یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ی‌م‌ر باب 90 ص.‏ 212-‏213
  • ‏”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں“‏
  • یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏مَیں یقین رکھتی ہوں“‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • یسوع نے لعزر کو زندہ کِیا
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یسوع‌کے زمانہ میں ربّیوں کی روایات نے عورتوں پر بہت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ‏”‏آپ کا بھائی جی اُٹھے گا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
مزید
یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
ی‌م‌ر باب 90 ص.‏ 212-‏213
یسوع مسیح اور مریم رو رہے ہیں اور آس‌پاس کھڑے لوگ اُنہیں دیکھ رہے ہیں۔‏

باب 90

‏”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں“‏

یوحنا 11:‏17-‏37

  • یسوع مسیح، لعزر کی موت کے بعد بیت‌عنیاہ پہنچے

  • زندہ کرنے اور زندگی دینے والا

یسوع مسیح پیریہ کے علاقے سے نکل کر بیت‌عنیاہ کے گِردونواح میں آئے جو کہ لعزر، مارتھا اور مریم کا گاؤں تھا۔ یہ گاؤں یروشلیم سے تقریباً 3 کلومیٹر (‏2 میل)‏ دُور مشرق میں واقع تھا۔ مارتھا اور مریم اپنے بھائی لعزر کی موت کا سوگ منا رہی تھیں اور بہت سے لوگ اُن کے پاس افسوس کرنے آ رہے تھے۔‏

مارتھا بھاگی بھاگی یسوع سے ملنے کے لیے آ رہی ہیں۔‏

پھر کسی نے آ کر مارتھا کو بتایا کہ یسوع مسیح گاؤں پہنچنے والے ہیں۔ یہ سُن کر مارتھا جلدی سے یسوع سے ملنے کے لیے گئیں۔ جب مارتھا نے یسوع کو دیکھا تو اُنہوں نے اُن سے وہ بات کہی جو چار دنوں سے شاید اُن کے اور اُن کی بہن کے دل میں تھی۔ مارتھا نے کہا:‏ ”‏مالک، اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔“‏ لیکن مارتھا کو ابھی بھی اُمید تھی کہ یسوع اُن کے بھائی کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ آپ خدا سے جو کچھ بھی مانگیں گے، خدا آپ کو دے گا۔“‏—‏یوحنا 11:‏21، 22‏۔‏

یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کا بھائی جی اُٹھے گا۔“‏ مارتھا کو لگا کہ یسوع مستقبل کی بات کر رہے ہیں جب زمین پر مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔ ابراہام اور خدا کے باقی وفادار خادم بھی یہی اُمید رکھتے تھے۔ مارتھا کی اگلی بات سے ظاہر ہوا کہ اُنہیں بھی مُردوں کے زندہ ہونے پر پکا یقین تھا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے پتہ ہے کہ آخری دن جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ بھی جی اُٹھے گا۔“‏—‏یوحنا 11:‏23، 24‏۔‏

مگر کیا یسوع فوراً مارتھا اور مریم کا دُکھ ختم کر سکتے تھے؟ اُنہوں نے مارتھا کو یاد دِلایا کہ اُنہیں خدا کی طرف سے موت پر بھی اِختیار ملا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، چاہے وہ مر بھی جائے تو بھی دوبارہ زندہ ہوگا۔ اور جو زندہ ہے اور مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔“‏—‏یوحنا 11:‏25، 26‏۔‏

یسوع مسیح یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ اُن کے شاگرد جو اُس وقت زندہ تھے، کبھی نہیں مریں گے۔ اُنہیں خود بھی مرنا تھا جیسا کہ اُنہوں نے اپنے رسولوں کو بتایا تھا۔ (‏متی 16:‏21؛‏ 17:‏22، 23‏)‏ دراصل یسوع اِس بات کو نمایاں کر رہے تھے کہ جو لوگ اُن پر ایمان ظاہر کرتے ہیں، اُنہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔ بہت سے لوگوں کو مُردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔ لیکن یسوع کے جو پیروکار دُنیا کے آخر ہونے تک زندہ ہوں گے، اُن کو شاید کبھی نہیں مرنا پڑے گا۔ بہرحال، جو کوئی بھی یسوع مسیح پر ایمان ظاہر کرے گا، اُسے ابدی موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‏

لیکن کیا یسوع مسیح، لعزر کو زندہ کر سکتے تھے جنہیں فوت ہوئے چار دن ہو گئے تھے؟ یسوع نے ابھی ابھی کہا تھا کہ ”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں اور زندگی دیتا ہوں۔“‏ پھر اُنہوں نے مارتھا سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ اِس بات پر یقین رکھتی ہیں؟“‏ مارتھا نے جواب دیا:‏ ”‏جی مالک، مَیں یقین رکھتی ہوں کہ آپ مسیح اور خدا کے بیٹے ہیں۔ آپ وہی ہیں جسے دُنیا میں آنا تھا۔“‏ مارتھا کو اُمید تھی کہ یسوع اُسی دن لعزر کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ اِس لیے وہ جلدی سے گھر گئیں اور مریم کے کان میں کہا:‏ ”‏اُستاد آ گئے ہیں اور تمہیں بلا رہے ہیں۔“‏ (‏یوحنا 11:‏25-‏28‏)‏ یہ سُن کر مریم فوراً اُٹھیں اور گھر سے باہر گئیں۔ جب دوسروں نے یہ دیکھا تو وہ اُن کے پیچھے گئے کیونکہ اُنہیں لگا کہ مریم قبر پر رونے کے لیے جا رہی ہیں۔‏

جب مریم، یسوع کے پاس پہنچیں تو وہ اُن کے قدموں میں گِر گئیں اور کہنے لگیں:‏ ”‏مالک، اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔“‏ مریم اور باقی یہودیوں کو روتے دیکھ کر یسوع نے گہری آہ بھری اور بہت پریشان ہو گئے، یہاں تک کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے‏۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں کو اندازہ ہوا کہ یسوع کو لعزر سے کتنا پیار تھا۔ لیکن اُن میں سے کچھ کہنے لگے:‏ ”‏اگر یہ آدمی ایک اندھے کی آنکھیں ٹھیک کر سکتا ہے تو کیا یہ لعزر کو نہیں بچا سکتا تھا؟“‏—‏یوحنا 11:‏32،‏ 37‏۔‏

  • جب یسوع مسیح بیت‌عنیاہ کے گِردونواح میں پہنچے تو صورتحال کیا تھی؟‏

  • مارتھا کو کیوں پکا یقین تھا کہ مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا؟‏

  • یسوع مسیح کی کس بات سے ظاہر ہو گیا کہ وہ لعزر کو زندہ کر سکتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں