یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د دانی‌ایل 1:‏1-‏12:‏13
  • دانی‌ایل

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دانی‌ایل
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
دانی‌ایل

دانی‌ایل

1 یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کی حکمرانی کے تیسرے سال میں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر یروشلم آیا اور اِسے گھیر لیا۔ 2 بعد میں یہوواہ نے یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کو اور سچے خدا کے گھر*‏ کی کچھ چیزوں کو نبوکدنضر کے حوالے کر دیا۔ وہ اِن چیزوں کو ملک سِنعار*‏ میں اپنے خدا کے مندر*‏ میں لے آیا اور اِنہیں اپنے خدا کے خزانہ‌گھر میں رکھ دیا۔‏

3 پھر بادشاہ نے درباریوں کے سربراہ اشپناز کو حکم دیا کہ وہ بنی‌اِسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو لے کر آئے جن میں شاہی نسل اور نوابوں کی نسل کے لوگ بھی شامل ہوں۔ 4 اُسے ایسے نوجوان*‏ لانے تھے جن میں کوئی نقص نہ ہو، جو دِکھنے میں اچھے ہوں، جنہیں دانش‌مندی، علم اور سُوجھ‌بُوجھ سے نوازا گیا ہو اور جو بادشاہ کے محل میں خدمت کرنے کے قابل ہوں۔ اشپناز نے اُنہیں کسدیوں کی تحریر اور زبان کی تعلیم دینی تھی۔ 5 اِس کے علاوہ بادشاہ نے حکم دیا کہ اُنہیں ہر روز خاص شاہی کھانے اور اُس مے میں سے حصہ دیا جائے جو بادشاہ پیتا تھا۔ تین سال تک اُن کی تربیت*‏ کی جانی تھی اور اِس کے بعد اُنہیں بادشاہ کی خدمت شروع کرنی تھی۔‏

6 اُن میں سے کچھ یہوداہ کے قبیلے*‏ میں سے تھے یعنی دانی‌ایل،‏*‏ حنانیاہ،‏*‏ میساایل*‏ اور عزریاہ۔‏*‏ 7 درباریوں کے سربراہ نے اُنہیں فرق نام*‏ دیے۔ اُس نے دانی‌ایل کو بیلطشضر، حنانیاہ کو سدرک، میساایل کو میسک اور عزریاہ کو عبدنجو کہا۔‏

8 لیکن دانی‌ایل نے اپنے دل میں پکا اِرادہ کِیا کہ وہ خود کو خاص شاہی کھانے اور اُس مے سے ناپاک نہیں کریں گے جو بادشاہ پیتا تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے درباریوں کے سربراہ سے یہ چیزیں نہ کھانے کی اِجازت مانگی تاکہ وہ ناپاک نہ ہو جائیں۔ 9 سچے خدا نے درباریوں کے سربراہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ دانی‌ایل کے لیے مہربانی اور رحم ظاہر کرے۔ 10 لیکن درباریوں کے سربراہ نے دانی‌ایل سے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے مالک بادشاہ سلامت سے ڈرتا ہوں جنہوں نے طے کِیا ہے کہ تُم لوگ کیا کھاؤ پیو گے۔ اگر اُنہوں نے دیکھا کہ تمہاری حالت اپنی عمر کے باقی نوجوانوں*‏ جتنی اچھی نہیں ہے تو جانتے ہو کہ کیا ہوگا؟ تمہاری وجہ سے مَیں*‏ بادشاہ کی نظر میں قصوروار ٹھہروں گا۔“‏ 11 مگر دانی‌ایل نے اُس شخص سے جسے درباریوں کے سربراہ نے دانی‌ایل، حنانیاہ، میساایل اور عزریاہ کا نگران مقرر کِیا تھا، کہا:‏ 12 ‏”‏مہربانی سے اپنے خادموں کو دس دن دیں اور اِس دوران ہمیں کھانے کے لیے کچھ سبزیاں اور پینے کے لیے پانی دے کر دیکھیں۔ 13 پھر ہماری حالت کا موازنہ اُن نوجوانوں*‏ کی حالت سے کیجیے گا جو خاص شاہی کھانا کھا رہے ہیں اور جو کچھ آپ دیکھیں گے، اُس کے مطابق اپنے خادموں سے پیش آئیے گا۔“‏

14 اُس نے اُن کی بات مان لی اور دس دن تک اُن کا جائزہ لیا۔ 15 دس دن کے بعد وہ دِکھنے میں اُن سب نوجوانوں*‏ سے زیادہ اچھے اور صحت‌مند لگ رہے تھے جو خاص شاہی کھانا کھا رہے تھے۔ 16 اِس لیے وہ نگران اُنہیں خاص شاہی کھانے اور مے کی جگہ سبزیاں دیتا رہا۔ 17 اور سچے خدا نے اُن چار نوجوانوں*‏ کو ہر قسم کی تحریر کے بارے میں علم اور گہری سمجھ دی اور دانش‌مندی سے نوازا اور دانی‌ایل کو ہر طرح کی رُویات اور خوابوں کی سمجھ عطا کی گئی۔‏

18 جب بادشاہ کی ٹھہرائی ہوئی وہ مُدت پوری ہو گئی جس کے بعد اُن نوجوانوں نے اُس کے سامنے پیش ہونا تھا تو درباریوں کا سربراہ اُنہیں نبوکدنضر کے سامنے لے گیا۔ 19 جب بادشاہ نے اُن سے بات کی تو اُس پورے گروہ میں دانی‌ایل، حنانیاہ، میساایل اور عزریاہ جیسا کوئی بھی نہیں تھا اور وہ بادشاہ کے حضور خدمت کرتے رہے۔ 20 جب بھی بادشاہ نے اُن سے کسی ایسے معاملے کے بارے میں سوال پوچھے جس کے لیے دانش‌مندی اور سمجھ کی ضرورت تھی تو اُس نے دیکھا کہ وہ نوجوان اُس کی پوری سلطنت میں موجود جادوٹونا کرنے والے سب پجاریوں اور عاملوں سے دس گُنا بہتر تھے۔ 21 اور دانی‌ایل، بادشاہ خورس کی حکمرانی کے پہلے سال تک وہاں رہے۔‏

2 نبوکدنضر نے اپنی حکمرانی کے دوسرے سال میں کچھ خواب دیکھے اور وہ*‏ اِتنا بے‌چین ہو گیا کہ سو نہیں پایا۔ 2 اِس لیے بادشاہ نے حکم دیا کہ جادوٹونا کرنے والے پجاریوں، عاملوں، جادوگروں اور کسدیوں*‏ کو بُلایا جائے تاکہ وہ بادشاہ کو اُس کے خواب بتائیں۔ وہ سب آئے اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ 3 بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں نے ایک خواب دیکھا ہے اور مَیں*‏ بہت بے‌چین ہوں کیونکہ مَیں جاننا چاہتا ہوں کہ مَیں نے کیا خواب دیکھا ہے۔“‏ 4 کسدیوں نے اَرامی زبان*‏ میں بادشاہ سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ آپ ہمیشہ جیتے رہیں۔ اپنے خادموں کو اپنا خواب بتائیں اور ہم اُس کا مطلب بتائیں گے۔“‏

5 بادشاہ نے کسدیوں سے کہا:‏ ”‏اگر تُم نے میرا خواب اور اُس کا مطلب نہ بتایا تو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے اور تمہارے گھروں کو عوامی بیت‌الخلا*‏ بنا دیا جائے گا۔ میرا یہ فیصلہ بدلے گا نہیں۔ 6 لیکن اگر تُم نے مجھے خواب اور اُس کا مطلب بتایا تو تمہیں میری طرف سے تحفے، اِنعام اور بڑی عزت ملے گی۔ اِس لیے مجھے خواب اور اُس کا مطلب بتاؤ۔“‏

7 اُنہوں نے دوبارہ بادشاہ سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ اپنے خادموں کو خواب بتائیں اور ہم اُس کا مطلب بتائیں گے۔“‏

8 بادشاہ نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تُم اِس کوشش میں ہو کہ تمہیں تھوڑا وقت مل جائے کیونکہ تمہیں پتہ ہے کہ میرا فیصلہ پکا ہے۔ 9 اگر تُم نے مجھے خواب نہ بتایا تو تُم سب کو ایک ہی سزا ملے گی۔ لیکن تُم نے مل کر طے کِیا ہے کہ جب تک صورتحال بدل نہیں جاتی، تُم مجھے کوئی جھوٹی کہانی سناؤ گے اور دھوکے میں رکھو گے۔ اِس لیے مجھے خواب بتاؤ تاکہ مجھے پتہ چلے کہ تُم اُس کا مطلب بھی بتا سکتے ہو۔“‏

10 کسدیوں نے بادشاہ کو جواب دیا:‏ ”‏زمین*‏ پر کوئی ایسا اِنسان نہیں ہے جو وہ کام کر سکے جو بادشاہ سلامت چاہتے ہیں کیونکہ کسی عظیم بادشاہ یا ناظم نے جادوٹونا کرنے والے کسی پجاری، عامل یا کسدی سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں پوچھی۔ 11 بادشاہ سلامت!‏ آپ جو بات پوچھ رہے ہیں، وہ بتانا مشکل ہے اور ایسا کوئی نہیں ہے جو آپ کو یہ بات بتا سکے سوائے خداؤں کے جو اِنسانوں*‏ کے بیچ نہیں رہتے۔“‏

12 اِس پر بادشاہ غصے سے بھڑک اُٹھا اور بابل کے سب دانش‌وروں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ 13 جب یہ حکم جاری ہوا اور دانش‌ور قتل کیے جانے والے تھے تو دانی‌ایل اور اُن کے ساتھیوں کو بھی ڈھونڈا گیا تاکہ اُنہیں قتل کِیا جائے۔‏

14 تب دانی‌ایل نے بڑی سمجھ‌داری اور محتاط طریقے سے بادشاہ کے محافظوں کے سربراہ اریوک سے بات کی جو بابل کے دانش‌وروں کو قتل کرنے کے لیے نکلا ہوا تھا۔ 15 اُنہوں نے شاہی افسر اریوک سے پوچھا:‏ ”‏بادشاہ نے اِتنا سخت حکم کیوں جاری کِیا ہے؟“‏ اِس پر اریوک نے دانی‌ایل کو سارا معاملہ بتایا۔ 16 پھر دانی‌ایل بادشاہ کے پاس گئے اور اُس سے تھوڑا وقت مانگا تاکہ وہ بادشاہ کو اُس کے خواب کا مطلب بتا سکیں۔‏

17 اِس کے بعد دانی‌ایل اپنے گھر گئے اور اپنے ساتھیوں یعنی حنانیاہ، میساایل اور عزریاہ کو سارا معاملہ بتایا۔ 18 دانی‌ایل نے اُن سے کہا کہ وہ آسمان کے خدا سے رحم کے لیے دُعا کریں کہ وہ اِس راز سے پردہ ہٹائے تاکہ دانی‌ایل اور اُن کے ساتھیوں کو بابل کے باقی دانش‌وروں کے ساتھ قتل نہ کِیا جائے۔‏

19 پھر رات کے وقت دانی‌ایل کو ایک رُویا دِکھائی گئی جس میں اُس راز سے پردہ ہٹایا گیا۔ تب دانی‌ایل آسمان کے خدا کی بڑائی کرنے لگے۔ 20 اُنہوں نے کہا:‏

‏”‏خدا کے نام کی بڑائی ہمیشہ ہمیشہ تک*‏ ہوتی رہے

کیونکہ صرف وہی دانش‌مندی اور طاقت کا مالک ہے۔‏

21 وہ وقتوں اور زمانوں کو بدلتا ہے؛‏

بادشاہوں کو ہٹاتا اور مقرر کرتا ہے

اور دانش‌مندوں کو دانش‌مندی اور سُوجھ‌بُوجھ والوں کو علم عطا کرتا ہے۔‏

22 وہ گہری باتوں اور پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے؛‏

وہ جانتا ہے کہ تاریکی میں کیا ہے

اور روشنی اُس کے ساتھ بستی ہے۔‏

23 میرے باپ‌دادا کے خدا!‏ مَیں تیرا شکر کرتا ہوں اور تیری بڑائی کرتا ہوں

کیونکہ تُو نے مجھے دانش‌مندی اور طاقت عطا کی ہے۔‏

اور اب تُو نے مجھے وہ بتایا ہے جس کی ہم نے درخواست کی تھی؛‏

تُو نے ہم پر وہ بات ظاہر کی ہے جس کی وجہ سے بادشاہ پریشان تھا۔“‏

24 پھر دانی‌ایل اریوک کے پاس گئے جسے بادشاہ نے بابل کے دانش‌وروں کو قتل کرنے کے لیے مقرر کِیا تھا۔ دانی‌ایل نے اُس سے کہا:‏ ”‏بابل کے کسی بھی دانش‌ور کو قتل نہ کیجیے گا۔ مجھے بادشاہ کے حضور لے جائیے اور مَیں اُنہیں خواب کا مطلب بتاؤں گا۔“‏

25 اریوک فوراً دانی‌ایل کو بادشاہ کے سامنے لے گیا اور بادشاہ سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں کو یہوداہ سے قیدی بنا کر لایا گیا تھا، مجھے اُن میں سے ایک شخص ملا ہے جو بادشاہ سلامت کو خواب کا مطلب بتا سکتا ہے۔“‏ 26 بادشاہ نے دانی‌ایل سے جن کا نام بیلطشضر تھا، کہا:‏ ”‏کیا تُم واقعی مجھے وہ خواب بتا سکتے ہو جو مَیں نے دیکھا تھا اور اُس کا مطلب بھی؟“‏ 27 دانی‌ایل نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏کوئی بھی دانش‌ور، عامل، جادوٹونا کرنے والا پجاری یا نجومی آپ کو وہ راز نہیں بتا سکتا جو آپ جاننا چاہتے ہیں۔ 28 لیکن آسمان پر ایک خدا ہے جو رازوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اُس نے بادشاہ نبوکدنضر پر ظاہر کِیا ہے کہ آخری دنوں میں*‏ کیا ہونے والا ہے۔ یہ ہے آپ کا خواب اور یہ ہیں وہ رُویات جو بستر پر لیٹے ہوئے آپ کے ذہن میں چل رہی تھیں:‏

29 بادشاہ سلامت!‏ جب آپ بستر پر لیٹے ہوئے تھے تو آپ کے ذہن میں مستقبل میں ہونے والی باتوں کے حوالے سے خیالات اُبھرنے لگے اور رازوں کو ظاہر کرنے والے نے آپ کو دِکھایا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ 30 جہاں تک میری بات ہے تو یہ راز مجھ پر اِس لیے ظاہر نہیں کِیا گیا کہ مَیں کسی دوسرے شخص سے زیادہ دانش‌مند ہوں بلکہ اِس لیے کہ بادشاہ کو خواب کا مطلب پتہ چل سکے اور آپ جان سکیں کہ آپ کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔‏

31 بادشاہ سلامت!‏ جب آپ خواب دیکھ رہے تھے تو آپ نے ایک بہت بڑی مورت دیکھی۔ وہ مورت لمبی چوڑی اور اِنتہائی چمک‌دار تھی۔ وہ آپ کے سامنے کھڑی تھی اور اُسے دیکھ کر خوف آتا تھا۔ 32 اُس مورت کا سر خالص سونے کا تھا؛ اُس کا سینہ اور بازو چاندی کے تھے؛ اُس کا پیٹ اور رانیں تانبے کی تھیں؛ 33 اُس کی ٹانگیں لوہے کی تھیں اور اُس کے پاؤں کہیں سے لوہے کے اور کہیں سے مٹی*‏ کے تھے۔ 34 آپ اُسے دیکھتے رہے اور پھر پہاڑ سے ایک پتھر کٹا جسے ہاتھ سے نہیں کاٹا گیا تھا۔ وہ مورت کے پاؤں سے ٹکرایا جو لوہے اور مٹی کے تھے اور اُنہیں چکناچُور کر دیا۔ 35 پھر لوہا، مٹی، تانبا، چاندی اور سونا سب ریزہ ریزہ ہو گئے اور اُس بھوسے کی طرح بن گئے جو گرمی میں کھلیان*‏ میں ہوتا ہے اور ہوا اُنہیں ایسے اُڑا لے گئی کہ اُن کا نام‌ونشان نہ رہا۔ لیکن جو پتھر مورت سے ٹکرایا تھا، وہ ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور پوری زمین پر پھیل گیا۔‏

36 یہ تھا آپ کا خواب۔ اور اب ہم بادشاہ سلامت کو اِس کا مطلب بتائیں گے۔ 37 بادشاہ سلامت!‏ آپ بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔ آپ کو آسمان کے خدا نے بادشاہت، طاقت، قوت اور شان‌وشوکت عطا کی ہے۔ 38 اُس نے آپ کو اِنسانوں پر اِختیار دیا ہے پھر چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں اور میدان کے جانوروں اور آسمان کے پرندوں پر بھی اور اُس نے آپ کو اِن سب کا حاکم بنایا ہے۔ سونے کا سر آپ ہیں۔‏

39 لیکن آپ کے بعد ایک اَور بادشاہت قائم ہوگی جو آپ کی بادشاہت سے کم‌تر ہوگی۔ پھر ایک اَور بادشاہت آئے گی یعنی تیسری بادشاہت جو تانبے کی ہوگی۔ وہ پوری زمین پر حکمرانی کرے گی۔‏

40 چوتھی بادشاہت لوہے کی طرح مضبوط ہوگی۔ جیسے لوہا باقی سب چیزوں کو چکناچُور کر دیتا ہے اور پیس ڈالتا ہے، ہاں، جیسے لوہا چیزوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے ویسے ہی وہ بادشاہت اِن سب بادشاہتوں کو چکناچُور اور ریزہ ریزہ کر دے گی۔‏

41 اور جیسے آپ نے دیکھا تھا، پاؤں اور اُن کی اُنگلیاں کہیں سے کُمہار کی مٹی کی اور کہیں سے لوہے کی تھیں ویسے ہی وہ بادشاہت بٹی ہوئی ہوگی۔ لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا تھا کہ لوہا نرم مٹی کے ساتھ ملا ہوا تھا اِس لیے اُس میں لوہے جیسی تھوڑی مضبوطی ہوگی۔ 42 جیسے پاؤں کی اُنگلیاں کہیں سے لوہے کی اور کہیں سے مٹی کی تھیں ویسے ہی وہ بادشاہت تھوڑی مضبوط ہوگی اور تھوڑی کمزور۔ 43 اور جیسے آپ نے دیکھا تھا کہ لوہا نرم مٹی کے ساتھ ملا ہوا تھا ویسے ہی وہ*‏ لوگوں*‏ کے ساتھ ملے ہوں گے۔ لیکن وہ آپس میں ایک نہیں ہوں گے جیسے لوہا اور مٹی ایک نہیں ہوتے۔‏

44 اُن بادشاہوں کے دنوں میں آسمان کا خدا ایک بادشاہت قائم کرے گا جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔ وہ بادشاہت کسی دوسری قوم کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ وہ اِن سب بادشاہتوں کو چکناچُور اور ختم کر دے گی اور صرف وہی ہمیشہ تک قائم رہے گی، 45 بالکل ویسے ہی جیسے آپ نے دیکھا تھا کہ پہاڑ سے ایک پتھر کٹا جسے ہاتھوں سے نہیں کاٹا گیا تھا اور اُس پتھر نے لوہے، تانبے، مٹی، چاندی اور سونے کو چکناچُور کر دیا۔ عظیمُ‌الشان خدا نے بادشاہ پر ظاہر کِیا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ یہ خواب سچا ہے اور اِس کا جو مطلب بتایا گیا ہے، اُس پر بھروسا کِیا جا سکتا ہے۔“‏

46 اِس پر بادشاہ نبوکدنضر دانی‌ایل کے سامنے زمین پر مُنہ کے بل جھک گیا اور اُن کی تعظیم کی۔ اُس نے حکم دیا کہ دانی‌ایل کو ایک نذرانہ پیش کِیا جائے اور اُن کے سامنے بخور جلایا جائے۔ 47 بادشاہ نے دانی‌ایل سے کہا:‏ ”‏تمہارا خدا واقعی خداؤں کا خدا اور بادشاہوں کا مالک اور رازوں کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اِسی لیے تُم اِس راز سے پردہ ہٹا پائے ہو۔“‏ 48 پھر بادشاہ نے دانی‌ایل کا رُتبہ بڑھایا اور اُنہیں بہت سے عمدہ تحفے دیے۔ اُس نے اُنہیں پورے صوبہ*‏ بابل کا حکمران بنایا اور اُن سب منتظموں کا سربراہ مقرر کِیا جن کے تحت بابل کے سب دانش‌ور کام کرتے تھے۔ 49 دانی‌ایل کی درخواست پر بادشاہ نے سدرک، میسک اور عبدنجو کو صوبہ*‏ بابل کے اِنتظامی معاملات کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ لیکن دانی‌ایل بادشاہ کے دربار میں خدمت کرتے تھے۔‏

3 بادشاہ نبوکدنضر نے سونے کی ایک مورت بنوائی جس کی لمبائی 60 ہاتھ*‏ اور چوڑائی 6 ہاتھ*‏ تھی۔ اُس نے اُس مورت کو صوبہ*‏ بابل میں دُورا کے میدان میں کھڑا کروایا۔ 2 پھر بادشاہ نبوکدنضر نے وزیروں، منتظموں، ناظموں، مُشیروں، خزانچیوں، قاضیوں، منصفوں اور صوبوں*‏ کے اِنتظامی معاملات کی دیکھ‌بھال کرنے والے سب لوگوں کو جمع کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اُس مورت کے اِفتتاح کے لیے آئیں جو بادشاہ نبوکدنضر نے کھڑی کرائی تھی۔‏

3 اِس لیے وزیر، منتظم، ناظم، مُشیر، خزانچی، قاضی، منصف اور صوبوں*‏ کے اِنتظامی معاملات کی دیکھ‌بھال کرنے والے سب لوگ اُس مورت کے اِفتتاح کے لیے جمع ہوئے جو بادشاہ نبوکدنضر نے کھڑی کرائی تھی۔ وہ سب اُس مورت کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ 4 مُناد نے اُونچی آواز میں یہ اِعلان کِیا:‏ ”‏اَے قومو، اُمتو اور فرق فرق زبانیں بولنے والو!‏ تمہیں یہ حکم دیا جاتا ہے 5 کہ جب تُم نرسنگے،‏*‏ بانسری، ستار، بربط، تاردار ساز، بِین اور موسیقی کے دوسرے سب سازوں کی آواز سنو تو زمین پر مُنہ کے بل جھک جانا اور سونے کی اُس مورت کی پرستش کرنا جسے بادشاہ نبوکدنضر نے کھڑا کرایا ہے۔ 6 جس شخص نے جھک کر مورت کی پرستش نہ کی، اُسے فوراً بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جائے گا۔“‏ 7 اِس لیے جب سب لوگوں نے نرسنگے،‏*‏ بانسری، ستار، بربط، تاردار ساز اور موسیقی کے دوسرے سب سازوں کی آواز سنی تو ساری قومیں، اُمتیں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے سب لوگ زمین پر مُنہ کے بل جھک گئے اور سونے کی اُس مورت کی پرستش کی جسے بادشاہ نبوکدنضر نے کھڑا کرایا تھا۔‏

8 اُس وقت کچھ کسدی، بادشاہ کے پاس گئے اور یہودیوں پر اِلزام لگانے*‏ لگے۔ 9 اُنہوں نے بادشاہ نبوکدنضر سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ آپ ہمیشہ جیتے رہیں۔ 10 بادشاہ سلامت!‏ آپ نے حکم دیا تھا کہ جو بھی شخص نرسنگے،‏*‏ بانسری، ستار، بربط، تاردار ساز، بِین اور موسیقی کے دوسرے سب سازوں کی آواز سنے، وہ مُنہ کے بل زمین پر جھک جائے اور سونے کی مورت کی پرستش کرے 11 اور جو شخص جھک کر مورت کی پرستش نہیں کرے گا، اُسے بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جائے گا۔ 12 لیکن کچھ یہودی ہیں یعنی سدرک، میسک اور عبدنجو جنہیں آپ نے صوبہ*‏ بابل کے اِنتظامی معاملات کی دیکھ‌بھال کے لیے مقرر کِیا ہے۔ بادشاہ سلامت!‏ اُنہوں نے آپ کے لیے بالکل بھی احترام ظاہر نہیں کِیا۔ وہ آپ کے خداؤں کی عبادت نہیں کر رہے اور سونے کی اُس مورت کی پرستش نہیں کر رہے جسے آپ نے کھڑا کرایا ہے۔“‏

13 اِس پر نبوکدنضر طیش میں آ گیا اور اُس نے حکم دیا کہ سدرک، میسک اور عبدنجو کو اُس کے سامنے پیش کِیا جائے۔ تب اُن آدمیوں کو بادشاہ کے سامنے لایا گیا۔ 14 نبوکدنضر نے اُن سے کہا:‏ ”‏سدرک، میسک اور عبدنجو!‏ کیا یہ واقعی سچ ہے کہ تُم میرے خداؤں کی عبادت نہیں کر رہے اور سونے کی اُس مورت کی پرستش نہیں کر رہے جسے مَیں نے کھڑا کرایا ہے؟ 15 اب اگر تُم نرسنگے،‏*‏ بانسری، ستار، بربط، تاردار ساز، بِین اور موسیقی کے باقی سب سازوں کی آواز سُن کر مُنہ کے بل جھک گئے اور تُم نے اُس مورت کی پرستش کی جو مَیں نے بنوائی ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر تُم نے اُس مورت کی پرستش نہ کی تو تمہیں فوراً بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جائے گا۔ اور کون سا ایسا خدا ہے جو تمہیں میرے ہاتھ سے بچا سکے؟“‏

16 سدرک، میسک اور عبدنجو نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏بادشاہ نبوکدنضر!‏ ہم اِس معاملے کے بارے میں آپ کو کوئی جواب نہیں دینا چاہتے۔ 17 بادشاہ سلامت!‏ اگر ہمارے ساتھ وہ ہونا ہی ہے جو آپ نے کہا ہے تو جس خدا کی ہم عبادت کرتے ہیں، وہ ہمیں بھڑکتی ہوئی بھٹی سے بچا سکتا ہے اور آپ کے ہاتھ سے چھڑا سکتا ہے۔ 18 لیکن اگر اُس نے ایسا نہ بھی کِیا تو بادشاہ سلامت!‏ یہ جان لیں کہ ہم آپ کے خداؤں کی عبادت نہیں کریں گے اور سونے کی اُس مورت کی پرستش نہیں کریں گے جو آپ نے کھڑی کرائی ہے۔“‏

19 یہ سُن کر نبوکدنضر کو سدرک، میسک اور عبدنجو پر شدید غصہ آیا اور اُن کے ساتھ اُس کا رویہ بالکل بدل گیا اور اُس نے حکم دیا کہ بھٹی کو معمول سے سات گُنا زیادہ گرم کِیا جائے۔ 20 اُس نے اپنی فوج کے کچھ طاقت‌ور آدمیوں کو حکم دیا کہ سدرک، میسک اور عبدنجو کو باندھ کر بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جائے۔‏

21 اِس پر اُن آدمیوں کو اُن کے چوغوں، ٹوپیوں اور دوسرے کپڑوں سمیت باندھ کر بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا گیا۔ 22 بادشاہ کا حکم اِتنا سخت تھا اور بھٹی کو معمول سے اِتنا زیادہ گرم کر دیا گیا تھا کہ جو آدمی سدرک، میسک اور عبدنجو کو لے کر گئے، وہی آگ کی لپٹوں کی وجہ سے مارے گئے۔ 23 لیکن وہ تینوں آدمی یعنی سدرک، میسک اور عبدنجو بندھے ہوئے بھڑکتی ہوئی بھٹی میں گِر گئے۔‏

24 تب بادشاہ نبوکدنضر خوف‌زدہ ہو گیا اور فوراً اُٹھ کر اپنے اعلیٰ عہدےداروں سے کہنے لگا:‏ ”‏کیا ہم نے تین آدمیوں کو باندھ کر آگ میں نہیں پھینکا تھا؟“‏ اُنہوں نے بادشاہ کو جواب دیا:‏ ”‏جی بادشاہ سلامت۔“‏ 25 اُس نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ مجھے چار آدمی آگ کے بیچ کُھلے گھومتے نظر آ رہے ہیں اور اُنہیں کچھ بھی نہیں ہوا اور چوتھا آدمی خداؤں کے ایک بیٹے جیسا لگ رہا ہے۔“‏

26 نبوکدنضر بھڑکتی ہوئی بھٹی کے دروازے کے پاس گیا اور کہا:‏ ”‏خدا تعالیٰ کے بندو سدرک، میسک اور عبدنجو!‏ باہر نکلو اور یہاں آؤ!‏“‏ تب سدرک، میسک اور عبدنجو آگ کے بیچ سے باہر آ گئے۔ 27 وہاں جمع وزیروں، منتظموں، ناظموں اور بادشاہ کے اعلیٰ عہدےداروں نے دیکھا کہ اُن آدمیوں کے جسموں کو آگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ اُن کے سر کا ایک بال بھی نہیں جُھلسا تھا اور اُن کے چوغے ویسے کے ویسے ہی تھے، یہاں تک کے اُن کے پاس سے دُھوئیں کی بُو بھی نہیں آ رہی تھی۔‏

