سبق نمبر 31
یشوع اور جِبعون کے لوگ
یریحو کی تباہی کی خبر کنعان کی سب قوموں میں پھیل گئی۔ اِن قوموں کے بادشاہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ مل کر بنیاِسرائیل کے خلاف لڑیں گے۔ لیکن جِبعونیوں نے کچھ اَور کرنے کا فیصلہ کِیا۔ وہ پھٹے پُرانے کپڑے پہن کر یشوع کے پاس گئے اور اُن سے کہا: ”ہم بہت دُور کے ملک سے آئے ہیں۔ ہم نے یہوواہ کے بارے میں سنا ہے اور اُن کاموں کے بارے میں بھی جو اُس نے مصر اور موآب میں آپ لوگوں کے لیے کیے۔ وعدہ کریں کہ آپ ہم پر حملہ نہیں کریں گے۔ پھر ہم آپ کے خادم بن جائیں گے۔“
یشوع نے اُن کی بات کو سچ مان لیا اور اُن کی جان نہ لینے کا وعدہ کِیا۔ لیکن تین دن بعد یشوع کو پتہ چلا کہ وہ کسی دُور کے ملک سے نہیں بلکہ کنعان سے آئے تھے۔ اُنہوں نے جِبعونیوں سے پوچھا: ”آپ نے ہم سے جھوٹ کیوں بولا؟“ جِبعونیوں نے کہا: ”ہم بہت ڈر گئے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کا خدا یہوواہ آپ کی طرف سے لڑ رہا ہے۔ مہربانی سے ہمیں نہ ماریں۔“ یشوع نے اپنا وعدہ نبھایا اور اُن کی جان نہیں لی۔
کچھ ہی وقت بعد پانچ کنعانی بادشاہوں اور اُن کی فوج نے جِبعونیوں کو دھمکی دی کہ وہ اُن پر حملہ کر دیں گے۔ یشوع اور اُن کی فوج جِبعونیوں کو بچانے کے لیے پوری رات پیدل سفر کر کے وہاں گئے۔ اگلے دن صبح صبح بنیاِسرائیل اور کنعانیوں کے بیچ جنگ شروع ہو گئی۔ کنعانی اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ لیکن وہ جہاں بھی بھاگتے تھے، یہوواہ اُن پر بڑے بڑے اَولے برساتا تھا۔ پھر یشوع نے یہوواہ سے کہا کہ وہ کچھ ایسا کرے کہ سورج نہ ڈوبے۔ یشوع نے یہوواہ سے یہ دُعا کیوں کی کہ سورج نہ ڈوبے حالانکہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا؟ اُنہوں نے اِس لیے ایسا کِیا کیونکہ وہ یہوواہ پر بھروسا کرتے تھے۔ سورج تب تک نہیں ڈوبا جب تک بنیاِسرائیل نے کنعانی بادشاہوں اور اُن کی فوجوں کو ہرا نہیں دیا۔
”آپ کی ہاں کا مطلب ہاں ہو اور آپ کی نہیں کا مطلب نہیں کیونکہ جو کچھ اِس کے علاوہ ہے، شیطان کی طرف سے ہے۔“—متی 5:37