکھائی جانے والی ہر چیز مکمل طور پر بائبلی سچائی اور مسلمہحقائق کی مطابقت میں نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مسیحی نوجوانوں کی بہت سی نسلوں نے سائنس یا حیاتیات کو اپنے معیاری نصاب کے طور پر پڑھا ہے۔ ان میں سے زیادہتر ارتقا کے مروجہ نظریات اور زمین پر زندگی کے ”قدرتی“ آغاز کی بابت وابستہ خیالات کے خطرے میں رہے ہیں۔
تاہم، اس خطرے، نے ان مسیحی نوجوانوں کو بےدین ارتقا کے حامیوں کیطرف مائل نہ کیا۔ کیوں؟ اسلئے کہ گھر میں اور مسیحی اجلاسوں پر پہلے سے حاصلکردہ خدا کے الہامی کلام پر مبنی صحیح معلومات نے ان کو اپنے ”حواس کو نیک و بد میں امتیاز کرنے کیلئے تیز“ بنانے میں تربیت کرنے میں مدد دی تھی۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) بہت سے والدین نے اپنے بچوں کیساتھ ایمان کو تقویت دینے والی کتاب لائف ہاؤ ڈیڈ اٹ گٹ ہیئر؟ بائی ایولوشن آور بائی کریئشن؟ سے ارتقا کو متوازن طریقے سے جاننے کیلئے مطالعہ کیا ہے۔a یوں پہلے سے لیس سکول جانے والے بچوں نے جماعت میں ارتقا کے متعلق تعلیم کو قابلیقین ہونے کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پھر بھی وہ اپنی جماعت کے اندر مباحثوں اور ٹیسٹوں میں یہ ظاہر کرنے کے قابل تھے کہ وہ توجہ سے سنتے رہے تھے اور پیش کردہ تفصیلات کو سیکھ سکے تھے۔ بعض کو تو بائبل میں انسان کے خالق کے ذریعے پیشکردہ حقائق کی مطابقت میں متبادل وضاحتیں پیش کرنے کا موقع بھی حاصل ہوا ہے۔ ۱-پطرس ۳:۱۵۔
تاہم، ان اوقات کی بابت کیا ہے جو بااثر مقامی مذہب یا عمومی مذہب ہی کی بابت تعلیم کے لئے وقف کر دئے جاتے ہیں؟
یہ بعیدازقیاس ہے کہ ایسی تعلیم غیرجانبدارانہ طور پر، محض معلومات کے طور پر ہی دی جائیگی۔ ہو سکتا ہے کہ استاد اس مذہب کا پیروکار ہو اور یوں طالبعلموں کے ذہنوں اور دلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے۔ اسلئے یہوواہ کے گواہ ترجیح دیتے ہیں کہ انکے بچوں کو مذہبی تعلیم کے اسباق سے معذور رکھا جائے۔ یہ ان کے بچوں کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ سکول کے اس وقت کو دیگر اسباق کی تفویضات کو مکمل کرنے یا سکول لائبریری میں مطالعہ کرنے کیلئے استعمال کریں۔
تاہم، بعض علاقوں میں، ایسی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا ہے، یہانتک کہ سکول یا عوامی حکام نے تقاضا کیا کہ فارغالتحصیل ہونے کیلئے تمام بچے ایک مذہبی کورس میں حصہ لیں یا مکمل کریں۔ ہر خاندان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس معاملے میں کیا کیا جائے۔
ماضی میں خدا کے بعض خادم مجبوراً ایسی حالتوں میں رہے جہاں پر انہیں مذہبی تعلیمات یا کاموں کے خطرات کی برداشت کرنا پڑی تھی اگرچہ وہ سچے خدا کیلئے وفادار رہے۔ موسی کا معاملہ غالباً ایسا ہی تھا۔ اسکی مصر کے فرعون کے نواسے کے طور پر پرورش ہوئی تھی، اور اس ”نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی تھی۔“ (اعمال ۷:۲۰-۲۲) غالباً اس میں مصر کے عام مذہبی کام اور اعتقادات کسی حد تک شامل تھے۔ لیکن موسی برتر تعلیم کی بدولت محفوظ رہا تھا جو ظاہری طور پر اس نے اپنے خاندان اور شاید دوسرے عبرانیوں سے حاصل کیتھی۔ خروج ۲:۱۵-۶، عبرانیوں ۱۱:۲۳-۲۶۔
دانیایل کے ساتھی، تین عبرانی جوانوں کی مثال پر بھی غور کریں، جنہیں بابل میں خصوصی تعلیم دی گئی تھی اور انہیں سرکاری عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔ (دانیایل ۱:۶، ۷) وہ اپنی منمانی کرنے یا کسی کام سے انکار کرنے کیلئے آزاد مرضی کے مالک نہیں تھے۔ ایک موقع پر نبوکدنضر بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ وہ دوسرے سرکاری عہدیداروں کیساتھ دورا کے میدان میں نصبکردہ سونے کی مورت کے سامنے حاضر ہوں، جہاں پر کہ قومپرستانہ عقیدت کے کاموں کا مظاہرہ کیا جانا تھا۔ تین عبرانیوں نے کیسا ردعمل دکھایا؟ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے وہاں نہ جانے کو ترجیح دی ہوتی، لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔b تاہم انہوں نے اپنے اعتقادات اور قادرمطلق خدا کیلئے وفاداری دکھائی۔ انکے خداپرست ضمائر نے انہیں وہاں حاضر ہونے کی اجازت تو دے دی جبکہ انہوں نے جھوٹے مذہب کے کسی بھی کام میں ذاتی طور پر شامل ہو نے، یا شرکت کرنے سے عزممصمم کیساتھ انکار کر دیا۔ دانیایل ۳:۱-۱۸۔
جب تمام طالبعلموں کیلئے مذہبی سبق کیلئے حاضر ہونا اور ممکنہ طور پر کسی حد تک معیاری امتحانات پاس کرنا لازمی ہوتا ہے، تو سچے مسیحیوں کے خاندانوں کے بچے حاضر ہو سکتے ہیں، جیسے وہ تین نبوکدنضر کے حکم پر حاضر ہوئے تھے۔ لیکن مسیحی نوجوان خدا کو پہلا درجہ دیں گے۔ انہیں اس چیز کی کوئی ضرورت نہ ہوگی کہ پیش کئے جانے والے ہر غلط بیان یا ہر غیرصحیفائی کام کو چیلنج کیا جائے جس میں کہ دوسرے حصہ لیتے ہیں، جیسے کہ جب دوسرں نے سونے کی مورت کو سجدہ کیا تو تین عبرانیوں نے مداخلت کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ تاہم، مسیحی نوجوان پرستش کے کاموں، اجتماعی دعاؤں، مذہبی گیتوں، اور اسی طرح کے دیگر کاموں میں خود شریک نہیں ہوں گے۔
ان نوجوانوں کو چاہیے کہ دوسرے اوقات پر ”ان پاک نوشتوں سے“ تعمیری علم حاصل کرنے کیلئے خوب جانفشانی کریں ”جو مسیح یسوع پر ایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کیلئے دانائی بخش سکتے ہیں۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۵) اپنے بچوں کیساتھ رابطے کے ذریعے سے، والدین کو چاہیے کہ کلاس کے سبق کی مسلسل نگرانی کریں۔ اس سے بالغ مسیحیوں کو یہ دیکھنے میں مدد ملیگی کہ بائبل سے کس چیز کی وضاحت کرنے یا درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بچے پریشان یا گمراہ نہ ہو جائیں۔ (۲۸ ۱۲/۱۵ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹیڈ نے شائع کی ہے۔
b بائبل دورا کے میدان میں دانیایل کے موجود ہونے کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔ شاید حکومت میں اسکے اعلی مرتبہ نے اسے وہاں جانے سے معذور رکھا ہو۔