یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د 1-‏یوحنا 1:‏1-‏5:‏21
  • 1-‏یوحنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 1-‏یوحنا
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
1-‏یوحنا

یوحنا کا پہلا خط

1 وہ جو شروع سے تھا، جس کی باتیں ہم نے سنیں، جسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس پر ہم نے غور کِیا اور جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے چُھوا یعنی زندگی کے کلام کے متعلق 2 ‏(‏بے‌شک زندگی ظاہر ہوئی اور ہم نے اُس ہمیشہ کی زندگی کو دیکھا جو باپ کے پاس تھی اور ہم پر ظاہر ہوئی۔ اور ہم اُس کے بارے میں گواہی دے رہے ہیں اور آپ کو بتا رہے ہیں)‏ 3 جسے ہم نے دیکھا اور جس کی باتیں ہم نے سنیں، ہم اُس کے بارے میں آپ کو بھی بتا رہے ہیں تاکہ آپ بھی ہمارے ساتھی*‏ بن جائیں اور یوں ہم سب آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھی بن جائیں۔ 4 ہم یہ باتیں اِس لیے لکھ رہے ہیں کہ ہماری خوشی مکمل ہو جائے۔‏

5 جو پیغام ہم نے مسیح سے سنا اور آپ کو سنا رہے ہیں، وہ یہ ہے:‏ خدا روشنی ہے اور اُس میں کوئی تاریکی نہیں ہے۔ 6 اگر ہم کہتے ہیں کہ ”‏ہم اُس کے ساتھی ہیں“‏ مگر پھر بھی تاریکی میں چلتے رہتے ہیں تو ہم جھوٹ بول رہے ہیں اور سچائی پر عمل نہیں کر رہے۔ 7 لیکن اگر ہم روشنی میں چل رہے ہیں جس طرح وہ روشنی میں ہے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور اُس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں سب گُناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔‏

8 اگر ہم کہتے ہیں کہ ”‏ہم نے گُناہ نہیں کِیا“‏ تو ہم خود کو دھوکا دے رہے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں ہے۔ 9 اگر ہم اپنے گُناہوں کا اِعتراف کرتے ہیں تو وہ ہمارے گُناہوں کو معاف کرتا ہے اور ہمیں بُرائی سے پاک کرتا ہے کیونکہ وہ وفادار اور نیک ہے۔ 10 لیکن اگر ہم کہتے ہیں کہ ”‏ہم نے گُناہ نہیں کِیا“‏ تو ہم خدا کو جھوٹا بناتے ہیں اور اُس کا کلام ہمارے دل میں نہیں ہے۔‏

2 میرے پیارے بچو، مَیں آپ کو یہ باتیں اِس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ گُناہ نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شخص گُناہ کرے بھی تو آسمانی باپ کے پاس ہمارا ایک مددگار*‏ ہے یعنی یسوع مسیح جو نیک ہے۔ 2 وہ ہمارے گُناہوں کے لیے کفارے کی قربانی ہے اور نہ صرف ہمارے بلکہ پوری دُنیا کے گُناہوں کے لیے بھی۔ 3 ہمیں پتہ ہے کہ ہم اُس کو جان گئے ہیں کیونکہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ 4 جو شخص کہتا ہے کہ ”‏مَیں اُس کو جان گیا ہوں“‏ مگر اُس کے حکموں پر عمل نہیں کرتا، وہ جھوٹا ہے اور اُس میں سچائی نہیں ہے۔ 5 لیکن جو شخص اُس کے کلام پر عمل کرتا ہے، اُس کے دل میں خدا کے لیے محبت مکمل ہو گئی ہے اور یوں ہم جانتے ہیں کہ ہم اُس کے ساتھ متحد ہیں۔ 6 جو شخص کہتا ہے کہ ”‏مَیں اُس کے ساتھ متحد رہتا ہوں،“‏ اُس کا فرض ہے کہ وہ بھی اُسی طرح چلتا رہے جس طرح وہ چلتا تھا۔‏

7 عزیزو، مَیں آپ کو ایک نئے حکم کے بارے میں نہیں بلکہ ایک پُرانے حکم کے بارے میں لکھ رہا ہوں جو آپ کو شروع سے ملا تھا۔ یہ پُرانا حکم وہ بات ہے جو آپ نے سنی تھی۔ 8 لیکن مَیں آپ کو ایک نئے حکم کے بارے میں بھی لکھ رہا ہوں جس پر اُس نے اور آپ نے عمل کِیا کیونکہ تاریکی مٹ رہی ہے اور حقیقی روشنی ابھی سے چمک رہی ہے۔‏

9 جو شخص کہتا ہے کہ وہ روشنی میں ہے لیکن اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے، وہ ابھی تک تاریکی میں ہے۔ 10 جو اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے، وہ روشنی میں رہتا ہے اور بھٹکتا نہیں۔ 11 لیکن جو اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے، وہ تاریکی میں ہے اور تاریکی میں چل رہا ہے اور اُس کو پتہ نہیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے کیونکہ تاریکی کی وجہ سے اُس کو کچھ دِکھائی نہیں دیتا۔‏

12 پیارے بچو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ کے گُناہ مسیح کے نام کی خاطر معاف ہو گئے ہیں۔ 13 والدو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ اُس کو جان گئے ہیں جو شروع سے ہے۔ جوانو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ شیطان*‏ پر غالب آ گئے ہیں۔ چھوٹے بچو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ باپ کو جان گئے ہیں۔ 14 والدو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ اُس کو جان گئے ہیں جو شروع سے ہے۔ جوانو، مَیں آپ کو اِس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ آپ طاقت‌ور ہیں اور خدا کا کلام آپ کے دل میں رہتا ہے اور آپ شیطان*‏ پر غالب آ گئے ہیں۔‏

15 نہ دُنیا سے محبت کریں اور نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ اگر کوئی دُنیا سے محبت کرتا ہے تو وہ باپ سے محبت نہیں کرتا۔ 16 کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور مال‌ودولت کا دِکھاوا،‏*‏ وہ باپ سے نہیں بلکہ دُنیا سے ہے۔ 17 دُنیا اور اُس کی خواہش مٹ رہی ہے لیکن جو خدا کی مرضی پر عمل کرتا ہے، وہ ہمیشہ رہے گا۔‏

18 پیارے بچو، اب آخری گھنٹہ آ گیا ہے اور آپ نے سنا ہے کہ مسیح کا مخالف آ رہا ہے بلکہ مسیح کے بہت سے مخالف آ چکے ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ آخری گھنٹہ ہے۔ 19 وہ لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے کیونکہ وہ ہماری طرح نہیں تھے۔‏*‏ اگر وہ ہماری طرح ہوتے تو وہ ہمارے ساتھ رہتے۔ لیکن وہ چلے گئے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ سب لوگ ہماری طرح نہیں ہیں۔ 20 مُقدس خدا نے آپ کو مسح*‏ کِیا ہے اور آپ سب کے پاس علم ہے۔ 21 مَیں آپ کو اِس لیے نہیں لکھ رہا کہ آپ سچائی کو نہیں جانتے بلکہ اِس لیے کہ آپ اِسے جانتے ہیں اور جھوٹ کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‏

22 جھوٹا کون ہے؟ کیا وہ نہیں جو اِنکار کرتا ہے کہ یسوع، مسیح ہیں؟ ہاں، وہی مسیح کا مخالف ہے جو باپ کا اور بیٹے کا اِنکار کرتا ہے۔ 23 جو شخص بیٹے کا اِنکار کرتا ہے، اُس کا باپ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جو شخص بیٹے کا اِقرار کرتا ہے، اُس کا باپ سے بھی تعلق ہوتا ہے۔ 24 لیکن جہاں تک آپ کی بات ہے، لازمی ہے کہ جو باتیں آپ نے شروع سے سنی ہیں، وہ آپ کے دل میں رہیں۔ اگر وہ باتیں جو آپ نے شروع سے سنی ہیں، آپ کے دل میں رہیں گی تو آپ بیٹے اور باپ کے ساتھ متحد رہیں گے۔ 25 اور اُس نے ہم سے جس چیز کا وعدہ کِیا ہے، وہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔‏

26 مَیں آپ کو اُن لوگوں کے بارے میں یہ باتیں لکھ رہا ہوں جو آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 27 جہاں تک آپ کا تعلق ہے، خدا نے آپ کو مسح کِیا ہے اور آپ مسح‌شُدہ رہتے ہیں اور اِس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی آپ کو سکھائے۔ یہ مسح جھوٹا نہیں بلکہ سچا ہے اور اِسی کے ذریعے آپ کو سب باتوں کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ لہٰذا اُس کے ساتھ متحد رہیں جیسے آپ کو سکھایا گیا ہے۔ 28 اِس لیے پیارے بچو، اُس کے ساتھ متحد رہیں تاکہ جب وہ ظاہر ہو تو ہم دلیری سے بات کر سکیں اور اُس کی موجودگی کے وقت شرم کے مارے پیچھے نہ ہٹیں۔ 29 اگر آپ جانتے ہیں کہ وہ نیک ہے تو آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو بھی شخص نیکی کرتا ہے، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔‏

3 دیکھیں، باپ نے ہم سے اِتنی محبت کی ہے کہ ہم خدا کے بچے کہلاتے ہیں!‏ اور ہم واقعی خدا کے بچے ہیں۔ اِس لیے دُنیا ہمیں نہیں جانتی کیونکہ وہ اُس کو بھی نہیں جانتی۔ 2 عزیزو، اب ہم خدا کے بچے ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مستقبل میں ہم کیا ہوں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ہم اُس کی طرح ہوں گے کیونکہ ہم اُس کو ویسے ہی دیکھیں گے جیسے وہ ہے۔ 3 اور جو شخص یہ اُمید رکھتا ہے،‏*‏ وہ خود کو پاک کرتا ہے جس طرح وہ پاک ہے۔‏

4 جو شخص عادتاً گُناہ کرتا ہے، وہ عادتاً بُرائی بھی کرتا ہے اور گُناہ بُرائی ہے۔ 5 آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ہمارے گُناہوں کو دُور کرنے کے لیے ظاہر ہوا اور وہ گُناہ سے پاک ہے۔ 6 جو شخص اُس کے ساتھ متحد رہتا ہے، وہ عادتاً گُناہ نہیں کرتا۔ جو عادتاً گُناہ کرتا ہے، اُس نے نہ تو اُس کو دیکھا ہے اور نہ ہی اُس کو جانا ہے۔ 7 پیارے بچو، کسی کو اِجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو گمراہ کرے۔ جو عادتاً نیکی کرتا ہے، وہ بھی اُس کی طرح نیک ہے۔ 8 جو عادتاً گُناہ کرتا ہے، وہ اِبلیس سے ہے کیونکہ اِبلیس شروع سے*‏ گُناہ کرتا آیا ہے۔ خدا کا بیٹا اِس لیے ظاہر ہوا کہ اِبلیس کے کاموں کو ختم*‏ کر دے۔‏

9 جو بھی شخص خدا سے پیدا ہوا ہے، وہ عادتاً گُناہ نہیں کرتا کیونکہ اُس کو خدا کی طرف سے جو بیج*‏ ملا ہے، وہ اُس میں رہتا ہے۔ اور وہ شخص عادتاً گُناہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔ 10 خدا کے بچوں اور اِبلیس کے بچوں میں فرق اِس سے ظاہر ہوتا ہے:‏ جو شخص عادتاً نیکی نہیں کرتا اور جو شخص اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتا، وہ خدا سے نہیں ہے۔ 11 کیونکہ آپ نے شروع سے یہ پیغام سنا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے۔ 12 ہمیں قائن کی طرح نہیں ہونا چاہیے جو شیطان*‏ سے تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔ اور اُس نے اپنے بھائی کو قتل کیوں کِیا؟ کیونکہ اُس کے اپنے کام بُرے تھے جبکہ اُس کے بھائی کے کام نیک تھے۔‏

13 بھائیو، اِس بات پر حیران نہ ہوں کہ دُنیا آپ سے نفرت کرتی ہے۔ 14 ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے زندگی کی طرف آ گئے ہیں کیونکہ ہم اپنے بھائیوں سے محبت کرتے ہیں۔ جو شخص محبت نہیں کرتا، وہ موت کی حالت میں رہتا ہے۔ 15 جو شخص اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے، وہ قاتل ہے اور آپ جانتے ہیں کہ کسی قاتل کو ہمیشہ کی زندگی نہیں ملتی۔ 16 ہم جان گئے ہیں کہ محبت کیا ہے کیونکہ اُس نے ہمارے لیے جان دے دی اور ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنے بھائیوں کے لیے جان دے دیں۔ 17 لیکن اگر کسی کے پاس گزربسر کرنے کے لیے دُنیا کی چیزیں ہیں اور وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا بھائی ضرورت‌مند ہے مگر ترس کھا کر اُس کی مدد نہیں کرتا تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتا ہے؟ 18 پیارے بچو، ہمیں زبانی کلامی نہیں بلکہ کاموں اور سچائی سے محبت ظاہر کرنی چاہیے۔‏

19 یوں ہم جان جائیں گے کہ ہم سچائی کی طرف ہیں اور اپنے دل کو یقین دِلائیں گے کہ خدا ہمیں قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ 20 اور اگر ہمارا دل ہمیں قصوروار ٹھہرائے بھی تو یاد رکھیں کہ خدا ہمارے دل سے بڑا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ 21 عزیزو، اگر ہمارا دل ہمیں قصوروار نہیں ٹھہراتا تو ہم دلیری سے خدا سے بات کر سکتے ہیں۔ 22 اور جو کچھ ہم اُس سے مانگتے ہیں، ہمیں ملتا ہے کیونکہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو اُس کو پسند ہیں۔ 23 بے‌شک اُس کا حکم یہ ہے کہ ہم اُس کے بیٹے یسوع مسیح کے نام پر ایمان لائیں اور اُس کے حکم کے مطابق ایک دوسرے سے محبت کریں۔ 24 اِس کے علاوہ جو شخص خدا کے حکموں پر عمل کرتا ہے، وہ خدا کے ساتھ متحد رہتا ہے اور خدا اُس کے ساتھ متحد رہتا ہے۔ اور اُس نے ہمیں جو روح دی ہے، اُس کے ذریعے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ متحد رہتا ہے۔‏

4 عزیزو، ہر روحانی پیغام*‏ پر یقین نہ کریں بلکہ روحانی پیغاموں*‏ کو آزمائیں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی اِس دُنیا میں آئے ہیں۔‏

2 آپ اِس طرح پتہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا روحانی پیغام واقعی خدا کی طرف سے ہے:‏ ایسا روحانی پیغام جس میں اِقرار کِیا جاتا ہے کہ یسوع مسیح اِنسان کے طور پر آئے، وہ خدا کی طرف سے ہے۔ 3 لیکن ایسا روحانی پیغام جس میں یسوع کا اِقرار نہیں کِیا جاتا، وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہی تو مسیح کے مخالف کا روحانی پیغام ہے جس کے بارے میں آپ نے سنا کہ وہ سنایا جائے گا اور وہ ابھی سے دُنیا میں سنایا جا رہا ہے۔‏

4 پیارے بچو، آپ خدا سے ہیں اور جھوٹے نبیوں پر غالب آئے ہیں کیونکہ جو آپ کے ساتھ متحد ہے، وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا کے ساتھ متحد ہے۔ 5 وہ لوگ دُنیا سے ہیں۔ اِس لیے اُن کی باتیں دُنیا سے ہیں اور دُنیا اُن کی سنتی ہے۔ 6 لیکن ہم خدا سے ہیں۔ جو شخص خدا کو جان جاتا ہے، وہ ہماری سنتا ہے۔ جو شخص خدا سے نہیں ہے، وہ ہماری نہیں سنتا۔ یوں ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا روحانی پیغام سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔‏

7 عزیزو، آئیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے رہیں کیونکہ محبت خدا سے ہے اور جو شخص محبت کرتا ہے، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔ 8 جو شخص محبت نہیں کرتا، وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔ 9 خدا نے ہمارے لیے محبت اِس طرح ظاہر کی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا*‏ دُنیا میں بھیجا تاکہ اُس کے ذریعے ہم زندگی حاصل کر سکیں۔ 10 اِس سلسلے میں محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ یہ کہ اُس نے ہم سے محبت کی اور اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے گُناہوں کے لیے کفارے کی قربانی بنے۔‏

