ایک منفرد جاپانی دستکاری
جاپان سے جاگو! کا رائٹر
جاپان میں ماؤنٹ فیوجی کے علاقے میں ہاکونی کے پہاڑ گھنے جنگلات سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ غیرمانوس اور بل کھاتے ہوئے پہاڑی راستے سے ہم ہاٹاجوکو نامی چھوٹے سے گاؤں میں پہنچتے ہیں۔ یہ پُرسکون علاقہ یوسیجی کیلئے مشہور ہے۔
یوسیجی کا لفظی مطلب ہے ”لکڑی کے ٹکڑوں کا اِتصال۔“ اسکی نمایاں خصوصیت اسکے گوناگوں ڈیزائن ہیں جو سادہ سے بُکمارک سے لیکر درازوں والے بکس تک لکڑی کی دستکاریوں پر بنے ہوتے ہیں۔ یہ ڈیزائن مختلف اشکال اور رنگوں کے ہوتے ہیں۔ یہ معلوم ہونے پر کہ یہ نمونے پینٹ نہیں کئے گئے بلکہ مختلف رنگوں کی لکڑی کو گلو سے جوڑنے کے بعد تیار کئے گئے ہیں تو یوسیجی کیلئے ہماری قدردانی اَور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اس منفرد دستکاری کا آغاز کیسے ہوا؟ اٹھارویں صدی کے دوران، ایک ماہر کاریگر، نیہی اشکاوا نے مختلف رنگوں کی لکڑی کو گلو سے جوڑنے کا نظریہ پیش کِیا۔ پھر باریک باریک ترچھی لکڑیاں لیکر اُس نے موزیک نمونوں سے ڈبے اور دیگر اشیا تیار کیں۔
بعدازاں یوسیجی تیار کرنے کا زیادہ مؤثر طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ اس کے مطابق باریک ٹکڑوں کو موٹی لکڑی کے اُوپر چپکا دیا جاتا تھا۔ اس طرح ہاکونی کے قریبی گرم چشموں کی سیاحت کیلئے آنے والے لوگوں کیلئے یادگار چیزیں تیار کرنا ممکن ہو گیا۔
یوسیجی تیار کرنے کے لئے مختلف اقسام کی لکڑی استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، سفید رنگ افونموس اور گنٹھی کی لکڑی سے حاصل کِیا جاتا ہے، زرد رنگ لاکھ روغن اور جاپانی مومی درخت سے حاصل کِیا جاتا ہے، ہلکا بھورا رنگ چیری اور زلکوا کے درختوں سے حاصل کِیا جاتا ہے اور سیاہ رنگ کاٹسورا کے درخت سے حاصل کِیا جاتا ہے۔
ہاکونی کی سیاحت کے دوران شاید آپ بھی چھوٹی یوسیجی کوسٹرز (گرم چیزوں کے نیچے رکھنے والے میٹ) یا بُکمارک خریدنا پسند کریں جو نسبتاً سستے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں مشہور ماؤنٹ فیوجی کے نواح میں واقع ہاکونی کی سیاحت اور ۱۵۰ سال قبل شروع ہونے والی حیرتانگیز دستکاری کو دیکھنے کی یاد تازہ کرینگی۔
[صفحہ ۱۹ پر بکس/تصویریں]
یوسیجی کی تیاری
یوسیجی کا کاریگر مطلوبہ موٹائی حاصل کرنے کیلئے مختلف رنگوں والے چوبی ٹکڑوں کی رگڑائی کرتا ہے۔ پھر وہ اِن ٹکڑوں کو گلو سے جوڑ دیتا ہے۔ اِسکے بعد چپکائی ہوئی لکڑیوں کے باہر رنگین نمونہ نظر آتا ہے۔ اس کے بعد لکڑی کی کترن حاصل کرنے کیلئے کاریگر چپکائی ہوئی لکڑیوں کو ترچھا کاٹ لیتا ہے تاکہ وہ مخصوص سانچے میں ڈالی جا سکیں۔ (۱) اِس کترن پر رندا پھیرنے کے بعد وہ اُنہیں سانچے سے باہر نکالتا ہے اور نمونہ بنانے کیلئے گلو سے جوڑ کر ڈوری سے باندھ دیتا ہے۔ یوں یوسیجی کا بنیادی یونٹ تیار ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد کاریگر بڑا یونٹ تیار کرنے کے لئے کئی ایک یونٹوں کو جوڑتا ہے۔ (۲) اس کے بعد آری سے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں۔ (۳) پھر وہ انہیں ایک بڑے نمونے کی شکل میں رکھ کر جوڑ دیتا ہے۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رہتا ہے جبتک کاریگر ایک بڑی پلیٹ تیار نہیں کر لیتا جسے ٹنیجی یا چوبی ٹکڑا کہتے ہیں۔
اب کاریگر کے پاس چیزیں تیار کرنے کے لئے بنیادی نمونہ ہے۔ (۴) ایک خاص رندے کی مدد سے وہ ٹنیجی کی باریک باریک تہ کاٹ لیتا ہے جنہیں زوکو کہتے ہیں۔ (۵) جب یہ تہیں اچھی طرح مضبوط ہو جاتی ہیں تو کاریگر اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو زوکو کی تہ سے سجانے کیلئے تیار ہوتا ہے۔
[صفحہ ۱۸ پر تصویریں]
”یوسیجی“ کے نمونے پینٹ نہیں کئے جاتے بلکہ مختلف رنگ کی لکڑی کو آپس میں چپکا کر تیار کئے جاتے ہیں