یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ی‌م‌ر باب 97 ص.‏ 226-‏227
  • انگوروں کے باغ میں کام کرنے والوں کی مثال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • انگوروں کے باغ میں کام کرنے والوں کی مثال
  • یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • ملتا جلتا مواد
  • انگوروں کے باغ کے متعلق دو مثالیں
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • پہلے ”‏اُس کی راستبازی“‏ کی تلاش کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
ی‌م‌ر باب 97 ص.‏ 226-‏227
انگور کے باغ میں مزدور کام کر رہے ہیں۔‏

باب 97

انگوروں کے باغ میں کام کرنے والوں کی مثال

متی 20:‏1-‏16

  • ‏”‏آخر میں آئے“‏ مزدور ’‏پہلے ہو گئے‘‏

یسوع مسیح نے پیریہ میں اپنے گِرد جمع لوگوں کو بتایا تھا کہ ”‏بہت سے لوگ جو پہلے ہیں، وہ آخری ہو جائیں گے اور جو آخری ہیں، وہ پہلے ہو جائیں گے۔“‏ (‏متی 19:‏30‏)‏ پھر اُنہوں نے اپنی بات کو سمجھانے کے لیے انگوروں کے باغ میں کام کرنے والوں کے بارے میں ایک مثال دی۔‏

اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آسمان کی بادشاہت ایک زمین‌دار کی طرح ہے جو صبح سویرے اپنے انگوروں کے باغ کے لیے مزدور ڈھونڈنے نکلا۔ جب اُس کو مزدور ملے تو اُس نے اُن کے ساتھ طے کِیا کہ وہ اُن کو پورے دن کے لیے ایک دینار مزدوری دے گا۔ پھر اُس نے اُن کو اپنے انگور کے باغ میں بھیج دیا۔ جب زمین‌دار دن کے تیسرے گھنٹے باہر گیا تو اُس نے دیکھا کہ بازار میں کچھ آدمی کھڑے ہیں جن کے پاس کام نہیں ہے۔ اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم بھی جا کر میرے انگوروں کے باغ میں کام کرو۔ مَیں تمہیں مناسب مزدوری دوں گا۔“‏ وہ آدمی جا کر کام کرنے لگے۔ زمین‌دار نے دن کے چھٹے اور نویں گھنٹے بھی باہر جا کر ایسا ہی کِیا۔ تقریباً گیارہویں گھنٹے وہ پھر باہر گیا اور اُس نے دیکھا کہ کچھ اَور لوگ فارغ کھڑے ہیں۔ اُس نے پوچھا:‏ ”‏تُم دن بھر فارغ کیوں کھڑے رہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کیونکہ کسی نے ہمیں کام پر نہیں لگایا۔“‏ زمین‌دار نے کہا:‏ ”‏تُم بھی جا کر میرے انگوروں کے باغ میں کام کرو۔“‏“‏—‏متی 20:‏1-‏7‏۔‏

جب یسوع مسیح نے کہا کہ ”‏آسمان کی بادشاہت ایک زمین‌دار کی طرح ہے“‏ تو وہاں موجود لوگ جان گئے ہوں گے کہ یہ ”‏زمین‌دار“‏ یہوواہ خدا ہے۔ پاک صحیفوں میں یہوواہ کو تاکستان یعنی انگور کے باغ کے مالک سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ اِسرائیلی قوم کو انگور کے باغ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (‏زبور 80:‏8، 9؛‏ یسعیاہ 5:‏3، 4‏)‏ جو لوگ شریعت کے تحت تھے، وہ اِس باغ کے مزدور تھے۔ مگر اِس مثال میں یسوع مسیح ماضی کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے زمانے کی صورتحال بتا رہے تھے۔‏

مذہبی پیشوا جن میں فریسی بھی شامل تھے، اُن کی یہ ذمے‌داری تھی کہ وہ لگاتار خدا کی خدمت کریں۔ یہ لوگ اُن مزدوروں کی طرح تھے جنہوں نے پورا دن کام کِیا اور جو ایک دینار یعنی ایک دن کی مزدوری پانے کی توقع کرتے تھے۔‏

کاہنوں اور باقی مذہبی پیشواؤں کی نظر میں عام یہودی خدا کی کم خدمت کر رہے تھے یعنی خدا کے باغ میں تھوڑے گھنٹے کام کر رہے تھے۔ یسوع کی مثال میں یہ عام یہودی اُن مزدوروں کی طرح تھے جنہیں دن کے تیسرے گھنٹے (‏یعنی صبح نو بجے)‏، چھٹے گھنٹے، نویں گھنٹے اور گیارہویں گھنٹے (‏یعنی شام پانچ بجے)‏ مزدوری پر لگایا گیا۔‏

مذہبی پیشواؤں کی نظر میں یسوع مسیح کے پیروکار ”‏لعنتی“‏ تھے۔ (‏یوحنا 7:‏49‏)‏ اِن پیروکاروں نے اب تک مچھیروں یا مزدوروں کے طور پر کام کِیا تھا۔ مگر 29ء کے موسمِ‌خزاں میں انگور کے باغ کے ”‏زمین‌دار“‏ نے یسوع کو بھیجا تاکہ وہ اِن عام یہودیوں کو ایک خاص کام کے لیے بلا‌ئیں۔ اِن کو یسوع مسیح کے شاگردوں کے طور پر خدا کی خدمت کرنے کے لیے بلا‌یا گیا۔ یہی وہ لوگ تھے جو ”‏آخری“‏ تھے یعنی جنہوں نے گیارہویں گھنٹے انگور کے باغ میں کام شروع کِیا۔‏

پھر یسوع مسیح نے مثال کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ دن کے آخر میں کیا ہوا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب شام ہوئی تو زمین‌دار نے اُس آدمی کو بلا‌یا جو کام کی نگرانی کر رہا تھا اور اُس سے کہا:‏ ”‏مزدوروں کو بلا کر مزدوری دے دو۔ سب سے پہلے اُن کو مزدوری دو جو آخر میں آئے تھے اور سب سے آخر میں اُن کو جو پہلے آئے تھے۔“‏ جب گیارہویں گھنٹے والے مزدور آئے تو اُن کو ایک ایک دینار مزدوری ملی۔ اِس لیے سب سے پہلے والے مزدوروں نے سوچا کہ اُن کو زیادہ مزدوری ملے گی۔ لیکن اُن کو بھی ایک دینار ملا۔ یہ دیکھ کر وہ زمین‌دار کے خلاف بڑبڑانے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏جو آخر میں آئے تھے، اُنہوں نے بس ایک گھنٹہ کام کِیا۔ پھر بھی آپ نے اُن کو اُتنی ہی مزدوری دی جتنی ہمیں دی حالانکہ ہم نے سارا دن تپتی دھوپ میں کام کِیا۔“‏ لیکن زمین‌دار نے اُن میں سے ایک سے کہا:‏ ”‏دیکھو بھائی، مَیں تمہارے ساتھ نااِنصافی نہیں کر رہا۔ کیا ہم نے ایک دینار طے نہیں کِیا تھا؟ اپنی مزدوری لو اور جاؤ۔ مَیں آخر میں آنے والے کو بھی اُتنی ہی مزدوری دینا چاہتا ہوں جتنی مَیں نے تمہیں دی ہے۔ کیا مجھے حق نہیں کہ مَیں اپنی چیزوں کے ساتھ جو چاہے، کروں؟ یا کیا تُم جلتے ہو کیونکہ مَیں اچھا ہوں؟“‏ اِسی طرح جو لوگ پہلے ہیں، وہ آخری ہو جائیں گے اور جو آخری ہیں، وہ پہلے ہو جائیں گے۔“‏—‏متی 20:‏8-‏16‏۔‏

مثال کے آخری جملے کو سُن کر شاگردوں کے ذہن میں شاید یہ سوال اُٹھے ہوں کہ یہودیوں کے مذہبی پیشوا جو اپنے آپ کو ”‏پہلے“‏ سمجھتے ہیں، ”‏آخری“‏ کیسے ہو جائیں گے؟ اور یسوع کے شاگرد ”‏پہلے“‏ کیسے ہو جائیں گے؟‏

یسوع مسیح کے شاگردوں کو جنہیں فریسی اور باقی پیشوا ”‏آخری“‏ سمجھتے تھے، ”‏پہلے“‏ بن جانا تھا یعنی اُنہیں پورے دن کی مزدوری ملنی تھی۔ یسوع مسیح کی موت پر خدا نے اِسرائیلی قوم کو رد کر دیا اور ایک نئی قوم یعنی ”‏خدا کے اِسرائیل“‏ کو چُنا۔ (‏گلتیوں 6:‏16؛‏ متی 23:‏38‏)‏ یوحنا بپتسمہ دینے والے اِنہی لوگوں کی بات کر رہے تھے جب اُنہوں نے کہا کہ کچھ کو پاک روح سے بپتسمہ دیا جائے گا۔ اِن ”‏آخری“‏ لوگوں کو سب سے پہلے پاک روح سے بپتسمہ دیا گیا اور ’‏زمین کی اِنتہا تک مسیح کے گواہ ہونے‘‏ کا شرف دیا گیا۔ (‏اعمال 1:‏5،‏ 8؛‏ متی 3:‏11‏)‏ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ اگر شاگرد یسوع مسیح کی مثال کا مطلب سمجھ گئے تھے تو وہ یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ آئندہ اُنہیں مذہبی پیشواؤں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہوگا کیونکہ یہ پیشوا ”‏آخری“‏ ہو جائیں گے۔‏

  • یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ انگور کے باغ کا ”‏زمین‌دار“‏ یہوواہ خدا تھا؟ اور اِس باغ کے ”‏مزدور“‏ کون تھے؟‏

  • اِس مثال سے یسوع مسیح نے کس بڑی تبدیلی کی طرف اِشارہ کِیا؟‏

  • یہ تبدیلی کب نمایاں ہوئی؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں