یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • bfl سبق 3 ص.‏ 14-‏ص.‏ 15 پ.‏ 3
  • آدم اور حوّا نے خدا کی بات نہیں مانی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آدم اور حوّا نے خدا کی بات نہیں مانی
  • پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ملتا جلتا مواد
  • آدم اور حوا کی سزا
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • خدا سب سے بڑا ہے
    عظیم اُستاد سے سیکھیں
  • باغِ‌عدن میں زندگی کیسی تھی؟‏
    خدا کی سنیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں
  • مشکل زندگی
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
مزید
پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
bfl سبق 3 ص.‏ 14-‏ص.‏ 15 پ.‏ 3
آدم اور حوّا باغِ‌عدن سے باہر نکل رہے ہیں۔‏

سبق نمبر 3

آدم اور حوّا نے خدا کی بات نہیں مانی

آدم نے وہ پھل پکڑا ہوا ہے جسے کھانے سے یہوواہ نے منع کِیا تھا اور اُنہیں یہ پھل حوّا نے دیا ہے۔‏

ایک دن جب حوّا اکیلی تھیں تو ایک سانپ نے اُن سے بات کی اور کہا:‏ ”‏کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے تمہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے سے منع کِیا ہے؟“‏ حوّا نے کہا:‏ ”‏ہم ایک درخت کے علاوہ سب درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اُس درخت کا پھل کھایا تو ہم مر جائیں گے۔“‏ سانپ نے کہا:‏ ”‏تُم نہیں مرو گے۔ اصل میں اُس درخت کا پھل کھا کر تُم خدا کی طرح بن جاؤ گے۔“‏ کیا یہ سچ تھا؟ جی نہیں۔ لیکن حوّا نے اِسے سچ مان لیا۔ وہ اُس پھل کو دیکھتی رہیں۔ جتنا زیادہ وہ اُس پھل کو دیکھتی رہیں اُتنا ہی زیادہ اُن کا دل چاہا کہ وہ اُسے کھا لیں۔ اُنہوں نے خود بھی وہ پھل کھایا اور آدم کو بھی دیا۔ آدم کو پتہ تھا کہ خدا کی بات نہ ماننے سے وہ مر جائیں گے۔ لیکن آدم نے پھر بھی وہ پھل کھا لیا۔‏

آدم اور حوّا باغِ‌عدن سے باہر نکل رہے ہیں اور اندر جانے والے راستے پر پہرا دینے کے لیے فرشتے کھڑے ہوئے ہیں اور آگ سے جلتی ہوئی تلوار رکھی ہوئی ہے۔‏

اُسی دن شام کو یہوواہ نے آدم اور حوّا سے پوچھا کہ اُنہوں نے اُس کی بات کیوں نہیں مانی۔ آدم نے حوّا پر اِلزام لگایا اور حوّا نے سانپ پر۔ آدم اور حوّا نے یہوواہ کی بات نہیں مانی اِس لیے اُس نے اُنہیں باغ سے باہر نکال دیا۔ یہوواہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ باغ کے اندر واپس آئیں۔ اِس لیے اُس نے اندر آنے والے راستے پر پہرا دینے کے لیے فرشتوں کو کھڑا کِیا اور آگ سے جلتی ہوئی تلوار رکھی۔‏

یہوواہ نے کہا کہ جس نے حوّا سے جھوٹ بولا ہے، اُسے بھی سزا ملے گی۔ کیا سچ میں ایک سانپ نے حوّا سے بات کی تھی؟ جی نہیں۔ یہوواہ نے ایسے سانپ نہیں بنائے تھے جو بول سکیں۔ اصل میں ایک بُرے فرشتے نے سانپ کے ذریعے حوّا سے بات کی تھی تاکہ وہ اُنہیں اپنے جال میں پھنسا سکے۔ اِس فرشتے کو شیطان اِبلیس کہا جاتا ہے۔ مستقبل میں یہوواہ شیطان کو ختم کر دے گا تاکہ وہ دھوکے سے لوگوں سے بُرے کام نہ کروا سکے۔‏

‏”‏اِبلیس .‏ .‏ .‏ شروع سے قاتل تھا اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی ہے ہی نہیں۔“‏—‏یوحنا 8:‏44‏، فٹ‌نوٹ۔‏

سوال:‏ حوّا نے وہ پھل کیوں کھایا جسے کھانے سے خدا نے منع کِیا تھا؟ جب آدم اور حوّا نے یہوواہ کی بات نہیں مانی تو اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ شیطان اِبلیس کون ہے؟‏

پیدائش 3:‏1-‏24؛‏ یوحنا 8:‏44؛‏ 1-‏یوحنا 3:‏8؛‏ مُکاشفہ 12:‏9

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں