یُوناہ
1 یہوواہ کا یہ کلام اَمتی کے بیٹے یُوناہ* تک پہنچا: 2 ”اُٹھو، بڑے شہر نِینوہ جاؤ اور اُس کے خلاف سزا کا پیغام سناؤ کیونکہ وہاں کے لوگوں کی بُرائی میری نظروں سے چھپی نہیں ہے۔“
3 لیکن یُوناہ نے یہوواہ سے بھاگنے کے لیے ترسیس جانے کا فیصلہ کِیا۔ وہ یافا گئے اور وہاں اُنہیں ایک جہاز ملا جو ترسیس جا رہا تھا۔ وہ کرایہ دے کر جہاز پر سوار ہوئے تاکہ یہوواہ سے بھاگ کر ترسیس جا سکیں۔
4 پھر یہوواہ نے تیز ہوا چلائی جس کی وجہ سے سمندر میں اِتنا شدید طوفان آیا کہ جہاز تباہ ہونے والا تھا۔ 5 ملاح اِتنے ڈر گئے کہ اُن میں سے ہر ایک مدد کے لیے اپنے اپنے دیوتا کو پکارنے لگا۔ پھر وہ جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے سامان سمندر میں پھینکنے لگے۔لیکن یُوناہ جہاز کے نچلے حصے میں گہری نیند سو رہے تھے۔ 6 جہاز کے کپتان نے اُن کے پاس آ کر کہا: ”تُم سو کیوں رہے ہو؟ اُٹھو! اپنے خدا کو پکارو! شاید سچا خدا ہم پر رحم کرے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔“
7 اِس کے بعد وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”آؤ قُرعہ ڈالیں اور پتہ لگائیں کہ اِس مصیبت کا ذمےدار کون ہے۔“ پھر اُنہوں نے قُرعہ ڈالا اور یُوناہ کا نام نکلا۔ 8 اُنہوں نے یُوناہ سے کہا: ”ہمیں بتاؤ کہ ہم پر یہ مصیبت کس کی وجہ سے آئی ہے؟ تُم کیا کام کرتے ہو؛ کہاں سے آئے ہو؛ کس ملک سے ہو اور کس قوم سے ہو؟“
9 یُوناہ نے جواب دیا: ”مَیں عبرانی ہوں اور آسمان کے خدا یہوواہ کی عبادت کرتا ہوں* جس نے سمندر اور خشکی کو بنایا ہے۔“
10 (یُوناہ نے اُنہیں بتایا کہ وہ یہوواہ سے بھاگ رہے ہیں۔) اِس پر وہ آدمی اَور زیادہ خوفزدہ ہو گئے اور اُن سے کہنے لگے: ”یہ تُم نے کیا کِیا؟“ 11 سمندر میں طوفان کا زور بڑھتا جا رہا تھا اِس لیے اُنہوں نے یُوناہ سے پوچھا: ”ہم تمہارے ساتھ کیا کریں کہ یہ طوفان تھم جائے؟“ 12 اُنہوں نے جواب دیا: ”مجھے اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیں تو سمندر پُرسکون ہو جائے گا کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ آپ کو اِس بھیانک طوفان کا سامنا میری وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔“ 13 لیکن وہ آدمی پوری جان لگا کر چپّو چلانے لگے تاکہ کسی طرح جہاز کو خشکی پر لے جائیں۔ مگر وہ ناکام رہے کیونکہ سمندر کی لہریں اَور زیادہ طوفانی ہوتی جا رہی تھیں۔
14 تب اُنہوں نے یہوواہ کو پکار کر کہا: ”اَے یہوواہ! ہمیں اِس آدمی* کی وجہ سے ہلاک نہ کر۔ ہمیں اِس بےقصور کے خون کا ذمےدار نہ ٹھہرا کیونکہ اَے یہوواہ! جو کچھ ہو رہا ہے، تیری مرضی سے ہو رہا ہے۔“ 15 پھر اُنہوں نے یُوناہ کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اِس پر سمندر پُرسکون ہو گیا۔ 16 یہ دیکھ کر اُن آدمیوں پر یہوواہ کا شدید خوف طاری ہو گیا اور اُنہوں نے یہوواہ کے حضور قربانی پیش کی اور منتیں مانیں۔
17 یہوواہ نے ایک بہت بڑی مچھلی بھیجی جس نے یُوناہ کو نگل لیا۔ اور یُوناہ تین دن اور تین رات اُس مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
2 پھر یُوناہ نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے خدا یہوواہ سے دُعا کی 2 اور کہا: ”مَیں نے پریشانی کی حالت میں یہوواہ کو پکارا اور اُس نے مجھے جواب دیا۔
مَیں نے قبر* کی گہرائیوں* سے مدد کی دُہائی دی
اور تُو نے میری آواز سنی۔
3 جب تُو نے مجھے گہرائیوں میں، ہاں، کُھلے سمندر کے بیچ میں پھینک دیا
تو پانیوں نے مجھے گھیر لیا؛
تیری طاقتور موجوں اور لہروں نے مجھے دبوچ لیا۔
4 تب مَیں نے کہا: ”مجھے تیری نظروں سے دُور کر دیا گیا ہے!
اب مَیں تیری مُقدس ہیکل کو دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گا؟“
5 پانیوں نے مجھے گھیر لیا اور موت کے مُنہ میں دھکیل دیا؛
مَیں گہرے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا؛
سمندری پودے میرے سر کے گِرد لپٹ گئے۔
6 مَیں ڈوبتے ڈوبتے پہاڑوں کی بنیادوں تک پہنچ گیا؛
زمین کے دروازے ہمیشہ کے لیے مجھ پر بند ہونے لگے؛
لیکن اَے یہوواہ میرے خدا! تُو نے مجھے اِس گڑھے سے نکال کر میری جان بچائی۔
7 جب میری زندگی* ختم ہو رہی تھی تو مَیں نے یہوواہ کو یاد کِیا۔
پھر میری دُعا تیرے حضور تیری مُقدس ہیکل میں پہنچی۔
8 جو لوگ بےجان بُتوں کو پوجتے ہیں، وہ اُس ہستی کو ترک کر دیتے ہیں جو اُن سے اٹوٹ محبت کرتی ہے۔*
9 لیکن مَیں تیرا شکرگزار ہوں گا اور تیرے حضور قربانی پیش کروں گا۔
مَیں اُس منت کو پورا کروں گا جو مَیں نے مانی ہے۔
نجات یہوواہ کی طرف سے ہے۔“
10 آخرکار یہوواہ کے حکم پر مچھلی نے یُوناہ کو خشکی پر اُگل دیا۔
3 پھر دوسری بار یہوواہ کا یہ کلام یُوناہ تک پہنچا: 2 ”اُٹھو، بڑے شہر نِینوہ جاؤ اور اُسے وہ پیغام سناؤ جو مَیں تمہیں دے رہا ہوں۔“
3 اِس پر یُوناہ اُٹھے اور یہوواہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نِینوہ گئے۔ نِینوہ بہت بڑا* شہر تھا، اِتنا بڑا کہ پیدل اِس کا چکر لگانے میں تین دن لگ جاتے تھے۔ 4 یُوناہ شہر میں داخل ہوئے اور ایک پورا دن اِس میں چلتے چلتے یہ اِعلان کرتے گئے: ”صرف 40 دن بعد نِینوہ کو تباہ کر دیا جائے گا۔“
5 یہ سُن کر نِینوہ کے لوگ خدا پر ایمان لے آئے۔ پھر اُنہوں نے روزے کا اِعلان کِیا اور امیر سے لے کر غریب اور بڑے سے لے کر چھوٹے تک سب نے ٹاٹ اوڑھا۔ 6 جب نِینوہ کے بادشاہ کو اُس پیغام کے بارے میں پتہ چلا جو یُوناہ سنا رہے تھے تو وہ اپنے تخت سے اُٹھا، اپنا شاہی لباس اُتارا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ میں بیٹھ گیا۔ 7 اِس کے علاوہ اُس نے پورے شہر میں یہ اِعلان کروایا:
”بادشاہ اور اُس کے نوابوں نے یہ فرمان جاری کِیا ہے: اِنسان اور جانور، گائے بیل اور بھیڑ بکریاں، کوئی کچھ نہ کھائے۔ کھانے کا ایک نوالہ اور پانی کی ایک بوند بھی اُن کے گلے سے نیچے نہ اُترے۔ 8 سارے لوگ ٹاٹ اوڑھیں اور جانوروں پر بھی ٹاٹ ڈالا جائے۔ ہر شخص سچے دل سے خدا کو پکارے اور اپنی بُری روِش اور ظلموتشدد سے باز آئے۔ 9 کیا پتہ سچا خدا اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے* اور اُس کا قہر ہم پر نازل نہ ہو اور اِس طرح ہم ہلاک ہونے سے بچ جائیں؟“
10 جب سچے خدا نے دیکھا کہ اُن لوگوں نے کیا کچھ کِیا ہے اور اپنی بُری روِش کو چھوڑ دیا ہے تو اُس نے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کِیا* اور اُن پر آفت نازل نہیں کی۔
