باب نمبر ۸
خدا سب سے بڑا ہے
آپ کے خیال میں سب سے زیادہ طاقتور اور بڑا کون ہے؟ ...... یہوواہ خدا سب سے زیادہ طاقتور اور بڑا ہے۔ کیا اُس کے بیٹے یسوع مسیح بھی ہم سے بڑے ہیں؟ ...... وہ بھی ہم سے بڑے ہیں۔
یسوع مسیح خدا کے ساتھ آسمان پر رہتے تھے۔ وہ ایک فرشتے تھے اور اُن کا روحانی جسم تھا۔ آپ کے خیال میں کیا خدا نے اَور فرشتوں کو بھی بنایا تھا؟ ...... خدا نے کروڑوں فرشتوں کو بنایا تھا۔ یہ فرشتے بھی ہم سے زیادہ طاقتور اور بڑے ہیں۔—زبور ۱۰۳:۲۰؛ دانیایل ۷:۱۰۔
کیا آپ کو اُس فرشتے کا نام یاد ہے جس نے مریم سے بات کی تھی؟ ...... اُس کا نام جبرائیل تھا۔ جبرائیل نے مریم سے کہا: ”تمہارا ایک بچہ پیدا ہوگا جس کو خدا کا بیٹا کہا جائے گا۔“ لیکن آپ کو یاد ہوگا کہ یسوع مسیح آسمان پر تھے۔ تو پھر وہ بچے کے طور پر کیسے پیدا ہو سکتے تھے؟ خدا نے اُن کی زندگی کو مریم کے پیٹ میں ڈالا۔—لوقا ۱:۲۶، ۲۷۔
مریم اور یوسف نے یسوع کو کون سی باتیں بتائی ہوں گی؟
کیا آپ مانتے ہیں کہ خدا نے یہ معجزہ کِیا تھا؟ کیا آپ مانتے ہیں کہ یسوع مسیح زمین پر آنے سے پہلے خدا کے ساتھ آسمان پر رہتے تھے؟ ...... یسوع مسیح نے خود کہا تھا کہ وہ خدا کے ساتھ آسمان پر رہے تھے۔ جب وہ چھوٹے تھے تو اُن کی امی مریم نے اُن کو وہ سب باتیں بتائی ہوں گی جو جبرائیل نے کہی تھیں۔ اور یوسف نے بھی یسوع کو بتایا ہوگا کہ اصل میں اُن کا باپ خدا ہے۔
جب یسوع مسیح نے بپتسمہ لیا تو آسمان سے خدا کی آواز آئی۔ خدا نے کہا: ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔“ (متی ۳:۱۷) اپنی موت سے پہلے یسوع مسیح نے یہ دُعا کی: ”اَے باپ! مجھے آسمان میں وہ جلال دے جو مَیں دُنیا کے بننے سے پہلے تیرے ساتھ رکھتا تھا۔“ (یوحنا ۱۷:۵) اِس آیت میں یسوع مسیح دوبارہ سے خدا کے ساتھ آسمان پر رہنے کے لئے دُعا کر رہے تھے۔ لیکن وہ تو زمین پر تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح آسمان پر کیسے گئے؟ ...... جب وہ مر گئے تو خدا نے اُن کو ایک روحانی جسم دیا اور وہ دوبارہ سے فرشتہ بن گئے۔ اِس طرح وہ آسمان پر جا سکے۔
اب مَیں آپ سے ایک اہم سوال پوچھوں گا: کیا سب فرشتے اچھے ہوتے ہیں؟ ...... ایک ایسا وقت تھا جب سب فرشتے اچھے تھے۔ یہوواہ خدا نے اُن کو بنایا تھا اور یہوواہ خدا جو کچھ بناتا ہے، وہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ لیکن پھر ایک فرشتہ بُرا بن گیا۔ آئیں، دیکھیں کہ یہ کیسے ہوا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ خدا نے پہلے آدمی اور پہلی عورت کو بنایا تھا۔ اِن کا نام آدم اور حوا تھا۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ آدم اور حوا کی کہانی سچی نہیں ہے۔ لیکن عظیم اُستاد یسوع مسیح جانتے تھے کہ یہ سچی کہانی ہے۔
جب خدا نے آدم اور حوا کو بنایا تو اُن میں کوئی عیب یا خرابی نہیں تھی۔ خدا نے اُن کو فردوس میں بسایا۔ یہ ایک خوبصورت باغ تھا۔ اِس کا نام باغِعدن تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ اُن کے بہت سے بچے ہوں اور وہ ہمیشہ تک فردوس میں رہیں۔ لیکن پہلے تو خدا اُن کو ایک بہت اہم بات سکھانا چاہتا تھا۔
آدم اور حوا کو ہمیشہ کی زندگی کیسے مل سکتی تھی؟
یہوواہ خدا نے آدم اور حوا سے کہا تھا کہ وہ باغ کے درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں۔ وہ جتنا جی چاہے کھا سکتے تھے۔ لیکن اُن کو باغ کے ایک درخت کا پھل کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ خدا نے اِس درخت کے بارے میں کہا تھا: ”اگر تُم اِس کا پھل کھاؤ گے تو تُم مر جاؤ گے۔“ (پیدایش ۲:۱۷؛ ۳:۳) خدا اُن کو کون سی اہم بات سکھانا چاہتا تھا؟ کیا آپ جانتے ہیں؟ ......
خدا چاہتا تھا کہ آدم اور حوا اُس کے فرمانبردار رہیں۔ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لئے آدم اور حوا کو خدا کا کہنا ماننا تھا۔ صرف زبان سے یہ کہنا کافی نہیں تھا کہ ”ہم خدا کا کہنا مانیں گے۔“ اُن کو خدا کے حکموں پر عمل بھی کرنا تھا۔ خدا کا کہنا ماننے سے آدم اور حوا ظاہر کر سکتے تھے کہ وہ خدا سے پیار کرتے ہیں اور وہ خدا کو اپنا حکمران مانتے ہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کے لئے فردوس میں زندہ رہ سکتے تھے۔ لیکن اگر آدم اور حوا اُس درخت کا پھل کھاتے تو وہ کیا ظاہر کرتے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ ......
اگر آدم اور حوا اُس درخت کا پھل کھاتے تو وہ ظاہر کرتے کہ وہ خدا کے شکرگزار نہیں ہیں۔ اگر آپ باغِعدن میں ہوتے تو کیا آپ خدا کا کہنا مانتے؟ ...... پہلےپہلے تو آدم اور حوا نے خدا کا کہنا مانا۔ لیکن پھر کسی نے حوا کو غلط کام کرنے پر اُکسایا۔ حوا نے اُس کی بات مان لی اور خدا کی نافرمانی کی۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ حوا کو کس نے اُکسایا تھا؟ ......
سانپ کے ذریعے حوا سے کون بات کر رہا تھا؟
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایک سانپ نے حوا سے بات کی۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ سانپ تو بول نہیں سکتا۔ تو پھر اِس سانپ نے حوا سے کیسے بات کی؟ کیا آپ کو پتہ ہے؟ ...... اصل میں ایک فرشتہ اُس سانپ کے ذریعے حوا سے بات کر رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آدم اور حوا، خدا کی بجائے اُس کی عبادت کریں۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ آدم اور حوا اُس کا کہنا مانیں۔ یہ فرشتہ خدا کی جگہ لینا چاہتا تھا۔
اِس لئے اُس بُرے فرشتے نے حوا کے دل میں غلط خیال ڈالے۔ اُس نے سانپ کے ذریعے حوا سے کہا: ”خدا نے سچ نہیں بولا۔ اگر تُم اِس درخت کا پھل کھاؤ گی تو تُم ہرگز نہیں مرو گی۔ یہ پھل کھانے سے تُم خدا جتنی سمجھدار بن جاؤ گی۔“ اگر فرشتہ آپ سے یہ کہتا تو کیا آپ اُس کی بات مان لیتے؟ ......
