گلتیوں کے نام خط
1 مَیں پولُس، ایک ایسا رسول ہوں جسے اِنسانوں کی طرف سے یا اِنسانوں کے ذریعے رسول مقرر نہیں کِیا گیا بلکہ یسوع مسیح اور ہمارے باپ خدا کے ذریعے جس نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کِیا۔ 2 میری اور میرے ساتھ موجود بھائیوں کی طرف سے گلتیہ کی کلیسیاؤں* کے نام:
3 ہمارا باپ خدا اور ہمارے مالک یسوع مسیح آپ کو عظیم رحمت اور سلامتی عطا کریں۔ 4 یسوع نے ہمارے خدا اور باپ کی مرضی کے مطابق ہمارے گُناہوں کے لیے اپنی جان دے دی تاکہ ہمیں اِس بُری دُنیا* سے بچائیں۔ 5 خدا کی بڑائی ہمیشہ ہمیشہ ہو۔ آمین۔
6 مَیں بہت حیران ہوں کہ آپ اِتنی جلدی اُس خدا سے مُنہ پھیر رہے ہیں جس نے آپ کو مسیح کی عظیم رحمت سے بلایا اور اب کسی اَور طرح کی خوشخبری پر دھیان دے رہے ہیں۔ 7 اصل میں تو کوئی اَور خوشخبری ہے ہی نہیں۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو مسیح کے بارے میں خوشخبری کو توڑمروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور آپ کو پریشان کر رہے ہیں۔ 8 لیکن اگر ہم یا ایک فرشتہ بھی آپ کو کوئی ایسی خوشخبری سنائے جو اُس خوشخبری سے فرق ہو جو ہم نے آپ کو سنائی تو اُس پر لعنت ہو۔ 9 جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے، مَیں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ جو بھی شخص آپ کو اُس خوشخبری سے ہٹ کر کوئی خوشخبری سنائے جس پر آپ ایمان لائے، وہ لعنتی ہو۔
10 مَیں کس کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ اِنسانوں کو یا خدا کو؟ کیا مَیں اِنسانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ اگر اب بھی مَیں اِنسانوں کو خوش کروں تو مَیں مسیح کا غلام نہیں۔ 11 بھائیو، مَیں چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ جو خوشخبری مَیں نے آپ کو سنائی، وہ اِنسانوں کی طرف سے نہیں 12 کیونکہ یہ مجھے کسی اِنسان سے نہیں ملی اور نہ ہی سکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح نے اِسے مجھ پر ظاہر کِیا۔
13 آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ جب مَیں یہودی تھا تو مَیں خدا کی کلیسیا کو سخت اذیت دیتا تھا اور اِسے تباہ کرنے کے درپے تھا 14 اور مَیں اپنے بہت سے ہمعمروں کے مقابلے میں زیادہ جوش سے یہودی مذہب کی پیروی کرتا تھا کیونکہ مَیں اپنے باپدادا کی روایتوں پر عمل کرنے میں پیش پیش تھا۔ 15 لیکن جب خدا نے جس نے مجھے ماں کے رحم سے الگ کِیا اور اپنی عظیم رحمت کے ذریعے بلایا، یہ مناسب سمجھا کہ 16 میرے ذریعے اپنے بیٹے کو ظاہر کرے اور غیریہودیوں کو خوشخبری سنائے تو مَیں نے کسی اِنسان سے مشورہ نہیں کِیا 17 اور نہ ہی یروشلیم میں اُن رسولوں کے پاس گیا جو مجھ سے پہلے رسول بنے تھے۔ اِس کی بجائے مَیں عرب گیا اور وہاں سے واپس دمشق آیا۔
18 اِس کے تین سال بعد مَیں کیفا* سے ملنے یروشلیم گیا اور 15 دن اُن کے پاس رہا۔ 19 لیکن وہاں مَیں کسی اَور رسول سے نہیں ملا سوائے یعقوب کے جو ہمارے مالک کے بھائی ہیں۔ 20 مَیں خدا کو حاضروناظر جان کر آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ جو باتیں مَیں آپ کو لکھ رہا ہوں، وہ جھوٹ نہیں ہیں۔
21 اِس کے بعد مَیں سُوریہ اور کِلکیہ کے علاقوں میں گیا۔ 22 لیکن یہودیہ کی کلیسیائیں جو مسیح کے ساتھ متحد ہیں، مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں۔ 23 اُنہوں نے بس اِتنا سُن رکھا تھا کہ ”وہ آدمی جو پہلے ہمیں اذیت دیتا تھا، اب اُسی مذہب کے بارے میں خوشخبری سنا رہا ہے جس کو وہ مٹانے پر تُلا تھا۔“ 24 لہٰذا وہ میری وجہ سے خدا کی بڑائی کرنے لگے۔
2 پھر 14 سال بعد مَیں دوبارہ یروشلیم گیا اور برنباس اور طِطُس کو ساتھ لے کر گیا۔ 2 دراصل مجھ پر ایک وحی نازل ہوئی اور اِس لیے مَیں یروشلیم گیا۔ وہاں مَیں نے کلیسیا کے بااثر بھائیوں سے ملاقات کی اور اُنہیں اُس خوشخبری کے بارے میں بتایا جو مَیں غیریہودیوں کو سنا رہا تھا تاکہ مجھے تسلی ہو جائے کہ مَیں نے خدا کی خدمت میں جو محنت کی ہے اور کر رہا ہوں، وہ بےکار نہیں ہے۔ 3 اور کسی نے میرے ساتھی طِطُس کو ختنہ کرانے پر مجبور نہیں کِیا حالانکہ وہ یونانی ہیں۔ 4 لیکن یہ معاملہ اُن جھوٹے بھائیوں کی وجہ سے اُٹھا جو چپکے سے کلیسیا میں شامل ہو گئے تھے اور جاسوسوں کی طرح اُس آزادی کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے جو ہمیں مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔ دراصل وہ ہمیں شریعت کا غلام بنانا چاہتے تھے۔ 5 لیکن ہم ایک لمحے کے لیے بھی اُن کے سامنے نہیں جھکے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ آپ خوشخبری کی سچائی کو تھامے رکھیں۔
6 جہاں تک اُن بااثر بھائیوں کا تعلق ہے جنہیں اہم سمجھا جاتا ہے، (اُنہیں جو کچھ بھی سمجھا جاتا ہے، اِس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خدا کسی اِنسان کے مرتبے سے متاثر نہیں ہوتا) اُن بھائیوں نے مجھے کوئی نئی ہدایت نہیں دی۔ 7 اُنہوں نے دیکھا کہ جس طرح پطرس کو اُن لوگوں کو خوشخبری سنانے کی ذمےداری ملی جن کا ختنہ ہوا ہے اُسی طرح مجھے اُن لوگوں کو خوشخبری سنانے کی ذمےداری ملی جن کا ختنہ نہیں ہوا۔ 8 (کیونکہ جس نے پطرس کو اُن لوگوں کا رسول مقرر کِیا جن کا ختنہ ہوا ہے اُسی نے مجھے غیریہودیوں کا رسول مقرر کِیا۔) 9 اُن بھائیوں نے یہ بھی دیکھا کہ مجھے عظیم رحمت حاصل ہے۔ لہٰذا یعقوب، کیفا* اور یوحنا نے جنہیں کلیسیا کے ستون سمجھا جاتا ہے، مجھ سے اور برنباس سے ہاتھ ملا کر کہا کہ ”ہم اُن لوگوں کے پاس جائیں گے جن کا ختنہ ہوا ہے اور آپ غیریہودیوں کے پاس جائیں۔“ 10 اُنہوں نے ہم سے بس اِتنا کہا کہ غریب بہن بھائیوں کو یاد رکھیں۔ اور مَیں نے ہمیشہ ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔
11 لیکن جب کیفا،* انطاکیہ آئے تو مَیں نے اُن کے مُنہ پر اُن سے کہا کہ وہ غلطی پر ہیں۔ 12 کیونکہ پہلے تو وہ غیریہودیوں کے ساتھ کھاتے پیتے تھے مگر جب یعقوب کی طرف سے کچھ بھائی وہاں آئے جو ختنے کے رواج پر قائم تھے تو پطرس نے اُن کے ڈر سے غیریہودیوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو اُن سے الگ کر لیا۔ 13 باقی یہودیوں نے بھی اِس منافقت میں اُن کا ساتھ دیا یہاں تک کہ برنباس بھی اُن کے ساتھ مل گئے۔ 14 لیکن جب مَیں نے دیکھا کہ وہ لوگ خوشخبری کی سچائی کے مطابق نہیں چل رہے تو مَیں نے سب کے سامنے کیفا* سے کہا: ”آپ خود تو یہودی ہو کر یہودیوں کی طرح نہیں بلکہ غیریہودیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ تو پھر آپ غیریہودیوں کو یہودیوں کی روایتوں پر عمل کرنے کی ترغیب کیسے دے سکتے ہیں؟“
15 ہم جو پیدائشی یہودی ہیں اور غیریہودیوں کی طرح گُناہگار نہیں ہیں، 16 ہم جانتے ہیں کہ کوئی شخص شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے نیک نہیں ٹھہرتا بلکہ یسوع مسیح پر ایمان رکھنے کی وجہ سے۔ لہٰذا ہم مسیح یسوع پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہم شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مسیح پر ایمان رکھنے کی وجہ سے نیک ٹھہریں کیونکہ کوئی بھی شخص شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے نیک نہیں ٹھہر سکتا۔ 17 اب اگر ہمیں گُناہگار سمجھا جاتا ہے حالانکہ ہم مسیح کے ذریعے نیک ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ مسیح گُناہ کو فروغ دیتا ہے؟ ہرگز نہیں! 18 لیکن اگر مَیں اُن چیزوں کو دوبارہ تعمیر کرتا ہوں جنہیں مَیں نے ڈھا دیا تھا تو مَیں یہ ثابت کرتا ہوں کہ مَیں گُناہگار ہوں۔ 19 کیونکہ مَیں شریعت ہی کے ذریعے شریعت کے لحاظ سے مر گیا تاکہ خدا کے لیے جیوں۔ 20 مجھے مسیح کے ساتھ سُولی* پر چڑھا دیا گیا۔ لہٰذا اب مَیں نہیں بلکہ مسیح زندہ ہے جو میرے ساتھ متحد ہے۔ مَیں جو زندگی جی رہا ہوں، وہ خدا کے بیٹے پر ایمان کے مطابق جی رہا ہوں جس نے مجھ سے محبت کی اور میرے لیے جان دے دی۔ 21 مَیں خدا کی عظیم رحمت کو رد نہیں کرتا کیونکہ اگر ایک شخص شریعت پر عمل کرنے سے نیک ٹھہر سکتا تو مسیح کے مرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔
3 ناسمجھ گلتیو! کس نے آپ کو گمراہ کِیا ہے؟ آپ کو تو اچھی طرح سمجھایا گیا تھا کہ یسوع مسیح کو سُولی* پر کیوں چڑھایا گیا۔ 2 مَیں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو پاک روح کس وجہ سے ملی، شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے یا اُن باتوں پر ایمان لانے کی وجہ سے جو آپ نے سنی تھیں؟ 3 آپ اِتنے ناسمجھ کیوں ہیں؟ جب آپ نے اپنا سفر پاک روح کے سہارے شروع کِیا تو اب جسمانی چیزوں کے سہارے منزل کی طرف کیوں بڑھ رہے ہیں؟ 4 کیا آپ نے فضول میں اِتنی تکلیفیں اُٹھائیں؟ مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ 5 وہ جو آپ کو پاک روح دیتا ہے اور آپ کے درمیان معجزے کرتا ہے، کیا وہ یہ سب اِس لیے کرتا ہے کہ آپ شریعت پر عمل کرتے ہیں یا اِس لیے کہ آپ اُن باتوں پر ایمان لائے ہیں جو آپ نے سنی ہیں؟ 6 ذرا ابراہام کی مثال لیں۔ اُنہوں نے ”یہوواہ* پر ایمان رکھا اور اِس لیے اُنہیں نیک قرار دیا گیا۔“
7 یقیناً آپ جانتے ہیں کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہی ابراہام کے بیٹے ہیں۔ 8 صحیفوں سے پتہ چلتا ہے کہ خدا قوموں کو ایمان کی بِنا پر نیک قرار دے گا کیونکہ اِن صحیفوں میں ابراہام کو یہ خوشخبری سنائی گئی: ”آپ کے ذریعے سب قوموں کو برکت ملے گی۔“ 9 لہٰذا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ ابراہام کے ساتھ برکت پاتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایمان رکھتے تھے۔
