یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو17 نمبر 2 ص.‏ 16
  • صحارا میں رہنے والی چیونٹی کی شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • صحارا میں رہنے والی چیونٹی کی شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت
  • جاگو!‏—‏2017ء
  • ملتا جلتا مواد
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2017ء
  • چیونٹی کی گردن
    جاگو!‏—‏2016ء
  • بڑھئی چیونٹی—‏ایک صفائی‌پسند کیڑا
    کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏
  • خلقت سے یہوواہ خدا کی حکمت ظاہر ہوتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
مزید
جاگو!‏—‏2017ء
جاگو17 نمبر 2 ص.‏ 16
صحارا میں رہنے والی سلیٹی رنگ کی چیونٹی

کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏

صحارا میں رہنے والی چیونٹی کی شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت

صحارا کے صحرا میں پائی جانے والی سلیٹی رنگ کی چیونٹی خشکی پر رہنے والے اُن جانوروں میں سے ایک ہے جو سخت گرمی کو برداشت کر سکتے ہیں۔ صحارا میں دوپہر کے وقت سورج کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اِس چیونٹی کے شکاری سائے میں پناہ لیتے ہیں۔ اِسی دوران یہ چیونٹی تھوڑی دیر کے لیے خوراک کی تلاش میں اپنے بِل سے باہر نکلتی ہے۔ اِس کی خوراک میں وہ کیڑے مکوڑے شامل ہوتے ہیں جو شدید گرمی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔‏

صحارا میں رہنے والی چیونٹی کے جسم پر خاص قسم کے بال ہوتے ہیں جو اِسے گرمی کی شدت سے بچاتے ہیں۔‏

‏[‏50]‏ مائیکرو میٹر

غور کریں:‏ صحارا میں رہنے والی اِس چیونٹی کے جسم کی اُوپر والی سطح خاص قسم کے بالوں سے ڈھکی ہوتی ہے جبکہ نیچے والی سطح پر بال نہیں ہوتے۔ اِن بالوں کی وجہ سے یہ چیونٹی چمک‌دار لگتی ہے۔ یہ بال دراصل مثلث کی شکل والی چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتے ہیں۔ اِن نالیوں کی اُوپر والی دو سطحوں پر چھوٹی چھوٹی سلوٹیں ہوتی ہیں جنہیں صرف خوردبین سے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ نیچے والی سطح ہموار ہوتی ہے۔ بالوں کے اِس ڈیزائن کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اِس کی وجہ سے چیونٹی کے بال سورج کی اُن شعاعوں کو منعکس کر پاتے ہیں جو نظر نہیں آتیں۔ اور دوسرا یہ کہ یہ بال اُس حرارت کو خارج کر پاتے ہیں جو چیونٹی کے اِردگِرد کے ماحول سے اُس کے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ اِسی دوران چیونٹی کے جسم کی نچلی سطح حرارت کی اُن شعاعوں کو منعکس کرتی ہے جو ریت سے نکلتی ہیں اور نظر نہیں آتیں۔‏a

صحارا میں رہنے والی چیونٹی کے بالوں کو خوردبین کے ذریعے دِکھایا گیا ہے۔ یہ بال دراصل مثلث کی شکل والی چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتے ہیں۔‏

‏[‏10]‏ مائیکرو میٹر

صحارا میں رہنے والی یہ چیونٹی زیادہ سے زیادہ 6.‏53 ڈگری سینٹی‌گریڈ (‏5.‏128 ڈگری فارن‌ہائیٹ)‏ درجۂ‌حرارت برداشت کر سکتی ہے۔ اور اِس کے جسم کی بناوٹ کی وجہ سے اِس کا درجۂ‌حرارت 6.‏53 ڈگری سینٹی‌گریڈ سے کم رہتا ہے۔ اِس ننھے سے جان‌دار سے متاثر ہو کر سائنس‌دان ایسی پرتیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو پنکھوں یا دوسری مشینوں کے بغیر ٹھنڈک فراہم کر سکیں۔‏

آپ کا کیا خیال ہے؟‏ کیا صحارا میں رہنے والی سلیٹی رنگ کی چیونٹی کے جسم میں سخت گرمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت خودبخود وجود میں آئی ہے؟ یا کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏

a اِس کے علاوہ اِس چیونٹی کے جسم میں خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہیں جو سخت گرمی میں بھی نہیں ٹوٹتیں۔ اِس چیونٹی کی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں جن کی وجہ اِس کا جسم گرم ریت سے اُوپر رہتا ہے اور یہ تیز دوڑ پاتی ہے۔ اِس کے اندر راستہ تلاش کرنے کی شان‌دار صلاحیت بھی پائی جاتی ہے جس کی بدولت یہ ایک ایسا راستہ چُن سکتی ہے جو اِسے بہت تھوڑے وقت میں اپنے بِل میں واپس لے جاتا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں