باب نمبر ۲۲
ہمیں جھوٹ کیوں نہیں بولنا چاہئے؟
فرض کریں کہ ایک لڑکی اپنی امی سے کہتی ہے: ”امی، مَیں سکول کے بعد فوراً گھر آ جاؤں گی۔“ لیکن پھر وہ چھٹی کے بعد اپنی دوستوں کے ساتھ کھیلتی ہے اور دیر سے گھر آتی ہے۔ وہ اپنی امی سے کہتی ہے: ”میری اُستانی نے مجھے سکول کے بعد ایک کام کرنے کے لئے کہا تھا اِس لئے مَیں دیر سے گھر آئی ہوں۔“ آپ کے خیال میں کیا لڑکی کو یہ کہنا چاہئے؟ ......
اِس لڑکے نے کیا کِیا ہے؟
شاید ایک لڑکا گھر کے اندر گیند سے کھیلتا ہے اور کچھ چیزیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ جب اُس کے ابو اُس سے پوچھتے ہیں کہ ”کیا آپ نے یہ چیزیں توڑی ہیں؟“ تو وہ لڑکا کہتا ہے: ”نہیں، مَیں نے تو نہیں توڑیں۔“ آپ کے خیال میں کیا اُس لڑکے کو یہ کہنا چاہئے؟ ......
عظیم اُستاد یسوع مسیح نے ہمیں بتایا کہ سچ بولنا بہت اہم ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”تمہاری ہاں کا مطلب ہاں ہو اور تمہاری نہیں کا مطلب نہیں ہو کیونکہ جو اِن باتوں سے زیادہ ہے، وہ شیطان سے ہے۔“ (متی ۵:۳۷) آپ کے خیال میں یسوع مسیح کی اِس بات کا کیا مطلب تھا؟ ...... وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر ہم نے کسی کام کو کرنے کا وعدہ کِیا ہے تو ہمیں اِسے ضرور کرنا چاہئے۔ ہمیں کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔
بائبل میں ایک کہانی ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ سچ بولنا بہت اہم ہے۔ یہ کہانی ایک شوہر اور اُس کی بیوی کے بارے میں ہے۔ آئیں، مَیں آپ کو یہ کہانی سناتا ہوں۔
یسوع مسیح کی موت کو دو مہینے گزر چکے تھے۔ شہر یروشلیم میں یہودیوں کی ایک عید تھی۔ اِس عید کو پنتِکُست کہا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ دُوردُور سے اِس عید کو منانے کے لئے یروشلیم آئے تھے۔ اِس موقعے پر پطرس رسول نے ایک تقریر دی۔ اِس تقریر میں اُنہوں نے لوگوں کو یسوع مسیح کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ خدا نے اُنہیں مُردوں میں سے زندہ کِیا ہے۔ اُن لوگوں میں سے کئی نے پہلی بار یسوع مسیح کے بارے میں سنا تھا۔ اب وہ یسوع مسیح کے بارے میں اَور بھی جاننا چاہتے تھے۔
اِن میں سے کئی لوگ مسیحی بن گئے۔ اصل میں یہ لوگ تھوڑے دنوں کے لئے یروشلیم آئے تھے۔ لیکن یسوع مسیح کے بارے میں اَور سیکھنے کے لئے وہ زیادہ دن تک یروشلیم میں رہے۔ اُن کے پیسے ختم ہو گئے تھے۔ اِس لئے وہ کھانے پینے کی چیزیں بھی نہیں خرید سکتے تھے۔ یروشلیم میں رہنے والے مسیحی اُن کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے اپنی کچھ چیزیں بیچ دیں اور اِن کے پیسے رسولوں کو دے دئے۔ رسولوں نے یہ پیسے اُن مسیحیوں میں بانٹ دئے جو یروشلیم میں رُکے تھے۔
حننیاہ اور اُن کی بیوی سفیرہ مسیحی تھے اور یروشلیم میں رہتے تھے۔ اُن کے پاس ایک کھیت تھا۔ اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ ”ہم اِس کھیت کو بیچ دیں گے اور پیسے رسولوں کو دے دیں گے۔“ اُنہوں نے یہ فیصلہ اِس لئے نہیں کِیا کیونکہ وہ یروشلیم میں رُکنے والے مسیحیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اصل میں وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ لوگ سوچیں کہ وہ بہت اچھے ہیں۔ حننیاہ اور سفیرہ نے سارے پیسے رسولوں کو نہیں دئے۔ اُنہوں نے کچھ پیسے خود رکھ لئے۔ لیکن اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ ”ہم رسولوں سے کہیں گے کہ ہم نے کھیت بیچا ہے اور سارے پیسے آپ کو دے رہے ہیں۔“ آپ کے خیال میں کیا اُنہیں یہ کہنا چاہئے تھا؟ ......
حننیاہ رسولوں کے پاس گئے اور اُنہیں پیسے دئے۔ خدا جانتا تھا کہ حننیاہ نے سارے پیسے نہیں دئے ہیں۔ اِس لئے خدا نے پطرس رسول پر ظاہر کِیا کہ حننیاہ نے جھوٹ بولا ہے۔
حننیاہ نے پطرس رسول سے کیا جھوٹ بولا؟
پطرس رسول نے حننیاہ سے کہا: ”شیطان نے تمہارے دل میں یہ بات ڈالی کہ تُم جھوٹ بولو۔ تُم نے اُس کی بات کیوں مانی؟ کھیت تمہارا تھا۔ اور جب تُم نے اُسے بیچا تو یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا کہ تُم پیسوں کے ساتھ کیا کرو گے۔ تو پھر تُم نے یہ کیوں کہا کہ ہم نے سارے پیسے دے دئے ہیں جبکہ یہ سچ نہیں ہے۔ تُم نے نہ صرف ہم سے بلکہ خدا سے بھی جھوٹ بولا ہے۔“
حننیاہ نے بہت بڑا گُناہ کِیا۔ اُنہوں نے جو کہا تھا، وہ کِیا نہیں تھا۔ جھوٹ بولنا بہت بُری بات ہے۔ اِس لئے خدا نے حننیاہ کو سزا دی۔ بائبل میں بتایا گیا ہے: ”پطرس رسول کی باتیں سنتے ہی حننیاہ گِر پڑا اور اُس کا دَم نکل گیا۔“ حننیاہ مر گئے۔ پھر کچھ لوگ اُنہیں دفن کرنے کے لئے باہر لے گئے۔
حننیاہ کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی؟
اِس کے تین گھنٹے بعد سفیرہ رسولوں کے پاس آئیں۔ اُن کو پتہ نہیں تھا کہ اُن کے شوہر کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پطرس رسول نے اُن سے پوچھا: ”کیا تُم نے ہمیں کھیت کے سارے پیسے دئے ہیں؟“
سفیرہ نے جواب دیا: ”ہاں، ہم نے سارے پیسے آپ کو دئے ہیں۔“ لیکن یہ سچ نہیں تھا۔ اِس لئے خدا نے سفیرہ کو بھی سزا دی۔ وہ بھی گِر پڑیں اور مر گئیں۔—اعمال ۵:۱-۱۱۔
آپ کے خیال میں ہم حننیاہ اور سفیرہ کی کہانی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ...... ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ خدا اُن لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم ہمیشہ سچ بولیں۔ لیکن کئی لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں کیا اُن کی بات ٹھیک ہے؟ ...... جھوٹ بولنے کی وجہ سے بہت سے مسئلے ہوتے ہیں۔ آجکل دُنیا میں بہت سے لوگ بیمار ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ سب ایک جھوٹ کی وجہ سے ہوا؟ ......
یسوع مسیح نے کس کے بارے میں کہا کہ وہ جھوٹ کا باپ ہے؟
آپ کو یاد ہے کہ ہم نے سیکھا تھا کہ شیطان نے حوا سے جھوٹ بولا تھا۔ اُس نے حوا سے کہا تھا کہ ”اگر تُم اُس درخت کا پھل کھاؤ گی جس سے خدا نے منع کِیا ہے تو تُم نہیں مرو گی۔“ حوا نے شیطان کی بات مان لی اور پھل کھا لیا۔ اُنہوں نے آدم کو بھی یہ پھل دیا۔ اِس پھل کو کھانے سے اُن دونوں نے گُناہ کِیا۔ اِس طرح آدم اور حوا گُناہگار ہو گئے اور جب اُن کے بچے ہوئے تو وہ بھی گُناہگار تھے۔ اِس لئے آج تک انسان بیمار ہوتے اور مرتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ ...... یہ سب ایک جھوٹ سے شروع ہوا۔
یسوع مسیح نے شیطان کے بارے میں کہا: ”وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔“ شیطان نے سب سے پہلا جھوٹ بولا تھا۔ اِس لئے جب ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ شیطان کی نقل کرتا ہے۔ اگر ہم اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے تو ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔—یوحنا ۸:۴۴۔
لیکن کبھیکبھی سچ بولنا آسان نہیں ہوتا۔ آپ کو سچ بولنا کب مشکل لگتا ہے؟ ...... کیا آپ کو سچ بولنا تب مشکل لگتا ہے جب آپ نے کوئی غلطی کی ہے؟ ...... شاید آپ سے کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو۔ جب آپ کے امیابو آپ سے پوچھیں کہ ”یہ کس نے توڑی ہے؟“ تو کیا آپ اپنی بہن یا اپنے بھائی کا نام لگائیں گے؟ یا پھر کیا آپ کہیں گے کہ ”مجھے تو نہیں پتہ“؟ ......
آپ کو سچ بولنا کب مشکل لگتا ہے؟
یا پھر فرض کریں کہ آپ نے اپنا ہومورک پورا نہیں کِیا۔ اگر امی آپ سے پوچھیں کہ ”کیا آپ نے ہومورک کر لیا ہے؟“ تو آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کہیں گے کہ ”جی، مَیں نے سارا ہومورک کر لیا ہے“؟ ...... ہمیں حننیاہ اور سفیرہ کی کہانی یاد رکھنی چاہئے۔ اُنہوں نے جو بات کہی تھی، وہ آدھی سچ تھی اور آدھی جھوٹ۔ یہ بھی جھوٹ بولنے کے برابر ہوتا ہے۔ اِس لئے خدا نے اُنہیں سزا دی۔
اگر ہم کوئی غلطی کرتے ہیں تو ہمیں جھوٹ بول کر اِسے چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں یا صرف آدھی بات بتاتے ہیں تو ہمیں زیادہ سزا ملے گی۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”سچ بولو۔“ اِس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ایک دوسرے سے جھوٹ نہ بولو۔“ یہوواہ خدا ہمیشہ سچ بولتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی ہمیشہ سچ بولیں۔—افسیوں ۴:۲۵؛ کلسیوں ۳:۹۔
ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چاہئے۔ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں: خروج ۲۰:۱۶؛ امثال ۶:۱۶-۱۹؛ امثال ۱۲:۱۹؛ امثال ۱۴:۵؛ امثال ۱۶:۶؛ اور عبرانیوں ۴:۱۳۔