باب 108
یسوع مسیح کو پھنسانے کی کوششیں
متی 22:15-40 مرقس 12:13-34 لُوقا 20:20-40
خدا اور قیصر کی چیزیں
مُردوں کے جی اُٹھنے کے متعلق صدوقیوں کا سوال
شریعت کے سب سے اہم حکم
یہودیوں کے مذہبی پیشوا یسوع مسیح پر غصہ تھے کیونکہ یسوع نے اُن کی بُرائی کا پردہ فاش کرنے کے لیے مثالیں دی تھیں۔ اب فریسیوں نے یسوع کو پھنسانے کی سازش کی۔ وہ چاہتے تھے کہ یسوع کوئی غلط بات کہیں تاکہ اُنہیں رومی حاکم کے حوالے کِیا جا سکے۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے کچھ شاگردوں کو پیسے دے کر یسوع کے پاس بھیجا تاکہ وہ یسوع کو اُن کی اپنی ہی باتوں میں پھنسائیں۔—لُوقا 6:7۔
اُنہوں نے یسوع سے کہا: ”اُستاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ کی باتیں اور تعلیم صحیح ہے اور آپ کسی کی طرفداری نہیں کرتے بلکہ خدا کی راہ کی سچی تعلیم دیتے ہیں۔ کیا قیصر کو ٹیکس دینا جائز ہے یا نہیں؟“ (لُوقا 20:21، 22) مگر یسوع اُن لوگوں کی چکنیچپڑی باتوں میں نہیں آئے۔ وہ اُن کی چالاکی اور ریاکاری بھانپ گئے تھے۔ اگر یسوع اُن سے کہتے کہ ”قیصر کو ٹیکس دینا جائز نہیں ہے“ تو اُن پر رومی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا اِلزام لگایا جا سکتا تھا۔ اور اگر وہ کہتے کہ ”قیصر کو ٹیکس ضرور دیں“ تو لوگ اُن کے خلاف ہو جاتے کیونکہ اُنہیں رومی حکومت سے نفرت تھی۔ تو پھر یسوع نے اُن لوگوں کو کیا جواب دیا؟
اُنہوں نے کہا: ”ریاکارو، تُم میرا اِمتحان کیوں لے رہے ہو؟ مجھے وہ سکہ دِکھاؤ جو ٹیکس کے طور پر دیا جاتا ہے۔“ اُنہوں نے یسوع کو ایک دینار دیا۔ یسوع نے کہا: ”اِس پر کس کی تصویر اور نام نظر آ رہا ہے؟“ اُنہوں نے جواب دیا: ”قیصر کا۔“ اِس پر یسوع نے کہا: ”لہٰذا جو چیزیں قیصر کی ہیں، قیصر کو دو اور جو چیزیں خدا کی ہیں، خدا کو دو۔“—متی 22:18-21۔
جب اُنہوں نے یہ بات سنی تو وہ دنگ رہ گئے اور خاموش ہو کر وہاں سے چلے گئے۔ لیکن باقی مذہبی پیشواؤں نے ہار نہیں مانی۔ فریسیوں کے شاگردوں کے جانے کے بعد صدوقی فرقے کے پیشوا یسوع کو پھنسانے کے لیے آئے۔
صدوقی اِس بات پر ایمان نہیں رکھتے تھے کہ مُردے جی اُٹھیں گے۔ اُنہوں نے یسوع مسیح سے ایک سوال پوچھا جو مُردوں کے جی اُٹھنے اور بھائی کی بیوہ سے شادی کرنے کے بارے میں تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”اُستاد، موسیٰ نے کہا تھا کہ ”اگر کسی آدمی کی اولاد نہ ہو اور وہ مر جائے تو اُس کا بھائی اُس کی بیوی سے شادی کرے اور اپنے بھائی کے لیے اولاد پیدا کرے۔“ اب ہمارے ہاں سات بھائی تھے؛ پہلے نے شادی کی اور بےاولاد مر گیا۔ اِس لیے دوسرے نے اُس کی بیوی سے شادی کر لی۔ لیکن وہ اپنے بھائی کے لیے اولاد پیدا کیے بغیر مر گیا۔ تیسرے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور یہ سلسلہ ساتویں بھائی تک جاری رہا۔ سب سے آخر میں وہ عورت بھی مر گئی۔ جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ عورت کس کی بیوی ہوگی کیونکہ ساتوں بھائیوں نے اُس سے شادی کی تھی؟“—متی 22:24-28۔