11 عزیزو، اگر خدا نے ہم سے اِتنی محبت کی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی ایک دوسرے سے محبت کریں۔ 12 کسی نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے رہیں گے تو خدا ہمارے ساتھ رہے گا اور اُس کی محبت ہم میں مکمل طور پر ظاہر ہوگی۔ 13 ہم جانتے ہیں کہ ہم اُس کے ساتھ متحد ہیں اور وہ ہمارے ساتھ متحد ہے کیونکہ اُس نے ہمیں اپنی روح دی ہے۔ 14 اِس کے علاوہ ہم نے خود دیکھا ہے کہ باپ نے اپنے بیٹے کو دُنیا کا نجات‌دہندہ بنا کر بھیجا اور ہم اِس بارے میں گواہی بھی دیتے ہیں۔ 15 جو شخص اِقرار کرتا ہے کہ یسوع، خدا کے بیٹے ہیں، وہ خدا کے ساتھ متحد رہتا ہے اور خدا اُس کے ساتھ متحد رہتا ہے۔ 16 اور ہم جان گئے ہیں کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اِس بات پر یقین بھی رکھتے ہیں۔‏

خدا محبت ہے اور جو شخص محبت کرتا رہے گا، وہ خدا کے ساتھ متحد رہے گا اور خدا اُس کے ساتھ متحد رہے گا۔ 17 لہٰذا محبت ہم میں مکمل طور پر ظاہر ہو گئی ہے تاکہ ہم اُس وقت دلیری*‏ سے بات کر سکیں جب ہماری عدالت ہوتی ہے کیونکہ اِس دُنیا میں رہتے ہوئے ہم ویسے ہی ہیں جیسے وہ ہے۔ 18 جو شخص محبت کرتا ہے، وہ خوف نہیں کھاتا۔ کامل محبت، خوف کو نکال*‏ دیتی ہے کیونکہ خوف ہمارے لیے ایک رُکاوٹ ہے۔ دراصل جو شخص خوف کھاتا ہے، اُس کی محبت کامل نہیں۔ 19 ہم اِس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ پہلے اُس نے ہم سے محبت کی۔‏

20 اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ”‏مَیں خدا سے محبت کرتا ہوں“‏ لیکن اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتا جس کو وہ دیکھ سکتا ہے، وہ خدا سے بھی محبت نہیں کرتا جس کو اُس نے نہیں دیکھا۔ 21 اور ہمیں اُس سے یہ حکم ملا ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے، وہ اپنے بھائی سے بھی محبت کرے۔‏

5 جس شخص کو یقین ہے کہ یسوع، مسیح ہیں، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔ جو شخص پیدا کرنے والے سے محبت کرتا ہے، وہ اُس سے بھی محبت کرتا ہے جو اُس سے پیدا ہوا ہے۔ 2 ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا کے بچوں سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ 3 خدا سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں اور اُس کے حکم ہمارے لیے بوجھ نہیں ہیں۔ 4 کیونکہ جو شخص*‏ خدا سے پیدا ہوا ہے، وہ دُنیا پر غالب آتا ہے۔ اور جس چیز کے ذریعے ہم دُنیا پر غالب آئے ہیں، وہ ہمارا ایمان ہے۔‏

5 کون سا شخص دُنیا پر غالب آ سکتا ہے؟ کیا وہی نہیں جو ایمان رکھتا ہے کہ یسوع، خدا کے بیٹے ہیں؟ 6 یسوع مسیح وہی ہیں جو پانی اور خون کے ذریعے آئے۔ وہ نہ صرف پانی کے ساتھ آئے بلکہ پانی اور خون دونوں کے ساتھ۔ اور روح اِس بات کی گواہی دیتی ہے کیونکہ روح سچی ہے۔ 7 کیونکہ تین چیزیں ہیں جو گواہی دیتی ہیں:‏ 8 روح، پانی اور خون۔ اور تینوں ایک ہی بات کی گواہی دیتی ہیں۔‏

9 اگر ہم اِنسانوں کی گواہی قبول کرتے ہیں تو خدا کی گواہی تو اِس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کیونکہ خدا خود اپنے بیٹے کے بارے میں گواہی دیتا ہے۔ 10 جو شخص خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے، وہ اُس کی گواہی کو قبول کرتا ہے۔ جو شخص خدا پر یقین نہیں کرتا، وہ اُسے جھوٹا بناتا ہے کیونکہ وہ اُس گواہی پر ایمان نہیں لایا جو خدا نے اپنے بیٹے کے بارے میں دی ہے۔ 11 اور خدا کی گواہی یہ ہے کہ اُس نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی دی ہے اور یہ زندگی اُس کے بیٹے کے ذریعے سے ہے۔ 12 جو شخص بیٹے کو قبول کرتا ہے، اُس کے پاس یہ زندگی ہے۔ جو شخص خدا کے بیٹے کو قبول نہیں کرتا، اُس کے پاس یہ زندگی نہیں ہے۔‏

13 مَیں آپ لوگوں کو جو خدا کے بیٹے کے نام پر ایمان رکھتے ہیں، یہ باتیں اِس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ جان لیں کہ آپ کے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے۔ 14 اور ہمیں اُس پر یہ اِعتماد ہے کہ*‏ ہم اُس کی مرضی کے مطابق جو کچھ مانگیں گے، وہ ہماری سنے گا۔ 15 اور چونکہ ہم جانتے ہیں کہ چاہے ہم کچھ بھی مانگیں، وہ ہماری سنتا ہے اِس لیے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں وہ چیزیں ملیں گی جو ہم نے مانگی ہیں کیونکہ ہم نے یہ چیزیں اُس سے مانگی ہیں۔‏

16 اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ اُس کا بھائی ایک ایسا گُناہ کر رہا ہے جس کا انجام موت نہیں ہے تو وہ اُس کی خاطر دُعا کرے اور خدا اُسے زندگی دے گا۔ ہاں، وہ اُن کو زندگی دے گا جو ایسے گُناہ کرتے ہیں جن کا انجام موت نہیں ہے۔ لیکن ایک ایسا گُناہ ہے جس کا انجام موت ہے۔ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اُن لوگوں کے لیے دُعا کریں جو اِس طرح کا گُناہ کرتے ہیں۔ 17 ہر طرح کی بُرائی گُناہ ہے۔ لیکن ایک ایسا گُناہ ہے جس کا انجام موت نہیں ہے۔‏

18 ہم جانتے ہیں کہ جو شخص خدا سے پیدا ہوا ہے، وہ عادتاً گُناہ نہیں کرتا۔ لیکن وہ جو خدا سے پیدا ہوا ہے،‏*‏ اُس کی حفاظت کرتا ہے اور اِس لیے شیطان*‏ اُسے اپنے قابو میں نہیں کر سکتا۔ 19 ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں لیکن پوری دُنیا شیطان*‏ کے قبضے میں ہے۔ 20 ہم جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آیا اور اُس نے ہمیں سمجھ*‏ عطا کی تاکہ ہم اُس کے بارے میں علم حاصل کر سکیں جو سچا ہے۔ اور ہم اُس سچے کے ساتھ اُس کے بیٹے یسوع مسیح کے ذریعے متحد ہیں۔ وہی سچا خدا اور ہمیشہ کی زندگی ہے۔ 21 پیارے بچو، بُتوں سے کنارہ کریں۔‏

یا ”‏حصے‌دار“‏

یا ”‏وکیل“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یا ”‏مال‌ودولت پر شیخی بگھارنا“‏

یا ”‏وہ ہمارے نہیں تھے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُس پر اُمید رکھتا ہے“‏

یا ”‏اِبلیس جب سے غلط راہ پر چلنے لگا تب سے“‏

یا ”‏بے‌اثر“‏

یعنی ایسا بیج جو پھل لائے یا جس کے ذریعے نسل آگے بڑھے۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یونانی میں:‏ ”‏ہر روح“‏

یونانی میں:‏ ”‏روحوں“‏

یعنی وہ واحد بیٹا جسے خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏

یا ”‏اِعتماد“‏

یا ”‏بھگا“‏

یونانی میں:‏ ”‏جو کچھ“‏

یا ”‏اور ہم اُس سے دلیری سے بات کر سکتے ہیں کیونکہ“‏

یعنی خدا کا بیٹا یسوع مسیح

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یونانی میں:‏ ”‏سوچنے سمجھنے کی صلاحیت“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں