یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • اظ‌ک ص.‏ 205-‏208
  • اِختتامیہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اِختتامیہ
  • اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏ہمارے ایمان کو بڑھا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • خدا کے وعدوں پر ایمان ظاہر کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • ایمان—‏خدا کے ساتھ ہمارے رشتے کی جان
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • کیا آپ واقعی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
مزید
اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
اظ‌ک ص.‏ 205-‏208

اِختتامیہ

‏”‏اُن لوگوں کی مثال پر عمل کریں جو اپنے ایمان اور صبر کی وجہ سے وعدوں کے وارث ہیں۔“‏‏—‏عبرانیوں 6:‏12‏۔‏

1، 2.‏ مثال کے ذریعے واضح کریں کہ اِس دُنیا میں ہمارے لیے ایمان پیدا کرنا اشد ضروری کیوں ہے۔‏

لفظ ایمان ایک دلکش اور نہایت اہم خوبی کا نام ہے۔ اگر ہمارے اندر ایمان نہیں ہے تو یہ بہت اہم ہے کہ ہم اِسے پیدا کرنے کے لیے فوراً قدم اُٹھائیں۔ اور اگر ہم ایمان کی خوبی کے مالک ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اِس کی حفاظت کریں اور اِسے نکھاریں۔ لیکن ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے؟‏

2 فرض کریں کہ آپ ایک بڑے صحرا میں موجود ہیں اور آپ کو پانی کی سخت ضرورت ہے۔ کوشش کر کے آپ کو کہیں سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہوگا کہ آپ اِس پانی کی حفاظت کریں تاکہ یہ سورج کی تپش کی وجہ سے بخارات بن کر اُڑ نہ جائے۔ اِس کے علاوہ آپ کو اَور پانی بھی حاصل کرتے رہنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو منزل تک پہنچنے سے پہلے آپ کے پاس موجود پانی ختم ہو جائے گا۔ آج ہم جس دُنیا میں رہتے ہیں، وہ بھی روحانی لحاظ سے ایک صحرا کی طرح ہے۔ جیسے صحرا میں پانی کی شدید قلت ہوتی ہے ویسے ہی اِس دُنیا میں ایمان کی شدید کمی ہے۔ اور اگر ایمان کی حفاظت نہ کی جائے اور اِسے بڑھایا نہ جائے تو یہ پانی کی طرح آسانی سے ختم ہو سکتا ہے۔ ایمان ہمارے لیے اشد ضروری ہے کیونکہ جس طرح پانی کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے اُسی طرح ایمان کے بغیر یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی زندہ نہیں رہ سکتی۔—‏روم 1:‏17‏۔‏

3.‏ (‏الف)‏ یہوواہ نے ہمارے لیے کیا بندوبست کِیا ہے تاکہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کر سکیں؟ (‏ب)‏ ہمیں کن دو باتوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے؟‏

3 یہوواہ جانتا ہے کہ ہمیں ایمان کی کتنی ضرورت ہے اور اُسے پتہ ہے کہ اِسے پیدا کرنا اور برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے ہمیں ایسے لوگوں کی مثالیں دی ہیں جنہوں نے مضبوط ایمان کا مظاہرہ کِیا۔ پولُس رسول نے خدا کے اِلہام سے لکھا:‏ ”‏اُن لوگوں کی مثال پر عمل کریں جو اپنے ایمان اور صبر کی وجہ سے وعدوں کے وارث ہیں۔“‏ (‏عبر 6:‏12‏)‏ اِسی لیے یہوواہ کی تنظیم ہماری حوصلہ‌افزائی کرتی ہے کہ ہم خدا کے وفادار بندوں جیسا ایمان ظاہر کرنے کی کوشش کریں۔ اِن میں سے کچھ کی مثالوں پر ہم نے اِس کتاب میں غور کِیا ہے۔ لیکن اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں دو باتوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے:‏ (‏1)‏ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرتے رہنا چاہیے؛ (‏2)‏ ہمیں اپنے ذہنوں میں اپنی اُمید کو تازہ رکھنا چاہیے۔‏

4.‏ (‏الف)‏ یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان ہمارے ایمان کا دُشمن ہے؟ (‏ب)‏ ہمیں شیطان کی وجہ سے مایوس کیوں نہیں ہونا چاہیے؟‏

4 اپنے ایمان کو مضبوط کرتے رہیں۔‏ شیطان ہمارے ایمان کا سب سے بڑا دُشمن ہے۔ دُنیا کے حکمران کے طور پر اُس نے اِس دُنیا کو ایسے صحرا کی طرح بنا دیا ہے جس میں ایمان برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ شیطان ہم سے کہیں زیادہ طاقت‌ور ہے۔ تو پھر کیا ہمیں مایوس ہو کر یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے اندر ایمان پیدا نہیں کر سکتے اور اِسے مضبوط نہیں بنا سکتے؟ ہرگز نہیں۔ یہوواہ اُن سب لوگوں کے ساتھ ہے جو حقیقی ایمان کے طلب‌گار ہیں۔ وہ ہمیں یقین دِلاتا ہے کہ اُس کی مدد کی بدولت ہم نہ صرف شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اُسے اپنے پاس سے بھگا سکتے ہیں۔ (‏یعقو 4:‏7‏)‏ لیکن شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر روز اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ مگر ہم اپنے ایمان کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟‏

5.‏ بائبل میں خدا کے جن وفادار بندوں کا ذکر کِیا گیا ہے، اُنہوں نے ایمان کیسے پیدا کِیا؟‏

5 جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، بائبل میں خدا کے جن وفادار بندوں کا ذکر کِیا گیا ہے، اُن میں ایمان پیدائشی طور پر نہیں تھا۔ اُنہوں نے یہوواہ کی پاک روح کے ذریعے اِسے پیدا کِیا۔ (‏گل 5:‏22، 23‏)‏ وہ یہوواہ سے مدد کے لیے دُعا کرتے رہے اور یہوواہ بدلے میں اُن کے ایمان کو بڑھاتا رہا۔ ہمیں بھی اُن کی مثال پر عمل کرنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ بڑی فیاضی سے اُن لوگوں کو اپنی پاک روح دیتا ہے جو اُس سے مانگتے ہیں اور اپنی دُعاؤں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ (‏لُو 11:‏13‏)‏ ساتھ ہی ہمیں کچھ اَور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔‏

6.‏ ہم بائبل میں درج واقعات کا مطالعہ کرنے سے زیادہ فائدہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏

6 اِس کتاب میں ہم نے ایمان کے حوالے سے صرف چند لوگوں کی مثالوں پر غور کِیا ہے۔ ایسے بہت سے اَور لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایمان کی شان‌دار مثال قائم کی۔ ‏(‏عبرانیوں 11:‏32 کو پڑھیں۔)‏ اِن میں سے ہر شخص کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرنے سے ہم نہایت اہم سبق سیکھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم بائبل میں اُن کے حوالے سے درج واقعات کو صرف سرسری طور پر پڑھیں گے تو ہم اپنے ایمان کو اِتنا مضبوط نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں زیادہ فائدہ تب ہوگا جب ہم خدا کے اِن بندوں کے پس‌منظر اور واقعات کے سیاق‌وسباق پر تحقیق کریں گے۔ اگر ہم یہ یاد رکھیں گے کہ وہ لوگ بھی عیب‌دار تھے اور ”‏ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے“‏ تو اُن کی مثال ہمارے دل پر زیادہ اثر کرے گی۔ (‏یعقو 5:‏17‏)‏ اِس کے علاوہ ہم اِس بات کا بہتر طور پر تصور کر پائیں گے کہ جب وہ ہمارے جیسی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے تو اُنہیں کیسا محسوس ہو رہا تھا۔‏

7-‏9.‏ (‏الف)‏ بائبل میں خدا کے جن وفادار بندوں کا ذکر کِیا گیا ہے، اگر اُنہیں ویسے یہوواہ کی عبادت کرنے کا موقع ملتا جیسے ہم کرتے ہیں تو اُنہیں کیسا لگتا؟ مثالیں دیں۔ (‏ب)‏ ہمیں اپنے ایمان کو کاموں کے ذریعے مضبوط کیوں کرنا چاہیے؟‏

7 ہم اپنے ایمان کو اپنے کاموں کے ذریعے بھی مضبوط کرتے ہیں۔ دراصل ”‏ایمان بغیر کاموں کے مُردہ ہے۔“‏ (‏یعقو 2:‏26‏)‏ ذرا سوچیں کہ خدا کے جن بندوں کے متعلق ہم نے اِس کتاب میں بات کی ہے، اگر اُنہیں وہی کام دیے جاتے جو یہوواہ نے آج ہمیں کرنے کو کہا ہے تو وہ کتنے خوش ہوتے!‏

8 مثال کے طور پر ابراہام ویرانے میں پتھر کی قربان‌گاہوں پر یہوواہ کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن ہم آج اِجلاسوں اور اِجتماعات میں آرام‌دہ جگہوں پر یہوواہ کے بندوں کے ساتھ مل کر اُس کی عبادت کرتے ہیں اور یہاں اُن وعدوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی جاتی ہے جن کو ابراہام نے بس ”‏دُور سے دیکھا“‏ تھا۔ ذرا سوچیں کہ اگر ابراہام کو ایسے ماحول میں یہوواہ کی عبادت کرنے کا موقع ملتا تو اُنہیں کیسا لگتا؟ ‏(‏عبرانیوں 11:‏13 کو پڑھیں۔)‏ اور ذرا ایلیاہ کے بارے میں سوچیں جنہیں ایک بُرے بادشاہ کے دَور میں بعل کے نبیوں کو قتل کروانے کی ذمے‌داری دی گئی۔ فرض کریں کہ اگر اُنہیں اِس کی بجائے گھر گھر جا کر لوگوں کو تسلی اور اُمید کا پیغام دینے کو کہا جاتا تو اُن کے کیا احساسات ہوتے؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اگر خدا کے اُن بندوں کو ویسے یہوواہ کی عبادت کرنے کا موقع ملتا جیسے آج ہم کرتے ہیں تو وہ فوراً اِس اعزاز کو قبول کرتے۔‏

9 لہٰذا آئیں، اپنے ایمان کو کاموں کے ذریعے مضبوط کرتے رہیں۔ ایسا کرنے سے ہم خدا کے اُن بندوں کی مثالوں سے عملی طور پر فائدہ حاصل کر رہے ہوں گے جن کا ذکر اُس کے کلام میں کِیا گیا ہے۔ جیسا کہ اِس کتاب کے تعارف میں بتایا گیا ہے، ہم اُن لوگوں کو قریبی دوست سمجھنے لگیں گے۔ دراصل بہت جلد ایسا وقت آنے والا ہے جب ہم اِس دوستی کو صرف محسوس نہیں کریں گے بلکہ یہ حقیقت کا رُوپ اِختیار کر لے گی۔‏

10.‏ فردوس میں کون سی بات ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوگی؟‏

10 اپنے ذہن میں اپنی اُمید کو تازہ رکھیں۔‏ ہمیشہ سے ہی خدا کے وفادار بندوں کو اُس اُمید پر غور کرنے سے ہمت ملی ہے جو خدا اُنہیں دیتا ہے۔ کیا یہ بات آپ کے بارے میں بھی سچ ہے؟ مثال کے طور پر ذرا تصور کریں کہ جب ”‏نیکوں .‏ .‏ .‏ کو زندہ“‏ کِیا جائے گا تو ہم خدا کے وفادار بندوں سے مل کر کتنے خوش ہوں گے!‏ ‏(‏اعمال 24:‏15 کو پڑھیں۔)‏ اُس وقت بے‌شک ہم اُن سے بہت سارے سوال بھی پوچھنا چاہیں گے۔‏

11، 12.‏ نئی دُنیا میں آپ خدا کے اِن بندوں سے کون سے سوال پوچھنا چاہیں گے:‏ (‏الف)‏ ہابل؟ (‏ب)‏ نوح؟ (‏ج)‏ ابراہام؟ (‏د)‏ رُوت؟ (‏ہ)‏ ابیجیل؟ (‏و)‏ آستر؟‏

11 جب آپ ہابل سے ملیں گے تو شاید آپ کے ذہن میں اُن کے لیے اِس طرح کے سوال ہوں:‏ ”‏آپ کے ماں باپ کیسے تھے؟ کیا آپ نے کبھی اُن کروبیوں سے بات کی جو باغِ‌عدن کے داخلی راستے پر کھڑے رہتے تھے؟ کیا اُنہوں نے آپ کو جواب دیا؟“‏ اور آپ نوح سے کیا پوچھنا چاہیں گے؟ شاید یہ کہ ”‏کیا آپ کو کبھی جباروں سے ڈر لگا؟ آپ نے کشتی میں پورا سال اِتنے سارے جانوروں کی دیکھ‌بھال کیسے کی؟“‏ اور ابراہام سے مل کر شاید آپ یہ پوچھنا چاہیں کہ ”‏کیا آپ کبھی سم سے ملے تھے؟ آپ کو یہوواہ کے بارے میں کس نے سکھایا؟ کیا شہر اُور کو چھوڑنا مشکل تھا؟“‏

12 اب ذرا سوچیں کہ آپ مضبوط ایمان والی اُن عورتوں سے کیا پوچھنا چاہیں گے جنہیں فردوس میں زندہ کِیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ”‏رُوت، آپ کو یہوواہ کی عبادت کرنے کی ترغیب کیسے ملی؟“‏؛ ”‏ابیجیل، کیا آپ نابال کو یہ بتانے سے ڈر رہی تھیں کہ آپ نے کیسے داؤد کی مدد کی ہے؟“‏؛ ”‏آستر، بائبل میں آپ کی اور مردکی کی جو کہانی درج ہے، اُس میں آگے کیا ہوا؟“‏

13.‏ (‏الف)‏ جب خدا کے وفادار بندوں کو زندہ کِیا جائے گا تو اُن کے پاس آپ کے لیے غالباً کس طرح کے سوال ہوں گے؟ (‏ب)‏ آپ خدا کے اُن وفادار بندوں سے ملنے کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں جو ماضی میں رہتے تھے؟‏

13 بے‌شک خدا کے اُن بندوں کے پاس بھی آپ کے لیے بہت سے سوال ہوں گے۔ یقیناً ہم بڑے جوش سے اُنہیں یہ بتائیں گے کہ آخری زمانے میں کیا کچھ ہوا اور یہوواہ نے مشکل حالات میں اپنے بندوں کو کیسے سنبھالا اور اُنہیں کون سی برکتیں دیں۔ بِلاشُبہ اُنہیں یہ جان کر بڑی خوشی ہوگی کہ یہوواہ نے اپنے تمام وعدے کیسے پورے کیے۔ تب ہمیں خدا کے اُن بندوں کا تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ وہ تو فردوس میں ہمارے ساتھ ہی ہوں گے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ آپ خدا کے اُن بندوں کی زندگیوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ وہ آپ کے لیے ایمان کی جیتی جاگتی مثالیں بن جائیں۔ یہ عزم کریں کہ آپ اُن جیسا ایمان ظاہر کرتے رہیں گے۔ دُعا ہے کہ آپ ہمیشہ تک اُن کی قریبی دوستی سے لطف اُٹھائیں اور یہوواہ کی خدمت کرنے سے ڈھیروں خوشیاں پائیں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں