یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ع‌اس باب 5 ص.‏ 32-‏36
  • ‏”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے“‏
  • عظیم اُستاد سے سیکھیں
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک بہت خاص بچہ
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • یسوع مسیح نے فرمانبرداری سیکھی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • مریم کے لئے خوش‌خبری
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • ‏’‏وہ اِن باتوں پر سوچ بچار کرتی رہیں‘‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
مزید
عظیم اُستاد سے سیکھیں
ع‌اس باب 5 ص.‏ 32-‏36

باب نمبر ۵

‏”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے“‏

جب بچے اچھے کام کرتے ہیں تو بڑے اُن سے خوش ہوتے ہیں۔ جب ایک لڑکی کوئی اچھا کام کرتی ہے تو اُس کے ابو بڑے فخر سے کہتے ہیں:‏ ”‏دیکھا، میری بیٹی کتنی اچھی ہے!‏“‏ اور جب ایک لڑکا کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اُس کے ابو خوش ہو کر کہتے ہیں:‏ ”‏دیکھو، میرا بیٹا کتنا اچھا ہے!‏“‏

یسوع مسیح ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جن سے اُن کا باپ خوش ہوتا ہے۔ اِس لئے یسوع مسیح کا باپ اُن پر فخر کرتا ہے۔ پہلے باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ ایک بار یسوع مسیح اپنے تین دوستوں کے ساتھ ایک پہاڑ پر گئے تھے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ اُس وقت کیا ہوا تھا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ آسمان سے خدا کی آواز آئی تھی۔ خدا نے کہا تھا:‏ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔“‏—‏متی ۱۷:‏۵‏۔‏

یسوع مسیح اپنے باپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اِس لئے وہ خوشی سے ایسے کام کرتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں۔ اگر ہم ایک کام خوشی سے کرتے ہیں تو یہ ہمیں زیادہ مشکل نہیں لگتا۔ لیکن اگر ہم ایک کام صرف اِس لئے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں مجبور کِیا جاتا ہے تو ہمیں یہ کام مشکل لگتا ہے۔‏

زمین پر آنے سے پہلے بھی یسوع مسیح خوشی سے وہ کام کرتے تھے جو اُن کا باپ اُن کو دیتا تھا۔ یسوع مسیح آسمان پر بہت بڑا درجہ رکھتے تھے۔ لیکن پھر خدا نے اُن کو ایک خاص کام دیا۔ اِس کام کو کرنے کے لئے یسوع مسیح کو آسمان چھوڑنا تھا اور زمین پر آنا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُن کو بچے کے طور پر پیدا ہونا تھا۔ یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ یسوع مسیح زمین پر آئیں۔ اِس لئے یسوع مسیح زمین پر آنے کو تیار تھے۔‏

خدا کا فرشتہ جبرائیل، مریم کے پاس کیوں آیا؟‏

خدا کے فرشتے جبرائیل نے مریم سے کیا کہا تھا؟‏

زمین پر آنے کے لئے یسوع مسیح کو ایک عورت سے پیدا ہونا تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع مسیح کی ماں کا کیا نام تھا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اُن کی ماں کا نام مریم تھا۔ یہوواہ خدا نے اپنے فرشتے جبرائیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ جبرائیل نے مریم سے کہا:‏ ”‏تیرا ایک بیٹا ہوگا۔ اُس کا نام یسوع رکھنا۔“‏ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اِس بچے کا باپ کون تھا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ فرشتے نے مریم کو بتایا کہ اِس بچے کا باپ یہوواہ خدا تھا۔ اِس لئے یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے۔‏

آپ کے خیال میں مریم نے فرشتے کی بات سُن کر کیا کِیا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ کیا مریم نے کہا:‏ ”‏مَیں یسوع کی ماں نہیں بننا چاہتی ہوں“‏؟ نہیں۔ مریم یسوع کی ماں بننا چاہتی تھیں کیونکہ وہ خدا کا کہنا ماننا چاہتی تھیں۔ لیکن خدا کا بیٹا تو آسمان پر تھا۔ تو پھر وہ بچے کے طور پر زمین پر کیسے پیدا ہو سکتا تھا؟ یسوع کی پیدائش دوسرے بچوں کی پیدائش سے فرق تھی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن کی پیدائش کس طرح فرق تھی؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏

خدا نے آدمی اور عورت کو ایسے بنایا ہے کہ ایک خاص طریقے سے اُن کا ملاپ ہو سکے۔ اِس ملاپ کے بعد ماں کے پیٹ میں ایک بچہ پلنے لگتا ہے۔ یہ بہت حیران‌کُن بات ہے، ہے نا؟‏

خدا نے اپنے بیٹے کی زندگی مریم کے پیٹ میں ڈال دی۔ خدا نے پہلے کبھی ایسا نہیں کِیا تھا۔ اور اِس کے بعد بھی اُس نے کبھی دوبارہ سے ایسا نہیں کِیا۔ یہ ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔ اِس معجزے کے بعد یسوع مریم کے پیٹ میں پلنے لگے، بالکل اُسی طرح جیسے دوسرے بچے اپنی ماں کے پیٹ میں پلتے ہیں۔ پھر مریم نے یوسف سے شادی کر لی۔‏

جب یسوع پیدا ہونے والے تھے تو مریم اور یوسف شہر بیت‌لحم گئے۔ اُس وقت شہر میں بہت زیادہ لوگ جمع تھے۔ اِس لئے یوسف اور مریم کو رہنے کے لئے کوئی کمرہ نہیں ملا۔ اُن کو ایک ایسی جگہ رہنا پڑا جہاں جانوروں کو رکھتے ہیں۔ وہاں یسوع پیدا ہوئے۔ مریم نے یسوع کو ایک چرنی میں ڈالا، جیسا کہ آپ اِس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔ چرنی اُس چیز کو کہتے ہیں جس میں جانوروں کو چارا ڈالا جاتا ہے۔‏

مریم اور یوسف، ننھنے یسوع کو چرنی میں ڈال رہے ہیں۔‏

اِس تصویر میں مریم، یسوع کو چرنی میں کیوں ڈال رہی ہیں؟‏

جس رات یسوع پیدا ہوئے، اُس رات بہت سی حیران‌کُن باتیں ہوئیں۔ بیت‌لحم کے نزدیک کچھ چرواہے میدان میں تھے۔ اچانک اُن کو ایک فرشتہ نظر آیا۔ اِس فرشتے نے اُن کو بتایا:‏ ”‏مَیں تمہیں خوش‌خبری دینے آیا ہوں۔ آج ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جو لوگوں کو نجات دلائے گا۔“‏—‏لوقا ۲:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

چرواہوں نے دیکھا کہ فرشتے خدا کی حمد میں گیت گا رہے ہیں۔‏

فرشتے نے چرواہوں کو کون سی خوش‌خبری دی؟‏

فرشتے نے چرواہوں کو بتایا کہ یسوع بیت‌لحم میں ہیں۔ اچانک چرواہوں کو بہت سارے فرشتے دکھائی دئے۔ یہ سب فرشتے خدا کی حمد میں گیت گانے لگے۔ وہ کہہ رہے تھے:‏ ”‏خدا کی بڑائی ہو۔ اور زمین پر اُن آدمیوں کو سلامتی حاصل ہو، جن سے خدا خوش ہے۔“‏—‏لوقا ۲:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

پھر فرشتے غائب ہو گئے اور چرواہے بیت‌لحم گئے۔ وہاں اُنہوں نے یوسف اور مریم کو وہ ساری باتیں بتائیں جو فرشتے نے اُنہیں بتائی تھیں۔ یہ سب کچھ سُن کر مریم ضرور خوش ہوئی ہوں گی۔ اُنہوں نے سوچا ہوگا:‏ ”‏کتنا اچھا ہوا کہ مَیں نے یسوع کی ماں بننے سے انکار نہیں کِیا۔“‏

کچھ عرصے بعد یوسف اور مریم ناصرت کے شہر میں رہنے لگے۔ یسوع وہیں بڑے ہوئے۔ بڑے ہو کر وہ لوگوں کو خدا کی باتیں سکھانے لگے۔ یہوواہ خدا چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا لوگوں کو خدا کی تعلیم دے۔ یسوع مسیح نے خوشی سے یہ کام کِیا کیونکہ وہ یہوواہ خدا سے بہت پیار کرتے تھے۔‏

عظیم اُستاد بننے سے پہلے یسوع بپتسمہ لینا چاہتے تھے۔ اِس لئے وہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے پاس گئے۔ یوحنا نے اُن کو ایک دریا میں بپتسمہ دیا۔ اِس دریا کا نام یردن تھا۔ جب یسوع مسیح نے بپتسمہ لیا تو ایک انوکھی بات ہوئی۔ جیسے ہی یسوع مسیح پانی سے اُوپر آئے، خدا نے آسمان سے کہا:‏ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔“‏ (‏متی ۳:‏۱۷‏)‏ جب آپ کے امی‌ابو آپ کی تعریف کرتے ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ یقیناً یہ آپ کو اچھا لگتا ہے۔ اِسی طرح جب خدا نے یسوع مسیح کی تعریف کی تو اُنہیں بھی اچھا لگا ہوگا۔‏

یسوع مسیح ہمیشہ وہ کام کرتے تھے جو صحیح ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ اُنہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ خدا ہیں۔ خدا کے فرشتے جبرائیل نے مریم کو بتایا تھا کہ یسوع کو خدا کا بیٹا کہا جائے گا۔ یسوع مسیح نے خود بھی کہا تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ یسوع مسیح نے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ خدا سے زیادہ سمجھ‌دار ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏باپ مجھ سے بڑا ہے۔“‏—‏یوحنا ۱۴:‏۲۸‏۔‏

جب یسوع مسیح آسمان پر تھے تو خدا نے اُن کو بہت سے کام دئے۔ یسوع مسیح نے وہ کام خوشی سے کئے۔ اُنہوں نے کبھی خدا سے یہ نہیں کہا:‏ ”‏ٹھیک ہے، مَیں یہ کام کروں گا“‏ اور پھر جا کر کوئی اَور کام کرنے لگے۔ وہ اپنے باپ سے بہت پیار کرتے تھے۔ اِس لئے وہ خدا کا کہنا مانتے تھے۔ اور جب یسوع مسیح زمین پر آئے تب بھی اُنہوں نے وہی کام کئے جن کے لئے خدا نے اُن کو بھیجا تھا۔ اُنہوں نے دوسرے کام کرنے میں وقت ضائع نہیں کِیا۔ اِسی لئے تو یہوواہ خدا اپنے بیٹے سے بہت خوش ہے۔‏

ہم بھی یہوواہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں، ہے نا؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اِس لئے ہمیں بھی خدا کی بات ماننی چاہئے۔ خدا کی باتیں بائبل میں لکھی ہیں۔ کبھی‌کبھی لوگ خدا کی بات ماننے کا دکھاوا کرتے ہیں۔ لیکن اصل میں وہ ایسے کام کرتے ہیں جن سے بائبل میں منع کِیا گیا ہے۔ کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے؟ .‏.‏.‏.‏.‏.‏ اگر ہم واقعی یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں تو ہم خوشی سے اُس کا کہنا مانیں گے۔‏

ہمیں یسوع مسیح کے بارے میں اَور بھی باتیں جاننی چاہئیں اور اِن باتوں پر ایمان لانا چاہئے۔ اِس سلسلے میں اِن آیتوں کو پڑھیں:‏ متی ۷:‏۲۱-‏۲۳؛‏ یوحنا ۴:‏۲۵، ۲۶‏؛ اور ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۵، ۶‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں