سبق نمبر 3
آدم اور حوّا نے خدا کی بات نہیں مانی
ایک دن جب حوّا اکیلی تھیں تو ایک سانپ نے اُن سے بات کی اور کہا: ”کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے تمہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے سے منع کِیا ہے؟“ حوّا نے کہا: ”ہم ایک درخت کے علاوہ سب درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اُس درخت کا پھل کھایا تو ہم مر جائیں گے۔“ سانپ نے کہا: ”تُم نہیں مرو گے۔ اصل میں اُس درخت کا پھل کھا کر تُم خدا کی طرح بن جاؤ گے۔“ کیا یہ سچ تھا؟ جی نہیں۔ لیکن حوّا نے اِسے سچ مان لیا۔ وہ اُس پھل کو دیکھتی رہیں۔ جتنا زیادہ وہ اُس پھل کو دیکھتی رہیں اُتنا ہی زیادہ اُن کا دل چاہا کہ وہ اُسے کھا لیں۔ اُنہوں نے خود بھی وہ پھل کھایا اور آدم کو بھی دیا۔ آدم کو پتہ تھا کہ خدا کی بات نہ ماننے سے وہ مر جائیں گے۔ لیکن آدم نے پھر بھی وہ پھل کھا لیا۔
اُسی دن شام کو یہوواہ نے آدم اور حوّا سے پوچھا کہ اُنہوں نے اُس کی بات کیوں نہیں مانی۔ آدم نے حوّا پر اِلزام لگایا اور حوّا نے سانپ پر۔ آدم اور حوّا نے یہوواہ کی بات نہیں مانی اِس لیے اُس نے اُنہیں باغ سے باہر نکال دیا۔ یہوواہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ باغ کے اندر واپس آئیں۔ اِس لیے اُس نے اندر آنے والے راستے پر پہرا دینے کے لیے فرشتوں کو کھڑا کِیا اور آگ سے جلتی ہوئی تلوار رکھی۔
یہوواہ نے کہا کہ جس نے حوّا سے جھوٹ بولا ہے، اُسے بھی سزا ملے گی۔ کیا سچ میں ایک سانپ نے حوّا سے بات کی تھی؟ جی نہیں۔ یہوواہ نے ایسے سانپ نہیں بنائے تھے جو بول سکیں۔ اصل میں ایک بُرے فرشتے نے سانپ کے ذریعے حوّا سے بات کی تھی تاکہ وہ اُنہیں اپنے جال میں پھنسا سکے۔ اِس فرشتے کو شیطان اِبلیس کہا جاتا ہے۔ مستقبل میں یہوواہ شیطان کو ختم کر دے گا تاکہ وہ دھوکے سے لوگوں سے بُرے کام نہ کروا سکے۔
”اِبلیس . . . شروع سے قاتل تھا اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی ہے ہی نہیں۔“—یوحنا 8:44، فٹنوٹ۔