قیدخانے—بحران کا شکار
”جُرم پر قابو پانے کیلئے زیادہ قیدخانے تعمیر کرنا کسی جانلیوا بیماری پر قابو پانے کیلئے قبرستان تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔“—ماہرِاصلاح، رابرٹ گانجی۔
آجکل دُنیا میں حقیقت پر پردہ ڈالنا عام بات ہے۔ اسکی ایک مثال لفظ ”قیدخانہ“ سے ملتی ہے۔ یہ لفظ سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اسلئے شاید ہم اس لفظ کی دہشت کو کم کرنے کیلئے اسے ایک ایسی جگہ قرار دیں جہاں انسان کو توبہ اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہم قیدیوں کی بابت حقارتآمیز باتوں سے بھی گریز کریں۔ تاہم، ذرا حقیقت سے پردہ اُٹھا کر دیکھیں تو آپکو پتہ چلیگا کہ آجکل قیدخانے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کیلئے بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔ علاوہازیں، جیل میں ڈالنے کا نتیجہ اصلاح کی بجائے کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔
بعض لوگ قیدخانوں کے اثر پر اعتراض اُٹھاتے ہیں۔ اُنکا مؤقف یہ ہے کہ عالمی پیمانے پر قیدیوں کی تعداد آٹھ ملین سے زیادہ ہو جانے کے باوجود بہتیرے ممالک میں جُرم کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ مزیدبرآں، قیدخانوں میں بیشتر لوگ منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے قید میں ہونے کے باوجود منشیات کی دستیابی ابھی تک باعثِتشویش ہے۔
تاہم، بیشتر لوگ قیدخانے میں ڈالے جانے کو ترجیحی سزا خیال کرتے ہیں۔ انکے خیال میں مجرم کو قید میں ڈالکر انصاف کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔ ایک جرنلسٹ مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے بند کرنے کے جذبے کو ”قید میں ڈالنے کا جنون“ کہتی ہے۔
قانونشکنی کرنے والوں کو قید میں ڈالنے کی چار بنیادی وجوہات ہیں: (۱) مجرم کو سزا دینا، (۲) معاشرے کا تحفظ، (۳) مستقبل میں جرائم کی روکتھام اور (۴) نئی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے مجرموں کی اصلاح کرنا تاکہ وہ رِہا ہونے کے بعد قانون کا احترام کریں اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہوں۔ آئیے دیکھیں کہ آیا قیدخانے یہ مقاصد پورے کر رہے ہیں۔