سبق نمبر 33
رُوت اور نعومی
ایک بار جب ملک اِسرائیل میں قحط پڑا تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی چیزیں کم ہونے لگیں۔ اِس وجہ سے بنیاِسرائیل سے نعومی نام کی ایک عورت اپنے شوہر اور دو بیٹوں کے ساتھ ملک موآب چلی گئی۔ بعد میں نعومی کا شوہر فوت ہو گیا۔ اُن کے بیٹوں نے دو موآبی عورتوں سے شادی کر لی جن کے نام رُوت اور عُرفہ تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ وقت بعد نعومی کے دونوں بیٹے بھی فوت ہو گئے۔
جب نعومی کو پتہ چلا کہ اِسرائیل میں قحط ختم ہو گیا ہے تو اُنہوں نے واپس اپنے گھر جانے کا فیصلہ لیا۔ رُوت اور عُرفہ بھی نعومی کے ساتھ جا رہی تھیں۔ مگر راستے میں نعومی نے اُن سے کہا: ”آپ دونوں بہت اچھی بیویاں اور بہوئیں تھیں۔ مَیں چاہتی ہوں کہ آپ دونوں دوبارہ شادی کر لو۔ اپنے ملک موآب چلی جاؤ۔“ اُن دونوں نے کہا: ”ہم آپ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ ہم نہیں جانا چاہتیں۔“ لیکن نعومی اُنہیں جانے کا کہتی رہیں۔ پھر عُرفہ چلی گئیں لیکن رُوت وہیں رُکی رہیں۔ نعومی نے رُوت سے کہا: ”دیکھو، عُرفہ اپنے لوگوں اور اپنے دیوتاؤں کے پاس واپس جا رہی ہے۔ آپ بھی اپنی امی کے گھر چلی جاؤ۔“ لیکن رُوت نے کہا: ”مَیں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔ آپ کے لوگ میرے لوگ ہوں گے اور آپ کا خدا میرا خدا۔“ آپ کے خیال میں رُوت کی یہ بات سُن کر نعومی کو کیسا لگا ہوگا؟
جب رُوت اور نعومی اِسرائیل پہنچیں تو اُس وقت جَو کی فصل کی کٹائی کا وقت شروع ہو چُکا تھا۔ ایک دن رُوت بوعز نام کے ایک شخص کے کھیت میں بچا ہوا اناج جمع کرنے گئیں۔ بوعز راحب کے بیٹے تھے۔ بوعز نے سنا تھا کہ رُوت ایک موآبی عورت ہیں اور اُنہوں نے نعومی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بوعز نے کھیت میں کام کرنے والوں سے کہا کہ وہ کھیت میں تھوڑا زیادہ اناج چھوڑ دیں تاکہ رُوت اِسے جمع کر سکیں۔
اُسی شام نعومی نے رُوت سے پوچھا: ”آج آپ نے کس کے کھیت میں کام کِیا؟“ رُوت نے کہا: ”بوعز نام کے ایک آدمی کے کھیت میں۔“ نعومی نے رُوت کو بتایا: ”بوعز میرے شوہر کے رشتےدار ہیں۔ آپ دوسری جوان عورتوں کے ساتھ اُنہی کے کھیت میں کام کرنا۔ وہاں آپ بالکل محفوظ ہو۔“
فصل کی کٹائی ختم ہونے تک رُوت نے بوعز کے کھیت میں ہی کام کِیا۔ بوعز نے دیکھا کہ رُوت بہت محنتی اور ایک اچھی عورت ہیں۔ اُس زمانے میں اگر کوئی آدمی فوت ہو جاتا تھا اور اُس کا کوئی بیٹا نہیں ہوتا تھا تو اُس آدمی کا کوئی رشتےدار اُس کی بیوہ سے شادی کرتا تھا۔ بوعز نے رُوت سے شادی کر لی اور اُن کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام عوبید تھا۔ عوبید بادشاہ داؤد کے دادا تھے۔ جب عوبید پیدا ہوئے تو نعومی کی سہیلیاں بہت خوش ہوئیں۔ اُنہوں نے نعومی سے کہا: ”پہلے یہوواہ نے آپ کو رُوت دی جس نے آپ کے ساتھ بھلائی کی اور اب اُس نے آپ کو ایک پوتا دیا ہے۔ یہوواہ کی بڑائی ہو!“
”ایسا دوست بھی ہوتا ہے جو بھائی سے زیادہ وفا نبھاتا ہے۔“—اَمثال 18:24