یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د مرقس 1:‏1-‏16:‏8
  • مرقس

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مرقس
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
مرقس

مرقس کی اِنجیل

1 خدا کے بیٹے، یسوع مسیح کے بارے میں خوش‌خبری*‏ یوں شروع ہوتی ہے:‏ 2 یسعیاہ نبی نے لکھا:‏ ”‏(‏دیکھو!‏ مَیں تمہارے آگے اپنا پیغمبر بھیج رہا ہوں جو تمہارے لیے راستہ تیار کرے گا۔)‏ 3 ویرانے میں کوئی پکار رہا ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ کا راستہ تیار کرو۔ اُس کی راہ ہموار کرو۔“‏ “‏ 4 اِس کے عین مطابق یوحنا بپتسمہ دینے والے ویرانے میں تھے اور مُنادی کر رہے تھے کہ لوگوں کو بپتسمہ لینا چاہیے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اُنہوں نے اپنے گُناہوں سے توبہ کر لی ہے اور وہ معافی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 5 لہٰذا یہودیہ کے تمام علاقے اور یروشلیم سے سب لوگ یوحنا کے پاس آئے اور اُن سے دریائے‌اُردن*‏ میں بپتسمہ لیا اور سب کے سامنے اِقرار کِیا کہ وہ گُناہ‌گار ہیں۔ 6 یوحنا کے کپڑے اُونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے تھے، وہ کمر پر چمڑے کی پیٹی باندھتے تھے، ٹڈیاں اور جنگلی شہد کھاتے تھے 7 اور لوگوں سے کہتے تھے:‏ ”‏میرے بعد جو شخص آئے گا، وہ مجھ سے زیادہ طاقت‌ور ہے۔ مَیں تو اِس لائق بھی نہیں کہ جھک کر اُس کے جُوتوں کے تسمے کھولوں۔ 8 مَیں آپ لوگوں کو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ آپ کو پاک روح سے بپتسمہ دے گا۔“‏

9 اُنہی دنوں میں یسوع گلیل کے شہر ناصرت سے آئے اور دریائے‌اُردن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا۔ 10 اور جونہی یسوع پانی سے باہر آئے، اُنہوں نے دیکھا کہ آسمان کُھل رہا ہے اور پاک روح کبوتر کی طرح اُن پر اُتر رہی ہے 11 اور آسمان سے یہ آواز آئی:‏ ”‏تُم میرے پیارے بیٹے ہو، مَیں تُم سے خوش ہوں۔“‏

12 پھر پاک روح نے فوراً یسوع کو ویرانے میں جانے کی ترغیب دی۔ 13 یسوع 40 (‏چالیس)‏ دن تک ویرانے میں رہے جہاں جنگلی جانور تھے۔ وہاں شیطان نے اُن کو ورغلانے کی کوشش کی۔ مگر بعد میں فرشتوں نے اُن کی خدمت کی۔‏

14 پھر جب یوحنا کو گِرفتار کِیا گیا تو یسوع گلیل چلے گئے اور خدا کی خوش‌خبری کی مُنادی کرنے لگے 15 اور کہنے لگے:‏ ”‏مقررہ وقت آ پہنچا ہے اور خدا کی بادشاہت نزدیک ہے۔ توبہ کرو اور خوش‌خبری پر ایمان لاؤ۔“‏

16 جب یسوع گلیل کی جھیل کے کنارے چل رہے تھے تو اُنہوں نے شمعون اور اُن کے بھائی اندریاس کو دیکھا جو جھیل میں جال ڈال رہے تھے کیونکہ وہ مچھیرے تھے۔ 17 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری پیروی کریں۔ مَیں آپ کو ایک اَور طرح کا مچھیرا بناؤں گا۔ آپ مچھلیوں کی بجائے اِنسانوں کو جمع کریں گے۔“‏ 18 اُنہوں نے فوراً اپنے جال چھوڑ دیے اور یسوع کے پیچھے چلنے لگے۔ 19 جب یسوع تھوڑا آگے گئے تو اُنہوں نے زبدی کے بیٹوں یعقوب اور یوحنا کو دیکھا جو اپنی کشتی میں بیٹھے جالوں کی مرمت کر رہے تھے۔ 20 یسوع نے فوراً اُن کو بلا‌یا۔ اِس پر اُنہوں نے اپنے باپ کو ملازموں کے ساتھ کشتی میں چھوڑا اور اُن کے پیچھے چل دیے۔ 21 پھر وہ سب کفرنحوم گئے۔‏

جونہی سبت کا دن شروع ہوا، یسوع عبادت‌گاہ میں گئے اور تعلیم دینے لگے۔ 22 اور لوگ اُن کے تعلیم دینے کے انداز کو دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ وہ شریعت کے عالموں کی طرح نہیں بلکہ اِختیار کے ساتھ تعلیم دے رہے تھے۔ 23 اُس وقت عبادت‌گاہ میں ایک آدمی بھی تھا جو ایک بُرے فرشتے*‏ کے قبضے میں تھا۔ وہ چلّانے لگا:‏ 24 ‏”‏یسوع ناصری!‏ ہمارا آپ سے کیا تعلق؟ کیا آپ ہمیں مار ڈالنے آئے ہیں؟ مَیں جانتا ہوں کہ آپ کون ہیں۔ آپ خدا کے مُقدس خادم ہیں۔“‏ 25 لیکن یسوع نے بُرے فرشتے کو جھڑکا اور کہا:‏ ”‏چپ ہو جاؤ اور اِس میں سے نکل آؤ۔“‏ 26 اِس پر بُرا فرشتہ اُس آدمی کو مروڑنے لگا اور پھر اُونچی آواز میں چلّاتے ہوئے اُس میں سے نکل گیا۔ 27 یہ دیکھ کر لوگ بہت حیران ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ ”‏یہ کیا ہے؟ اِس آدمی کا تعلیم دینے کا انداز بالکل فرق ہے۔ یہ بڑے اِختیار کے ساتھ بُرے فرشتوں تک کو حکم دیتا ہے اور وہ اِس کا حکم مانتے ہیں۔“‏ 28 لہٰذا جلد ہی گلیل کے سارے علاقے میں یسوع کا چرچا ہو گیا۔‏

29 اور وہ فوراً عبادت‌گاہ سے نکلے اور یعقوب اور یوحنا کے ساتھ شمعون اور اندریاس کے گھر گئے۔ 30 شمعون کی ساس لیٹی ہوئی تھی کیونکہ اُسے بخار تھا۔ اُنہوں نے فوراً یسوع کو اُس کے بارے میں بتایا۔ 31 یسوع اُس کے پاس گئے اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اُٹھایا اور اُس کا بخار اُتر گیا۔ پھر وہ اُن کی خدمت کرنے لگی۔‏

32 جب شام ہوئی اور سورج ڈوب گیا تو لوگ اُن سب کو یسوع کے پاس لائے جو بیمار تھے یا بُرے فرشتوں کے قبضے میں تھے۔ 33 اور سارا شہر دروازے پر جمع ہو گیا۔ 34 لہٰذا یسوع نے بہت سے لوگوں کو ٹھیک کِیا جو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے لوگوں میں سے بہت سے بُرے فرشتوں کو بھی نکالا۔ لیکن اُنہوں نے بُرے فرشتوں کو بولنے نہیں دیا کیونکہ اِنہیں پتہ تھا کہ وہ مسیح ہیں۔‏*‏

35 صبح سویرے جب ابھی اندھیرا تھا تو یسوع اُٹھ کر ایک سنسان جگہ گئے اور دُعا کرنے لگے۔ 36 لیکن شمعون اور اُن کے ساتھی یسوع کو ڈھونڈنے لگے 37 اور جب اُن کو یسوع مل گئے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سب لوگ آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔“‏ 38 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آئیں، آس‌پاس کے قصبوں میں چلیں تاکہ مَیں وہاں بھی مُنادی کر سکوں کیونکہ مَیں اِسی لیے آیا ہوں۔“‏ 39 اور اُنہوں نے ایسا ہی کِیا اور گلیل کے سارے علاقے کی عبادت‌گاہوں میں جا کر مُنادی کی اور لوگوں میں سے بُرے فرشتے نکالے۔‏

40 پھر ایک کوڑھی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل گِر کر اُن سے اِلتجا کرنے لگا اور کہنے لگا کہ ”‏اگر آپ چاہیں تو مجھے ٹھیک*‏ کر سکتے ہیں۔“‏ 41 یہ سُن کر یسوع کو اُس پر بڑا ترس آیا اور اُنہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھوا اور کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ تندرست ہو جائیں۔“‏ 42 اور فوراً ہی اُس آدمی کا کوڑھ دُور ہو گیا اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ 43 پھر یسوع نے اُس کو یہ تاکید کر کے فوراً وہاں سے بھیج دیا کہ 44 ‏”‏دیکھیں، کسی کو یہ بات نہ بتائیں بلکہ جائیں، اپنے آپ کو کاہن کو دِکھائیں اور پاک صاف ٹھہرائے جانے کے لیے نذرانہ پیش کریں جیسے موسیٰ نے حکم دیا تھا تاکہ کاہنوں کو پتہ چل جائے کہ آپ ٹھیک ہو گئے ہیں۔“‏ 45 لیکن اُس آدمی نے وہاں سے جا کر یہ بات سب کو بتائی اور اِس حد تک اِس کا چرچا کِیا کہ یسوع کے لیے کُھلے عام کسی شہر میں داخل ہونا ناممکن ہو گیا۔ اِس لیے وہ سنسان جگہوں میں رہے۔ پھر بھی لوگ ہر طرف سے اُن کے پاس آتے رہے۔‏

2 لیکن کچھ دنوں کے بعد یسوع دوبارہ کفرنحوم گئے اور یہ خبر پھیل گئی کہ وہ گھر میں ہیں۔ 2 لہٰذا لوگ اُس گھر میں جمع ہونے لگے اور گھر کھچاکھچ بھر گیا یہاں تک کہ دروازے سے اندر آنا بھی مشکل ہو گیا۔ پھر یسوع لوگوں کو خوش‌خبری سنانے لگے۔ 3 اور کچھ لوگ ایک فالج‌زدہ آدمی کو لائے جسے چار آدمیوں نے اُٹھایا ہوا تھا 4 لیکن بِھیڑ اِتنی زیادہ تھی کہ اُسے یسوع کے پاس لانا ممکن نہیں تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے وہاں سے چھت کھولی جہاں یسوع تھے اور اِس میں بڑا سا سوراخ کر کے فالج‌زدہ آدمی کی چارپائی کو نیچے لٹکا دیا۔ 5 جب یسوع نے اُن کا ایمان دیکھا تو اُنہوں نے فالج‌زدہ آدمی سے کہا:‏ ”‏بیٹا، آپ کے گُناہ معاف ہو گئے ہیں۔“‏ 6 وہاں شریعت کے کچھ عالم بھی بیٹھے تھے جو دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ 7 ‏”‏یہ آدمی کیا کہہ رہا ہے؟ یہ تو کفر بک رہا ہے!‏ بھلا خدا کے سوا بھی کوئی گُناہ معاف کر سکتا ہے؟“‏ 8 لیکن یسوع فوراً جان گئے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ اِس لیے وہ اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏آپ اپنے دل میں ایسی باتیں کیوں سوچ رہے ہیں؟ 9 اِس آدمی سے کیا کہنا زیادہ آسان ہے؟ ”‏آپ کے گُناہ معاف ہوئے“‏ یا ”‏اُٹھیں، اپنی چارپائی اُٹھائیں اور چلیں پھریں“‏؟ 10 لیکن مَیں آپ کو دِکھاؤں گا کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو زمین پر گُناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔“‏ پھر یسوع نے اُس فالج‌زدہ آدمی سے کہا:‏ 11 ‏”‏مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اُٹھیں!‏ اپنی چارپائی اُٹھائیں اور اپنے گھر چلے جائیں۔“‏ 12 اور وہ آدمی اُٹھا اور فوراً اپنی چارپائی اُٹھا کر سب کے سامنے باہر چلا گیا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ ہکابکا رہ گئے اور یہ کہتے ہوئے خدا کی بڑائی کرنے لگے کہ ”‏ہم نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔“‏

13 پھر یسوع دوبارہ جھیل کے کنارے گئے اور بہت سے لوگ اُن کے پاس آئے اور وہ اُن کو تعلیم دینے لگے۔ 14 جب یسوع آگے بڑھے تو اُنہوں نے حلفئی کے بیٹے لاوی کو دیکھا جو ٹیکس کی چوکی پر بیٹھے تھے۔ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے پیروکار بن جائیں۔“‏ اِس پر وہ اُٹھے اور اُن کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ 15 بعد میں یسوع، لاوی کے گھر گئے اور کھانا کھانے لگے۔ بہت سے ٹیکس وصول کرنے والے اور گُناہ‌گار لوگ بھی یسوع اور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے لگے اور اُن میں سے بہت سے لوگ یسوع کے پیروکار تھے۔ 16 لیکن جب شریعت کے اُن عالموں نے جو فریسی تھے، دیکھا کہ یسوع ٹیکس وصول کرنے والوں اور گُناہ‌گاروں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں تو اُنہوں نے یسوع کے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏وہ ٹیکس وصول کرنے والوں اور گُناہ‌گاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“‏ 17 یہ سُن کر یسوع نے شریعت کے عالموں سے کہا:‏ ”‏صحت‌مند لوگوں کو حکیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بیمار لوگوں کو۔ مَیں دین‌داروں کو بلا‌نے نہیں آیا بلکہ گُناہ‌گاروں کو۔“‏

18 اب یوحنا کے شاگردوں اور فریسیوں کا رواج تھا کہ وہ روزے رکھتے تھے۔ لہٰذا وہ یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یوحنا کے شاگرد اور فریسیوں کے شاگرد روزہ رکھتے ہیں لیکن آپ کے شاگرد روزہ نہیں رکھتے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟“‏ 19 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا دُلہے کے دوست اُس وقت روزہ رکھتے ہیں جب وہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے؟ نہیں، جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہوتا ہے، وہ روزہ نہیں رکھتے۔ 20 لیکن ایک وقت آئے گا جب دُلہے کو اُن سے جُدا کِیا جائے گا۔ تب وہ روزہ رکھیں گے۔ 21 کوئی شخص پُرانی چادر پر نئے کپڑے*‏ کا پیوند نہیں لگاتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو نیا کپڑا سکڑ جائے گا اور پھر چادر اَور بھی پھٹ جائے گی۔ 22 اِسی طرح کوئی شخص نئی مے کو پُرانی مشکوں میں نہیں ڈالتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو مشکیں پھٹ جائیں گی اور مے اور مشکیں دونوں ضائع ہو جائیں گی۔ اِس لیے لوگ نئی مے کو نئی مشکوں میں ڈالتے ہیں۔“‏

23 جب یسوع سبت کے دن گندم کے کھیتوں سے گزر رہے تھے تو چلتے چلتے اُن کے شاگرد گندم کی بالیں توڑنے لگے۔ 24 یہ دیکھ کر فریسیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اپنے شاگردوں کو دیکھو!‏ یہ ایک ایسا کام کیوں کر رہے ہیں جو سبت کے دن جائز نہیں ہے؟“‏ 25 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ نے کبھی نہیں پڑھا کہ داؤد نے اُس وقت کیا کِیا جب اُن کے پاس کھانا ختم ہو گیا تھا اور اُن کو اور اُن کے آدمیوں کو بھوک لگی تھی؟ 26 اعلیٰ کاہن ابیاتر والے واقعے میں بتایا گیا ہے کہ داؤد خدا کے گھر میں گئے اور نذرانے کی روٹیاں کھائیں اور اُن آدمیوں کو بھی دیں جو اُن کے ساتھ تھے حالانکہ اِن کو کھانا صرف کاہنوں کے لیے جائز تھا۔“‏ 27 پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏سبت اِنسان کے لیے وجود میں آیا ہے نہ کہ اِنسان سبت کے لیے۔ 28 لہٰذا اِنسان کا بیٹا سبت کا بھی مالک ہے۔“‏

3 یسوع پھر سے ایک عبادت‌گاہ میں گئے۔ وہاں ایک آدمی تھا جس کا ہاتھ سُوکھا ہوا*‏ تھا۔ 2 فریسی غور سے دیکھ رہے تھے کہ یسوع سبت کے دن اُس شخص کو ٹھیک کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ وہ یسوع پر اِلزام لگانا چاہتے تھے۔ 3 یسوع نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اُٹھ کر درمیان میں آ جائیں۔“‏ 4 پھر یسوع نے فریسیوں سے پوچھا:‏ ”‏سبت کے دن کیا کرنا جائز ہے؟ اچھا کام کرنا یا بُرا کام کرنا؟ کسی کی جان بچانا یا کسی کی جان لینا؟“‏ لیکن اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 5 یسوع کو اُن کی سنگ‌دلی پر بہت دُکھ ہوا۔ اُنہوں نے غصے سے اُن سب کی طرف دیکھا اور پھر اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اپنا ہاتھ آگے کریں۔“‏ جب اُس نے اپنا ہاتھ آگے کِیا تو اُس کا ہاتھ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ 6 اِس پر فریسی باہر چلے گئے اور فوراً ہیرودیس کے حامیوں سے صلاح مشورہ کرنے لگے کہ یسوع کو مار ڈالنے کے لیے کیا کریں۔‏

7 لیکن یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف روانہ ہوئے اور گلیل اور یہودیہ سے ایک بہت بڑی بِھیڑ اُن کے پیچھے آنے لگی 8 یہاں تک کہ یروشلیم، اِدومیہ اور دریائے‌اُردن کے پار سے اور صور اور صیدا کے اِردگِرد کے علاقوں سے بھی بہت سے لوگ یسوع کے کاموں کے بارے میں سُن کر اُن کے پاس آئے۔ 9 اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ایک چھوٹی کشتی تیار رکھیں تاکہ اگر رش بہت زیادہ ہو جائے تو وہ اِس پر سوار ہو سکیں 10 کیونکہ یسوع نے بہت سے لوگوں کو ٹھیک کِیا تھا اور اِس وجہ سے جتنے بھی لوگ سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے، وہ یسوع کو چُھونے کے لیے اُن پر چڑھ رہے تھے۔ 11 یہاں تک کہ جو لوگ بُرے فرشتوں*‏ کے قبضے میں تھے، وہ بھی یسوع کو دیکھتے ہی اُن کے قدموں پر گِر رہے تھے اور چلّا رہے تھے:‏ ”‏آپ خدا کے بیٹے ہیں۔“‏ 12 لیکن یسوع بار بار اُنہیں تاکید کر رہے تھے کہ ”‏لوگوں کو مت بتاؤ کہ مَیں کون ہوں۔“‏

13 پھر یسوع ایک پہاڑ پر گئے اور اپنے کچھ شاگردوں کو بلا‌یا اور وہ اُن کے پاس آئے۔ 14 تب یسوع نے اُن میں سے 12 شاگردوں کو چُنا اور اِن کو رسولوں کا خطاب بھی دیا۔ یہ آدمی یسوع کے ساتھ رہے اور یسوع نے اُنہیں مُنادی کرنے کے لیے بھیجا 15 اور لوگوں میں سے بُرے فرشتے نکالنے کا اِختیار دیا۔‏

16 اور جن 12 شاگردوں کو یسوع نے چُنا، اُن کے نام یہ تھے:‏ شمعون جنہیں یسوع نے پطرس کا نام بھی دیا؛ 17 زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحنا (‏جن کو یسوع نے ”‏بوانرگس“‏ کا نام بھی دیا جس کا مطلب ہے:‏ گرج کے بیٹے)‏؛ 18 اندریاس؛ فِلپّس؛ برتُلمائی؛ متی؛ توما؛ یعقوب جو حلفئی کے بیٹے تھے؛ تدی؛ شمعون قنانی*‏ 19 اور یہوداہ اِسکریوتی جس نے بعد میں یسوع کے ساتھ غداری کی۔‏

پھر یسوع ایک گھر میں گئے 20 اور دوبارہ سے بہت بِھیڑ اِکٹھی ہو گئی یہاں تک کہ یسوع اور اُن کے شاگردوں کو کھانا کھانے کا موقع بھی نہ ملا۔ 21 لیکن جب یسوع کے رشتے‌داروں نے سنا کہ کیا ہو رہا ہے تو وہ اُنہیں پکڑنے کے لیے آئے کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کہ ”‏اُس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔“‏ 22 اور جو شریعت کے عالم یروشلیم سے آئے تھے، وہ کہہ رہے تھے:‏ ”‏اِس آدمی پر بعلزبُول*‏ کا قبضہ ہے اور یہ بُرے فرشتوں کے حاکم کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتا ہے۔“‏ 23 اِس لیے یسوع نے اُنہیں بلا کر کچھ مثالیں دیں اور کہا:‏ ”‏شیطان، شیطان کو کیسے نکال سکتا ہے؟ 24 اگر ایک بادشاہت میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی 25 اور اگر ایک گھر میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ 26 اِسی طرح اگر شیطان اپنے خلاف کھڑا ہو گیا ہے اور اُس کے ساتھیوں میں پھوٹ پڑ گئی ہے تو وہ بھی قائم نہیں رہ سکتا بلکہ وہ برباد ہو جائے گا۔ 27 اگر کوئی شخص کسی طاقت‌ور آدمی کے گھر میں گھس جاتا ہے تو وہ تب تک اُس کا مال نہیں لُوٹ سکتا جب تک اُسے باندھ نہ لے۔ پھر ہی وہ اُس کا گھر لُوٹے گا۔ 28 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اِنسان کے بیٹوں کو سب کچھ معاف کِیا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی گُناہ ہو یا کوئی بھی کفر ہو۔ 29 لیکن جو شخص پاک روح کے خلاف کفر بکتا ہے، اُسے کبھی معاف نہیں کِیا جائے گا بلکہ یہ گُناہ ہمیشہ اُس کے سر پر رہے گا۔“‏ 30 یسوع نے یہ باتیں اِس لیے کہیں کیونکہ اُن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ”‏اِس پر بُرے فرشتے*‏ کا سایہ ہے۔“‏

31 پھر یسوع کی ماں اور اُن کے بھائی آ کر باہر کھڑے ہو گئے اور اُن کو بلا‌نے کے لیے کسی کو بھیجا۔ 32 یسوع کے اِردگِرد بہت سارے لوگ بیٹھے تھے۔ اُن میں سے کسی نے یسوع سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ باہر آپ کی ماں اور بھائی کھڑے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔“‏ 33 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏میری ماں اور میرے بھائی کون ہیں؟“‏ 34 پھر اُنہوں نے اُن لوگوں کی طرف دیکھا جو اُن کے اِردگِرد بیٹھے تھے اور کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ میری ماں اور میرے بھائی!‏ 35 جو بھی خدا کی مرضی پر چلتا ہے، وہی میرا بھائی، میری بہن اور میری ماں ہے۔“‏

4 یسوع پھر سے جھیل کے کنارے تعلیم دینے لگے اور ایک بہت بڑی بِھیڑ اُن کے گِرد جمع ہو گئی۔ اِس لیے وہ کشتی میں بیٹھ گئے اور اِسے کنارے سے تھوڑا دُور لے گئے جبکہ لوگ کنارے پر کھڑے رہے۔ 2 اور یسوع اُنہیں مثالیں دے کر بہت سی باتیں سکھانے لگے۔ اِس دوران اُنہوں نے کہا:‏ 3 ‏”‏اب سنیں۔ دیکھیں!‏ ایک کسان بیج بونے نکلا۔ 4 اور جب وہ بو رہا تھا تو کچھ بیج راستے پر گِرے اور پرندے آ کر اُن کو چگ گئے۔ 5 کچھ بیج پتھریلی زمین پر گِرے جہاں زیادہ مٹی نہیں تھی۔ اُن میں سے فوراً ہی پودے نکل آئے کیونکہ مٹی زیادہ گہری نہیں تھی۔ 6 لیکن جب سورج نکلا تو وہ دھوپ کی شدت سے سُوکھ گئے کیونکہ اُنہوں نے جڑ نہیں پکڑی تھی۔ 7 کچھ بیج کانٹے‌دار جھاڑیوں میں گِرے اور جب جھاڑیاں بڑھ گئیں تو اُنہوں نے اِن کو دبا دیا اور اِس لیے اِن پر پھل نہیں لگا۔ 8 لیکن کچھ بیج اچھی زمین پر گِرے اور جب اُن میں سے پودے نکلے اور بڑے ہوئے تو وہ پھل لانے لگے۔ کسی پر 30 (‏تیس)‏ گُنا پھل لگا، کسی پر 60 (‏ساٹھ)‏ گُنا اور کسی پر 100 گُنا۔“‏ 9 پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏جس کے کان ہیں، وہ سنے۔“‏

10 جب یسوع اکیلے تھے تو اُن کے کچھ شاگرد جن میں 12 رسول بھی شامل تھے، آ کر اُن سے اِن مثالوں کا مطلب پوچھنے لگے۔ 11 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کو خدا کی بادشاہت کا مُقدس راز دیا گیا ہے لیکن باقی لوگوں کو سب کچھ مثالوں میں بتایا جاتا ہے 12 تاکہ وہ دیکھیں لیکن اُنہیں دِکھائی نہ دے اور سنیں لیکن اُنہیں سمجھ نہ آئے اور وہ واپس نہ لوٹیں اور معافی حاصل نہ کریں۔“‏ 13 پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر آپ اِس مثال کو نہیں سمجھے تو باقی سب مثالوں کو کیسے سمجھیں گے؟‏

14 کسان خدا کا کلام بوتا ہے۔ 15 کچھ بیج راستے پر گِرے۔ اِس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگ کلام کو سنتے ہیں لیکن شیطان فوراً آ کر اُس کلام کو لے جاتا ہے جو اُن کے دل میں بویا گیا ہے۔ 16 کچھ بیج پتھریلی زمین پر گِرے۔ اِس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگ کلام کو سنتے ہی اُسے خوشی خوشی قبول کر لیتے ہیں 17 لیکن یہ اُن کے دل میں جڑ نہیں پکڑتا۔ اِس لیے وہ بس تھوڑے عرصے کے لیے قائم رہتے ہیں۔ پھر جیسے ہی کلام کی وجہ سے اُن پر مصیبت یا اذیت آتی ہے، وہ اِسے ترک کر دیتے ہیں۔ 18 کچھ بیج کانٹے‌دار جھاڑیوں میں گِرے۔ اِس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگ کلام کو سنتے ہیں 19 لیکن اِس دُنیا*‏ کی فکریں اور دولت کی دھوکاباز کشش اور باقی سب چیزوں کی خواہش اُن کے دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور کلام کو دبا دیتی ہے اور وہ پھل نہیں لاتا۔ 20 کچھ بیج اچھی زمین پر گِرے۔ اِس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگ کلام کو سنتے ہیں اور اِسے قبول کرتے ہیں اور پھل بھی لاتے ہیں، کوئی 30 (‏تیس)‏ گُنا، کوئی 60 (‏ساٹھ)‏ گُنا اور کوئی 100 گُنا۔“‏

21 یسوع نے یہ بھی کہا:‏ ”‏بھلا چراغ کو جلا کر اُسے ٹوکری یا پلنگ کے نیچے رکھتے ہیں؟ کیا اُسے چراغ‌دان پر نہیں رکھتے؟ 22 کیونکہ جو بھی بات چھپی ہے، وہ سامنے لائی جائے گی اور جو بھی بات پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہو جائے گی۔ 23 جس کے کان ہیں، وہ سنے۔“‏

24 اِس کے بعد یسوع نے کہا:‏ ”‏جو باتیں آپ سُن رہے ہیں، اُن پر توجہ دیں۔ جس پیمانے سے آپ ناپتے ہیں، اُس سے آپ کے لیے ناپا جائے گا بلکہ آپ کو اَور بھی زیادہ دیا جائے گا 25 کیونکہ جس کے پاس ہے، اُسے اَور بھی دیا جائے گا لیکن جس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔“‏

26 یسوع نے یہ بھی کہا:‏ ”‏خدا کی بادشاہت ایک ایسے آدمی کی طرح ہے جو کھیت میں بیج بوتا ہے 27 اور وہ ہر رات سوتا ہے اور ہر دن اُٹھتا ہے۔ اِس دوران بیج سے پودا نکل آتا ہے اور بڑا ہو جاتا ہے اور اُس آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ کیسے ہوا ہے۔ 28 آہستہ آہستہ زمین خودبخود پھل لاتی ہے۔ پہلے پتی نکلتی ہے، پھر بالیں نکلتی ہیں اور پھر دانے پکتے ہیں۔ 29 لیکن جیسے ہی فصل پک جاتی ہے، وہ اِسے درانتی سے کاٹتا ہے کیونکہ کٹائی کا وقت آ گیا ہے۔“‏

30 پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏ہم خدا کی بادشاہت کی وضاحت کرنے کے لیے کون سی مثال اِستعمال کریں؟ یہ کس کی مانند ہے؟ 31 یہ رائی کے دانے کی طرح ہے جو زمین میں بوئے جانے والے بیجوں میں سب سے چھوٹا ہے 32 لیکن جب اِسے بویا جاتا ہے تو یہ بڑھتے بڑھتے تمام سبزیوں کے پودوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور اِس کی شاخیں اِتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ آسمان کے پرندے آ کر اِس کے سائے میں بسیرا کرتے ہیں۔“‏

33 یسوع، خدا کے کلام کی تعلیم دیتے وقت اِس طرح کی بہت سی مثالیں اِستعمال کرتے تھے۔ لیکن وہ لوگوں کو اُتنا ہی سکھاتے تھے جتنا وہ سمجھ سکتے تھے۔ 34 دراصل وہ لوگوں سے بات کرتے وقت ہمیشہ مثالیں اِستعمال کرتے تھے لیکن اکیلے میں اپنے شاگردوں کو سب باتوں کا مطلب سمجھاتے تھے۔‏

35 اُس دن جب شام ہوئی تو یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آئیں، جھیل کے اُس پار چلیں۔“‏ 36 اِس پر اُنہوں نے لوگوں کو بھیج دیا اور آ کر یسوع کے ساتھ کشتی میں بیٹھ گئے اور فوراً وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اُن کی کشتی کے ساتھ اَور بھی کشتیاں تھیں۔ 37 اچانک جھیل میں ایک زبردست طوفان آیا۔ لہریں بہت شدت سے کشتی سے ٹکرانے لگیں یہاں تک کہ کشتی ڈوبنے والی تھی۔ 38 لیکن یسوع کشتی کے پچھلے حصے میں گدی*‏ پر سو رہے تھے۔ شاگردوں نے اُن کو جگایا اور کہا:‏ ”‏اُستاد!‏ کیا آپ کو فکر نہیں کہ ہم مرنے والے ہیں؟“‏ 39 اِس پر اُنہوں نے اُٹھ کر ہوا کو ڈانٹا اور جھیل سے کہا:‏ ”‏شش، چپ!‏“‏ اور ہوا رُک گئی اور سکون ہو گیا۔ 40 پھر اُنہوں نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ اِتنا گھبرا کیوں رہے ہیں؟ کیا آپ میں ذرا سا بھی ایمان نہیں ہے؟“‏ 41 لیکن وہ بہت ڈر گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏آخر یہ ہے کون؟ ہوا اور لہریں تک اِس کا حکم مانتی ہیں۔“‏

5 پھر وہ جھیل کے اُس پار گِراسینیوں کے علاقے میں پہنچے۔ 2 جونہی یسوع کشتی سے اُترے، ایک آدمی جو ایک بُرے فرشتے*‏ کے قبضے میں تھا، قبرستان سے نکل کر اُن کے پاس آیا۔ 3 اُس کا ٹھکانا قبرستان میں تھا اور کوئی بھی شخص اُس کو کسی بھی طریقے سے باندھ کر نہیں رکھ سکا تھا یہاں تک کہ زنجیروں کے ساتھ بھی نہیں۔ 4 اُس کو بار بار زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا گیا لیکن وہ زنجیریں توڑ دیتا تھا اور بیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا تھا اور کسی میں اِتنی طاقت نہیں تھی کہ اُس پر قابو پا سکے۔ 5 وہ دن رات قبرستان اور پہاڑوں میں چلّاتا پھرتا تھا اور اپنے آپ کو پتھروں سے زخمی کرتا تھا۔ 6 جب اُس نے دُور سے یسوع کو دیکھا تو وہ بھاگا بھاگا اُن کے پاس آیا اور اُن کے سامنے جھکا۔ 7 پھر وہ چلّا چلّا کر کہنے لگا:‏ ”‏یسوع!‏ خدا تعالیٰ کے بیٹے!‏ میرا آپ سے کیا تعلق؟ مَیں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے سزا نہ دیں!‏“‏ 8 وہ یہ اِس لیے کہہ رہا تھا کیونکہ یسوع نے اُس سے کہا تھا کہ ”‏بُرے فرشتے!‏ اِس آدمی سے نکل آؤ!‏“‏ 9 پھر یسوع نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏تمہارا نام کیا ہے؟“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏میرا نام لشکر ہے کیونکہ ہم بہت سارے ہیں۔“‏ 10 اور اُس نے بار بار یسوع سے اِلتجا کی کہ ”‏ہمیں*‏ اِس علاقے سے نہ بھیجیں۔“‏

11 اب وہاں پہاڑ پر سؤروں کا ایک ریوڑ چر رہا تھا۔ 12 بُرے فرشتوں نے یسوع سے اِلتجا کی کہ ”‏ہمیں اُن سؤروں میں جانے دیں۔“‏ 13 یسوع نے اُن کو اِجازت دے دی۔ تب وہ*‏ اُس آدمی سے نکل کر سؤروں میں چلے گئے اور سارے سؤر دوڑنے لگے اور چٹان سے چھلانگ لگا کر جھیل میں ڈوب گئے۔ یوں تقریباً 2000 سؤر مر گئے۔ 14 لیکن اُن کے چرواہے وہاں سے بھاگ گئے اور شہر اور دیہات میں اِس واقعے کی خبر پھیلا دی۔ اور لوگ یہ دیکھنے آئے کہ کیا ہوا ہے۔ 15 جب وہ یسوع کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ جس آدمی میں بُرے فرشتے ہوا کرتے تھے، اُس نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ ہوش‌وحواس میں ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بہت ڈر گئے۔ 16 اور جن لوگوں نے دیکھا تھا کہ اُس آدمی اور سؤروں کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا، اُنہوں نے یہ سب باتیں باقی لوگوں کو بتائیں۔ 17 اِس پر لوگ یسوع کی مِنت کرنے لگے کہ وہ اُن کے علاقے سے چلے جائیں۔‏

18 جب یسوع کشتی میں سوار ہو رہے تھے تو وہ آدمی جس میں بُرے فرشتے ہوا کرتے تھے، اُن سے اِلتجا کرنے لگا کہ ”‏مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔“‏ 19 لیکن یسوع نے اُس کو اپنے ساتھ آنے نہیں دیا بلکہ اُس سے کہا:‏ ”‏اپنے گھر جائیں اور اپنے رشتے‌داروں کو بتائیں کہ یہوواہ*‏ نے آپ کے لیے کیا کچھ کِیا ہے اور آپ پر کتنا رحم کِیا ہے۔“‏ 20 اُس آدمی نے جا کر دِکاپُلِس*‏ میں اُس سب کا چرچا کِیا جو یسوع نے اُس کے لیے کِیا تھا اور سب لوگ بہت حیران ہوئے۔‏

21 جونہی یسوع کشتی میں جھیل کے اُس پار پہنچے، بہت سے لوگ اُن کے پاس جمع ہو گئے۔ 22 اب وہاں ایک آدمی بھی تھا جو ایک عبادت‌گاہ میں پیشوا تھا۔ اُس کا نام یائیر تھا۔ جب یائیر نے یسوع کو دیکھا تو وہ آ کر اُن کے قدموں میں گِر گئے 23 اور بار بار اُن سے اِلتجا کی:‏ ”‏میری بچی بہت ہی بیمار ہے۔‏*‏ آپ آ کر اُس پر ہاتھ رکھ دیں تاکہ وہ ٹھیک ہو جائے اور زندہ رہے۔“‏ 24 یہ سُن کر یسوع اُن کے ساتھ چل دیے اور بہت سے لوگ اُن کے پیچھے پیچھے آنے لگے۔ بِھیڑ اِتنی زیادہ تھی کہ لوگ یسوع پر گِر رہے تھے۔‏

25 بِھیڑ میں ایک عورت بھی تھی جس کو 12 سال سے لگاتار خون آ رہا تھا۔ 26 اُس نے حکیموں سے علاج کروا کروا کر بڑی تکلیف اُٹھائی تھی اور اپنے سارے پیسے خرچ کر دیے تھے لیکن اُس کی حالت بہتر ہونے کی بجائے اَور بھی خراب ہو گئی تھی۔ 27 اُس عورت نے یسوع کے بارے میں بہت سی باتیں سنی تھیں۔ اُس نے پیچھے سے آ کر یسوع کی چادر کو چُھوا 28 کیونکہ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ ”‏اگر مَیں اُن کی چادر ہی کو چُھو لوں تو مَیں ٹھیک ہو جاؤں گی۔“‏ 29 اور اُسی وقت اُس کو خون آنا بند ہو گیا اور اُس کو محسوس ہوا کہ اُس کی بیماری دُور ہو گئی ہے۔‏

30 اور یسوع نے فوراً ہی محسوس کِیا کہ اُن سے طاقت نکلی ہے۔ اِس لیے وہ مُڑ کر کہنے لگے کہ ”‏میری چادر کو کس نے چُھوا ہے؟“‏ 31 اِس پر شاگردوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏لوگ آپ پر گِر رہے ہیں اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ ”‏مجھے کس نے چُھوا ہے؟“‏ “‏ 32 لیکن یسوع اِدھر اُدھر دیکھنے لگے تاکہ اُس شخص کو ڈھونڈ سکیں جس نے اُن کو چُھوا تھا۔ 33 وہ عورت جس نے محسوس کِیا تھا کہ وہ ٹھیک ہو گئی ہے، ڈر کے مارے کانپتی ہوئی آئی اور یسوع کے سامنے گِر گئی اور اُن کو ساری بات سچ سچ بتا دی۔ 34 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏بیٹی، آپ اپنے ایمان کی وجہ سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔ جیتی رہیں۔ یہ تکلیف‌دہ بیماری آپ کو پھر سے نہ لگے۔“‏

35 ابھی یسوع یہ کہہ ہی رہے تھے کہ یائیر کے گھر سے کچھ آدمی آئے اور کہنے لگے کہ ”‏آپ کی بیٹی مر گئی ہے۔ اب اُستاد کو تکلیف دینے کا کیا فائدہ؟“‏ 36 لیکن یسوع نے اُن کی بات سُن لی اور یائیر سے کہا:‏ ”‏پریشان مت ہوں بلکہ ایمان رکھیں۔“‏ 37 پھر یسوع آگے بڑھے لیکن اُنہوں نے پطرس اور یعقوب اور یعقوب کے بھائی یوحنا کے علاوہ کسی اَور کو اپنے ساتھ آنے نہیں دیا۔‏

38 جب وہ یائیر کے گھر پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں شور مچا ہوا ہے اور لوگ دھاڑیں مارمار کر رو رہے ہیں اور ماتم کر رہے ہیں۔ 39 یسوع اندر جا کر لوگوں سے کہنے لگے:‏ ”‏تُم نے اِتنا رونا دھونا کیوں مچا رکھا ہے؟ بچی مری نہیں بلکہ سو رہی ہے۔“‏ 40 اِس پر وہ لوگ اُن کا مذاق اُڑانے لگے۔ لیکن یسوع نے اُن سب کو باہر بھیج دیا اور پھر بچی کے ماں باپ اور اپنے ساتھیوں کو لے کر اُس کمرے میں گئے جہاں بچی کی لاش پڑی تھی۔ 41 اور اُنہوں نے بچی کا ہاتھ پکڑا اور اُس سے کہا:‏ ”‏تلیتا قومی!‏“‏ جس کا ترجمہ ہے:‏ بچی، مَیں تُم سے کہتا ہوں اُٹھ جاؤ۔ 42 اور وہ بچی فوراً اُٹھ گئی اور چلنے پھرنے لگی۔ (‏اُس کی عمر 12 سال تھی۔)‏ یہ دیکھ کر وہ سب خوشی سے پاگل ہو گئے۔ 43 لیکن یسوع نے اُن کو بار بار تاکید کی کہ کسی کو اِس واقعے کے بارے میں نہ بتانا۔ پھر اُنہوں نے کہا کہ ”‏بچی کو کچھ کھانے کو دیں۔“‏

6 اِس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوئے اور اپنے شاگردوں کے ساتھ اُس علاقے میں گئے جہاں اُن کی پرورش ہوئی تھی۔ 2 وہاں وہ سبت کے دن ایک عبادت‌گاہ میں تعلیم دینے لگے۔ اُن کی تعلیم کو سُن کر زیادہ‌تر لوگ حیران ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اِس آدمی نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں؟ یہ اِتنا دانش‌مند کیسے ہو گیا؟ اِس کو معجزے کرنے کی طاقت کہاں سے ملی؟ 3 یہ وہی بڑھئی ہے‌نا، جس کی ماں کا نام مریم ہے اور جس کے بھائیوں کے نام یعقوب، یوسف، یہوداہ اور شمعون ہیں؟ اور اِس کی بہنیں بھی تو یہیں رہتی ہیں؟“‏ اور اُنہوں نے یسوع کو قبول نہیں کِیا۔ 4 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏نبی کی سب لوگ عزت کرتے ہیں سوائے اُس کے گھر والوں، رشتے‌داروں اور علاقے کے لوگوں کے۔“‏ 5 لہٰذا اُنہوں نے وہاں صرف کچھ بیماروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ٹھیک کِیا لیکن کوئی اَور معجزہ نہیں کِیا۔ 6 دراصل وہ اُن کے ایمان کی کمی کو دیکھ کر حیران تھے۔ اِس کے بعد اُنہوں نے پورے علاقے کا دورہ کِیا اور گاؤں گاؤں جا کر تعلیم دی۔‏

7 پھر یسوع نے 12 رسولوں کو بلا‌یا اور اُن کو دو دو کر کے بھیجا اور اُن کو لوگوں میں سے بُرے فرشتے*‏ نکالنے کا اِختیار دیا۔ 8 یسوع نے اُن کو یہ ہدایت بھی دی کہ سفر کے لیے لاٹھی کے سوا کچھ ساتھ نہ لیں، نہ روٹی، نہ کھانے کا تھیلا، نہ بٹوے میں پیسے*‏ 9 اور نہ ایک اَور کُرتا*‏ بلکہ جُوتے پہنیں اور جائیں۔ 10 اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ”‏جب آپ کسی کے گھر میں داخل ہوں تو اُس کے گھر میں ٹھہریں اور تب تک اُس کے پاس رہیں جب تک آپ اُس علاقے سے روانہ نہ ہوں۔ 11 اور جس علاقے میں لوگ آپ کو یا آپ کے پیغام کو قبول نہ کریں، وہاں سے جاتے وقت اُس کی مٹی اپنے پاؤں سے جھاڑ دیں تاکہ اُن کے خلاف گواہی ہو۔“‏ 12 پھر وہ 12 وہاں سے روانہ ہوئے اور جا کر مُنادی کرنے لگے تاکہ لوگ توبہ کریں۔ 13 اِس کے علاوہ اُنہوں نے لوگوں میں سے بہت سے بُرے فرشتوں کو نکالا اور بہت سے بیماروں کو تیل ملا اور اُن کو ٹھیک کر دیا۔‏

14 بادشاہ ہیرودیس نے بھی یہ خبر سنی کیونکہ یسوع کا نام ہر جگہ مشہور ہو گیا تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ”‏یوحنا بپتسمہ دینے والے کو زندہ کر دیا گیا ہے اور اِس لیے وہ معجزے کر رہے ہیں۔“‏ 15 لیکن کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ”‏یہ ایلیاہ نبی ہیں“‏ جبکہ کچھ کہہ رہے تھے کہ ”‏یہ پُرانے زمانے کے نبیوں کی طرح ایک نبی ہیں۔“‏ 16 لیکن جب ہیرودیس نے یہ سنا تو اُس نے کہا:‏ ”‏یہ ضرور وہی یوحنا ہے جس کا مَیں نے سر قلم کروایا تھا۔ اُسے زندہ کر دیا گیا ہے۔“‏ 17 ہوا یہ تھا کہ ہیرودیس نے یوحنا کو گِرفتار کروایا تھا اور اُن کو زنجیروں میں جکڑ کر قیدخانے میں ڈلوا دیا تھا۔ یہ سب کچھ ہیرودیاس کی وجہ سے ہوا تھا جو ہیرودیس کے بھائی فِلپّس کی بیوی تھی۔ دراصل ہیرودیس نے اُس سے شادی کر لی تھی 18 مگر یوحنا نے اُس سے کئی بار کہا تھا کہ ”‏اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کرنا آپ کے لیے جائز نہیں۔“‏ 19 اِس لیے ہیرودیاس کو یوحنا سے نفرت تھی اور وہ اُن کو مار ڈالنا چاہتی تھی۔ لیکن ابھی تک اُسے موقع نہیں ملا تھا 20 کیونکہ ہیرودیس، یوحنا کی حفاظت کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یوحنا ایک نیک اور مُقدس آدمی ہیں اور اِس لیے وہ اُن کا احترام کرتا تھا۔ وہ بڑے شوق سے یوحنا کی باتیں سنتا تھا حالانکہ اِن کی وجہ سے وہ اُلجھن میں پڑ جاتا تھا کہ کیا کرے۔‏

21 لیکن ایک دن ہیرودیاس کو موقع مل ہی گیا۔ جب بادشاہ ہیرودیس کی سالگرہ آئی تو اُس نے شام کو اعلیٰ افسروں، فوجی افسروں اور گلیل کے امیروں کو دعوت پر بلا‌یا۔ 22 اُس موقعے پر ہیرودیاس کی بیٹی محفل میں آ کر ناچی۔ اُس کا ناچ دیکھ کر بادشاہ اور اُس کے مہمان بہت خوش ہوئے۔ اِس پر بادشاہ نے اُس سے کہا:‏ ”‏مانگو!‏ کیا مانگتی ہو؟ تمہاری فرمائش پوری کی جائے گی۔“‏ 23 یہاں تک کہ اُس نے قسم کھائی اور کہا:‏ ”‏تُم جو کچھ بھی مانگو گی، مَیں تمہیں ضرور دوں گا۔ مَیں تمہیں اپنی آدھی سلطنت تک دینے کو تیار ہوں۔“‏ 24 لڑکی اپنی ماں کے پاس گئی اور اُس سے پوچھا:‏ ”‏مَیں بادشاہ سے کیا مانگوں؟“‏ ماں نے جواب دیا:‏ ”‏یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔“‏ 25 لڑکی بھاگی بھاگی بادشاہ کے پاس گئی اور کہنے لگی:‏ ”‏مجھے اِسی وقت یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں چاہیے۔“‏ 26 یہ سُن کر بادشاہ کو بڑا دُکھ ہوا لیکن وہ لڑکی کی درخواست کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اُس نے اپنے مہمانوں کے سامنے قسم کھائی تھی کہ وہ اُس کی ہر فرمائش پوری کرے گا۔ 27 لہٰذا بادشاہ نے فوراً ایک سپاہی کو بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ یوحنا کا سر لایا جائے۔ اِس پر وہ سپاہی قیدخانے میں گیا اور یوحنا کا سر قلم کر دیا۔ 28 پھر وہ اُس کو ایک تھال میں رکھ کر لایا اور لڑکی کو دے دیا اور لڑکی نے اُسے اپنی ماں کو دے دیا۔ 29 جب یوحنا کے شاگردوں نے یہ خبر سنی تو وہ آئے اور اُن کی لاش کو لے جا کر ایک قبر میں رکھ دیا۔‏

30 اب 12 رسول یسوع کے پاس واپس آئے اور اُن کو وہ سب کچھ بتایا جو اُنہوں نے کِیا تھا اور سکھایا تھا۔ 31 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آئیں، کسی سنسان جگہ چلیں تاکہ ہم اکیلے میں کچھ وقت گزار سکیں اور تھوڑا سا آرام کر سکیں۔“‏ دراصل وہاں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے اِس لیے اُن کے پاس کھانا کھانے کی بھی فرصت نہیں تھی۔ 32 لہٰذا وہ کشتی میں بیٹھ کر ایک سنسان جگہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ اکیلے میں کچھ وقت گزار سکیں۔ 33 لیکن لوگوں نے اُن کو جاتے دیکھ لیا اور بہت سے لوگوں کو اِس بات کی خبر ہو گئی۔ اِس لیے تمام شہروں سے لوگ بھاگے بھاگے اُس جگہ گئے جہاں یسوع اور اُن کے ساتھی جا رہے تھے اور اُن سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔ 34 جب یسوع کشتی سے اُترے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ جمع ہیں۔ اُنہیں اُن پر بڑا ترس آیا کیونکہ وہ ایسی بھیڑوں کی طرح تھے جن کا کوئی چرواہا نہ ہو اور وہ اُن کو بہت سی باتوں کی تعلیم دینے لگے۔‏

35 جب کافی وقت گزر گیا تو اُن کے شاگرد اُن کے پاس آئے اور کہا:‏ ”‏یہ جگہ سنسان ہے اور رات ہونے والی ہے۔ 36 لوگوں کو آس‌پاس کے گاؤں اور قصبوں میں بھیج دیں تاکہ وہ اپنے لیے کھانا خرید سکیں۔“‏ 37 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ اُن کو کھانا دیں۔“‏ اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا ہم جا کر 200 دینار کی روٹیاں خریدیں تاکہ اِتنے لوگوں کو کھانا کھلا سکیں؟“‏ 38 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏ذرا دیکھیں کہ آپ کے پاس کتنی روٹیاں ہیں۔“‏ اُنہوں نے جا کر دیکھا اور واپس آ کر کہا:‏ ”‏ہمارے پاس پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔“‏ 39 پھر یسوع نے لوگوں سے کہا کہ ٹولیوں کی شکل میں ہری ہری گھاس پر بیٹھ جائیں۔ 40 اور لوگ سوسو اور پچاس پچاس کی ٹولیوں میں گھاس پر بیٹھ گئے۔ 41 تب یسوع نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا کی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے روٹیاں توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگرد اِنہیں لوگوں میں تقسیم کرنے لگے۔ اِسی طرح یسوع نے مچھلیوں کو بھی لوگوں میں تقسیم کِیا۔ 42 اور سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ 43 بعد میں شاگردوں نے روٹیوں کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے 12 ٹوکرے بھرے۔ اِس کے علاوہ مچھلیاں بھی بچ گئیں۔ 44 اُس موقعے پر 5000 آدمیوں نے کھانا کھایا۔‏

45 اِس کے فوراً بعد یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے اُس پار بیت‌صیدا جائیں، مَیں بعد میں آؤں گا۔“‏ پھر اُنہوں نے لوگوں کو وہاں سے رُخصت کِیا۔ 46 اِس کے بعد یسوع پہاڑ پر جا کر دُعا کرنے لگے۔ 47 جب رات ہو گئی تو کشتی جھیل کے بیچ میں تھی لیکن یسوع اکیلے پہاڑ پر تھے۔ 48 تب اُنہوں نے دیکھا کہ شاگرد کشتی کو بڑی مشکل سے چلا رہے ہیں کیونکہ ہوا کا رُخ اُن کے خلاف ہے۔ اِس لیے وہ رات کے چوتھے پہر*‏ جھیل پر چل کر اُن کی طرف گئے اور کشتی کے پاس سے گزرنے لگے۔ 49 جب شاگردوں نے دیکھا کہ کوئی جھیل پر چل رہا ہے تو وہ چلّانے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏وہ کیا آ رہا ہے؟“‏*‏ 50 اِس منظر کو دیکھ کر وہ سب بہت گھبرا گئے۔ لیکن یسوع نے فوراً اُن سے کہا:‏ ”‏ڈریں مت!‏ حوصلہ رکھیں، مَیں ہوں!‏“‏ 51 پھر وہ کشتی میں سوار ہو گئے اور ہوا تھم گئی۔ یہ دیکھ کر شاگرد بہت ہی حیران ہوئے 52 کیونکہ وہ روٹیوں والے معجزے کا مطلب نہیں سمجھ پائے تھے بلکہ ابھی تک اُن کی سمجھ پر پردہ پڑا تھا۔‏

53 جب وہ جھیل کے اُس پار گنیسرت پہنچے تو اُنہوں نے لنگر ڈال دیا۔ 54 جونہی وہ سب کشتی سے اُترے، لوگوں نے یسوع کو پہچان لیا 55 اور بھاگے بھاگے گئے اور سارے علاقے میں خبر کر دی۔ اِس پر لوگ بیماروں کو چارپائیوں پر ڈال کر اُس جگہ لائے جہاں یسوع تھے۔ 56 اور یسوع جس جس گاؤں یا شہر یا دیہات میں جاتے، وہاں لوگ بیماروں کو بازاروں میں لِٹا دیتے اور وہ یسوع سے اِلتجا کرتے کہ ”‏ہمیں بس اپنی چادر کی جھالر کو چُھونے دیں۔“‏ اور جو جو اُن کی چادر کو چُھوتا، وہ بالکل ٹھیک ہو جاتا۔‏

