باب 65
یروشلیم کے سفر کے دوران تعلیم
متی 8:19-22 لُوقا 9:51-62 یوحنا 7:2-10
یسوع مسیح کے بھائی اُن پر ایمان نہیں لائے
ہماری زندگی میں خدا کی خدمت کتنی اہم ہونی چاہیے؟
یسوع مسیح کافی عرصے سے گلیل میں مُنادی کر رہے تھے کیونکہ یہودیہ کی نسبت گلیل میں زیادہ لوگ اُن کے پیغام کو قبول کر رہے تھے۔ اِس کے علاوہ ایک موقعے پر جب یسوع یروشلیم میں تھے تو یہودیوں نے اُن کو مار ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اُنہوں نے سبت کے دن ایک آدمی کو شفا دی تھی۔—یوحنا 5:18؛ 7:1۔
اب 32ء کا موسمِخزاں چل رہا تھا اور جھونپڑیوں کی عید (یا عیدِخیام) نزدیک تھی۔ یہ عید سات دن تک منائی جاتی تھی اور پھر آٹھویں دن ایک مُقدس اِجتماع ہوتا تھا۔ یہ شکرگزاری کی عید ہوتی تھی اور اِس خوشی میں منائی جاتی تھی کہ فصلوں کی کٹائی مکمل ہو گئی ہے۔
یسوع مسیح کے سوتیلے بھائی یعقوب، شمعون، یوسف اور یہوداہ نے اُنہیں یہودیہ جانے کو کہا۔ یہودیہ کا شہر یروشلیم یہودیوں کا مذہبی مرکز تھا۔ یہودی سال میں تین عیدیں مناتے تھے اور تب یہ شہر لوگوں سے کھچاکھچ بھر جاتا تھا۔ یسوع مسیح کے بھائیوں کا خیال تھا کہ ”جو شخص مشہور ہونا چاہتا ہے، وہ چھپ چھپ کر کام نہیں کرتا۔“ اِس لیے اُنہوں نے یسوع سے کہا: ”اگر آپ ایسے کام کر رہے ہیں تو دُنیا کو دِکھائیں۔“—یوحنا 7:3، 4۔
دراصل یسوع کے بھائی ”ایمان نہیں لائے تھے“ کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ چاہتے تھے کہ عید پر موجود تمام لوگ اُن کے بھائی کو معجزے کرتے دیکھیں۔ البتہ یسوع مسیح جانتے تھے کہ اُن کے لیے یروشلیم جانا کتنا خطرناک تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا: ”دُنیا آپ سے نفرت نہیں کرتی لیکن مجھ سے نفرت کرتی ہے کیونکہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اِس کے کام بُرے ہیں۔ آپ عید پر جائیں۔ مَیں ابھی اِس عید پر نہیں جاؤں گا کیونکہ میرا وقت ابھی نہیں آیا۔“—یوحنا 7:5-8۔
یسوع مسیح کے بھائی دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر یروشلیم کے لیے روانہ ہو گئے۔ اِس کے کچھ دن بعد یسوع اور اُن کے شاگرد بھی اِس سفر پر روانہ ہو گئے مگر وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ وہ یروشلیم جا رہے ہیں۔ اِس لیے وہ اُس سڑک سے نہیں گئے جو دریائےاُردن کی وادی سے گزرتی تھی کیونکہ زیادہتر لوگ اِسی راستے سے یروشلیم جاتے تھے۔ اِس کی بجائے وہ سامریہ کے راستے سے یروشلیم گئے۔ سامریہ سے گزرتے وقت یسوع نے کچھ شاگردوں کو اپنے آگے بھیجا تاکہ وہ رات ٹھہرنے کے لیے جگہ ڈھونڈیں۔ لیکن جس گاؤں میں وہ داخل ہوئے، وہاں کے لوگوں نے اُن کا خیرمقدم نہیں کِیا اور نہ ہی اُن کی مہماننوازی کی کیونکہ یسوع مسیح یہودیوں کی ایک عید منانے کے لیے یروشلیم جا رہے تھے۔ اِس پر یعقوب اور یوحنا کو بڑا غصہ آیا اور اُنہوں نے یسوع سے پوچھا: ”مالک، کیا ہم آسمان سے آگ نازل کروائیں تاکہ یہ لوگ راکھ ہو جائیں؟“ (لُوقا 9:54) لیکن یسوع نے اُنہیں ڈانٹا کہ اُنہوں نے ایسی بات سوچی ہی کیوں۔ پھر اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
راستے میں شریعت کے ایک عالم نے یسوع کے پاس آ کر اُن سے کہا: ”اُستاد! آپ جہاں کہیں بھی جائیں گے، مَیں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔“ یسوع مسیح نے اُس کو جواب دیا: ”لومڑیوں کے بِل ہوتے ہیں اور آسمان کے پرندوں کے گھونسلے لیکن اِنسان کے بیٹے کے پاس آرام کرنے کے لیے اپنا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔“ (متی 8:19، 20) یسوع مسیح شریعت کے عالم سے یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر وہ اُن کا پیروکار بننا چاہتا ہے تو اُسے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ لیکن شریعت کا یہ عالم بہت مغرور تھا اور اُسے ایسی زندگی گوارا نہیں تھی۔ ہم میں سے ہر ایک کو خود سے پوچھنا چاہیے: ”مَیں یسوع مسیح کی پیروی کرنے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہوں؟“
یسوع مسیح نے ایک اَور آدمی سے کہا: ”میرے پیروکار بن جائیں۔“ اُس نے جواب دیا: ”مالک! مجھے اِجازت دیں کہ مَیں پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔“ لیکن یسوع اُس کے حالات جانتے تھے اِس لیے اُنہوں نے کہا: ”مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دیں مگر آپ جائیں اور ہر جگہ خدا کی بادشاہت کا اِعلان کریں۔“ (لُوقا 9:59، 60) لگتا ہے کہ اُس آدمی کا باپ ابھی مرا نہیں تھا ورنہ وہ یسوع کے پاس کھڑا ہو کر اُن سے باتیں نہیں کرتا۔ یہ شخص بھی خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دینے کو تیار نہیں تھا۔
سفر کے دوران یسوع کی ملاقات ایک اَور آدمی سے ہوئی جس نے اُن سے کہا: ”مالک، مَیں آپ کی پیروی کروں گا لیکن مجھے اِجازت دیں کہ مَیں پہلے اپنے گھر والوں کو خدا حافظ کہہ آؤں۔“ یسوع نے اُس سے کہا: ”جو شخص ہل پر ہاتھ رکھتا ہے اور پھر پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے، وہ خدا کی بادشاہت کے لائق نہیں ہے۔“—لُوقا 9:61، 62۔
جو لوگ یسوع مسیح کے پیروکار بننا چاہتے ہیں، اُن کا پورا دھیان خدا کی خدمت پر لگا ہونا چاہیے۔ اگر ایک کسان ہل چلاتے وقت اپنا دھیان سامنے کی طرف نہیں رکھے گا تو ریگھاری ٹیڑھی ہو جائے گی۔ اور اگر وہ ہل کو چھوڑ کر پیچھے کی طرف دیکھنے لگے گا تو اُس کا کام مکمل نہیں ہوگا۔ اِسی طرح جو شخص پیچھے مُڑ کر دُنیا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہمیشہ کی زندگی کی راہ سے بھٹکنے کے خطرے میں ہوتا ہے۔