باب 130
یسوع مسیح کے لیے سزائےموت کا فیصلہ
متی 27:31، 32 مرقس 15:20، 21 لُوقا 23:24-31 یوحنا 19:6-17
پیلاطُس نے یسوع مسیح کو رِہا کرنے کی آخری کوشش کی
یسوع مسیح کو سُولی پر چڑھانے کے لیے لے جایا گیا
حالانکہ یسوع مسیح کے ساتھ بہت ہی بُرا سلوک کِیا گیا اور پیلاطُس نے اُنہیں رِہا کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن پھر بھی یہودیوں کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ ہر صورت میں یسوع کی موت چاہتے تھے۔ اعلیٰ کاہن اور اُن کے ساتھی بڑے جوش سے چلّا رہے تھے: ”اِسے سُولی دیں! سُولی دیں!“ پیلاطُس نے اُن سے کہا: ”تُم خود ہی اِسے لے کر جاؤ اور مار ڈالو۔ میرے خیال میں تو یہ آدمی بےقصور ہے۔“—یوحنا 19:6۔
پیلاطُس جان گیا تھا کہ یسوع مسیح پر لگائے گئے سیاسی اِلزامات جھوٹے ہیں۔ جب یہودیوں نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے یسوع پر وہی اِلزام لگایا جو عدالتِعظمیٰ میں اُن پر لگایا گیا تھا یعنی کفر بکنے کا اِلزام۔ اُنہوں نے کہا: ”ہماری شریعت کے مطابق اِسے سزائےموت ملنی چاہیے کیونکہ اِس نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کِیا ہے۔“ (یوحنا 19:7) پیلاطُس بہت حیران ہوا کیونکہ اُس نے یہ اِلزام پہلے نہیں سنا تھا۔
وہ دوبارہ رہائشگاہ میں گیا اور یسوع کو رِہا کرنے کا ایک اَور طریقہ ڈھونڈنے لگا۔ اُس نے دیکھا تھا کہ یسوع نے کتنے صبر سے تمام ظلم سہے تھے۔ اِس کے علاوہ اُس کی بیوی نے یسوع کے بارے میں خواب بھی دیکھا تھا۔ (متی 27:19) اب یسوع پر جو نیا اِلزام لگا تھا، اُس کی وجہ سے پیلاطُس اَور بھی اُلجھن میں پڑ گیا۔ کیا یہ ہو سکتا تھا کہ اُس کا یہ قیدی واقعی ”خدا کا بیٹا“ تھا؟ پیلاطُس جانتا تھا کہ یسوع گلیل سے تھے۔ (لُوقا 23:5-7) مگر پھر بھی اُس نے یسوع سے پوچھا: ”تُم کہاں سے ہو؟“ (یوحنا 19:9) شاید اُس کو یہ خیال ستا رہا تھا کہ کہیں یسوع کوئی دیوتا تو نہیں جو آسمان سے آیا ہے۔
یسوع مسیح، پیلاطُس کو بتا چُکے تھے کہ وہ ایک بادشاہ ہیں اور اُن کی بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یسوع نے مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اِس لیے اُنہوں نے پیلاطُس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ دیکھ کر پیلاطُس کی انا کو ٹھیس پہنچی اور اُس نے غصے سے کہا: ”تُم مجھ سے بات کرنے سے اِنکار کر رہے ہو؟ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میرے پاس اِختیار ہے کہ تمہیں رِہا کر دوں یا پھر مار ڈالوں؟“—یوحنا 19:10۔
یسوع نے جواب دیا: ”آپ کو مجھ پر صرف اِس لیے اِختیار ہے کیونکہ یہ آپ کو آسمان سے دیا گیا ہے۔ اِس لیے جس آدمی نے مجھے آپ کے حوالے کِیا، اُس کا گُناہ زیادہ ہے۔“ (یوحنا 19:11) غالباً یسوع صرف یہوداہ اِسکریوتی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ اُن کا اِشارہ کائفا اور اُس کے ساتھیوں کی طرف بھی تھا جنہوں نے یسوع کو پیلاطُس کے حوالے کِیا تھا۔ اِن سب کا گُناہ پیلاطُس کے گُناہ سے زیادہ سنگین تھا۔
پیلاطُس، یسوع مسیح کے رویے اور باتوں سے بہت متاثر تھا اور وہ یہ سوچ کر خوفزدہ بھی تھا کہ شاید یسوع کوئی دیوتا ہیں۔ اِس لیے اُس نے ایک بار پھر سے اُن کو رِہا کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہودیوں نے پیلاطُس کو ایسی دھمکی دی جس سے وہ خود بھی مشکل میں پڑ سکتا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”اگر آپ اِس آدمی کو رِہا کریں گے تو آپ قیصر کے ساتھی نہیں ہیں۔ جو شخص اپنے آپ کو بادشاہ کہتا ہے، وہ قیصر کے خلاف ہے۔“—یوحنا 19:12۔
یہ سُن کر پیلاطُس، یسوع کو ایک بار پھر باہر لایا اور تختِعدالت پر بیٹھ گیا۔ پھر اُس نے یہودیوں سے کہا: ”دیکھو! یہ تمہارا بادشاہ ہے۔“ لیکن یہودی اپنی بات پر اَڑے رہے اور چلّانے لگے: ”اِسے لے جائیں! لے جائیں! اِسے سُولی دیں!“ اِس پر پیلاطُس نے پوچھا: ”کیا مَیں تمہارے بادشاہ کو مار ڈالوں؟“ حالانکہ یہودیوں کو رومی حکومت سے سخت نفرت تھی لیکن پھر بھی اعلیٰ کاہنوں نے جواب دیا: ”ہمارا کوئی بادشاہ نہیں سوائے قیصر کے۔“—یوحنا 19:14، 15۔
آخرکار پیلاطُس نے یہودیوں کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور یسوع کو سپاہیوں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُنہیں مار ڈالیں۔ سپاہیوں نے یسوع مسیح سے جامنی لباس اُتار دیا اور اُنہیں اُن کے کپڑے پہنا دیے۔ پھر اُنہوں نے یسوع کو سُولی پکڑوائی اور اُنہیں سزائےموت دینے کے لیے لے گئے۔
جمعہ 14 نیسان تھا اور دن کافی چڑھ چُکا تھا۔ یسوع مسیح جمعرات کی صبح سے اب تک جاگ رہے تھے اور اُن پر ایک کے بعد ایک ظلم ڈھایا گیا تھا۔ اِس لیے جب وہ سُولی اُٹھائے چل رہے تھے تو اُن کی طاقت جواب دے گئی۔ وہاں سے شمعون نامی ایک آدمی گزر رہا تھا جس کا تعلق افریقہ کے شہر کُرینے سے تھا۔ سپاہیوں نے اُس کو روکا اور زبردستی اُس سے یسوع کی سُولی اُٹھوائی۔ یسوع کے پیچھے بہت سے لوگ جا رہے تھے۔ اِن میں سے کچھ عورتیں غم کے مارے چھاتی پیٹ رہی تھیں اور ماتم کر رہی تھیں۔
یسوع مسیح نے اِن عورتوں کی طرف مُڑ کر کہا: ”یروشلیم کی بیٹیو! میرے لیے مت روؤ بلکہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے روؤ کیونکہ وہ وقت آئے گا جب لوگ کہیں گے: ”وہ عورتیں بابرکت ہیں جو بانجھ ہیں اور جن کی گود ہری نہیں ہوئی اور جنہوں نے بچوں کو دودھ نہیں پلایا!“ پھر لوگ پہاڑوں سے کہیں گے کہ ”ہم پر گِر جاؤ!“ اور ٹیلوں سے کہیں گے کہ ”ہمیں چھپا لو!“ اگر وہ اب یہ کام کر رہے ہیں جبکہ درخت ہرا ہے تو اُس وقت کیا ہوگا جب وہ سُوکھ جائے گا؟“—لُوقا 23:28-31۔
یسوع یہودی قوم کی بات کر رہے تھے۔ یہ قوم ایسے درخت کی طرح تھی جو سُوکھ رہا تھا لیکن اِس میں ابھی بھی کچھ ہرا باقی تھا کیونکہ یسوع وہاں تھے اور ایسے یہودی بھی موجود تھے جو یسوع پر ایمان لائے تھے۔ مگر جب یسوع مسیح کو مار ڈالا گیا اور اُن کے شاگرد یہودی مذہب سے نکل آئے تو یہودی قوم ایک ایسے درخت کی طرح بن گئی جو بالکل سُوکھ گیا تھا۔ پھر جب خدا رومی فوج کے ذریعے اِس قوم پر عذاب لایا تو یسوع مسیح کی پیشگوئی کے مطابق کافی رونا اور ماتم ہوا۔