فرشتے کی بات سُن کر حوا کے دل میں یہ پھل کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لیکن خدا نے تو اِس درخت کا پھل کھانے سے منع کِیا تھا۔ پھر بھی حوا نے اِس پھل کو کھا لیا اور آدم کو بھی دیا۔ آدم جانتے تھے کہ سانپ نے جو کچھ کہا تھا، وہ سچ نہیں ہے۔ لیکن آدم کو خدا سے اِتنا زیادہ پیار نہیں تھا جتنا اُن کو حوا سے پیار تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے حوا کا کہنا مان لیا اور وہ پھل کھا لیا۔—پیدایش ۳:۱-۶؛ ۱-تیمتھیس ۲:۱۴۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آدم اور حوا نے خدا کی نافرمانی کی تو اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ ...... آدم اور حوا عیبدار بن گئے یعنی اُن میں نقص آ گیا۔ وہ بوڑھے ہونے لگے اور آخرکار مر گئے۔ جب اُن کے بچے ہوئے تو اُن میں بھی عیب آ گیا۔ اِس لئے آج بھی انسان بوڑھے ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ خدا نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔ خدا کا کہنا ماننے سے ہی انسانوں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے۔ (رومیوں ۵:۱۲) جس فرشتے نے حوا سے جھوٹ بولا تھا، اُس کو بائبل میں شیطان اور ابلیس کہا گیا ہے۔ شیطان کے علاوہ اَور بھی فرشتے بُرے بن گئے تھے۔ اِن بُرے فرشتوں کو شیاطین کہا جاتا ہے۔—یعقوب ۲:۱۹؛ مکاشفہ ۱۲:۹۔
جب آدم اور حوا نے خدا کی نافرمانی کی تو اُن کے ساتھ کیا ہوا؟
کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ایک اچھا فرشتہ بُرا کیوں بن گیا؟ ...... یہ فرشتہ غلط سوچ رکھنے لگا۔ وہ سب سے بڑا بننا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ خدا نے آدم اور حوا کو بچے پیدا کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آدم اور حوا کے سارے بچے صرف اُس کی عبادت کریں۔ شیطان چاہتا ہے کہ کوئی بھی انسان یہوواہ خدا کا کہنا نہیں مانے۔ اِس لئے وہ ہمارے دلوں میں غلط خواہشیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔—یعقوب ۱:۱۳-۱۵۔
شیطان کا کہنا ہے کہ یہوواہ خدا سے کوئی بھی محبت نہیں رکھتا۔ وہ آپ کے بارے میں اور میرے بارے میں بھی کہتا ہے کہ ہم خدا سے محبت نہیں رکھتے اور خدا کا کہنا نہیں ماننا چاہتے۔ اُس کا کہنا ہے کہ ہم صرف اُس وقت خدا کا حکم مانتے ہیں جب ایسا کرنا ہمیں آسان لگتا ہے۔ کیا وہ سچ کہہ رہا ہے؟ کیا ہم واقعی ایسے ہیں؟
عظیم اُستاد یسوع مسیح نے کہا کہ شیطان جھوٹا ہے۔ یسوع مسیح نے ہمیشہ خدا کا کہنا مانا اور یوں اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ یہوواہ خدا سے پیار کرتے ہیں۔ یسوع مسیح نے اُس وقت بھی خدا کا کہنا مانا جب ایسا کرنا اُن کے لئے مشکل تھا۔ اُنہوں نے تب بھی خدا کا کہنا مانا جب لوگ اُن کی راہ میں رُکاوٹ ڈالتے تھے۔ یسوع مسیح اپنی موت تک خدا کے وفادار رہے۔ اِس وجہ سے خدا نے اُن کو زندہ کِیا اور ہمیشہ کی زندگی دی۔
آپ کے خیال میں ہمارا سب سے بڑا دُشمن کون ہے؟ ...... ہمارا سب سے بڑا دُشمن شیطان ہے۔ کیا آپ شیطان کو دیکھ سکتے ہیں؟ ...... آپ شیطان کو نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ موجود ہے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن شیطان سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ ...... یہوواہ خدا، شیطان سے بڑا اور زیادہ طاقتور ہے۔ اِس لئے وہ ہمیں شیطان سے بچا سکتا ہے۔
ہمیں کس کی عبادت کرنی چاہئے؟ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں: استثنا ۳۰:۱۹، ۲۰؛ یشوع ۲۴:۱۴، ۱۵؛ امثال ۲۷:۱۱؛ اور متی ۴:۱۰۔