مزید معلومات
کیا یسوع مسیح واقعی دسمبر کے مہینے میں پیدا ہوا تھا؟
پاک صحائف میں یسوع مسیح کی پیدائش کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔ البتہ ان میں ظاہر کِیا گیا ہے کہ یسوع کی پیدائش دسمبر کے مہینے میں ہرگز واقع نہیں ہوئی تھی۔
ذرا غور کیجئے کہ شہر بیتلحم میں جہاں یسوع پیدا ہوا تھا وہاں دسمبر کے مہینے میں موسم کیسا ہوا کرتا تھا۔ کِسلیو کے مہینے میں (جو ہمارے نومبر/دسمبر میں پڑتا ہے) اس علاقے میں بہت ٹھنڈ پڑتی تھی اور اکثر بارشیں ہوتی تھیں۔ اس کے بعد آنے والے طیبت کے مہینے میں ٹھنڈ اَور بھی بڑھ جاتی یہاں تک کہ پہاڑوں پر کبھیکبھار برف بھی پڑتی تھی۔ آئیے دیکھیں کہ پاک صحائف میں اُس علاقے کے موسم کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔
خدا کے خادم عزرا نے بھی کِسلیو کے مہینے کے ٹھنڈے موسم اور بارشوں کا ذکر کِیا۔ اُس نے بیان کِیا کہ جب ”مہینہ نواں تھا [یعنی کِسلیو کا مہینہ تھا] اور اُس کی بیسویں تاریخ تھی“ تو بہت سے لوگ یروشلیم میں اکٹھے ہوئے۔ عزرا نے بتایا کہ ”سب لوگ . . . بڑی بارش کے سبب سے خدا کے گھر کے سامنے کے میدان میں بیٹھے کانپ رہے تھے۔“ پھر لوگوں نے کہا کہ ”اِس وقت شدت کی بارش ہو رہی ہے اور ہم باہر کھڑے نہیں رہ سکتے۔“ (عزرا ۱۰:۹، ۱۳؛ یرمیاہ ۳۶:۲۲) ایسے موسم میں اسرائیلی چرواہے اپنے گلّوں سمیت کُھلے میدان میں رات ہرگز نہ گزارتے۔
لیکن خدا کے کلام سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جس رات یسوع پیدا ہوا تھا چرواہے ”میدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نگہبانی کر رہے تھے۔“ (لوقا ۲:۸-۱۲) غور کیجئے کہ چرواہے نہ صرف دن کے وقت اپنے گلّوں کو میدان میں چرا رہے تھے بلکہ وہ رات بھی میدان میں گزار رہے تھے۔ کیا وہ دسمبر کے ٹھنڈے اور بھیگے موسم میں ایسا کرتے؟ ہرگز نہیں۔ اِس بات سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ یسوع مسیح دسمبر کے مہینے میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
خدا کے کلام میں یسوع کی موت کی تاریخ بتائی گئی ہے۔ لیکن اُس کی پیدائش کی تاریخ کے بارے میں پاک صحائف میں زیادہ معلومات نہیں پائی جاتی ہیں۔ سلیمان بادشاہ نے لکھا: ”نیکنامی بیشبہا عطر سے بہتر ہے اور مرنے کا دن پیدا ہونے کے دن سے۔“ (واعظ ۷:۱) اس لئے یہ حیرانی کی بات نہیں کہ خدا کے کلام میں یسوع کی زندگی اور اُس کی موت کے بارے میں تو بہت سی تفصیلات بتائی گئی ہیں لیکن اُس کی پیدائش کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
[صفحہ ۲۲۱ پر تصویر]
یسوع کی پیدائش کے وقت چرواہے اپنے گلّوں سمیت کُھلے میدان میں رات گزار رہے تھے