سبق نمبر 73
یوحنا نے راستہ تیار کِیا
زکریاہ اور الیشبع کے بیٹے یوحنا بڑے ہو کر ایک نبی بنے۔ یہوواہ نے یوحنا کے ذریعے لوگوں کو بتایا کہ مسیح آنے والا ہے۔ لیکن یوحنا نے عبادتگاہوں یا قصبوں میں نہیں بلکہ ویرانے میں مُنادی کی۔ لوگ یوحنا کا پیغام سننے کے لیے یروشلم اور پورے یہودیہ سے آتے تھے۔ یوحنا نے لوگوں کو بتایا کہ خدا کو خوش کرنے کے لیے اُنہیں بُرے کام چھوڑنے ہوں گے۔ اُن کی باتیں سننے کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنے گُناہوں سے توبہ کر لی اور یوحنا نے اُنہیں دریائےاُردن میں بپتسمہ دیا۔
یوحنا کی زندگی بہت سادہ تھی۔ وہ اُونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے اور ٹڈیاں اور جنگلی شہد کھاتے تھے۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ یوحنا اصل میں کون ہیں۔ فریسی اور صدوقی فرقے کے مغرور لوگ بھی اُن سے ملنے آئے۔ یوحنا نے اُن سے کہا: ”تمہیں خود کو بدلنا ہوگا اور توبہ کرنی ہوگی۔ یہ نہ سوچو کہ تُم بڑے خاص ہو کیونکہ تُم کہتے ہو کہ تُم اَبراہام کی اولاد ہو۔ اَبراہام کی اولاد ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تُم خدا کے بچے ہو۔“
بہت سے لوگوں نے یوحنا کے پاس آ کر پوچھا: ”خدا کو خوش کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟“ یوحنا نے یہودیوں سے کہا: ”اگر آپ کے پاس دو کُرتے ہیں تو ایک اُسے دے دیں جسے اِس کی ضرورت ہے۔“ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یوحنا نے ایسا کیوں کہا؟ کیونکہ وہ لوگوں کو بتانا چاہتے تھے کہ خدا کو خوش کرنے کے لیے اُنہیں لوگوں سے محبت کرنی ہوگی۔
اُنہوں نے ٹیکس لینے والوں سے کہا: ”ایماندار ہوں اور کسی کو دھوکا نہ دیں۔“ اُنہوں نے فوجیوں سے کہا: ”کسی سے رشوت نہ لیں اور جھوٹ نہ بولیں۔“
کاہن اور لاوی بھی یوحنا کے پاس آئے اور اُن سے کہا: ”سب جاننا چاہتے ہیں کہ تُم کون ہو۔“ یوحنا نے کہا: ”مَیں وہ آواز ہوں جو ویرانے میں پکار رہی ہے اور لوگوں کو یہوواہ کی طرف لے کر جا رہی ہے بالکل جیسے یسعیاہ نے کہا تھا۔“
لوگوں کو یوحنا کی باتیں بہت اچھی لگتی تھیں۔ بہت سے لوگ تو یہ سوچنے لگ گئے تھے کہ وہ ہی مسیح ہیں۔ لیکن یوحنا نے اُن سے کہا: ”ایک ایسا شخص آ رہا ہے جو بہت عظیم ہے۔ مَیں تو اُس کے جُوتوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہیں۔ مَیں آپ کو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ آپ کو پاک روح سے بپتسمہ دے گا۔“
”وہ روشنی کے بارے میں گواہی دینے آیا تاکہ اُس کے ذریعے ہر طرح کے لوگ ایمان لائیں۔“—یوحنا 1:7