باب 87
عقلمندی سے کام لیں اور دُور کی سوچیں
بددیانت خادم کی مثال
”بددیانت دُنیا کی دولت سے دوست بنائیں“
یسوع مسیح نے ابھی ابھی ٹیکس وصول کرنے والوں، فریسیوں اور شریعت کے عالموں کو بچھڑے ہوئے بیٹے کی مثال دی تھی۔ اِسے سُن کر اِن لوگوں کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ خدا توبہ کرنے والے گُناہگاروں کو معاف کرنے کو تیار ہے۔ (لُوقا 15:1-7، 11) اب یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے مخاطب ہوئے اور اُنہیں ایک مثال دی۔ یہ مثال ایک امیر آدمی اور اُس کے خادم کے بارے میں تھی جس نے اپنے مالک کے سارے معاملات سنبھالے ہوئے تھے۔
یسوع مسیح نے بتایا کہ اُس خادم پر اِلزام لگایا گیا کہ وہ مالک کا مال ضائع کر رہا ہے۔ لہٰذا مالک نے اُسے ملازمت سے نکالنے کا اِرادہ کِیا۔ یہ جان کر وہ خادم سوچنے لگا: ”میرا مالک تو مجھے فارغ کر رہا ہے۔ اب مَیں کیا کروں گا؟ مجھ میں اِتنی طاقت نہیں کہ مزدوری کروں اور بھیک مانگتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔“ اپنے مستقبل کا سوچ کر خادم نے خود سے کہا: ”مَیں کیا کروں تاکہ جب میری ملازمت چلی جائے تو لوگ خوشی سے مجھے اپنے گھر میں ٹھہرائیں؟ ہاں، ایک طریقہ ہے۔“ پھر اُس نے اپنے مالک کے قرضداروں کو بلایا اور اُن سے پوچھا: ”آپ نے میرے مالک کا کتنا قرض دینا ہے؟“—لُوقا 16:3-5۔
پہلے قرضدار نے جواب دیا: ”زیتون کے تیل کے 100 بڑے مٹکے۔“ یہ تقریباً 2200 لیٹر تیل تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اُس آدمی کا زیتون کا بڑا باغ تھا یا پھر وہ زیتون کے تیل کا کاروبار کرتا تھا۔ خادم نے اُس سے کہا: ”یہ لیں اپنے کاغذات اور فٹافٹ 50 (پچاس) مٹکے [یعنی 1100 لیٹر] لکھ دیں۔“—لُوقا 16:6۔
پھر خادم نے ایک اَور قرضدار سے پوچھا: ”آپ بتائیں، آپ نے میرے مالک کا کتنا قرض دینا ہے؟“ اُس نے جواب دیا: ”گندم کی 100 بوریاں۔“ خادم نے اِس قرضدار سے بھی کہا: ”یہ لیں اپنے کاغذات اور 80 (اَسی) بوریاں لکھ دیں۔“ یوں اُس نے قرضے کو 20 فیصد کم کر دیا۔—لُوقا 16:7۔
چونکہ اِس خادم کو ابھی تک ملازمت سے نہیں نکالا گیا تھا اِس لیے اُس کے پاس اپنے مالک کے قرضداروں کا قرضہ کم کرنے کا اِختیار تھا۔ ایسا کرنے سے خادم نے اُن لوگوں کے ساتھ دوستی کی جو اُس وقت اُس کے کام آ سکتے تھے جب اُسے فارغ کر دیا جاتا۔
بعد میں مالک کو پتہ چلا کہ خادم نے کیا کِیا ہے۔ سچ ہے کہ اُسے خادم کی اِس حرکت کی وجہ سے کافی نقصان اُٹھانا پڑا لیکن اُس نے اُس کی تعریف کی کیونکہ بھلے ہی ”وہ خادم بددیانت تھا“ لیکن ”اُس نے عقلمندی سے کام لیا۔“ پھر یسوع مسیح نے کہا: ”اِس زمانے کے بیٹے دوسروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے سلسلے میں روشنی کے بیٹوں سے زیادہ عقلمند ہیں۔“—لُوقا 16:8۔
یسوع یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ خادم نے جو کچھ کِیا، وہ ٹھیک تھا اور نہ ہی وہ کاروباری معاملوں میں چالاکی سے کام لینے کی صلاح دے رہے تھے۔ تو پھر وہ اِس مثال سے کون سا سبق دینا چاہتے تھے؟ اُنہوں نے شاگردوں سے کہا: ”اِس بددیانت دُنیا کی دولت سے دوست بنائیں تاکہ جب یہ دولت ختم ہو جائے تو وہ آپ کو ابدی گھروں میں ٹھہرائیں۔“ (لُوقا 16:9) لہٰذا وہ شاگردوں کو عقلمندی اور دُوراندیشی سے کام لینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ”روشنی کے بیٹوں“ یعنی خدا کے خادموں کو اپنا مالواسباب عقلمندی سے اِستعمال کرنا چاہیے تاکہ اُنہیں مستقبل میں ہمیشہ کی زندگی ملے۔
صرف یہوواہ خدا اور اُس کا بیٹا ہی بادشاہت میں کسی کو یا تو آسمان پر یا پھر زمین پر ہمیشہ کی زندگی عطا کر سکتے ہیں۔ اِس لیے ہمیں اپنی دُنیاوی دولت کو خدا کی عبادت کو فروغ دینے کے لیے اِستعمال کرنا چاہیے تاکہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے ساتھ ہماری دوستی مضبوط ہو جائے۔ پھر جب دُنیاوی دولت ختم ہو جائے گی تو ہمارا ابدی مستقبل محفوظ ہوگا۔
یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ مالودولت کے اِستعمال جیسے چھوٹے معاملوں میں خدا کے وفادار ہوں گے، وہ بڑے معاملوں میں بھی اُس کے وفادار ہوں گے۔ پھر اُنہوں نے کہا: ”لہٰذا اگر آپ دُنیاوی دولت کے سلسلے میں اپنے آپ کو وفادار ثابت نہیں کرتے تو کیا حقیقی دولت [یعنی خدا کی خدمت کے سلسلے میں ذمےداریاں] آپ کے سپرد کی جائے گی؟“—لُوقا 16:11۔
اِس کے بعد یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ ’ابدی گھروں میں ٹھہرائے‘ جانے کے لیے اُنہیں بہت سی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ اُن کے پیروکار خدا کے سچے خادم ہونے کے ساتھ ساتھ دُنیا کی دولت کے غلام نہیں ہو سکتے کیونکہ ”کوئی خادم دو مالکوں کی غلامی نہیں کر سکتا۔ یا تو وہ ایک سے محبت رکھے گا اور دوسرے سے نفرت یا پھر وہ ایک سے لپٹا رہے گا اور دوسرے کو حقیر جانے گا۔ آپ خدا اور دولت دونوں کے غلام نہیں بن سکتے۔“—لُوقا 16:9، 13۔