یسوع مسیح جانتے تھے کہ صدوقی موسیٰ کو نبی مانتے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے موسیٰ کی کتاب کا حوالہ دے کر اُنہیں جواب دیا۔ اُنہوں نے کہا: ”آپ غلطی پر ہیں کیونکہ آپ کو نہ تو صحیفوں کا علم ہے اور نہ ہی خدا کی طاقت کا۔ دراصل جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو نہ آدمی شادی کریں گے اور نہ ہی عورتوں کی شادی کروائی جائے گی بلکہ وہ سب آسمان کے فرشتوں کی طرح ہوں گے۔ لیکن جہاں تک مُردوں کے زندہ ہونے کا تعلق ہے، وہ ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ کیا آپ نے موسیٰ کی کتاب میں جلتی ہوئی جھاڑی والا واقعہ نہیں پڑھا؟ اُس میں خدا نے موسیٰ سے کہا کہ ”مَیں ابراہام کا خدا، اِضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔ آپ واقعی غلطی پر ہیں۔“ (مرقس 12:24-27؛ خروج 3:1-6) یہ جواب سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔
یسوع مسیح نے فریسیوں اور صدوقیوں کو لاجواب کر دیا۔ اب اُنہوں نے یسوع کو آزمانے کے لیے ایکا کر لیا اور مل کر اُن کے پاس آئے۔ شریعت کے ایک عالم نے یسوع سے پوچھا: ”اُستاد، شریعت میں سب سے بڑا حکم کون سا ہے؟“—متی 22:36۔
یسوع مسیح نے جواب دیا: ”سب سے اہم حکم یہ ہے: ”اَے اِسرائیلیو، سنو! یہوواہ ہمارا خدا ہے۔ صرف ایک ہی یہوواہ ہے۔ یہوواہ اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اپنی ساری جان، اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھو۔“ اور اِس جیسا دوسرا حکم یہ ہے: ”اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“ کوئی بھی حکم اِن دونوں حکموں سے زیادہ اہم نہیں۔“—مرقس 12:29-31۔
یسوع مسیح کا جواب سُن کر شریعت کے عالم نے کہا: ”اُستاد، آپ نے بالکل سچ کہا کہ ”وہ ایک ہے اور اُس کے سوا اَور کوئی نہیں۔“ اور اُس سے اپنے سارے دل، اپنی ساری سمجھ اور اپنی ساری طاقت سے محبت کرنا اور اپنے پڑوسی سے اپنی طرح محبت کرنا، سالم آتشی قربانیوں اور باقی قربانیوں سے زیادہ اہم ہے۔“ یسوع نے دیکھا کہ اُس عالم نے عقلمندی سے جواب دیا ہے اِس لیے اُنہوں نے کہا: ”آپ خدا کی بادشاہت سے دُور نہیں ہیں۔“—مرقس 12:32-34۔
یسوع مسیح تین دن سے (یعنی 9، 10 اور 11 نیسان سے) ہیکل میں تعلیم دے رہے تھے۔ شریعت کے اِس عالم کی طرح کچھ لوگ خوشی سے اُن کی باتوں کو سُن رہے تھے۔ مگر زیادہتر مذہبی پیشواؤں کو یسوع کی باتیں بالکل اچھی نہیں لگیں۔ البتہ ”اُن میں یسوع سے کوئی اَور سوال پوچھنے کی جُرأت نہیں رہی تھی۔“