سبق 5
سموئیل—ایک اچھا لڑکا
سموئیل بچپن سے خیمۂاِجتماع میں یہوواہ خدا کی خدمت کرتے تھے۔ خیمۂاِجتماع وہ جگہ تھی جہاں بنیاِسرائیل یہوواہ خدا کی عبادت کرتے تھے۔ سموئیل اِس جگہ کے پاس ہی رہتے تھے۔ لیکن سموئیل کیوں خیمۂاِجتماع میں خدمت کرنے لگے؟ یہ جاننے سے پہلے آئیں، سموئیل کی امی کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اُن کا نام حنّہ تھا۔
بہت عرصے تک حنّہ کا کوئی بچہ نہیں تھا۔ لیکن وہ چاہتی تھیں کہ اُن کا بچہ ہو۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ خدا سے بہت دُعا کی۔ اُنہوں نے یہوواہ خدا سے وعدہ کِیا کہ ”اگر تُو مجھے بیٹا دے گا تو مَیں اُسے تجھے دے دوں گی اور وہ پوری زندگی خیمۂاِجتماع میں تیری خدمت کرے گا۔“ یہوواہ خدا نے اُن کی دُعا سُن لی اور حنّہ کا ایک بیٹا ہوا۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے کا نام سموئیل رکھا۔ جب سموئیل تین یا چار سال کے ہوئے تو حنّہ اُن کو خیمۂاِجتماع لے گئیں تاکہ سموئیل وہاں یہوواہ خدا کی خدمت کریں۔ اِس طرح حنّہ نے اپنا وعدہ پورا کِیا۔
خیمۂاِجتماع میں ایک سردار کاہن تھا جس کا نام عیلی تھا۔ سردارکاہن وہ ہوتا تھا جو لوگوں کو خدا کے بارے میں سکھاتا تھا۔ عیلی کے دو بیٹے تھے۔ وہ بھی خیمۂاِجتماع میں یہوواہ خدا کی خدمت کرتے تھے۔ خیمۂاِجتماع میں یہوواہ خدا کی عبادت کی جاتی تھی اِس لیے لوگوں کو وہاں اچھے کام کرنے چاہیے تھے۔ لیکن عیلی کے بیٹے وہاں بہت بُرے کام کرتے تھے۔ سموئیل دیکھتے تھے کہ عیلی کے بیٹے کتنے بُرے کام کر رہے ہیں۔ لیکن کیا سموئیل بھی عیلی کے بیٹوں کی طرح بُرے کام کرنے لگے؟— سموئیل نے بُرے کام نہیں کیے۔ اُن کے امیابو نے اُن کو سکھایا تھا کہ وہ اچھے کام کریں تاکہ یہوواہ خدا خوش ہو۔ سموئیل نے اپنے امیابو کا کہنا مانا اور وہ اچھے کام کرتے رہے۔
عیلی کو اپنے بیٹوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے تھا؟— اُنہیں اپنے بیٹوں کو سزا دینی چاہیے تھی اور اُن کو خیمۂاِجتماع سے نکال دینا چاہیے تھا۔ لیکن عیلی نے ایسا نہیں کِیا۔ یہوواہ خدا عیلی اور اُن کے بیٹوں سے بہت ناراض تھا۔ اِس لیے اُس نے فیصلہ کِیا کہ وہ اُنہیں سزا دے گا۔
سموئیل نے عیلی کو بتایا کہ یہوواہ خدا نے کیا کہا ہے۔
ایک رات جب سموئیل سو رہے تھے تو اچانک اُن کو لگا کہ کوئی اُن کو بلا رہا ہے۔ سموئیل فوراً اُٹھے اور بھاگے بھاگے عیلی کے پاس گئے۔ لیکن عیلی نے سموئیل سے کہا: ”مَیں نے تمہیں نہیں بلایا۔“ ایسا دو بار پھر ہوا۔ جب سموئیل کو تیسری بار آواز آئی تو عیلی نے سموئیل سے کہا: ”اب جب تمہیں آواز آئے تو کہنا کہ جی، یہوواہ خدا! مَیں سُن رہا ہوں۔“ جب یہوواہ خدا نے سموئیل کو پھر سے آواز دی تو سموئیل نے یہی کہا۔ یہوواہ خدا نے سموئیل سے کہا کہ ”عیلی کو بتاؤ کہ مَیں اُسے اور اُس کے بیٹوں کو سزا دوں گا۔“ کیا سموئیل کے لیے عیلی کو یہ بات بتانا آسان تھا؟— سموئیل کے لیے یہ کام بہت مشکل تھا۔ سموئیل کو بہت ڈر لگ رہا تھا لیکن پھر بھی اُنہوں نے عیلی کو یہوواہ خدا کی بات بتائی۔ یہوواہ خدا نے جو کہا تھا، وہ ہو گیا۔ عیلی اور اُن کے دونوں بیٹے مر گئے۔
سموئیل سے ہم بہت اچھی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اُن کے سامنے لوگ بہت بُرے کام کر رہے تھے لیکن پھر بھی اُنہوں نے بہت اچھے کام کیے۔ کیا آپ بھی سموئیل کی طرح بنیں گے اور اچھے کام کرتے رہیں گے؟ اگر آپ ایسا کریں گے تو یہوواہ خدا اور آپ کے امیابو بہت خوش ہوں گے۔