28 پھر نبوکدنضر نے کہا:‏ ”‏سدرک، میسک اور عبدنجو کے خدا کی بڑائی ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو بچایا۔ اِنہوں نے اُس پر بھروسا کِیا اور بادشاہ کے حکم کے خلاف گئے۔ اِنہوں نے اپنے خدا کے سوا کسی اَور خدا کی خدمت اور عبادت نہیں کی بلکہ یہ لوگ مرنے کو تیار تھے۔‏*‏ 29 اِس لیے مَیں یہ فرمان جاری کر رہا ہوں کہ اگر کسی قوم، اُمت یا کوئی زبان بولنے والے کسی گروہ کے لوگوں نے سدرک، میسک اور عبدنجو کے خدا کے خلاف کوئی بات کہی تو اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور اُن کے گھروں کو عوامی بیت‌الخلا*‏ بنا دیا جائے کیونکہ کوئی اَور ایسا خدا نہیں ہے جو اِس خدا کی طرح بچا سکے۔“‏

30 پھر بادشاہ نے سدرک، میسک اور عبدنجو کو صوبہ*‏ بابل میں اعلیٰ عہدہ دیا۔‏

4 ‏”‏بادشاہ نبوکدنضر کی طرف سے ساری زمین پر بسنے والی سب قوموں، اُمتوں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے لوگوں کے نام پیغام:‏ تمہاری سلامتی بڑھتی رہے!‏ 2 مجھے اُن نشانیوں اور معجزوں کے بارے میں بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جو خدا تعالیٰ نے میرے حوالے سے دِکھائے ہیں۔ 3 اُس کی نشانیاں کتنی عظیم ہیں اور اُس کے معجزے کتنے زبردست ہیں!‏ اُس کی بادشاہت ہمیشہ اور اُس کی حکمرانی نسل‌درنسل قائم رہتی ہے۔‏

4 مَیں نبوکدنضر اپنے گھر میں سکون سے جی رہا تھا اور اپنے محل میں خوش‌حال زندگی گزار رہا تھا۔ 5 مَیں نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے مَیں ڈر گیا۔ جب مَیں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا تو میرے ذہن میں چلنے والے تصورات اور رُویات نے مجھے خوف‌زدہ کر دیا۔ 6 اِس لیے مَیں نے حکم دیا کہ بابل کے سب دانش‌وروں کو میرے سامنے لایا جائے تاکہ وہ مجھے میرے خواب کا مطلب بتا سکیں۔‏

7 تب جادوٹونا کرنے والے پجاری، عامل، کسدی*‏ اور نجومی میرے سامنے آئے۔ جب مَیں نے اُنہیں اپنا خواب بتایا تو وہ مجھے اِس کا مطلب نہیں بتا سکے۔ 8 آخرکار میرے سامنے دانی‌ایل آیا جس کا نام میرے خدا کے نام پر بیلطشضر رکھا گیا ہے اور جس میں مُقدس خداؤں کی روح ہے۔ مَیں نے اُسے اپنا خواب سناتے ہوئے کہا:‏

9 ‏”‏جادوٹونا کرنے والے پجاریوں کے سربراہ بیلطشضر!‏ مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تُم میں مُقدس خداؤں کی روح ہے اور تمہارے لیے کسی بھی راز سے پردہ ہٹانا مشکل نہیں ہے۔ اِس لیے مجھے بتاؤ کہ اُن رُویات کی وضاحت اور مطلب کیا ہے جو مَیں نے اپنے خواب میں دیکھیں۔‏

10 بستر پر لیٹے ہوئے میرے ذہن میں جو رُویات چل رہی تھیں، اُن میں مَیں نے ایک درخت دیکھا جو زمین کے بیچ میں تھا۔ وہ درخت نہایت اُونچا تھا۔ 11 وہ درخت بڑھا اور مضبوط ہو گیا اور اُس کی چوٹی آسمان تک پہنچ گئی اور وہ پوری زمین کے کونے کونے سے نظر آتا تھا۔ 12 اُس کے پتّے خوب‌صورت تھے اور اُس پر ڈھیروں ڈھیر پھل لگتا تھا اور اُس سے سب کو خوراک ملتی تھی۔ میدان کے جانور اُس کے سائے میں بیٹھتے تھے اور آسمان کے پرندے اُس کی شاخوں پر بسیرا کرتے تھے اور سب جان‌دار اُس کا پھل کھاتے تھے۔‏

13 جب اپنے بستر پر لیٹے ہوئے میرے ذہن میں رُویات چل رہی تھیں تو مَیں نے ایک نگران دیکھا، ہاں، ایک مُقدس خادم جو آسمان سے نیچے اُتر رہا تھا۔ 14 اُس نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏اِس درخت کو اور اِس کی شاخوں کو کاٹ دو؛ اِس کے پتّے جھاڑ دو اور اِس کا پھل بکھیر دو۔ جانور اِس کے نیچے سے بھاگ جائیں اور پرندے اِس کی شاخوں سے اُڑ جائیں۔ 15 لیکن مُڈھ*‏ کو اِس کی جڑوں سمیت زمین میں رہنے دو اور اِسے لوہے اور تانبے کے کڑوں سے جکڑ کر میدان کی گھاس کے بیچ چھوڑ دو۔ اِسے آسمان کی اوس سے بھیگنے دو اور اِس کا حصہ جانوروں کے ساتھ زمین کی گھاس کے بیچ ہو۔ 16 اِس کا دل اِنسان کا دل نہ رہے بلکہ اِسے حیوان کا دل دیا جائے اور یونہی سات سال*‏ گزر جائیں۔ 17 نگرانوں نے یہ فرمان سنایا ہے اور مُقدس خادموں نے اِس فیصلے کے بارے میں بتایا ہے تاکہ زندہ لوگ یہ جان لیں کہ خدا تعالیٰ اِنسانوں کی بادشاہت کا حکمران ہے اور وہ اِسے جسے چاہتا ہے، دیتا ہے اور وہ سب سے ادنیٰ اِنسان کو بھی اِس پر حکمرانی کرنے کا اِختیار عطا کرتا ہے۔“‏

18 ‏”‏یہ تھا وہ خواب جو مَیں نے یعنی بادشاہ نبوکدنضر نے دیکھا۔ اب تُم بیلطشضر!‏ مجھے اِس کا مطلب بتاؤ کیونکہ میری بادشاہت کے دانش‌وروں میں سے کوئی بھی مجھے اِس کا مطلب نہیں بتا سکتا۔ لیکن تُم ایسا کر سکتے ہو کیونکہ تُم میں مُقدس خداؤں کی روح ہے۔“‏

19 اُس وقت دانی‌ایل جس کا نام بیلطشضر ہے، ایک لمحے کے لیے سُن ہو گیا اور اُس کے خیالات اُسے خوف‌زدہ کرنے لگے۔‏

بادشاہ نے کہا:‏ ”‏بیلطشضر!‏ اِس خواب اور اِس کے مطلب کی وجہ سے خوف‌زدہ نہ ہو۔“‏

بیلطشضر نے کہا:‏ ”‏میرے مالک!‏ یہ خواب آپ سے نفرت کرنے والوں پر اور اِس کے ذریعے بتائی گئی باتیں آپ کے دُشمنوں پر پوری ہوں۔‏

20 جو درخت آپ نے دیکھا؛ جو بہت بڑا اور مضبوط ہو گیا؛ جس کی چوٹی آسمان تک پہنچ گئی اور جو پوری زمین سے نظر آتا تھا؛ 21 جس کے پتّے خوب‌صورت تھے؛ جس پر ڈھیروں ڈھیر پھل لگتا تھا اور جس سے سب کو خوراک ملتی تھی؛ جس کے نیچے میدان کے جانور بستے تھے اور جس کی شاخوں پر آسمان کے پرندے بسیرا کرتے تھے، 22 وہ درخت آپ ہیں بادشاہ سلامت کیونکہ آپ بہت بڑے اور مضبوط بن گئے اور آپ کی شان‌وشوکت بڑھ کر آسمان تک پہنچ گئی اور آپ کی حکمرانی زمین کے کونے کونے تک۔‏

23 بادشاہ نے ایک نگران کو، ہاں، ایک مُقدس خادم کو آسمان سے نیچے آتے دیکھا جو کہہ رہا تھا:‏ ”‏درخت کو کاٹ دو اور اِسے تباہ کر دو۔ لیکن مُڈھ کو جڑوں سمیت زمین میں رہنے دو اور لوہے اور تانبے کے کڑوں میں جکڑ کر زمین کی گھاس کے بیچ چھوڑ دو۔ یہ آسمان کی اوس سے بھیگے اور اِس کا حصہ میدان کے جانوروں کے ساتھ ہو جب تک کہ سات سال*‏ نہ گزر جائیں۔“‏ 24 بادشاہ سلامت!‏ یہ آپ کے خواب کا مطلب ہے؛ یہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے جو میرے مالک بادشاہ سلامت پر پورا ہوگا:‏ 25 آپ کو اِنسانوں کے بیچ میں سے نکال دیا جائے گا اور آپ میدان کے جانوروں کے ساتھ رہیں گے۔ آپ کو کھانے کے لیے بیلوں کی طرح گھاس دی جائے گی اور آپ آسمان کی اوس سے بھیگیں گے اور یونہی سات سال*‏ گزر جائیں گے جب تک کہ آپ جان نہیں جاتے کہ خدا تعالیٰ اِنسانوں کی بادشاہت کا حکمران ہے اور وہ اِسے جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔‏

26 لیکن چونکہ اُنہوں نے کہا تھا کہ درخت کے مُڈھ کو اُس کی جڑوں سمیت چھوڑ دو اِس لیے جب آپ جان جائیں گے کہ حکمرانی کرنے والا آسمان میں ہے*‏ تو آپ کی بادشاہت آپ کو پھر سے مل جائے گی۔ 27 لہٰذا بادشاہ سلامت!‏ میرا مشورہ قبول فرمائیں۔ اپنے گُناہ چھوڑ کر صحیح کام کریں اور بُرے کام چھوڑ کر غریبوں پر رحم کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی خوش‌حالی کے دن بڑھ جائیں۔“‏“‏

28 یہ سب کچھ بادشاہ نبوکدنضر کے ساتھ ہوا۔‏

29 بارہ مہینے بعد بادشاہ بابل میں اپنے شاہی محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا 30 اور کہہ رہا تھا:‏ ”‏کیا یہ عظیم شہر بابل نہیں جسے مَیں نے خود اپنی طاقت اور اپنے دم سے شاہی گھرانے کے رہنے کے لیے بنایا ہے تاکہ اِس سے میری شان‌وشوکت کی عظمت ظاہر ہو؟“‏

31 بادشاہ کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ آسمان سے یہ آواز آئی:‏ ”‏بادشاہ نبوکدنضر!‏ تمہارے لیے یہ پیغام ہے:‏ ”‏بادشاہت تُم سے لے لی گئی ہے 32 اور تمہیں اِنسانوں میں سے نکالا جا رہا ہے۔ تُم میدان کے جانوروں کے ساتھ رہو گے اور تمہیں کھانے کے لیے بیلوں کی طرح گھاس دی جائے گی اور یونہی سات سال*‏ گزر جائیں گے جب تک کہ تُم جان نہیں جاتے کہ خدا تعالیٰ اِنسانوں کی بادشاہت کا حکمران ہے اور وہ اِسے جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔“‏“‏

33 اُسی لمحے نبوکدنضر پر یہ بات پوری ہوئی۔ اُسے اِنسانوں میں سے نکال دیا گیا اور وہ بیلوں کی طرح گھاس کھانے لگا۔ اُس کا جسم آسمان کی اوس سے بھیگتا رہا؛ اُس کے بال عقابوں کے پَروں کی طرح لمبے ہو گئے اور اُس کے ناخن پرندوں کے پنجوں کی طرح ہو گئے۔‏

34 ‏”‏جب وہ وقت ختم ہو گیا تو مَیں نے یعنی نبوکدنضر نے آسمان کی طرف دیکھا اور میری سمجھ‌بُوجھ مجھ میں لوٹ آئی۔ مَیں نے خدا تعالیٰ کی بڑائی کی، ہاں، اُس کی بڑائی اور تعظیم کی جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ اُس کی حکمرانی ہمیشہ اور اُس کی بادشاہت نسل‌درنسل قائم رہتی ہے۔ 35 زمین کے سب باشندے اُس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ وہ آسمان کے فرشتوں*‏ اور زمین کے باشندوں کے ساتھ وہی کرتا ہے جو اُس کی مرضی ہوتی ہے۔ نہ تو کوئی اُسے*‏ روک سکتا ہے اور نہ ہی اُس سے کہہ سکتا ہے:‏ ”‏یہ تُو نے کیا کِیا ہے؟“‏

36 اُس وقت میری سمجھ‌بُوجھ لوٹ آئی اور میری بادشاہت کا وقار، میری عظمت اور میری شان‌وشوکت مجھے واپس مل گئی۔ میرے اعلیٰ عہدےدار اور نواب بڑے شوق سے میرے پاس آنے لگے۔ میری بادشاہت مجھے لوٹا دی گئی اور میری عظمت پہلے سے زیادہ بڑھا دی گئی۔‏

37 اب مَیں نبوکدنضر آسمان کے بادشاہ کی تعریف اور بڑائی اور ستائش کرتا ہوں کیونکہ اُس کے سب کام سچائی کے مطابق ہیں اور وہ اپنی راہوں میں اِنصاف سے کام لیتا ہے اور مغروروں کو شرمندہ کر سکتا ہے۔“‏

5 جب بیلشضر بادشاہ تھا تو اُس نے اپنے ایک ہزار نوابوں کے لیے ایک بہت بڑی دعوت رکھی اور اُن کے سامنے مے پینے لگا۔ 2 مے کے نشے میں بیلشضر نے حکم دیا کہ سونے اور چاندی کے وہ برتن لائے جائیں جو اُس کا باپ نبوکدنضر یروشلم میں موجود ہیکل سے لایا تھا تاکہ بادشاہ، اُس کے نواب، اُس کی حرمیں اور اُس کی دوسری بیویاں اُن میں مے پئیں۔ 3 پھر سونے کے وہ برتن لائے گئے جو یروشلم میں موجود خدا کے گھر کی ہیکل سے لائے گئے تھے اور بادشاہ، اُس کے نواب، اُس کی حرمیں اور اُس کی دوسری بیویاں اُن میں مے پینے لگے۔ 4 اُنہوں نے مے پی اور سونے، چاندی، تانبے، لوہے، لکڑی اور پتھر کے خداؤں کی بڑائی کی۔‏

5 اُسی لمحے ایک آدمی کے ہاتھ کی اُنگلیاں نظر آئیں اور شمع‌دان کے پاس بادشاہ کے محل کی دیوار پر ہوئے پلستر پر کچھ لکھنے لگیں۔ جب وہ ہاتھ لکھ رہا تھا تو بادشاہ اُس ہاتھ کا پچھلا حصہ دیکھ سکتا تھا۔ 6 اِس پر بادشاہ کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ اِس کے بارے میں سوچ کر بہت ڈر گیا۔ اُس کے کُولھوں کے جوڑ ہلنے لگے اور اُس کے گُھٹنے آپس میں ٹکرانے لگے۔‏

7 بادشاہ نے اُونچی آواز میں حکم دیا کہ عاملوں، کسدیوں*‏ اور نجومیوں کو بُلایا جائے۔ بادشاہ نے بابل کے دانش‌وروں سے کہا:‏ ”‏جو بھی شخص اِن الفاظ کو پڑھے گا اور مجھے اِن کا مطلب بتائے گا، اُسے جامنی لباس پہنایا جائے گا؛ اُس کے گلے میں سونے کا ہار پہنایا جائے گا اور وہ بادشاہت میں تیسرا بڑا حکمران ہوگا۔“‏

8 تب بادشاہ کے سب دانش‌ور آئے۔ لیکن وہ نہ تو اُن الفاظ کو پڑھ سکے اور نہ بادشاہ کو اُن کا مطلب بتا سکے۔ 9 اِس لیے بادشاہ بیلشضر بہت خوف‌زدہ ہو گیا اور اُس کا چہرہ پیلا پڑ گیا اور اُس کے نواب اُلجھن میں پڑ گئے۔‏

10 بادشاہ اور اُس کے نوابوں کی باتوں کی وجہ سے ملکہ*‏ اُس جگہ آئی جہاں دعوت ہو رہی تھی۔ ملکہ نے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ آپ ہمیشہ جیتے رہیں۔ آپ کا چہرہ پیلا کیوں پڑ رہا ہے؟ خوف‌زدہ نہ ہوں۔ 11 آپ کی بادشاہت میں ایک آدمی*‏ ہے جس میں مُقدس خداؤں کی روح ہے۔ آپ کے والد کے دَور میں دیکھا گیا تھا کہ اُس کے پاس علم،‏*‏ گہری سمجھ اور خداؤں جیسی دانش‌مندی ہے۔ آپ کے والد بادشاہ نبوکدنضر نے اُسے جادوٹونا کرنے والے پجاریوں، عاملوں، کسدیوں*‏ اور نجومیوں کا سربراہ مقرر کِیا تھا۔ بادشاہ سلامت!‏ آپ کے والد نے ایسا کِیا تھا۔ 12 دانی‌ایل کے پاس جس کا نام بادشاہ نے بیلطشضر رکھا تھا، غیرمعمولی ذہانت*‏ اور علم اور گہری سمجھ تھی جس کی بِنا پر وہ خوابوں کا مطلب بتا سکتا تھا، پہیلیاں سلجھا سکتا تھا اور پیچیدہ مسئلے حل کر سکتا تھا۔‏*‏ اب دانی‌ایل کو بُلائیں اور وہ آپ کو اِن الفاظ کا مطلب بتائے گا۔“‏

13 تب دانی‌ایل کو بادشاہ کے سامنے لایا گیا۔ بادشاہ نے دانی‌ایل سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم دانی‌ایل ہو؟کیا تُم اُن لوگوں میں سے ہو جنہیں بادشاہ یعنی میرے والد یہوداہ سے قیدی بنا کر لائے تھے؟ 14 مَیں نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تُم میں خداؤں کی روح ہے اور دیکھا گیا ہے کہ تمہارے پاس علم،‏*‏ گہری سمجھ اور غیرمعمولی دانش‌مندی ہے۔ 15 دانش‌وروں اور عاملوں کو میرے سامنے لایا گیا تاکہ وہ اِن الفاظ کو پڑھیں اور مجھے اِن کا مطلب بتائیں۔ لیکن وہ مجھے اِس پیغام کا مطلب نہیں بتا پا رہے ہیں۔ 16 مگر مَیں نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تُم خوابوں کا مطلب بتا سکتے ہو اور پیچیدہ مسئلے حل کر سکتے ہو۔‏*‏ اب اگر تُم نے یہ الفاظ پڑھ لیے اور مجھے اِن کا مطلب بتا دیا تو تمہیں جامنی لباس پہنایا جائے گا؛ تمہارے گلے میں سونے کا ہار پہنایا جائے گا اور تُم بادشاہت میں تیسرے بڑے حکمران ہو گے۔“‏

17 دانی‌ایل نے بادشاہ کو جواب دیا:‏ ”‏مجھے آپ کے تحفوں کی ضرورت نہیں ہے؛ آپ یہ تحفے کسی اَور کو دے دیجیے۔ لیکن مَیں بادشاہ کے سامنے یہ الفاظ پڑھوں گا اور اُنہیں اِن کا مطلب بتاؤں گا۔ 18 بادشاہ سلامت!‏ خدا تعالیٰ نے آپ کے والد نبوکدنضر کو بادشاہت اور عظمت اور عزت اور شان‌وشوکت عطا کی۔ 19 خدا نے اُنہیں جو عظمت عطا کی، اُس کی وجہ سے سب قومیں، اُمتیں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے لوگ اُن کے سامنے خوف کے مارے کانپتے تھے۔ وہ جسے چاہتے تھے، مار ڈالتے تھے اور جسے چاہتے تھے، زندہ رکھتے تھے؛ جسے چاہتے تھے، عزت دیتے تھے اور جسے چاہتے تھے، ذِلت دیتے تھے۔ 20 لیکن جب اُن کے دل میں غرور سما گیا اور وہ ڈھیٹھ بن گئے اور گستاخی*‏ کرنے لگے تو اُنہیں شاہی تخت سے نیچے اُتار دیا گیا اور اُن کا وقار اُن سے چھین لیا گیا۔ 21 اُنہیں اِنسانوں کے بیچ میں سے نکال دیا گیا اور اُن کا دل حیوان کے دل جیسا بنا دیا گیا اور وہ جنگلی گدھوں کے ساتھ رہنے لگے۔ وہ بیلوں کی طرح گھاس کھاتے تھے اور اُن کا جسم آسمان کی اوس سے بھیگتا تھا۔ ایسا تب تک ہوتا رہا جب تک وہ جان نہیں گئے کہ خدا تعالیٰ اِنسانوں کی بادشاہت کا حکمران ہے اور وہ جسے چاہتا ہے، اُسے اِس پر حکمرانی کرنے کا اِختیار عطا کرتا ہے۔‏

22 لیکن اُن کے بیٹے بیلشضر!‏ آپ نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خود کو خاکسار نہیں بنایا ہے۔ 23 اِس کی بجائے آپ آسمان کے مالک کے سامنے خود کو بڑا سمجھنے لگے اور آپ نے اُس کے گھر کے برتن منگوا لیے۔ پھر آپ، آپ کے نواب، آپ کی حرمیں اور آپ کی دوسری بیویاں اُن میں مے پینے لگے اور چاندی، سونے، تانبے، لوہے، لکڑی اور پتھر کے خداؤں کی بڑائی کرنے لگے، ہاں، ایسے خداؤں کی جو نہ تو کچھ دیکھتے ہیں اور نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ کچھ جانتے ہیں۔ لیکن آپ نے اُس خدا کی ستائش نہیں کی جس کے ہاتھ میں آپ کا دم اور آپ کی سب راہیں ہیں۔ 24 اِس لیے اُس نے ایک ہاتھ بھیجا اور کچھ الفاظ لکھے گئے۔ 25 جو الفاظ لکھے گئے، وہ یہ ہیں:‏ مِنے، مِنے، تقیل اور فرسین۔‏

26 اِن لفظوں کا مطلب یہ ہے:‏ ”‏مِنے“‏ یعنی خدا نے آپ کی بادشاہت کے دن گنے ہیں اور اِسے ختم کر دیا ہے۔‏

27 ‏”‏تقیل“‏ یعنی آپ کو ترازو میں تولا گیا ہے اور آپ میں کمی پائی گئی ہے۔‏

28 ‏”‏فِرِس“‏ یعنی آپ کی بادشاہت کو تقسیم کر دیا گیا ہے اور مادیوں اور فارسیوں کو دے دیا گیا ہے۔“‏

29 پھر بیلشضر کے حکم پر دانی‌ایل کو جامنی لباس پہنایا گیا، اُن کے گلے میں سونے کا ہار پہنایا گیا اور اُن کے بارے میں یہ اِعلان کِیا گیا کہ وہ بادشاہت میں تیسرے بڑے حکمران ہوں گے۔‏

30 اُسی رات کسدی بادشاہ بیلشضر کو مار ڈالا گیا۔ 31 اور بادشاہت دارا مادی کو مل گئی جس کی عمر تقریباً 62 سال تھی۔‏

6 دارا کو مناسب لگا کہ وہ اپنی پوری بادشاہت میں 120 وزیر مقرر کرے۔ 2 وہ وزیر تین اعلیٰ عہدےداروں کے تحت کام کرتے تھے جن میں سے ایک دانی‌ایل تھے اور وزیر اُنہیں سارے معاملوں کی خبر دیتے تھے تاکہ بادشاہ کو کسی قسم کا نقصان نہ اُٹھانا پڑے۔ 3 دانی‌ایل نے ثابت کِیا کہ وہ دوسرے اعلیٰ عہدےداروں اور وزیروں سے بہتر ہیں کیونکہ اُن میں غیرمعمولی ذہانت*‏ تھی۔ بادشاہ کا اِرادہ تھا کہ وہ دانی‌ایل کو پوری بادشاہت میں اَور زیادہ اِختیار دے۔‏

4 اُس وقت اعلیٰ عہدےدار اور وزیر حکومتی معاملوں کے حوالے سے دانی‌ایل پر اِلزام لگانے کی کوئی وجہ ڈھونڈ رہے تھے۔ لیکن اُنہیں نہ تو دانی‌ایل پر اِلزام لگانے کی کوئی وجہ ملی اور نہ ہی دانی‌ایل کسی لحاظ سے بددیانتی کرتے پائے گئے کیونکہ وہ قابلِ‌بھروسا تھے اور کسی قسم کی لاپروائی یا بددیانتی نہیں کرتے تھے۔ 5 تب اُن آدمیوں نے کہا:‏ ”‏ہمیں اِس دانی‌ایل پر اِلزام لگانے کی کوئی وجہ نہیں ملنے والی۔ ہمیں اُس کے خلاف کچھ ایسا ڈھونڈنا ہوگا جس کا تعلق اُس کے خدا کی شریعت سے ہو۔“‏

6 اِس لیے وہ اعلیٰ عہدےدار اور وزیر مل کر بادشاہ کے پاس گئے اور اُس سے کہا:‏ ”‏بادشاہ دارا!‏ آپ ہمیشہ جیتے رہیں۔ 7 بادشاہ سلامت!‏ سب شاہی عہدےداروں، منتظموں، اعلیٰ شاہی افسروں اور ناظموں نے آپس میں مشورہ کِیا ہے کہ ایک شاہی قانون جاری کر کے لوگوں پر یہ پابندی لگائی جائے کہ جو بھی شخص 30 دن تک آپ کے سوا کسی خدا یا اِنسان سے اِلتجا کرے، اُسے شیروں کے گڑھے میں پھینک دیا جائے۔ 8 بادشاہ سلامت!‏ اب مہربانی سے یہ قانون جاری کریں اور اِس پر دستخط کریں تاکہ اِسے بدلا نہ جا سکے کیونکہ مادیوں اور فارسیوں کے قانون کو ختم نہیں کِیا جا سکتا۔“‏

9 تب بادشاہ دارا نے پابندی کے قانون پر دستخط کر دیے۔‏

10 لیکن جیسے ہی دانی‌ایل کو پتہ چلا کہ اُس قانون پر دستخط ہو گئے ہیں، وہ اپنے گھر گئے۔ اُن کے گھر کی چھت پر موجود کمرے کی کھڑکیاں یروشلم کی طرف کھلتی تھیں۔ وہ پہلے کی طرح باقاعدگی سے دن میں تین بار گُھٹنے ٹیک کر دُعا کرتے رہے اور اپنے خدا کی بڑائی کرتے رہے۔ 11 اُس وقت وہ آدمی اچانک دانی‌ایل کے گھر میں گُھس آئے اور اُنہیں اپنے خدا کے حضور اِلتجا اور مہربانی کی فریاد کرتے دیکھا۔‏

12 تب وہ بادشاہ کے پاس گئے اور اُسے پابندی کے حوالے سے شاہی قانون یاد دِلاتے ہوئے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ کیا آپ نے پابندی کے اِس قانون پر دستخط نہیں کیے تھے کہ جو بھی شخص 30 دن تک آپ کے سوا کسی خدا یا اِنسان سے اِلتجا کرے، اُسے شیروں کے گڑھے میں پھینک دیا جائے؟“‏ بادشاہ نے جواب دیا:‏ ”‏مادیوں اور فارسیوں کے قانون کے مطابق یہ حکم قائم ہے اور اِسے ختم نہیں کِیا جا سکتا۔“‏ 13 اُنہوں نے فوراً بادشاہ سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ دانی‌ایل نے جو کہ اُن لوگوں میں سے ہے جنہیں یہوداہ سے قیدی بنا کر لایا گیا تھا، نہ تو آپ کے لیے اور نہ ہی پابندی کے اُس قانون کے لیے کوئی احترام دِکھایا ہے جس پر آپ نے دستخط کیے تھے بلکہ وہ دن میں تین بار دُعا کرتا ہے۔“‏ 14 جیسے ہی بادشاہ نے یہ سنا، وہ بہت پریشان ہو گیا اور دانی‌ایل کو بچانے کا کوئی طریقہ سوچنے لگا۔ وہ سورج ڈوبنے تک دانی‌ایل کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔ 15 آخرکار وہ آدمی اِکٹھے ہو کر بادشاہ کے پاس گئے اور اُس سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ یاد رکھیں کہ مادیوں اور فارسیوں کا قانون ہے کہ جب بادشاہ پابندی کا قانون یا کوئی اَور قانون جاری کرتا ہے تو اُسے بدلا نہیں جا سکتا۔“‏

16 پھر بادشاہ کے حکم پر دانی‌ایل کو لایا گیا اور شیروں کے گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ بادشاہ نے دانی‌ایل سے کہا:‏ ”‏تمہارا خدا جس کی تُم باقاعدگی سے عبادت کرتے ہو، تمہیں بچائے گا۔“‏ 17 تب ایک پتھر لایا گیا اور گڑھے کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اور بادشاہ نے اُس پر اپنی مُہر والی انگوٹھی اور نوابوں کی مُہر والی انگوٹھی سے مُہر لگا دی تاکہ دانی‌ایل کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کو بدلا نہ جا سکے۔‏

18 تب بادشاہ اپنے محل میں چلا گیا۔ اُس نے ساری رات کچھ نہیں کھایا اور اپنے لیے کوئی بھی محفل سجانے سے منع کر دیا۔‏*‏ اُس رات اُس کی نیند اُڑ گئی۔ 19 آخر بادشاہ صبح کی پہلی کِرن کے ساتھ اُٹھا اور جلدی جلدی شیروں کے گڑھے کے پاس گیا۔ 20 جب وہ گڑھے کے پاس پہنچا تو اُس نے دُکھ بھری آواز میں دانی‌ایل کو پکارا اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏زندہ خدا کے بندے دانی‌ایل!‏ کیا تمہارا خدا جس کی تُم باقاعدگی سے عبادت کرتے ہو، تمہیں شیروں سے بچا پایا ہے؟“‏ 21 دانی‌ایل نے فوراً بادشاہ سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ آپ ہمیشہ جیتے رہیں۔ 22 میرے خدا نے اپنا فرشتہ بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دیے۔ اُنہوں نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے کیونکہ مَیں خدا کے حضور بے‌قصور ہوں اور بادشاہ سلامت!‏ مَیں نے آپ کے خلاف بھی کچھ نہیں کِیا ہے۔“‏

23 بادشاہ بے‌حد خوش ہوا اور اُس نے حکم دیا کہ دانی‌ایل کو اُوپر کھینچ کر گڑھے سے باہر نکالا جائے۔ جب دانی‌ایل کو گڑھے سے اُوپر کھینچ لیا گیا تو وہ بالکل صحیح سلامت تھے کیونکہ اُنہوں نے اپنے خدا پر بھروسا رکھا تھا۔‏

24 پھر بادشاہ کے حکم پر اُن آدمیوں کو لایا گیا جنہوں نے دانی‌ایل پر اِلزام لگایا تھا*‏ اور اُنہیں اُن کے بیٹوں اور بیویوں سمیت شیروں کے گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ وہ ابھی گڑھے کی تہہ تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ شیر اُن پر جھپٹ پڑے اور اُن کی ساری ہڈیاں توڑ دیں۔‏

25 تب بادشاہ دارا نے پوری زمین پر رہنے والی قوموں، اُمتوں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے گروہوں کے نام یہ پیغام لکھ کر بھیجا:‏ ”‏تمہاری سلامتی بڑھتی رہے!‏ 26 مَیں یہ حکم جاری کر رہا ہوں کہ میری بادشاہت کے ہر علاقے میں لوگ دانی‌ایل کے خدا کا خوف رکھیں اور اُس کا احترام کریں کیونکہ وہ زندہ خدا ہے اور اُس کا وجود ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اُس کی بادشاہت کو کبھی تباہ نہیں کِیا جائے گا اور اُس کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہے گی۔ 27 وہ چھڑاتا ہے، بچاتا ہے اور آسمان اور زمین پر نشانیاں اور معجزے دِکھاتا ہے۔ اُسی نے دانی‌ایل کو شیروں کے پنجے سے چھڑایا ہے۔“‏

28 لہٰذا دانی‌ایل دارا کی بادشاہت میں اور خورس فارسی کی بادشاہت میں کامیاب رہے۔‏

7 بابل کے بادشاہ بیلشضر کی حکمرانی کے پہلے سال میں دانی‌ایل نے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ایک خواب اور رُویات دیکھیں۔ پھر اُنہوں نے اپنا خواب لکھا۔ اُنہوں نے اِس حوالے سے ساری تفصیل لکھی۔ 2 دانی‌ایل نے کہا:‏

‏”‏جب مَیں رات کو رُویات دیکھ رہا تھا تو دیکھو!‏ آسمان کی چاروں ہوائیں بڑے سمندر میں ہلچل مچا رہی تھیں۔ 3 اور سمندر میں سے چار بڑے درندے نکلے؛ ہر درندہ دوسرے درندوں سے فرق تھا۔‏

4 پہلا درندہ شیر جیسا تھا اور اُس کے عقاب جیسے پَر تھے۔ میرے دیکھتے دیکھتے اُس کے پَر اُکھاڑ دیے گئے۔ اُسے زمین سے اُٹھا کر آدمی کی طرح دو پاؤں پر کھڑا کِیا گیا اور اُسے اِنسان کا دل دیا گیا۔‏

5 اور دیکھو!‏ دوسرا درندہ ریچھ جیسا تھا۔ وہ ایک طرف سے اُوپر اُٹھا ہوا تھا اور اُس کے مُنہ میں دانتوں کے بیچ تین پسلیاں تھیں۔ اُس سے کہا گیا:‏ ”‏اُٹھو، ڈھیر سارا گوشت کھاؤ۔“‏

6 مَیں دیکھتا رہا اور دیکھو!‏ ایک اَور درندہ نظر آیا جو تیندوے جیسا تھا۔ لیکن اُس کی پیٹھ پر پرندے جیسے چار پَر تھے۔ اُس کے چار سر تھے اور اُسے حکمرانی کرنے کا اِختیار دیا گیا۔‏

7 اِس کے بعد مَیں دیکھتا رہا اور مَیں نے رات کو رُویات میں ایک چوتھا درندہ دیکھا جو بہت خوف‌ناک اور بھیانک اور اِنتہائی طاقت‌ور تھا اور اُس کے بڑے بڑے لوہے کے دانت تھے۔ وہ سب کچھ پھاڑ کھاتا تھا اور چکناچُور کر دیتا تھا اور جو کچھ بچ جاتا تھا، اُسے پیروں تلے روند دیتا تھا۔ وہ اُن سب درندوں سے فرق تھا جو اُس سے پہلے آئے تھے اور اُس کے دس سینگ تھے۔ 8 مَیں ابھی سینگوں پر غور کر ہی رہا تھا کہ دیکھو!‏ اُن کے بیچ ایک اَور چھوٹا سینگ نکلا اور پہلے والے سینگوں میں سے تین سینگ اُس کے سامنے سے اُکھاڑ دیے گئے۔ اور دیکھو!‏ اُس سینگ میں اِنسانوں کی آنکھوں جیسی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو گھمنڈ بھری باتیں کر رہا تھا۔‏

9 میرے دیکھتے دیکھتے تخت لگائے گئے اور قدیم دنوں سے موجود ہستی بیٹھ گئی۔ اُس کا لباس برف کی طرح سفید تھا اور اُس کے سر کے بال خالص اُون کی طرح تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شعلوں کی طرح تھا جس کے پہیے جلتی آگ جیسے تھے 10 اور اُس کے سامنے سے آگ کی ندی نکل کر بہہ رہی تھی۔ دس لاکھ*‏ اُس کی خدمت کرتے رہتے تھے اور دس کروڑ*‏ اُس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت بیٹھ گئی اور کتابیں کھولی گئیں۔‏

11 تب مَیں دیکھتا رہا کیونکہ اُس سینگ کی گھمنڈ بھری باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ میرے دیکھتے دیکھتے اُس درندے کو مار ڈالا گیا اور اُس کے جسم کو آگ میں جلا کر تباہ کر دیا گیا۔ 12 لیکن جہاں تک باقی درندوں کی بات ہے، اُن سے حکمرانی لے لی گئی اور ایک وقت اور ایک زمانے کے لیے اُن کی زندگی بڑھا دی گئی۔‏

13 مَیں رات کو رُویات دیکھتا رہا اور دیکھو!‏ آسمان کے بادلوں کے ساتھ اِنسان کے بیٹے جیسا کوئی آ رہا تھا۔ اُسے قدیم دنوں سے موجود ہستی کے پاس آنے کی اِجازت دی گئی اور اُسے اُس ہستی کے حضور لایا گیا۔ 14 اُسے حکمرانی، عزت اور ایک بادشاہت دی گئی تاکہ قومیں، اُمتیں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے لوگ اُس کی خدمت کریں۔ اُس کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہے گی اور کبھی ختم نہیں ہوگی اور اُس کی بادشاہت کبھی تباہ نہیں ہوگی۔‏

15 مَیں یعنی دانی‌ایل*‏ بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اِن رُویات نے مجھے خوف‌زدہ کر دیا۔ 16 جو وہاں کھڑے تھے، مَیں اُن میں سے ایک کے پاس گیا تاکہ اُس سے اِس سب کا صحیح مطلب پوچھوں۔ اُس نے مجھے جواب دیا اور اِن سب باتوں کا مطلب بتایا۔‏

17 ‏”‏یہ چار بڑے درندے چار بادشاہ ہیں جو زمین سے اُٹھیں گے۔ 18 لیکن اعلیٰ‌ترین ہستی کے مُقدس خادموں کو بادشاہت ملے گی اور یہ بادشاہت ہمیشہ، ہاں، ہمیشہ ہمیشہ تک اُن کی ہوگی۔“‏

19 مَیں چوتھے درندے کے بارے میں اَور جاننا چاہتا تھا جو باقی سب درندوں سے فرق تھا۔ وہ اِنتہائی خوف‌ناک تھا اور اُس کے لوہے کے دانت اور تانبے کے پنجے تھے۔ وہ سب کچھ پھاڑ کھاتا تھا اور چکناچُور کر دیتا تھا اور جو کچھ بچ جاتا تھا، اُسے پیروں تلے روند دیتا تھا۔ 20 مَیں اُس کے سر پر موجود دس سینگوں کے بارے میں بھی اَور جاننا چاہتا تھا اور اُس سینگ کے بارے میں بھی جس کے سامنے سے تین سینگ گِر گئے تھے۔ اُس سینگ کی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو گھمنڈ بھری باتیں کر رہا تھا۔ وہ سینگ دِکھنے میں باقی سینگوں سے بڑا تھا۔‏

21 میرے دیکھتے دیکھتے اُس سینگ نے مُقدس خادموں کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور تب تک اُن پر غالب آتا رہا 22 جب تک کہ قدیم دنوں سے موجود ہستی نہیں آئی اور اعلیٰ‌ترین ہستی کے مُقدس خادموں کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا گیا اور وہ مقررہ وقت نہیں آ گیا جب مُقدس خادموں کو بادشاہت ملے۔‏

23 اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جہاں تک چوتھے درندے کی بات ہے تو وہ چوتھی بادشاہت ہے جو زمین پر آئے گی۔ وہ باقی سب بادشاہتوں سے فرق ہوگی۔ وہ پوری زمین کو پھاڑ کھائے گی اور روند دے گی اور چکناچُور کر دے گی۔ 24 جہاں تک دس سینگوں کی بات ہے تو وہ دس بادشاہ ہیں جو اُس بادشاہت سے نکلیں گے۔ اُن کے بعد ایک اَور بادشاہ آئے گا جو پہلے بادشاہوں سے فرق ہوگا اور وہ تین بادشاہوں کو بے‌عزت کرے گا۔ 25 وہ خدا تعالیٰ کے خلاف باتیں کرے گا اور اعلیٰ‌ترین ہستی کے مُقدس خادموں کو اذیت پہنچاتا رہے گا۔ وہ وقتوں اور قانون کو بدلنا چاہے گا اور اُن لوگوں کو ایک وقت، وقتوں اور آدھے وقت*‏ کے لیے اُس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 26 لیکن عدالت بیٹھ گئی اور اُس سے حکمرانی لے لی گئی تاکہ اُسے مٹا دیا جائے اور مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔‏

27 اور بادشاہت اور حکمرانی اور سارے آسمان کے نیچے بادشاہتوں کی شان‌وشوکت اعلیٰ‌ترین ہستی کے مُقدس خادموں کو دی گئی۔ اُن کی بادشاہت ہمیشہ تک قائم رہے گی اور ساری حکومتیں اُن کی خدمت اور فرمانبرداری کریں گی۔“‏

28 یہ ساری تفصیل یہاں ختم ہوتی ہے۔ مَیں دانی‌ایل اِس سب کے بارے میں سوچ کر اِتنا پریشان ہو گیا کہ میرا رنگ پیلا پڑ گیا۔ لیکن مَیں نے یہ باتیں اپنے دل میں ہی رکھیں۔“‏

8 اُس رُویا کے بعد جو مجھے پہلے دِکھائی گئی تھی، بادشاہ بیلشضر کی حکمرانی کے تیسرے سال میں مجھے یعنی دانی‌ایل کو ایک اَور رُویا دِکھائی گئی۔ 2 مَیں نے رُویا دیکھی اور رُویا دیکھتے ہوئے مَیں سُوسن*‏ کے قلعے*‏ میں تھا جو صوبہ*‏ عِیلام میں ہے۔ مَیں دریائے‌اُولائی*‏ کے پاس تھا۔ 3 مَیں نے نظریں اُٹھا کر دیکھا اور دیکھو!‏ دریا کے سامنے ایک مینڈھا کھڑا تھا جس کے دو سینگ تھے۔ دونوں سینگ لمبے تھے لیکن ایک سینگ دوسرے سینگ سے زیادہ لمبا تھا اور لمبا والا سینگ بعد میں نکلا تھا۔ 4 مَیں نے مینڈھے کو مغرب، شمال اور جنوب کی طرف ٹکریں مارتے دیکھا۔ کوئی بھی وحشی درندہ اُس کے سامنے ٹک نہیں پایا اور اُنہیں اُس کے ہاتھ سے چھڑانے والا کوئی نہیں تھا۔ اُس نے جو چاہا، کِیا اور خود کو بڑا بنایا۔‏

5 مَیں دیکھ رہا تھا اور دیکھو!‏ مغرب سے ایک بکرا آ رہا تھا جو زمین کی سطح کو چُھوئے بغیر پوری زمین سے گزرتے ہوئے آ رہا تھا۔ اُس بکرے کی آنکھوں کے بیچ میں ایک نمایاں سینگ تھا۔ 6 وہ اُس مینڈھے کی طرف آ رہا تھا جس کے دو سینگ تھے اور جسے مَیں نے دریا کے سامنے کھڑے دیکھا تھا۔ وہ شدید طیش میں دوڑتے ہوئے اُس کی طرف آ رہا تھا۔‏

7 مَیں نے اُسے مینڈھے کے قریب آتے دیکھا اور اُس کے اندر مینڈھے کے لیے شدید تلخی بھری ہوئی تھی۔ اُس نے مینڈھے پر حملہ کِیا اور اُس کے دونوں سینگ توڑ دیے اور مینڈھے میں اُس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ اُس نے مینڈھے کو زمین پر پھینک دیا اور اُسے روند ڈالا۔ مینڈھے کو اُس کے ہاتھ سے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔‏

8 پھر بکرے نے خود کو اِنتہائی بڑا بنا لیا۔ لیکن جیسے ہی وہ طاقت‌ور بنا، اُس کا بڑا سینگ ٹوٹ گیا۔ پھر اُس ایک سینگ کی جگہ آسمان کی چار ہواؤں کی طرف چار نمایاں سینگ نکلے۔‏

9 اُن سینگوں میں سے ایک سینگ سے ایک چھوٹا سینگ نکلا جو جنوب، مشرق اور خوب‌صورت ملک*‏ کی طرف بڑھتے بڑھتے بہت بڑا ہو گیا۔ 10 وہ اِتنا بڑا ہو گیا کہ آسمان کی فوج تک پہنچ گیا اور اُس نے اُس فوج کے کچھ حصے اور کچھ ستارے زمین پر گِرا دیے اور اُنہیں روند ڈالا۔ 11 اُس نے تو فوج کے حاکم کے سامنے بھی خود کو بڑا بنایا اور اُس سے باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی لے لی اور اُس کے مُقدس مقام کے لیے قائم جگہ کو تباہ کر دیا۔ 12 گُناہ کی وجہ سے ایک فوج اور باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی اُس کے حوالے کر دی گئی اور وہ سچائی کو زمین پر پٹختا رہا اور اپنے ہر کام میں کامیاب ہوا۔‏

13 مَیں نے ایک مُقدس خادم کو بولتے ہوئے سنا اور ایک اَور مُقدس خادم اُس سے کہہ رہا تھا:‏ ”‏وہ رُویا کب تک چلے گی جو باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی کے بارے میں اور اُس گُناہ کے بارے میں ہے جس کی وجہ سے تباہی ہو رہی ہے اور مُقدس مقام اور فوج دونوں کو کب تک روندا جائے گا؟“‏ 14 اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جب تک کہ 2300 شامیں اور صبحیں گزر نہیں جاتیں۔ پھر مُقدس مقام کو پہلے کی طرح صحیح حالت میں ضرور لایا جائے گا۔“‏

15 جب مَیں یعنی دانی‌ایل رُویا دیکھ رہا تھا اور اِسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا تو اچانک مَیں نے دیکھا کہ میرے سامنے کوئی کھڑا ہے جو آدمی جیسا لگ رہا ہے۔ 16 پھر مَیں نے دریائے‌اُولائی کے بیچ سے ایک آدمی کی آواز سنی جس نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏جبرائیل!‏ اِس آدمی کو اُن باتوں کا مطلب سمجھائیں جو اِس نے دیکھی ہیں۔“‏ 17 تب وہ اُس جگہ کے قریب آیا جہاں مَیں کھڑا تھا۔ لیکن جب وہ آیا تو مَیں اِتنا ڈر گیا کہ مَیں مُنہ کے بل جھک گیا۔ اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اِنسان کے بیٹے!‏ جان لیں کہ یہ رُویا خاتمے کے وقت کے بارے میں ہے۔“‏ 18 مگر جب وہ مجھ سے بات کر رہا تھا تو مَیں زمین پر مُنہ کے بل گہری نیند سو گیا۔ اُس نے مجھے چُھوا اور مجھے اُس جگہ کھڑا کِیا جہاں مَیں پہلے کھڑا تھا۔ 19 پھر اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو بتانے لگا ہوں کہ غضب کے وقت کے آخری حصے میں کیا ہوگا کیونکہ یہ رُویا خاتمے کے مقررہ وقت کے بارے میں ہے۔‏

20 آپ نے دو سینگوں والا جو مینڈھا دیکھا، وہ مادی اور فارس کے بادشاہوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ 21 بالوں والا بکرا یونان کے بادشاہ کی طرف اِشارہ کرتا ہے اور اُس کی آنکھوں کے بیچ موجود بڑا سینگ پہلے بادشاہ کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ 22 جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ سینگ ٹوٹ گیا اور اُس کی جگہ چار نئے سینگ نکلے تو اِس کا مطلب ہے کہ اُس کی قوم سے چار بادشاہتیں کھڑی ہوں گی۔ لیکن اُن میں اُس جتنی طاقت نہیں ہوگی۔‏

23 اُن کی بادشاہت کے آخری دَور میں جب گُناہ‌گاروں کے گُناہ اِنتہا تک پہنچ جائیں گے تو ایک ظالم بادشاہ کھڑا ہوگا جو اُلجھا دینے والی باتوں کا مطلب سمجھتا ہوگا۔‏*‏ 24 اُس کی طاقت بہت بڑھ جائے گی لیکن اپنے دم پر نہیں۔ وہ غیرمعمولی طریقے سے تباہی*‏ مچائے گا اور اپنے ہر کام میں کامیاب ہوگا۔ وہ زورآوروں اور مُقدس خادموں کو بھی تباہ کر دے گا۔ 25 وہ کامیاب ہونے کے لیے مکاری سے دوسروں کو دھوکا دے گا۔ وہ اپنے دل میں خود کو بہت بڑا سمجھے گا اور امن کے دَور میں*‏ بہت سے لوگوں کو تباہ کر دے گا، یہاں تک کہ وہ حاکموں کے حاکم کے خلاف کھڑا ہو جائے گا لیکن اُسے اِنسانی عمل‌دخل کے بغیر توڑ دیا جائے گا۔‏

26 رُویا میں شاموں اور صبحوں کے بارے میں جو کچھ کہا گیا تھا، وہ سچ ہے۔ لیکن اِس رُویا کو راز رکھنا کیونکہ یہ ایک ایسے وقت کے بارے میں ہے جو آج سے بہت دن بعد آئے گا۔“‏

27 مَیں یعنی دانی‌ایل نڈھال ہو گیا اور کچھ دن تک بیمار رہا۔ پھر مَیں اُٹھا اور بادشاہ کا کام کرنے لگا۔ لیکن جو کچھ مَیں نے دیکھا تھا، اُس کی وجہ سے مَیں سُن تھا اور کوئی اُسے سمجھ نہیں سکتا تھا۔‏

9 یہ اخسویرس کے بیٹے دارا کی حکمرانی کے پہلے سال کی بات ہے جو مادیوں کی نسل سے تھا اور جسے کسدیوں کی بادشاہت کا بادشاہ بنایا گیا تھا۔ 2 اُس کی حکمرانی کے پہلے سال میں مَیں یعنی دانی‌ایل کتابوں*‏ کے ذریعے سمجھ گیا کہ یروشلم نے کتنے سال تک تباہ رہنا تھا۔ یہ 70 سال کا عرصہ تھا جیسے کہ یہوواہ نے یرمیاہ نبی سے کہا تھا۔ 3 تب مَیں نے سچے خدا یہوواہ کی طرف رُخ کِیا اور روزہ رکھ کر، ٹاٹ اوڑھ کر اور خود پر راکھ ڈال کر دُعا میں اِلتجا کرنے لگا۔ 4 مَیں نے اپنے خدا یہوواہ سے دُعا کی اور اپنی قوم کے گُناہوں کا اِقرار کِیا۔ مَیں نے کہا:‏

‏”‏اَے سچے خدا یہوواہ!‏ تُو عظیم ہے۔ تُو وہ ہستی ہے جس کا گہرا احترام کِیا*‏ جانا چاہیے۔ تُو ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور تیرے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ 5 ہم نے گُناہ کِیا، غلط کام کیے، بُرائی اور بغاوت کی اور تیرے حکموں اور قوانین کو ماننا چھوڑ دیا۔ 6 ہم نے تیرے خادموں یعنی نبیوں کی بات نہیں سنی جنہوں نے تیرے نام سے ہمارے بادشاہوں، ہمارے حاکموں، ہمارے باپ‌دادا اور ملک کے سب لوگوں سے بات کی۔ 7 اَے یہوواہ!‏ تُو نیک ہے۔ لیکن ہمارے چہروں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی شرمندگی چھائی ہے۔ یہوداہ کے لوگوں، یروشلم کے باشندوں اور سارے اِسرائیل کے لوگوں کا دُور اور نزدیک کے سب ملکوں میں یہی حال ہے جہاں تُو نے اُنہیں تتربتر کر دیا تھا کیونکہ اُنہوں نے تیرے ساتھ بے‌وفائی کی تھی۔‏

8 اَے یہوواہ!‏ ہم، ہمارے بادشاہ، ہمارے حاکم اور ہمارے باپ‌دادا اِسی لائق ہیں کہ ہمارے چہروں پر شرمندگی چھائی رہے کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔ 9 ہمارا خدا یہوواہ رحیم اور معاف کرنے والا ہے۔ ہم نے اُس کے خلاف بغاوت کی ہے۔ 10 ہم نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی اور اُس کے حکموں پر عمل نہیں کِیا جو اُس نے ہمیں اپنے بندوں یعنی نبیوں کے ذریعے دیے۔ 11 سارے اِسرائیل نے تیری شریعت کی خلاف‌ورزی کی ہے اور تیری بات نہ مان کر تجھ سے مُنہ موڑ لیا ہے۔ اِس لیے تُو نے ہم پر وہ لعنت نازل کی جس کی تُو نے قسم کھائی تھی اور جس کے بارے میں سچے خدا کے بندے موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔ 12 اُس نے ہم پر بڑی آفت لا کر اپنی وہ بات پوری کی جو اُس نے ہمارے خلاف اور ہم پر حکمرانی کرنے والے حکمرانوں*‏ کے خلاف کہی تھی۔ جیسا یروشلم میں ہوا ویسا پورے آسمان کے نیچے کبھی کہیں نہیں ہوا۔ 13 جیسے موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے، ہم پر یہ ساری آفت آئی ہے۔ لیکن ہم نے اپنے خدا یہوواہ سے رحم کی بھیک نہیں مانگی کیونکہ ہم نے گُناہ کرنے نہیں چھوڑے اور یہ ظاہر نہیں کِیا کہ ہم تیری سچائی*‏ کی گہری سمجھ رکھتے ہیں۔‏

14 اِس لیے یہوواہ ہمارے کاموں کو دیکھتا رہا اور ہم پر آفت لایا کیونکہ ہمارے خدا یہوواہ نے جو کچھ بھی کِیا ہے، اُس میں وہ صحیح*‏ ہے۔ پھر بھی ہم نے اُس کی بات نہیں مانی ہے۔‏

15 اَے یہوواہ ہمارے خدا!‏ تُو طاقت‌ور ہاتھ سے اپنے بندوں کو ملک مصر سے نکال لایا اور تُو نے اپنا نام ایسا مشہور کِیا کہ اِس کی شہرت آج تک قائم ہے۔ ہم نے گُناہ کِیا ہے اور بُرے کام کیے ہیں۔ 16 اَے یہوواہ!‏ مہربانی سے اپنے سب نیک کاموں کی بِنا پر اپنے شہر یروشلم، ہاں، اپنے مُقدس پہاڑ سے اپنا غصہ اور غضب دُور کر دے کیونکہ ہمارے گُناہوں اور ہمارے باپ‌دادا کی غلطیوں کی وجہ سے یروشلم اور تیرے بندے اپنے اِردگِرد کے سب لوگوں کے لیے رُسوائی کی علامت ہیں۔ 17 اب اَے ہمارے خدا!‏ اپنے بندے کی دُعا اور اِلتجائیں سُن۔ اور اَے یہوواہ!‏ اپنے نام کی خاطر اپنے مُقدس مقام پر جو ویران پڑا ہے، اپنے چہرے کا نور چمکا۔ 18 اَے میرے خدا!‏ میری اِلتجا پر توجہ فرما اور میری سُن۔ اپنی آنکھیں کھول اور ہماری بدحالی اور اُس شہر کو دیکھ جو تیرے نام سے کہلاتا ہے کیونکہ ہم اپنے نیک کاموں کی بِنا پر نہیں بلکہ تیرے عظیم رحم کی بِنا پر تجھ سے اِلتجائیں کر رہے ہیں۔ 19 اَے یہوواہ!‏ ہماری سُن لے۔ اَے یہوواہ!‏ ہمیں معاف کر دے۔ اَے یہوواہ!‏ توجہ فرما اور کارروائی کر۔ اَے میرے خدا!‏ اپنے نام کی خاطر دیر نہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے بندے تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔“‏

20 جب مَیں بول رہا تھا اور دُعا کر رہا تھا اور اپنے گُناہ اور اپنی قوم اِسرائیل کے گُناہ کا اِقرار کر رہا تھا اور اپنے خدا یہوواہ کے حضور اپنے خدا کے مُقدس پہاڑ کے بارے میں مہربانی کی درخواست کر رہا تھا، 21 ہاں، جب مَیں دُعا میں بات کر ہی رہا تھا تو جبرائیل یعنی وہ آدمی جنہیں مَیں نے پہلے رُویا میں دیکھا تھا، میرے پاس آئے۔ یہ تقریباً شام کے نذرانے کا وقت تھا اور اُس وقت مَیں اِنتہائی نڈھال تھا۔ 22 اُنہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا:‏

‏”‏دانی‌ایل!‏ مَیں آپ کو گہری باتوں کی سمجھ دینے آیا ہوں۔ 23 جب آپ نے اِلتجا کرنی شروع کی تو مجھے ایک پیغام ملا اور مَیں آپ کو وہ پیغام سنانے آیا ہوں کیونکہ آپ بہت انمول ہیں۔‏*‏ اِس لیے اِس معاملے پر غور کریں اور اِس رُویا کو سمجھیں۔‏

24 آپ کی قوم اور آپ کے مُقدس شہر کے لیے 70 ہفتے*‏ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ بُرے کاموں کو مٹایا جائے، گُناہ کو ختم کِیا جائے، خطا کا کفارہ ادا کِیا جائے، ابدی نیکی قائم کی جائے، رُویا اور پیش‌گوئی*‏ پر مُہر لگائی جائے اور مُقدس‌ترین جگہ کو مسح*‏ کِیا جائے۔ 25 اور جان لیں اور سمجھ لیں کہ یروشلم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہونے سے مسیح،‏*‏ ہاں، رہنما تک7 ہفتے اور 62 ہفتے گزریں گے۔ یروشلم کو ایک چوک اور خندق*‏ سمیت بحال کِیا جائے گا اور دوبارہ تعمیر کِیا جائے گا لیکن مصیبت کے وقت میں۔‏

26 اور 62 ہفتوں کے بعد مسیح کو مار*‏ ڈالا جائے گا اور اُس کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔‏

ایک رہنما آ رہا ہے جس کے لوگ شہر اور مُقدس جگہ کو تباہ کر دیں گے۔ اُس کا خاتمہ سیلاب سے ہوگا اور آخر تک جنگ چلتی رہے گی۔ تباہی کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔‏

27 اور وہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک ہفتے تک عہد قائم رکھے گا اور آدھے ہفتے کے بعد قربانی اور نذرانے بند کر دے گا۔‏

اور گھناؤنی چیزوں کے پَر کے اُوپر تباہ کرنے والا سوار ہوگا۔ اور جو تباہ‌حال پڑا ہے، اُس پر وہ سب نازل ہوتا رہے گا جس کا فیصلہ کِیا گیا ہے جب تک کہ خاتمہ نہیں ہو جاتا۔“‏

10 فارس کے بادشاہ خورس کی حکمرانی کے تیسرے سال میں دانی‌ایل پر جنہیں بیلطشضر کہا جاتا تھا، ایک بات ظاہر ہوئی۔ اُنہیں جو پیغام ملا، وہ سچا تھا اور ایک بڑی لڑائی کے بارے میں تھا۔ دانی‌ایل اُس پیغام کو سمجھ گئے اور اُنہوں نے جو کچھ دیکھا تھا، اُنہیں اُس کی سمجھ عطا کی گئی۔‏

2 اُن دنوں میں مجھے یعنی دانی‌ایل کو ماتم کرتے ہوئے پورے تین ہفتے ہو چُکے تھے۔ 3 مَیں نے پورے تین ہفتے تک نہ تو کوئی عمدہ کھانا کھایا اور نہ ہی گوشت اور مے میرے مُنہ میں گئی اور مَیں نے اپنے جسم پر کوئی تیل نہیں لگایا۔ 4 پہلے مہینے کے 24ویں دن جب مَیں بڑے دریا یعنی دریائے‌دِجلہ*‏ کے کنارے پر تھا 5 تو مَیں نے نظریں اُٹھا کر دیکھا اور مجھے ایک آدمی دِکھائی دیا جس نے لینن کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور جس کی کمر کے گِرد اُوفاز کے سونے کا کمربند تھا۔ 6 اُس کا جسم سنگِ‌زبرجد کی طرح تھا؛ اُس کا چہرہ بجلی کی طرح چمک رہا تھا؛ اُس کی آنکھیں جلتی ہوئی مشعلوں کی طرح تھیں؛ اُس کے بازو اور پاؤں چمکتے ہوئے تانبے کی طرح لگ رہے تھے اور اُس کی باتوں کی آواز ایک بڑے ہجوم کی آواز جیسی تھی۔ 7 یہ رُویا صرف مَیں نے یعنی دانی‌ایل نے دیکھی۔ میرے ساتھ موجود آدمیوں نے یہ رُویا نہیں دیکھی۔ لیکن وہ بُری طرح کانپنے لگے اور وہاں سے بھاگ گئے اور چھپ گئے۔‏

8 پھر مَیں اکیلا رہ گیا۔ جب مَیں نے یہ شان‌دار رُویا دیکھی تو میری جان میں جان نہ رہی اور میرا چہرہ بالکل پیلا پڑ گیا اور میری ساری طاقت ختم ہو گئی۔ 9 اِس کے بعد مَیں نے اُس آدمی کی آواز سنی۔ لیکن جب وہ بات کر رہا تھا تو مَیں زمین پر مُنہ کے بل گہری نیند سو گیا۔ 10 مگر پھر ایک ہاتھ نے مجھے چُھوا اور مجھے ہلایا تاکہ مَیں اپنے ہاتھوں اور گُھٹنوں کے بل اُٹھوں۔ 11 اِس کے بعد اُس نے مجھ سے کہا:‏

‏”‏دانی‌ایل!‏ آپ بہت انمول ہیں۔‏*‏ اُن باتوں پر دھیان دیں جو مَیں آپ سے کہنے والا ہوں۔ اب اپنی جگہ پر کھڑے ہوں کیونکہ مجھے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے۔“‏

جب اُس نے مجھ سے یہ کہا تو مَیں کانپتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔‏

12 پھر اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏دانی‌ایل!‏ گھبرائیں نہیں۔ جس دن سے آپ نے دل سے اِن باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور خود کو اپنے خدا کے حضور خاکسار بنایا ہے، اُس دن سے آپ کی درخواستیں سنی گئی ہیں اور مَیں آپ کی درخواستوں کی وجہ سے آیا ہوں۔ 13 لیکن فارس کی سلطنت کا حاکم 21 دن تک میری مخالفت کرتا رہا۔ مگر پھر میکائیل*‏ جو اہم‌ترین حاکموں میں سے ایک*‏ ہیں، میری مدد کو آئے اور مَیں وہاں فارس کے بادشاہوں کے پاس رُکا رہا۔ 14 مَیں آپ کو سمجھانے آیا ہوں کہ آخری دنوں میں*‏ آپ کی قوم کے ساتھ کیا ہوگا کیونکہ یہ رُویا آنے والے دنوں کے بارے میں ہے۔“‏

15 جب اُس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں تو مَیں نے اپنا چہرہ زمین کی طرف جھکا لیا اور کچھ نہیں بول پایا۔ 16 پھر اُس نے جو آدمی کی طرح دِکھ رہا تھا، میرے ہونٹوں کو چُھوا۔ تب مَیں بولنے لگا اور اُس سے جو میرے سامنے کھڑا تھا، کہنے لگا:‏ ”‏میرے مالک!‏ مَیں رُویا کی وجہ سے کانپ رہا ہوں اور مجھ میں بالکل بھی طاقت نہیں ہے۔ 17 اِس لیے میرے مالک!‏ آپ کا یہ خادم آپ سے کیسے بات کر سکتا ہے؟ اب مجھ میں بالکل بھی طاقت نہیں ہے اور میری سانسیں بھی مشکل سے چل رہی ہیں۔“‏

18 اُس نے جو آدمی کی طرح دِکھ رہا تھا، ایک بار پھر مجھے چُھوا اور اِس طرح مجھے طاقت ملی۔ 19 پھر اُس نے کہا:‏ ”‏گھبرائیں نہیں۔ آپ بہت انمول ہیں۔‏*‏ سلامت رہیں۔ ہمت کریں، ہاں، ہمت سے کام لیں۔“‏ جب اُس نے مجھ سے بات کی تو مجھے طاقت ملی اور مَیں نے کہا:‏ ”‏اب بولیں، میرے مالک!‏ کیونکہ مجھے آپ کے ذریعے طاقت ملی ہے۔“‏

20 اِس کے بعد اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏کیا آپ جانتے ہیں کہ مَیں آپ کے پاس کیوں آیا ہوں؟ اب مَیں فارس کے حاکم سے لڑنے واپس جاؤں گا۔ میرے جانے کے بعد یونان کا حاکم آئے گا۔ 21 لیکن مَیں آپ کو سچائی کی کتاب میں لکھی باتیں بتاؤں گا۔ آپ کے حاکم میکائیل کے سوا کوئی بھی اِن معاملوں میں میرا بھرپور ساتھ نہیں دے رہا۔‏

11 جہاں تک میری بات ہے تو مَیں دارا مادی کی حکمرانی کے پہلے سال میں اُس کی ہمت بڑھانے اور اُسے مضبوط کرنے*‏ کے لیے کھڑا ہوا۔ 2 اب مَیں آپ کو جو بتانے لگا ہوں، وہ سچ ہے:‏

دیکھیں!‏ فارس کے لیے تین اَور بادشاہ اُٹھیں گے اور چوتھا بادشاہ باقی سب سے زیادہ دولت اِکٹھی کرے گا۔ جب وہ اپنی دولت کے بل‌بوتے پر طاقت‌ور ہو جائے گا تو وہ سب کچھ یونان کی بادشاہت کے خلاف اِستعمال کرے گا۔‏

3 ایک طاقت‌ور بادشاہ کھڑا ہوگا اور پوری طاقت سے*‏ حکمرانی کرے گا اور جو چاہے، کرے گا۔ 4 لیکن جب وہ کھڑا ہو جائے گا تو اُس کی بادشاہت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور آسمان کی چار ہواؤں میں تقسیم ہو جائے گی۔ لیکن یہ بادشاہت اُس کی اولاد کی نہیں ہوگی اور نہ ہی اِس کی طاقت اُتنی ہوگی جتنی طاقت سے وہ حکمرانی کرتا تھا کیونکہ اُس کی بادشاہت جڑ سے اُکھاڑ دی جائے گی اور دوسروں کی ہو جائے گی۔‏

5 جنوب کا بادشاہ یعنی اُس کے حاکموں میں سے ایک طاقت‌ور ہو جائے گا۔ لیکن وہ*‏ اُس پر حاوی ہو جائے گا اور بڑی طاقت سے حکمرانی کرے گا اور اُس کا اِختیار اُس سے زیادہ ہوگا۔‏

6 کچھ سال بعد وہ آپس میں گٹھ‌جوڑ کر لیں گے اور جنوب کے بادشاہ کی بیٹی ایک معاہدہ کرنے کے لیے شمال کے بادشاہ کے پاس آئے گی۔ لیکن اُس کی بیٹی کے بازو میں طاقت نہیں رہے گی اور بادشاہ بھی کھڑا نہیں رہ پائے گا اور نہ ہی اُس کے بازو میں طاقت رہے گی۔ اُس کی بیٹی کو دوسروں کے حوالے کر دیا جائے گا، ہاں، اُس کی بیٹی اور اُسے لانے والوں کو، اُس کے باپ کو اور اُس کو جس نے اُن وقتوں میں اُسے مضبوط بنایا۔ 7 اُس کی بیٹی کی جڑوں کی شاخ سے آنے والا شخص اپنی جگہ پر کھڑا ہوگا۔ وہ فوج کے پاس آئے گا اور شمال کے بادشاہ کے قلعے کے خلاف آئے گا اور اُن کے خلاف کارروائی کرے گا اور جیتے گا۔ 8 اِس کے علاوہ وہ اُن کے خداؤں، اُن کے دھات کے بُتوں، سونے اور چاندی کی اُن کی دل‌پسند*‏ چیزوں اور قیدیوں کے ساتھ مصر آئے گا۔ کچھ سال تک وہ شمال کے بادشاہ سے دُور رہے گا 9 جو جنوب کے بادشاہ کی بادشاہت کے خلاف آئے گا لیکن پھر اپنے ملک لوٹ جائے گا۔‏

10 اُس کے بیٹے جنگ کی تیاری کریں گے اور ایک بہت بڑی فوج اِکٹھی کریں گے۔ وہ ضرور آگے بڑھے گا اور سیلاب کی طرح تباہی مچائے گا۔ لیکن وہ واپس جائے گا اور اپنے قلعے تک جنگ لڑے گا۔‏

11 جنوب کا بادشاہ غصے سے بھر جائے گا اور جا کر اُس سے یعنی شمال کے بادشاہ سے لڑے گا اور وہ ایک بڑا ہجوم اِکٹھا کرے گا لیکن وہ ہجوم اُس بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 12 اور اُس بڑے ہجوم کو لے جایا جائے گا۔ اُس کے دل میں غرور سما جائے گا اور وہ ہزاروں کو گِرا دے گا۔ لیکن وہ اپنی طاقت کا فائدہ نہیں اُٹھائے گا۔‏

13 شمال کا بادشاہ دوبارہ آئے گا اور پہلے سے بھی بڑا ہجوم اِکٹھا کرے گا۔ اور وقتوں کے آخر پر یعنی کچھ سال بعد وہ ضرور ایک بڑی فوج اور بہت سے سازوسامان کے ساتھ آئے گا۔ 14 اُن وقتوں میں بہت سے لوگ جنوب کے بادشاہ کے خلاف کھڑے ہوں گے۔‏

اور آپ کی قوم میں سے ظالم لوگ*‏ دوسروں کے پیچھے لگ کر ایک رُویا کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ گِر جائیں گے۔‏

15 شمال کا بادشاہ آئے گا اور ایک قلعہ‌بند شہر تک پہنچنے کے لیے ڈھلان بنائے گا اور اُس پر قبضہ کر لے گا۔ جنوب کی فوجیں*‏ اور اُس کے بہترین آدمی ٹک نہیں پائیں گے۔ اُن میں مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ 16 اُس کے خلاف آنے والا جو چاہے، کرے گا اور کوئی اُس کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔ وہ خوب‌صورت ملک*‏ میں کھڑا ہوگا اور اُس کے پاس فنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ 17 وہ اپنی بادشاہت کی پوری قوت کے ساتھ آنے کا اِرادہ کرے گا۔ اُس کے ساتھ معاہدہ کِیا جائے گا اور وہ کارروائی کرے گا۔ جہاں تک عورتوں کی بیٹی کی بات ہے تو اُس بادشاہ کو اُسے تباہ کرنے کی اِجازت دی جائے گی۔ وہ ٹک نہیں پائے گی اور اُس کی نہیں رہے گی۔ 18 وہ پھر سے ساحلی علاقوں کا رُخ کرے گا اور بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لے گا۔ اور ایک حکمران اُس کی وہ رُسوائی دُور کر دے گا جو اُسے سہنی پڑی ہے تاکہ وہ اَور رُسوا نہ ہو۔ وہ رُسوائی کا رُخ رُسوا کرنے والے کی طرف پھیر دے گا۔ 19 اِس کے بعد وہ دوبارہ اپنے ملک کے قلعوں کا رُخ کرے گا اور وہ ٹھوکر کھائے گا اور گِر جائے گا اور وہ کہیں نہیں ملے گا۔‏

20 اُس کی جگہ ایک شخص کھڑا ہوگا جو عالی‌شان بادشاہت میں ایک ٹیکس وصول کرنے والے*‏ کو بھیجے گا لیکن وہ کچھ دنوں میں تباہ ہو جائے گا مگر غصے اور جنگ کی وجہ سے نہیں۔‏

21 اُس کی جگہ ایک حقیر*‏ شخص کھڑا ہوگا اور وہ اُسے بادشاہت کی شان‌وشوکت نہیں دیں گے۔ وہ سلامتی کے وقت کے دوران*‏ آئے گا اور میٹھی میٹھی باتیں*‏ کر کے بادشاہت لے لے گا۔ 22 وہ سیلاب جیسی فوجوں*‏ کو مٹا دے گا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور عہد کے پیشوا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ 23 اُنہوں نے اُس کے ساتھ جو گٹھ‌جوڑ کِیا ہوگا، اُس کی وجہ سے وہ دھوکا دیتا رہے گا۔ اور وہ اُٹھے گا اور ایک چھوٹی قوم کی مدد سے طاقت‌ور ہو جائے گا۔ 24 وہ سلامتی کے وقت کے دوران*‏ صوبے*‏ کے بہترین حصوں*‏ میں آئے گا اور وہ کام کرے گا جو اُس کے باپ‌دادا نے نہیں کیے۔ وہ لُوٹ کا مال اور چیزیں اُن میں بانٹے گا اور قلعہ‌بند جگہوں کے خلاف سازشیں گھڑے گا لیکن صرف ایک وقت کے لیے۔‏

25 وہ ایک بڑی فوج کے ساتھ جنوب کے بادشاہ کے خلاف اپنی طاقت اور ہمت جمع کرے گا اور جنوب کا بادشاہ ایک اِنتہائی بڑی اور طاقت‌ور فوج کے ساتھ جنگ کی تیاری کرے گا۔ لیکن وہ ٹک نہیں پائے گا کیونکہ وہ اُس کے خلاف سازشیں گھڑیں گے۔ 26 اُس کے ساتھ شاہی کھانا کھانے والے اُسے گِرا دیں گے۔‏

جہاں تک اُس کی فوج کی بات ہے تو اُس کا صفایا کر دیا جائے گا*‏ اور بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا۔‏

27 جہاں تک اِن دو بادشاہوں کی بات ہے تو اُن کے دل بُرائی کرنے پر مائل ہوں گے۔ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے رہیں گے۔ لیکن اُن کی سازشیں ناکام ہوں گی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر آئے گا۔‏

28 وہ*‏ بہت ساری چیزوں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ جائے گا اور اُس کا دل مُقدس عہد کے خلاف ہوگا۔ وہ کارروائی کرے گا اور اپنے ملک لوٹ جائے گا۔‏

29 وہ مقررہ وقت پر واپس آئے گا اور جنوب کے خلاف اُٹھے گا۔ لیکن یہ پہلے کی طرح نہیں ہوگا 30 کیونکہ کِتّیم کے جہاز اُس کے خلاف آئیں گے اور اُسے خاکسار بنایا جائے گا۔‏

وہ واپس جائے گا اور مُقدس عہد کے خلاف اپنا غصہ نکالے گا اور کارروائی کرے گا۔ وہ واپس جائے گا اور مُقدس عہد کو چھوڑنے والوں پر دھیان دے گا۔ 31 اُس کے فوجی*‏ کھڑے ہوں گے۔ وہ مُقدس مقام اور قلعے کو ناپاک کریں گے اور باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی کو بند کر دیں گے۔‏

وہ تباہی مچانے والی گھناؤنی چیز کو کھڑا کریں گے۔‏

32 جو لوگ بُرے کام کر کے عہد کی خلاف‌ورزی کرتے ہیں، اُنہیں وہ میٹھی میٹھی باتیں کر کے*‏ برگشتگی کی طرف لے جائے گا۔ لیکن جو لوگ اپنے خدا کو جانتے ہیں، وہ مضبوط رہیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ 33 جو لوگ گہری سمجھ رکھتے ہیں، وہ بہت سے لوگوں کو سمجھ دیں گے۔ وہ کچھ دنوں کے لیے تلوار، شعلے، قید اور لُوٹ کے مال کی وجہ سے گِر جائیں گے۔ 34 لیکن جب اُنہیں گِرا دیا جائے گا تو اُنہیں تھوڑی مدد دی جائے گی۔ اور بہت سے لوگ میٹھی میٹھی باتیں کر کے*‏ اُن کے ساتھ مل جائیں گے۔ 35 جو لوگ گہری سمجھ رکھتے ہیں، اُن میں سے کچھ کو گِرا دیا جائے گا تاکہ اُن کی وجہ سے خاتمے کے وقت تک خالص کرنے کا کام کِیا جا سکے اور صاف اور اُجلا کرنے کا کام ہو سکے کیونکہ یہ مقررہ وقت پر ہوگا۔‏

36 بادشاہ جو چاہے، کرے گا۔ وہ خود کو سب خداؤں سے بڑا بنائے گا اور اپنی بڑائی کرے گا۔ وہ خداؤں کے خدا کے خلاف چونکا دینے والی باتیں کہے گا۔ وہ تب تک کامیاب ہوگا جب تک غضب کا وقت ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ جو طے کِیا گیا ہے، وہ ضرور ہوگا۔ 37 وہ اپنے باپ‌دادا کے خدا کا احترام نہیں کرے گا اور نہ ہی عورتوں کی خواہش کا یا کسی دوسرے خدا کا احترام کرے گا بلکہ وہ خود کو سب سے بڑا بنائے گا۔ 38 اِس کی بجائے*‏ وہ قلعوں کے خدا کی بڑائی کرے گا۔ وہ سونے، چاندی، قیمتی پتھروں اور دل‌پسند*‏ چیزوں سے ایک ایسے خدا کی بڑائی کرے گا جسے اُس کے باپ‌دادا نہیں جانتے تھے۔ 39 وہ ایک نئے خدا کے ساتھ مل کر*‏ سب سے مضبوط قلعوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرے گا۔ جو اُس کی قدر کرتے ہیں،‏*‏ وہ اُنہیں بڑی عزت دے گا اور اُنہیں بہت سے لوگوں پر حکمران بنائے گا اور قیمت کے بدلے زمین بانٹے گا۔‏

40 خاتمے کے وقت میں جنوب کا بادشاہ اُس سے بِھڑے گا*‏ اور شمال کا بادشاہ رتھوں، گُھڑسواروں اور بہت سے جہازوں کے ساتھ طوفان کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑے گا اور وہ ملکوں میں داخل ہو جائے گا اور سیلاب کی طرح تباہی مچائے گا۔ 41 وہ خوب‌صورت ملک*‏ میں بھی داخل ہو جائے گا اور بہت سے ملکوں کو گِرا دیا جائے گا۔ لیکن یہ اُس کے ہاتھ سے بچ جائیں گے:‏ ادوم اور موآب اور عمونیوں کا سب سے خاص حصہ۔ 42 وہ ملکوں کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاتا رہے گا اور جہاں تک مصر کی بات ہے، وہ بچ نہیں پائے گا۔ 43 وہ مصر کے سونے اور چاندی کے پوشیدہ خزانوں اور اُس کی سب دل‌پسند*‏ چیزوں کا مالک بن جائے گا۔ لیبیائی اور اِیتھیوپیائی اُس کے قدموں میں ہوں گے۔‏*‏

44 لیکن وہ مشرق اور شمال سے آنے والی خبروں کی وجہ سے پریشان ہو جائے گا اور شدید غصے میں بہتوں کو مٹانے اور تباہ کرنے نکلے گا۔ 45 وہ بڑے سمندر اور خوب‌صورت ملک*‏ کے مُقدس پہاڑ کے بیچ اپنے شاہی خیمے لگائے گا۔ آخرکار اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اُس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‏

12 اُس وقت کے دوران عظیم حاکم میکائیل*‏ اُٹھے گا جو آپ کے لوگوں*‏ کی خاطر کھڑا ہے۔ تب ایسا مشکل وقت آئے گا جیسا ایک قوم کے بننے سے لے کر اُس وقت تک پہلے کبھی نہیں آیا ہوگا۔ اُس وقت کے دوران آپ کے لوگ بچ جائیں گے یعنی وہ سب جن کے نام کتاب میں لکھے ہوں گے۔ 2 جو لوگ مٹی میں مل گئے ہیں اور سو رہے ہیں، اُن میں سے بہت سے جاگیں گے، کچھ ہمیشہ کی زندگی کے لیے اور باقی رُسوائی اور ہمیشہ کی ذِلت کے لیے۔‏

3 جو گہری سمجھ رکھتے ہیں، وہ آسمان کی فضا کی طرح خوب چمکیں گے اور جو بہتوں کو نیکی کی طرف لاتے ہیں، وہ ستاروں کی طرح ہمیشہ ہمیشہ تک چمکیں گے۔‏

4 لیکن دانی‌ایل!‏ جہاں تک آپ کی بات ہے، اِن باتوں کو راز رکھیں اور خاتمے کے وقت تک کتاب پر مُہر لگا دیں۔ بہت سے لوگ گہرائی سے اِس کا جائزہ لیں گے*‏ اور سچا علم بہت بڑھ جائے گا۔“‏

5 پھر مَیں نے یعنی دانی‌ایل نے دو اَور ہستیوں کو وہاں کھڑے دیکھا، ایک کو ندی کے اِس کنارے اور ایک کو ندی کے دوسرے کنارے۔ 6 پھر اُن میں سے ایک نے اُس آدمی سے جس نے لینن کا لباس پہنا ہوا تھا اور جو ندی کے پانی کے اُوپر تھا، کہا:‏ ”‏یہ حیران‌کُن باتیں کتنے عرصے بعد ختم ہو جائیں گی؟“‏ 7 پھر مَیں نے اُس آدمی کی آواز سنی جس نے لینن کا لباس پہنا تھا اور جو ندی کے پانی کے اُوپر تھا۔ اُس نے اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی ہستی کی قسم کھاتے ہوئے کہا:‏ ”‏ایسا ایک مقررہ وقت، مقررہ وقتوں اور آدھے وقت*‏ کے بعد ہوگا۔ جیسے ہی مُقدس لوگوں کی طاقت کو چکناچُور کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا، یہ ساری باتیں اپنے اِختتام کو پہنچ جائیں گی۔“‏

8 مَیں نے یہ باتیں سنیں لیکن مَیں اِنہیں سمجھ نہیں پایا۔ اِس لیے مَیں نے کہا:‏ ”‏میرے مالک!‏ اِن سب باتوں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟“‏

9 پھر اُس نے کہا:‏ ”‏دانی‌ایل!‏ آپ چلے جائیں کیونکہ اِن باتوں کو خاتمے کے وقت تک راز میں اور مُہر لگا کر رکھا جائے گا۔ 10 بہت سے لوگ خود کو صاف اور اُجلا کریں گے اور خالص بنیں گے۔ بُرے لوگ بُرائی کریں گے اور بُرے لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں سمجھے گا۔ لیکن گہری سمجھ رکھنے والے سمجھیں گے۔‏

11 اور باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی کو روکنے اور تباہی مچانے والی گھناؤنی چیز کو کھڑا کرنے کے بعد 1290 دن گزریں گے۔‏

12 وہ شخص خوش رہتا ہے جو 1335 دن گزرنے تک اُمید لگائے رکھتا ہے!‏*‏

13 لیکن جہاں تک آپ کی بات ہے، آپ آخر تک قائم رہیں۔ آپ آرام کریں گے لیکن آخری دنوں میں اپنا حصہ پانے کے لیے*‏ اُٹھ کھڑے ہوں گے۔“‏

یا ”‏ہیکل“‏

یعنی بابلیہ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بچے“‏

یا شاید ”‏پرورش“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹوں“‏

معنی:‏ ”‏میرا منصف خدا ہے۔“‏

معنی:‏ ”‏یہوواہ نے مہربانی کی ہے۔“‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏خدا کی طرح کون ہے؟“‏

معنی:‏ ”‏یہوواہ نے مدد کی ہے۔“‏

یعنی بابلی نام

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بچوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میرا سر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بچوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بچوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بچوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی روح“‏

یہاں کسدیوں سے مُراد ایک ایسا گروہ ہے جو غیب‌دانی اور علمِ‌نجوم کا ماہر تھا۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری روح“‏

دا 2:‏4 کے دوسرے حصے سے لے کر 7:‏28 تک کا حصہ اَرامی زبان میں لکھا گیا تھا۔‏

یا شاید ”‏کچراکُنڈی؛ گوبر کا ڈھیر“‏

یا ”‏خشک زمین“‏

یا ”‏فانی اِنسانوں“‏

یا ”‏ازل سے ابد تک“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا ”‏پکائی ہوئی (‏ڈھالی ہوئی)‏ مٹی“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی بادشاہت کے مضبوط حصے

یا ”‏اِنسانوں کی نسل“‏ یعنی عام لوگوں

یا ”‏ضلع“‏

یا ”‏ضلع“‏

تقریباً 27 میٹر (‏88 فٹ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

تقریباً 7.‏2 میٹر (‏8.‏8 فٹ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏ضلع“‏

یا ”‏ضلعوں“‏

یا ”‏ضلعوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ،“‏

یا ”‏کو بدنام کرنے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ،“‏

یا ”‏ضلع“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ،“‏

یا ”‏اِن لوگوں نے اپنے جسم قربان کر دیے۔“‏

یا شاید ”‏کچراکُنڈی؛ گوبر کا ڈھیر“‏

یا ”‏ضلع“‏

یہاں کسدیوں سے مُراد ایک ایسا گروہ ہے جو غیب‌دانی اور علمِ‌نجوم کا ماہر تھا۔‏

تنے کا نچلا حصہ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آسمان حکمرانی کر رہا ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

یا ”‏اُس کے ہاتھ کو“‏

یہاں کسدیوں سے مُراد ایک ایسا گروہ ہے جو غیب‌دانی اور علمِ‌نجوم کا ماہر تھا۔‏

غالباً یہاں بادشاہ کی ماں کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏قابل آدمی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روشنی،“‏

یہاں کسدیوں سے مُراد ایک ایسا گروہ ہے جو غیب‌دانی اور علمِ‌نجوم کا ماہر تھا۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گِرہیں کھول سکتا تھا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روشنی،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گِرہیں کھول سکتے ہو۔“‏

1سم 17:‏28 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا شاید ”‏اور اُس کے سامنے موسیقار نہیں لائے گئے۔“‏

یا ”‏کو بدنام کِیا تھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہزار مرتبہ ہزار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دس ہزار مرتبہ دس ہزار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری یعنی دانی‌ایل روح مجھ میں“‏

یعنی ساڑھے تین وقتوں

یا ”‏سُوسا“‏

یا ”‏محل“‏

یا ”‏ضلع“‏

یا ”‏نہر اُولائی“‏

یا ”‏اور سجاوٹ کے ملک“‏

یا ”‏جو سازش کرنے میں ماہر ہوگا۔“‏

یا ”‏وہ بھیانک تباہی“‏

یا شاید ”‏اور خبردار کیے بغیر“‏

یعنی مُقدس کتابوں

یا ”‏کا خوف رکھا“‏

یا ”‏ہمارا اِنصاف کرنے والے قاضیوں“‏

یا ”‏وفاداری“‏

یا ”‏نیک“‏

یا ”‏آپ کو بہت پسند کِیا جاتا ہے؛ آپ کی بہت عزت کی جاتی ہے۔“‏

یہاں ایک ہفتہ سات سال کے برابر ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبی“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مسح‌شُدہ شخص،“‏

شہر یا قلعے وغیرہ کے چاروں طرف حفاظت کے لیے کی گئی گہری کھدائی

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہِدّقل“‏

یا ”‏آپ کو بہت پسند کِیا جاتا ہے؛ آپ کی بہت عزت کی جاتی ہے۔“‏

معنی:‏ ”‏خدا کی طرح کون ہے؟“‏

یا ”‏سب سے اُونچے درجے کے ایک حاکم“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا ”‏آپ کو بہت پسند کِیا جاتا ہے؛ آپ کی بہت عزت کی جاتی ہے۔“‏

یا ”‏اُس کے لیے ایک قلعے کی طرح بننے“‏

یا ”‏اور بڑے علاقے پر“‏

غالباً یہاں شمال کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏قیمتی“‏

یا ”‏ڈاکوؤں کے بیٹے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے بازو“‏

یا ”‏وہ سجاوٹ کے ملک“‏

یا ”‏کام کرانے والے“‏

یا ”‏گھٹیا“‏

یا شاید ”‏بغیر کسی آگاہی کے“‏

یا ”‏اور سازش“‏

لفظی ترجمہ:‏”‏ سیلاب کے‌بازوؤں“‏

یا شاید ”‏بغیر کسی آگاہی کے“‏

یا ”‏ضلعے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کی چربی“‏

یا ”‏کو سیلاب بہا لے جائے گا“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں شمال کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے بازو“‏

یا ”‏خوشامد کر کے؛ بدنیتی سے“‏

یا ”‏خوشامد کر کے؛ بدنیتی سے“‏

یا ”‏لیکن اپنی جگہ پر“‏

یا ”‏قیمتی“‏

یا ”‏کی مدد سے“‏

یا شاید ”‏جن کی وہ قدر کرتا ہے،“‏

یا ”‏اُس کے ساتھ سینگ پھنسائے گا“‏

یا ”‏وہ سجاوٹ کے ملک“‏

یا ”‏قیمتی“‏

یا ”‏اُس کے پیچھے چلیں گے۔“‏

یا ”‏اور سجاوٹ کے ملک“‏

معنی:‏ ”‏خدا کی طرح کون ہے؟“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آپ کی قوم کے بیٹوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہاں وہاں جائیں گے“‏

یعنی ساڑھے تین وقتوں

یا ”‏صبر سے اِنتظار کرتا ہے!‏“‏

یا ”‏اپنے حصے کی جگہ میں“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں