یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌دی متی 1:‏1-‏28:‏20
  • متی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • متی
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا (‏متی سے مکاشفہ)‏
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا (‏متی سے مکاشفہ)‏
متی

متی کی اِنجیل

1 یسوع مسیح*‏ کی زندگی کے بارے میں کتاب۔‏*‏ وہ داؤد کے بیٹے اور ابراہام کے بیٹے تھے۔‏

2 ابراہام سے اِضحاق پیدا ہوئے؛‏

اِضحاق سے یعقوب پیدا ہوئے؛‏

یعقوب سے یہوداہ اور اُن کے بھائی پیدا ہوئے؛‏

3 یہوداہ سے فارص اور زارح پیدا ہوئے جن کی ماں کا نام تمر تھا؛‏

فارص سے حصرون پیدا ہوئے؛‏

حصرون سے رام پیدا ہوئے؛‏

4 رام سے عمینَداب پیدا ہوئے؛‏

عمینَداب سے نحسون پیدا ہوئے؛‏

نحسون سے سلمون پیدا ہوئے؛‏

5 سلمون سے بوعز پیدا ہوئے جن کی ماں کا نام راحب تھا؛‏

بوعز سے عوبید پیدا ہوئے جن کی ماں کا نام رُوت تھا؛‏

عوبید سے یسی پیدا ہوئے؛‏

6 یسی سے داؤد بادشاہ پیدا ہوئے؛‏

داؤد سے سلیمان پیدا ہوئے جن کی ماں پہلے اُوریاہ کی بیوی تھی؛‏

7 سلیمان سے رحبُعام پیدا ہوئے؛‏

رحبُعام سے ابیاہ پیدا ہوئے؛‏

ابیاہ سے آسا پیدا ہوئے؛‏

8 آسا سے یہوسفط پیدا ہوئے؛‏

یہوسفط سے یورام پیدا ہوئے؛‏

یورام سے عُزیاہ پیدا ہوئے؛‏

9 عُزیاہ سے یوتام پیدا ہوئے؛‏

یوتام سے آخز پیدا ہوئے؛‏

آخز سے حِزقیاہ پیدا ہوئے؛‏

10 حِزقیاہ سے منسّی پیدا ہوئے؛‏

منسّی سے امون پیدا ہوئے؛‏

امون سے یوسیاہ پیدا ہوئے؛‏

11 یوسیاہ سے یکونیاہ اور اُن کے بھائی پیدا ہوئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب یہودیوں کو بابل میں جلاوطن کِیا گیا۔‏

12 بابل میں جلاوطنی کے زمانے میں یکونیاہ سے سیالتی‌ایل پیدا ہوئے؛‏

سیالتی‌ایل سے زرُبابل پیدا ہوئے؛‏

13 زرُبابل سے ابیہود پیدا ہوئے؛‏

ابیہود سے اِلیاقیم پیدا ہوئے؛‏

اِلیاقیم سے عازور پیدا ہوئے؛‏

14 عازور سے صدوق پیدا ہوئے؛‏

صدوق سے اخیم پیدا ہوئے؛‏

اخیم سے اِلیہود پیدا ہوئے؛‏

15 اِلیہود سے اِلیعزر پیدا ہوئے؛‏

اِلیعزر سے متان پیدا ہوئے؛‏

متان سے یعقوب پیدا ہوئے؛‏

16 یعقوب سے یوسف پیدا ہوئے جو مریم کے شوہر تھے۔ مریم سے یسوع پیدا ہوئے جو مسیح کہلائے۔‏

17 ابراہام سے لے کر داؤد تک کُل 14 پُشتیں تھیں؛ داؤد سے لے کر بابل میں جلاوطنی تک کُل 14 پُشتیں تھیں اور بابل میں جلاوطنی سے لے کر مسیح تک کُل 14 پُشتیں تھیں۔‏

18 یسوع مسیح کی پیدائش اِس طرح ہوئی:‏ جب اُن کی ماں یعنی مریم پاک روح*‏ کے ذریعے حاملہ ہوئیں تو مریم کی منگنی یوسف سے ہو چکی تھی لیکن اُن کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ 19 مریم کے شوہر یوسف نیک آدمی تھے۔ وہ مریم کی بدنامی نہیں چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے اُن کو چپکے سے طلاق دینے کا فیصلہ کِیا۔ 20 اِن باتوں کے بارے میں سوچنے کے بعد وہ سو گئے۔ پھر یہوواہ*‏ کا ایک فرشتہ خواب میں اُن کو دِکھائی دیا اور کہنے لگا:‏ ”‏داؤد کے بیٹے یوسف!‏ آپ اپنی بیوی مریم کو اپنے گھر لانے سے نہ ہچکچائیں کیونکہ وہ پاک روح کے ذریعے حاملہ ہوئی ہیں۔ 21 اُن کا ایک بیٹا ہوگا جس کا نام آپ یسوع*‏ رکھنا کیونکہ وہ لوگوں کو گُناہوں سے نجات دِلائے گا۔“‏ 22 یہ سب کچھ اِس لیے ہوا تاکہ وہ بات پوری ہو جو یہوواہ*‏ نے اپنے نبی کے ذریعے کہی تھی کہ 23 ‏”‏دیکھو!‏ کنواری حاملہ ہوگی اور اُس کا بیٹا ہوگا اور اُس کے بیٹے کا نام عمانوئیل رکھا جائے گا جس کا مطلب ہے:‏ خدا ہمارے ساتھ ہے۔“‏

24 جب یوسف جاگے تو اُنہوں نے یہوواہ*‏ کے فرشتے کی ہدایت پر عمل کِیا اور اپنی بیوی کو گھر لے آئے۔ 25 لیکن اُنہوں نے تب تک اُن سے جنسی تعلق قائم نہیں کِیا جب تک اُن کا بیٹا نہیں ہوا۔ اور یوسف نے بچے کا نام یسوع رکھا۔‏

2 یسوع، ہیرودیس*‏ بادشاہ کے زمانے میں یہودیہ کے شہر بیت‌لحم میں پیدا ہوئے۔ اِس کے بعد مشرق سے کچھ نجومی یروشلیم آئے 2 اور پوچھنے لگے:‏ ”‏وہ بچہ کہاں ہے جو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ جب ہم مشرق میں تھے تو ہم نے اُس کا ستارہ دیکھا اور ہم اُس کی تعظیم کرنے*‏ آئے ہیں۔“‏ 3 یہ سُن کر بادشاہ ہیرودیس اور یروشلیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔ 4 بادشاہ نے اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں کو جمع کِیا اور اُن سے پوچھا کہ ‏”‏مسیح*‏ کو کہاں پیدا ہونا تھا؟“‏ 5 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏یہودیہ کے علاقے بیت‌لحم میں کیونکہ نبی نے یہ لکھا تھا:‏ 6 ‏”‏اور تُو بیت‌لحم جو یہودیہ کے علاقے میں ہے، تجھے یہودیہ کے حکمران کم‌تر خیال نہ کریں کیونکہ تجھ میں سے ایک ایسا حکمران آئے گا جو میری قوم اِسرائیل کی پیشوائی کرے گا۔“‏ “‏

7 پھر ہیرودیس نے چپکے سے اُن نجومیوں کو بلوایا اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏ستارہ پہلی بار کب دِکھائی دیا تھا؟“‏ 8 اِس کے بعد اُس نے اُن کو بیت‌لحم بھیجا اور اُن سے کہا:‏ ”‏جاؤ، بچے کو ڈھونڈو اور جب وہ تمہیں مل جائے تو واپس آ کر مجھے بتانا تاکہ مَیں بھی جا کر اُس کی تعظیم کروں۔“‏ 9 بادشاہ کی بات سُن کر وہ روانہ ہوئے اور دیکھو!‏ جو ستارہ اُنہوں نے مشرق میں دیکھا تھا، وہ اُن کے آگے آگے چلنے لگا اور اُس جگہ جا کر رُک گیا جہاں وہ بچہ تھا۔ 10 نجومی ستارے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ 11 اور جب وہ گھر کے اندر گئے تو اُنہوں نے اُس بچے کو اپنی ماں یعنی مریم کے ساتھ دیکھا اور جھک کر اُس کی تعظیم کی۔ پھر اُنہوں نے اپنا سامان کھولا اور اُسے تحفے کے طور پر سونا، لوبان اور مُر دیا۔ 12 لیکن خدا نے نجومیوں کو خواب میں خبردار کِیا کہ وہ ہیرودیس کے پاس واپس نہ جائیں اِس لیے وہ دوسرے راستے سے اپنے ملک لوٹ گئے۔‏

13 نجومیوں کے جانے کے بعد یہوواہ*‏ کا فرشتہ یوسف کے خواب میں آیا اور اُن سے کہنے لگا:‏ ”‏اُٹھیں!‏ بچے اور اُس کی ماں کو لے کر مصر بھاگ جائیں اور اُس وقت تک وہاں رہیں جب تک کہ مَیں آپ کو واپس آنے کو نہ کہوں کیونکہ ہیرودیس اِس بچے کو ڈھونڈے گا تاکہ اِسے مروا ڈالے۔“‏ 14 پھر یوسف اُٹھے اور اُسی رات بچے اور اُس کی ماں کو لے کر مصر گئے 15 اور ہیرودیس کی موت تک وہیں رہے۔ اِس طرح وہ بات پوری ہوئی جو یہوواہ*‏ نے اپنے نبی کے ذریعے کہی تھی کہ ”‏مَیں نے اپنے بیٹے کو مصر سے بلا‌یا۔“‏

16 جب ہیرودیس نے دیکھا کہ نجومیوں نے اُسے دھوکا دیا ہے تو اُسے سخت غصہ آیا اور اُس نے حکم دیا کہ بیت‌لحم اور اُس کے اِردگِرد کے سارے علاقوں میں دو سال یا اِس سے کم عمر کے سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے۔ اُس نے اِس عمر کا حساب اُس تاریخ سے لگایا جب نجومیوں نے پہلی بار ستارے کو دیکھا تھا۔ 17 اِس طرح وہ بات پوری ہوئی جو یرمیاہ نبی نے کہی تھی کہ 18 ‏”‏رامہ میں رونے دھونے اور ماتم کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ راخل اپنے بچوں کے لیے رو رہی ہے اور تسلی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ اُس کے بچے نہیں رہے۔“‏

19 جب ہیرودیس مر گیا تو یہوواہ*‏ کا فرشتہ خواب میں یوسف کو دِکھائی دیا 20 اور کہنے لگا:‏ ‏”‏اُٹھیں، بچے اور اُس کی ماں کو لے کر ملک اِسرائیل جائیں کیونکہ جو لوگ بچے کی جان لینا چاہتے تھے، وہ مر گئے ہیں۔“‏ 21 اِس پر یوسف اُٹھے اور بچے اور اُس کی ماں کو لے کر اِسرائیل گئے۔ 22 لیکن جب اُنہوں نے سنا کہ ارخلاؤس اپنے باپ ہیرودیس کی جگہ یہودیہ کا حکمران بن گیا ہے تو اُنہیں یہودیہ جانے سے ڈر لگا۔ اور خدا نے بھی خواب میں اُن کو وہاں جانے سے خبردار کِیا۔ اِس لیے وہ گلیل کے علاقے میں چلے گئے 23 اور ایک شہر میں رہنے لگے جس کا نام ناصرت تھا تاکہ وہ بات پوری ہو جو نبیوں کے ذریعے کہی گئی تھی کہ ”‏وہ ناصری*‏ کہلائے گا۔“‏

3 اُس زمانے میں یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یہودیہ کے ویرانے میں یہ مُنادی کرنا شروع کی:‏ 2 ‏”‏توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔“‏ 3 دراصل یوحنا وہ شخص تھے جن کے بارے میں یسعیاہ نبی نے کہا تھا:‏ ”‏ویرانے میں کوئی پکار رہا ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ کا راستہ تیار کرو۔ اُس کی راہ ہموار کرو۔“‏ “‏ 4 یوحنا کے کپڑے اُونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے تھے، وہ کمر پر چمڑے کی پیٹی باندھتے تھے اور ٹڈیاں اور جنگلی شہد کھاتے تھے۔ 5 اُس وقت یروشلیم اور یہودیہ اور دریائے‌اُردن*‏ کے اِردگِرد کے تمام علاقوں سے لوگ اُن کے پاس آنے لگے۔ 6 اور اُنہوں نے یوحنا سے دریائے‌اُردن میں بپتسمہ لیا*‏ اور سب کے سامنے اِقرار کِیا کہ وہ گُناہ‌گار ہیں۔‏

7 جب یوحنا نے دیکھا کہ فریسی فرقے اور صدوقی فرقے کے بہت سے رُکن بھی وہاں آ رہے ہیں تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سانپ کے بچو!‏ تمہیں آنے والے عذاب سے بچنے کا مشورہ کس نے دیا ہے؟ 8 اب ایسے کام کرو*‏ جن سے ثابت ہو کہ تُم نے توبہ کر لی ہے۔ 9 یہ مت سوچو کہ ”‏ہمارے باپ تو ابراہام ہیں“‏ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ خدا اِن پتھروں سے بھی ابراہام کے لیے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔ 10 دیکھو!‏ کلہاڑا درختوں کو جڑ سے کاٹنے کے لیے تیار پڑا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا، اُسے کاٹ ڈالا جائے گا اور آگ میں پھینکا جائے گا۔ 11 مَیں تُم لوگوں کو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں کیونکہ تُم نے توبہ کی ہے لیکن میرے بعد جو شخص آئے گا، وہ مجھ سے زیادہ طاقت‌ور ہے اور مَیں اُس کے جُوتے تک اُتارنے کے لائق نہیں ہوں۔ وہ تمہیں پاک روح اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔ 12 اُس کا چھاج*‏ اُس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنا کھلیان بالکل صاف کر دے گا۔ وہ اپنی گندم گودام میں جمع کرے گا لیکن بھوسے کو ایسی آگ میں جلائے گا جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔“‏

13 پھر یسوع بپتسمہ لینے کے لیے گلیل سے یوحنا کے پاس دریائے‌اُردن آئے۔ 14 لیکن یوحنا نے اُن کو روکنے کی کوشش کی اور کہا:‏ ”‏آپ مجھ سے بپتسمہ لینے آئے ہیں؟ اصل میں تو مجھے آپ سے بپتسمہ لینا چاہیے۔“‏ 15 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏مجھے بپتسمہ لینے سے نہ روکیں کیونکہ اِس طرح ہم خدا کی مرضی پر عمل کریں گے۔“‏ یہ سُن کر یوحنا نے اُن کی بات مان لی۔ 16 بپتسمہ لینے کے بعد یسوع فوراً پانی سے باہر آئے اور دیکھو!‏ آسمان کُھل گیا اور اُنہوں نے دیکھا کہ خدا کی روح کبوتر کی طرح اُن پر اُتر رہی ہے۔ 17 اور ساتھ ہی آسمان سے یہ آواز بھی سنائی دی:‏ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔“‏

4 پھر پاک روح، یسوع کو ویرانے میں لے گئی اور اِبلیس نے اُنہیں ورغلانے کی کوشش کی۔ 2 یسوع نے 40 (‏چالیس)‏ دن اور 40 رات کا روزہ رکھا اور اِس کے بعد اُنہیں بھوک لگی۔ 3 تب اِبلیس اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا:‏ ”‏اگر تُم خدا کے بیٹے ہو تو اِن پتھروں سے کہو کہ روٹیاں بن جائیں۔“‏ 4 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏اِنسان کو صرف روٹی پر نہیں جینا چاہیے بلکہ ہر اُس بات پر جو یہوواہ*‏ کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“‏ “‏

5 اِس کے بعد اِبلیس اُنہیں مُقدس شہر*‏ میں لے گیا اور اُنہیں ہیکل*‏ کی چھت*‏ پر کھڑا کر کے 6 کہنے لگا:‏ ”‏اگر تُم خدا کے بیٹے ہو تو یہاں سے چھلانگ لگاؤ کیونکہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏وہ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا اور وہ تمہیں ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ تمہارے پاؤں کو پتھر سے ٹھوکر نہ لگے۔“‏ “‏ 7 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏تُم یہوواہ*‏ اپنے خدا کا اِمتحان نہ لو۔“‏ “‏

8 پھر اِبلیس اُن کو ایک بہت ہی اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور اُنہیں دُنیا کی تمام بادشاہتیں اور اُن کی شان دِکھائی 9 اور اُن سے کہا:‏ ”‏اگر تُم گھٹنے ٹیک کر ایک بار مجھے سجدہ کرو گے تو مَیں یہ سب کچھ تمہیں دے دوں گا۔“‏ 10 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏چلے جاؤ، شیطان!‏ کیونکہ پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏صرف یہوواہ*‏ اپنے خدا کی پرستش کرو اور صرف اُسی کی عبادت کرو۔“‏ “‏ 11 تب اِبلیس وہاں سے چلا گیا اور دیکھو!‏ فرشتے آ کر یسوع کی خدمت کرنے لگے۔‏

12 جب یسوع نے سنا کہ یوحنا کو گِرفتار کر لیا گیا ہے تو وہ گلیل گئے۔ 13 اُنہوں نے ناصرت کو چھوڑ دیا اور کفرنحوم میں رہنے لگے جو زبولون اور نفتالی کے علاقے میں جھیل کے کنارے ہے 14 تاکہ وہ بات پوری ہو جو یسعیاہ نبی نے کہی تھی کہ 15 ‏”‏اَے غیریہودیوں کے گلیل!‏ اَے زبولون کے علاقے اور نفتالی کے علاقے!‏ تُو جو سمندر کی طرف جانے والے راستے اور دریائے‌اُردن کے اُس پار ہے!‏ 16 جو لوگ اندھیرے میں بیٹھے تھے، اُنہوں نے بڑی روشنی دیکھی اور جو لوگ ایسے علاقے میں بیٹھے تھے جہاں موت کا سایہ تھا، اُن پر روشنی چمکنے لگی۔“‏ 17 اُس وقت سے یسوع یہ مُنادی کرنے لگے:‏ ”‏توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔“‏

18 جب یسوع گلیل کی جھیل کے کنارے چل رہے تھے تو اُنہوں نے دو بھائیوں کو دیکھا۔ ایک کا نام شمعون تھا جو پطرس بھی کہلاتے ہیں اور دوسرے کا نام اندریاس تھا۔ وہ دونوں جھیل میں جال ڈال رہے تھے کیونکہ وہ مچھیرے تھے۔ 19 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری پیروی کریں۔ مَیں آپ کو ایک اَور طرح کا مچھیرا بناؤں گا۔ آپ مچھلیوں کی بجائے اِنسانوں کو جمع کریں گے۔“‏ 20 وہ فوراً اپنے جال چھوڑ کر اُن کے پیچھے چل پڑے۔ 21 آگے جا کر یسوع نے دو اَور بھائیوں کو دیکھا جو زبدی کے بیٹے تھے۔ ایک کا نام یعقوب تھا اور دوسرے کا نام یوحنا۔ وہ دونوں اپنے باپ کے ساتھ کشتی میں بیٹھے تھے اور جالوں کی مرمت کر رہے تھے۔ جب یسوع نے اُن دونوں کو بلا‌یا 22 تو وہ فوراً کشتی اور اپنے باپ کو چھوڑ کر اُن کے پیچھے چل پڑے۔‏

23 پھر یسوع نے گلیل کے سارے علاقے کا دورہ کِیا اور عبادت‌گاہوں میں تعلیم دی، بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی کی اور طرح طرح کی بیماریوں کو ٹھیک کِیا۔ 24 اُن کے بارے میں خبر سُوریہ کے کونے کونے میں پھیل گئی اور لوگ ایسے لوگوں کو اُن کے پاس لانے لگے جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے، جو بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے اور جو مرگی اور فالج کے مریض تھے۔ اور یسوع نے اُن سب کو ٹھیک کر دیا۔ 25 اِس کے نتیجے میں گلیل، دِکاپُلِس،‏*‏ یروشلیم، یہودیہ اور دریائے‌اُردن کے اُس پار سے بہت سے لوگ اُن کے پاس آنے لگے۔‏

5 جب یسوع نے لوگوں کی بِھیڑ دیکھی تو وہ پہاڑ پر گئے اور بیٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر اُن کے شاگرد اُن کے پاس آئے۔ 2 یسوع اُن کو تعلیم دینے لگے اور کہنے لگے:‏

3 ‏”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے*‏ کیونکہ آسمان کی بادشاہت اُن کی ہے۔‏

4 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو ماتم کرتے ہیں کیونکہ اُن کو تسلی ملے گی۔‏

5 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو نرم‌مزاج*‏ ہیں کیونکہ اُن کو زمین ورثے میں ملے گی۔‏

6 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو نیکی کے لیے ترستے ہیں*‏ کیونکہ اُن کی خواہش پوری ہوگی۔‏

7 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو رحم‌دل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کِیا جائے گا۔‏

8 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو پاک‌دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔‏

9 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو صلح‌پسند ہیں*‏ کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔‏

10 وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو نیکی کرنے کی وجہ سے اذیت دی جاتی ہے کیونکہ آسمان کی بادشاہت اُن کی ہے۔‏

11 جب آپ کو میرے شاگرد ہونے کی وجہ سے طعنے دیے جاتے ہیں، اذیت پہنچائی جاتی ہے اور آپ کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائی جاتی ہیں تو آپ خوش رہتے ہیں۔ 12 لوگوں نے اِسی طرح سے اُن نبیوں کو بھی اذیت پہنچائی جو آپ سے پہلے آئے تھے۔ اِس لیے خوش ہوں اور خوشی سے جھومیں کیونکہ آپ کو آسمان میں بڑا اجر ملے گا۔‏

13 آپ دُنیا کے نمک ہیں۔ لیکن اگر نمک کا ذائقہ ختم ہو جائے تو اُس کو پھر سے نمکین کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ وہ کسی کام کا نہیں رہتا اِس لیے اُسے باہر پھینکا جاتا ہے جہاں وہ لوگوں کے پیروں کے نیچے روندا جاتا ہے۔‏

14 آپ دُنیا کی روشنی ہیں۔ جو شہر پہاڑ پر ہوتا ہے، وہ سب کو دِکھائی دیتا ہے۔ 15 لوگ چراغ جلا کر اُسے ٹوکری کے نیچے نہیں رکھتے بلکہ چراغ‌دان پر رکھتے ہیں تاکہ گھر کے سب لوگوں کو روشنی ملے۔ 16 اِسی طرح آپ بھی اپنی روشنی سب لوگوں پر چمکائیں تاکہ وہ آپ کے اچھے کاموں کو دیکھ کر آپ کے آسمانی باپ کی بڑائی کریں۔‏

17 یہ نہ سوچیں کہ مَیں شریعت یا نبیوں کی تعلیم کو مٹانے آیا ہوں۔ مَیں اِن کو مٹانے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ 18 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جس طرح آسمان اور زمین نہیں مٹ سکتے اُسی طرح شریعت کا ایک چھوٹا سا حرف یا حرف کا ایک نقطہ بھی نہیں مٹ سکتا جب تک کہ سب باتیں پوری نہ ہوں۔ 19 اِس لیے جو شخص شریعت کے سب سے چھوٹے حکم کو توڑتا ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنا سکھاتا ہے، وہ آسمان کی بادشاہت کے لائق نہیں ہوگا۔ لیکن جو اِن حکموں پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنا سکھاتا ہے، وہ آسمان کی بادشاہت کے لائق ہوگا۔ 20 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر آپ فریسیوں اور شریعت کے عالموں سے زیادہ نیک نہیں ہوں گے تو آپ آسمان کی بادشاہت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔‏

21 آپ نے سنا ہے کہ پُرانے زمانے میں لوگوں سے کہا گیا تھا:‏ ”‏قتل نہ کرو۔ جو شخص قتل کرے گا، اُسے مقامی عدالت میں پیش کِیا جائے گا۔“‏ 22 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ جس شخص کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف غصہ بھڑکتا رہتا ہے، اُس کو مقامی عدالت میں پیش کِیا جائے گا اور جو اپنے بھائی کو حقارت سے ”‏احمق“‏ کہتا ہے، اُس کو عدالتِ‌عظمیٰ میں پیش کِیا جائے گا جبکہ جو اپنے بھائی کو ”‏ذلیل کمینہ!‏“‏ کہتا ہے، اُس کو ہنوم کی وادی*‏ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔‏

23 اِس لیے اگر آپ قربان‌گاہ پر نذرانہ پیش کرنے جا رہے ہوں اور آپ کو یاد آئے کہ آپ کا بھائی آپ سے ناراض ہے 24 تو اپنا نذرانہ وہیں قربان‌گاہ کے آگے چھوڑ دیں۔ پہلے جا کر اپنے بھائی سے صلح کریں اور پھر واپس آ کر نذرانہ پیش کریں۔‏

25 اگر کوئی آپ کے خلاف مُقدمہ درج کرائے اور آپ اُس کے ساتھ عدالت جا رہے ہوں تو راستے میں ہی معاملہ حل کر لیں تاکہ وہ آپ کو منصف کے حوالے نہ کر دے اور منصف آپ کو سپاہی کے حوالے نہ کر دے اور آپ کو قیدخانے میں نہ ڈال دیا جائے۔ 26 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اُس وقت تک قید سے رِہا نہیں ہوں گے جب تک آپ پائی پائی*‏ ادا نہ کر دیں۔‏

27 آپ جانتے ہیں کہ کہا گیا تھا:‏ ”‏زِنا نہ کرو۔“‏ 28 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ایک عورت کو ایسی نظر سے دیکھتا رہے کہ اُس کے دل میں اُس عورت کے لیے جنسی خواہش بھڑک اُٹھے تو وہ اپنے دل میں اُس کے ساتھ زِنا کر چُکا ہے۔ 29 اگر آپ کی دائیں آنکھ آپ کو گمراہ کر رہی ہے تو اِسے نکال کر پھینک دیں۔ بہتر ہے کہ آپ کا ایک عضو نہ رہے بجائے اِس کے کہ آپ کا سارا جسم ہنوم کی وادی*‏ میں پھینکا جائے۔ 30 اگر آپ کا دایاں ہاتھ آپ کو گمراہ کر رہا ہے تو اِسے کاٹ کر پھینک دیں۔ بہتر ہے کہ آپ کا ایک عضو نہ رہے بجائے اِس کے کہ آپ کا سارا جسم ہنوم کی وادی میں ڈالا جائے۔‏

31 یہ بھی کہا گیا تھا:‏ ”‏جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے، وہ اُسے طلاق‌نامہ بھی دے۔“‏ 32 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ جو شخص اپنی بیوی کو حرام‌کاری*‏ کے علاوہ کسی اَور وجہ سے طلاق دیتا ہے، وہ اُسے زِنا کرنے کے خطرے میں ڈالتا ہے اور جو کوئی ایسی طلاق‌یافتہ عورت سے شادی کرتا ہے، وہ زِنا کرتا ہے۔‏

33 آپ نے یہ بھی سنا ہے کہ پُرانے زمانے میں لوگوں سے کہا گیا تھا:‏ ”‏قسم نہ توڑو بلکہ اپنی اُن منتوں کو پورا کرو جو تُم یہوواہ*‏ کے سامنے مانتے ہو۔“‏ 34 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھائیں، نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خدا کا تخت ہے، 35 نہ زمین کی کیونکہ وہ اُس کے پاؤں کی چوکی ہے اور نہ یروشلیم کی کیونکہ وہ عظیم بادشاہ کا شہر ہے۔ 36 اپنے سر کی قسم بھی نہ کھائیں کیونکہ آپ ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتے۔ 37 آپ کی ہاں کا مطلب ہاں ہو اور آپ کی نہیں کا مطلب نہیں کیونکہ جو کچھ اِس کے علاوہ ہے، شیطان*‏ کی طرف سے ہے۔‏

38 آپ جانتے ہیں کہ کہا گیا تھا:‏ ”‏آنکھ کے بدلے میں آنکھ اور دانت کے بدلے میں دانت۔“‏ 39 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ بُرے شخص کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اگر کوئی آپ کے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں بھی اُس کی طرف کر دیں۔ 40 اور اگر ایک شخص آپ کا کُرتا حاصل کرنے کے لیے آپ پر مُقدمہ چلانا چاہے تو اُسے اپنی چادر بھی دے دیں۔ 41 اور اگر کوئی اِختیار رکھنے والا شخص آپ کو ایک میل تک اپنی خدمت کرنے پر مجبور کرے تو اُس کے ساتھ دو میل تک جائیں۔ 42 اگر کوئی شخص آپ سے کوئی چیز مانگے تو اُسے وہ چیز دے دیں اور اگر کوئی شخص آپ سے قرضہ*‏ مانگے تو اُس سے مُنہ نہ موڑیں۔‏

43 آپ جانتے ہیں کہ کہا گیا تھا:‏ ”‏اپنے پڑوسی سے محبت کرو اور اپنے دُشمن سے نفرت کرو۔“‏ 44 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اپنے دُشمنوں سے محبت کریں اور جو آپ کو اذیت دیتے ہیں، اُن کے لیے دُعا کرتے رہیں 45 تاکہ آپ ثابت کریں کہ آپ اپنے آسمانی باپ کے بیٹے ہیں کیونکہ وہ اچھے اور بُرے لوگوں پر سورج چمکاتا ہے اور نیکوں اور بدوں دونوں پر بارش برساتا ہے۔ 46 اگر آپ صرف اُن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں جو آپ سے محبت رکھتے ہیں تو آپ کو کیا اجر ملے گا؟ کیا ٹیکس وصول کرنے والے بھی ایسا نہیں کرتے؟ 47 اور اگر آپ صرف اپنے بھائیوں کو سلام کرتے ہیں تو آپ کون سا انوکھا کام کرتے ہیں؟ کیا غیریہودی بھی ایسا نہیں کرتے؟ 48 لہٰذا کامل بنیں جیسے آپ کا آسمانی باپ کامل ہے۔‏

6 خبردار رہیں، دِکھاوے کے لیے نیکی نہ کریں ورنہ آپ کا باپ جو آسمان پر ہے، آپ کو اجر نہیں دے گا۔ 2 اِس لیے خیرات دیتے وقت نرسنگا*‏ نہ بجائیں جیسے ریاکار عبادت‌گاہوں میں اور سڑکوں پر کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی تعریفیں کریں۔ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اُن کو پورا اجر مل چُکا ہے۔ 3 لیکن جب آپ خیرات دیتے ہیں تو آپ کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ آپ کا دایاں ہاتھ کیا کر رہا ہے 4 تاکہ کسی کو علم نہ ہو کہ آپ نے خیرات دی ہے۔ پھر آپ کا آسمانی باپ جو سب کچھ دیکھتا ہے، آپ کو اجر دے گا۔‏

5 اور جب آپ دُعا کریں تو ریاکاروں کی طرح دُعا نہ کریں کیونکہ وہ عبادت‌گاہوں اور چوکوں میں کھڑے ہو کر دُعا کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اُن کو پورا اجر مل چُکا ہے۔ 6 مگر جب آپ دُعا کریں تو اپنے کمرے میں جائیں اور دروازہ بند کریں اور اپنے آسمانی باپ سے دُعا کریں جسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ پھر آپ کا باپ جو سب کچھ دیکھتا ہے، آپ کو اجر دے گا۔ 7 دُعا کرتے وقت بار بار ایک ہی بات کو نہ دُہرائیں جیسے غیریہودی کرتے ہیں جو سوچتے ہیں کہ اگر وہ لمبی لمبی دُعائیں کریں گے تو اُن کی سنی جائے گی۔ 8 اُن کی طرح نہ بنیں کیونکہ آپ کا باپ یعنی خدا آپ کے مانگنے سے پہلے جانتا ہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔‏

9 آپ اِس طرح سے دُعا کریں:‏

‏”‏اَے آسمانی باپ!‏ تیرا نام پاک مانا جائے۔‏*‏ 10 تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان پر ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی ہو۔‏*‏ 11 ہمیں آج کی ضرورت کے مطابق روٹی دے۔ 12 اور ہمارے گُناہ*‏ معاف کر جیسے ہم نے اُن لوگوں کو معاف کِیا ہے جنہوں نے ہمارے خلاف گُناہ کِیا ہے۔‏*‏ 13 اور آزمائش کے وقت ہمیں کمزور نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں شیطان*‏ سے بچا۔“‏

14 کیونکہ اگر آپ لوگوں کی خطائیں معاف کریں گے تو آپ کا آسمانی باپ بھی آپ کو معاف کرے گا۔ 15 لیکن اگر آپ لوگوں کی خطائیں معاف نہیں کریں گے تو آپ کا باپ بھی آپ کی خطائیں معاف نہیں کرے گا۔‏

16 جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو مُنہ نہ لٹکائیں جیسے ریاکار کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنا حلیہ بگا‌ڑتے ہیں تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ وہ روزے سے ہیں۔ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اُن کو پورا اجر مل چُکا ہے۔ 17 لیکن جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو سر پر تیل لگائیں اور مُنہ دھوئیں 18 تاکہ آپ اِنسانوں کو دِکھانے کے لیے نہیں بلکہ خدا کی خاطر روزہ رکھیں جس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ پھر آپ کا آسمانی باپ جو سب کچھ دیکھتا ہے، آپ کو اجر دے گا۔‏

19 اپنے لیے زمین پر خزانے مت جمع کریں جہاں کیڑا اور زنگ لگ جاتا ہے اور چور چوری کرتے ہیں۔ 20 اِس کی بجائے آسمان پر خزانے جمع کریں جہاں نہ تو کیڑا اور زنگ لگتا ہے اور نہ ہی چور چوری کرتے ہیں 21 کیونکہ جہاں آپ کا خزانہ ہے وہیں آپ کا دل بھی ہوگا۔‏

22 جسم کا چراغ آنکھ ہے۔ اگر آپ کی آنکھ منزل پر ٹکی ہے*‏ تو آپ کا پورا جسم روشن ہوگا۔ 23 لیکن اگر آپ کی آنکھ بُری چیزوں پر ٹکی ہے*‏ تو آپ کا پورا جسم تاریک ہوگا۔ اگر وہ روشنی جو آپ میں ہے دراصل تاریکی ہے تو آپ کا جسم کس قدر تاریک ہے!‏

24 کوئی شخص دو مالکوں کا غلام نہیں ہو سکتا۔ یا تو وہ ایک سے محبت رکھے گا اور دوسرے سے نفرت یا پھر وہ ایک سے لپٹا رہے گا اور دوسرے کو حقیر جانے گا۔ آپ خدا اور دولت دونوں کے غلام نہیں بن سکتے۔‏

25 اِس وجہ سے مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ یہ فکر نہ کریں کہ آپ زندہ رہنے کے لیے کیا کھائیں پئیں گے یا جسم ڈھانپنے کے لیے کیا پہنیں گے کیونکہ زندگی*‏ خوراک سے اور جسم پوشاک سے زیادہ اہم ہے۔ 26 ذرا آسمان کے پرندوں کو غور سے دیکھیں۔ وہ نہ تو بیج بوتے ہیں، نہ فصل کاٹتے ہیں اور نہ ہی اِسے گودام میں جمع کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپ کا آسمانی باپ اُن کو کھانا دیتا ہے۔ کیا آپ پرندوں سے زیادہ اہم نہیں ہیں؟ 27 آپ میں سے کون فکر کر کے اپنی زندگی کو ایک پَل*‏ کے لیے بھی بڑھا سکتا ہے؟ 28 اور آپ اِس بارے میں کیوں فکر کرتے ہیں کہ آپ کیا پہنیں گے؟ جنگلی پھولوں سے سبق سیکھیں۔ ذرا سوچیں کہ وہ کیسے بڑھتے ہیں۔ وہ نہ تو محنت کرتے ہیں اور نہ ہی دھاگہ کاتتے ہیں۔ 29 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ سلیمان بادشاہ بھی اِتنا شان‌دار لباس نہیں پہنتے تھے جتنا یہ پھول پہنتے ہیں۔ 30 اگر خدا کھیت کے پھولوں کو اِتنا شان‌دار لباس پہناتا ہے جو آج ہیں اور کل تندور میں جھونکے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو کپڑے مہیا نہیں کرے گا؟ تو پھر آپ کا ایمان کمزور کیوں ہے؟ 31 اِس لیے کبھی فکر نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ ”‏ہم کیا کھائیں گے؟“‏ یا ”‏ہم کیا پئیں گے؟“‏ یا ”‏ہم کیا پہنیں گے؟“‏ 32 اِن چیزوں کے پیچھے تو دوسری قومیں بھاگتی ہیں۔ مگر آپ کا آسمانی باپ جانتا ہے کہ آپ کو اِن چیزوں کی ضرورت ہے۔‏

33 اِس لیے خدا کی بادشاہت اور اُس کے نیک معیاروں کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیتے رہیں پھر باقی ساری چیزیں بھی آپ کو دی جائیں گی۔ 34 لہٰذا کبھی اگلے دن کی فکر نہ کریں کیونکہ اگلے دن کے اپنے مسئلے ہوں گے۔ آج کے لیے آج کے مسئلے کافی ہیں۔‏

7 دوسروں میں نقص نکالنا چھوڑ دیں تاکہ آپ میں نقص نہ نکالے جائیں 2 کیونکہ جس بِنا پر آپ دوسروں میں نقص نکالتے ہیں اُسی بِنا پر آپ میں نقص نکالے جائیں گے اور جس پیمانے سے آپ دوسروں کو ناپتے ہیں اُسی سے آپ کو ناپا جائے گا۔ 3 آپ اُس تنکے کو کیوں دیکھتے ہیں جو آپ کے بھائی کی آنکھ میں ہے اور اُس شہتیر کو نہیں دیکھتے جو آپ کی اپنی آنکھ میں ہے؟ 4 پھر آپ اپنے بھائی سے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏لاؤ، مَیں تمہاری آنکھ سے تنکا نکال دوں“‏ جبکہ دیکھیں!‏ آپ کی اپنی آنکھ میں شہتیر ہے؟ 5 ریاکار!‏ پہلے اپنی آنکھ سے شہتیر نکال لو پھر تمہیں صاف نظر آئے گا کہ تُم اپنے بھائی کی آنکھ سے تنکا کیسے نکالو گے۔‏

6 پاک چیزیں کُتوں کے آگے نہ ڈالیں اور اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ پھینکیں ورنہ وہ اِن کو اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گے اور پھر مُڑ کر آپ کو چیر پھاڑ دیں گے۔‏

7 مانگتے رہیں تو آپ کو دیا جائے گا؛ ڈھونڈتے رہیں تو آپ کو مل جائے گا؛ دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں تو آپ کے لیے کھولا جائے گا 8 کیونکہ جو شخص مانگتا ہے، اُسے دیا جائے گا اور جو شخص ڈھونڈتا ہے، اُسے مل جائے گا اور جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اُس کے لیے کھولا جائے گا۔ 9 ذرا سوچیں کہ اگر آپ کا بیٹا آپ سے روٹی مانگے تو کیا آپ اُسے پتھر دیں گے؟ 10 یا اگر وہ آپ سے مچھلی مانگے تو کیا آپ اُسے سانپ دیں گے؟ 11 جب آپ جو گُناہ‌گار ہیں، اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دیتے ہیں تو کیا آپ کا باپ جو آسمان پر ہے، اُن لوگوں کو اچھی چیزیں نہیں دے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‏

12 جیسا سلوک آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کریں، آپ بھی اُن کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں۔ یہی شریعت اور نبیوں کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔‏

13 چھوٹے دروازے سے داخل ہوں کیونکہ وہ دروازہ بڑا ہے اور وہ راستہ کُھلا ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور اِس پر بہت لوگ چلتے ہیں 14 جبکہ وہ دروازہ چھوٹا ہے اور وہ راستہ تنگ ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اِس پر کم لوگ چلتے ہیں۔‏

15 جھوٹے نبیوں سے خبردار رہیں جو بھیڑوں کے رُوپ میں آپ کے پاس آتے ہیں لیکن اصل میں بھوکے بھیڑیے ہیں۔ 16 آپ اُن کے کاموں*‏ سے اُن کو پہچان لیں گے۔ کیا لوگ کانٹے‌دار جھاڑیوں سے انگور یا اِنجیر توڑتے ہیں؟ 17 ہر اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے لیکن ہر خراب درخت خراب پھل لاتا ہے۔ 18 ایک اچھا درخت خراب پھل نہیں لا سکتا اور ایک خراب درخت اچھا پھل نہیں لا سکتا۔ 19 جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا، اُسے کاٹ ڈالا جاتا ہے اور آگ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ 20 لہٰذا آپ اُن آدمیوں کے کاموں*‏ سے اُن کو پہچان لیں گے۔‏

21 جو لوگ مجھے ”‏مالک!‏ مالک!‏“‏ کہتے ہیں، اُن میں سے ہر کوئی آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ صرف وہ لوگ اُس میں داخل ہوں گے جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتے ہیں۔ 22 اُس دن بہت سے لوگ مجھ سے کہیں گے:‏ ”‏مالک!‏ مالک!‏ ہم نے آپ کے نام سے نبی کے طور پر خدمت کی اور آپ کے نام سے بُرے فرشتوں کو نکالا اور آپ کے نام سے معجزے کیے۔“‏ 23 لیکن مَیں اُن سے کہوں گا:‏ ”‏بُرے کام کرنے والو، مَیں تمہیں نہیں جانتا۔ مجھ سے دُور ہو جاؤ!‏“‏

24 لہٰذا جو شخص میری اِن باتوں کو سنتا ہے اور اِن پر عمل کرتا ہے، وہ اُس سمجھ‌دار آدمی کی طرح ہے جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔ 25 پھر بارش برسی اور سیلاب آیا اور تیز ہوا چلی اور بڑے زور سے گھر سے ٹکرائی لیکن وہ گھر گِرا نہیں کیونکہ اُس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔ 26 مگر جو شخص میری اِن باتوں کو سنتا ہے لیکن اِن پر عمل نہیں کرتا، وہ اُس بے‌وقوف آدمی کی طرح ہے جس نے ریت پر اپنا گھر بنایا۔ 27 پھر بارش برسی اور سیلاب آیا اور تیز ہوا چلی اور بڑے زور سے گھر سے ٹکرائی اور وہ گھر گِر گیا اور بالکل تباہ ہو گیا۔“‏

28 جب یسوع اپنی باتیں ختم کر چکے تو بِھیڑ اُن کے تعلیم دینے کے انداز پر حیران رہ گئی 29 کیونکہ وہ شریعت کے عالموں کی طرح نہیں بلکہ اِختیار کے ساتھ تعلیم دے رہے تھے۔‏

8 جب یسوع پہاڑ سے اُتر آئے تو لوگوں کی بِھیڑ اُن کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ 2 اور دیکھو!‏ ایک کوڑھی نے یسوع کے پاس آ کر اُن کی تعظیم کی*‏ اور اُن سے کہا:‏ ”‏مالک!‏ اگر آپ چاہیں تو مجھے ٹھیک*‏ کر سکتے ہیں۔“‏ 3 یسوع نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھوا اور کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ تندرست ہو جائیں۔“‏ اُس آدمی کا کوڑھ فوراً دُور ہو گیا۔ 4 پھر یسوع نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏کسی کو یہ بات نہ بتائیں بلکہ جائیں، اپنے آپ کو کاہن کو دِکھائیں اور وہ نذرانہ پیش کریں جس کا موسیٰ کی شریعت میں ذکر کِیا گیا ہے تاکہ کاہنوں کو پتہ چل جائے کہ آپ ٹھیک ہو گئے ہیں۔“‏

5 جب یسوع کفرنحوم میں داخل ہوئے تو ایک فوجی افسر اُن کے پاس آ کر یہ کہنے لگا:‏ 6 ‏”‏جناب، میرا نوکر گھر میں پڑا ہے۔ اُسے فالج ہے اور وہ بڑی تکلیف میں ہے۔“‏ 7 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏جب مَیں وہاں پہنچوں گا تو مَیں اُسے ٹھیک کر دوں گا۔“‏ 8 اِس پر فوجی افسر نے اُن سے کہا:‏ ”‏جناب، مَیں اِس لائق نہیں کہ آپ میرے گھر آئیں۔ آپ بس حکم کر دیں تو میرا خادم ٹھیک ہو جائے گا 9 کیونکہ مَیں بھی کسی کا ماتحت ہوں اور میرے تحت بھی کئی فوجی ہیں۔ جب مَیں ایک فوجی کو حکم دیتا ہوں کہ ”‏اُدھر جاؤ!‏“‏ تو وہ جاتا ہے اور دوسرے کو حکم دیتا ہوں کہ ”‏اِدھر آؤ!‏“‏ تو وہ آتا ہے اور جب مَیں اپنے غلام کو حکم دیتا ہوں کہ ”‏یہ کام کرو!‏“‏ تو وہ اِسے کرتا ہے۔“‏ 10 یہ سُن کر یسوع بہت حیران ہوئے اور لوگوں سے کہنے لگے:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اِسرائیل میں کسی شخص کا اِتنا مضبوط ایمان نہیں دیکھا۔ 11 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور آسمان کی بادشاہت میں ابراہام، اِضحاق اور یعقوب کے ساتھ میز پر بیٹھیں گے 12 جبکہ بادشاہت کے بیٹوں کو باہر تاریکی میں پھینکا جائے گا جہاں وہ روئیں گے اور دانت پیسیں گے۔“‏ 13 پھر یسوع نے اُس فوجی افسر سے کہا:‏ ”‏جائیں، آپ کے ایمان کے عین مطابق ہو۔“‏ اور اُس کا نوکر اُسی وقت ٹھیک ہو گیا۔‏

14 جب یسوع، پطرس کے گھر آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ پطرس کی ساس لیٹی ہوئی ہے کیونکہ اُسے بخار تھا۔ 15 یسوع نے اُس کا ہاتھ چُھوا اور اُس کا بخار اُتر گیا۔ پھر وہ اُٹھ کر اُن کی خدمت کرنے لگی۔ 16 جب شام ہوئی تو لوگ بہت سے ایسے لوگوں کو یسوع کے پاس لانے لگے جو بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے۔ اور یسوع نے حکم دے کر بُرے فرشتوں*‏ کو اُن میں سے نکال دیا اور اُن لوگوں کو بھی ٹھیک کر دیا جو بیمار تھے 17 تاکہ وہ بات پوری ہو جو یسعیاہ نبی نے کہی تھی کہ ”‏اُس نے ہماری بیماریاں اپنے اُوپر لے لیں اور ہماری تکلیفیں دُور کر دیں۔“‏

18 جب یسوع نے دیکھا کہ اُن کے گِرد بہت بِھیڑ ہے تو اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آئیں، جھیل کے اُس پار چلیں۔“‏ 19 اور شریعت کا ایک عالم، یسوع کے پاس آیا اور اُن سے کہنے لگا:‏ ”‏اُستاد!‏ آپ جہاں کہیں بھی جائیں گے، مَیں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔“‏ 20 اُنہوں نے اُس کو جواب دیا:‏ ”‏لومڑیوں کے بِل ہوتے ہیں اور آسمان کے پرندوں کے گھونسلے لیکن اِنسان کے بیٹے*‏ کے پاس آرام کرنے کے لیے اپنا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔“‏ 21 پھر ایک شاگرد نے یسوع سے کہا:‏ ”‏مالک!‏ مجھے اِجازت دیں کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔“‏ 22 اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دیں مگر آپ میری پیروی کرتے رہیں۔“‏

23 جب یسوع کشتی پر سوار ہوئے تو اُن کے شاگرد بھی اُن کے ساتھ سوار ہوئے۔ 24 پھر جھیل میں طوفان آیا اور لہریں کشتی سے ٹکرانے لگیں اور اِس میں پانی بھرنے لگا۔ لیکن یسوع سو رہے تھے۔ 25 شاگردوں نے یسوع کے پاس آ کر اُن کو جگایا اور کہا:‏ ”‏مالک!‏ ہم مرنے والے ہیں، ہمیں بچائیں!‏“‏ 26 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگ گھبرا کیوں رہے ہیں؟ آخر آپ کا ایمان اِتنا کمزور کیوں ہے؟“‏ پھر اُنہوں نے اُٹھ کر ہوا اور لہروں کو ڈانٹا اور جھیل میں سکون ہو گیا۔ 27 اِس پر اُن کے شاگرد حیران ہو گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یہ کیسا شخص ہے؟ ہوا اور لہریں بھی اِس کا حکم مانتی ہیں۔“‏

28 جب یسوع جھیل کے اُس پار گدارینیوں کے علاقے میں پہنچے تو اُنہیں دو آدمی ملے جو قبرستان سے نکل رہے تھے۔ یہ آدمی بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے اور بہت ہی خطرناک تھے۔ اِس لیے کوئی اُس راستے سے گزرنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ 29 وہ آدمی چلّا چلّا کر کہنے لگے:‏ ”‏خدا کے بیٹے، ہمارا آپ سے کیا تعلق؟ کیا آپ ہمیں مقررہ وقت سے پہلے سزا دینے آئے ہیں؟“‏ 30 اُن سے کافی دُور سؤروں کا ایک ریوڑ چر رہا تھا۔ 31 لہٰذا بُرے فرشتوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اگر آپ ہمیں اِن آدمیوں میں سے نکالیں گے تو ہمیں سؤروں کے ریوڑ میں بھیج دیں۔“‏ 32 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏جاؤ!‏“‏ تب وہ نکل کر سؤروں میں چلے گئے اور دیکھو!‏ سارے سؤر دوڑنے لگے اور چٹان سے چھلانگ لگا کر جھیل میں ڈوب گئے۔ 33 لیکن چرواہے وہاں سے بھاگ گئے اور جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے لوگوں کو ساری باتیں بتائیں اور اُن آدمیوں کا قصہ بھی سنایا جو بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے۔ 34 اور دیکھو!‏ سارا شہر یسوع سے ملنے کے لیے آیا اور بار بار اُن سے کہا کہ ”‏ہمارے علاقے سے چلے جائیں۔“‏

9 لہٰذا یسوع کشتی پر سوار ہوئے اور جھیل کے پار اپنے شہر*‏ کو گئے۔ 2 اور دیکھو!‏ کچھ لوگ ایک فالج‌زدہ آدمی کو ایک چارپائی پر یسوع کے پاس لائے۔ جب یسوع نے اُن کا ایمان دیکھا تو اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏حوصلہ رکھیں بیٹا، آپ کے گُناہ معاف ہو گئے ہیں۔“‏ 3 اِس پر شریعت کے کچھ عالم آپس میں کہنے لگے کہ ”‏یہ آدمی کفر بک رہا ہے!‏“‏ 4 یسوع جانتے تھے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ اپنے دل میں بُری باتیں کیوں سوچ رہے ہیں؟ 5 کون سی بات کہنا زیادہ آسان ہے:‏ ”‏آپ کے گُناہ معاف ہوئے“‏ یا ”‏اُٹھیں اور چلیں پھریں“‏؟ 6 لیکن مَیں آپ کو دِکھاؤں گا کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو زمین پر گُناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔“‏ پھر اُنہوں نے اُس فالج‌زدہ آدمی سے کہا:‏ ”‏اُٹھیں، اپنی چارپائی اُٹھائیں اور اپنے گھر چلے جائیں۔“‏ 7 وہ آدمی اُٹھ گیا اور اپنے گھر چلا گیا۔ 8 یہ دیکھ کر لوگوں پر خوف چھا گیا اور وہ خدا کی بڑائی کرنے لگے کیونکہ اُس نے اِنسان کو اِس قدر اِختیار دیا تھا۔‏

9 جب یسوع وہاں سے آگے بڑھے تو اُنہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو ٹیکس کی چوکی پر بیٹھا تھا۔ اِس آدمی کا نام متی تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے پیروکار بن جائیں۔“‏ یہ سُن کر متی اُٹھے اور اُن کے پیچھے چلنے لگے۔ 10 بعد میں جب یسوع، متی کے گھر میں کھانا کھا رہے تھے تو بہت سے ٹیکس وصول کرنے والے اور گُناہ‌گار لوگ آئے اور یسوع اور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ 11 جب فریسیوں نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے یسوع کے شاگردوں سے کہا کہ ”‏تمہارا اُستاد ٹیکس وصول کرنے والوں اور گُناہ‌گاروں کے ساتھ کیوں کھانا کھاتا ہے؟“‏ 12 اُن کی بات سُن کر یسوع نے کہا:‏ ”‏تندرست لوگوں کو حکیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بیمار لوگوں کو۔ 13 جائیں اور اِس بات کا مطلب سمجھیں کہ ”‏مجھے قربانیوں کی بجائے رحم پسند ہے۔“‏ مَیں دین‌داروں کو بلا‌نے نہیں آیا بلکہ گُناہ‌گاروں کو۔“‏

14 پھر یوحنا کے شاگرد یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ”‏ہم اور فریسی روزہ رکھتے ہیں لیکن آپ کے شاگرد روزہ نہیں رکھتے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟“‏ 15 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا دُلہے کے دوست اُس وقت ماتم کرتے ہیں جب دُلہا اُن کے ساتھ ہوتا ہے؟ لیکن ایک وقت آئے گا جب دُلہے کو اُن سے جُدا کِیا جائے گا۔ تب وہ روزہ رکھیں گے۔ 16 کوئی شخص پُرانی چادر پر نئے کپڑے*‏ کا پیوند نہیں لگاتا کیونکہ وہ کپڑا سکڑ جائے گا اور پھر چادر اَور بھی پھٹ جائے گی۔ 17 اِسی طرح لوگ نئی مے کو پُرانی مشکوں میں نہیں ڈالتے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو مشکیں پھٹ جائیں گی اور مے بہہ جائے گی اور مشکیں کسی کام کی نہیں رہیں گی۔ اِس لیے لوگ نئی مے کو نئی مشکوں میں ڈالتے ہیں اور یوں دونوں چیزیں خراب نہیں ہوتیں۔“‏

18 یسوع اُن کو یہ باتیں بتا ہی رہے تھے کہ ایک حاکم آیا اور اُن کی تعظیم کر کے*‏ کہنے لگا:‏ ”‏جب مَیں گھر سے نکلا تھا تو میری بیٹی بہت بیمار تھی۔ اب تک تو وہ مر چکی ہوگی لیکن اگر آپ آئیں اور اُس پر ہاتھ رکھیں تو وہ زندہ ہو جائے گی۔“‏

19 یہ سُن کر یسوع اُٹھے اور اپنے شاگردوں کو لے کر اُس حاکم کے ساتھ چل دیے۔ 20 اور دیکھو!‏ بِھیڑ میں ایک عورت بھی تھی جس کو 12 سال سے لگاتار خون آ رہا تھا۔ اُس نے پیچھے سے آ کر یسوع کی چادر کی جھالر کو چُھوا 21 کیونکہ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ ”‏اگر مَیں اُن کی چادر ہی کو چُھو لوں تو مَیں ٹھیک ہو جاؤں گی۔“‏ 22 اِس پر یسوع نے مُڑ کر دیکھا اور اُس سے کہا:‏ ”‏حوصلہ رکھیں بیٹی، آپ اپنے ایمان کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔“‏ اُسی دوران وہ عورت ٹھیک ہو گئی۔‏

23 جب یسوع اُس حاکم کے گھر پہنچے تو اُنہوں نے وہاں ایسے لوگوں کو دیکھا کہ جو بانسری پر دُکھ بھری دُھنیں بجا رہے ہیں اور ماتم کر رہے ہیں۔ 24 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ بچی مری نہیں بلکہ سو رہی ہے۔“‏ اِس پر وہ لوگ یسوع کا مذاق اُڑانے لگے۔ 25 جب اِن لوگوں کو باہر بھیج دیا گیا تو یسوع فوراً اُس کمرے میں گئے جہاں بچی کی لاش پڑی تھی اور اُنہوں نے بچی کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُٹھ گئی۔ 26 اِس واقعے کی خبر سارے علاقے میں پھیل گئی۔‏

27 پھر یسوع وہاں سے آگے چلے اور دو اندھے آدمی اُن کے پیچھے پیچھے آنے لگے اور چلّانے لگے کہ ”‏داؤد کے بیٹے، ہم پر رحم کریں۔“‏ 28 جب یسوع ایک گھر میں گئے تو وہ آدمی اُن کے پاس آئے۔ یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ کو یقین ہے کہ مَیں آپ کو ٹھیک کر سکتا ہوں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی، مالک۔“‏ 29 پھر یسوع نے اُن کی آنکھوں کو چُھوا اور کہا:‏ ”‏آپ کے ایمان کے مطابق ہو۔“‏ 30 اور اُن آدمیوں کو دِکھائی دینے لگا۔ یسوع نے اُن کو تاکید کی کہ ”‏کسی کو اِس واقعے کے بارے میں نہ بتانا۔“‏ 31 لیکن اُن آدمیوں نے باہر جا کر سارے علاقے میں یسوع کا چرچا کر دیا۔‏

32 ابھی وہ دونوں آدمی وہاں سے نکل ہی رہے تھے کہ لوگ ایک گونگے آدمی کو یسوع کے پاس لائے۔ یہ آدمی ایک بُرے فرشتے کے قبضے میں تھا۔ 33 یسوع نے اُس بُرے فرشتے کو اُس میں سے نکال دیا اور وہ آدمی بولنے لگا۔ یہ دیکھ کر لوگ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ ”‏اِسرائیل میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا!‏“‏ 34 لیکن فریسیوں نے کہا کہ ”‏یہ آدمی بُرے فرشتوں کے حاکم کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتا ہے۔“‏

35 اور یسوع نے سب شہروں اور گاؤں کا دورہ کِیا اور وہاں کی عبادت‌گاہوں میں تعلیم دی، بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی کی اور ہر طرح کی بیماری اور مرض کو ٹھیک کِیا۔ 36 جب یسوع نے لوگوں کو دیکھا تو اُن کو اُن پر ترس آیا کیونکہ وہ ایسی بھیڑوں کی طرح تھے جن کا کوئی چرواہا نہیں تھا یعنی وہ بے‌بس تھے اور اُن کو تنگ کِیا جا رہا تھا۔ 37 پھر یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ فصل تو بہت ہے لیکن کٹائی کے لیے مزدور کم ہیں۔ 38 اِس لیے کٹائی کے مالک کی مِنت کریں کہ وہ کٹائی کرنے کے لیے اَور مزدور بھیجے۔“‏

10 لہٰذا یسوع نے اپنے 12 شاگردوں کو بلا‌یا اور اُن کو اِختیار دیا کہ وہ لوگوں میں سے بُرے فرشتوں*‏ کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کے مرض کو ٹھیک کریں۔‏

2 اُن 12 رسولوں کے نام یہ ہیں:‏ شمعون جنہیں پطرس بھی کہتے ہیں اور اُن کے بھائی اندریاس؛ یعقوب اور یوحنا جو زبدی کے بیٹے ہیں؛ 3 فِلپّس اور برتُلمائی؛ متی جو ٹیکس وصول کرتے تھے اور توما؛ یعقوب جو حلفئی کے بیٹے ہیں اور تدی؛ 4 شمعون قنانی*‏ اور یہوداہ اِسکریوتی جس نے بعد میں یسوع کے ساتھ غداری کی۔‏

5 یسوع نے اِن 12 کو لوگوں کے پاس بھیجا اور ساتھ ہی یہ ہدایتیں بھی دیں:‏ ”‏غیریہودیوں کے علاقے میں نہ جائیں اور نہ ہی سامریوں کے کسی شہر میں داخل ہوں 6 بلکہ صرف اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جائیں 7 اور وہاں جاتے وقت یہ مُنادی کریں کہ ”‏آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔“‏ 8 بیماروں اور کوڑھیوں کو ٹھیک کریں؛ مُردوں کو زندہ کریں؛ لوگوں میں سے بُرے فرشتوں کو نکالیں۔ آپ نے مُفت پایا ہے اِس لیے مُفت دیں۔ 9 اپنے لیے*‏ سونے، چاندی اور تانبے کے سِکے جمع نہ کریں 10 اور نہ ہی سفر کے لیے دو کُرتے*‏ یا چپل یا لاٹھی یا کھانے کا تھیلا لے جائیں کیونکہ کام کرنے والے کا حق ہے کہ اُسے کھانا دیا جائے۔‏

11 اور جب آپ کسی شہر یا گاؤں میں داخل ہوں تو دیکھیں کہ کون آپ کو اور آپ کے پیغام کو قبول کرتا ہے اور تب تک اُس کے پاس رہیں جب تک آپ اُس جگہ سے روانہ نہ ہوں۔ 12 جب آپ کسی گھر میں داخل ہوں تو گھر والوں کے لیے سلامتی چاہیں۔ 13 اگر وہ گھر اِس لائق ہے تو اُس پر سلامتی ہوگی اور اگر وہ گھر اِس لائق نہیں ہے تو وہ سلامتی آپ پر لوٹ آئے گی۔ 14 جس گھر یا شہر میں لوگ آپ کو یا آپ کے پیغام کو قبول نہ کریں، اُس سے باہر جاتے وقت اُس کی مٹی اپنے پاؤں سے جھاڑ دیں۔ 15 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ عدالت کے دن اُس شہر کی سزا سدوم اور عمورہ کی سزا سے زیادہ سخت ہوگی۔‏

16 دیکھیں!‏ آپ بھیڑوں کی طرح ہیں اور مَیں آپ کو بھیڑیوں میں بھیج رہا ہوں۔ اِس لیے سانپوں کی طرح ہوشیار ہوں لیکن اِس کے ساتھ ساتھ کبوتروں کی طرح بھولے ہوں۔ 17 لوگوں سے خبردار رہیں کیونکہ وہ آپ کو مقامی عدالتوں کے حوالے کریں گے اور اپنی عبادت‌گاہوں میں آپ کو کوڑے لگائیں گے۔ 18 یہاں تک کہ میری وجہ سے آپ کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کِیا جائے گا۔ پھر اُن کو اور قوموں کو گواہی ملے گی۔ 19 لیکن جب وہ آپ کو گِرفتار کریں گے تو اِس بات کی فکر نہ کریں کہ آپ کیا کہیں گے اور کیسے کہیں گے۔ آپ کو اُس وقت ہدایت ملے گی کہ آپ کو کیا کہنا ہے 20 کیونکہ آپ صرف اپنی طرف سے نہیں بولیں گے بلکہ آپ کے آسمانی باپ کی روح آپ کی مدد کرے گی۔ 21 تب بھائی اپنے بھائی کو اور باپ اپنے بیٹے کو مروانے کے لیے پکڑوائے گا اور بچے اپنے والدین کے خلاف کھڑے ہوں گے اور اُن کو مروائیں گے۔ 22 اور میرے نام کی وجہ سے سب لوگ آپ سے نفرت کریں گے۔ لیکن جو آخر تک ثابت‌قدم رہے گا، وہ نجات پائے گا۔ 23 جب وہ آپ کو ایک شہر میں اذیت پہنچائیں تو دوسرے شہر کو بھاگ جائیں کیونکہ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کے آنے تک آپ اِسرائیل کے سارے شہروں کا دورہ مکمل نہیں کر پائیں گے۔‏

24 شاگرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی غلام اپنے مالک سے بڑا ہوتا ہے۔ 25 یہ کافی ہے کہ شاگرد اپنے اُستاد کی طرح بنے اور غلام اپنے مالک کی طرح۔ اگر لوگوں نے گھر کے مالک کو بعلزبُول*‏ کہا ہے تو کیا وہ اُس کے گھر والوں کو بھی ایسا نہیں کہیں گے؟ 26 اِس لیے لوگوں سے نہ ڈریں۔ جس چیز پر پردہ پڑا ہے، اُس سے پردہ اُٹھایا جائے گا اور جو بات چھپی ہے، وہ سامنے لائی جائے گی۔ 27 جو بات مَیں آپ سے تاریکی میں کہتا ہوں، اُسے روشنی میں کہیں اور جو بات مَیں آپ کے کان میں کہتا ہوں، اُس کی مُنادی چھتوں سے کریں۔ 28 اُن لوگوں سے نہ ڈریں جو جسم کو تو مار سکتے ہیں لیکن جان*‏ کو تباہ نہیں کر سکتے بلکہ اُس سے ڈریں جو جسم اور جان دونوں کو ہنوم کی وادی*‏ میں ڈال کر تباہ کر سکتا ہے۔ 29 کیا دو چڑیاں ایک پیسے*‏ کی نہیں بکتیں؟ لیکن اگر اُن میں سے ایک بھی زمین پر گِر جائے تو آپ کے آسمانی باپ کو خبر ہو جاتی ہے۔ 30 اُس کو تو یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کے سر پر کتنے بال ہیں۔ 31 اِس لیے ڈریں مت، آپ تو اِن چڑیوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔‏

32 جو شخص اِنسانوں کے سامنے میرا اِقرار کرتا ہے، مَیں بھی اپنے آسمانی باپ کے سامنے اُس کا اِقرار کروں گا۔ 33 لیکن جو شخص اِنسانوں کے سامنے میرا اِنکار کرتا ہے، مَیں بھی اپنے آسمانی باپ کے سامنے اُس کا اِنکار کروں گا۔ 34 یہ نہ سوچیں کہ مَیں زمین پر امن لانے آیا ہوں۔ مَیں امن نہیں بلکہ تلوار لے کر آیا ہوں 35 کیونکہ مَیں بیٹے اور باپ، بیٹی اور ماں اور بہو اور ساس کو ایک دوسرے سے جُدا کرنے آیا ہوں۔ 36 بے‌شک ایک آدمی کے گھر والے اُس کے دُشمن ہوں گے۔ 37 جو شخص اپنے باپ یا ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں۔ اور جو شخص اپنے بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں۔ 38 اور جو شخص اپنی سُولی*‏ اُٹھانے اور میری پیروی کرنے کو تیار نہیں، وہ میرے لائق نہیں۔ 39 جو شخص اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے، وہ اِسے کھو دے گا اور جو شخص میری خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے، وہ اِسے دوبارہ حاصل کرے گا۔‏

40 جو آپ کو قبول کرتا ہے، وہ مجھے بھی قبول کرتا ہے۔ اور جو مجھے قبول کرتا ہے، وہ اُس کو بھی قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 41 جو ایک نبی کو اِس لیے قبول کرتا ہے کیونکہ وہ نبی ہے، اُسے نبی جیسا اجر ملے گا۔ اور جو ایک نیک آدمی کو اِس لیے قبول کرتا ہے کیونکہ وہ نیک ہے، اُسے نیک آدمی جیسا اجر ملے گا۔ 42 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی میرے اِن شاگردوں*‏ میں سے کسی کو اِس لیے ایک پیالہ ٹھنڈا پانی پلاتا ہے کیونکہ وہ میرا شاگرد ہے، اُسے اجر ضرور ملے گا۔“‏

11 یسوع نے اپنے 12 شاگردوں کو ہدایتیں دینے کے بعد دوسرے شہروں کا رُخ کِیا تاکہ وہاں بھی تعلیم دیں اور مُنادی کریں۔‏

2 جب یوحنا نے قیدخانے میں یسوع کے کاموں کے بارے میں سنا تو اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو اُن کے پاس بھیجا 3 تاکہ اُن سے پوچھیں کہ ”‏کیا آپ ہی وہ شخص ہیں جسے آنا تھا یا کیا ہم کسی اَور کا اِنتظار کریں؟“‏ 4 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏یوحنا کے پاس واپس جائیں اور اُنہیں اُن باتوں کے بارے میں بتائیں جو آپ دیکھ اور سُن رہے ہیں:‏ 5 اندھے دیکھنے لگے ہیں، لنگڑے چلنے پھرنے لگے ہیں، بہرے سننے لگے ہیں، کوڑھی ٹھیک ہو رہے ہیں، مُردے زندہ کیے جا رہے ہیں اور غریبوں کو خوش‌خبری سنائی جا رہی ہے۔ 6 وہ شخص خوش رہتا ہے جو میرے بارے میں شک نہیں کرتا۔“‏

7 جب یوحنا کے شاگرد چلے گئے تو یسوع لوگوں سے یوحنا کے بارے میں کہنے لگے:‏ ”‏آپ ویرانے میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ ایک سرکنڈے کو جو ہوا سے ہل رہا تھا؟ نہیں۔ 8 پھر آپ کیا دیکھنے گئے تھے؟ ایک آدمی کو جس نے ریشمی لباس پہنا تھا؟ نہیں۔ جو لوگ ریشمی لباس پہنتے ہیں، وہ تو محلوں میں رہتے ہیں۔ 9 تو پھر آپ وہاں کیوں گئے تھے؟ ایک نبی کو دیکھنے؟ ہاں۔ مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ وہ تو نبیوں سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ 10 یہی وہ شخص ہیں جن کے بارے میں لکھا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں تمہارے آگے اپنا پیغمبر بھیج رہا ہوں جو تمہارے لیے راستہ تیار کرے گا۔“‏ 11 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ آج تک کوئی بھی ایسا اِنسان پیدا نہیں ہوا جو یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا ہو لیکن جو شخص آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا مرتبہ رکھتا ہے، وہ یوحنا سے بڑا ہے۔ 12 یوحنا بپتسمہ دینے والے کے زمانے سے لے کر آج تک لوگوں کی منزل آسمان کی بادشاہت ہے اور وہ اِس کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جو لوگ اِس کی طرف بڑھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، وہ اِس پر قبضہ بھی کر رہے ہیں۔ 13 چونکہ یوحنا کے زمانے تک نبیوں کے صحیفوں اور شریعت کا اِعلان کِیا گیا 14 اِس لیے چاہے آپ مانیں یا نہ مانیں، وہ ہی ایلیاہ ہیں جن کے آنے کے بارے میں صحیفوں میں کہا گیا تھا۔ 15 جس کے کان ہیں، وہ سنے۔‏

16 مَیں اِس پُشت کو کس سے تشبیہ دوں؟ یہ چھوٹے بچوں کی طرح ہے جو بازار میں بیٹھے ہیں اور دوسرے بچوں سے کہتے ہیں کہ 17 ‏”‏ہم نے بانسری بجائی لیکن تُم نہیں ناچے؛ ہم نے ماتم کِیا لیکن تُم نے غم کے مارے چھاتی نہیں پیٹی۔“‏ 18 اِسی طرح یوحنا کھاتے پیتے نہیں ہیں لیکن لوگ کہتے ہیں کہ ”‏اُس پر ایک بُرے فرشتے کا سایہ ہے۔“‏ 19 جبکہ اِنسان کا بیٹا*‏ کھاتا پیتا ہے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ ”‏یہ کیسا آدمی ہے؟ پیٹ‌پجاری اور شرابی، ٹیکس وصول کرنے والوں اور گُناہ‌گاروں کا یار۔“‏ مگر دانش‌مندی اپنے کاموں*‏ سے نیک*‏ ثابت ہوتی ہے۔“‏

20 پھر یسوع اُن شہروں پر تنقید کرنے لگے جن میں اُنہوں نے زیادہ‌تر معجزے کیے تھے لیکن لوگوں نے توبہ نہیں کی تھی۔ 21 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تجھ پر افسوس، خُرازین!‏ تجھ پر افسوس، بیت‌صیدا!‏ کیونکہ اگر صور اور صیدا میں وہ معجزے کیے جاتے جو تجھ میں کیے گئے تو وہاں کے لوگ ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ میں بیٹھ کر کب کے توبہ کر چکے ہوتے۔ 22 اِس لیے مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ عدالت کے دن تیری سزا صور اور صیدا کی سزا سے زیادہ سخت ہوگی۔ 23 اور کفرنحوم، کیا تجھے آسمان پر چڑھایا جائے گا؟ نہیں!‏ تجھے تو قبر*‏ میں اُتارا جائے گا کیونکہ اگر سدوم میں وہ معجزے کیے جاتے جو تجھ میں کیے گئے تو وہ آج تک قائم رہتا۔ 24 لہٰذا مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ عدالت کے دن تیری سزا سدوم کی سزا سے زیادہ سخت ہوگی۔“‏

25 اُس وقت یسوع نے کہا:‏ ”‏اَے باپ، آسمان اور زمین کے مالک!‏ مَیں سب کے سامنے تیری بڑائی کرتا ہوں کیونکہ تُو نے یہ باتیں دانش‌مند اور ذہین لوگوں سے چھپائیں اور چھوٹے بچوں پر ظاہر کیں 26 اِس لیے کہ یہی تیری مرضی تھی، اَے باپ۔“‏ 27 اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏میرے باپ نے سب چیزیں میرے حوالے کی ہیں۔ کوئی بھی شخص بیٹے کو پوری طرح سے نہیں جانتا سوائے باپ کے۔ اور کوئی بھی شخص باپ کو پوری طرح سے نہیں جانتا سوائے بیٹے کے اور اُس شخص کے جس پر بیٹا، باپ کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ 28 آپ سب جو محنت‌مشقت کرتے ہیں اور بوجھ تلے دبے ہیں، میرے پاس آئیں۔ مَیں آپ کو تازہ‌دم کر دوں گا۔ 29 میرا جُوا اُٹھا لیں*‏ اور مجھ سے سیکھیں کیونکہ مَیں نرم‌مزاج اور دل سے خاکسار ہوں۔ پھر آپ*‏ تازہ‌دم ہو جائیں گے 30 کیونکہ میرا جُوا آرام‌دہ ہے*‏ اور میرا بوجھ ہلکا ہے۔“‏

12 ایک موقعے پر جب یسوع سبت کے دن گندم کے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے تو اُن کے شاگرد گندم کی بالیں توڑ کر کھانے لگے کیونکہ اُن کو بھوک لگی تھی۔ 2 یہ دیکھ کر فریسیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ تمہارے شاگرد ایسا کام کر رہے ہیں جو سبت کے دن جائز نہیں ہے۔“‏ 3 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ نے کبھی نہیں پڑھا کہ داؤد نے اُس وقت کیا کِیا جب اُن کو اور اُن کے آدمیوں کو بھوک لگی تھی؟ 4 وہ خدا کے گھر میں گئے اور نذرانے کی روٹیاں کھائیں حالانکہ اِن کو کھانا صرف کاہنوں کے لیے جائز تھا، اُن کے لیے نہیں۔ 5 یا پھر کیا آپ نے شریعت میں نہیں پڑھا کہ کاہن سبت کے دن ہیکل*‏ میں کام کرنے کے باوجود بھی قصوروار نہیں ٹھہرائے جاتے؟ 6 مگر مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ یہاں ایک ایسا شخص ہے جو ہیکل سے بھی زیادہ اہم ہے۔ 7 اگر آپ اِس بات کا مطلب سمجھ جاتے کہ ”‏مجھے قربانیوں کی بجائے رحم پسند ہے“‏ تو آپ بے‌قصوروں کو قصوروار نہ ٹھہراتے 8 کیونکہ اِنسان کا بیٹا*‏ سبت کا مالک ہے۔“‏

9 اُدھر سے یسوع ایک عبادت‌گاہ میں گئے 10 اور دیکھو!‏ وہاں ایک آدمی تھا جس کا ہاتھ سُوکھا ہوا*‏ تھا۔ یہ دیکھ کر کچھ لوگوں نے یسوع سے پوچھا کہ ”‏کیا سبت کے دن کسی کو ٹھیک کرنا جائز ہے؟“‏ اُنہوں نے یہ اِس لیے پوچھا کیونکہ وہ اُن پر اِلزام لگانا چاہتے تھے۔ 11 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏فرض کریں کہ آپ کے پاس ایک ہی بھیڑ ہے اور وہ سبت کے دن گڑھے میں گِر جاتی ہے۔ کیا آپ اُس کو کھینچ کر باہر نہیں نکالیں گے؟ 12 اِنسان تو بھیڑ سے کہیں زیادہ اہم ہے!‏ اِس لیے سبت کے دن اچھا کام کرنا جائز ہے۔“‏ 13 پھر اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اپنا ہاتھ آگے کریں۔“‏ جب اُس نے اپنا ہاتھ آگے کِیا تو اُس کا ہاتھ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ 14 لیکن فریسی، عبادت‌گاہ سے باہر جا کر سازش کرنے لگے کہ یسوع کو مار ڈالنے کے لیے کیا کریں۔ 15 جب یسوع کو یہ پتہ چلا تو وہ وہاں سے چلے گئے اور بہت سے لوگ اُن کے پیچھے گئے۔ یسوع نے بیماروں کو ٹھیک کر دیا 16 لیکن ساتھ ساتھ اُنہیں تاکید بھی کی کہ ”‏لوگوں کو مت بتاؤ کہ مَیں کون ہوں“‏ 17 تاکہ وہ بات پوری ہو جو یسعیاہ نبی نے کہی تھی:‏

18 ‏”‏دیکھو!‏ میرا پیارا خادم جسے مَیں نے چُنا ہے اور جس سے مَیں خوش ہوں۔‏*‏ مَیں اپنی روح اُس پر نازل کروں گا اور وہ قوموں کو دِکھائے گا کہ حقیقی اِنصاف کیا ہے۔ 19 وہ نہ تو بحث کرے گا اور نہ ہی چلّائے گا۔ اُس کی آواز سڑکوں پر سنائی نہیں دے گی۔ 20 وہ کسی جھکے ہوئے سرکنڈے کو نہیں کچلے گا اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کو نہیں بجھائے گا جب تک کہ وہ اِنصاف قائم نہ کر دے۔ 21 اور اُس کے نام سے قومیں اُمید لگائیں گی۔“‏

22 پھر لوگ ایک آدمی کو یسوع کے پاس لائے جو ایک بُرے فرشتے کے قبضے میں تھا۔ یہ آدمی اندھا اور گونگا تھا لیکن یسوع نے اُس کو ٹھیک کر دیا اور وہ بولنے لگا اور اُسے دِکھائی دینے لگا۔ 23 اِس پر لوگ حیرت میں پڑ گئے اور یسوع کے بارے میں ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏شاید یہی داؤد کا بیٹا ہے!‏“‏ 24 جب فریسیوں نے یہ سنا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ آدمی بُرے فرشتوں کے حاکم، بعلزبُول*‏ کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتا ہے۔“‏ 25 یسوع کو پتہ تھا کہ فریسی کیا سوچ رہے ہیں اِس لیے اُنہوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏جس بادشاہت میں پھوٹ پڑ جاتی ہے، وہ برباد ہو جاتی ہے۔ اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑتی ہے، وہ قائم نہیں رہتا۔ 26 اِسی طرح اگر شیطان، شیطان کو نکال رہا ہے تو اُس کی بادشاہت میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ پھر اُس کی بادشاہت کیسے قائم رہے گی؟ 27 اور اگر مَیں بعلزبُول کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتا ہوں تو پھر آپ کے بیٹے اُن کو کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ یوں وہ آپ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ 28 لیکن اگر مَیں خدا کی روح کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتا ہوں تو جان لیں کہ خدا کی بادشاہت آپ کے سر پر آ پہنچی ہے!‏ 29 اگر ایک شخص کسی طاقت‌ور آدمی کے گھر میں گھس کر اُس کا مال لُوٹنا چاہتا ہے تو وہ کیا کرے گا؟ ظاہر ہے کہ وہ پہلے اُسے باندھے گا اور پھر اُس کا گھر لُوٹے گا۔ 30 جو شخص میری طرف نہیں، وہ میرے خلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا، وہ بکھیرتا ہے۔‏

31 اِس لیے مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ ہر طرح کا گُناہ اور کفر معاف کِیا جائے گا لیکن جو کفر پاک روح کے خلاف بکا جاتا ہے، وہ معاف نہیں کِیا جائے گا۔ 32 مثال کے طور پر جو شخص اِنسان کے بیٹے کے خلاف بولتا ہے، اُسے معاف کِیا جائے گا لیکن جو شخص پاک روح کے خلاف بولتا ہے، اُسے نہ تو اِس زمانے میں معاف کِیا جائے گا اور نہ ہی آنے والے زمانے میں۔‏

33 آپ لوگ یا تو ایسا درخت اُگا سکتے ہیں جو اچھا ہے اور جس کا پھل بھی اچھا ہے یا پھر ایک ایسا درخت جو خراب ہے اور جس کا پھل بھی خراب ہے کیونکہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ 34 سانپ کے بچو!‏ جب تُم بُرے ہو تو اچھی باتیں کیسے کہو گے؟ جو دل میں بھرا ہوتا ہے، وہی زبان پر آتا ہے۔ 35 ایک اچھا آدمی اُن اچھی باتوں کو زبان پر لاتا ہے جو اُس نے اپنے دل میں ذخیرہ کی ہیں جبکہ ایک بُرا آدمی اُن بُری باتوں کو زبان پر لاتا ہے جو اُس نے اپنے دل میں ذخیرہ کی ہیں۔ 36 مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ عدالت کے دن لوگ اُن سب فضول باتوں کا حساب دیں گے جو وہ زبان پر لاتے ہیں 37 کیونکہ تُم اپنی باتوں سے یا تو نیک ٹھہرائے جاؤ گے یا پھر قصوروار۔“‏

38 اِس پر کچھ فریسیوں اور شریعت کے عالموں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اُستاد، ذرا ہمیں ایک نشانی دِکھاؤ۔“‏ 39 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ بُری اور بے‌وفا*‏ پُشت نشانیاں مانگتی ہے لیکن اِسے یُوناہ والی نشانی کے سوا کوئی اَور نشانی نہیں دِکھائی جائے گی۔ 40 جس طرح یُوناہ نبی تین دن اور تین رات بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہے اُسی طرح اِنسان کا بیٹا تین دن اور تین رات زمین کی تہہ میں رہے گا۔ 41 عدالت کے دن نینوہ کے لوگ اِس پُشت کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے اور اِسے قصوروار ٹھہرائیں گے کیونکہ جب یُوناہ نبی نے اُن کو خدا کا پیغام سنایا تو اُنہوں نے توبہ کی۔ لیکن دیکھیں!‏ یہاں ایک ایسا شخص ہے جو یُوناہ سے بھی زیادہ اہم ہے۔ 42 اور عدالت کے دن سبا کی ملکہ*‏ کو بھی اِس پُشت کے ساتھ زندہ کِیا جائے گا اور وہ اِسے قصوروار ٹھہرائے گی کیونکہ وہ زمین کی اِنتہا سے سلیمان کی دانش‌مند باتیں سننے آئی۔ لیکن دیکھیں!‏ یہاں ایک ایسا شخص ہے جو سلیمان سے بھی زیادہ اہم ہے۔‏

43 جب ایک بُرا فرشتہ*‏ ایک آدمی میں سے نکل جاتا ہے تو وہ اپنے لیے ٹھکانا ڈھونڈنے کے لیے ریگستان سے گزرتا ہے لیکن اُسے کوئی ٹھکانا نہیں ملتا۔ 44 پھر وہ سوچتا ہے کہ ”‏مَیں اُسی گھر میں واپس جاؤں گا جہاں سے مَیں آیا ہوں۔“‏ جب وہ واپس جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ گھر خالی ہے اور صاف ستھرا اور سجا ہوا ہے۔ 45 پھر وہ جا کر سات اَور فرشتوں کو اپنے ساتھ لاتا ہے جو اُس سے بھی زیادہ بُرے ہیں اور وہ سب اُس گھر میں گھس کر وہاں رہنے لگتے ہیں۔ تب اُس آدمی کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ اِس بُری پُشت کا بھی بالکل یہی حال ہوگا۔“‏

46 ابھی یسوع لوگوں سے بات کر ہی رہے تھے کہ اُن کی ماں اور اُن کے بھائی آ کر باہر کھڑے ہو گئے کیونکہ وہ یسوع سے بات کرنا چاہتے تھے۔ 47 کسی نے یسوع سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ باہر آپ کی ماں اور بھائی کھڑے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔“‏ 48 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏میری ماں اور میرے بھائی کون ہیں؟“‏ 49 پھر اُنہوں نے اپنے شاگردوں کی طرف اِشارہ کِیا اور کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ میری ماں اور میرے بھائی!‏ 50 کیونکہ جو بھی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے، وہی میرا بھائی، میری بہن اور میری ماں ہے۔“‏

13 اُس دن یسوع گھر سے نکلے اور جھیل کے کنارے بیٹھ گئے۔ 2 اور اِتنی بِھیڑ اُن کے اِردگِرد جمع ہو گئی کہ وہ کشتی میں بیٹھ گئے۔ لیکن لوگ جھیل کے کنارے پر ہی کھڑے رہے۔ 3 یسوع نے اُنہیں مثالیں دے کر بہت سی باتیں بتائیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ ایک کسان بیج بونے نکلا۔ 4 جب وہ بو رہا تھا تو کچھ بیج راستے پر گِرے اور پرندے آ کر اُن کو چگ گئے۔ 5 کچھ بیج پتھریلی زمین پر گِرے جہاں مٹی زیادہ گہری نہیں تھی اِس لیے جلد ہی اُن میں سے پودے نکل آئے۔ 6 لیکن جب سورج نکلا تو وہ دھوپ کی شدت سے سُوکھ گئے کیونکہ اُنہوں نے جڑ نہیں پکڑی تھی۔ 7 کچھ بیج کانٹے‌دار جھاڑیوں میں گِرے اور جب جھاڑیاں بڑھ گئیں تو اُنہوں نے اِن کو دبا دیا۔ 8 لیکن کچھ بیج اچھی زمین پر گِرے اور پھل لانے لگے، کوئی 100 گُنا، کوئی 60 (‏ساٹھ)‏ گُنا اور کوئی 30 (‏تیس)‏ گُنا۔ 9 جس کے کان ہیں، وہ سنے۔“‏

10 پھر شاگرد یسوع کے پاس آ کر کہنے لگے:‏ ”‏آپ اِن لوگوں سے بات کرتے وقت مثالیں کیوں اِستعمال کرتے ہیں؟“‏ 11 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏آپ کو آسمان کی بادشاہت کے مُقدس رازوں کو سمجھنے کی صلاحیت دی گئی ہے لیکن اِن لوگوں کو یہ صلاحیت نہیں دی گئی 12 کیونکہ جس کے پاس ہے، اُسے اَور بھی دیا جائے گا اور اُس کے پاس کثرت سے ہوگا۔ لیکن جس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔ 13 اِس لیے مَیں لوگوں سے بات کرتے وقت مثالیں اِستعمال کرتا ہوں۔ یہ لوگ دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے بھی نہیں سنتے اور نہ ہی اِس کا مطلب سمجھتے ہیں۔ 14 اِن لوگوں کے سلسلے میں یسعیاہ نبی کی یہ پیش‌گوئی پوری ہو رہی ہے کہ ”‏تُم سنو گے لیکن اِس کا مطلب نہیں سمجھو گے اور تُم دیکھو گے لیکن تمہیں دِکھائی نہیں دے گا۔ 15 اُن لوگوں کا دل سخت ہو گیا ہے؛ اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں؛ جو کچھ وہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں، اُسے اَن‌سنا کر دیتے ہیں۔ وہ نہ تو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، نہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں، نہ اپنے دل سے سمجھتے ہیں اور نہ ہی میری طرف لوٹتے ہیں ورنہ مَیں اُن کو شفا دیتا۔“‏

16 لیکن آپ خوش ہیں کیونکہ آپ کی آنکھیں دیکھتی ہیں اور آپ کے کان سنتے ہیں۔ 17 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ بہت سے نبی اور نیک آدمی اُن باتوں کو دیکھنا چاہتے تھے جو آپ دیکھ رہے ہیں لیکن اُنہیں نہیں دیکھا۔ وہ اُن باتوں کو سننا چاہتے تھے جو آپ سُن رہے ہیں لیکن اُنہیں نہیں سنا۔‏

18 اب مَیں آپ کو بیج بونے والے کی مثال کا مطلب سمجھاتا ہوں۔ 19 کچھ بیج راستے پر گِرے۔ یہ اُس شخص کی صورتحال ہے جو بادشاہت کے بارے میں کلام کو سنتا ہے لیکن اِس کا مطلب نہیں سمجھتا۔ اِس لیے شیطان*‏ آ کر اُس بیج کو چُرا لیتا ہے جو اُس کے دل میں بویا گیا ہے۔ 20 کچھ بیج پتھریلی زمین پر گِرے۔ یہ اُس شخص کی صورتحال ہے جو کلام کو سُن کر اِسے خوشی خوشی قبول کرتا ہے 21 لیکن یہ کلام اُس کے دل میں جڑ نہیں پکڑتا۔ اِس لیے جب کلام کی وجہ سے اُس پر مصیبت یا اذیت آتی ہے تو وہ اِسے فوراً ترک کر دیتا ہے۔ 22 کچھ بیج کانٹے‌دار جھاڑیوں میں گِرے۔ یہ اُس شخص کی صورتحال ہے جو کلام کو سنتا تو ہے لیکن اِس دُنیا*‏ کی فکریں اور دولت کی دھوکاباز کشش کلام کو دبا دیتی ہے اور اِس لیے وہ پھل نہیں لاتا۔ 23 کچھ بیج اچھی زمین پر گِرے۔ یہ اُن لوگوں کی صورتحال ہے جو کلام کو سنتے ہیں اور اِس کا مطلب سمجھتے ہیں اور پھل بھی لاتے ہیں، کوئی 100 گُنا، کوئی 60 (‏ساٹھ)‏ گُنا اور کوئی 30 (‏تیس)‏ گُنا۔“‏

24 یسوع نے اُنہیں ایک اَور مثال دی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آسمان کی بادشاہت ایک ایسے آدمی کی طرح ہے جس نے اپنے کھیت میں اچھے بیج بوئے۔ 25 جب لوگ سو رہے تھے تو اُس آدمی کا دُشمن آیا اور گندم کے کھیت میں جنگلی پودوں*‏ کے بیج بو کر چلا گیا۔ 26 جب پتیاں نکلیں اور اُن میں پھل لگا تو زہریلے پودے بھی نظر آنے لگے۔ 27 اِس لیے گھر کے مالک کے غلام آ کر اُس سے کہنے لگے:‏ ”‏مالک، آپ نے تو کھیت میں اچھے بیج بوئے تھے تو پھر یہ زہریلے پودے کہاں سے آ گئے؟“‏ 28 اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ کسی دُشمن کا کام ہے۔“‏ اِس پر غلاموں نے کہا:‏ ”‏اگر آپ چاہیں تو ہم جا کر اِن پودوں کو نکال دیتے ہیں۔“‏ 29 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تُم زہریلے پودوں کے ساتھ گندم کے پودوں کو بھی اُکھاڑ دو۔ 30 کٹائی تک دونوں کو اِکٹھا بڑھنے دو۔ کٹائی کے وقت مَیں فصل کاٹنے والوں سے کہوں گا کہ پہلے زہریلے پودوں کو جمع کر کے گٹھے بنا لیں تاکہ اُنہیں جلایا جائے اور پھر گندم کو گودام میں جمع کر دیں۔“‏ “‏

31 پھر یسوع نے اُنہیں ایک اَور مثال دی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آسمان کی بادشاہت ایک ایسے رائی کے دانے کی طرح ہے جسے ایک آدمی نے کھیت میں بویا۔ 32 یہ سب سے چھوٹا بیج ہے لیکن جب یہ بڑا ہوتا ہے تو تمام سبزیوں کے پودوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور درخت بن جاتا ہے اور پھر آسمان کے پرندے آ کر اِس کی شاخوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“‏

33 اِس کے بعد یسوع نے اُنہیں یہ مثال دی:‏ ”‏آسمان کی بادشاہت خمیر کی طرح ہے جسے ایک عورت نے تین پیمانے آٹے میں ملا دیا اور آخر سارا آٹا خمیر ہو گیا۔“‏

34 یسوع نے لوگوں کو یہ سب باتیں مثالیں دے کر بتائیں۔ دراصل وہ لوگوں سے بات کرتے وقت ہمیشہ مثالیں اِستعمال کرتے تھے 35 تاکہ یہ پیش‌گوئی پوری ہو کہ ”‏مَیں مثالوں کے ذریعے تعلیم دوں گا۔ مَیں اُن باتوں کا اِعلان کروں گا جو اُس وقت سے چھپی ہیں جب دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔“‏

36 پھر یسوع نے لوگوں کو وہاں سے بھیج دیا اور گھر میں چلے گئے۔ تب اُن کے شاگرد اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں زہریلے پودوں والی مثال کا مطلب سمجھائیں۔“‏ 37 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏اچھا بیج بونے والا آدمی، اِنسان کا بیٹا*‏ ہے؛ 38 کھیت دُنیا ہے؛ اچھے بیج بادشاہت کے بیٹے ہیں لیکن زہریلے پودے شیطان*‏ کے بیٹے ہیں؛ 39 زہریلے پودے بونے والا دُشمن، اِبلیس ہے؛ کٹائی دُنیا کا آخری زمانہ ہے اور کاٹنے والے، فرشتے ہیں۔ 40 جس طرح زہریلے پودوں کو جمع کر کے آگ میں جلایا گیا اِسی طرح دُنیا کے آخری زمانے میں ہوگا۔ 41 تب اِنسان کا بیٹا اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کی بادشاہت میں سے اُن سب لوگوں کو جمع کریں گے جو بُرے کام کرتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ 42 اور پھر وہ اِن لوگوں کو آگ کی بھٹی میں ڈالیں گے جہاں وہ لوگ روئیں گے اور دانت پیسیں گے۔ 43 اُس وقت نیک لوگ اپنے آسمانی باپ کی بادشاہت میں سورج کی طرح چمکیں گے۔ جس کے کان ہیں، وہ سنے۔‏

44 آسمان کی بادشاہت ایک خزانے کی طرح ہے جو کھیت میں چھپا ہوا تھا۔ یہ خزانہ ایک آدمی کو ملا اور اُس نے اِسے دوبارہ چھپا دیا۔ وہ اِس خزانے سے اِتنا خوش ہوا کہ اُس نے جا کر اپنا سب کچھ بیچ دیا اور اُس کھیت کو خرید لیا۔‏

45 آسمان کی بادشاہت ایک تاجر کی طرح بھی ہے جو عمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔ 46 جب اُسے ایک بہت ہی قیمتی موتی مل گیا تو اُس نے جا کر فوراً اپنا سب کچھ بیچ دیا اور اِس موتی کو خرید لیا۔‏

47 آسمان کی بادشاہت ایک جال کی طرح بھی ہے جسے مچھیروں نے سمندر میں ڈالا اور اِس میں ہر طرح کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 جب جال بھر گیا تو وہ اِسے کھینچ کر ساحل پر لے آئے اور اچھی مچھلیوں کو برتنوں میں جمع کِیا جبکہ خراب مچھلیوں کو پھینک دیا۔ 49 دُنیا کے آخری زمانے میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ فرشتے جا کر بُرے لوگوں کو نیک لوگوں سے الگ کریں گے 50 اور پھر وہ بُرے لوگوں کو آگ کی بھٹی میں ڈالیں گے جہاں وہ روئیں گے اور دانت پیسیں گے۔“‏

51 پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ اِن سب باتوں کا مطلب سمجھ گئے ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی۔“‏ 52 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر ہر اُستاد جو آسمان کی بادشاہت کے بارے میں تعلیم حاصل کرتا ہے، اُس گھر کے مالک کی طرح ہے جو اپنے خزانے سے نئی اور پُرانی چیزیں نکالتا ہے۔“‏

53 یسوع یہ مثالیں دینے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے 54 اور اُس علاقے میں گئے جہاں اُن کی پرورش ہوئی تھی۔ وہاں وہ ایک عبادت‌گاہ میں تعلیم دینے لگے۔ اُن کی تعلیم کو سُن کر لوگ بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی اِتنا دانش‌مند کیسے ہو گیا اور اِس کو معجزے کرنے کی طاقت کہاں سے ملی؟ 55 یہ تو بڑھئی کا بیٹا ہے‌نا؟ کیا مریم اِس کی ماں نہیں؟ اور کیا یعقوب، یوسف، شمعون اور یہوداہ اِس کے بھائی نہیں؟ 56 اور اِس کی بہنیں بھی تو یہاں رہتی ہیں۔ تو پھر اِس آدمی کو یہ صلاحیتیں کہاں سے ملیں؟“‏ 57 لہٰذا اُنہوں نے یسوع کو قبول نہیں کِیا۔ اِس لیے یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏نبی کی سب لوگ عزت کرتے ہیں سوائے اُس کے گھر والوں اور علاقے کے لوگوں کے۔“‏ 58 اور اُن کے ایمان کی کمی کی وجہ سے یسوع نے وہاں زیادہ معجزے نہیں کیے۔‏

14 اُس وقت گلیل کے حاکم ہیرودیس نے یسوع کے بارے میں خبر سنی 2 اور اپنے خادموں سے کہا:‏ ”‏یہی یوحنا ہے جو بپتسمہ دیا کرتا تھا۔ وہ مُردوں میں سے زندہ ہو گیا ہے اور اِس لیے وہ یہ سب معجزے کر رہا ہے۔“‏ 3 دراصل ہیرودیس*‏ نے یوحنا کو گِرفتار کِیا تھا اور اُن کو زنجیروں میں جکڑ کر قیدخانے میں ڈال دیا تھا۔ یہ سب کچھ ہیرودیس کے بھائی فِلپّس کی بیوی ہیرودیاس کی وجہ سے ہوا تھا 4 کیونکہ یوحنا نے ہیرودیس سے بار بار کہا تھا کہ ”‏اِس عورت سے شادی کرنا آپ کے لیے جائز نہیں۔“‏ 5 ہیرودیس، یوحنا کو مار ڈالنا چاہتا تھا لیکن وہ لوگوں سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ یوحنا کو نبی مانتے تھے۔ 6 ایک دن جب ہیرودیس اپنی سالگرہ منا رہا تھا تو ہیرودیاس کی بیٹی محفل میں اِتنا اچھا ناچی کہ وہ خوش ہو گیا 7 اور اُس نے لڑکی سے وعدہ کِیا کہ وہ جو کچھ بھی مانگے گی، اُسے دیا جائے گا۔ 8 لڑکی نے اپنی ماں کے اُکسانے پر ہیرودیس سے کہا:‏ ”‏مجھے اِسی وقت یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں چاہیے۔“‏ 9 یہ سُن کر ہیرودیس کو دُکھ تو ہوا لیکن اُس نے اپنے وعدے اور مہمانوں کی وجہ سے حکم دیا کہ لڑکی کی فرمائش پوری کی جائے۔ 10 اُس نے سپاہی بھیجے اور قیدخانے میں یوحنا کا سر قلم کروا دیا۔ 11 سپاہیوں نے یوحنا کا سر ایک تھال میں رکھ کر لڑکی کو دیا اور لڑکی نے اِسے اپنی ماں کو دے دیا۔ 12 بعد میں یوحنا کے شاگرد وہاں آئے اور اُن کی لاش کو لے جا کر دفنا دیا۔ پھر اُنہوں نے یسوع کو اِس واقعے کی خبر دی۔ 13 یہ خبر سُن کر یسوع ایک کشتی پر سوار ہوئے اور ایک ویران جگہ کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ تنہائی میں کچھ وقت گزار سکیں۔ جب لوگوں کو یہ پتہ چلا تو وہ شہروں سے نکل کر پیدل اُس جگہ کی طرف چل پڑے جہاں یسوع جا رہے تھے۔‏

14 جب یسوع جھیل کے کنارے پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ جمع ہیں۔ یسوع کو اُن پر ترس آیا اور اُنہوں نے اُن لوگوں کو ٹھیک کر دیا جو بیمار تھے۔ 15 جب شام ہوئی تو شاگردوں نے آ کر یسوع سے کہا:‏ ”‏یہ جگہ سنسان ہے اور رات ہونے والی ہے۔ لوگوں کو آس‌پاس کے گاؤں میں بھیج دیں تاکہ وہ اپنے لیے کھانا خرید سکیں۔“‏ 16 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اُنہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ اُن کو کھانا دیں۔“‏ 17 اِس پر شاگردوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے پاس تو بس پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔“‏ 18 یسوع نے کہا:‏ ”‏اِن چیزوں کو میرے پاس لائیں۔“‏ 19 پھر اُنہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ گھاس پر بیٹھ جائیں۔ اِس کے بعد یسوع نے اُن پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو لیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا کی۔ پھر اُنہوں نے روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگردوں نے اِن کو لوگوں میں تقسیم کِیا 20 اور سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ بعد میں جب شاگردوں نے روٹیوں کے بچے ہوئے ٹکڑے جمع کیے تو اِن سے 12 ٹوکرے بھر گئے 21 حالانکہ اُس موقعے پر 5000 آدمیوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں نے بھی کھانا کھایا تھا۔ 22 لوگوں کو کھانا کھلانے کے فوراً بعد یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے اُس پار جائیں، مَیں بعد میں آؤں گا۔“‏ پھر یسوع نے لوگوں کو وہاں سے رُخصت کِیا۔‏

23 اِس کے بعد یسوع دُعا کرنے کے لیے پہاڑ پر گئے۔ جب شام ہوئی تو وہ پہاڑ پر اکیلے تھے۔ 24 تب شاگردوں کی کشتی کنارے سے کئی سو گز*‏ کے فاصلے پر تھی اور وہ اِسے بڑی مشکل سے چلا رہے تھے کیونکہ لہریں کافی اُونچی تھیں اور ہوا کا رُخ اُن کے خلاف تھا۔ 25 رات کے چوتھے پہر*‏ یسوع جھیل پر چل کر کشتی کے نزدیک پہنچے۔ 26 جب شاگردوں نے یہ دیکھا تو وہ گھبرا گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏وہ کیا آ رہا ہے؟“‏*‏ پھر وہ ڈر کے مارے چلّانے لگے۔ 27 لیکن یسوع نے فوراً اُن سے کہا:‏ ”‏ڈریں مت!‏ حوصلہ رکھیں، مَیں ہوں!‏“‏ 28 اِس پر پطرس نے کہا:‏ ”‏مالک!‏ اگر واقعی آپ ہیں تو مجھے حکم دیں کہ مَیں پانی پر چل کر آپ کے پاس آؤں۔“‏ 29 یسوع نے کہا:‏ ”‏آئیں!‏“‏ پطرس کشتی سے اُترے اور پانی پر چل کر یسوع کی طرف جانے لگے۔ 30 لیکن جب اُنہوں نے طوفان کی شدت کو دیکھا تو وہ ڈر گئے اور ڈوبنے لگے۔ تب وہ چلّائے:‏ ”‏مالک!‏ مجھے بچائیں!‏“‏ 31 یسوع نے فوراً اپنا ہاتھ بڑھایا اور اُن کو پکڑ لیا۔ پھر اُنہوں نے پطرس سے کہا:‏ ”‏آپ کا ایمان کمزور کیوں ہے؟ آپ نے شک کیوں کِیا؟“‏ 32 جب وہ دونوں کشتی پر سوار ہو گئے تو طوفان ختم ہو گیا۔ 33 پھر شاگردوں نے یسوع کی تعظیم کی*‏ اور کہا:‏ ”‏آپ واقعی خدا کے بیٹے ہیں!‏“‏ 34 آخر وہ جھیل کو پار کر کے گنیسرت کے علاقے میں پہنچے۔‏

35 جب وہاں کے لوگوں نے یسوع کو پہچان لیا تو اُنہوں نے سارے علاقے میں اِس کی اِطلاع کر دی۔ پھر لوگ بیماروں کو یسوع کے پاس لائے 36 اور اُنہوں نے یسوع سے اِلتجا کی کہ ”‏ہمیں بس اپنی چادر کی جھالر کو چُھونے دیں۔“‏ اور جس جس نے اُن کی چادر کو چُھوا، وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔‏

15 پھر یروشلیم سے کچھ فریسی اور شریعت کے عالم، یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ 2 ‏”‏تمہارے شاگرد ہمارے باپ‌دادا کی روایتوں کو کیوں توڑتے ہیں؟ مثال کے طور پر وہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہیں دھوتے۔“‏*‏

3 یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏آپ یہ بتائیں کہ آپ اپنی روایتوں کی خاطر خدا کے حکموں کو کیوں توڑتے ہیں؟ 4 مثال کے طور پر خدا نے کہا ہے:‏ ”‏اپنے ماں باپ کی عزت کرو“‏ اور ”‏جو اپنے ماں باپ کی بے‌عزتی کرے، اُسے مار ڈالا جائے۔“‏ 5 لیکن آپ کہتے ہیں کہ ”‏اگر ایک شخص اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ ”‏جن چیزوں کے ذریعے مَیں آپ کی مدد کر سکتا ہوں، وہ مَیں نے خدا کے لیے مخصوص کر دی ہیں“‏ 6 تو اُسے اپنے ماں باپ کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“‏ یوں آپ نے اپنی روایتوں کے ذریعے خدا کے کلام کو بے‌اثر کر دیا ہے۔ 7 ریاکارو!‏ یسعیاہ نبی نے تمہارے بارے میں بالکل صحیح پیش‌گوئی کی تھی کہ 8 ‏”‏یہ لوگ مُنہ سے تو میری عزت کرتے ہیں لیکن اِن کے دل مجھ سے بہت دُور ہیں۔ 9 یہ فضول میں میری عبادت کرتے ہیں کیونکہ اِنہوں نے اپنی مذہبی تعلیمات کی بنیاد اِنسانوں کے حکموں پر رکھی ہے۔“‏ “‏ 10 پھر یسوع نے لوگوں کو پاس بلا‌یا اور اُن سے کہا:‏ ”‏اِس بات کو سنیں اور اِس کا مطلب سمجھیں:‏ 11 جو چیزیں ایک شخص کے مُنہ میں جاتی ہیں، وہ اُسے ناپاک نہیں کرتیں بلکہ جو چیزیں اُس کے مُنہ سے نکلتی ہیں، وہ اُسے ناپاک کرتی ہیں۔“‏

12 اِس کے بعد شاگرد یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏کیا آپ کو پتہ ہے کہ فریسیوں کو آپ کی باتیں بُری لگی ہیں؟“‏ 13 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏جس پودے کو میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا، اُسے اُکھاڑا جائے گا۔ 14 اُنہیں چھوڑیں۔ وہ اندھے رہنما ہیں۔ اگر ایک اندھا، دوسرے اندھے کی رہنمائی کرے گا تو وہ دونوں گڑھے میں گِر جائیں گے۔“‏ 15 اِس پر پطرس نے کہا:‏ ”‏ہمیں اُس بات کا مطلب سمجھائیں جو آپ نے کہی تھی۔“‏ 16 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ ابھی تک نہیں سمجھ پائے؟ 17 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جو بھی چیز اِنسان کے مُنہ میں جاتی ہے، وہ اُس کے پیٹ میں جاتی ہے اور پھر نکل کر گندے پانی کی نالی میں چلی جاتی ہے؟ 18 لیکن جو چیزیں اِنسان کے مُنہ سے نکلتی ہیں، وہ دل سے آتی ہیں اور وہی اِنسان کو ناپاک کرتی ہیں۔ 19 مثال کے طور پر بُری سوچ دل سے آتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے:‏ قتل، زِناکاری، حرام‌کاری،‏*‏ چوری، جھوٹی گواہی اور کفر۔ 20 یہی چیزیں اِنسان کو ناپاک کرتی ہیں لیکن ہاتھ دھوئے بغیر*‏ کھانا کھانے سے اِنسان ناپاک نہیں ہوتا۔“‏

21 وہاں سے نکل کر یسوع صور اور صیدا کے علاقے میں گئے۔ 22 اور دیکھو!‏ اُس علاقے کی ایک فینیکی عورت آئی اور چلّانے لگی:‏ ”‏مالک!‏ داؤد کے بیٹے!‏ مجھ پر رحم کریں، میری بیٹی کی حالت بہت خراب ہے کیونکہ اُس پر ایک بُرے فرشتے کا سایہ ہے۔“‏ 23 لیکن یسوع نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اِس لیے شاگرد اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یہ عورت تو ہمارے پیچھے پڑ گئی ہے۔ اِس سے کہیں کہ یہاں سے چلی جائے۔“‏ 24 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏خدا نے مجھے صرف اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا ہے، کسی اَور کے پاس نہیں۔“‏ 25 لیکن وہ عورت اُن کے پاس آئی اور اُن کی تعظیم کر کے*‏ کہنے لگی:‏ ”‏مالک!‏ میری مدد کریں۔“‏ 26 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏یہ مناسب نہیں کہ بچوں کی روٹی لے کر پِلّوں کے آگے ڈال دی جائے۔“‏ 27 اُس عورت نے کہا:‏ ”‏مالک، آپ صحیح کہہ رہے ہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ پِلے روٹی کے وہ ٹکڑے کھاتے ہیں جو اُن کے مالکوں کی میز سے گِرتے ہیں۔“‏ 28 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏بی‌بی، آپ کا ایمان بہت مضبوط ہے۔ جیسا آپ چاہتی ہیں، ویسا ہی ہو۔“‏ اور اُسی وقت اُس کی بیٹی ٹھیک ہو گئی۔‏

29 وہاں سے یسوع گلیل کی جھیل کے پاس آئے اور ایک پہاڑ پر جا کر بیٹھ گئے۔ 30 پھر بہت سے لوگ اُن کے پاس آئے۔ وہ لنگڑے، اپاہج، اندھے، گونگے اور بہت سے بیمار لوگوں کو ساتھ لائے اور اُنہیں یسوع کے قدموں میں لِٹا دیا اور یسوع نے اُن سب کو ٹھیک کر دیا۔ 31 جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے بول رہے ہیں، اپاہج ٹھیک ہو رہے ہیں، لنگڑے چل پھر رہے ہیں اور اندھے دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت حیران ہوئے اور اِسرائیل کے خدا کی بڑائی کرنے لگے۔‏

32 اِس کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلا کر اُن سے کہا:‏ ”‏مجھے اِن سب لوگوں پر ترس آ رہا ہے کیونکہ یہ تین دن سے میرے ساتھ ہیں اور اِنہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ مَیں اِنہیں خالی پیٹ رُخصت نہیں کرنا چاہتا۔ یہ نہ ہو کہ وہ راستے میں گِر جائیں۔“‏ 33 شاگردوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏یہ جگہ بہت سنسان ہے۔ ہم اِتنے زیادہ لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روٹیاں کہاں سے لائیں گے؟“‏ 34 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ کے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہمارے پاس سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ہیں۔“‏ 35 پھر یسوع نے لوگوں سے کہا کہ وہ زمین پر بیٹھ جائیں۔ 36 اِس کے بعد اُنہوں نے سات روٹیوں اور مچھلیوں کو لیا اور دُعا کی۔ پھر اُنہوں نے روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگردوں نے اِنہیں لوگوں میں تقسیم کِیا 37 اور سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ بعد میں جب شاگردوں نے روٹیوں کے بچے ہوئے ٹکڑے جمع کیے تو اِن سے سات ٹوکرے بھر گئے 38 حالانکہ اُس موقعے پر 4000 آدمیوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں نے بھی کھانا کھایا تھا۔ 39 پھر یسوع نے لوگوں کو بھیج دیا اور خود کشتی پر سوار ہو کر مگدن کے علاقے میں آئے۔‏

16 وہاں فریسی فرقے اور صدوقی فرقے کے رُکن یسوع کے پاس آئے اور اُن کا اِمتحان لینے کے لیے کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں آسمان سے کوئی نشانی دِکھاؤ۔“‏ 2 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏جب شام ہوتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ ”‏موسم اچھا رہے گا کیونکہ آسمان لال سُرخ ہے“‏ 3 اور جب صبح ہوتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ ”‏آج ٹھنڈ ہوگی اور بارش ہوگی کیونکہ آسمان لال سُرخ ہے لیکن بادل بھی ہیں۔“‏ آپ آسمان کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ موسم کیسا ہوگا لیکن آپ زمانے کی نشانیاں نہیں پہچان پاتے۔ 4 یہ بُری اور بے‌وفا*‏ پُشت نشانیاں مانگتی ہے لیکن اِسے یُوناہ والی نشانی کے سوا کوئی اَور نشانی نہیں دِکھائی جائے گی۔“‏ یہ کہہ کر یسوع اُن کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔‏

5 پھر شاگرد جھیل کے پار جانے کے لیے روانہ ہوئے لیکن وہ اپنے ساتھ روٹی لے جانا بھول گئے۔ 6 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اپنی آنکھیں کُھلی رکھیں اور فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے خبردار رہیں۔“‏ 7 اِس پر شاگرد ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏کہیں وہ اِس لیے تو ایسا نہیں کہہ رہے کیونکہ ہم روٹیاں لانا بھول گئے ہیں۔“‏ 8 یہ جان کر یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ لوگوں کا ایمان کمزور کیوں ہے؟ آپ اِس بات کی فکر کیوں کر رہے ہیں کہ آپ روٹیاں ساتھ لانا بھول گئے ہیں؟ 9 کیا آپ ابھی بھی نہیں سمجھے کہ مَیں کس بارے میں بات کر رہا ہوں؟ یاد نہیں کہ جب 5000 آدمی، پانچ روٹیوں سے سیر ہوئے تھے تو آپ نے بعد میں کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟ 10 اور جب 4000 آدمی، سات روٹیوں سے سیر ہوئے تھے تو آپ نے کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟ 11 پھر آپ یہ کیوں نہیں سمجھے کہ مَیں روٹیوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا بلکہ یہ کہہ رہا تھا کہ فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے خبردار رہیں؟“‏ 12 تب وہ سمجھ گئے کہ یسوع اُس خمیر کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے جو روٹی میں اِستعمال ہوتا ہے بلکہ فریسیوں اور صدوقیوں کی تعلیم کے بارے میں۔‏

13 جب یسوع قیصریہ فِلپّی کے علاقے میں پہنچے تو اُنہوں نے شاگردوں سے پوچھا:‏ ”‏لوگوں کے خیال میں اِنسان کا بیٹا*‏ کون ہے؟“‏ 14 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ ایلیاہ نبی ہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ یرمیاہ ہے یا دوسرے نبیوں میں سے ایک۔“‏ 15 یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏اور آپ کے خیال میں مَیں کون ہوں؟“‏ 16 شمعون پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏آپ مسیح ہیں یعنی زندہ خدا کے بیٹے۔“‏ 17 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏خوش ہوں، یُوناہ کے بیٹے شمعون!‏ کیونکہ یہ بات آپ پر کسی اِنسان نے ظاہر نہیں کی بلکہ میرے آسمانی باپ نے۔ 18 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ پطرس ہیں اور مَیں اِس چٹان پر اپنی کلیسیا*‏ بناؤں گا اور اُس پر موت*‏ غالب نہیں آئے گی۔ 19 مَیں آپ کو آسمان کی بادشاہت کی چابیاں دوں گا اور جو کچھ آپ زمین پر باندھیں گے، وہ پہلے سے آسمان پر باندھا جا چُکا ہوگا اور جو کچھ آپ زمین پر کھولیں گے، وہ پہلے سے آسمان پر کھولا جا چُکا ہوگا۔“‏ 20 پھر یسوع نے شاگردوں کو تاکید کی:‏ ”‏کسی کو نہ بتانا کہ مَیں مسیح ہوں۔“‏

21 اُس وقت سے یسوع اپنے بارے میں شاگردوں کو بتانے لگے کہ اُن کو یروشلیم جانا پڑے گا جہاں بزرگ اور اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم اُن پر اذیت ڈھائیں گے اور پھر اُنہیں مار ڈالا جائے گا اور تیسرے دن زندہ کِیا جائے گا۔ 22 یہ سُن کر پطرس اُن کو ایک طرف لے جا کر جھڑکنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏مالک!‏ خود پر رحم کریں۔ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔“‏ 23 لیکن یسوع نے پطرس کی طرف پیٹھ پھیر کر کہا:‏ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، شیطان!‏ تُم میری راہ میں رُکاوٹ بن رہے ہو کیونکہ تُم خدا کی سوچ نہیں بلکہ اِنسان کی سوچ رکھتے ہو۔“‏

24 پھر یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏اگر کوئی میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتا ہے تو اپنے لیے جینا چھوڑ دے اور اپنی سُولی*‏ اُٹھائے اور میری پیروی کرتا رہے 25 کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے، وہ اِسے کھو دے گا لیکن جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے، وہ اِسے بچا لے گا۔ 26 اگر ایک آدمی پوری دُنیا حاصل کر لے لیکن اپنی جان کھو دے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ آخر ایک آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے سکتا ہے؟ 27 کیونکہ اِنسان کا بیٹا اپنے فرشتوں کو لے کر اپنے باپ کی شان کے ساتھ آئے گا اور ہر ایک کو اُس کے چال‌چلن کے مطابق بدلہ دے گا۔ 28 مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو موت کا مزہ چکھنے سے پہلے اِنسان کے بیٹے کو اُس کی بادشاہت میں ضرور دیکھیں گے۔“‏

17 چھ دن بعد یسوع نے پطرس، یعقوب اور اُن کے بھائی یوحنا کو ساتھ لیا اور ایک اُونچے پہاڑ پر گئے۔ 2 وہاں اُن کے دیکھتے دیکھتے یسوع کی صورت بدل گئی اور اُن کا چہرہ سورج کی طرح روشن ہو گیا اور اُن کے کپڑے روشنی کی طرح سفید ہو گئے۔ 3 اور دیکھو!‏ شاگردوں کو موسیٰ اور ایلیاہ دِکھائی دیے جو یسوع سے باتیں کر رہے تھے۔ 4 یہ دیکھ کر پطرس، یسوع سے کہنے لگے:‏ ”‏مالک، کتنی اچھی بات ہے کہ ہم یہاں پر ہیں!‏ اگر آپ چاہیں تو مَیں تین خیمے کھڑے کر دوں، ایک آپ کے لیے، ایک موسیٰ کے لیے اور ایک ایلیاہ کے لیے۔“‏ 5 ابھی پطرس یہ کہہ ہی رہے تھے کہ دیکھو!‏ ایک سفید بادل اُن سب پر چھا گیا اور دیکھو!‏ بادل سے آواز آئی کہ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔ اِس کی سنو۔“‏ 6 یہ سُن کر شاگرد بہت ڈر گئے اور مُنہ کے بل گِر گئے۔ 7 پھر یسوع اُن کے پاس آئے اور اُن کو چُھو کر کہنے لگے:‏ ”‏اُٹھیں، ڈریں مت۔“‏ 8 جب اُنہوں نے نظریں اُٹھائیں تو دیکھا کہ یسوع کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔ 9 پھر جب وہ پہاڑ سے نیچے اُتر رہے تھے تو یسوع نے اُن کو حکم دیا کہ ”‏اِس رُویا کے بارے میں اُس وقت تک کسی کو نہ بتانا جب تک کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو مُردوں میں سے زندہ نہ کِیا جائے۔“‏

10 لیکن شاگردوں نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏تو پھر شریعت کے عالم کیوں کہتے ہیں کہ پہلے ایلیاہ کا آنا ضروری ہے؟“‏ 11 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏ایلیاہ ضرور آئیں گے اور سب کچھ بحال کریں گے۔ 12 مگر مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ ایلیاہ تو آ چکے ہیں لیکن اُنہوں نے ایلیاہ کو نہیں پہچانا اور اُن کے ساتھ جو چاہا، وہ کِیا۔ اِسی طرح اِنسان کا بیٹا بھی اُن کے ہاتھوں اذیت اُٹھائے گا۔“‏ 13 تب شاگرد سمجھ گئے کہ یسوع، یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بات کر رہے ہیں۔‏

14 جب وہ لوگوں کی بِھیڑ کے پاس پہنچے تو ایک آدمی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل گِر کر کہنے لگا:‏ 15 ‏”‏مالک، میرے بیٹے پر رحم کریں!‏ وہ مرگی کا مریض ہے اور بہت بیمار ہے۔ وہ اکثر آگ اور پانی میں گِر پڑتا ہے۔ 16 مَیں اُسے آپ کے شاگردوں کے پاس لایا تھا لیکن وہ اُسے ٹھیک نہیں کر سکے۔“‏ 17 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏ایمان سے خالی اور بگڑی ہوئی پُشت!‏ مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا پڑے گا اور تمہیں برداشت کرنا پڑے گا؟ لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔“‏ 18 پھر یسوع نے بُرے فرشتے کو ڈانٹا اور وہ اُس لڑکے میں سے نکل گیا اور لڑکا اُسی وقت ٹھیک ہو گیا۔ 19 بعد میں شاگرد اکیلے میں یسوع کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:‏ ”‏ہم اُس بُرے فرشتے کو کیوں نہیں نکال سکے؟“‏ 20 یسوع نے کہا:‏ ”‏کیونکہ آپ کا ایمان کمزور ہے۔ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر آپ میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہے تو آپ اِس پہاڑ سے کہیں گے کہ ”‏یہاں سے وہاں چلا جا“‏ اور یہ چلا جائے گا اور آپ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہوگا۔“‏ 21 ‏—‏*‏

22 جب وہ گلیل میں اِکٹھے تھے تو یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏اِنسان کے بیٹے سے غداری کی جائے گی اور اُسے دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے گا 23 اور وہ اُسے مار ڈالیں گے لیکن تیسرے دن اُسے زندہ کِیا جائے گا۔“‏ یہ سُن کر شاگرد بہت غمگین ہوئے۔‏

24 جب وہ کفرنحوم پہنچے تو ہیکل*‏ کا ٹیکس*‏ وصول کرنے والے آدمی پطرس کے پاس آئے اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ کے اُستاد ہیکل کا ٹیکس نہیں دیتے؟“‏ 25 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏دیتے ہیں۔“‏ لیکن جیسے ہی پطرس گھر میں داخل ہوئے تو یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏شمعون، آپ کے خیال میں دُنیا کے بادشاہ کس سے ٹیکس وصول کرتے ہیں؟ اپنے بیٹوں سے یا اجنبیوں سے؟“‏ 26 پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏اجنبیوں سے۔“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر بیٹوں پر ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔ 27 لیکن ہم اُن آدمیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ اِس لیے جھیل پر جائیں اور مچھلی کا کانٹا لگائیں اور جو مچھلی سب سے پہلے کانٹے میں پھنسے، اُس کا مُنہ کھولیں۔ اُس میں آپ کو چاندی کا ایک سکہ*‏ ملے گا۔ وہ لا کر اپنے اور میرے حصے کا ٹیکس ادا کریں۔“‏

18 اُس وقت شاگرد یسوع کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ ”‏آسمان کی بادشاہت میں کون سب سے بڑا ہے؟“‏ 2 اِس پر یسوع نے ایک چھوٹے بچے کو پاس بلا‌یا، اُسے اُن کے بیچ میں کھڑا کِیا 3 اور کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی سوچ بدل کر چھوٹے بچوں کی طرح نہیں بنیں گے تو آپ آسمان کی بادشاہت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔ 4 اِس لیے جو شخص اِس چھوٹے بچے کی طرح خاکسار بنے گا، وہی آسمان کی بادشاہت میں سب سے بڑا ہے۔ 5 اور جو شخص کسی ایسے بچے کو میری خاطر قبول کرتا ہے، وہ مجھے بھی قبول کرتا ہے۔ 6 لیکن اگر ایک شخص اِن چھوٹوں میں سے جو مجھ پر ایمان لائے ہیں، کسی کو گمراہ کرے تو بہتر ہوگا کہ اُس کے گلے میں ایک ایسی چکی کا پاٹ ڈالا جائے جسے گدھے کھینچتے ہیں اور پھر اُسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔‏

7 دُنیا پر افسوس کیونکہ یہ گمراہ کرتی ہے۔ ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو دوسروں کو گمراہ کریں گے لیکن گمراہ کرنے والوں کا بہت بُرا حشر ہوگا۔ 8 اگر آپ کا ہاتھ یا پاؤں آپ کو گمراہ کر رہا ہے تو اِسے کاٹ کر پھینک دیں۔ دونوں ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ ابدی آگ میں پھینکے جانے سے بہتر ہے کہ آپ معذور ہو کر زندگی حاصل کریں۔ 9 اور اگر آپ کی آنکھ آپ کو گمراہ کر رہی ہے تو اِسے نکال کر پھینک دیں۔ دونوں آنکھوں کے ساتھ ہنوم کی وادی*‏ کی آگ میں جھونکے جانے سے بہتر ہے کہ آپ ایک آنکھ کے ساتھ زندگی حاصل کریں۔ 10 دھیان رکھیں کہ آپ اِن چھوٹوں میں سے کسی کو کم‌تر خیال نہ کریں کیونکہ مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اُن کے فرشتے آسمان پر ہر وقت میرے آسمانی باپ کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ 11 ‏—‏*‏

12 فرض کریں کہ ایک آدمی کی 100 بھیڑیں ہیں اور اُن میں سے ایک راستہ بھٹک گئی ہے۔ کیا وہ آدمی اپنی 99 (‏ننانوے)‏ بھیڑوں کو وہیں پہاڑوں پر نہیں چھوڑے گا اور اپنی کھوئی ہوئی بھیڑ کو ڈھونڈنے نہیں جائے گا؟ 13 یقین مانیں کہ اگر اُس کو وہ بھیڑ مل جائے تو وہ اُن 99 (‏ننانوے)‏ بھیڑوں پر اِتنی خوشی نہیں کرے گا جتنی کہ اُس بھٹکی ہوئی بھیڑ کو پانے پر۔ 14 اِسی طرح میرا*‏ آسمانی باپ بھی نہیں چاہتا کہ اِن چھوٹوں میں سے ایک بھی ہلاک ہو جائے۔‏

15 اگر آپ کا بھائی آپ کے خلاف گُناہ کرتا ہے تو اکیلے میں جا کر اُسے اُس کی غلطی سے آگاہ کریں۔‏*‏ اگر وہ آپ کی بات مان لیتا ہے تو آپ اپنے بھائی کو سیدھی راہ پر واپس لے آئے ہیں۔ 16 لیکن اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتا تو ایک دو اَور لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ دو یا تین گواہوں کی گواہی سے معاملہ ثابت ہو جائے۔ 17 اگر وہ اُن کی بھی نہ مانے تو کلیسیا*‏ سے بات کریں۔ اگر وہ کلیسیا کی بھی نہ مانے تو اُس کو غیریہودی*‏ سمجھیں اور اُسے ٹیکس وصول کرنے والے کی طرح خیال کریں۔‏

18 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ آپ زمین پر باندھیں گے، وہ پہلے سے آسمان پر باندھا جا چُکا ہوگا اور جو کچھ آپ زمین پر کھولیں گے، وہ پہلے سے آسمان پر کھولا جا چُکا ہوگا۔ 19 مَیں آپ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر آپ میں سے دو لوگ کسی اہم معاملے کے بارے میں دُعا کرنے پر متفق ہیں تو میرا آسمانی باپ اُن کی دُعا پوری کرے گا 20 کیونکہ جہاں دو یا تین لوگ میرے نام سے جمع ہوتے ہیں وہاں مَیں بھی اُن کے ساتھ ہوتا ہوں۔“‏

21 پھر پطرس نے آ کر یسوع سے کہا:‏ ”‏مالک، اگر میرا بھائی میرے خلاف گُناہ کرتا رہے تو مجھے کتنی بار اُس کے گُناہ معاف کرنے چاہئیں؟ سات بار؟“‏ 22 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے کہتا ہوں سات بار نہیں بلکہ 77 (‏ستتر)‏ بار۔‏

23 لہٰذا آسمان کی بادشاہت ایک ایسے بادشاہ کی طرح ہے جو اپنے غلاموں سے قرض کا حساب لینا چاہتا تھا۔ 24 جب وہ حساب لے رہا تھا تو ایک غلام کو اُس کے سامنے پیش کِیا گیا جس پر 6 کروڑ دینار*‏ کا قرضہ تھا۔ 25 لیکن وہ غلام قرض ادا نہیں کر سکتا تھا اِس لیے بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے اور اُس کے بیوی بچوں اور اُس کے سارے مال کو بیچ دیا جائے تاکہ قرض وصول کِیا جا سکے۔ 26 یہ سُن کر غلام نے بادشاہ کے سامنے گھٹنوں کے بل گِر کر کہا:‏ ”‏مالک!‏ مجھے مہلت دیں۔ مَیں سارا قرض ادا کر دوں گا۔“‏ 27 اِس پر بادشاہ کو غلام پر ترس آ گیا اور اُس نے اُس کا قرضہ معاف کر دیا۔ 28 لیکن جب وہ غلام باہر گیا تو اُسے ایک ہم‌خدمت ملا جس نے اُس کے 100 دینار دینے تھے۔ وہ اِس ہم‌خدمت کو پکڑ کر اِس کا گلا دبانے لگا اور کہنے لگا کہ ”‏میرے پیسے واپس کر۔“‏ 29 یہ سُن کر اُس کا ہم‌خدمت گھٹنوں کے بل گِر پڑا اور مِنت کرنے لگا:‏ ”‏مجھے مہلت دو۔ مَیں سارا قرض ادا کر دوں گا۔“‏ 30 لیکن اُس غلام نے اُس کی ایک نہ سنی اور اُسے قیدخانے میں بند کروا دیا جب تک کہ وہ سارا قرض ادا نہ کر دے۔ 31 جب اُس غلام کے باقی ہم‌خدمتوں نے یہ دیکھا تو اُنہیں بہت دُکھ ہوا اور اُنہوں نے جا کر ساری بات بادشاہ کو بتا دی۔ 32 بادشاہ نے اُس غلام کو بلوایا اور اُس سے کہا:‏ ”‏گھٹیا غلام!‏ جب تُم نے مجھ سے مِنت کی تو مَیں نے تمہارا سارا قرضہ معاف کر دیا۔ 33 اگر مَیں نے تُم پر رحم کِیا تھا تو کیا تمہیں اپنے ہم‌خدمت پر رحم نہیں کرنا چاہیے تھا؟“‏ 34 بادشاہ کو اُس غلام پر سخت غصہ آیا اور اُس نے اُسے سپاہیوں کے حوالے کر دیا اور اُس وقت تک قیدخانے میں ڈلوا دیا جب تک کہ وہ سارا قرض ادا نہ کر دے۔ 35 لہٰذا اگر آپ ایک دوسرے کو دل سے معاف نہیں کریں گے تو میرا آسمانی باپ بھی آپ کے ساتھ اِسی طرح پیش آئے گا۔“‏

19 جب یسوع یہ باتیں ختم کر چکے تو وہ گلیل سے دریائے‌اُردن کے پار، یہودیہ کے سرحدی علاقوں میں گئے۔ 2 لوگوں کی بِھیڑ اُن کے پیچھے پیچھے وہاں آئی اور یسوع نے بیماروں کو ٹھیک کِیا۔‏

3 پھر فریسی اُن کے پاس آئے اور اُن کا اِمتحان لینے کے لیے پوچھا:‏ ”‏کیا اپنی بیوی کو کسی بھی وجہ سے طلاق دینا جائز ہے؟“‏ 4 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏کیا آپ نے نہیں پڑھا کہ جس نے اِنسانوں کو بنایا، اُس نے شروع سے اُنہیں مرد اور عورت بنایا 5 اور کہا:‏ ”‏اِس لیے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ دے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ جُڑا رہے گا اور وہ دونوں ایک بن جائیں گے“‏؟ 6 لہٰذا وہ دو نہیں رہے بلکہ ایک ہو گئے ہیں۔ اِس لیے جسے خدا نے جوڑا ہے، اُسے کوئی اِنسان جُدا نہ کرے۔“‏ 7 اِس پر فریسیوں نے کہا:‏ ”‏تو پھر موسیٰ نے یہ کیوں کہا تھا کہ بیوی کو طلاق‌نامہ دے کر چھوڑ دو؟“‏ 8 یسوع نے کہا:‏ ”‏موسیٰ نے آپ کی سنگ‌دلی کی وجہ سے آپ کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کی اِجازت دی لیکن شروع سے ایسا نہیں تھا۔ 9 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ جو شخص اپنی بیوی کو حرام‌کاری*‏ کے علاوہ کسی اَور وجہ سے طلاق دیتا ہے اور دوسری عورت سے شادی کرتا ہے، وہ زِنا کرتا ہے۔“‏

10 یہ سُن کر شاگردوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اگر ایسا ہے تو شادی ہی نہیں کرنی چاہیے۔“‏ 11 یسوع نے کہا:‏ ”‏ہر کوئی غیرشادی‌شُدہ نہیں رہ سکتا بلکہ صرف وہی جسے خدا ایسا کرنے کی طاقت*‏ بخشتا ہے۔ 12 کچھ لوگ پیدائشی طور پر نامرد ہیں یا پھر اُنہیں لوگوں نے نامرد بنا دیا ہے اور کچھ لوگ آسمان کی بادشاہت کی خاطر نامرد کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جو کوئی ایسا کر سکتا ہے، وہ ضرور کرے۔“‏

13 پھر لوگ چھوٹے بچوں کو یسوع کے پاس لائے تاکہ وہ اُن پر ہاتھ رکھیں اور دُعا کریں۔ لیکن شاگردوں نے اُن کو ڈانٹا۔ 14 مگر یسوع نے کہا:‏ ”‏بچوں کو میرے پاس آنے دیں، اُن کو نہ روکیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت ایسے لوگوں کی ہے جو اِن چھوٹے بچوں کی طرح ہیں۔“‏ 15 اِس کے بعد یسوع نے بچوں پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے چلے گئے۔‏

16 پھر دیکھو!‏ ایک آدمی یسوع کے پاس آیا اور پوچھنے لگا:‏ ”‏اُستاد، مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے کون سی اچھائیاں کرنی چاہئیں؟“‏ 17 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏آپ مجھ سے اچھائی کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟ صرف ایک ہی ہے جو اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حکموں پر عمل کرتے رہیں۔“‏ 18 اُس نے کہا:‏ ”‏کون سے حکموں پر؟“‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏قتل نہ کرو؛ زِنا نہ کرو؛ چوری نہ کرو؛ جھوٹی گواہی نہ دو؛ 19 ماں باپ کی عزت کرو اور اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“‏ 20 اُس جوان آدمی نے کہا:‏ ”‏اِن سب حکموں پر تو مَیں عمل کرتا ہوں۔ پھر مجھ میں کس بات کی کمی ہے؟“‏ 21 یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر آپ کامل بننا چاہتے ہیں تو جائیں، اپنا مال بیچ کر سارا پیسہ غریبوں کو دے دیں تاکہ آپ آسمان پر خزانہ جمع کریں۔ اور پھر میرے پیروکار بن جائیں۔“‏ 22 یہ سُن کر وہ جوان بہت دُکھی ہوا اور وہاں سے چلا گیا کیونکہ وہ بہت امیر تھا۔ 23 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ ایک امیر آدمی کے لیے آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہوگا۔ 24 مَیں پھر سے کہتا ہوں کہ ایک امیر آدمی کے لیے خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا اُتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک اُونٹ کے لیے سوئی کے ناکے میں سے گزرنا۔“‏

25 یہ سُن کر شاگرد بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏پھر کون نجات حاصل کر سکتا ہے؟“‏ 26 یسوع نے اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:‏ ”‏اِنسانوں کے لیے یہ ناممکن ہے لیکن خدا کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔“‏

27 تب پطرس نے کہا:‏ ”‏مالک!‏ ہم نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور آپ کے پیروکار بن گئے ہیں۔ ہمیں کیا ملے گا؟“‏ 28 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جب سب کچھ نیا بنایا جائے گا اور اِنسان کا بیٹا*‏ اپنے شان‌دار تخت پر بیٹھے گا تو آپ جو میری پیروی کر رہے ہیں، 12 تختوں پر بیٹھیں گے اور اِسرائیل کے 12 قبیلوں کا اِنصاف کریں گے۔ 29 اور جس شخص نے میری خاطر گھر، بہن بھائی، ماں باپ، بچے یا زمینیں چھوڑ دی ہیں، اُسے سو گُنا زیادہ ملے گا اور اُسے ورثے میں ہمیشہ کی زندگی بھی ملے گی۔‏

30 لیکن بہت سے لوگ جو پہلے ہیں، وہ آخری ہو جائیں گے اور جو آخری ہیں، وہ پہلے ہو جائیں گے۔‏

20 کیونکہ آسمان کی بادشاہت ایک زمین‌دار کی طرح ہے جو صبح سویرے اپنے انگوروں کے باغ کے لیے مزدور ڈھونڈنے نکلا۔ 2 جب اُس کو مزدور ملے تو اُس نے اُن کے ساتھ طے کِیا کہ وہ اُن کو پورے دن کے لیے ایک دینار مزدوری دے گا۔ پھر اُس نے اُن کو اپنے انگور کے باغ میں بھیج دیا۔ 3 جب زمین‌دار دن کے تیسرے گھنٹے*‏ باہر گیا تو اُس نے دیکھا کہ بازار میں کچھ آدمی کھڑے ہیں جن کے پاس کام نہیں ہے۔ 4 اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم بھی جا کر میرے انگوروں کے باغ میں کام کرو۔ مَیں تمہیں مناسب مزدوری دوں گا۔“‏ 5 وہ آدمی جا کر کام کرنے لگے۔ زمین‌دار نے دن کے چھٹے اور نویں گھنٹے*‏ بھی باہر جا کر ایسا ہی کِیا۔ 6 تقریباً گیارہویں گھنٹے*‏ وہ پھر باہر گیا اور اُس نے دیکھا کہ کچھ اَور لوگ فارغ کھڑے ہیں۔ اُس نے پوچھا:‏ ”‏تُم دن بھر فارغ کیوں کھڑے رہے؟“‏ 7 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کیونکہ کسی نے ہمیں کام پر نہیں لگایا۔“‏ زمین‌دار نے کہا:‏ ”‏تُم بھی جا کر میرے انگوروں کے باغ میں کام کرو۔“‏

8 جب شام ہوئی تو زمین‌دار نے اُس آدمی کو بلا‌یا جو کام کی نگرانی کر رہا تھا اور اُس سے کہا:‏ ”‏مزدوروں کو بلا کر مزدوری دے دو۔ سب سے پہلے اُن کو مزدوری دو جو آخر میں آئے تھے اور سب سے آخر میں اُن کو جو پہلے آئے تھے۔“‏ 9 جب گیارہویں گھنٹے والے مزدور آئے تو اُن کو ایک ایک دینار مزدوری ملی۔ 10 اِس لیے سب سے پہلے والے مزدوروں نے سوچا کہ اُن کو زیادہ مزدوری ملے گی۔ لیکن اُن کو بھی ایک دینار ملا۔ 11 یہ دیکھ کر وہ زمین‌دار کے خلاف بڑبڑانے لگے 12 اور کہنے لگے:‏ ”‏جو آخر میں آئے تھے، اُنہوں نے بس ایک گھنٹہ کام کِیا۔ پھر بھی آپ نے اُن کو اُتنی ہی مزدوری دی جتنی ہمیں دی حالانکہ ہم نے سارا دن تپتی دھوپ میں کام کِیا۔“‏ 13 لیکن زمین‌دار نے اُن میں سے ایک سے کہا:‏ ”‏دیکھو بھائی، مَیں تمہارے ساتھ نااِنصافی نہیں کر رہا۔ کیا ہم نے ایک دینار طے نہیں کِیا تھا؟ 14 اپنی مزدوری لو اور جاؤ۔ مَیں آخر میں آنے والے کو بھی اُتنی ہی مزدوری دینا چاہتا ہوں جتنی مَیں نے تمہیں دی ہے۔ 15 کیا مجھے حق نہیں کہ مَیں اپنی چیزوں کے ساتھ جو چاہے، کروں؟ یا کیا تُم جلتے ہو*‏ کیونکہ مَیں اچھا*‏ ہوں؟“‏ 16 اِسی طرح جو لوگ پہلے ہیں، وہ آخری ہو جائیں گے اور جو آخری ہیں، وہ پہلے ہو جائیں گے۔“‏

17 جب وہ یروشلیم جا رہے تھے تو یسوع نے 12 شاگردوں سے اکیلے میں کہا:‏ 18 ‏”‏دیکھیں!‏ ہم یروشلیم جا رہے ہیں۔ وہاں اِنسان کے بیٹے*‏ کو اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں کے حوالے کِیا جائے گا اور وہ اُس کو سزائے‌موت سنائیں گے 19 اور اُسے غیریہودیوں کے حوالے کریں گے جو اُس کا مذاق اُڑائیں گے، اُسے کوڑے لگوائیں گے اور سُولی*‏ پر چڑھائیں گے۔ لیکن تیسرے دن اُسے زندہ کِیا جائے گا۔“‏

20 پھر زبدی کی بیوی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ یسوع کے پاس آئی اور جھک کر اُن کی تعظیم کرنے لگی۔ دراصل وہ یسوع سے ایک درخواست کرنا چاہتی تھی۔ 21 یسوع نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏آپ کیا چاہتی ہیں؟“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏وعدہ کریں کہ میرے یہ بیٹے آپ کی بادشاہت میں آپ کی دائیں اور بائیں طرف بیٹھیں گے۔“‏ 22 اِس پر یسوع نے اُن دونوں بھائیوں سے کہا:‏ ”‏آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا مانگ رہے ہیں۔ کیا آپ وہ پیالہ پی سکتے ہیں جو مَیں پینے والا ہوں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی، ہم پی سکتے ہیں۔“‏ 23 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ وہ پیالہ ضرور پئیں گے جو مَیں پینے والا ہوں۔ لیکن یہ میرے ہاتھ میں نہیں کہ کون میری دائیں اور بائیں طرف بیٹھے گا بلکہ میرا باپ اِس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کون کہاں بیٹھے گا۔“‏

24 جب باقی دس شاگردوں نے یہ سنا تو وہ اُن دونوں بھائیوں پر غصہ کرنے لگے۔ 25 لیکن یسوع نے اُن سب کو پاس بلا کر کہا:‏ ”‏آپ جانتے ہیں کہ دُنیا کے حکمران لوگوں پر حکم چلاتے ہیں اور بڑے آدمی دوسروں پر اِختیار جتاتے ہیں۔ 26 مگر آپ کے درمیان ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جو آپ میں بڑا بننا چاہتا ہے، وہ آپ کا خادم بنے 27 اور جو آپ میں اوّل ہونا چاہتا ہے، وہ آپ کا غلام بنے، 28 بالکل ویسے ہی جیسے اِنسان کا بیٹا لوگوں سے خدمت لینے نہیں آیا بلکہ اِس لیے آیا کہ خدمت کرے اور بہت سے لوگوں کے لیے اپنی جان فدیے کے طور پر دے۔“‏

29 جب وہ یریحو سے نکل رہے تھے تو بہت سے لوگ یسوع کے پیچھے پیچھے آنے لگے۔ 30 اور دیکھو!‏ دو اندھے آدمی سڑک کے کنارے بیٹھے تھے۔ جب اُنہوں نے سنا کہ یسوع یہاں سے گزر رہے ہیں تو وہ چلّانے لگے:‏ ”‏مالک!‏ داؤد کے بیٹے!‏ ہم پر رحم کریں۔“‏ 31 لیکن لوگوں نے اُنہیں ٹوکا اور کہا:‏ ”‏چپ رہو!‏“‏ اِس پر وہ آدمی اَور بھی اُونچی آواز میں چلّانے لگے:‏ ”‏مالک!‏ داؤد کے بیٹے!‏ ہم پر رحم کریں۔“‏ 32 یسوع رُک گئے اور اُن آدمیوں کو پاس بلا کر کہنے لگے:‏ ”‏آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“‏ 33 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مالک، ہماری آنکھوں کو ٹھیک کر دیں۔“‏ 34 یسوع کو اُن پر بڑا ترس آیا اور اُنہوں نے اُن کی آنکھوں کو چُھوا۔ اور فوراً ہی اُن دونوں کو پھر سے دِکھائی دینے لگا اور وہ یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔‏

21 جب وہ یروشلیم کے قریب بیت‌فگے پہنچے جو کوہِ‌زیتون پر ہے، تو یسوع نے اپنے دو شاگردوں سے کہا:‏ 2 ‏”‏سامنے جو گاؤں ہے، اُس میں جائیں۔ وہاں آپ کو ایک گدھی اور اُس کا بچہ بندھا ہوا ملے گا۔ اُن دونوں کو کھول کر میرے پاس لائیں 3 اور اگر کوئی آپ سے کچھ پوچھے تو اُس سے کہیں:‏ ”‏مالک کو اِن کی ضرورت ہے۔“‏ تب وہ فوراً اُنہیں بھیج دے گا۔“‏

4 یسوع نے اِس لیے ایسا کِیا کہ وہ بات پوری ہو جو نبی کے ذریعے کہی گئی تھی کہ 5 ‏”‏صیون کی بیٹی کو بتاؤ:‏ ”‏دیکھ!‏ تیرا بادشاہ نرم‌مزاج ہے۔ وہ جوان گدھے یعنی گدھی کے بچے پر سوار ہو کر تیرے پاس آ رہا ہے۔“‏ “‏

6 لہٰذا شاگرد گئے اور بالکل ویسا ہی کِیا جیسا یسوع نے کہا تھا۔ 7 وہ گدھی اور اُس کے بچے کو یسوع کے پاس لائے اور شاگردوں نے اِن پر اپنی چادریں ڈالیں۔ پھر یسوع گدھی کے بچے پر سوار ہو گئے۔ 8 بہت سے لوگ اپنی چادریں راستے پر بچھا رہے تھے جبکہ دوسرے لوگ درختوں کی شاخیں کاٹ کاٹ کر راستے پر رکھ رہے تھے۔ 9 اور جو لوگ یسوع کے آگے اور پیچھے چل رہے تھے، وہ سب اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏داؤد کے بیٹے کو نجات دِلا!‏*‏ اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ*‏ کے نام سے آتا ہے!‏ اَے خدا، تُو جو آسمان پر ہے!‏ اُسے نجات دِلا!‏“‏

10 اور جب یسوع یروشلیم میں داخل ہوئے تو پورے شہر میں شور مچ گیا کہ ”‏یہ کون ہے؟“‏ 11 جو لوگ یسوع کے ساتھ تھے، اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ یسوع نبی ہیں جو گلیل کے شہر ناصرت سے ہیں۔“‏

12 پھر یسوع ہیکل*‏ میں گئے اور اُن لوگوں کو باہر نکال دیا جو وہاں خریدوفروخت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کی میزیں اور کبوتر بیچنے والوں کی چوکیاں اُلٹ دیں 13 اور اُن سے کہا:‏ ”‏صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏میرا گھر دُعا کا گھر کہلائے گا“‏ لیکن تُم اِسے ڈاکوؤں کا اڈا بنا رہے ہو۔“‏ 14 پھر کئی اندھے اور لنگڑے ہیکل میں یسوع کے پاس آئے اور یسوع نے اُن کو ٹھیک کر دیا۔‏

15 جب اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں نے دیکھا کہ یسوع اِتنے حیران‌کُن کام کر رہے ہیں اور لڑکے ہیکل میں چلّا رہے ہیں:‏ ”‏اَے خدا، داؤد کے بیٹے کو نجات دِلا!‏“‏ تو اُنہیں غصہ آیا 16 اور اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏کیا تُم سُن رہے ہو کہ یہ لڑکے کیا کہہ رہے ہیں؟“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏ہاں۔ کیا آپ نے کبھی یہ بات نہیں پڑھی کہ ”‏تُو نے چھوٹے اور دودھ پیتے بچوں کے مُنہ سے اپنی بڑائی کروائی“‏؟“‏ 17 پھر یسوع وہاں سے نکلے اور بیت‌عنیاہ میں آئے اور رات وہیں گزاری۔‏

18 صبح سویرے جب وہ یروشلیم واپس آ رہے تھے تو اُنہیں بھوک لگی۔ 19 راستے میں اُنہیں ایک اِنجیر کا درخت نظر آیا لیکن جب وہ اُس کے پاس گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اِس پر صرف پتے ہیں اور کوئی پھل نہیں ہے۔ اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اب سے تجھ پر کبھی پھل نہیں لگے گا۔“‏ اور اِنجیر کا درخت فوراً سُوکھ گیا۔ 20 جب شاگردوں نے یہ دیکھا تو وہ حیران ہو کر کہنے لگے:‏ ”‏یہ اِنجیر کا درخت اِتنی جلدی کیسے سُوکھ گیا؟“‏ 21 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر آپ میں ایمان ہے اور آپ شک نہیں کرتے تو آپ نہ صرف وہ کریں گے جو مَیں نے اِنجیر کے درخت کے ساتھ کِیا بلکہ اگر آپ اِس پہاڑ سے کہیں گے کہ ”‏اُٹھ اور سمندر میں چلا جا“‏ تو یہ چلا جائے گا۔ 22 اور اگر آپ کسی بھی چیز کے لیے ایمان کے ساتھ دُعا مانگیں گے تو وہ آپ کو ضرور ملے گی۔“‏

23 پھر یسوع ہیکل میں گئے اور جب وہ لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے تو اعلیٰ کاہن اور بزرگ اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏تمہارے پاس یہ سب کام کرنے کا اِختیار کہاں سے آیا؟ تمہیں کس نے یہ اِختیار دیا؟“‏ 24 یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏مَیں بھی آپ سے ایک بات پوچھوں گا۔ اگر آپ مجھے جواب دیں گے تو مَیں بھی آپ کو بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔ 25 مجھے بتائیں کہ یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اِختیار کس نے دیا تھا؟ خدا*‏ نے یا اِنسانوں نے؟“‏ لیکن وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ”‏اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏خدا نے“‏ تو یہ کہے گا:‏ ”‏تو پھر آپ اُس پر ایمان کیوں نہیں لائے؟“‏ 26 لیکن اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏اِنسانوں نے“‏ تو پتہ نہیں لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے کیونکہ وہ یوحنا کو نبی مانتے ہیں۔“‏ 27 اِس لیے اُنہوں نے یسوع کو جواب دیا:‏ ”‏ہمیں نہیں پتہ۔“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں بھی نہیں بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔‏

28 ذرا ایک مثال سنیں۔ ایک آدمی کے دو بیٹے تھے۔ وہ بڑے بیٹے کے پاس گیا اور اُس سے کہا:‏ ”‏بیٹا، جاؤ، آج انگوروں کے باغ میں کام کرو۔“‏ 29 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں نہیں جاؤں گا۔“‏ لیکن بعد میں اُسے افسوس ہوا اِس لیے وہ کام کرنے چلا گیا۔ 30 اُس آدمی نے چھوٹے بیٹے کے پاس جا کر اُسے بھی باغ میں کام کرنے کو کہا۔ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جی ابو، جاتا ہوں۔“‏ لیکن وہ نہیں گیا۔ 31 آپ کے خیال میں اُن دونوں میں سے کس نے اپنے باپ کی بات مانی؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏بڑے بیٹے نے۔“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ فاحشائیں اور ٹیکس وصول کرنے والے آپ سے پہلے خدا کی بادشاہت میں جائیں گے۔ 32 یوحنا آپ کو نیکی کی راہ دِکھانے آئے مگر آپ اُن پر ایمان نہیں لائے۔ لیکن فاحشائیں اور ٹیکس وصول کرنے والے اُن پر ایمان لائے۔ یہ دیکھ کر بھی آپ کو افسوس نہیں ہوا اور آپ یوحنا پر ایمان نہیں لائے۔‏

33 مَیں آپ کو ایک اَور مثال دیتا ہوں:‏ ایک آدمی نے انگوروں کا باغ لگایا اور اُس کے اِردگِرد باڑ لگائی۔ پھر اُس نے باغ میں ایک بُرج کھڑا کِیا اور انگور روندنے کے لیے ایک حوض بنایا۔ اِس کے بعد اُس نے باغ کاشت‌کاروں کو کرائے پر دیا اور خود پردیس چلا گیا۔ 34 جب انگوروں کا موسم آیا تو اُس نے اپنے غلاموں کو کاشت‌کاروں کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُس کا حصہ لے آئیں۔ 35 لیکن کاشت‌کاروں نے ایک غلام کو ماراپیٹا، دوسرے کو قتل کِیا اور تیسرے کو سنگسار کِیا۔ 36 پھر اُس آدمی نے پہلے سے زیادہ غلام بھیجے لیکن کاشت‌کاروں نے اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کِیا جیسا پہلے غلاموں کے ساتھ کِیا تھا۔ 37 آخرکار اُس نے یہ سوچ کر اپنے بیٹے کو بھیجا کہ ”‏وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔“‏ 38 جب کاشت‌کاروں نے بیٹے کو دیکھا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏یہی تو باغ کا وارث ہے۔ آؤ، اِس کو قتل کر دیں۔ پھر باغ*‏ ہمیں مل جائے گا۔“‏ 39 اِس لیے وہ اُس کو گھسیٹ کر باغ سے باہر لے گئے اور اُسے مار ڈالا۔ 40 اب جب باغ کا مالک آئے گا تو وہ اُن کاشت‌کاروں کے ساتھ کیا کرے گا؟“‏ 41 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏چونکہ وہ کاشت‌کار بُرے ہیں اِس لیے مالک اُن کو ہلاک کرے گا اور باغ ایسے کاشت‌کاروں کو دے گا جو انگوروں کے موسم میں اُس کو پھل دیں۔“‏

42 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ نے کبھی صحیفوں میں نہیں پڑھا کہ ”‏جس پتھر کو مزدوروں نے ٹھکرا دیا، وہ کونے کا سب سے اہم پتھر*‏ بن گیا۔ یہ پتھر یہوواہ*‏ کی طرف سے آیا اور ہماری نظر میں شان‌دار ہے“‏؟ 43 اِس لیے مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت آپ سے لے لی جائے گی اور اُس قوم کو دے دی جائے گی جو خدا کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔‏*‏ 44 اور جو شخص اِس پتھر پر گِرے گا، وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور جس پر یہ پتھر گِرے گا، وہ کچلا جائے گا۔“‏

45 جب اعلیٰ کاہنوں اور فریسیوں نے یسوع کی مثالیں سنیں تو وہ سمجھ گئے کہ اصل میں یسوع اُن کی بات کر رہے ہیں۔ 46 وہ یسوع کو گِرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ یسوع کو نبی مانتے تھے۔‏

22 پھر یسوع نے اُنہیں کچھ اَور مثالیں دیں اور کہا:‏ 2 ‏”‏آسمان کی بادشاہت ایک ایسے بادشاہ کی طرح ہے جس نے اپنے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں دعوت کا اِنتظام کِیا۔ 3 اُس نے اپنے غلاموں کو اُن لوگوں کو بلا‌نے کے لیے بھیجا جنہیں شادی پر بلا‌یا گیا تھا۔ لیکن اُنہوں نے آنے سے اِنکار کر دیا۔ 4 پھر اُس نے کچھ اَور غلاموں کو بھیجا اور اُن سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں کو دعوت دی گئی ہے، اُن سے کہو:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں نے بیل اور موٹے تازے جانور ذبح کرا کر کھانا پکوایا ہے۔ سب کچھ تیار ہے۔ دعوت پر آ جائیں۔“‏ “‏ 5 لیکن اُن لوگوں نے غلاموں کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ایک اپنے کھیت میں چلا گیا، دوسرا اپنے کاروبار پر 6 جبکہ باقیوں نے غلاموں کو پکڑ کر اُنہیں مارا پیٹا اور اُنہیں قتل کر دیا۔‏

7 اِس پر بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور اُس نے اپنی فوجیں بھیج کر اُن قاتلوں کو ہلاک کر دیا اور اُن کا شہر جلا دیا۔ 8 پھر اُس نے اپنے غلاموں سے کہا:‏ ”‏شادی کا کھانا تیار ہے۔ لیکن جن لوگوں کو بلا‌یا گیا تھا، وہ آنے کے لائق نہیں تھے۔ 9 اِس لیے شہر سے باہر جانے والی سڑکوں پر جاؤ اور جو کوئی بھی ملے، اُسے شادی پر آنے کی دعوت دو۔“‏ 10 اِس پر غلام سڑکوں پر گئے اور اچھے اور بُرے، ہر طرح کے لوگوں کو لے آئے۔ اور وہ کمرہ جہاں دعوت کا اِنتظام کِیا گیا تھا، مہمانوں سے بھر گیا۔‏

11 جب بادشاہ مہمانوں کو دیکھنے آیا تو اُس نے دیکھا کہ ایک آدمی نے شادی کے کپڑے نہیں پہنے ہیں۔ 12 بادشاہ نے اُس سے کہا:‏ ”‏بھائی، تُم شادی کے کپڑے پہنے بغیر اِس دعوت میں کیسے آ گئے؟“‏ وہ آدمی کوئی جواب نہ دے سکا۔ 13 پھر بادشاہ نے اپنے خادموں سے کہا:‏ ”‏اِس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اِسے باہر تاریکی میں پھینک دو۔ وہاں یہ روئے گا اور دانت پیسے گا۔“‏

14 کیونکہ بہت سے لوگوں کو دعوت دی گئی ہے لیکن کم ہی لوگوں کو چُنا گیا ہے۔“‏

15 پھر فریسی جا کر سازش کرنے لگے کہ یسوع کو اُن کی اپنی ہی باتوں میں کیسے پھنسایا جائے۔ 16 لہٰذا اُنہوں نے اپنے شاگردوں اور ہیرودیس کے حامیوں کو یسوع کے پاس بھیجا۔ اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اُستاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور خدا کی راہ کی صحیح تعلیم دیتے ہیں۔ آپ کو اِس بات کی فکر نہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور نہ ہی آپ کسی کے مرتبے سے متاثر ہوتے ہیں۔ 17 اِس لیے ہمیں بتائیں کہ آپ کے خیال میں قیصر کو ٹیکس دینا جائز ہے یا نہیں؟“‏ 18 یسوع نے اُن کی چالاکی جان کر کہا:‏ ”‏ریاکارو، تُم میرا اِمتحان کیوں لے رہے ہو؟ 19 مجھے وہ سکہ دِکھاؤ جو ٹیکس کے طور پر دیا جاتا ہے۔“‏ اُنہوں نے یسوع کو ایک دینار دیا۔ 20 یسوع نے کہا:‏ ”‏اِس پر کس کی تصویر اور نام نظر آ رہا ہے؟“‏ 21 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏قیصر کا۔“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏لہٰذا جو چیزیں قیصر کی ہیں، قیصر کو دو اور جو چیزیں خدا کی ہیں، خدا کو دو۔“‏ 22 جب اُنہوں نے یہ بات سنی تو وہ حیران رہ گئے اور وہاں سے چلے گئے۔‏

23 اُس دن صدوقی جو اِس بات کو نہیں مانتے کہ مُردے زندہ ہوں گے، یسوع کے پاس آئے اور اُن سے پوچھا:‏ 24 ‏”‏اُستاد، موسیٰ نے کہا تھا کہ ”‏اگر کسی آدمی کی اولاد نہ ہو اور وہ مر جائے تو اُس کا بھائی اُس کی بیوی سے شادی کرے اور اپنے بھائی کے لیے اولاد پیدا کرے۔“‏ 25 اب ہمارے ہاں سات بھائی تھے؛ پہلے نے شادی کی اور بے‌اولاد مر گیا۔ اِس لیے دوسرے نے اُس کی بیوی سے شادی کر لی۔ 26 لیکن وہ اپنے بھائی کے لیے اولاد پیدا کیے بغیر مر گیا۔ تیسرے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور یہ سلسلہ ساتویں بھائی تک جاری رہا۔ 27 سب سے آخر میں وہ عورت بھی مر گئی۔ 28 جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ عورت کس کی بیوی ہوگی کیونکہ ساتوں بھائیوں نے اُس سے شادی کی تھی؟“‏

29 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ غلطی پر ہیں کیونکہ آپ کو نہ تو صحیفوں کا علم ہے اور نہ ہی خدا کی طاقت کا۔ 30 جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو نہ آدمی شادی کریں گے اور نہ ہی عورتوں کی شادی کروائی جائے گی بلکہ وہ سب آسمان کے فرشتوں کی طرح ہوں گے۔ 31 کیا آپ نے پڑھا نہیں کہ خدا نے مُردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں کیا کہا؟ اُس نے کہا:‏ 32 ‏”‏مَیں ابراہام کا خدا، اِضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“‏ وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔“‏ 33 یسوع کی باتیں سُن کر لوگ حیران رہ گئے۔‏

34 جب فریسیوں نے سنا کہ یسوع نے صدوقیوں کی بولتی بند کر دی تو وہ اِکٹھے ہو کر یسوع کے پاس آئے 35 اور شریعت کے ایک ماہر نے یسوع کا اِمتحان لینے کے لیے پوچھا:‏ 36 ‏”‏اُستاد، شریعت میں سب سے بڑا حکم کون سا ہے؟“‏ 37 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏ ”‏یہوواہ*‏ اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اپنی ساری جان*‏ اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھو۔“‏ 38 یہ سب سے بڑا اور پہلا حکم ہے۔ 39 اِس جیسا دوسرا حکم یہ ہے:‏ ”‏اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“‏ 40 یہ دونوں حکم شریعت اور نبیوں کی تعلیم کی بنیاد ہیں۔“‏

41 ابھی فریسی وہیں تھے کہ یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ 42 ‏”‏آپ مسیح کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ وہ کس کا بیٹا ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏داؤد کا۔“‏ 43 یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر داؤد نے خدا کے اِلہام سے اُسے مالک کیوں کہا؟ یاد ہے کہ اُنہوں نے لکھا تھا:‏ 44 ‏”‏یہوواہ*‏ نے میرے مالک سے کہا کہ ”‏میری دائیں طرف بیٹھو جب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دوں“‏ “‏؟ 45 اگر داؤد اُسے مالک کہتے ہیں تو وہ اُن کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟“‏ 46 کوئی بھی یسوع کی بات کا جواب نہیں دے سکا اور اُس دن کے بعد کسی کو اُن سے سوال پوچھنے کی جُرأت نہ ہوئی۔‏

23 پھر یسوع لوگوں کی بِھیڑ اور اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:‏ 2 ‏”‏شریعت کے عالم اور فریسی، موسیٰ کی گدی پر بیٹھ گئے ہیں۔ 3 اِس لیے وہ آپ سے جو باتیں کہتے ہیں، اُن پر عمل کریں لیکن اُن جیسے کام نہ کریں کیونکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، اُس پر خود عمل نہیں کرتے۔ 4 وہ بھاری بوجھ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر لادتے ہیں لیکن خود اِسے اُٹھانے کے لیے ایک اُنگلی بھی نہیں لگاتے۔ 5 وہ ہر کام دِکھاوے کے لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ بڑے بڑے تعویذ*‏ اور بڑی بڑی جھالر والے کپڑے پہنتے ہیں۔ 6 وہ عبادت‌گاہوں میں اگلی*‏ کُرسیوں اور دعوتوں میں سب سے اہم جگہوں پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ 7 وہ چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ اُنہیں سلام کریں اور اُنہیں ربّی*‏ کہیں۔ 8 لیکن آپ ربّی نہ کہلائیں کیونکہ آپ کا اُستاد ایک ہے اور آپ سب بھائی ہیں۔ 9 زمین پر کسی کو باپ*‏ نہ کہیں کیونکہ آپ کا باپ ایک ہے جو آسمان پر ہے۔ 10 آپ رہنما بھی نہ کہلائیں کیونکہ آپ کا رہنما ایک ہے یعنی مسیح۔ 11 لیکن جو آپ میں سب سے بڑا ہے، اُسے آپ کا خادم بننا چاہیے۔ 12 جو اپنے آپ کو بڑا خیال کرتا ہے، اُس کو چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا خیال کرتا ہے، اُس کو بڑا کِیا جائے گا۔‏

13 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم دوسروں پر آسمان کی بادشاہت کے دروازے بند کرتے ہو۔ تُم نہ تو خود اِس میں داخل ہوتے ہو اور نہ ہی اُن لوگوں کو داخل ہونے دیتے ہو جو اِس میں جانا چاہتے ہیں۔ 14 ‏—‏*‏

15 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم ایک شخص کو اپنا مُرید بنانے کے لیے خشکی اور تری کا سفر کرتے ہو اور جب وہ تمہارا مُرید بن جاتا ہے تو تُم اُسے اپنے سے دو گُنا زیادہ ہنوم کی وادی*‏ کا سزاوار بناتے ہو۔‏

16 اندھے رہنماؤ!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم کہتے ہو کہ ”‏اگر کوئی شخص ہیکل*‏ کی قسم کھاتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی ہیکل کے سونے کی قسم کھاتا ہے تو اُسے قسم ضرور پوری کرنی چاہیے۔“‏ 17 بے‌وقوفو اور اندھو!‏ سونا زیادہ اہم ہے یا ہیکل جس کی وجہ سے سونا پاک ہے؟ 18 تُم یہ بھی کہتے ہو کہ ”‏اگر کوئی شخص قربان‌گاہ کی قسم کھاتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی قربان‌گاہ پر رکھے نذرانے کی قسم کھاتا ہے تو اُسے قسم ضرور پوری کرنی چاہیے۔“‏ 19 اندھو!‏ نذرانہ زیادہ اہم ہے یا قربان‌گاہ جس کی وجہ سے نذرانہ پاک ہے؟ 20 لہٰذا جو کوئی قربان‌گاہ کی قسم کھاتا ہے، وہ نہ صرف اِس کی قسم کھاتا ہے بلکہ اِس پر رکھی چیزوں کی بھی۔ 21 اور جو کوئی ہیکل کی قسم کھاتا ہے، وہ نہ صرف اِس کی قسم کھاتا ہے بلکہ خدا کی بھی کیونکہ یہ اُس کا گھر ہے۔ 22 اور جو کوئی آسمان کی قسم کھاتا ہے، وہ نہ صرف خدا کے تخت کی قسم کھاتا ہے بلکہ اُس کی بھی جو اِس پر بیٹھا ہے۔‏

23 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم پودینے، اجوائن اور زیرے کا دسواں حصہ*‏ تو دیتے ہو لیکن شریعت کے اہم معاملوں یعنی اِنصاف، رحم اور ایمان کو نظرانداز کرتے ہو۔ دسواں حصہ دینا ضروری تو ہے لیکن اِس کی وجہ سے تمہیں اہم معاملوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ 24 اندھے رہنماؤ!‏ تُم مچھر کو تو چھانتے ہو لیکن اُونٹ کو نگل جاتے ہو۔‏

25 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم پیالے اور تھالی کو باہر سے تو صاف کرتے ہو لیکن اندر سے وہ لالچ*‏ اور نفس‌پرستی سے بھرے ہیں۔ 26 اندھے فریسیو!‏ پہلے پیالے اور تھالی کو اندر سے صاف کرو تاکہ یہ باہر سے بھی صاف ہو جائے۔‏

27 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم سفیدی کی گئی قبروں کی طرح ہو جو باہر سے تو خوب‌صورت لگتی ہیں لیکن اندر سے مُردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی ناپاکی سے بھری ہوتی ہیں۔ 28 اِسی طرح تُم بھی باہر سے نیک نظر آتے ہو لیکن اندر سے ریاکاری اور بُرائی سے بھرے ہو۔‏

29 شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم نبیوں کی قبریں بناتے ہو اور نیک لوگوں کی قبریں سجاتے ہو 30 اور کہتے ہو کہ ”‏اگر ہم اپنے باپ‌دادا کے زمانے میں ہوتے تو ہم اُن کے ساتھ نبیوں کے قتل میں ہرگز شریک نہ ہوتے۔“‏ 31 اِس طرح تُم خود یہ تسلیم کرتے ہو کہ تُم اُن کی اولاد ہو جنہوں نے نبیوں کو قتل کِیا۔ 32 تو پھر اپنے باپ‌دادا کے گُناہوں کا پیمانہ بھر دو۔‏

33 سانپ کے بچو!‏ تُم ہنوم کی وادی*‏ میں جھونکے جانے سے کیسے بچو گے؟ 34 اِس لیے مَیں نبیوں، دانش‌مندوں اور اُستادوں کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔ تُم اُن میں سے کچھ کو قتل کرو گے اور سُولی*‏ پر چڑھاؤ گے اور کچھ کو اپنی عبادت‌گاہوں میں کوڑے لگواؤ گے اور سب شہروں میں اُن کو اذیت پہنچاؤ گے 35 تاکہ تُم اُس نیک خون کے ذمے‌دار ٹھہرو جو زمین پر بہایا گیا ہے یعنی ہابل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ کے خون تک جنہیں تُم نے مُقدس مقام اور قربان‌گاہ کے بیچ میں قتل کِیا۔ 36 مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ پُشت اِن سب باتوں کے لیے جواب‌دہ ٹھہرائی جائے گی۔‏

37 یروشلیم کے لوگو!‏ نبیوں کو قتل کرنے والو اور پیغمبروں کو سنگسار کرنے والو!‏ مَیں نے بہت بار چاہا کہ مَیں ویسے ہی تمہیں جمع کروں جیسے مُرغی، چُوزوں کو اپنے پَروں کے نیچے جمع کرتی ہے۔ لیکن تُم نے ایسا نہیں چاہا۔ 38 دیکھو!‏ تمہارا گھر چھوڑ دیا جائے گا۔ 39 مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ اب تُم مجھے اُس وقت تک نہیں دیکھو گے جب تک یہ نہیں کہو گے کہ ”‏اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ*‏ کے نام سے آتا ہے۔“‏ “‏

24 جب یسوع ہیکل*‏ سے روانہ ہو رہے تھے تو اُن کے شاگرد آ کر اُن کو ہیکل کی عمارتیں دِکھانے لگے۔ 2 یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ یہ عمارتیں دیکھ رہے ہیں؟ مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ یہ ساری کی ساری ڈھا دی جائیں گی۔ یہاں ایک پتھر بھی دوسرے پتھر پر نہیں رہے گا۔“‏

3 پھر جب یسوع کوہِ‌زیتون پر بیٹھے تھے تو شاگرد اکیلے میں اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں بتائیں کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور آپ کی موجودگی*‏ اور دُنیا کے آخری زمانے کی نشانی کیا ہوگی؟“‏

4 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏خبردار رہیں کہ کوئی آپ کو گمراہ نہ کرے 5 کیونکہ بہت سے ایسے لوگ اُٹھیں گے جو میرا نام اِستعمال کر کے کہیں گے:‏ ”‏مَیں مسیح ہوں“‏ اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ 6 آپ سنیں گے کہ جگہ جگہ لڑائیاں ہو رہی ہیں مگر اُس وقت پریشان نہ ہوں۔ یہ سب باتیں ضرور ہوں گی لیکن تب خاتمہ نہیں ہوگا۔‏

7 کیونکہ قومیں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گی اور سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف اُٹھیں گی، جگہ جگہ قحط پڑیں گے اور زلزلے آئیں گے۔ 8 یہ سب باتیں تکلیفوں*‏ کا شروع ہی ہوں گی۔‏

9 پھر لوگ آپ کو اذیت پہنچائیں گے اور مار ڈالیں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں آپ سے نفرت کریں گی۔ 10 تب بہت سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے، ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے نفرت کریں گے 11 اور بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے 12 اور چونکہ بُرائی بہت بڑھ جائے گی اِس لیے زیادہ‌تر لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ 13 لیکن جو شخص آخر تک ثابت‌قدم رہے گا، وہ نجات پائے گا۔ 14 اور بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی ساری دُنیا میں کی جائے گی تاکہ سب قوموں کو گواہی ملے۔ پھر خاتمہ آئے گا۔‏

15 لہٰذا جب آپ دیکھیں گے کہ دانی‌ایل نبی کی بات کے مطابق گھناؤنی چیز جو تباہی مچاتی ہے، مُقدس جگہ پر کھڑی ہے (‏پڑھنے والا اپنی سمجھ اِستعمال کرے)‏ 16 تو جو لوگ یہودیہ میں ہوں، وہ پہاڑوں کی طرف بھاگیں۔ 17 جو آدمی چھت پر ہو، وہ اپنی چیزیں لینے کے لیے نیچے نہ اُترے 18 اور جو آدمی کھیت میں ہو، وہ اپنی چادر لینے کے لیے واپس نہ جائے۔ 19 اُس زمانے کی حاملہ عورتوں اور دودھ پلانے والی ماؤں پر افسوس!‏ 20 دُعا کرتے رہیں کہ آپ کو سردی کے موسم یا پھر سبت کے دن بھاگنا نہ پڑے 21 کیونکہ تب ایسی بڑی مصیبت آئے گی جو دُنیا کے شروع سے لے کر اب تک نہیں آئی اور نہ ہی دوبارہ کبھی آئے گی۔ 22 دراصل اگر خدا اُس زمانے کو مختصر نہ کرے تو کوئی اِنسان نہ بچے لیکن خدا چُنے ہوئے لوگوں کی خاطر اُس زمانے کو مختصر کرے گا۔‏

23 تب اگر کوئی آپ سے کہے کہ ”‏دیکھو!‏ مسیح یہاں ہے“‏ یا ”‏دیکھو!‏ مسیح وہاں ہے“‏ تو اُس کا یقین نہ کریں 24 کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بڑے بڑے معجزے اور نشانیاں دِکھا کر چُنے ہوئے لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ 25 دیکھیں!‏ مَیں نے آپ کو آگاہ کر دیا ہے۔ 26 اِس لیے اگر لوگ آپ سے کہیں کہ ”‏دیکھو!‏ وہ ویرانے میں ہے“‏ تو وہاں نہ جائیں اور اگر وہ کہیں کہ ”‏دیکھو!‏ وہ اپنے کمرے میں ہے“‏ تو اُن کا یقین نہ کریں 27 کیونکہ اِنسان کے بیٹے*‏ کی موجودگی*‏ بجلی کی طرح ہوگی جو مشرق سے مغرب تک پورے آسمان پر چمکتی ہے۔ 28 جہاں لاش ہے وہاں عقاب*‏ جمع ہوں گے۔‏

29 اُس زمانے کی مصیبت کے فوراً بعد سورج تاریک ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے آسمان سے گِر جائیں گے اور آسمان کا نظام ہلا دیا جائے گا۔ 30 پھر اِنسان کے بیٹے کی نشانی آسمان پر دِکھائی دے گی اور زمین کے سب قبیلے غم کے مارے چھاتی پیٹیں گے اور دیکھیں گے کہ اِنسان کا بیٹا آسمان کے بادلوں پر اِختیار اور بڑی شان کے ساتھ آ رہا ہے۔ 31 اور وہ نرسنگے*‏ کی اُونچی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور فرشتے اُس کے چُنے ہوئے لوگوں کو آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یعنی چاروں سمتوں سے جمع کریں گے۔‏

32 ذرا اِنجیر کے درخت کی مثال لیں:‏ جونہی اُس کی ڈالیاں نرم ہو جاتی ہیں اور اُن پر پتے نکل آتے ہیں، آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ گرمی نزدیک ہے۔ 33 اِسی طرح جب آپ یہ ساری باتیں دیکھیں گے تو جان لیں کہ وہ*‏ نزدیک ہے یعنی دروازے پر کھڑا ہے۔ 34 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ یہ پُشت ہرگز ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ سب باتیں پوری نہ ہوں۔ 35 چاہے آسمان اور زمین مٹ جائیں، میری باتیں ہرگز نہیں مٹیں گی۔‏

36 اُس دن یا گھنٹے کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ، نہ آسمان کے فرشتوں کو، نہ بیٹے کو بلکہ صرف باپ کو۔ 37 اِنسان کے بیٹے کی موجودگی نوح کے زمانے کی طرح ہوگی 38 کیونکہ طوفان کے آنے سے پہلے بھی لوگ کھانے پینے اور شادیاں کرنے کروانے میں لگے تھے جب تک کہ نوح کشتی میں نہ گئے۔ 39 اور لوگ اُس وقت تک لاپرواہ رہے جب تک طوفان نہیں آیا اور جب طوفان آیا تو وہ سب ڈوب کر مر گئے۔ اِنسان کے بیٹے کی موجودگی کے دوران بھی اِسی طرح ہوگا۔ 40 تب دو آدمی کھیت میں ہوں گے؛ ایک کو ساتھ لیا جائے گا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ 41 دو عورتیں چکی پیس رہی ہوں گی؛ ایک کو ساتھ لیا جائے گا اور دوسری کو چھوڑ دیا جائے گا۔ 42 لہٰذا چوکس رہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کا مالک کس دن آئے گا۔‏

43 یاد رکھیں کہ اگر گھر کے مالک کو پتہ ہوتا کہ چور کس پہر*‏ آئے گا تو وہ جاگتا رہتا اور چور کو گھر میں گھسنے نہ دیتا۔ 44 اِس لیے آپ بھی تیار رہیں کیونکہ اِنسان کا بیٹا ایسے وقت پر آئے گا جب آپ کو توقع بھی نہیں ہوگی۔‏

45 وہ وفادار اور سمجھ‌دار*‏ غلام اصل میں کون ہے جسے اُس کے مالک نے اپنے گھر کے غلاموں پر مقرر کِیا ہے تاکہ اُن کو صحیح وقت پر کھانا دے؟ 46 وہ غلام کتنا خوش ہوگا جب اُس کا مالک آ کر دیکھے گا کہ وہ اپنی ذمے‌داری پوری کر رہا ہے!‏ 47 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ مالک اُس کو اپنی ساری چیزوں پر اِختیار دے گا۔‏

48 لیکن اگر کبھی وہ غلام بُرا بن جائے اور اپنے دل میں کہے کہ ”‏میرے مالک کے آنے میں دیر ہے“‏ 49 اور دوسرے غلاموں کو مارنے پیٹنے لگے اور شرابیوں کے ساتھ کھانے پینے لگے 50 تو اُس کا مالک ایک ایسے دن آئے گا جس کی اُس کو توقع نہیں ہوگی اور ایک ایسے گھنٹے جس کا اُس کو علم نہیں ہوگا 51 اور اُس کو بڑی سخت سزا دے گا اور اُسے ریاکاروں میں شامل کرے گا۔ وہاں وہ روئے گا اور دانت پیسے گا۔‏

25 اُس وقت آسمان کی بادشاہت دس کنواریوں کی طرح ہوگی جو اپنے چراغ لے کر دُلہے سے ملنے گئیں۔ 2 اُن میں سے پانچ بے‌وقوف تھیں اور پانچ سمجھ‌دار۔‏*‏ 3 بے‌وقوف کنواریوں نے اپنے ساتھ چراغ تو لیے مگر تیل کی بوتلیں نہیں لیں۔ 4 لیکن سمجھ‌دار کنواریوں نے چراغوں کے ساتھ ساتھ تیل کی بوتلیں بھی لیں۔ 5 چونکہ دُلہے نے آنے میں دیر کر دی اِس لیے وہ سب اُونگھنے لگیں اور سو گئیں۔ 6 ٹھیک آدھی رات کو شور مچا کہ ”‏دُلہا آ رہا ہے!‏ اُس سے ملنے جاؤ۔“‏ 7 وہ سب اُٹھیں اور اپنے چراغ تیار کرنے لگیں۔ 8 بے‌وقوف کنواریاں، سمجھ‌دار کنواریوں سے کہنے لگیں:‏ ”‏ہمیں تھوڑا سا تیل دے دو۔ دیکھو، ہمارے چراغ بُجھنے والے ہیں۔“‏ 9 سمجھ‌دار کنواریوں نے جواب دیا:‏ ”‏اگر ہم تمہیں بھی تیل دیں تو شاید یہ ہم سب کے لیے کافی نہ ہو۔ تیل بیچنے والوں کے پاس جاؤ اور اپنے لیے تیل خرید لاؤ۔“‏ 10 جب وہ تیل خریدنے گئیں تو دُلہا آ گیا۔ جو کنواریاں تیار تھیں، وہ اُس کے ساتھ شادی کی تقریب میں چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ 11 بعد میں باقی کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں:‏ ”‏دُلہا جی!‏ دُلہا جی!‏ ہمارے لیے دروازہ کھولیں۔“‏ 12 اِس پر دُلہے نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں آپ کو نہیں جانتا۔“‏

13 اِس لیے چوکس رہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ یہ کس دن اور کس گھنٹے ہوگا۔‏

14 آسمان کی بادشاہت اُس آدمی کی طرح ہے جس نے پردیس جانے سے پہلے اپنے غلاموں کو بلا‌یا اور اُنہیں اپنے مال کی دیکھ‌بھال کرنے کی ذمے‌داری دی۔ 15 اُس نے غلاموں کی صلاحیت کے مطابق اُن کو چاندی دی:‏ ایک کو پانچ من،‏*‏ دوسرے کو دو من اور تیسرے کو ایک من۔ پھر وہ پردیس چلا گیا۔ 16 جس غلام کو پانچ من چاندی ملی، اُس نے فوراً جا کر اِس چاندی سے کاروبار کِیا اور پانچ من اَور کمائی۔ 17 اِسی طرح جس غلام کو دو من چاندی ملی، اُس نے دو من اَور کمائی۔ 18 لیکن جس غلام کو ایک من چاندی ملی، اُس نے زمین کھودی اور اپنے مالک کی چاندی چھپا دی۔‏

19 بہت عرصے کے بعد مالک واپس آیا اور اپنے غلاموں سے حساب لینے لگا۔ 20 جس غلام کو پانچ من چاندی ملی تھی، وہ اپنے ساتھ پانچ من اَور لایا اور کہنے لگا:‏ ”‏مالک!‏ آپ نے مجھے پانچ من چاندی دی تھی۔ دیکھیں!‏ مَیں نے پانچ من اَور کمائی ہے۔“‏ 21 مالک نے اُس سے کہا:‏ ”‏شاباش، اچھے اور وفادار غلام!‏ تُم نے تھوڑی چیزوں کی ذمے‌داری کو اچھی طرح نبھایا۔ اِس لیے مَیں تمہیں بہت سی چیزوں کی ذمے‌داری دوں گا۔ آؤ، اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو۔“‏ 22 اِس کے بعد وہ غلام آیا جسے دو من چاندی ملی تھی اور کہنے لگا:‏ ”‏مالک!‏ آپ نے مجھے دو من چاندی دی تھی۔ دیکھیں!‏ مَیں نے دو من اَور کمائی ہے۔“‏ 23 مالک نے اُس سے بھی کہا:‏ ”‏شاباش، اچھے اور وفادار غلام!‏ تُم نے تھوڑی چیزوں کی ذمے‌داری کو اچھی طرح نبھایا۔ اِس لیے مَیں تمہیں بہت سی چیزوں کی ذمے‌داری دوں گا۔ آؤ، اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو۔“‏

24 آخر میں وہ غلام آیا جسے ایک من چاندی ملی تھی اور کہنے لگا:‏ ”‏مالک!‏ مَیں جانتا ہوں کہ آپ سخت آدمی ہیں۔ آپ وہاں سے فصل کاٹتے ہیں جہاں آپ نے بیج نہیں بویا ہوتا اور وہاں سے اناج جمع کرتے ہیں جہاں آپ نے محنت نہیں کی ہوتی۔ 25 اِس لیے مَیں ڈر گیا اور مَیں نے آپ کی چاندی زمین میں چھپا دی۔ یہ رہی آپ کی امانت۔“‏ 26 اِس پر مالک نے کہا:‏ ”‏بُرے اور سُست غلام!‏ جب تمہیں پتہ تھا کہ مَیں وہاں سے فصل کاٹتا ہوں جہاں مَیں نے بیج نہیں بویا ہوتا اور وہاں سے اناج جمع کرتا ہوں جہاں مَیں نے محنت نہیں کی ہوتی 27 تو پھر تمہیں میری چاندی کی سرمایہ‌کاری کرنی چاہیے تھی تاکہ واپسی پر مجھے منافع ملتا۔“‏

28 پھر مالک نے حکم دیا کہ ”‏اِس غلام سے یہ ایک من چاندی بھی لے لو اور اُس کو دے دو جس کے پاس دس من چاندی ہے 29 کیونکہ جس کے پاس ہے، اُسے اَور بھی دیا جائے گا اور اُس کے پاس کثرت سے ہوگا۔ لیکن جس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔ 30 اِس نکمّے غلام کو باہر تاریکی میں پھینک دو۔ وہاں یہ روئے گا اور دانت پیسے گا۔“‏

31 جب اِنسان کا بیٹا*‏ شان کے ساتھ آئے گا اور سب فرشتے بھی اُس کے ساتھ آئیں گے تو وہ اپنے شان‌دار تخت پر بیٹھ جائے گا۔ 32 تب تمام قوموں کو اُس کے سامنے جمع کِیا جائے گا اور وہ لوگوں کو بالکل اُسی طرح ایک دوسرے سے الگ کرے گا جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے الگ کرتا ہے۔ 33 وہ بھیڑوں کو اپنی دائیں طرف لیکن بکریوں کو اپنی بائیں طرف رکھے گا۔‏

34 پھر بادشاہ اپنی دائیں طرف والوں سے کہے گا:‏ ”‏آپ کو میرے باپ نے برکت دی ہے۔ آئیں، اُس بادشاہت کو ورثے میں حاصل کریں جو تب سے آپ کے لیے تیار کی گئی جب سے دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی۔ 35 کیونکہ جب مجھے بھوک لگی تھی تو آپ نے مجھے کچھ کھانے کو دیا؛ جب مجھے پیاس لگی تھی تو آپ نے مجھے کچھ پینے کو دیا؛ جب مَیں اجنبی تھا تو آپ نے میری خاطرتواضع کی؛ 36 جب میرے پاس کپڑے نہیں تھے*‏ تو آپ نے مجھے کپڑے دیے؛ جب مَیں بیمار تھا تو آپ نے میری تیمارداری کی؛ جب مَیں قیدخانے میں تھا تو آپ مجھ سے ملنے آئے۔“‏ 37 اُس وقت نیک لوگ بادشاہ سے پوچھیں گے:‏ ”‏مالک، کب ایسا ہوا کہ آپ کو بھوک لگی تھی اور ہم نے آپ کو کھانا کھلایا یا آپ کو پیاس لگی تھی اور ہم نے آپ کو پانی پلایا؟ 38 آپ کب اجنبی تھے اور ہم نے آپ کی خاطرتواضع کی یا آپ کے پاس کپڑے نہیں تھے اور ہم نے آپ کو کپڑے دیے؟ 39 آپ کب بیمار تھے یا قیدخانے میں تھے اور ہم آپ سے ملنے کے لیے آئے؟“‏ 40 اِس پر بادشاہ اُن سے کہے گا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جب بھی آپ نے میرے اِن چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کے لیے ایسا کِیا تو میرے لیے کِیا۔“‏

41 پھر وہ اپنی بائیں طرف والوں سے کہے گا:‏ ”‏تُم لعنتی ہو۔ جاؤ، اُس ابدی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے 42 کیونکہ مجھے بھوک لگی تھی لیکن تُم نے مجھے کچھ کھانے کو نہیں دیا؛ مجھے پیاس لگی تھی لیکن تُم نے مجھے کچھ پینے کو نہیں دیا؛ 43 مَیں اجنبی تھا لیکن تُم نے میری خاطرتواضع نہیں کی؛ میرے پاس کپڑے نہیں تھے لیکن تُم نے مجھے کپڑے نہیں دیے؛ مَیں بیمار تھا اور قیدخانے میں تھا لیکن تُم نے میری دیکھ‌بھال نہیں کی۔“‏ 44 تب وہ بھی بادشاہ سے پوچھیں گے:‏ ”‏مالک، کب ایسا ہوا کہ آپ بھوکے یا پیاسے یا اجنبی یا کپڑوں کے بغیر یا بیمار یا قیدخانے میں تھے اور ہم نے آپ کی خدمت نہیں کی؟“‏ 45 اِس پر بادشاہ اُن سے کہے گا:‏ ”‏مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ جب بھی تُم نے میرے اِن چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کے لیے ایسا نہیں کِیا تو میرے لیے نہیں کِیا۔“‏ 46 اِن لوگوں کی سزا ہمیشہ کی موت ہوگی جبکہ نیک لوگوں کو ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔“‏

26 جب یسوع یہ باتیں ختم کر چکے تو اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ 2 ‏”‏آپ جانتے ہیں کہ دو دن کے بعد عیدِفسح ہوگی اور اِنسان کے بیٹے*‏ کو دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے گا تاکہ اُسے سُولی*‏ پر چڑھایا جائے۔“‏

3 اُس وقت اعلیٰ کاہن اور بزرگ، کاہنِ‌اعظم یعنی کائفا کے گھر کے صحن میں جمع ہوئے 4 اور یسوع کو دھوکے سے پکڑ کر مار ڈالنے کی سازش کرنے لگے۔ 5 لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ”‏ہم عید کے موقعے پر ایسا نہیں کریں گے تاکہ لوگ ہنگامہ کھڑا نہ کر دیں گے۔“‏

6 یسوع بیت‌عنیاہ میں شمعون کے گھر گئے جو ایک زمانے میں کوڑھی تھے۔ 7 جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو ایک عورت پتھر کی بوتل میں خوشبودار تیل لے کر آئی جو بہت ہی قیمتی تھا اور اِسے اُن کے سر پر ڈالنے لگی۔ 8 یہ دیکھ کر شاگرد ناراض ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اِس تیل کو ضائع کیوں کِیا گیا؟ 9 یہ بہت مہنگا بک سکتا تھا اور پیسے غریبوں کو دیے جا سکتے تھے۔“‏ 10 یہ جان کر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ اِس عورت کو پریشان کیوں کر رہے ہیں؟ اِس نے میرے لیے ایک اچھا کام کِیا ہے۔ 11 کیونکہ غریب تو ہمیشہ آپ کے پاس رہیں گے لیکن مَیں ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہوں گا۔ 12 اِس عورت نے مجھ پر تیل ڈال کر میرے جسم کو دفن ہونے کے لیے تیار کِیا ہے۔ 13 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ پوری دُنیا میں جہاں بھی خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس واقعے کا بھی ذکر کِیا جائے گا اور اِس عورت کو یاد کِیا جائے گا۔“‏

14 پھر 12 رسولوں میں سے ایک یعنی یہوداہ اِسکریوتی اعلیٰ کاہنوں کے پاس گیا 15 اور کہنے لگا:‏ ”‏اگر مَیں اُسے آپ کے حوالے کر دوں تو آپ مجھے کیا دیں گے؟“‏ اُنہوں نے وعدہ کِیا کہ وہ اُسے چاندی کے 30 (‏تیس)‏ سِکے دیں گے۔ 16 تب سے یہوداہ، یسوع کو پکڑوانے کا مناسب موقع ڈھونڈنے لگا۔‏

17 شاگرد بے‌خمیری روٹی کی عید کے پہلے دن یسوع کے پاس آ کر پوچھنے لگے:‏ ”‏ہم آپ کے لیے عیدِفسح کے کھانے کی تیاری کہاں کریں؟“‏ 18 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏شہر میں فلاں آدمی کے پاس جائیں اور اُس سے کہیں:‏ ”‏اُستاد نے کہا ہے کہ ”‏میرا مقررہ وقت نزدیک ہے۔ مَیں آپ کے گھر میں اپنے شاگردوں کے ساتھ عیدِفسح مناؤں گا۔“‏ “‏ “‏ 19 شاگردوں نے اُن کی بات پر عمل کِیا اور عیدِفسح کی تیاری کی۔‏

20 شام کو یسوع اپنے 12 شاگردوں کے ساتھ میز پر کھانا کھانے بیٹھے۔ 21 جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ آپ میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا۔“‏ 22 یہ سُن کر شاگرد بہت دُکھی ہوئے اور ایک ایک کر کے اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏مالک، کیا وہ شخص مَیں ہوں؟“‏ 23 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏جو میرے ساتھ کٹورے میں ہاتھ ڈال رہا ہے، وہی مجھے پکڑوائے گا۔ 24 بِلاشُبہ اِنسان کا بیٹا آپ سے دُور چلا جائے گا جیسا کہ صحیفوں میں لکھا ہے۔ لیکن اُس شخص پر افسوس جو اِنسان کے بیٹے کو پکڑوائے گا!‏ بہتر ہوتا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا!‏“‏ 25 اِس پر یہوداہ نے جو یسوع کو پکڑوانے والا تھا، پوچھا:‏ ”‏ربّی، وہ مَیں تو نہیں ہوں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا۔“‏

26 کھانے کے دوران یسوع نے ایک روٹی لی، اِس پر دُعا کی اور اِسے توڑ کر شاگردوں کو دیا اور کہا:‏ ”‏لیں، کھائیں، یہ میرے جسم کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔“‏ 27 پھر یسوع نے ایک پیالہ لیا اور اِس پر دُعا کر کے اپنے شاگردوں کو دیا اور کہا:‏ ”‏آپ سب اِس پیالے میں سے پئیں 28 کیونکہ یہ میرے ”‏عہد کے خون“‏ کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو بہت سے لوگوں کے لیے بہایا جائے گا تاکہ اُن کے گُناہ معاف ہو جائیں۔ 29 لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اب سے مَیں انگور کی مے اُس وقت تک نہیں پیوں گا جب تک مَیں اپنے باپ کی بادشاہت میں آپ کے ساتھ نئی مے نہ پیوں۔“‏ 30 آخر میں اُنہوں نے خدا کی حمد کے گیت گائے*‏ اور کوہِ‌زیتون پر چلے گئے۔‏

31 پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ سب آج رات مجھ سے مُنہ موڑ لیں گے کیونکہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏مَیں چرواہے کو ماروں گا اور اُس کے گلّے کی بھیڑیں بکھر جائیں گی۔“‏ 32 لیکن جب مجھے زندہ کِیا جائے گا تو مَیں گلیل جاؤں گا اور وہاں آپ کا اِنتظار کروں گا۔“‏ 33 اِس پر پطرس نے کہا:‏ ”‏بھلے سب آپ سے مُنہ موڑ لیں لیکن مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔“‏ 34 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ آج رات مُرغے کے بانگ دینے سے پہلے آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار کریں گے۔“‏ 35 پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏چاہے مجھے آپ کے ساتھ مرنا بھی پڑے، مَیں آپ کو جاننے سے ہرگز اِنکار نہیں کروں گا۔“‏ باقی سب شاگردوں نے بھی یہی کہا۔‏

36 پھر یسوع اُن کے ساتھ اُس جگہ گئے جس کا نام گتسمنی تھا۔ وہاں اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ یہاں بیٹھیں، مَیں وہاں جا کر دُعا کروں گا۔“‏ 37 پھر وہ پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے گئے اور بہت اُداس اور پریشان ہونے لگے۔ 38 اِس لیے اُنہوں نے تینوں شاگردوں سے کہا:‏ ”‏مَیں اِتنا پریشان ہوں*‏ کہ میری حالت مرنے والی ہو گئی ہے۔ آپ یہاں رُکیں اور میرے ساتھ چوکس رہیں۔“‏ 39 پھر وہ تھوڑا سا آگے گئے اور مُنہ کے بل گِر کر یہ دُعا کرنے لگے:‏ ”‏باپ، اگر ممکن ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا دے۔ لیکن میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی ہو۔“‏

40 جب وہ اُن تین شاگردوں کے پاس واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ سو رہے ہیں۔ اِس پر اُنہوں نے پطرس سے کہا:‏ ”‏کیا آپ میرے ساتھ ایک گھنٹہ بھی نہیں جاگ سکے؟ 41 چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔ بے‌شک دل*‏ جوش سے بھرا ہے*‏ لیکن جسم کمزور ہے۔“‏ 42 پھر وہ دوبارہ گئے اور یہ دُعا کرنے لگے:‏ ”‏باپ، اگر یہ پیالہ ہٹ نہیں سکتا اور مجھے اِس کو پینا ہی پڑے گا تو تیری مرضی کے مطابق ہو۔“‏ 43 اور جب وہ واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ تینوں شاگرد سو رہے ہیں کیونکہ وہ نیند سے بے‌حال تھے۔ 44 پھر یسوع اُنہیں تیسری بار چھوڑ کر گئے اور دوبارہ وہی دُعا کرنے لگے۔ 45 اِس کے بعد وہ واپس اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏آپ اِتنے اہم وقت پر سو رہے ہیں اور آرام کر رہے ہیں!‏ دیکھیں!‏ وقت آ گیا ہے کہ اِنسان کے بیٹے کو گُناہ‌گاروں کے حوالے کِیا جائے۔ 46 اُٹھیں، چلیں!‏ دیکھیں، وہ شخص نزدیک آ گیا ہے جو مجھے پکڑوائے گا۔“‏ 47 ابھی یسوع یہ کہہ ہی رہے تھے کہ یہوداہ جو 12 رسولوں میں سے ایک تھا، وہاں آ پہنچا۔ اُس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے جنہیں اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں نے بھیجا تھا اور اُن سب کے ہاتھوں میں تلواریں اور لاٹھیاں تھیں۔‏

48 یسوع کو پکڑوانے والے نے لوگوں کو یہ نشانی بتائی تھی:‏ ”‏مَیں جس شخص کو چُوموں گا، وہ وہی ہوگا جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اُسے گِرفتار کر لینا۔“‏ 49 لہٰذا وہ سیدھا یسوع کے پاس گیا اور اُن سے کہنے لگا:‏ ”‏سلام ربّی!‏“‏ پھر اُس نے اُن کو چُوما۔ 50 لیکن یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏بھائی، تُم کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہو؟“‏ پھر وہ لوگ آگے بڑھے اور اُنہوں نے یسوع کو پکڑ کر گِرفتار کر لیا۔ 51 لیکن یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی تلوار نکالی اور کاہنِ‌اعظم کے غلام کا کان اُڑا دیا۔ 52 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏اپنی تلوار واپس رکھ لیں کیونکہ جو تلوار چلاتے ہیں، اُنہیں تلوار سے ہلاک کِیا جائے گا۔ 53 کیا آپ کو لگتا ہے کہ مَیں اپنے باپ سے یہ درخواست نہیں کر سکتا کہ وہ ابھی میرے لیے فرشتوں کے 12 فوجی دستے*‏ بھیج دے؟ 54 لیکن پھر صحیفوں میں لکھی یہ بات کیسے پوری ہوگی کہ یہ سب کچھ اِس طرح ہوگا؟“‏ 55 اِس کے بعد یسوع نے اُن لوگوں سے کہا جو اُنہیں پکڑنے آئے تھے:‏ ”‏کیا مَیں کوئی ڈاکو ہوں جو آپ تلواریں اور لاٹھیاں لے کر مجھے پکڑنے آئے ہیں؟ مَیں ہر دن ہیکل*‏ میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا لیکن وہاں تو آپ نے مجھے گِرفتار نہیں کِیا۔ 56 مگر یہ سب کچھ اِس لیے ہوا کہ وہ باتیں پوری ہوں جو نبیوں نے لکھی تھیں۔“‏ تب سب شاگرد یسوع کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔‏

57 پھر یسوع کو گِرفتار کرنے والے اُنہیں کاہنِ‌اعظم، کائفا کے پاس لے گئے جہاں شریعت کے عالم اور بزرگ جمع تھے۔ 58 لیکن پطرس کافی فاصلے سے اُن کا پیچھا کرتے کرتے کاہنِ‌اعظم کے گھر تک پہنچ گئے اور اندر جا کر صحن میں خادموں کے ساتھ بیٹھ گئے تاکہ دیکھ سکیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‏

59 اب اعلیٰ کاہن اور پوری عدالتِ‌عظمیٰ یسوع کے خلاف جھوٹی گواہی ڈھونڈ رہی تھی تاکہ اُنہیں سزائے‌موت دی جا سکے۔ 60 لیکن اُنہیں ایسی کوئی گواہی نہیں ملی حالانکہ بہت سے جھوٹے گواہ سامنے آئے۔ پھر دو گواہ سامنے آئے 61 اور کہنے لگے:‏ ”‏اِس آدمی نے کہا تھا کہ ”‏مَیں خدا کی ہیکل*‏ کو گِرا سکتا ہوں اور اِسے تین دن میں دوبارہ بنا سکتا ہوں۔“‏“‏ 62 اِس پر کاہنِ‌اعظم کھڑا ہو گیا اور یسوع سے کہنے لگا:‏ ”‏کیا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہے؟ سُن رہے ہو کہ یہ تمہارے خلاف کیا گواہیاں دے رہے ہیں؟“‏ 63 لیکن یسوع چپ رہے۔ اِس لیے کاہنِ‌اعظم نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں، بتاؤ کہ تُم خدا کے بیٹے یعنی مسیح ہو یا نہیں۔“‏ 64 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا۔ لیکن مَیں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ اب سے آپ اِنسان کے بیٹے کو قدرت والے کے دائیں طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔“‏ 65 اِس پر کاہنِ‌اعظم نے اپنا چوغہ پھاڑ دیا اور کہنے لگا:‏ ”‏اِس آدمی نے کفر بکا ہے!‏ اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے خود سنا ہے کہ اِس نے کفر بکا ہے۔ 66 اب آپ کا کیا خیال ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏یہ شخص سزائے‌موت کے لائق ہے۔“‏ 67 پھر وہ یسوع کے چہرے پر تھوکنے لگے اور اُنہیں مکے مارنے لگے۔ کچھ لوگ اُن کے مُنہ پر تھپڑ مارنے لگے 68 اور کہنے لگے:‏ ”‏اوئے مسیح، اگر تُو واقعی نبی ہے تو بتا کہ تجھے کس نے مارا ہے۔“‏

69 پطرس ابھی بھی باہر صحن میں بیٹھے تھے۔ ایک نوکرانی اُن کے پاس آئی اور کہنے لگی:‏ ”‏تُم بھی تو گلیل کے یسوع کے ساتھ تھے۔“‏ 70 لیکن پطرس نے سب کے سامنے اِنکار کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏مجھے نہیں پتہ کہ تُم کس کی بات کر رہی ہو۔“‏ 71 جب وہ باہر ڈیوڑھی میں چلے گئے تو ایک اَور لڑکی نے اُنہیں دیکھا اور وہاں پر موجود لوگوں سے کہنے لگی:‏ ”‏یہ آدمی ناصرت کے یسوع کے ساتھ تھا۔“‏ 72 پطرس نے پھر اِنکار کِیا اور قسم کھا کر کہا:‏ ”‏مَیں اُس آدمی کو نہیں جانتا۔“‏ 73 تھوڑی دیر بعد وہ لوگ جو وہاں کھڑے تھے، پطرس کے پاس آ کر کہنے لگے:‏ ”‏بے‌شک تُم اُس کے ساتھی ہو۔ تمہاری بولی*‏ سے پتہ چلتا ہے کہ تُم اُن میں سے ایک ہو۔“‏ 74 اِس پر پطرس قسم کھا کر کہنے لگے کہ ”‏اگر مَیں جھوٹ بولوں تو مجھ پر لعنت ہو۔ مَیں واقعی اُس آدمی کو نہیں جانتا۔“‏ اُسی وقت ایک مُرغے نے بانگ دی۔ 75 تب پطرس کو یسوع کی یہ بات یاد آئی کہ ”‏مُرغے کے بانگ دینے سے پہلے آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار کریں گے۔“‏ اور وہ باہر جا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔‏

27 جب صبح ہوئی تو تمام اعلیٰ کاہن اور بزرگ، یسوع کو مار ڈالنے کے سلسلے میں مشورہ کرنے لگے۔ 2 پھر اُنہوں نے یسوع کو باندھا اور لے جا کر یہودیہ کے حاکم، پیلاطُس کے حوالے کر دیا۔‏

3 جب یہوداہ نے جس نے یسوع کو پکڑوایا تھا، دیکھا کہ اُنہیں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے تو اُسے بہت پچھتاوا ہوا۔ اِس لیے یہوداہ چاندی کے 30 (‏تیس)‏ سِکے اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس لایا 4 اور کہنے لگا:‏ ”‏مَیں نے ایک بے‌گُناہ آدمی کو آپ کے حوالے کر کے گُناہ کِیا ہے۔“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تو ہم کیا کریں؟ یہ تمہارا مسئلہ ہے، تُم جانو!‏“‏ 5 اِس پر یہوداہ سِکے ہیکل*‏ میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر پھانسی لے لی۔ 6 تب اعلیٰ کاہنوں نے وہ سِکے اُٹھا لیے اور کہنے لگے:‏ ”‏اِن پیسوں کو مُقدس خزانے میں ڈالنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ کسی کے خون کی قیمت ہے۔“‏ 7 پھر اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے اِس رقم سے کمہار کا میدان خریدا تاکہ وہاں اجنبیوں کو دفنایا جا سکے۔ 8 اِس لیے اُس میدان کو آج تک خون کا میدان کہا جاتا ہے۔ 9 اِس طرح یرمیاہ نبی کی یہ بات پوری ہوئی:‏ ”‏اور اُنہوں نے چاندی کے 30 (‏تیس)‏ سِکے لیے۔ یہ وہ قیمت تھی جو اِسرائیل کے کچھ بیٹوں نے اُس آدمی پر لگائی تھی۔ 10 اور اُنہوں نے یہ سِکے کمہار کے میدان کے لیے دیے جیسا کہ یہوواہ*‏ نے مجھے حکم دیا تھا۔“‏

11 جب یسوع کو پیلاطُس کے سامنے لے جایا گیا تو اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ہوں۔“‏ 12 لیکن جب اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں نے اُن پر اِلزام لگائے تو اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 13 تب پیلاطُس نے یسوع سے کہا:‏ ”‏کیا تُم سُن نہیں رہے کہ وہ تمہارے خلاف کیا کیا کہہ رہے ہیں؟“‏ 14 لیکن یسوع نے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اِس پر پیلاطُس بہت حیران ہوا۔‏

15 اب حاکم ہر عیدِفسح پر ایک ایسے قیدی کو رِہا کِیا کرتا تھا جسے لوگ رِہا کروانا چاہتے تھے۔ 16 اُس وقت قیدخانے میں ایک بدنام قیدی تھا جسے برابا کہا جاتا تھا۔ 17 لہٰذا جب وہ سب اِکٹھے تھے تو پیلاطُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏تُم کسے چھڑانا چاہتے ہو؟ برابا کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے؟“‏ 18 کیونکہ پیلاطُس جانتا تھا کہ اُنہوں نے یسوع کو حسد کی وجہ سے اُس کے حوالے کِیا ہے۔ 19 اِس کے علاوہ جب پیلاطُس تختِ‌عدالت پر بیٹھا تھا تو اُس کی بیوی نے اُس کو پیغام بھیجا کہ ”‏آپ اِس نیک آدمی کے معاملے میں نہ پڑیں کیونکہ اِس کی وجہ سے مَیں نے آج خواب میں بڑی تکلیف اُٹھائی ہے۔“‏ 20 لیکن اعلیٰ کاہن اور بزرگ، لوگوں کو اُکسا رہے تھے کہ وہ پیلاطُس سے کہیں کہ ”‏برابا کو چھوڑ دیں اور یسوع کو مار ڈالیں۔“‏ 21 پیلاطُس نے دوبارہ اُن سے پوچھا:‏ ”‏تُم اِن دونوں میں سے کس کو چھڑانا چاہتے ہو؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏برابا کو۔“‏ 22 اِس پر پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں یسوع کے ساتھ کیا کروں جو مسیح کہلاتا ہے؟“‏ اُن سب نے کہا:‏ ”‏اُسے سُولی*‏ پر چڑھا دیں!‏“‏ 23 پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏لیکن کیوں؟ اُس نے کون سا بُرا کام کِیا ہے؟“‏ مگر لوگ اَور زور سے چلّانے لگے:‏ ”‏اُسے سُولی پر چڑھا دیں!‏“‏

24 جب پیلاطُس نے دیکھا کہ اُس کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور لوگ ہنگامہ کرنے لگے ہیں تو اُس نے لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ پانی سے دھوئے اور کہا:‏ ”‏میرا اِس آدمی کے قتل*‏ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ تُم ہی اِس کے ذمے‌دار ہوگے۔“‏ 25 اِس پر سب لوگوں نے جواب دیا:‏ ”‏ٹھیک ہے، اِس کا خون ہمارے اور ہمارے بچوں کے سر پر ہو۔“‏ 26 پھر پیلاطُس نے برابا کو رِہا کر دیا لیکن یسوع کو کوڑے لگوا کر سپاہیوں کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُنہیں سُولی پر چڑھا دیں۔‏

27 سپاہی، یسوع کو حاکم کی رہائش‌گاہ میں لے گئے اور ساری فوج کو اُن کے گِرد جمع کِیا۔ 28 پھر اُنہوں نے یسوع کے کپڑے اُتار دیے اور اُنہیں گہرے سُرخ رنگ کا چوغہ پہنا دیا۔ 29 اور اُنہوں نے کانٹوں سے ایک تاج بنا کر یسوع کے سر پر رکھ دیا اور اُن کے دائیں ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑا دی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اُن کا مذاق اُڑا اُڑا کر کہنے لگے:‏ ”‏یہودیوں کے بادشاہ!‏ آداب!‏“‏ 30 پھر اُنہوں نے یسوع پر تھوکا اور اُن کے ہاتھ سے چھڑی لے کر اُن کے سر پر مارنے لگے۔ 31 جب سپاہی، یسوع کا کافی مذاق اُڑا چکے تو اُنہوں نے چوغہ اُتار کر اُنہیں اُن کے کپڑے پہنا دیے۔ اِس کے بعد وہ اُنہیں سُولی پر لٹکانے کے لیے لے گئے۔‏

32 جب وہ یسوع کو لے جا رہے تھے تو اُن کو کُرینے کا ایک آدمی ملا جس کا نام شمعون تھا۔ اُنہوں نے اِس آدمی سے زبردستی یسوع کی سُولی*‏ اُٹھوائی۔ 33 پھر وہ ایک جگہ پہنچے جس کا نام گلگتا یعنی کھوپڑی تھا۔ 34 وہاں اُنہوں نے یسوع کو مے دی جس میں کوئی کڑوی چیز ملی ہوئی تھی۔ لیکن اُنہوں نے اِسے چکھنے کے بعد پینے سے اِنکار کر دیا۔ 35 جب سپاہیوں نے یسوع کو سُولی پر لٹکا لیا تو اُنہوں نے اُن کے کپڑوں کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے قُرعہ*‏ ڈالا۔ 36 پھر وہ وہاں بیٹھ کر یسوع کی نگرانی کرنے لگے۔ 37 اُنہوں نے یسوع کے سر سے اُوپر ایک تختی بھی لگا دی جس پر یہ اِلزام لکھا تھا:‏ ”‏یہ یہودیوں کا بادشاہ، یسوع ہے۔“‏

38 اُس دن دو ڈاکوؤں کو بھی سُولی پر لٹکایا گیا، ایک کو یسوع کی دائیں طرف اور دوسرے کو اُن کی بائیں طرف۔ 39 جو لوگ وہاں سے گزر رہے تھے، وہ سر ہلا ہلا کر یسوع کی بے‌عزتی کر رہے تھے 40 اور کہہ رہے تھے:‏ ”‏تُو تو کہتا تھا کہ تُو ہیکل*‏ کو گِرا دے گا اور تین دن میں اُسے دوبارہ بنا دے گا۔ اب اپنے آپ کو بچا!‏ اگر تُو واقعی خدا کا بیٹا ہے تو سُولی سے نیچے اُتر کر دِکھا!‏“‏ 41 اِس کے علاوہ اعلیٰ کاہن، شریعت کے عالم اور بزرگ بھی یسوع کا مذاق اُڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏ 42 ‏”‏اِس نے دوسروں کو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا!‏ یہ اِسرائیل کا بادشاہ ہے!‏ دیکھتے ہیں کہ یہ سُولی سے کیسے نیچے اُترتا ہے۔ اگر اُتر آیا تو ہم اِس پر ایمان لے آئیں گے۔ 43 اِسے تو خدا پر بڑا بھروسا تھا۔ اگر خدا واقعی اِسے پسند کرتا ہے تو وہ اِسے بچائے گا بھی۔ آخر یہ کہتا تھا کہ ”‏مَیں خدا کا بیٹا ہوں۔“‏ “‏ 44 اِسی طرح وہ ڈاکو بھی یسوع کی بے‌عزتی کر رہے تھے جو اُن کی دونوں طرف سُولیوں پر لٹکے ہوئے تھے۔‏

45 چھٹے گھنٹے*‏ سے نویں گھنٹے*‏ تک سارے ملک میں تاریکی چھا گئی۔ 46 تقریباً نویں گھنٹے میں یسوع چلّا کر کہنے لگے کہ ”‏ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“‏ جس کا مطلب ہے:‏ میرے خدا، میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ 47 یہ سُن کر وہاں کھڑے کچھ لوگ کہنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی ایلیاہ نبی کو بلا رہا ہے۔“‏ 48 ایک آدمی فوراً بھاگ کر گیا اور ایک سپنج کو کھٹی مے میں ڈبو کر لایا۔ پھر اُس نے اِس کو ایک چھڑی پر لگا کر یسوع کے آگے کِیا تاکہ وہ اِسے چوس سکیں۔ 49 لیکن دوسرے اُس سے کہنے لگے:‏ ”‏ٹھہرو!‏ دیکھتے ہیں کہ ایلیاہ اِسے بچانے آتے ہیں یا نہیں۔“‏ 50 یسوع دوبارہ چلّائے اور پھر اُنہوں نے دم*‏ دے دیا۔‏

51 اور دیکھو!‏ مُقدس مقام کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور اِس کے دو حصے ہو گئے، زمین لرزنے لگی، چٹانیں پھٹ گئیں، 52 قبریں کُھل گئیں اور بہت سے مُقدس لوگوں کی لاشیں اِن میں سے نکل آئیں 53 اور بہت سے لوگوں کو دِکھائی دیں (‏اور یسوع کے زندہ ہونے کے بعد بہت سے لوگ قبرستان سے مُقدس شہر میں آئے)‏۔ 54 جب اُس فوجی افسر اور سپاہیوں نے جو یسوع کی نگرانی کر رہے تھے، زلزلے کا اثر اور باقی سب باتیں دیکھیں تو وہ بہت ڈر گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏بے‌شک یہ خدا کا بیٹا تھا۔“‏

55 بہت سی عورتیں جو یسوع کی خدمت کرنے کے لیے گلیل سے اُن کے ساتھ آئی تھیں، وہ بھی اِن سب باتوں کو کچھ فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھیں۔ 56 اِن عورتوں میں مریم مگدلینی، زبدی کے بیٹوں کی ماں اور یعقوب اور یوسیس کی ماں، مریم بھی تھیں۔‏

57 جب شام ہوئی تو ارمتیاہ کا ایک امیر آدمی آیا جس کا نام یوسف تھا۔ یوسف بھی یسوع کے شاگرد بن چکے تھے۔ 58 وہ پیلاطُس کے پاس گئے اور اُس سے یسوع کی لاش مانگی۔ تب پیلاطُس نے حکم دیا کہ لاش اُن کو دے دی جائے۔ 59 یوسف نے یسوع کی لاش کو لے کر اِسے صاف ستھرے اور اعلیٰ قسم کے لینن میں لپیٹا 60 اور اِسے ایک نئی قبر میں رکھ دیا جو اُنہوں نے اپنے لیے چٹان میں بنوائی تھی۔ پھر اُنہوں نے قبر کے مُنہ کو ایک بہت بڑے پتھر سے بند کر دیا اور وہاں سے چلے گئے۔ 61 لیکن مریم مگدلینی اور دوسری والی مریم یسوع کی قبر کے سامنے بیٹھی رہیں۔‏

62 یہ سب کچھ سبت کی تیاری کے دن ہوا۔ اِس کے اگلے دن اعلیٰ کاہن اور فریسی، پیلاطُس کے پاس آئے 63 اور کہنے لگے:‏ ”‏جناب، ہمیں یاد آیا کہ جب وہ دھوکے‌باز زندہ تھا تو اُس نے کہا تھا کہ ”‏مجھے تین دن کے بعد زندہ کِیا جائے گا۔“‏ 64 اِس لیے یہ حکم دیں کہ تیسرے دن تک قبر کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آئیں اور اُس کی لاش کو چُرا کر لے جائیں اور پھر لوگوں سے کہیں کہ ”‏وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے!‏“‏ تب یہ جھوٹ اُس کے پہلے جھوٹ سے زیادہ نقصان‌دہ ہوگا۔“‏ 65 اِس پر پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏جاؤ، سپاہیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اور جس طرح قبر کی نگرانی کروانا چاہتے ہو، کروا لو۔“‏ 66 لہٰذا وہ گئے اور پتھر کو مضبوطی سے قبر کے مُنہ پر لگا دیا اور پھر وہاں سپاہیوں کو پہرہ دینے کے لیے کھڑا کر دیا۔‏

28 سبت کے بعد ہفتے کے پہلے دن جب سورج نکل رہا تھا تو مریم مگدلینی اور دوسری والی مریم قبر کو دیکھنے آئیں۔‏

2 اور دیکھو!‏ ایک بہت بڑا زلزلہ آیا تھا کیونکہ یہوواہ*‏ کا فرشتہ آسمان سے اُترا تھا اور اُس نے قبر کے مُنہ سے پتھر ہٹا دیا تھا اور اِس پتھر پر بیٹھ گیا تھا۔ 3 وہ بجلی کی طرح چمک رہا تھا اور اُس کے کپڑے برف کی طرح سفید تھے۔ 4 پہرےدار اُسے دیکھ کر ڈر کے مارے کانپنے لگے تھے اور اُن کی حالت مرنے والی ہو گئی تھی۔‏

5 فرشتے نے عورتوں سے کہا:‏ ”‏ڈریں مت کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ آپ یسوع کو ڈھونڈ رہی ہیں جنہیں سُولی*‏ دی گئی تھی۔ 6 وہ یہاں نہیں ہیں۔ جیسے کہ اُنہوں نے کہا تھا، وہ زندہ ہو چکے ہیں۔ آئیں، مَیں آپ کو وہ جگہ دِکھاؤں جہاں اُنہیں رکھا گیا تھا۔ 7 پھر جا کر اُن کے شاگردوں کو بتائیں کہ ”‏یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کر دیا گیا ہے۔ وہ آپ سے پہلے گلیل جا رہے ہیں۔ وہاں آپ اُنہیں دیکھیں گے۔“‏ مَیں آپ کو یہ پیغام دینے آیا تھا۔“‏

8 اِس پر وہ عورتیں خوف اور خوشی کے مارے وہاں سے نکلیں اور شاگردوں کو خبر دینے کے لیے بھاگیں۔ 9 اور دیکھو!‏ راستے میں یسوع اُن سے ملے اور کہا:‏ ”‏سلام!‏“‏ تب وہ دونوں اُن کے قدموں پر گِر گئیں اور اُن کی تعظیم کرنے لگیں۔ 10 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏ڈریں مت۔ جائیں، جا کر میرے بھائیوں کو یہ سب کچھ بتائیں تاکہ وہ گلیل جائیں جہاں وہ مجھے دیکھیں گے۔“‏

11 جب وہ عورتیں راستے میں تھیں تو کچھ پہرےدار شہر گئے اور سارا ماجرا اعلیٰ کاہنوں کو سنایا۔ 12 تب اعلیٰ کاہن اور بزرگ جمع ہوئے اور آپس میں صلاح مشورہ کر کے پہرےداروں کو چاندی کے بہت سے سِکے دیے 13 اور اُن سے کہا:‏ ”‏تُم لوگوں سے کہنا کہ ”‏رات کو جب ہم سو رہے تھے تو اُس کے شاگرد اُس کی لاش چوری کر کے لے گئے۔“‏ 14 اور اگر یہ بات کسی طرح حاکم کے کانوں تک پہنچ گئی تو فکر نہ کرنا؛ ہم اُسے سمجھا لیں گے۔“‏ 15 لہٰذا اُنہوں نے سِکے لیے اور بالکل ویسا ہی کِیا جیسا اُن سے کہا گیا تھا۔ اور یہ بات آج تک یہودیوں میں پھیلی ہوئی ہے۔‏

16 لیکن 11 شاگرد گلیل میں اُس پہاڑ پر گئے جس پر یسوع نے اُن سے ملنا تھا۔ 17 جب اُنہوں نے یسوع کو دیکھا تو اُن کی تعظیم کی*‏ لیکن اُن میں سے کچھ کو اِس بات پر شک تھا کہ یہ یسوع ہیں۔ 18 یسوع اُن کے پاس آ کر کہنے لگے:‏ ”‏آسمان اور زمین کا سارا اِختیار مجھے دیا گیا ہے۔ 19 اِس لیے جائیں، سب قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دیں۔ 20 اور اُن کو اُن سب باتوں پر عمل کرنا سکھائیں جن کا مَیں نے آپ کو حکم دیا ہے۔ اور دیکھیں!‏ مَیں دُنیا کے آخری زمانے تک ہر وقت آپ کے ساتھ رہوں گا۔“‏

یا ”‏مسح‌شُدہ۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏یسوع مسیح کا نسب‌نامہ۔“‏

یا ”‏باعمل قوت“‏

بائبل کے یونانی صحیفوں کے اِس ترجمے میں یہ پہلی آیت ہے جس میں خدا کا نام یہوواہ اِستعمال ہوا ہے۔ یونانی صحیفوں کے اِس ترجمے میں یہ نام 237 بار اِستعمال ہوا ہے۔ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏یشوع۔“‏ عبرانی میں اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏یہوواہ نجات ہے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُس کے سامنے جھکنے“‏

یا ”‏مسح‌شُدہ شخص۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یہ لفظ شاید اُس عبرانی لفظ سے آیا ہے جس کا مطلب ہے:‏ ”‏شاخ۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دریائے‌یردن“‏

یا ”‏ڈبکی لی“‏

یونانی میں:‏ ”‏ایسے پھل پیدا کرو“‏

یا ”‏ترنگلی۔“‏ ایک قسم کا شاخ‌دار بیلچہ جو گندم کو بھوسے سے الگ کرنے کے لیے اِستعمال ہوتا ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی یروشلیم

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏فصیل؛ سب سے اُونچی چھت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دس شہروں کے علاقے“‏

یا ”‏جو پاک روح کی بھیک مانگتے ہیں“‏

یا ”‏حلیم“‏

یونانی میں:‏ ”‏جنہیں نیکی کی بھوک اور پیاس ہے“‏

یا ”‏صلح کراتے ہیں“‏

یہ یروشلیم سے باہر ایک جگہ تھی جہاں پر کچرا جلایا جاتا تھا۔ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏آخری کوادرانس“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یعنی سُود کے بغیر قرضہ

یا ”‏باجا“‏

یا ”‏پاک ثابت ہو۔“‏

یا ”‏تیری مرضی آسمان اور زمین پر ہو۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏قرض“‏

یونانی میں:‏ ”‏جو ہمارے قرض‌دار ہیں۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یونانی میں:‏ ”‏آنکھ سادہ ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏آنکھ بُری ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏جان“‏

یونانی میں:‏ ”‏ہاتھ“‏

یونانی میں:‏ ”‏پھلوں“‏

یونانی میں:‏ ”‏پھلوں“‏

یا ”‏اُن کے سامنے جھکا“‏

یا ”‏پاک؛ صاف“‏

یونانی میں:‏ ”‏روحوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی کفرنحوم جہاں یسوع گلیل کے علاقے میں مُنادی کرتے وقت اکثر ٹھہرتے تھے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی ایسا کپڑا جسے دھویا یا شرِنک نہ کِیا گیا ہو۔‏

یا ”‏اُن کے سامنے جھک کر“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحوں“‏

یا ”‏جوشیلا“‏

یونانی میں:‏ ”‏اپنی پیٹی میں“‏

یا ”‏ایک اَور کُرتا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یہ شیطان یعنی بُرے فرشتوں کے حاکم کا ایک لقب ہے۔‏

یا ”‏زندگی“‏ یعنی آئندہ جینے کا موقع

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ایک اساریون“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏چھوٹوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کاموں کے نتائج“‏

یا ”‏سچ“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏میرے ساتھ جُوئے میں جت جاؤ۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏آپ کی جانیں“‏

یا ”‏میرا جُوا اُٹھانا آسان ہے“‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏فالج‌زدہ“‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان خوش ہے۔“‏

یہ شیطان کا ایک لقب ہے۔‏

یونانی میں:‏ ”‏زِناکار“‏

یونانی میں:‏ ”‏جنوب کی ملکہ“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روح“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یا ”‏زمانے“‏

یہ ایسے جنگلی پودے تھے جو دِکھنے میں گندم کی طرح لگتے تھے لیکن زہریلے تھے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یعنی ہیرودیس انتپاس۔ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بہت سے ستادیون۔“‏ ایک ستادیون 185 میٹر (‏تقریباً 607 فٹ)‏ تھا۔‏

صبح تقریباً تین بجے سے سورج نکلنے تک یعنی تقریباً چھ بجے تک

یا ”‏کیا ہم خواب دیکھ رہے ہیں؟“‏

یا ”‏یسوع کے سامنے جھکے“‏

یعنی یہودیوں کی مذہبی روایت کے مطابق ہاتھ نہیں دھوتے

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی یہودیوں کی مذہبی روایت کے مطابق ہاتھ دھوئے بغیر

یا ”‏اُن کے سامنے جھک کر“‏

یونانی میں:‏ ”‏زِناکار“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یہ آیت کئی قدیم نسخوں میں نہیں پائی جاتی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اِلہامی صحیفوں کا حصہ نہیں ہے۔‏

یعنی خدا کا گھر

یونانی میں:‏ ”‏دو دِرہم“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ستاتر“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏آپ کا“‏

یونانی میں:‏ ”‏اُس کی درستی کریں۔“‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏غیرقوم کا آدمی“‏

یونانی میں:‏ ”‏10 ہزار تلنتون“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نعمت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

تقریباً صبح نو بجے

تقریباً دوپہر بارہ بجے اور تین بجے

تقریباً شام پانچ بجے

یونانی میں:‏ ”‏کیا تمہاری آنکھ بُری ہے“‏

یا ”‏فیاض“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ہوشعنا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

یونانی میں:‏ ”‏آسمان“‏

یونانی میں:‏ ”‏وراثت“‏

یونانی میں:‏ ”‏کونے کا سر“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏پھل لاتی ہے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یہ تعویذ چھوٹی ڈبیوں کی شکل میں ہوتے تھے جن میں توریت کی آیتیں لکھ کر رکھی جاتی تھیں۔‏

یا ”‏سب سے اچھی“‏

یا ”‏اُستاد“‏

یسوع یہ کہہ رہے تھے کہ کسی کو مذہبی لحاظ سے باپ کا لقب نہ دیا جائے جیسا کہ فادر وغیرہ۔‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏دہ‌یکی“‏

یونانی میں:‏ ”‏لُوٹ کے مال“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بچے کی پیدائش کے وقت کی دردوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

عقاب کی کچھ قسمیں لاشیں کھاتی ہیں۔‏

یا ”‏باجے“‏

یعنی اِنسان کا بیٹا

یا ”‏رات کے کس وقت“‏

یا ”‏دانش‌مند“‏

یا ”‏دانش‌مند“‏

یونانی میں:‏ ”‏پانچ تلنتون۔“‏ ایک تلنتون 4.‏20 کلوگرام کے برابر تھا۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جب مَیں ادھ‌ننگا تھا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُنہوں نے زبور گائے“‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان اِتنی پریشان ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏آمادہ ہے“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏لگیون۔“‏ رومی فوج میں ایک لگیون میں تقریباً 4000 سے 6000 فوجی ہوتے تھے۔‏

یعنی خدا کا گھر

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏تمہارے تلفظ“‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏خون“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

تقریباً دوپہر بارہ بجے

تقریباً دوپہر تین بجے

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُن کے سامنے جھکے“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں