یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو11ء اپریل ص.‏ 20
  • آپ زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‏
  • جاگو!‏—‏2011ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا دولت آپکو خوشی بخش سکتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • مال‌ودولت سے نہیں بلکہ انسانوں سے پیار کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • خدا کی نئی دُنیا میں حقیقی خوشحالی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • خدا کے معیاروں پر چلنے کے فائدے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
مزید
جاگو!‏—‏2011ء
جاگو11ء اپریل ص.‏ 20

آپ زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‏

● کیا آپ ایسی منزلیں حاصل کرنا چاہتے ہیں جو آپ کی پہنچ میں ہیں؟ یا کیا آپ خوابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ سلیمان بادشاہ نے انسانی فطرت کا بہت قریب سے جائزہ لینے کے بعد کہا:‏ ”‏آنکھوں سے دیکھ لینا آرزو کی آوارگی سے بہتر ہے۔“‏—‏واعظ ۶:‏۹‏۔‏

سلیمان بادشاہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں حقیقت پر غور کرکے اپنے حالات کا جائزہ لینا چاہئے۔ اپنے حالات میں بہتری لانے کی خواہش رکھنا غلط نہیں ہے۔ لیکن خدا کے پاک کلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک دانش‌مند شخص ایسی خواہشات نہیں رکھتا جنہیں وہ پورا نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر وہ دولت اور شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتا، وہ جیون‌ساتھی کے انتخاب کے سلسلے میں حد سے زیادہ معیار قائم نہیں کرتا اور وہ یہ توقع بھی نہیں کرتا کہ اُسے کبھی صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‏

بعض اوقات کوئی شخص اپنی خواہش کے مطابق کچھ حاصل کر لیتا ہے، جیسا کہ مال‌ودولت۔ لیکن پھر بھی اُس کی خواہش نہیں مٹتی۔ خدا کے کلام میں اِس حقیقت کو یوں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏جو کوئی روپے‌پیسے سے پیار کرتا ہے، اُس کے دل میں روپے‌پیسے کی چاہت اَور بڑھ جاتی ہے؛ جو کوئی دولت سے پیار کرتا ہے وہ اُس میں اضافہ سے بھی سیر نہیں ہوتا۔ یہ بھی بے‌معنی ہے۔“‏ (‏واعظ ۵:‏۱۰‏، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ جو شخص خدا کے کلام پر عمل کرتا ہے، وہ اُن چیزوں سے مطمئن رہتا ہے جو اُس کے پاس ہیں، یعنی جو وہ ’‏آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔‘‏ وہ اِس حقیقت کو یاد رکھتا ہے کہ ”‏نہ ہم دُنیا میں کچھ لائے اور نہ کچھ اِس میں سے لے جا سکتے ہیں۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۷‏۔‏

خدا نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کہ اگر ہم اُس کے کلام کو سنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں سچی خوشی ملتی ہے۔ (‏لوقا ۱۱:‏۲۸‏)‏ یسوع مسیح نے اِس سلسلے میں کہا:‏ ”‏آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو [‏یہوواہ]‏ خدا کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“‏ (‏متی ۴:‏۴‏)‏ ہم خدا کی باتیں کیسے سُن سکتے ہیں؟ یہ باتیں پاک صحیفوں میں درج ہیں اور اِنہیں سمجھنا مشکل نہیں ہے۔‏

حقیقی خوشی حاصل کرنے کے لئے پاک صحیفوں میں یہ مشورہ دیا گیا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ میں مسرور رہ اور وہ تیرے دِل کی مُرادیں پوری کرے گا۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۴‏)‏ یہوواہ خدا لامحدود قدرت کا مالک ہے اور اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ اُن لوگوں کی خواہشات پوری کرے گا جو اُس کی مرضی پر چلتے ہیں۔ جب خدا زمین کو فردوس بنائے گا تو وہ اپنے خادموں کو اچھی صحت، خوشحالی اور سب سے بڑھ کر ہمیشہ کی زندگی دے گا۔ (‏لوقا ۲۳:‏۴۳؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ اگر آپ بھی خدا کے اِن وعدوں پر بھروسا رکھتے ہیں تو آپ مایوس نہیں ہوں گے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں