دُنیا میں کیا ہو رہا ہے؟
آجکل اخباروں کی شہسرخیاں پڑھکر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ذرا آجکل کی خبروں پر غور کیجئے۔
تشدد اور جرائم: بازاروں میں بم دھماکے۔ سکولوں کی چاردیواری میں اُستادوں اور طالبعلموں پر فائرنگ۔ ماںباپ کے پلک جھپکتے ہی بچوں کا اغوا۔ بزرگوں اور عورتوں پر دندہاڑے حملے۔
مذہب: خون خرابے کے پیچھے مذہب کا ہاتھ۔ چرچ پر ہزاروں لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام۔ معصوم بچے پادریوں کی جنسی ہوس کا شکار ہو رہے ہیں اور چرچ اِس حقیقت پر پردہ ڈال رہا ہے۔ مذہب پر سے لوگوں کا بھروسا اُٹھتا جا رہا ہے۔
ماحول: فیکٹریوں کی گندگی دریاؤں اور سمندروں کو آلودہ کر رہی ہے۔ پینے کا پانی زہریلا ہوتا جا رہا ہے۔ فضائی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ پیسوں کے لالچ میں باغیچوں اور جنگلوں کو تباہ کِیا جا رہا ہے۔
روزگار: کئی ممالک میں غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ رشوتخوری کی وجہ سے کمپنیوں کا کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ لہٰذا، کروڑوں مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں۔ دھوکےباز سرمایہکار لوگوں کی محنت کی کمائی کو ہڑپ کر رہے ہیں۔
خوراک: کال کی وجہ سے لاکھوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ دُنیابھر میں ۸۰ کروڑ سے زیادہ لوگ دانے دانے کیلئے محتاج ہیں۔
جنگ: گزشتہ سو سالوں میں ۱۰ کروڑ سے زیادہ لوگ جنگوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ دُنیا میں ہتھیاروں کا انبار لگتا جا رہا ہے۔ اگر اِن سب کا استعمال کِیا جائے تو زمین پر ایک شخص بھی زندہ نہیں رہیگا۔ آجکل پوری دُنیا دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔
بیماریاں: سن ۱۹۱۸ میں سپینش فلو نام کی ایک بیماری نے ۲ کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ آجکل کروڑوں لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں۔ کینسر اور دل کے امراض گھر گھر میں غم پھیلا رہے ہیں۔
آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ یہ سب واقعات کس بات کی نشانی ہیں؟ کیا آپ جاننا چاہینگے؟
[صفحہ ۵ پر بکس/تصویر]
کیا خدا دُنیا کی حالت کے بارے میں کچھ کریگا؟
”اَے خدا، تو نے مجھ سے میرا بیٹا کیوں چھین لیا۔“ ایک غمزدہ باپ اپنے بیٹے کے جنازے پر روتے ہوئے پکارتا ہے۔ اِسی طرح کئی لوگ سوچتے ہیں کہ خدا ہی اِس دُنیا کی تمام مصیبتوں کا ذمہدار ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ خدا ہماری پرواہ نہیں کرتا۔
خدا ہماری پرواہ کرتا ہے۔ وہ دُکھ تکلیفوں کا ذمہدار نہیں ہے۔ وہ تو ہمیشہ ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ وہ کتابِمُقدس کے ذریعے ہمیں اِن مصیبتوں سے نپٹنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) وہ بہت جلد اِس زمین سے تشدد، بیماری اور موت کا نامونشان مٹانے والا ہے۔ وہ ہر قوم کے لوگوں کی فکر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ سبھی اُسکی برکتیں حاصل کریں۔—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
کیا آپ خدا کی پرواہ کرتے ہیں؟ کیا آپ اُسکا نام جانتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس نے اِنسان کو کیوں بنایا اور وہ آپ سے کیا چاہتا ہے؟ پاک صحائف اِن سب سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ اِس میں خدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ کیسے بہت جلد تشدد، بیماری اور موت کو ہمیشہ کیلئے مٹا دیگا۔ ایسی برکتیں پانے کیلئے آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ ہمیں خدا کے بارے میں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اُس پر پورا بھروسا رکھنے کی ضرورت ہے۔ (یوحنا ۳:۱۶؛ عبرانیوں ۱۱:۶) ہمیں اُسکے حکموں پر عمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ (۱-یوحنا ۵:۳) کیا آپ ایسا کرنے کیلئے تیار ہیں؟
لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ خدا موجودہ حالات کے بارے میں کیوں کچھ نہیں کرتا؟ اِسکی ایک خاص وجہ ہے۔ کتابِمُقدس ہمیں اِس کی وجہ بیان کرتی ہے اور اِس رسالے کے صفحہ ۱۵ پر اِسے تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