10 جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ شریعت پر عمل کر کے نیک ٹھہر سکتے ہیں، وہ لعنتی ہیں کیونکہ لکھا ہے کہ ”جو شخص شریعت کی ہر بات پر عمل نہیں کرتا، وہ لعنتی ہے۔“ 11 اِس کے علاوہ یہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص شریعت کے ذریعے خدا کے حضور نیک نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ ”نیک شخص اپنے ایمان کی بِنا پر زندہ رہے گا۔“ 12 دراصل شریعت کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ ”جو شخص اِن باتوں پر عمل کرے گا، وہ زندہ رہے گا۔“ 13 مسیح نے ہمیں خرید کر اُس لعنت سے آزاد کروایا جو شریعت کے ذریعے ہم پر آئی اور ہماری جگہ لعنتی بن گیا کیونکہ لکھا ہے کہ ”جو شخص سُولی پر لٹکایا جائے، وہ لعنتی ہے۔“ 14 یہ اِس لیے ہوا تاکہ مسیح یسوع کے ذریعے قوموں کو وہ برکت ملے جس کا وعدہ ابراہام سے کِیا گیا تھا اور ہم سب کو اپنے ایمان کی بِنا پر وہ پاک روح حاصل ہو جس کا وعدہ کِیا گیا تھا۔
15 بھائیو، اب مَیں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ اگر ایک اِنسان کسی عہد کو قانونی حیثیت دیتا ہے تو کوئی اِسے منسوخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اِس میں اِضافہ کر سکتا ہے۔ 16 اب جہاں تک اُن وعدوں کا تعلق ہے جو ابراہام اور اُن کی اولاد سے کیے گئے تو اِن وعدوں میں یہ نہیں کہا گیا کہ ”آپ کی اولادوں سے“ یعنی بہت سے بیٹوں کی طرف اِشارہ نہیں کِیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ ”آپ کی اولاد* سے“ یعنی ایک بیٹے کی طرف اِشارہ کِیا گیا جو مسیح ہے۔ 17 اور شریعت اُس عہد کے 430 (چار سو تیس) سال بعد آئی جو خدا نے باندھا تھا لیکن اِس کی وجہ سے نہ تو عہد منسوخ ہوا اور نہ ہی وعدہ ختم ہوا۔ 18 اگر وراثت شریعت کی بِنا پر ملتی تو پھر یہ وعدے کی بِنا پر نہ ملتی۔ لیکن خدا نے ابراہام پر مہربانی کی اور اُنہیں وعدے کی بِنا پر وراثت دی۔
19 تو پھر شریعت کیوں دی گئی؟ تاکہ اِس کے ذریعے گُناہ ظاہر ہوں اور ایسا تب تک ہونا تھا جب تک وہ اولاد نہ آئے جس سے وعدہ کِیا گیا تھا۔ اِس شریعت کو فرشتوں کے ذریعے ایک درمیانی کے ہاتھوں اِنسانوں تک پہنچایا گیا۔ 20 اور درمیانی کی ضرورت تب ہوتی ہے جب دو فریقوں میں عہد باندھا جائے اور دونوں کو شرائط پوری کرنی ہوں۔ لیکن جب وعدہ کِیا گیا تو صرف ایک فریق نے وعدہ کِیا یعنی خدا نے۔ 21 تو کیا شریعت خدا کے وعدوں کے خلاف ہے؟ بالکل نہیں! کیونکہ اگر ایسی شریعت دی جاتی جس کے ذریعے زندگی مل سکتی تو اِنسان شریعت کے ذریعے نیک ٹھہر سکتے۔ 22 لیکن صحیفوں نے سب چیزوں کو گُناہ کے حوالے کر دیا تاکہ جو لوگ یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں، اُنہیں وہ برکتیں ملیں جن کا وعدہ کِیا گیا تھا۔
23 لیکن حقیقی ایمان ظاہر ہونے سے پہلے ہم شریعت کی نگرانی میں تھے کیونکہ ہمیں اِس کے حوالے کِیا گیا تھا اور اُس وقت ہم اُس حقیقی ایمان کا اِنتظار کر رہے تھے جو ظاہر ہونے والا تھا۔ 24 لہٰذا شریعت ہماری نگران بن کر ہمیں مسیح تک لے آئی تاکہ ہمیں ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا جائے۔ 25 لیکن اب جبکہ حقیقی ایمان ظاہر ہو چُکا ہے، ہمیں اِس نگران کی ضرورت نہیں رہی۔
26 دراصل آپ سب خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ آپ مسیح یسوع پر ایمان رکھتے ہیں۔ 27 آپ سب اپنے بپتسمے سے مسیح کے ساتھ متحد ہیں اور اُن کی مثال پر عمل کر رہے ہیں۔ 28 لہٰذا اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ یہودی ہیں یا یونانی، آزاد ہیں یا غلام، مرد ہیں یا عورت کیونکہ آپ سب مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہیں۔ 29 اور اگر آپ مسیح کے ہیں تو آپ واقعی ابراہام کی اولاد ہیں اور اُس وعدے کے وارث ہیں جو ابراہام سے کِیا گیا تھا۔
4 اب جب تک وارث چھوٹا بچہ ہوتا ہے، وہ سب چیزوں کا مالک ہونے کے باوجود غلام جیسا ہوتا ہے 2 کیونکہ وہ تب تک نگرانوں اور مختاروں کے تحت رہتا ہے جب تک وہ دن نہیں آ جاتا جو اُس کے باپ نے مقرر کِیا ہوتا ہے۔ 3 ہم بھی اِسی طرح تھے۔ جب ہم بچے تھے تو ہم دُنیا کے بنیادی اصولوں کے غلام تھے۔ 4 لیکن جب مقررہ وقت آ گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو ایک عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے تحت تھا 5 تاکہ وہ اُن لوگوں کو خرید کر آزاد کروا سکے جو شریعت کے تحت تھے اور خدا ہمیں گود لے* سکے۔
6 چونکہ آپ بیٹے ہیں اِس لیے خدا نے آپ کے دل میں وہی پاک روح ڈالی جو اُس نے اپنے بیٹے کو دی اور اِسی پاک روح کے ذریعے ہم خدا کو ”ابا“ کہتے ہیں۔ 7 لہٰذا اب آپ غلام نہیں ہیں بلکہ بیٹے ہیں اور اگر بیٹے ہیں تو خدا نے آپ کو وارث بھی بنایا ہے۔
8 لیکن جب آپ خدا کو نہیں جانتے تھے تو آپ اُن کے غلام تھے جو اصل میں خدا نہیں ہیں۔ 9 مگر اب جبکہ آپ خدا کو جان گئے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ خدا آپ کو جان گیا ہے تو آپ فضول اور گھٹیا باتوں کی طرف لوٹ کر پھر سے اُن کی غلامی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ 10 آپ خاص دنوں، مہینوں، موسموں اور سالوں کو بڑی پابندی سے منانے لگے ہیں۔ 11 مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ محنت بےکار نہ جائے جو مَیں نے آپ پر کی ہے۔
12 بھائیو، مَیں آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ میری طرح بنیں کیونکہ مَیں بھی ایک زمانے میں آپ کی طرح تھا۔ آپ نے مجھ سے بُرا سلوک نہیں کِیا۔ 13 آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مجھے آپ کو خوشخبری سنانے کا پہلا موقع اِس لیے ملا کیونکہ مَیں بیمار تھا۔ 14 حالانکہ میری جسمانی حالت کو دیکھنا آپ کے لیے بہت مشکل تھا پھر بھی آپ نے مجھے حقیر نہیں جانا اور نہ ہی مجھ سے گھن کھائی* بلکہ مجھے اِس طرح قبول کِیا جیسے آپ خدا کے کسی فرشتے یا مسیح یسوع کو قبول کرتے۔ 15 اُس وقت تو آپ بہت خوش تھے اور مجھے یقین ہے کہ اگر ممکن ہوتا تو آپ اپنی آنکھیں تک نکال کر مجھے دے دیتے۔ تو پھر اب کیا ہوا؟ 16 کیا اب مَیں آپ کا دُشمن بن گیا ہوں کیونکہ مَیں آپ کو سچائی بتا رہا ہوں؟ 17 کچھ لوگ بڑے جوش سے آپ کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اُن کی نیت اچھی نہیں ہے۔ دراصل وہ آپ کو مجھ سے الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ دلوجان سے اُن کی پیروی کریں۔ 18 ہاں، اگر کوئی اچھی نیت سے آپ کا دل جیتنے کی کوشش کرے اور نہ صرف میری موجودگی میں ایسا کرے بلکہ میری غیرموجودگی میں بھی تو یہ اچھی بات ہے۔ 19 میرے بچو، مَیں آپ کی وجہ سے دوبارہ ویسی ہی دردیں محسوس کر رہا ہوں جیسی اُس عورت کو ہوتی ہیں جو بچے کو جنم دے رہی ہوتی ہے۔ اور ایسا اُس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک آپ مسیح جیسے نہ بن جائیں۔ 20 مَیں آپ کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ کاش کہ مَیں ابھی آپ کے پاس ہوتا اور مجھے آپ سے اِس طرح بات نہ کرنی پڑتی۔
21 مجھے بتائیں کہ آپ جو شریعت کے تحت ہونا چاہتے ہیں، کیا آپ جانتے بھی ہیں کہ شریعت میں کیا لکھا ہے؟ 22 مثال کے طور پر اِس میں لکھا ہے کہ ابراہام کے دو بیٹے تھے، ایک نوکرانی سے جبکہ دوسرا آزاد عورت سے۔ 23 جو نوکرانی سے تھا، وہ قدرتی طور پر پیدا ہوا اور جو آزاد عورت سے تھا، وہ وعدے کے ذریعے پیدا ہوا۔ 24 اِن باتوں کے مجازی معنی ہیں کیونکہ اِن عورتوں کا مطلب دو عہد ہیں۔ ایک عہد وہ ہے جو کوہِسینا پر باندھا گیا اور اِس کے تحت پیدا ہونے والی اولاد غلام ہے اور یہ عہد ہاجرہ ہے۔ 25 ہاجرہ کا مطلب کوہِسینا ہے جو عرب کا ایک پہاڑ ہے۔ وہ موجودہ یروشلیم کی طرح ہے کیونکہ وہ اور اُس کے بچے غلامی میں ہیں۔ 26 لیکن جو یروشلیم آسمان پر ہے، وہ آزاد ہے اور ہماری ماں ہے۔
27 کیونکہ لکھا ہے کہ ”اَے بانجھ عورت، تُو جس نے بچے کو جنم نہیں دیا، خوش ہو! اَے عورت تُو جسے بچے کی پیدائش کی دردیں نہیں لگیں، خوشی سے چلّا! کیونکہ چھوڑی ہوئی عورت کی اولاد اُس عورت کی اولاد سے کہیں زیادہ ہے جو شوہر والی ہے۔“ 28 بھائیو، اِضحاق کی طرح آپ بھی وعدے کے مطابق بیٹے ہیں۔ 29 لیکن جیسے قدرتی طور پر پیدا ہونے والا بیٹا، پاک روح کے ذریعے پیدا ہونے والے بیٹے کو اذیت دیتا تھا، ویسے ہی آج بھی ہے۔ 30 مگر صحیفے میں کیا لکھا ہے؟ ”نوکرانی اور اُس کے بیٹے کو نکال دیں کیونکہ نوکرانی کا بیٹا آزاد عورت کے بیٹے کے ساتھ ہرگز وارث نہیں ہوگا۔“ 31 لہٰذا بھائیو، ہم نوکرانی کے بچے نہیں بلکہ آزاد عورت کے بچے ہیں۔
5 اور اِسی آزادی کے لیے مسیح نے ہمیں رِہائی دِلائی۔ لہٰذا ثابتقدم رہیں اور اِس بات کی اِجازت نہ دیں کہ آپ کی گردن پر دوبارہ سے غلامی کا جُوا رکھا جائے۔
2 دیکھیں! مَیں پولُس، آپ کو بتا رہا ہوں کہ اگر آپ ختنہ کرائیں گے تو مسیح نے جو کچھ کِیا ہے، وہ سب بےفائدہ ہو جائے گا۔ 3 مَیں پھر سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جو بھی آدمی ختنہ کراتا ہے، لازمی ہے کہ وہ شریعت کی ہر ایک بات پر عمل کرے۔ 4 آپ جو شریعت کی بِنا پر نیک ٹھہرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مسیح سے جُدا ہو گئے ہیں اور اُس کی عظیم رحمت سے محروم ہیں۔ 5 لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم اُس وقت کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں جب ہمیں ایمان اور پاک روح کے ذریعے مکمل طور پر نیک ٹھہرایا جائے گا۔ 6 دراصل جو لوگ مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہیں، اُن کی نظر میں نہ تو ختنہ کرانے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ختنہ نہ کرانے کی بلکہ صرف اُس ایمان کی اہمیت ہے جو محبت پر مبنی ہے۔
7 آپ تو اچھی طرح دوڑ رہے تھے۔ تو پھر کس نے آپ کو سچائی کی راہ پر آگے بڑھنے سے روک دیا؟ 8 ایسی تعلیم اُس خدا کی طرف سے نہیں ہے جو آپ کو بلا رہا ہے۔ 9 یاد رکھیں، تھوڑا سا خمیر سارے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے۔ 10 مجھے پورا یقین ہے کہ آپ جو ہمارے مالک کے ساتھ متحد ہیں، میری بات سے اِتفاق کریں گے۔ لیکن جو شخص آپ کو پریشان کر رہا ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اُسے اِس کی سزا ضرور ملے گی۔ 11 بھائیو، جہاں تک میرا تعلق ہے، اگر مَیں واقعی ختنے کی مُنادی کر رہا ہوں تو مجھے اذیت کیوں دی جا رہی ہے اور سُولی* لوگوں کے لیے ٹھوکر کا باعث کیوں ہے؟ 12 کاش کہ وہ آدمی خود کو نامرد بنوا لیں* جو آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
13 بھائیو، خدا نے آپ کو آزادی کے لیے بلایا ہے لیکن اِس آزادی کو جسمانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اِستعمال نہ کریں بلکہ محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی غلامی کریں۔ 14 کیونکہ پوری شریعت کا خلاصہ یہ حکم ہے: ”اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“ 15 لیکن اگر آپ ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑتے رہیں گے تو خبردار رہیں کہ کہیں آپ ایک دوسرے کو تباہ نہ کر دیں۔
16 اِس کی بجائے پاک روح کے مطابق چلتے رہیں۔ یوں آپ جسم کی خواہشوں کو بالکل پورا نہیں کریں گے۔ 17 جسم اور اِس کی خواہشیں روح کے خلاف ہیں اور روح جسم کے خلاف ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ اِسی لیے تو آپ وہ کام نہیں کرتے جو کرنا چاہتے ہیں۔ 18 لہٰذا اگر آپ روح کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں تو آپ شریعت کے تحت نہیں ہیں۔
19 اب جسم کے کام صاف ظاہر ہیں اور وہ یہ ہیں: حرامکاری،* ناپاکی، ہٹدھرم چالچلن،* 20 بُتپرستی، جادوٹونا، دُشمنی، لڑائی جھگڑا، رنجش، غصے کے دورے، بحثوتکرار، اِختلافات، فرقہسازی، 21 حسد، نشہبازی، غیرمہذب دعوتیں اور اِن جیسے اَور کام۔ مَیں آپ کو اِن کاموں سے خبردار کر رہا ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے مَیں نے پہلے بھی آپ کو خبردار کِیا تھا کہ ایسے کام کرنے والے لوگ خدا کی بادشاہت کے وارث نہیں ہوں گے۔
22 اِس کے برعکس روح کا پھل یہ ہے: محبت، خوشی، اِطمینان،* تحمل،* مہربانی، اچھائی، ایمان، 23 نرممزاجی اور ضبطِنفس۔ کوئی بھی شریعت اِن باتوں کے خلاف نہیں ہے۔ 24 اور جو لوگ مسیح یسوع کے ہیں، اُنہوں نے اپنے جسم کو اِس کی خواہشوں اور ہوسوں سمیت سُولی پر ٹھونک دیا ہے۔
25 اگر ہم پاک روح کی رہنمائی پر عمل کرتے ہیں تو آئیں، پاک روح کے مطابق چلتے رہیں۔ 26 اور آئیں، اناپرست نہ بنیں، ایک دوسرے سے مقابلہبازی نہ کریں اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کریں۔
6 بھائیو، اگر کوئی شخص انجانے میں کوئی غلط قدم اُٹھائے تو آپ جو روحانی طور پر پُختہ ہیں، نرمی سے اُس کی اِصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اپنا بھی دھیان رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی کوئی غلطی کر بیٹھیں۔ 2 مشکلات کا بوجھ اُٹھانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ اِس طرح آپ مسیح کی شریعت پر عمل کریں گے۔ 3 اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اہم سمجھتا ہے حالانکہ وہ اہم نہیں ہے تو وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔ 4 لیکن ہر کوئی اپنے کاموں کو پرکھے۔ اِس طرح وہ اپنے کاموں کی وجہ سے خوش ہو سکے گا نہ کہ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کی وجہ سے۔ 5 ہر کوئی اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے گا۔
6 جس شخص کو خدا کے کلام کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ اُس شخص کو اپنی اچھی چیزوں میں سے کچھ دے جو اُسے تعلیم دے رہا ہے۔
7 اِس غلطفہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ خدا کو دھوکا دیا جا سکتا ہے کیونکہ اِنسان جو کچھ بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔ 8 جو جسم کے مطابق بوتا ہے، وہ جسم سے تباہی کی فصل کاٹے گا لیکن جو پاک روح کے مطابق بوتا ہے، وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔ 9 اِس لیے اچھے کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر ہم ہمت نہیں ہاریں گے تو ہم مقررہ وقت پر فصل کاٹیں گے۔ 10 لہٰذا جب تک ہمارے پاس موقع ہے، آئیں، سب کے ساتھ بھلائی کریں لیکن خاص طور پر اُن کے ساتھ جو ہمارے ہمایمان ہیں۔
11 دیکھیں، مَیں آپ کو اپنے ہاتھوں سے کتنے بڑے بڑے حروف میں خط لکھ رہا ہوں۔
12 جو لوگ دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، وہی آپ کو ختنہ کرانے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ اُنہیں مسیح کی سُولی* کی وجہ سے اذیت نہ سہنی پڑے۔ 13 اور جو لوگ ختنہ کرا رہے ہیں، وہ خود تو شریعت پر عمل نہیں کرتے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا ختنہ کرائیں تاکہ اُنہیں آپ کی وجہ سے شیخی مارنے کا موقع ملے۔ 14 مگر جہاں تک میرا تعلق ہے، خدا نہ کرے کہ مَیں کبھی شیخی ماروں۔ اور اگر مَیں شیخی ماروں بھی تو صرف ہمارے مالک یسوع مسیح کے بارے میں جنہوں نے سُولی پر جان دے دی اور جن کی وجہ سے دُنیا میرے لیے مر گئی* اور مَیں دُنیا کے لیے مر گیا۔ 15 کیونکہ نہ تو ختنہ کرانے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ختنہ نہ کرانے کی بلکہ صرف نئی مخلوق بننے کی اہمیت ہے۔ 16 جو لوگ اِس اصول پر عمل کرتے ہیں، اُن سب پر، ہاں، خدا کے اِسرائیل پر سلامتی اور رحمت ہو۔
17 آج کے بعد کوئی مجھے پریشان نہ کرے کیونکہ میرے جسم پر موجود نشان ظاہر کرتے ہیں کہ مَیں یسوع کا غلام ہوں۔
18 بھائیو، جو جذبہ* آپ ظاہر کرتے ہیں، اُس پر ہمارے مالک یسوع مسیح کی برکت ہو اور اُن کی عظیم رحمت آپ کے ساتھ رہے۔ آمین۔
یا ”جماعتوں“
یا ”بُرے زمانے“
یعنی پطرس
یعنی پطرس
یعنی پطرس
یعنی پطرس
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”نسل“
یا ”بیٹا بنا“
یا ”مجھ پر تھوکا“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”اپنا جنسی عضو کٹوا لیں۔“ اِس طرح وہ اُس شریعت کو انجام دینے کے قابل ہی نہ رہتے جس کی وہ حمایت کر رہے تھے۔
یونانی لفظ: ”پورنیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”بےشرم چالچلن۔“ یونانی لفظ: ”اسیلگیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”امن؛ صلح“
یا ”صبر“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”سُولی پر چڑھائی گئی“
یونانی میں: ”روح“