4 لیکن یہ بات یُوناہ کو اِنتہائی بُری لگی اور وہ آگبگولا ہو گئے۔ 2 اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا میں کہا: ”یہوواہ! جب مَیں اپنے ملک میں تھا تو مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہوگا۔ اِسی لیے تو مَیں نے ترسیس بھاگنے کی کوشش کی تھی کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ تُو مہربان* اور رحیم خدا ہے، تُو جلدی غصہ نہیں کرتا، تیری اٹوٹ محبت کی کوئی اِنتہا نہیں اور تجھے کسی کو سزا دے کر خوشی نہیں ملتی۔ 3 اب اَے یہوواہ! مَیں تجھ سے مِنت کرتا ہوں کہ میری جان لے لے کیونکہ جینے سے بہتر ہے کہ مَیں مر جاؤں۔“
4 یہوواہ نے یُوناہ سے پوچھا: ”کیا تمہارا اِتنا غصہ کرنا جائز ہے؟“
5 پھر یُوناہ شہر سے باہر چلے گئے اور اِس کے مشرق کی طرف ایک جگہ بیٹھ گئے۔ وہاں اُنہوں نے اپنے لیے ایک چھپر* بنایا اور اِس کے سائے میں بیٹھ گئے تاکہ دیکھ سکیں کہ شہر کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ 6 پھر یہوواہ نے لوکی کی ایک بیل اُگائی* اور اُسے اِس طرح سے پھیلایا کہ اُس کے سائے کے نیچے یُوناہ کو آرام ملے۔ اور یُوناہ لوکی کی اُس بیل کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
7 لیکن اگلے دن پَو پھٹتے وقت سچے خدا نے ایک کیڑا بھیجا جس نے لوکی کی بیل پر حملہ کِیا اور وہ بیل سُوکھ گئی۔ 8 جب سورج کی روشنی چمکنے لگی تو خدا نے مشرق سے جھلسا دینے والی لُو بھی چلائی۔ دھوپ اِتنی شدت سے یُوناہ کے سر پر پڑنے لگی کہ وہ بےحال ہونے لگے۔ وہ مسلسل اپنے لیے* موت مانگنے لگے اور بار بار کہنے لگے: ”جینے سے بہتر ہے کہ مَیں مر جاؤں۔“
9 خدا نے یُوناہ سے پوچھا: ” کیا لوکی کی بیل کی وجہ سے تمہارا اِتنا غصہ کرنا جائز ہے؟“
اِس پر یُوناہ نے کہا: ”میرا غصہ کرنا بالکل جائز ہے۔ مجھے تو اِتنا غصہ آ رہا ہے کہ مَیں مر جانا چاہتا ہوں۔“ 10 لیکن یہوواہ نے فرمایا: ”تمہیں لوکی کی اُس بیل کا اِتنا خیال ہے جس کے لیے نہ تو تُم نے کوئی محنت کی اور نہ اُسے بڑھایا ؛ جو ایک ہی رات میں بڑھی اور ایک ہی رات میں سُوکھ گئی 11 تو کیا مجھے بڑے شہر نِینوہ کا خیال نہیں کرنا چاہیے جس میں 1 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جو صحیح اور غلط میں* فرق نہیں کر سکتے اور اِس کے علاوہ اُن کے بہت سے جانور بھی ہیں؟“
معنی: ”کبوتر“
لفظی ترجمہ: ”کا خوف رکھتا ہوں“
لفظی ترجمہ: ”اِس آدمی کی جان“
عبرانی لفظ: ”شیول۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
لفظی ترجمہ: ”پیٹ“
لفظی ترجمہ: ”جان“
یا شاید ”وہ وفادار نہیں رہتے۔“
لفظی ترجمہ: ”خدا کی نظر میں بڑا“
یا ”پر پچھتائے“
یا ”وہ اپنے فیصلے پر پچھتایا“
یا ”ہمدرد“
گھاسپھوس سے بنی سایہدار جگہ
یا شاید ”ارنڈ کا ایک پودا اُگایا“
لفظی ترجمہ: ”اپنی جان کے لیے“
یا ”دائیں اور بائیں ہاتھ میں“