7 پھر فریسی اور شریعت کے کچھ عالم جو یروشلیم سے آئے تھے، یسوع کے اِردگِرد جمع ہو گئے۔ 2 جب اُنہوں نے دیکھا کہ یسوع کے کچھ شاگرد ناپاک ہاتھوں سے یعنی ہاتھ دھوئے بغیر*‏ کھانا کھا رہے ہیں تو اُنہیں اچھا نہیں لگا۔ 3 ‏(‏دراصل فریسی اور تمام یہودی تب تک کھانا نہیں کھاتے جب تک کُہنیوں تک ہاتھ نہ دھو لیں کیونکہ وہ اپنے باپ‌دادا کی روایتوں سے چپکے ہوئے ہیں۔ 4 اور جب وہ بازار سے آتے ہیں تو اُس وقت تک کھانا نہیں کھاتے جب تک نہا دھو نہ لیں۔ اِس کے علاوہ وہ اَور بھی بہت سی روایتوں کی سختی سے پابندی کرتے ہیں جیسا کہ پیالوں، صراحیوں اور تانبے کے برتنوں کو پانی میں ڈبونا۔‏*‏)‏ 5 لہٰذا فریسی اور شریعت کے عالم یسوع سے پوچھنے لگے:‏ ”‏تمہارے شاگرد ہمارے باپ‌دادا کی روایتوں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ وہ ناپاک ہاتھوں سے کھانا کیوں کھاتے ہیں؟“‏ 6 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏یسعیاہ نبی نے تُم جیسے ریاکاروں کے بارے میں بالکل صحیح پیش‌گوئی کی تھی کہ ”‏یہ لوگ مُنہ سے تو میری عزت کرتے ہیں لیکن اِن کے دل مجھ سے بہت دُور ہیں۔ 7 یہ فضول میں میری عبادت کرتے ہیں کیونکہ اِنہوں نے اپنی مذہبی تعلیمات کی بنیاد اِنسانوں کے حکموں پر رکھی ہے۔“‏ 8 تُم خدا کے حکموں کو رد کر دیتے ہو لیکن اِنسانوں کی روایتوں سے چپکے رہتے ہو۔“‏

9 یسوع نے اُن سے یہ بھی کہا:‏ ”‏تُم اپنی روایتوں کے چکر میں خدا کے حکموں کو بڑی مہارت سے نظرانداز کر دیتے ہو۔ 10 مثال کے طور پر موسیٰ نے کہا:‏ ”‏اپنے ماں باپ کی عزت کرو“‏ اور ”‏جو اپنے ماں باپ کی بے‌عزتی کرے، اُسے مار ڈالا جائے۔“‏ 11 لیکن تُم لوگ کہتے ہو کہ ”‏اگر ایک شخص اپنے ماں باپ سے کہے کہ ”‏جن چیزوں کے ذریعے مَیں آپ کی مدد کر سکتا ہوں، وہ سب قربان ہیں (‏یعنی خدا کے لیے مخصوص ہیں)‏“‏ تو یہ جائز ہے۔“‏ 12 اِس طرح تُم اُس شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے کچھ بھی نہیں کرنے دیتے۔ 13 یوں تُم اُن روایتوں کے ذریعے جو تُم میں نسل در نسل چل رہی ہیں، خدا کے کلام کو بے‌اثر کر دیتے ہو۔ اِس کے علاوہ تُم ایسے اَور بھی بہت سے کام کرتے ہو۔“‏ 14 پھر یسوع نے لوگوں کو پاس بلا‌یا اور اُن سے کہا:‏ ”‏آپ سب میری بات سنیں اور اِس کا مطلب سمجھیں۔ 15 جو چیزیں اِنسان کے اندر جاتی ہیں، وہ اُسے ناپاک نہیں کرتیں بلکہ جو چیزیں اُس کے اندر سے آتی ہیں، وہ اُسے ناپاک کرتی ہیں۔“‏ 16 ‏—‏*‏

17 جب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر ایک گھر میں گئے تو اُن کے شاگرد اُن کے پاس آ کر اُس بات کا مطلب پوچھنے لگے جو اُنہوں نے کہی تھی۔ 18 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ بھی اُن کی طرح ناسمجھ ہیں؟ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ جو چیز اِنسان کے اندر جاتی ہے، وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی 19 کیونکہ وہ اُس کے دل میں نہیں جاتی بلکہ اُس کے پیٹ میں جاتی ہے اور پھر نکل کر گندے پانی کی نالی میں چلی جاتی ہے؟“‏ یوں یسوع نے کھانے کی سب چیزوں کو پاک قرار دیا۔ 20 پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو چیزیں اِنسان کے اندر سے آتی ہیں، وہ اُسے ناپاک کرتی ہیں 21 کیونکہ اِنسان کے اندر سے یعنی اُس کے دل سے بُری سوچ، حرام‌کاری، چوری، قتل، 22 زِناکاری،‏*‏ لالچ، بُرے کام، دھوکابازی، ہٹ‌دھرم چال‌چلن،‏*‏ حسد، کفر، غرور اور بے‌وقوفی آتی ہے۔ 23 یہ تمام بُری چیزیں اِنسان کے اندر سے آتی ہیں اور اُسے ناپاک کرتی ہیں۔“‏

24 اُدھر سے یسوع صور اور صیدا کے علاقے میں گئے اور ایک گھر میں داخل ہوئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو پتہ چلے کہ وہ وہاں ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو خبر ہو گئی۔ 25 ایک عورت اُن کے بارے میں سُن کر فوراً اُن کے پاس آئی اور اُن کے قدموں پر گِر گئی۔ اُس کی بچی میں ایک بُرا فرشتہ*‏ تھا۔ 26 وہ عورت یونانی تھی اور سُورفینیکے کی شہری تھی۔‏*‏ اُس نے کئی بار یسوع سے کہا کہ ”‏میری بیٹی میں سے بُرے فرشتے کو نکال دیں۔“‏ 27 لیکن یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏پہلے بچوں کو تو سیر ہونے دیں کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ بچوں کی روٹی لے کر پِلّوں کے آگے ڈال دی جائے۔“‏ 28 اِس پر اُس نے کہا:‏ ”‏مالک، آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن جو پِلے میز کے نیچے ہوتے ہیں، وہ بھی تو بچوں کی روٹی کے وہ ٹکڑے کھاتے ہیں جو میز سے گِرتے ہیں۔“‏ 29 تب یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏چونکہ آپ نے یہ بات کہی ہے اِس لیے جائیں، آپ کی بیٹی میں سے بُرا فرشتہ نکل گیا ہے۔“‏ 30 جب وہ عورت اپنے گھر پہنچی تو اُس نے دیکھا کہ بچی پلنگ پر لیٹی ہے اور بُرا فرشتہ اُس میں سے نکل چُکا ہے۔‏

31 صور سے واپسی پر یسوع صیدا اور دِکاپُلِس*‏ کے علاقوں سے گزرے اور گلیل کی جھیل کی طرف آئے۔ 32 پھر لوگ ایک آدمی کو یسوع کے پاس لائے جو بہرا تھا اور تتلا کر بولتا تھا۔ وہ یسوع سے اِلتجا کرنے لگے کہ اُس پر ہاتھ رکھیں۔ 33 یسوع اُس آدمی کو لوگوں سے دُور ایک طرف لے گئے۔ پھر اُنہوں نے اُس کے کانوں میں اُنگلیاں ڈالیں، تھوکا اور اُس کی زبان کو چُھوا۔ 34 اِس کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر گہری آہ بھری اور کہا:‏ ”‏اِفتح“‏ جس کا مطلب ہے:‏ کُھل جاؤ۔ 35 تب اُس آدمی کو سنائی دینے لگا اور اُس کی تتلاہٹ دُور ہو گئی اور وہ صاف صاف بولنے لگا۔ 36 پھر یسوع نے لوگوں کو حکم دیا کہ اِس واقعے کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں۔ لیکن جتنا اُنہوں نے لوگوں کو منع کِیا اُتنا ہی لوگوں نے اُن کا چرچا کِیا۔ 37 اصل میں وہ یسوع کے کاموں کو دیکھ کر بہت حیران تھے اور کہہ رہے تھے:‏ ”‏اِس آدمی کے کام بڑے زبردست ہیں۔ یہ تو بہروں کو سننے اور گونگوں کو بولنے تک کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔“‏

8 اُنہی دنوں میں پھر سے ایک بِھیڑ یسوع کے پاس اِکٹھی ہوئی اور لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اِس لیے یسوع نے شاگردوں کو بلا‌یا اور اُن سے کہا:‏ 2 ‏”‏مجھے اِن لوگوں پر ترس آ رہا ہے کیونکہ یہ تین دن سے میرے ساتھ ہیں اور اِن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ 3 اگر مَیں اِنہیں خالی پیٹ گھر بھیج دوں تو شاید وہ کمزوری کی وجہ سے راستے میں گِر جائیں کیونکہ کچھ لوگ دُور سے آئے ہیں۔“‏ 4 لیکن شاگردوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِس سنسان جگہ پر ہم اِتنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کہاں سے لائیں؟“‏ 5 یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏سات۔“‏ 6 یسوع نے لوگوں سے کہا کہ زمین پر بیٹھ جائیں۔ اِس کے بعد اُنہوں نے سات روٹیاں لیں، اُن پر دُعا کی اور اُن کو توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیا اور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں میں تقسیم کِیا۔ 7 اُن کے پاس کچھ چھوٹی مچھلیاں بھی تھیں۔ یسوع نے دُعا کر کے وہ مچھلیاں بھی شاگردوں کو دیں اور اُن سے کہا کہ ”‏اِنہیں بھی لوگوں میں تقسیم کر دیں۔“‏ 8 سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور شاگردوں نے روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے سات ٹوکرے بھرے۔ 9 اُس موقعے پر تقریباً 4000 آدمی موجود تھے۔ اِس کے بعد یسوع نے لوگوں کو رُخصت کِیا۔‏

10 پھر یسوع فوراً اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے اور دلمنوتہ کے علاقے میں گئے۔ 11 وہاں فریسی اُن کے پاس آئے اور اُن سے بحث کرنے لگے اور اُن کا اِمتحان لینے کے لیے کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں آسمان سے ایک نشانی دِکھاؤ۔“‏ 12 تب یسوع نے دل ہی دل میں*‏ گہری آہ بھری اور کہا:‏ ”‏یہ پُشت ایک نشانی کیوں مانگتی ہے؟ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اِس پُشت کو کوئی نشانی نہیں دِکھائی جائے گی۔“‏ 13 پھر وہ اُنہیں وہیں چھوڑ کر دوبارہ کشتی میں سوار ہوئے اور جھیل کے اُس پار جانے کے لیے روانہ ہوئے۔‏

14 لیکن چونکہ شاگرد اپنے ساتھ روٹی لے جانا بھول گئے تھے اِس لیے اُن کے پاس کھانے کے لیے ایک روٹی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ 15 یسوع نے اُنہیں صاف صاف کہا:‏ ”‏اپنی آنکھیں کُھلی رکھیں اور فریسیوں کے خمیر اور ہیرودیس کے خمیر سے خبردار رہیں۔“‏ 16 اِس پر شاگرد ایک دوسرے سے بحث کرنے لگے کیونکہ اُن کے پاس روٹیاں نہیں تھیں۔ 17 یہ دیکھ کر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگ اِس بات پر کیوں بحث کر رہے ہیں کہ آپ کے پاس روٹیاں نہیں ہیں؟ کیا آپ ابھی تک میری بات نہیں سمجھے؟ کیا ابھی بھی آپ کی سمجھ پر پردہ پڑا ہے؟ 18 ‏”‏تمہاری آنکھیں ہیں، پھر تُم دیکھ کیوں نہیں سکتے؟ تمہارے کان ہیں، پھر تُم سُن کیوں نہیں سکتے؟“‏ کیا آپ کو یاد ہے کہ 19 جب مَیں نے پانچ روٹیوں سے 5000 آدمیوں کو کھانا کھلایا تو آپ نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏بارہ۔“‏ 20 ‏”‏اور جب مَیں نے سات روٹیوں سے 4000 آدمیوں کو کھانا کھلایا تو آپ نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏سات۔“‏ 21 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ ابھی بھی میری بات نہیں سمجھے؟“‏

22 پھر وہ بیت‌صیدا پہنچے۔ وہاں لوگ ایک اندھے آدمی کو یسوع کے پاس لائے اور اُن سے اِلتجا کرنے لگے کہ وہ اُسے چُھوئیں۔ 23 یسوع اُس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے گاؤں سے باہر لے گئے۔ پھر اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر تھوک لگایا اور اُس پر ہاتھ رکھ کر کہا:‏ ”‏کیا آپ کو کچھ نظر آ رہا ہے؟“‏ 24 اُس آدمی نے آنکھیں اُٹھا کر دیکھا اور کہا:‏ ”‏مجھے لوگ نظر آ رہے ہیں لیکن وہ چلتے پھرتے درختوں کی طرح لگتے ہیں۔“‏ 25 یسوع نے دوبارہ اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور اُس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہو گئیں اور اُسے سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگا۔ 26 اِس کے بعد یسوع نے اُسے یہ کہہ کر گھر بھیج دیا کہ ”‏گاؤں میں داخل نہ ہونا۔“‏

27 پھر یسوع اور اُن کے شاگرد قیصریہ فِلپّی کے علاقے کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏لوگوں کے خیال میں مَیں کون ہوں؟“‏ 28 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کچھ لوگ کہتے ہیں:‏ یوحنا بپتسمہ دینے والا، کچھ کہتے ہیں:‏ ایلیاہ نبی جبکہ کچھ کہتے ہیں:‏ نبیوں میں سے ایک۔“‏ 29 یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏اور آپ کے خیال میں مَیں کون ہوں؟“‏ پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏آپ مسیح ہیں۔“‏ 30 اِس پر یسوع نے شاگردوں کو سخت تاکید کی کہ ”‏کسی کو نہ بتانا کہ مَیں کون ہوں۔“‏ 31 یسوع نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو بہت اذیت اُٹھانی پڑے گی اور بزرگ، اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم اُسے ٹھکرا دیں گے اور پھر اُسے مار ڈالا جائے گا اور تین دن بعد زندہ کِیا جائے گا۔ 32 اُنہوں نے شاگردوں کو یہ سب کچھ واضح طور پر بتا دیا۔ لیکن پطرس، یسوع کو ایک طرف لے جا کر جھڑکنے لگے۔ 33 یسوع نے مُڑ کر اپنے شاگردوں کی طرف دیکھا اور پطرس کو ڈانٹتے ہوئے کہا:‏ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، شیطان!‏ کیونکہ تُم خدا کی سوچ نہیں بلکہ اِنسان کی سوچ رکھتے ہو۔“‏

34 پھر یسوع نے بِھیڑ کو اور اپنے شاگردوں کو پاس بلا‌یا اور اُن سے کہا:‏ ”‏اگر کوئی میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتا ہے تو اپنے لیے جینا چھوڑ دے اور اپنی سُولی*‏ اُٹھائے اور میری پیروی کرتا رہے 35 کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے، وہ اِسے کھو دے گا لیکن جو کوئی میری خاطر اور خوش‌خبری کی خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے، وہ اِسے بچا لے گا۔ 36 اگر ایک آدمی پوری دُنیا حاصل کر لے لیکن اپنی جان کھو دے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ 37 آخر ایک آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے سکتا ہے؟ 38 کیونکہ اِس بے‌وفا*‏ اور گُناہ‌گار پُشت میں سے جو کوئی میری اور میری باتوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا، اِنسان کا بیٹا بھی تب اُس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا جب وہ مُقدس فرشتوں کو لے کر اپنے باپ کی شان کے ساتھ آئے گا۔“‏

9 یسوع نے اُن سے یہ بھی کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو موت کا مزہ چکھنے سے پہلے خدا کی بادشاہت کو حکمرانی کرتے دیکھیں گے۔“‏ 2 چھ دن بعد یسوع نے پطرس، یعقوب اور یوحنا کو ساتھ لیا اور ایک اُونچے پہاڑ پر گئے۔ وہاں اُن کے دیکھتے دیکھتے یسوع کی صورت بدل گئی 3 اور اُن کے کپڑے اِتنے چمکنے لگے کہ دُنیا کا کوئی بھی دھوبی اِتنے اُجلے اور سفید کپڑے نہیں دھو سکتا۔ 4 شاگردوں کو موسیٰ اور ایلیاہ بھی دِکھائی دیے جو یسوع سے باتیں کر رہے تھے۔ 5 یہ دیکھ کر پطرس نے یسوع سے کہا:‏ ”‏ربّی!‏*‏ کتنی اچھی بات ہے کہ ہم یہاں پر ہیں!‏ اگر آپ کہیں تو ہم تین خیمے کھڑے کر دیتے ہیں، ایک آپ کے لیے، ایک موسیٰ کے لیے اور ایک ایلیاہ کے لیے۔“‏ 6 اصل میں پطرس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہیں کیونکہ وہ تینوں بہت خوف‌زدہ تھے۔ 7 پھر ایک بادل بنا اور اُن سب پر چھا گیا اور بادل سے آواز آئی کہ ”‏یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ اِس کی سنو۔“‏ 8 لیکن جب اُنہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اُنہیں یسوع کے سوا اَور کوئی نظر نہیں آیا۔‏

9 بعد میں جب وہ پہاڑ سے نیچے اُتر رہے تھے تو یسوع نے اُن کو سخت تاکید کی کہ ”‏جو کچھ آپ نے دیکھا ہے، اُس کے بارے میں اُس وقت تک کسی کو نہ بتائیں جب تک اِنسان کے بیٹے*‏ کو مُردوں میں سے زندہ نہ کِیا جائے۔“‏ 10 شاگردوں نے یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لی۔‏*‏ لیکن وہ آپس میں اِس بارے میں بات کرنے لگے کہ ”‏اِس کا کیا مطلب ہے کہ اِنسان کے بیٹے کو زندہ کِیا جائے گا؟“‏ 11 پھر وہ یسوع سے پوچھنے لگے کہ ”‏شریعت کے عالم کیوں کہتے ہیں کہ پہلے ایلیاہ کا آنا ضروری ہے؟“‏ 12 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏یہ صحیح ہے کہ ایلیاہ پہلے آئیں گے اور سب کچھ بحال کریں گے۔ مگر اِنسان کے بیٹے کے بارے میں صحیفوں میں کیوں لکھا ہے کہ اُسے بڑی اذیت اُٹھانی پڑے گی اور اُس کی بے‌عزتی کی جائے گی؟ 13 مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ ایلیاہ تو آ چکے ہیں اور جیسا کہ صحیفوں میں لکھا ہے، لوگوں نے اُن کے ساتھ جو چاہا، وہ کِیا۔“‏

14 جب وہ باقی شاگردوں کے نزدیک پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے اِردگِرد بہت سے لوگ جمع ہیں اور شریعت کے عالم اُن سے بحث کر رہے ہیں۔ 15 لیکن جونہی لوگوں نے یسوع کو دیکھا، وہ حیران ہو گئے اور اُن سے ملنے کے لیے دوڑے۔ 16 یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ لوگ کیا بحث کر رہے تھے؟“‏ 17 اُن میں سے ایک آدمی نے کہا:‏ ”‏اُستاد، مَیں اپنے بیٹے کو آپ کے پاس لایا تھا کیونکہ اُس پر ایک بُرے فرشتے*‏ کا سایہ ہے جس نے اُسے گونگا بنا دیا ہے۔ 18 جب بھی بُرا فرشتہ اُس میں آتا ہے، اُسے زمین پر پٹخ دیتا ہے اور پھر اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے اور وہ دانت پیسنے لگتا ہے اور اُس میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ مَیں نے آپ کے شاگردوں سے کہا کہ میرے بیٹے میں سے بُرے فرشتے کو نکال دیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔“‏ 19 یہ سُن کر یسوع نے کہا:‏ ”‏ایمان سے خالی پُشت!‏ مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا پڑے گا اور تمہیں برداشت کرنا پڑے گا؟ لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔“‏ 20 وہ لڑکے کو اُن کے پاس لائے۔ لیکن جیسے ہی بُرے فرشتے نے یسوع کو دیکھا، وہ لڑکے کو مروڑنے لگا۔ لڑکا زمین پر گِر گیا اور لوٹ‌پوٹ ہونے لگا اور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگی۔ 21 یسوع نے لڑکے کے باپ سے پوچھا:‏ ”‏اِس کے ساتھ ایسا کب سے ہو رہا ہے؟“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏بچپن سے۔ 22 بُرا فرشتہ اِس کو بار بار آگ اور پانی میں گِرا دیتا ہے تاکہ اِسے مار ڈالے۔ اگر آپ ہمارے لیے کچھ کر سکتے ہیں تو ہم پر ترس کھائیں اور ہماری مدد کریں۔“‏ 23 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ نے کیوں کہا کہ ”‏اگر آپ کچھ کر سکتے ہیں؟“‏ بے‌شک ایمان رکھنے والوں کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔“‏ 24 یہ سنتے ہی لڑکے کا باپ چلّا اُٹھا اور کہنے لگا:‏ ”‏مَیں ایمان رکھتا ہوں!‏ میری مدد کریں تاکہ میرا ایمان مضبوط ہو جائے!‏“‏

25 جب یسوع نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اُن کی طرف بھاگے آ رہے ہیں تو اُنہوں نے بُرے فرشتے کو جھڑکا اور کہا:‏ ”‏تُم نے اِس لڑکے کو گونگا اور بہرا بنا دیا ہے مگر مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اِس میں سے نکل جاؤ اور آئندہ اِس میں داخل نہ ہونا۔“‏ 26 اِس پر بُرا فرشتہ چلّانے لگا اور لڑکے کو زورزور سے مروڑنے لگا اور پھر اُس میں سے نکل گیا۔ اور لڑکے کی حالت مُردوں جیسی ہو گئی۔ یہ دیکھ کر زیادہ‌تر لوگ کہنے لگے:‏ ”‏یہ تو مر گیا ہے!‏“‏ 27 لیکن یسوع نے لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اُٹھایا اور وہ کھڑا ہو گیا۔ 28 بعد میں یسوع ایک گھر میں گئے۔ وہاں شاگرد اکیلے میں اُن کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:‏ ”‏ہم اُس بُرے فرشتے کو کیوں نہیں نکال سکے؟“‏ 29 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اِس طرح کے بُرے فرشتے صرف دُعا کے ذریعے نکالے جا سکتے ہیں۔“‏

30 وہاں سے روانہ ہو کر وہ گلیل کے علاقے میں آئے۔ لیکن یسوع نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو پتہ چلے کہ وہ کہاں ہیں 31 کیونکہ وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دے رہے تھے اور اُن سے کہہ رہے تھے کہ ”‏اِنسان کے بیٹے کو دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے گا اور وہ اُسے مار ڈالیں گے۔ لیکن تین دن کے بعد اُسے زندہ کِیا جائے گا۔“‏ 32 شاگردوں کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی لیکن وہ اِس بارے میں سوال پوچھنے سے ہچکچا رہے تھے۔‏

33 پھر وہ کفرنحوم پہنچے۔ جب وہ گھر میں تھے تو یسوع نے شاگردوں سے پوچھا:‏ ”‏آپ راستے میں کیا بحث کر رہے تھے؟“‏ 34 لیکن اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ وہ راستے میں یہ بحث کر رہے تھے کہ اُن میں سب سے بڑا کون ہے۔ 35 اِس پر یسوع بیٹھ گئے اور 12 رسولوں کو پاس بلا کر کہنے لگے:‏ ”‏اگر آپ میں سے کوئی اوّل ہونا چاہتا ہے تو اُسے خود کو سب سے آخر میں رکھنا چاہیے اور سب کا خادم بننا چاہیے۔“‏ 36 پھر یسوع نے ایک چھوٹے بچے کو پاس بلا‌یا، اُسے اُن کے بیچ میں کھڑا کِیا اور اپنی بانہوں میں لے کر کہا:‏ 37 ‏”‏جو کوئی ایک ایسے بچے کو میری خاطر قبول کرتا ہے، وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو کوئی مجھے قبول کرتا ہے، وہ صرف مجھے نہیں بلکہ اُس کو بھی قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔“‏

38 یوحنا نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اُستاد!‏ ہم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو آپ کے نام سے بُرے فرشتے نکال رہا تھا اور ہم نے اُس کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔“‏ 39 لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏اُسے روکنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ جو بھی میرے نام سے معجزے کرتا ہے، وہ آسانی سے میری بُرائی نہیں کرے گا 40 کیونکہ جو ہمارے خلاف نہیں ہے، وہ ہمارے ساتھ ہے۔ 41 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جو بھی آپ کو اِس لیے ایک پیالہ پانی پلاتا ہے کیونکہ آپ مسیح کے شاگرد ہیں، اُسے اجر ضرور ملے گا۔ 42 لیکن جو شخص اِن چھوٹوں میں سے جو ایمان لائے ہیں، کسی کو گمراہ کرے، اُس کے لیے بہتر ہوگا کہ اُس کے گلے میں ایک ایسی چکی کا پاٹ ڈالا جائے جسے گدھے کھینچتے ہیں اور پھر اُسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔‏

43 اور اگر کبھی آپ کا ہاتھ آپ کو گمراہ کرے تو اِسے کاٹ دیں۔ بہتر ہے کہ آپ معذور ہو کر زندگی حاصل کریں بجائے اِس کے کہ آپ کو دونوں ہاتھوں کے ساتھ ہنوم کی وادی*‏ کی آگ میں پھینکا جائے یعنی اُس آگ میں جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ 44 ‏—‏*‏ 45 اور اگر آپ کا پاؤں آپ کو گمراہ کرے تو اِسے کاٹ دیں۔ بہتر ہے کہ آپ معذور ہو کر زندگی حاصل کریں بجائے اِس کے کہ آپ کو دونوں پاؤں کے ساتھ ہنوم کی وادی میں پھینکا جائے۔ 46 ‏—‏*‏ 47 اور اگر آپ کی آنکھ آپ کو گمراہ کرے تو اِسے پھینک دیں۔ بہتر ہے کہ آپ صرف ایک آنکھ کے ساتھ خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں بجائے اِس کے کہ آپ کو دونوں آنکھوں کے ساتھ ہنوم کی وادی میں پھینکا جائے 48 جہاں کیڑے نہیں مرتے اور آگ نہیں بجھائی جاتی۔‏

49 ایسے لوگوں پر اِس طرح آگ برسائی جائے گی جس طرح نمک چھڑکا جاتا ہے۔ 50 نمک اچھی چیز ہے۔ لیکن اگر نمک کا ذائقہ ختم ہو جائے تو آپ اُس کو پھر سے نمکین کیسے بنائیں گے؟ لہٰذا ایسے نمک کی طرح بنیں جو نمکین ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہیں۔“‏

10 یسوع وہاں سے روانہ ہو کر دریائے اُردن کے پار، یہودیہ کے سرحدی علاقوں میں گئے۔ اُدھر بھی بہت زیادہ لوگ اُن کے پاس جمع ہو گئے اور یسوع اپنے معمول کے مطابق اُن کو تعلیم دینے لگے۔ 2 کچھ فریسی اُن کے پاس آئے اور اُن کا اِمتحان لینے کے لیے کہا:‏ ”‏کیا بیوی کو طلاق دینا جائز ہے؟“‏ 3 یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏موسیٰ نے اِس بارے میں کیا لکھا ہے؟“‏ 4 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏موسیٰ نے کہا ہے کہ بیوی کو طلاق‌نامہ دے کر چھوڑنا جائز ہے۔“‏ 5 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏موسیٰ نے آپ کی سنگ‌دلی کی وجہ سے یہ لکھا تھا۔ 6 مگر جس نے اِنسانوں کو بنایا، اُس نے شروع سے ”‏اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ 7 اِس لیے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ دے گا 8 اور وہ دونوں ایک بن جائیں گے۔“‏ لہٰذا وہ دو نہیں رہے بلکہ ایک ہو گئے ہیں۔ 9 اِس لیے جسے خدا نے جوڑا ہے، اُسے کوئی اِنسان جُدا نہ کرے۔“‏ 10 بعد میں جب وہ گھر میں تھے تو شاگرد یسوع سے اِس کے متعلق پوچھنے لگے۔ 11 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور کسی اَور سے شادی کرتا ہے، وہ اپنی بیوی سے بے‌وفائی کرتا ہے اور زِنا کرتا ہے۔ 12 اور اگر ایک عورت اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی اَور سے شادی کرے تو وہ زِنا کرتی ہے۔“‏

13 پھر لوگ چھوٹے بچوں کو یسوع کے پاس لائے تاکہ وہ اُن پر ہاتھ رکھیں۔ لیکن شاگردوں نے اُن کو ڈانٹا۔ 14 یہ دیکھ کر یسوع ناراض ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏بچوں کو میرے پاس آنے دیں، اُن کو نہ روکیں کیونکہ خدا کی بادشاہت ایسے لوگوں کی ہے جو اِن چھوٹے بچوں کی طرح ہیں۔ 15 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جو شخص خدا کی بادشاہت کو اِس طرح قبول نہیں کرتا جس طرح چھوٹے بچے کسی چیز کو قبول کرتے ہیں، وہ اِس میں داخل نہیں ہوگا۔“‏ 16 اِس کے بعد اُنہوں نے بچوں کو بانہوں میں لیا اور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُن کو دُعا دی۔‏

17 جب یسوع وہاں سے آگے جا رہے تھے تو ایک آدمی بھاگا بھاگا اُن کے پاس آیا اور اُن کے سامنے گھٹنوں کے بل گِر کر کہنے لگا:‏ ”‏اچھے اُستاد، مجھے کیا کرنا چاہیے تاکہ مَیں ہمیشہ کی زندگی ورثے میں پاؤں؟“‏ 18 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ نے مجھے اچھا کیوں کہا؟ کوئی اچھا نہیں سوائے خدا کے۔ 19 آپ اِن حکموں کو تو جانتے ہیں کہ ”‏قتل نہ کرو؛ زِنا نہ کرو؛ چوری نہ کرو؛ جھوٹی گواہی نہ دو؛ کسی کو دھوکا نہ دو؛ اپنے ماں باپ کی عزت کرو۔“‏ “‏ 20 اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏اُستاد، اِن سب حکموں پر تو مَیں بچپن سے عمل کر رہا ہوں۔“‏ 21 یسوع نے اُس کی طرف دیکھا اور اُن کو اُس پر پیار آیا اور اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ کو ایک اَور کام کرنے کی ضرورت ہے:‏ جائیں، اپنا مال بیچ کر سارا پیسہ غریبوں کو دے دیں تاکہ آپ آسمان پر خزانہ جمع کریں۔ اور پھر میرے پیروکار بن جائیں۔“‏ 22 یہ سُن کر وہ آدمی غمگین ہوا اور دُکھ بھرے دل کے ساتھ وہاں سے چلا گیا کیونکہ وہ بہت امیر تھا۔‏

23 یسوع نے وہاں کھڑے لوگوں پر نظر ڈالی اور اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے، اُن کے لیے خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا کتنا مشکل ہوگا!‏“‏ 24 یہ سُن کر شاگرد حیران ہو گئے۔ لیکن یسوع نے پھر اُن سے کہا:‏ ”‏بچو، خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا کتنا مشکل ہے!‏ 25 ایک امیر آدمی کے لیے خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا اُتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک اُونٹ کے لیے سوئی کے ناکے سے گزرنا۔“‏ 26 اِس پر شاگرد اَور بھی حیران ہوئے اور یسوع سے*‏ کہنے لگے:‏ ”‏پھر کون نجات حاصل کر سکتا ہے؟“‏ 27 یسوع نے اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:‏ ”‏اِنسانوں کے لیے یہ ناممکن ہے لیکن خدا کے لیے نہیں کیونکہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔“‏ 28 پھر پطرس نے اُن سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ ہم نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور آپ کی پیروی کر رہے ہیں۔“‏ 29 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے میری خاطر اور خوش‌خبری کی خاطر گھر، بہن بھائی، ماں باپ، بچے یا زمینیں چھوڑ دی ہیں، 30 اُسے اِس زمانے میں سو گُنا ملے گا۔ اُسے گھر، بہنیں، بھائی، مائیں، بچے اور زمینیں ملیں گی لیکن ساتھ ساتھ اذیت بھی ملے گی۔ اور آنے والے زمانے میں اُسے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوگی۔ 31 لیکن بہت سے لوگ جو پہلے ہیں، وہ آخری ہو جائیں گے اور جو آخری ہیں، وہ پہلے ہو جائیں گے۔“‏

32 اب یسوع اور اُن کے شاگرد اُس سڑک پر تھے جو یروشلیم کی طرف جاتی ہے اور یسوع آگے آگے چل رہے تھے۔ مگر شاگرد حیران‌وپریشان تھے اور جو لوگ اُن کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے، وہ خوف‌زدہ تھے۔ ایک بار پھر سے یسوع 12 رسولوں کو ایک طرف لے گئے اور بتانے لگے کہ اُن کے ساتھ کیا کیا ہونے والا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ 33 ‏”‏دیکھیں، ہم یروشلیم جا رہے ہیں۔ وہاں اِنسان کے بیٹے*‏ کو اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں کے حوالے کِیا جائے گا۔ وہ اُس کو سزائے‌موت سنائیں گے اور اُسے غیریہودیوں کے حوالے کریں گے 34 جو اُس کا مذاق اُڑائیں گے، اُس پر تھوکیں گے، اُسے کوڑے لگوائیں گے اور مار ڈالیں گے۔ لیکن تین دن کے بعد وہ زندہ ہو جائے گا۔“‏

35 پھر زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحنا، یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اُستاد، ہماری ایک فرمائش ہے۔ وعدہ کریں کہ آپ اِسے پورا کریں گے۔“‏ 36 یسوع نے کہا:‏ ”‏بتائیں، کیا فرمائش ہے؟“‏ 37 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جب آپ اپنا شان‌دار عہدہ سنبھالیں گے تو ہمیں اپنی دائیں اور بائیں طرف بیٹھنے کا شرف عطا کریں۔“‏ 38 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا مانگ رہے ہیں۔ کیا آپ وہ پیالہ پی سکتے ہیں جو مَیں پی رہا ہوں اور وہ بپتسمہ لے سکتے ہیں جو مَیں لے رہا ہوں؟“‏ 39 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جی، ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔“‏ اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏جو پیالہ مَیں پی رہا ہوں، آپ ضرور پئیں گے اور جو بپتسمہ مَیں لے رہا ہوں، آپ ضرور لیں گے۔ 40 لیکن یہ میرے ہاتھ میں نہیں کہ کون میری دائیں اور بائیں طرف بیٹھے گا بلکہ میرا باپ اِس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کون کہاں بیٹھے گا۔“‏

41 جب باقی دس رسولوں نے یہ سنا تو وہ یعقوب اور یوحنا پر غصہ ہونے لگے۔ 42 لیکن یسوع نے اُن سب کو پاس بلا‌یا اور کہا:‏ ”‏آپ جانتے ہیں کہ دُنیا کے حکمران لوگوں پر حکم چلاتے ہیں اور بڑے آدمی دوسروں پر اِختیار جتاتے ہیں۔ 43 مگر آپ کے درمیان ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جو آپ میں بڑا بننا چاہتا ہے، وہ آپ کا خادم بنے 44 اور جو آپ میں اوّل ہونا چاہتا ہے، وہ سب کا غلام بنے 45 کیونکہ اِنسان کا بیٹا بھی لوگوں سے خدمت لینے نہیں آیا بلکہ اِس لیے آیا کہ خدمت کرے اور بہت سے لوگوں کے لیے اپنی جان فدیے کے طور پر دے۔“‏

46 پھر وہ یریحو پہنچے۔ جب یسوع اور اُن کے شاگرد ایک بِھیڑ کے ساتھ یریحو سے نکل رہے تھے تو سڑک کے کنارے ایک اندھا فقیر بیٹھا تھا۔ (‏یہ تمائی کا بیٹا برتمائی تھا۔)‏ 47 جب اُس آدمی نے سنا کہ ناصرت کے یسوع یہاں سے گزر رہے ہیں تو وہ چلّانے لگا:‏ ”‏داؤد کے بیٹے، یسوع!‏ مجھ پر رحم کریں۔“‏ 48 مگر لوگوں نے اُسے ٹوکا اور کہا:‏ ”‏چپ رہو!‏“‏ لیکن وہ اَور بھی اُونچی آواز میں چلّانے لگا:‏ ”‏داؤد کے بیٹے، یسوع!‏ مجھ پر رحم کریں۔“‏ 49 اِس پر یسوع رُک گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اُسے بلا‌ئیں۔“‏ لوگوں نے اُس اندھے آدمی کو بلا‌یا اور اُس سے کہا:‏ ”‏حوصلہ کرو!‏ اُٹھو، وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔“‏ 50 اُس نے اپنی چادر اُتار کر پھینکی اور جلدی سے اُٹھ کر یسوع کے پاس گیا۔ 51 یسوع نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏ربونی!‏*‏ میری آنکھوں کو ٹھیک کر دیں۔“‏ 52 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں، آپ اپنے ایمان کی وجہ سے ٹھیک ہو گئے ہیں۔“‏ اور فوراً اُس کو دوبارہ سے دِکھائی دینے لگا اور وہ یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔‏

11 جب وہ یروشلیم کے نزدیک بیت‌فگے اور بیت‌عنیاہ کے پاس پہنچے جو کوہِ‌زیتون پر ہیں تو یسوع نے اپنے دو شاگردوں سے کہا:‏ 2 ‏”‏سامنے جو گاؤں ہے، اُس میں جائیں۔ اور جیسے ہی آپ اُس میں داخل ہوں گے، آپ کو ایک گدھا بندھا ہوا ملے گا جس پر ابھی تک کوئی اِنسان سوار نہیں ہوا۔ اُسے کھول کر میرے پاس لائیں۔ 3 اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ ”‏تُم کیا کر رہے ہو؟“‏ تو اُس سے کہنا:‏ ”‏مالک کو اِس کی ضرورت ہے۔ وہ جلد اِسے واپس کر دیں گے۔“‏ “‏ 4 شاگرد روانہ ہو گئے۔ گاؤں میں پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ گلی میں ایک گدھا دروازے پر بندھا ہوا ہے اور وہ اُسے کھولنے لگے۔ 5 لیکن وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے کہا:‏ ”‏تُم گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟“‏ 6 شاگردوں نے اُن کو وہی جواب دیا جو یسوع نے کہا تھا۔ اِس پر لوگوں نے اُن کو جانے دیا۔‏

7 وہ گدھے کو یسوع کے پاس لائے اور اِس پر اپنی چادریں ڈالیں۔ پھر یسوع اِس پر سوار ہو گئے۔ 8 اِس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اپنی چادریں راستے پر بچھائیں جبکہ کچھ لوگوں نے سڑک کے کنارے لگے درختوں کی شاخیں کاٹ کاٹ کر راستے پر رکھیں۔ 9 اور جو لوگ یسوع کے آگے اور پیچھے چل رہے تھے، وہ سب اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏اُسے نجات دِلا!‏*‏ اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ*‏ کے نام سے آتا ہے!‏ 10 ہمارے باپ داؤد کی آنے والی بادشاہت برکتوں والی ہے!‏ اَے خدا، تُو جو آسمان پر ہے!‏ اُسے نجات دِلا!‏“‏ 11 پھر یسوع یروشلیم میں داخل ہوئے اور ہیکل*‏ میں گئے۔ وہاں اُنہوں نے سب چیزوں پر نظر ڈالی لیکن چونکہ کافی دیر ہو چکی تھی اِس لیے وہ 12 رسولوں کے ساتھ بیت‌عنیاہ چلے گئے۔‏

12 اگلے روز جب وہ بیت‌عنیاہ سے نکلے تو یسوع کو بھوک لگ رہی تھی۔ 13 اُنہیں دُور سے ایک اِنجیر کا درخت نظر آیا جس پر پتے تھے۔ وہ یہ دیکھنے کے لیے اُس کے پاس گئے کہ اُس پر پھل لگا ہے یا نہیں۔ لیکن اُدھر پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ اِس پر صرف پتے لگے ہیں کیونکہ اِنجیروں کا موسم نہیں تھا۔ 14 اِس پر اُنہوں نے درخت سے کہا:‏ ”‏آئندہ کبھی کسی کو تجھ سے پھل نہ ملے۔“‏ اور اُن کے شاگردوں نے بھی یہ بات سنی۔‏

15 جب وہ یروشلیم پہنچے تو یسوع ہیکل میں گئے اور اُن لوگوں کو باہر نکالنے لگے جو وہاں خریدوفروخت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کی میزیں اور کبوتر بیچنے والوں کی چوکیاں اُلٹ دیں 16 اور اُن لوگوں کو روک دیا جو چیزیں اُٹھائے ہیکل کے بیچ سے گزر رہے تھے۔ 17 یسوع لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ”‏کیا صحیفوں میں نہیں لکھا کہ ”‏میرا گھر سب قوموں کے لیے دُعا کا گھر کہلائے گا“‏؟ لیکن تُم اِسے ڈاکوؤں کا اڈا بنا رہے ہو۔“‏ 18 اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں نے یہ سُن لیا اور یسوع کو مار ڈالنے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔ دراصل وہ یسوع سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ اُن کے تعلیم دینے کے انداز اور اُن کی باتوں سے بہت متاثر تھے۔‏

19 جب شام ہو گئی تو یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ شہر سے باہر چلے گئے۔ 20 صبح سویرے جب وہ اِنجیر کے درخت کے پاس سے گزر رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ جڑوں تک سُوکھ گیا ہے۔ 21 پطرس کو وہ بات یاد آئی جو یسوع نے درخت سے کہی تھی اور اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ربّی، دیکھیں!‏ آپ نے جس اِنجیر کے درخت پر لعنت بھیجی تھی، وہ سُوکھ گیا ہے۔“‏ 22 اِس پر یسوع نے اُن سب سے کہا:‏ ”‏خدا پر ایمان رکھیں۔ 23 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اِس پہاڑ سے کہے کہ ”‏اُٹھ اور سمندر میں چلا جا“‏ اور دل میں شک نہ کرے بلکہ ایمان رکھے کہ اُس کی بات ضرور پوری ہوگی تو ویسا ہی ہوگا۔ 24 اِس لیے مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ جب بھی آپ کسی چیز کے لیے دُعا کریں تو ایمان رکھیں اور یوں سمجھیں کہ وہ آپ کو مل گئی ہے۔ پھر وہ چیز آپ کو مل جائے گی۔ 25 اور جب آپ کھڑے ہو کر دُعا کرتے ہیں اور آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ کو کسی سے شکایت ہے تو اُسے معاف کر دیں تاکہ آپ کا آسمانی باپ بھی آپ کی خطائیں معاف کر دے۔“‏ 26 ‏—‏*‏

27 وہ پھر سے یروشلیم گئے۔ جب یسوع ہیکل میں چل پھر رہے تھے تو اعلیٰ کاہن، شریعت کے عالم اور بزرگ اُن کے پاس آئے 28 اور کہنے لگے:‏ ”‏تمہارے پاس یہ سب کام کرنے کا اِختیار کہاں سے آیا؟ تمہیں کس نے یہ اِختیار دیا؟“‏ 29 یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏پہلے مَیں آپ سے ایک بات پوچھوں گا۔ اگر آپ مجھے جواب دیں گے تو مَیں بھی آپ کو بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔ 30 مجھے بتائیں کہ یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اِختیار کس نے دیا تھا؟ خدا*‏ نے یا اِنسانوں نے؟“‏ 31 وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ”‏اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏خدا نے“‏ تو یہ کہے گا:‏ ”‏تو پھر آپ اُس پر ایمان کیوں نہیں لائے؟“‏ 32 لیکن اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏اِنسانوں نے“‏ تو پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہوگا؟“‏ اصل میں وہ لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ یوحنا کو نبی مانتے تھے۔ 33 اِس لیے اُنہوں نے یسوع کو جواب دیا:‏ ”‏ہمیں نہیں پتہ۔“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں بھی نہیں بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔“‏

12 پھر یسوع مثالیں دے کر لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ایک آدمی نے انگوروں کا باغ لگایا اور اُس کے اِردگِرد باڑ لگائی۔ پھر اُس نے باغ میں ایک بُرج کھڑا کِیا اور انگور روندنے کے لیے ایک حوض بنایا۔ اِس کے بعد اُس نے باغ کاشت‌کاروں کو کرائے پر دیا اور خود پردیس چلا گیا۔ 2 جب انگوروں کا موسم آیا تو اُس نے ایک غلام کو کاشت‌کاروں کے پاس بھیجا تاکہ وہ باغ سے کچھ پھل لے آئے۔ 3 لیکن اُنہوں نے اُس کو پکڑ کر ماراپیٹا اور خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔ 4 مالک نے پھر سے ایک غلام کو اُن کے پاس بھیجا لیکن اُنہوں نے اُس کے سر پر مارا اور اُسے ذلیل کِیا۔ 5 اِس کے بعد مالک نے ایک اَور غلام بھیجا مگر اُنہوں نے اُسے مار ڈالا۔ اُس نے اُن کے پاس اَور بھی بہت سے غلام بھیجے لیکن اُنہوں نے کچھ کو ماراپیٹا اور کچھ کو قتل کر دیا۔ 6 آخر میں مالک نے اپنے پیارے بیٹے کو یہ سوچ کر کاشت‌کاروں کے پاس بھیجا کہ ”‏وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔“‏ 7 لیکن کاشت‌کار آپس میں کہنے لگے:‏ ”‏یہی تو باغ کا وارث ہے۔ آؤ، اِسے قتل کر دیں۔ پھر باغ*‏ ہمیں مل جائے گا۔“‏ 8 لہٰذا اُنہوں نے اُسے پکڑ کر مار ڈالا اور اُسے باغ سے باہر پھینک دیا۔ 9 اب باغ کا مالک کیا کرے گا؟ وہ آ کر اُن کاشت‌کاروں کو ہلاک کرے گا اور باغ دوسرے کاشت‌کاروں کو کرائے پر دے گا۔ 10 کیا آپ نے کبھی صحیفوں میں یہ نہیں پڑھا کہ ”‏جس پتھر کو مزدوروں نے ٹھکرا دیا، وہ کونے کا سب سے اہم پتھر*‏ بن گیا۔ 11 یہ پتھر یہوواہ*‏ کی طرف سے آیا اور ہماری نظر میں شان‌دار ہے“‏؟“‏

12 جب اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں نے یہ مثال سنی تو وہ سمجھ گئے کہ اصل میں یسوع اُن کی بات کر رہے ہیں۔ اِس لیے وہ یسوع کو گِرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن وہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔ لہٰذا وہ یسوع کو چھوڑ کر چلے گئے۔‏

13 پھر اُنہوں نے یسوع کے پاس کچھ فریسیوں اور ہیرودیس کے کچھ حامیوں کو بھیجا تاکہ وہ یسوع کو اُن کی اپنی ہی باتوں میں پھنسانے کی کوشش کریں۔ 14 اُنہوں نے یسوع کے پاس آ کر کہا:‏ ”‏اُستاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ آپ کو نہ تو اِس بات کی فکر ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور نہ ہی آپ کسی کے مرتبے سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ آپ خدا کی راہ کی صحیح تعلیم دیتے ہیں۔ کیا قیصر کو ٹیکس دینا جائز ہے یا نہیں؟ 15 کیا ہمیں ٹیکس دینا چاہیے یا نہیں؟“‏ یسوع نے اُن کی چالاکی بھانپ لی اور کہا:‏ ”‏آپ میرا اِمتحان کیوں لے رہے ہیں؟ مجھے ایک دینار لا کر دیں۔“‏ 16 اُنہوں نے یسوع کو ایک دینار لا کر دیا۔ یسوع نے کہا:‏ ”‏اِس پر کس کی تصویر اور نام نظر آ رہا ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏قیصر کا۔“‏ 17 یسوع نے کہا:‏ ”‏تو جو چیزیں قیصر کی ہیں، قیصر کو دیں اور جو چیزیں خدا کی ہیں، خدا کو دیں۔“‏ یسوع کا جواب سُن کر وہ دنگ رہ گئے۔‏

18 اِس کے بعد صدوقی جو اِس بات کو نہیں مانتے کہ مُردے زندہ ہوں گے، آئے اور اُن سے پوچھا:‏ 19 ‏”‏اُستاد، موسیٰ نے لکھا تھا کہ اگر کسی آدمی کا بھائی بے‌اولاد مر جائے تو وہ اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کر لے اور اُس کے لیے اولاد پیدا کرے۔ 20 اب سات بھائی تھے؛ پہلے نے شادی کی لیکن بے‌اولاد مر گیا۔ 21 پھر دوسرے نے اُس کی بیوی سے شادی کر لی لیکن وہ بھی بے‌اولاد مر گیا۔ تیسرے کے ساتھ بھی اِسی طرح ہوا۔ 22 ہوتے ہوتے ساتوں بھائی بے‌اولاد مر گئے اور آخر میں وہ عورت بھی مر گئی۔ 23 جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ عورت کس کی بیوی ہوگی کیونکہ ساتوں بھائیوں نے اُس سے شادی کی تھی؟“‏ 24 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ غلطی پر ہیں کیونکہ آپ کو نہ تو صحیفوں کا علم ہے اور نہ ہی خدا کی طاقت کا۔ 25 دراصل جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو نہ آدمی شادی کریں گے اور نہ ہی عورتوں کی شادی کروائی جائے گی بلکہ وہ سب آسمان کے فرشتوں کی طرح ہوں گے۔ 26 لیکن جہاں تک مُردوں کے زندہ ہونے کا تعلق ہے، وہ ضرور زندہ کیے جائیں گے۔ کیا آپ نے موسیٰ کی کتاب میں جلتی ہوئی جھاڑی والا واقعہ نہیں پڑھا؟ اُس میں خدا نے موسیٰ سے کہا کہ ”‏مَیں ابراہام کا خدا، اِضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“‏ 27 وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔ آپ واقعی غلطی پر ہیں۔“‏

28 شریعت کے ایک عالم نے اُن لوگوں کی بحث سُن لی۔ اُس نے دیکھا کہ یسوع نے اُن کو اچھا جواب دیا ہے۔ اِس لیے اُس نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏کون سا حکم سب سے زیادہ اہم*‏ ہے؟“‏ 29 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏سب سے اہم حکم یہ ہے:‏ ”‏اَے اِسرائیلیو، سنو!‏ یہوواہ*‏ ہمارا خدا ہے۔ صرف ایک ہی یہوواہ*‏ ہے۔ 30 یہوواہ*‏ اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اپنی ساری جان،‏*‏ اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھو۔“‏ 31 اور اِس جیسا دوسرا حکم یہ ہے:‏ ”‏اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“‏ کوئی بھی حکم اِن دونوں حکموں سے زیادہ اہم نہیں۔“‏ 32 شریعت کے عالم نے کہا:‏ ”‏اُستاد، آپ نے بالکل سچ کہا کہ ”‏وہ ایک ہے اور اُس کے سوا اَور کوئی نہیں۔“‏ 33 اور اُس سے اپنے سارے دل، اپنی ساری سمجھ اور اپنی ساری طاقت سے محبت کرنا اور اپنے پڑوسی سے اپنی طرح محبت کرنا، سالم آتشی قربانیوں اور باقی قربانیوں سے زیادہ اہم ہے۔“‏ 34 یسوع نے دیکھا کہ اُس نے عقل‌مندی سے جواب دیا ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ خدا کی بادشاہت سے دُور نہیں ہیں۔“‏ اِس کے بعد کسی میں یہ جُرأت نہ تھی کہ یسوع سے کوئی اَور سوال کرے۔‏

35 لیکن یسوع ہیکل*‏ میں تعلیم دیتے رہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏شریعت کے عالم کیوں کہتے ہیں کہ مسیح داؤد کا بیٹا ہے؟ 36 داؤد ہی نے تو پاک روح کی ہدایت سے کہا تھا:‏ ”‏یہوواہ*‏ نے میرے مالک سے کہا کہ ”‏میری دائیں طرف بیٹھو جب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کے نیچے نہ کر دوں۔“‏ “‏ 37 اگر داؤد خود اُسے مالک کہتے ہیں تو پھر وہ اُن کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟“‏

اور بہت سارے لوگ بڑے شوق سے اُن کی باتیں سُن رہے تھے۔ 38 یسوع نے تعلیم دیتے وقت یہ بھی کہا:‏ ”‏شریعت کے عالموں سے خبردار رہیں۔ اُنہیں لمبے لمبے چوغے پہن کر پھرنے کا بڑا شوق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ اُنہیں سلام کریں۔ 39 وہ عبادت‌گاہوں میں اگلی*‏ کُرسیوں اور دعوتوں میں سب سے اہم جگہوں پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ 40 وہ بیواؤں کی جائیداد کو ہڑپ کر جاتے ہیں اور دِکھاوے کے لیے لمبی لمبی دُعائیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ سخت سزا پائیں گے۔“‏

41 اب یسوع ایک ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے وہ اُن لوگوں کو دیکھ سکتے تھے جو عطیات کے ڈبوں میں پیسے ڈال رہے تھے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ بہت سے امیر لوگ بہت زیادہ پیسے ڈال رہے ہیں۔ 42 پھر ایک غریب بیوہ آئی اور اُس نے دو چھوٹے سِکے ڈالے جن کی قیمت بہت ہی کم تھی۔‏*‏ 43 یہ دیکھ کر یسوع نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا‌یا اور اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اِس غریب بیوہ نے عطیات کے ڈبوں میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ ڈالا ہے 44 کیونکہ اُن سب نے اپنے فالتو پیسوں میں سے ڈالا لیکن اِس بیوہ نے اپنا سب کچھ یعنی اپنے سارے پیسے ڈال دیے حالانکہ یہ بہت غریب ہے۔“‏

13 جب یسوع ہیکل*‏ سے باہر جا رہے تھے تو ایک شاگرد نے اُن سے کہا:‏ ”‏اُستاد، دیکھیں!‏ کتنے خوب‌صورت پتھر اور عمارتیں ہیں!‏“‏ 2 لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ یہ شان‌دار عمارتیں دیکھ رہے ہیں؟ یہ ساری کی ساری ڈھا دی جائیں گی۔ یہاں ایک پتھر بھی دوسرے پتھر پر نہیں رہے گا۔“‏

3 اور جب وہ کوہِ‌زیتون پر ایک ایسی جگہ بیٹھے تھے جہاں سے ہیکل نظر آتی ہے تو پطرس، یعقوب، یوحنا اور اندریاس نے اکیلے میں اُن سے پوچھا:‏ 4 ‏”‏ہمیں بتائیں کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور اُس وقت کی کیا نشانی ہوگی جب یہ سب کچھ ختم ہونے والا ہوگا؟“‏ 5 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏خبردار رہیں کہ کوئی آپ کو گمراہ نہ کرے۔ 6 بہت سے ایسے لوگ اُٹھیں گے جو میرا نام اِستعمال کر کے کہیں گے:‏ ”‏مَیں وہی ہوں“‏ اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ 7 اِس کے علاوہ جب آپ سنیں گے کہ جگہ جگہ لڑائیاں ہو رہی ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ یہ سب باتیں ضرور ہوں گی لیکن تب خاتمہ نہیں ہوگا۔‏

8 کیونکہ قومیں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گی اور سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف اُٹھیں گی، جگہ جگہ زلزلے آئیں گے اور قحط پڑیں گے۔ یہ باتیں تکلیفوں*‏ کا شروع ہوں گی۔‏

9 خبردار رہیں کیونکہ لوگ آپ کو مقامی عدالتوں کے حوالے کریں گے اور اپنی عبادت‌گاہوں میں ماریں پیٹیں گے۔ میری وجہ سے آپ کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کِیا جائے گا جہاں آپ اُن کو گواہی دے سکیں گے۔ 10 اور دُنیا کے خاتمے سے پہلے سب قوموں میں خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی۔ 11 لیکن جب وہ آپ کو عدالت میں لے جائیں گے تو پہلے سے یہ فکر نہ کریں کہ آپ کیا کہیں گے۔ اُس وقت آپ وہی بولیں جو آپ کو عطا کِیا جائے گا کیونکہ اصل میں آپ اپنی طرف سے نہیں بلکہ پاک روح کی طرف سے بول رہے ہوں گے۔ 12 اِس کے علاوہ بھائی، بھائی کو اور باپ، بیٹے کو مروانے کے لیے پکڑوائے گا اور بچے اپنے والدین کے خلاف کھڑے ہوں گے اور اُن کو مروائیں گے۔ 13 اور میرے نام کی وجہ سے سب لوگ آپ سے نفرت کریں گے۔ مگر جو آخر تک ثابت‌قدم رہے گا، وہ نجات پائے گا۔‏

14 لیکن جب آپ دیکھیں گے کہ وہ گھناؤنی چیز جو تباہی مچاتی ہے، اُس جگہ کھڑی ہے جہاں اُسے نہیں ہونا چاہیے (‏پڑھنے والا اپنی سمجھ اِستعمال کرے)‏ تو جو لوگ یہودیہ میں ہوں، وہ پہاڑوں کی طرف بھاگیں۔ 15 جو آدمی چھت پر ہو، وہ نیچے نہ آئے اور نہ ہی کوئی چیز لینے کے لیے اپنے گھر میں داخل ہو 16 اور جو آدمی کھیت میں ہو، وہ اپنی چادر لینے کے لیے واپس نہ جائے۔ 17 اُس زمانے کی حاملہ عورتوں اور دودھ پلانے والی ماؤں پر افسوس!‏ 18 دُعا کرتے رہیں کہ یہ سردی کے موسم میں نہ ہو۔ 19 کیونکہ وہ دن ایسی مصیبت کے دن ہوں گے جیسی اُس وقت سے آج تک نہیں ہوئی جب سے خدا نے دُنیا کو بنایا اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگی۔ 20 دراصل اگر یہوواہ*‏ اُس زمانے کو مختصر نہ کرے تو کوئی اِنسان نہ بچے لیکن خدا اُن لوگوں کی خاطر اُس زمانے کو مختصر کرے گا جن کو اُس نے چُنا ہے۔‏

21 پھر اگر کوئی آپ سے کہے کہ ”‏دیکھو!‏ مسیح یہاں ہے“‏ یا ”‏دیکھو!‏ وہ وہاں ہے“‏ تو اُس کا یقین نہ کریں 22 کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور معجزے اور نشانیاں دِکھا کر اُن لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں خدا نے چُنا ہے۔ 23 خبردار رہیں!‏ دیکھیں، مَیں آپ کو سب کچھ پہلے سے بتا رہا ہوں۔‏

24 لیکن اُس زمانے میں، اُس مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، 25 ستارے آسمان سے گِر جائیں گے اور آسمان کا نظام ہلا دیا جائے گا۔ 26 اور پھر وہ دیکھیں گے کہ اِنسان کا بیٹا*‏ آسمان کے بادلوں پر بڑے اِختیار اور شان کے ساتھ آ رہا ہے۔ 27 اور پھر وہ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور اپنے چُنے ہوئے لوگوں کو زمین کی اِنتہا سے آسمان کی اِنتہا تک یعنی چاروں سمتوں سے جمع کرے گا۔‏

28 اب ذرا اِنجیر کے درخت کی مثال لیں:‏ جونہی اُس کی ڈالیاں نرم ہو جاتی ہیں اور اُن پر پتے نکل آتے ہیں، آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ گرمی نزدیک ہے۔ 29 اِسی طرح جب آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باتیں ہو رہی ہیں تو جان لیں کہ وہ*‏ نزدیک ہے یعنی دروازے پر کھڑا ہے۔ 30 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ یہ پُشت ہرگز ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ سب باتیں پوری نہ ہوں۔ 31 چاہے آسمان اور زمین مٹ جائیں، میری باتیں ہرگز نہیں مٹیں گی۔‏

32 اُس دن یا گھنٹے کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ، نہ آسمان کے فرشتوں کو، نہ بیٹے کو بلکہ صرف باپ کو۔ 33 چوکس رہیں، جاگتے رہیں، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ مقررہ وقت کب آئے گا۔ 34 یہ ایک ایسے آدمی کی طرح ہے جو پردیس گیا۔ جانے سے پہلے اُس نے اپنے گھر کا اِختیار اپنے غلاموں کو دیا اور اُن میں سے ہر ایک کو ذمے‌داریاں دیں اور چوکیدار کو حکم دیا کہ چوکس رہے۔ 35 لہٰذا چوکس رہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا:‏ شام کو، آدھی رات کو، پَو پھٹتے وقت*‏ یا پھر صبح سویرے 36 تاکہ جب وہ اچانک آئے تو آپ کو سوتا نہ پائے۔ 37 لیکن جو بات مَیں آپ سے کہتا ہوں، وہی سب سے کہتا ہوں کہ چوکس رہیں۔“‏

14 اب عیدِفسح اور بے‌خمیری روٹی کی عید میں دو دن باقی تھے اور اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم یسوع کو پکڑ کر مار ڈالنے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ 2 لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ ”‏ہم عید کے موقعے پر ایسا نہیں کریں گے ورنہ شاید لوگ ہنگامہ کھڑا کر دیں۔“‏

3 یسوع بیت‌عنیاہ میں ایک آدمی کے گھر میں کھانا کھا رہے تھے جس کا نام شمعون تھا اور جو کوڑھی ہوا کرتا تھا۔ اِس دوران ایک عورت وہاں آئی۔ وہ اپنے ساتھ پتھر کی ایک بوتل میں خالص سنبل کا خوشبودار تیل لائی جو بہت ہی مہنگا تھا۔ اُس نے بوتل کھولی اور یسوع کے سر پر تیل ڈالنے لگی۔ 4 اِس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے اور آپس میں کہنے لگے:‏ ”‏اِس تیل کو ضائع کیوں کِیا گیا؟ 5 یہ کم‌ازکم 300 دینار*‏ کا بک سکتا تھا اور پیسے غریبوں کو دیے جا سکتے تھے۔“‏ اُنہیں اُس عورت پر بہت غصہ آیا۔‏*‏ 6 لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏اِس عورت کو تنگ نہ کریں۔ آپ اِسے کیوں پریشان کر رہے ہیں؟ اِس نے میرے لیے ایک اچھا کام کِیا ہے۔ 7 غریب تو ہمیشہ آپ کے پاس رہیں گے اور آپ جب چاہیں، اُن کے ساتھ بھلائی کر سکتے ہیں لیکن مَیں ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہوں گا۔ 8 یہ جو کچھ کر سکتی تھی، اِس نے کِیا۔ اِس نے میرے کفن دفن کے پیشِ‌نظر پہلے سے میرے جسم پر تیل ڈالا ہے۔ 9 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ پوری دُنیا میں جہاں بھی خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس واقعے کا بھی ذکر کِیا جائے گا اور اِس عورت کو یاد کِیا جائے گا۔“‏

10 بارہ رسولوں میں سے ایک یعنی یہوداہ اِسکریوتی اعلیٰ کاہنوں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ وہ یسوع کو اُن کے حوالے کر سکتا ہے۔ 11 جب اُنہوں نے یہ سنا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اُس سے وعدہ کِیا کہ وہ اُسے چاندی کے سِکے دیں گے۔ تب سے یہوداہ، یسوع کو اُن کے حوالے کرنے کا موقع ڈھونڈنے لگا۔‏

12 اب بے‌خمیری روٹی کی عید کے پہلے دن جب عیدِفسح کے جانور کو قربان کِیا جاتا ہے، شاگرد یسوع سے پوچھنے لگے:‏ ”‏ہم آپ کے لیے عیدِفسح کے کھانے کی تیاری کہاں کریں؟“‏ 13 اِس پر اُنہوں نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو یہ کہہ کر بھیجا:‏ ”‏شہر میں جائیں۔ وہاں آپ کو ایک آدمی ملے گا جس نے پانی کا مٹکا اُٹھایا ہوگا۔ اُس کے پیچھے پیچھے جائیں 14 اور وہ جس بھی گھر میں جائے، اُس کے مالک سے کہیں:‏ ”‏اُستاد نے کہا ہے کہ ”‏وہ مہمان‌خانہ کہاں ہے جہاں مَیں اپنے شاگردوں کے ساتھ عیدِفسح کا کھانا کھا سکتا ہوں؟“‏ “‏ 15 وہ آپ کو اُوپر ایک بڑے کمرے میں لے جائے گا جسے ہمارے لیے تیار کِیا گیا ہے۔ وہاں آپ عیدِفسح کے کھانے کی تیاری کریں۔“‏ 16 لہٰذا وہ شاگرد شہر میں گئے اور سب کچھ ٹھیک اُسی طرح ہوا جس طرح یسوع نے کہا تھا اور اُنہوں نے عیدِفسح کی تیاری کی۔‏

17 جب شام ہو گئی تو یسوع 12 رسولوں کے ساتھ وہاں آئے۔ 18 اور جب وہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ آپ میں سے ایک جو میرے ساتھ کھانا کھا رہا ہے، مجھے پکڑوائے گا۔“‏ 19 یہ سُن کر شاگرد بہت دُکھی ہوئے اور ایک ایک کر کے اُن سے پوچھنے لگے:‏ ”‏کیا وہ شخص مَیں ہوں؟“‏ 20 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏وہ آپ میں سے ایک ہے جو میرے ساتھ کٹورے میں ہاتھ ڈال رہا ہے۔ 21 بِلاشُبہ اِنسان کا بیٹا*‏ آپ سے دُور چلا جائے گا جیسا کہ صحیفوں میں لکھا ہے۔ لیکن اُس شخص پر افسوس جو اِنسان کے بیٹے کو پکڑوائے گا!‏ بہتر ہوتا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا!‏“‏

22 کھانے کے دوران یسوع نے ایک روٹی لی، اِس پر دُعا کی اور اِسے توڑ کر شاگردوں کو دیا اور کہا:‏ ”‏یہ لیں، یہ میرے جسم کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔“‏ 23 پھر یسوع نے ایک پیالہ لیا اور اِس پر دُعا کر کے شاگردوں کو دیا اور اُن سب نے اِس میں سے پیا۔ 24 اور یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ میرے ”‏عہد کے خون“‏ کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو بہت سے لوگوں کے لیے بہایا جائے گا۔ 25 مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں تب تک انگور کی مے دوبارہ نہیں پیوں گا جب تک خدا کی بادشاہت میں نئی مے نہ پیوں۔“‏ 26 آخر میں اُنہوں نے خدا کی حمد کے گیت گائے*‏ اور کوہِ‌زیتون پر چلے گئے۔‏

27 اور یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ سب مجھ سے مُنہ موڑ لیں گے کیونکہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏مَیں چرواہے کو ماروں گا اور بھیڑیں بکھر جائیں گی۔“‏ 28 مگر جب مجھے زندہ کِیا جائے گا تو مَیں گلیل جاؤں گا اور وہاں آپ کا اِنتظار کروں گا۔“‏ 29 لیکن پطرس نے کہا:‏ ”‏چاہے سب آپ سے مُنہ موڑ لیں، مَیں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔“‏ 30 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ آج رات ہی مُرغے کے دو بار بانگ دینے سے پہلے آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار کریں گے۔“‏ 31 لیکن پطرس نے بار بار کہا:‏ ”‏اگر مجھے آپ کے ساتھ مرنا بھی پڑے تو مَیں آپ کو جاننے سے ہرگز اِنکار نہیں کروں گا۔“‏ باقی سب شاگرد بھی یہی کہنے لگے۔‏

32 پھر وہ سب ایک جگہ گئے جس کا نام گتسمنی تھا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ یہاں بیٹھیں، مَیں وہاں جا کر دُعا کروں گا۔“‏ 33 اور وہ پطرس، یعقوب اور یوحنا کو ساتھ لے گئے اور بہت گھبرانے اور پریشان ہونے لگے۔ 34 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں اِتنا پریشان ہوں*‏ کہ میری حالت مرنے والی ہو گئی ہے۔ آپ یہاں رُکیں اور چوکس رہیں۔“‏ 35 اِس کے بعد وہ تھوڑا سا آگے گئے اور زمین پر گِر کر دُعا کرنے لگے کہ ”‏اگر ہو سکے تو یہ گھڑی مجھ پر نہ آئے۔“‏ 36 پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ابا، تیرے لیے تو سب کچھ ممکن ہے، یہ پیالہ مجھ سے ہٹا دے۔ لیکن میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی ہو۔“‏ 37 جب وہ واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ تینوں سو رہے ہیں۔ اِس پر اُنہوں نے پطرس سے کہا:‏ ”‏شمعون، آپ سو رہے ہیں؟ آپ میں اِتنی بھی ہمت نہیں کہ ایک گھنٹہ جاگ سکیں؟ 38 چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔ بے‌شک دل*‏ جوش سے بھرا ہے*‏ لیکن جسم کمزور ہے۔“‏ 39 پھر وہ دوبارہ گئے اور وہی دُعا کی۔ 40 اور جب وہ واپس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ تینوں سو رہے ہیں کیونکہ وہ نیند سے بے‌حال تھے اور اُن کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یسوع کو کیا جواب دیں۔ 41 پھر جب وہ تیسری بار واپس آئے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ اِتنے اہم وقت پر سو رہے ہیں اور آرام کر رہے ہیں!‏ بس کریں!‏ دیکھیں!‏ اب وقت آ گیا ہے کہ اِنسان کا بیٹا گُناہ‌گاروں کے حوالے کِیا جائے۔ 42 اُٹھیں، چلیں!‏ دیکھیں، وہ شخص نزدیک آ گیا ہے جو مجھے پکڑوائے گا۔“‏

43 ابھی یسوع یہ کہہ ہی رہے تھے کہ یہوداہ جو 12 رسولوں میں سے ایک تھا، وہاں آ پہنچا۔ اُس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے جنہیں اعلیٰ کاہنوں، شریعت کے عالموں اور بزرگوں نے بھیجا تھا اور اُن سب کے ہاتھوں میں تلواریں اور لاٹھیاں تھیں۔ 44 اور اُس نے اُن لوگوں کو پہلے سے یہ نشانی بتائی تھی کہ ”‏مَیں جس شخص کو چُوموں گا، وہ وہی ہوگا جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اُسے گِرفتار کر کے لے جانا۔“‏ 45 وہ سیدھا یسوع کے پاس گیا اور اُن سے کہا:‏ ”‏ربّی!‏“‏ پھر اُس نے اُن کو چُوما۔ 46 لہٰذا اُنہوں نے یسوع کو گِرفتار کر لیا۔ 47 لیکن وہاں کھڑے ایک شاگرد نے اپنی تلوار نکالی اور کاہنِ‌اعظم کے غلام کا کان اُڑا دیا۔ 48 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں کوئی ڈاکو ہوں جو آپ تلواریں اور لاٹھیاں لے کر مجھے پکڑنے آئے ہیں؟ 49 آپ ہر دن مجھے ہیکل*‏ میں تعلیم دیتے ہوئے دیکھتے تھے۔ تب تو آپ نے مجھے گِرفتار نہیں کِیا۔ مگر یہ سب کچھ اِس لیے ہوا کہ وہ باتیں پوری ہوں جو صحیفوں میں لکھی ہیں۔“‏

50 پھر سب شاگرد یسوع کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ 51 لیکن ایک جوان آدمی جس نے اپنے ننگے جسم پر صرف اعلیٰ لینن کی چادر لی ہوئی تھی، کچھ فاصلے سے یسوع کے پیچھے جانے لگا۔ جب اُن لوگوں نے اُسے پکڑنے کی کوشش کی 52 تو وہ اپنی چادر چھوڑ کر ننگا*‏ بھاگ گیا۔‏

53 پھر وہ یسوع کو کاہنِ‌اعظم کے پاس لے گئے جہاں سب اعلیٰ کاہن، بزرگ اور شریعت کے عالم جمع تھے۔ 54 اور پطرس کافی فاصلے سے اُن کا پیچھا کرتے کرتے کاہنِ‌اعظم کے گھر پہنچ گئے اور صحن میں جا کر خادموں کے ساتھ بیٹھ گئے اور آگ سینکنے لگے۔ 55 اب اعلیٰ کاہن اور پوری عدالتِ‌عظمیٰ یسوع کے خلاف گواہی ڈھونڈ رہی تھی تاکہ اُنہیں سزائے‌موت دی جا سکے۔ لیکن اُنہیں کوئی ایسی گواہی مل نہیں رہی تھی۔ 56 حالانکہ بہت سے لوگ یسوع کے خلاف جھوٹی گواہی دے رہے تھے لیکن اُن کی گواہیاں ایک دوسرے سے میل نہیں کھا رہی تھیں۔ 57 کچھ لوگ اُٹھ کر یہ جھوٹی گواہی بھی دے رہے تھے کہ 58 ‏”‏ہم نے اِسے کہتے سنا ہے کہ ”‏مَیں اِس ہیکل*‏ کو گِرا دوں گا جو ہاتھوں سے بنی ہے اور تین دن میں ایک اَور ہیکل بناؤں گا جو ہاتھوں سے نہیں بنی ہوگی۔“‏ “‏ 59 لیکن اِس بات میں بھی اُن کی گواہی میل نہیں کھا رہی تھی۔‏

60 پھر کاہنِ‌اعظم کھڑا ہو گیا اور یسوع سے پوچھنے لگا:‏ ”‏کیا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہے؟ سُن رہے ہو کہ یہ تمہارے خلاف کیا گواہیاں دے رہے ہیں؟“‏ 61 لیکن یسوع چپ رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ کاہنِ‌اعظم نے دوبارہ اُن سے سوال کِیا اور کہا:‏ ”‏کیا تُم مسیح یعنی مُقدس خدا کے بیٹے ہو؟“‏ 62 تب یسوع نے کہا:‏ ”‏ہاں، مَیں ہوں اور آپ لوگ اِنسان کے بیٹے کو قدرت والے کے دائیں طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔“‏ 63 اِس پر کاہنِ‌اعظم نے اپنے کپڑے پھاڑ دیے اور کہنے لگا:‏ ”‏اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ 64 آپ نے خود سنا ہے کہ اِس نے کفر بکا ہے۔ اب آپ کا کیا فیصلہ*‏ ہے؟“‏ اُن سب نے یسوع کو سزائے‌موت کا مستحق قرار دیا۔ 65 اور کچھ لوگ یسوع پر تھوکنے لگے اور اُن کا چہرہ ڈھانک کر اُنہیں مکے مارنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏اگر تُو نبی ہے تو ہمیں بتا کہ تجھے کس نے مارا ہے۔“‏ اور سپاہیوں نے اُن کے چہرے پر تھپڑ مارے اور پھر اُنہیں لے گئے۔‏

66 جب پطرس نیچے صحن میں تھے تو کاہنِ‌اعظم کی ایک نوکرانی وہاں آئی۔ 67 جب اُس کی نظر پطرس پر پڑی جو آگ سینک رہے تھے تو اُس نے گھور کر اُنہیں دیکھا اور کہا:‏ ”‏تُم بھی اِس ناصری، اِس یسوع کے ساتھ تھے۔“‏ 68 لیکن پطرس نے اِنکار کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏مَیں نہ تو اُس آدمی کو جانتا ہوں اور نہ ہی مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ تُم کیا کہہ رہی ہو۔“‏ پھر وہ باہر ڈیوڑھی میں چلے گئے۔ 69 وہاں بھی اُس نوکرانی کی نظر اُن پر پڑی اور وہ آس‌پاس کھڑے لوگوں سے کہنے لگی:‏ ”‏یہ اُس کا ساتھی ہے۔“‏ 70 پطرس پھر سے اِنکار کرنے لگے۔ اور تھوڑی دیر بعد وہاں کھڑے لوگ بھی اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏بے‌شک تُم اُس کے ساتھی ہو کیونکہ تُم گلیلی ہو۔“‏ 71 لیکن پطرس قسم کھا کر کہنے لگے:‏ ”‏اگر مَیں جھوٹ بولوں تو مجھ پر لعنت ہو۔ مَیں اُس آدمی کو واقعی نہیں جانتا جس کا تُم ذکر کر رہے ہو۔“‏ 72 اُسی وقت ایک مُرغے نے دوسری بار بانگ دی۔ تب پطرس کو یسوع کی یہ بات یاد آئی کہ ”‏مُرغے کے دو بار بانگ دینے سے پہلے آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار کریں گے۔“‏ اور وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔‏

15 پَو پھٹتے ہی اعلیٰ کاہنوں، بزرگوں اور شریعت کے عالموں بلکہ ساری عدالتِ‌عظمیٰ نے آپس میں مشورہ کِیا۔ پھر اُنہوں نے یسوع کو باندھا اور لے جا کر پیلاطُس کے حوالے کر دیا۔ 2 پیلاطُس نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ہوں۔“‏ 3 مگر اعلیٰ کاہن، یسوع پر بہت سے اِلزام لگا رہے تھے۔ 4 اِس لیے پیلاطُس نے پھر سے سوال کِیا:‏ ”‏کیا تُم اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہو گے؟ دیکھو، وہ تُم پر کتنے اِلزام لگا رہے ہیں۔“‏ 5 لیکن یسوع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ دیکھ کر پیلاطُس بہت حیران ہوا۔‏

6 پیلاطُس عیدِفسح پر اُس قیدی کو رِہا کِیا کرتا تھا جسے لوگ رِہا کروانا چاہتے تھے۔ 7 اُس وقت قیدخانے میں ایک آدمی جس کا نام برابا تھا، کچھ باغیوں کے ساتھ قید تھا جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کے سلسلے میں قتل کِیا تھا۔ 8 لوگوں نے آ کر پیلاطُس سے درخواست کی کہ وہ اپنے رواج کے مطابق ایک قیدی کو رِہا کرے۔ 9 پیلاطُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا مَیں تمہارے لیے یہودیوں کے بادشاہ کو رِہا کر دوں؟“‏ 10 کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اعلیٰ کاہنوں نے یسوع کو حسد کی وجہ سے اُس کے حوالے کِیا ہے۔ 11 لیکن اعلیٰ کاہن لوگوں کو اُکسا رہے تھے کہ وہ پیلاطُس سے کہیں کہ ”‏یسوع کی بجائے برابا کو رِہا کریں۔“‏ 12 اِس پر پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں اُس کے ساتھ کیا کروں جسے تُم یہودیوں کا بادشاہ کہتے ہو؟“‏ 13 لوگ پھر سے چلّانے لگے:‏ ”‏اُسے سُولی*‏ دیں!‏“‏ 14 مگر پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏لیکن کیوں؟ اُس نے کون سا بُرا کام کِیا ہے؟“‏ یہ سُن کر لوگ اَور زور سے چلّانے لگے:‏ ”‏اُسے سُولی دیں!‏“‏ 15 پیلاطُس لوگوں کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے اُس نے برابا کو رِہا کر دیا لیکن یسوع کو کوڑے لگوا کر سپاہیوں کے حوالے کر دیا تاکہ اُنہیں سُولی پر چڑھا دیں۔‏

16 سپاہی، یسوع کو حاکم کی رہائش‌گاہ کے صحن میں لے گئے اور ساری فوج کو وہاں بلا‌یا۔ 17 اُنہوں نے یسوع کو جامنی رنگ کا لباس پہنایا اور کانٹوں سے ایک تاج بنا کر اُن کے سر پر رکھا۔ 18 پھر وہ یسوع سے کہنے لگے:‏ ”‏یہودیوں کے بادشاہ!‏ آداب!‏“‏ 19 اور ایک چھڑی لے کر اُن کے سر پر مارنے لگے، اُن پر تھوکنے لگے اور گھٹنے ٹیک کر اُن کے سامنے جھکنے لگے۔‏*‏ 20 جب وہ یسوع کا کافی مذاق اُڑا چکے تو اُنہوں نے اُن کے جسم سے جامنی لباس اُتار دیا اور اُنہیں اُن کے کپڑے پہنا دیے۔ پھر وہ اُنہیں سُولی پر لٹکانے کے لیے لے گئے۔ 21 راستے میں سپاہیوں نے کُرینے کے ایک آدمی کو دیکھا جو دیہات سے شہر آ رہا تھا۔ اُنہوں نے زبردستی اُس سے یسوع کی سُولی اُٹھوائی۔ اُس آدمی کا نام شمعون تھا اور وہ سکندر اور رُوفس کا باپ تھا۔‏

22 سپاہی یسوع کو ایک جگہ لائے جسے گلگتا یعنی کھوپڑی کہا جاتا ہے۔ 23 وہاں اُنہوں نے یسوع کو ایسی مے دینے کی کوشش کی جس میں مُر*‏ ملی ہوئی تھی۔ لیکن اُنہوں نے اِسے پینے سے اِنکار کر دیا۔ 24 اِس کے بعد سپاہیوں نے یسوع کو کیلوں کے ساتھ سُولی پر لٹکا دیا۔ پھر اُنہوں نے اُن کے کپڑوں پر قُرعہ*‏ ڈالا تاکہ اِس بات کا فیصلہ ہو سکے کہ کس کے حصے میں کیا آئے گا۔ 25 جب اُنہوں نے یسوع کو سُولی پر لٹکایا تو تیسرا گھنٹہ*‏ تھا۔ 26 اُنہوں نے یسوع کے سر سے اُوپر ایک تختی بھی لگائی جس پر یہ اِلزام لکھا تھا:‏ ”‏یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔“‏ 27 اور اُنہوں نے دو ڈاکوؤں کو بھی سُولی پر لٹکایا، ایک کو یسوع کی دائیں طرف اور دوسرے کو اُن کی بائیں طرف۔ 28 ‏—‏*‏ 29 وہاں سے گزرنے والے لوگ سر ہلا ہلا کر یسوع کی بے‌عزتی کرنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏بڑا آیا ہیکل*‏ کو گِرانے اور تین دن میں بنانے والا!‏ 30 اب سُولی سے نیچے اُتر کر اپنے آپ کو بچا!‏“‏ 31 اِسی طرح اعلیٰ کاہن بھی شریعت کے عالموں کے ساتھ مل کر یسوع کا مذاق اُڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏ ”‏اِس نے دوسروں کو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا!‏ 32 یہ تو مسیح اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔ تو پھر ذرا سُولی سے اُتر کر دِکھائے۔ اگر اُتر آیا تو ہم اِس پر ایمان لے آئیں گے۔“‏ اور وہ ڈاکو بھی جو یسوع کی دونوں طرف سُولیوں پر لٹکے ہوئے تھے، اُن کی بے‌عزتی کرنے لگے۔‏

33 جب چھٹا گھنٹہ*‏ شروع ہوا تو سارے ملک میں تاریکی چھا گئی اور نویں گھنٹے*‏ تک رہی۔ 34 نویں گھنٹے میں یسوع نے چلّا کر کہا:‏ ”‏ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“‏ جس کا مطلب ہے:‏ میرے خدا، میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ 35 یہ سُن کر پاس کھڑے کچھ لوگ کہنے لگے:‏ ”‏دیکھو!‏ یہ ایلیاہ نبی کو بلا رہا ہے۔“‏ 36 ایک آدمی بھاگ کر گیا اور اُس نے ایک سپنج کو کھٹی مے میں ڈبویا اور اِسے ایک چھڑی پر لگا کر یسوع کے آگے کِیا تاکہ وہ اِسے چوس سکیں۔ اُس آدمی نے وہاں کھڑے لوگوں سے کہا:‏ ”‏اِسے تنگ مت کرو!‏ دیکھتے ہیں کہ ایلیاہ اِسے نیچے اُتارنے آتے ہیں یا نہیں۔“‏ 37 لیکن یسوع چلّائے اور پھر فوت ہو گئے۔‏*‏ 38 اور مُقدس مقام کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور اِس کے دو حصے ہو گئے۔ 39 جب پاس کھڑے فوجی افسر نے وہ سب کچھ دیکھا جو یسوع کی موت کے وقت ہوا تھا تو اُس نے کہا:‏ ”‏بے‌شک یہ آدمی خدا کا بیٹا تھا!‏“‏

40 وہاں عورتیں بھی تھیں جو کچھ فاصلے پر کھڑی اِن سب باتوں کو دیکھ رہی تھیں۔ اُن میں مریم مگدلینی، سَلومی اور چھوٹے یعقوب اور یوسیس کی ماں مریم بھی تھیں 41 جو گلیل میں یسوع کے ساتھ ہوا کرتی تھیں اور اُن کی خدمت کرتی تھیں۔ اِس کے علاوہ وہاں اَور بھی بہت سی عورتیں تھیں جو یسوع کے ساتھ یروشلیم آئی تھیں۔‏

42 اب شام ہو گئی تھی اور تیاری کا دن تھا کیونکہ اگلے دن سبت تھا۔ 43 اِس لیے شہر ارمتیاہ کے یوسف جو عدالتِ‌عظمیٰ کے مُعزز رُکن تھے اور خود بھی خدا کی بادشاہت کا اِنتظار کر رہے تھے، ہمت کر کے پیلاطُس کے پاس گئے اور یسوع کی لاش مانگی۔ 44 لیکن پیلاطُس پہلے جاننا چاہتا تھا کہ یسوع واقعی مر گئے ہیں یا نہیں۔ اِس لیے اُس نے فوجی افسر کو بلوایا اور اِس بارے میں پوچھا۔ 45 جب اُس کو پتہ چلا کہ یسوع مر گئے ہیں تو اُس نے یوسف کو لاش لے جانے کی اِجازت دے دی۔ 46 یوسف نے اعلیٰ قسم کا لینن خریدا اور لاش اُتار کر اِس میں لپیٹ دی اور اِسے ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹان میں بنوائی گئی تھی۔ پھر اُنہوں نے ایک بڑا سا پتھر لڑھکا کر قبر کے مُنہ پر رکھ دیا۔ 47 لیکن مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم بیٹھ کر یسوع کی قبر کو دیکھتی رہیں۔‏

16 جب سبت کا دن گزر گیا تو مریم مگدلینی، سَلومی اور یعقوب کی ماں مریم نے یسوع کی لاش پر لگانے کے لیے خوشبودار مصالحے خریدے۔ 2 اور وہ ہفتے کے پہلے دن صبح سویرے جب سورج نکل چُکا تھا، قبر پر گئیں۔ 3 راستے میں وہ ایک دوسرے سے کہہ رہی تھیں کہ ”‏ہمارے لیے قبر کے آگے سے پتھر کون ہٹائے گا؟“‏ 4 لیکن وہاں پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ پتھر پہلے سے ہی ہٹا ہوا ہے حالانکہ وہ بہت بڑا تھا۔ 5 جب وہ قبر میں داخل ہوئیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ دائیں طرف ایک جوان آدمی بیٹھا ہے جس نے سفید چوغہ پہنا ہوا ہے۔ وہ عورتیں بہت گھبرا گئیں۔ 6 اُس آدمی نے اُن سے کہا:‏ ”‏گھبرائیں مت۔ آپ یسوع ناصری کو ڈھونڈ رہی ہیں جنہیں سُولی*‏ دی گئی تھی۔ لیکن وہ زندہ ہو چکے ہیں۔ وہ یہاں نہیں ہیں۔ دیکھیں!‏ یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنہیں رکھا گیا تھا۔ 7 جا کر اُن کے شاگردوں اور پطرس کو بتائیں کہ ”‏یسوع آپ سے پہلے گلیل جا رہے ہیں۔ وہاں آپ اُنہیں دیکھیں گے جیسا کہ اُنہوں نے آپ کو بتایا تھا۔“‏“‏ 8 جب وہ عورتیں باہر نکلیں تو وہ خوف اور حیرت کے مارے کانپتی ہوئی قبر سے بھاگیں۔ اور اُنہوں نے کسی کو اِن باتوں کے بارے میں نہیں بتایا کیونکہ وہ خوف‌زدہ تھیں۔‏*‏

یا ”‏اِنجیل“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دریائے‌یردن“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روح“‏

یا شاید ”‏اِنہیں پتہ تھا کہ وہ کون ہیں۔“‏

یا ”‏پاک؛ صاف“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی ایسا کپڑا جسے دھویا یا شرِنک نہ کِیا گیا ہو۔‏

یا ”‏فالج‌زدہ“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحوں“‏

یا ”‏شمعون جوشیلا“‏

یہ شیطان کا ایک لقب ہے۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روح“‏

یا ”‏زمانے“‏

یا ”‏تکیے“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روح“‏

یونانی میں:‏ ”‏روحوں کو“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحیں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دس شہروں کے علاقے“‏

یا ”‏مرنے والی ہے۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحیں“‏

یونانی میں:‏ ”‏تانبا“‏

یونانی میں:‏ ”‏نہ دو کُرتے پہنیں“‏

صبح تقریباً تین بجے سے سورج نکلنے تک یعنی تقریباً چھ بجے تک

یا ”‏کیا ہم خواب دیکھ رہے ہیں؟“‏

یعنی یہودیوں کی مذہبی روایت کے مطابق ہاتھ دھوئے بغیر

یونانی میں:‏ ”‏پانی میں بپتسمہ دینا۔“‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏بے‌شرم چال‌چلن۔“‏ یونانی لفظ:‏ ”‏اسیلگیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روح“‏

یا ”‏اُس کی پیدائش سُورفینیکے کی تھی۔“‏

یا ”‏دس شہروں“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح میں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏زِناکار“‏

یا ”‏اُستاد“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏یہ بات اپنے تک رکھی۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏ایک دوسرے سے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی اُستاد

یونانی میں:‏ ”‏ہوشعنا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏آسمان“‏

یونانی میں:‏ ”‏وراثت“‏

یونانی میں:‏ ”‏کونے کا سر“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏سب سے پہلا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏سب سے اچھی“‏

یونانی میں:‏ ”‏دو لپتون ڈالے جن کی قیمت ایک کوادرانس کے برابر تھی۔“‏

یعنی خدا کا گھر

یونانی میں:‏ ”‏بچے کی پیدائش کے وقت کی دردوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی اِنسان کا بیٹا

یونانی میں:‏ ”‏مُرغے کے بانگ دینے کے وقت“‏

تقریباً ایک سال کی مزدوری

یا ”‏اُنہوں نے اُس عورت کو ڈانٹا۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُنہوں نے زبور گائے“‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان اِتنی پریشان ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏آمادہ ہے“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏ادھ‌ننگا؛ صرف زیرجامہ پہنے“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏خیال“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُن کی تعظیم کرنے لگے۔“‏

ایک نشہ‌آور چیز جس کو پی کر درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

تقریباً صبح نو بجے

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

تقریباً دوپہر بارہ بجے

تقریباً دوپہر تین بجے

یا ”‏اُنہوں نے دم توڑ دیا۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

مرقس کی اِنجیل کے قابلِ‌بھروسا اِبتدائی نسخوں میں یہ اِنجیل آیت 8 میں پائے جانے والے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں