یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د نوحہ 1:‏1-‏5:‏22
  • نوحہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نوحہ
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
نوحہ

نوحہ

א ‏[‏آلف]‏*‏

1 ہائے اُس شہر کو کیسے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا!‏

ہائے قوموں کے بیچ گھنی آبادی والا شہر اب کیسے ایک بیوہ کی طرح ہو گیا ہے!‏

ہائے اُس شہر سے جو صوبوں*‏ کے بیچ شہزادی کی طرح تھا، کیسے جبری مشقت کرائی جا رہی ہے!‏

ב ‏[‏بیتھ]‏

 2 وہ رات کو پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے؛ اُس کے گال اُس کے آنسوؤں سے بھیگ جاتے ہیں۔‏

اُس کے عاشقوں میں سے کوئی بھی اُسے تسلی دینے کے لیے اُس کے ساتھ نہیں ہے۔‏

اُس کے اپنے ساتھیوں نے اُسے دھوکا دیا ہے؛ وہ سب اُس کے دُشمن بن گئے ہیں۔‏

ג ‏[‏گیمل]‏

 3 یہوداہ کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے اور اُسے مصیبت اور سخت غلامی نے جکڑا ہوا ہے۔‏

اُسے قوموں کے بیچ رہنا ہوگا؛ اُسے کوئی پُرسکون جگہ نہیں مل رہی۔‏

اُسے اذیت دینے والے سبھی اُس کی پریشانی میں اُس پر حاوی ہو گئے ہیں۔‏

ד ‏[‏دالتھ]‏

 4 صِیّون کی طرف جانے والے راستے ماتم منا رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی عید منانے نہیں آ رہا۔‏

اُس کے سب دروازے ویران پڑے ہیں؛ اُس کے کاہن آہیں بھر رہے ہیں۔‏

اُس کی کنواریاں*‏ سوگ منا رہی ہیں اور وہ شدید کرب میں ہے۔‏

ה ‏[‏ہے]‏

 5 اُس کے مخالف اب اُس کے مالک ہیں؛ اُس کے دُشمن بے‌فکر ہیں

کیونکہ یہوواہ اُس کے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے اُس پر دُکھ لایا ہے۔‏

مخالف اُس کے بچوں کو قیدی بنا کر لے گیا ہے۔‏

ו ‏[‏واو]‏

 6 صِیّون کی بیٹی کی شان‌وشوکت چلی گئی ہے۔‏

اُس کے حاکم ایسے ہِرنوں کی طرح ہیں جنہیں چراگاہ نہیں ملی

اور وہ پیچھا کرنے والوں کے آگے نڈھال چل رہے ہیں۔‏

ז ‏[‏زین]‏

 7 یروشلم کو اپنی مصیبت اور بے‌گھری کے دنوں میں وہ ساری قیمتی چیزیں یاد آتی ہیں

جو ایک زمانے میں اُس کی ہوا کرتی تھیں۔‏

جب اُس کے مخالف نے اُس کے لوگوں کو پکڑ لیا اور اُس کا کوئی مددگار نہیں تھا

تو مخالف اُسے دیکھ کر اُس کی بربادی پر ہنسنے لگے۔‏

ח ‏[‏خیتھ]‏

 8 یروشلم کی بیٹی*‏ نے بہت بڑا گُناہ کِیا ہے

اِس لیے وہ ایک گھناؤنی چیز بن گئی ہے۔‏

جو اُس کی عزت کِیا کرتے تھے، اب وہ اُسے گھٹیا سمجھتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اُس کا ننگاپن دیکھ لیا ہے۔‏

وہ کراہتی ہے اور شرم کے مارے مُنہ پھیر لیتی ہے۔‏

ט ‏[‏طیتھ]‏

 9 اُس کی ناپاکی اُس کے دامن پر ہے۔‏

اُس نے اپنے انجام پر کوئی دھیان نہیں دیا۔‏

اُس کی بربادی دیکھ کر سب حیرت‌زدہ ہو گئے؛ اُسے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔‏

اَے یہوواہ!‏ میری مصیبت کو دیکھ کیونکہ دُشمن نے خود کو بڑا بنا لیا ہے۔‏

י ‏[‏یود]‏

10 مخالف نے اُس کے سارے خزانے لُوٹ لیے ہیں۔‏

اُس نے قوموں کو مُقدس مقام میں داخل ہوتے دیکھا ہے،‏

ہاں، اُن کو جنہیں تُو نے اپنی جماعت میں آنے سے منع کِیا تھا۔‏

כ ‏[‏کاف]‏

11 اُس کے سب لوگ آہیں بھر رہے ہیں؛ وہ روٹی ڈھونڈ رہے ہیں۔‏

اُنہوں نے اپنی قیمتی چیزیں دے دی ہیں تاکہ اُنہیں کھانے کو کچھ ملے اور وہ زندہ رہ سکیں۔‏*‏

اَے یہوواہ!‏ دیکھ کہ مَیں ایک حقیر عورت*‏ کی طرح بن گئی ہوں۔‏

ל ‏[‏لامد]‏

12 راستے سے گزرنے والے سب لوگو!‏ کیا تمہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟‏

دیکھو اور دھیان دو!‏

کیا اُس تکلیف جیسی کوئی اَور تکلیف ہے جو مجھے سہنی پڑی،‏

ہاں، جس سے یہوواہ نے مجھے اپنے بھڑکتے ہوئے غصے کے دن گزرنے دیا؟‏

מ ‏[‏میم]‏

13 اُس نے بلندی سے میری ہڈیوں میں آگ بھیجی ہے اور ہر ایک کو اپنے تابع کر لیا ہے۔‏

اُس نے میرے پاؤں کے لیے جال بچھایا ہے؛ اُس نے مجھے واپس مُڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔‏

اُس نے مجھے ایک اُجڑی ہوئی عورت بنا دیا ہے۔‏

مَیں سارا دن بیمار پڑی رہتی ہوں۔‏

נ ‏[‏نون]‏

14 اُس نے اپنے ہاتھ سے میرے گُناہوں کو ایک جُوئے کی طرح باندھ دیا ہے۔‏

اُنہیں میری گردن پر رکھ دیا گیا ہے اور میری ہمت جواب دے گئی ہے۔‏

یہوواہ نے مجھے اُن کے حوالے کر دیا ہے جن کا مَیں مقابلہ نہیں کر سکتی۔‏

ס ‏[‏سامک]‏

15 یہوواہ نے سب طاقت‌ور آدمیوں کو مجھ سے دُور پھینک دیا ہے۔‏

اُس نے میرے جوان آدمیوں کو کچلنے کے لیے ایک مجمع بُلایا ہے۔‏

یہوواہ نے یہوداہ کی کنواری بیٹی کو انگور روندنے کے حوض میں روند دیا ہے۔‏

ע ‏[‏عین]‏

16 مَیں اِن سب باتوں کی وجہ سے رو رہی ہوں؛ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں

کیونکہ مجھے تسلی دینے والا اور مجھے*‏ تازہ‌دم کرنے والا مجھ سے بہت دُور ہے۔‏

میرے بیٹے اُجڑ گئے ہیں کیونکہ دُشمن غالب آ گیا ہے۔‏

פ ‏[‏پے]‏

17 صِیّون نے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؛ اُسے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔‏

یہوواہ نے یعقوب کے آس‌پاس کے سب مخالفوں کو اُس کے خلاف ایک حکم دیا ہے۔‏

یروشلم اُن کے لیے ایک گھناؤنی چیز بن گیا ہے۔‏

צ ‏[‏صادے]‏

18 یہوواہ نے جو کِیا ہے، وہ صحیح ہے*‏ کیونکہ مَیں نے اُس کے حکموں کے خلاف بغاوت کی ہے۔‏

سب لوگو!‏ سنو اور میری تکلیف دیکھو۔‏

میری کنواریاں*‏ اور میرے جوان آدمی قید میں چلے گئے ہیں۔‏

ק ‏[‏قوف]‏

19 مَیں نے اپنے عاشقوں کو پکارا ہے لیکن اُنہوں نے مجھے دھوکا دیا ہے۔‏

میرے کاہن اور میرے بزرگ زندہ رہنے کے لیے*‏ کھانا ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر میں فنا ہو گئے ہیں۔‏

ר ‏[‏ریش]‏

20 اَے یہوواہ!‏ دیکھ کیونکہ مَیں شدید تکلیف میں ہوں۔‏

میرے اندر*‏ ہلچل مچی ہوئی ہے۔‏

میرا دل اندر ہی اندر بہت بے‌چین ہے کیونکہ مَیں نے سخت بغاوت کی ہے۔‏

باہر تلوار بچوں سے محروم کر رہی ہے اور گھر کے اندر بھی موت چھائی ہے۔‏

ש ‏[‏شین]‏

21 لوگوں نے میری آہیں سنی ہیں؛ مجھے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔‏

میرے سب دُشمنوں نے میری مصیبت کے بارے میں سنا ہے۔‏

وہ خوش ہیں کیونکہ تُو یہ مصیبت لایا ہے۔‏

لیکن تُو وہ دن لائے گا جس کا تُو نے اِعلان کِیا تھا، ہاں، وہ دن جب وہ بھی میری طرح ہو جائیں گے۔‏

ת ‏[‏تاو]‏

22 اُن کی ساری بُرائی تیرے سامنے آئے اور تُو اُن کے ساتھ ویسے ہی سختی سے پیش آئے

جیسے تُو میرے سارے گُناہوں کی وجہ سے میرے ساتھ سختی سے پیش آیا ہے

کیونکہ میری آہیں بے‌شمار ہیں اور میرا دل بیمار ہے۔‏

א ‏[‏آلف]‏

2 ہائے یہوواہ نے اپنے غصے کے بادل سے صِیّون کی بیٹی کو کیسے ڈھانک دیا ہے!‏

اُس نے اِسرائیل کی خوب‌صورتی کو آسمان سے زمین پر پھینک دیا ہے۔‏

اُس نے اپنے غضب کے دن اپنے پاؤں کی چوکی کو یاد نہیں رکھا ہے۔‏

ב ‏[‏بیتھ]‏

 2 یہوواہ نے بِنا ترس کھائے یعقوب کی ساری رہائش‌گاہوں کو نگل لیا ہے۔‏

اُس نے اپنے قہر کی وجہ سے یہوداہ کی بیٹی کی قلعہ‌بند جگہوں کو ڈھا دیا ہے۔‏

اُس نے بادشاہت اور اُس کے حاکموں کو زمین پر گِرا دیا ہے اور بے‌عزت کِیا ہے۔‏

ג ‏[‏گیمل]‏

 3 اُس نے اپنے غصے کی آگ میں اِسرائیل کا ہر سینگ*‏ کاٹ دیا ہے۔‏

جب دُشمن آیا تو اُس نے اپنا دایاں ہاتھ پیچھے کھینچ لیا

اور یعقوب کے خلاف اُس کا غصہ آگ کی طرح بھڑکتا رہا جس نے اِردگِرد کی ہر چیز کو بھسم کر دیا۔‏

ד ‏[‏دالتھ]‏

 4 اُس نے ایک دُشمن کی طرح اپنی کمان کَسی ہے؛ اُس نے ایک مخالف کی طرح اپنا دایاں ہاتھ اُٹھایا ہے۔‏

وہ اُن سب کو مار ڈالتا رہا جو ہماری نظروں میں دلکش ہیں۔‏

اُس نے صِیّون کی بیٹی کے خیمے میں اپنا غضب آگ کی طرح نازل کِیا ہے۔‏

ה ‏[‏ہے]‏

 5 یہوواہ ایک دُشمن کی طرح بن گیا ہے؛‏

اُس نے اِسرائیل کو نگل لیا ہے۔‏

اُس نے اُس کے سارے بُرج نگل لیے ہیں؛‏

اُس نے اُس کی ساری قلعہ‌بند جگہیں تباہ کر دی ہیں۔‏

اُس نے یہوداہ کی بیٹی کا ماتم اور نوحہ بڑھا دیا ہے۔‏

ו ‏[‏واو]‏

 6 اُس نے اپنی جھونپڑی کو اِتنی بُری طرح ڈھا دیا ہے جیسے وہ باغ میں بنا کوئی چھپر*‏ ہو۔‏

اُس نے اپنی عیدوں کو ختم*‏ کر دیا ہے۔‏

یہوواہ نے صِیّون میں عید اور سبت کی یاد مٹا دی ہے؛‏

اُس نے اپنے شدید غضب کی وجہ سے بادشاہ اور کاہن کو رد کر دیا ہے۔‏

ז ‏[‏زین]‏

 7 یہوواہ نے اپنی قربان‌گاہ کو رد کر دیا ہے؛‏

اُس نے اپنے مُقدس مقام کو ٹھکرا دیا ہے۔‏

اُس نے اُس کے مضبوط بُرجوں کی دیواریں دُشمن کے حوالے کر دی ہیں۔‏

وہ یہوواہ کے گھر میں ایسے شور کر رہے ہیں جیسے عید کا دن ہو۔‏

ח ‏[‏خیتھ]‏

 8 یہوواہ نے صِیّون کی بیٹی کی دیوار ڈھانے کا پکا اِرادہ کر لیا ہے۔‏

اُس نے اُسے ناپنے کی ڈوری سے ناپا ہے۔‏

اُس نے تباہی لانے سے اپنا ہاتھ نہیں روکا ہے۔‏

اُس نے دیوار اور پُشتے*‏ کو ماتم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔‏

اُن دونوں کو کمزور کر دیا گیا ہے۔‏

ט ‏[‏طیتھ]‏

 9 اُس کے دروازے زمین میں غرق ہو گئے ہیں۔‏

اُس نے اُس کے کُنڈے توڑ دیے ہیں اور تباہ کر دیے ہیں۔‏

اُس کا بادشاہ اور اُس کے حاکم قوموں کے بیچ ہیں۔‏

کوئی شریعت*‏ نہیں ہے، یہاں تک کہ اُس کے نبیوں کو بھی یہوواہ کی طرف سے کوئی رُویا نہیں ملتی۔‏

י ‏[‏یود]‏

10 صِیّون کی بیٹی کے بزرگ خاموشی سے زمین پر بیٹھے ہیں۔‏

وہ اپنے سر پر خاک ڈال رہے ہیں اور اُنہوں نے ٹاٹ پہنے ہوئے ہیں۔‏

یروشلم کی کنواریوں نے اپنے سر زمین تک جھکائے ہوئے ہیں۔‏

כ ‏[‏کاف]‏

11 میری آنکھیں آنسو بہا بہا کر دُھندلا گئی ہیں۔‏

میرے اندر*‏ ہلچل مچی ہوئی ہے۔‏

میرا جگر زمین پر اُنڈیل دیا گیا ہے

کیونکہ میری قوم کی بیٹی*‏ گِر گئی ہے

اور بچے اور دودھ پیتے بچے شہر کے چوکوں میں بے‌ہوش ہو رہے ہیں۔‏

ל ‏[‏لامد]‏

12 وہ اپنی ماؤں سے بار بار پوچھتے ہیں:‏ ”‏اناج اور مے کہاں ہے؟“‏

کیونکہ وہ کسی زخمی شخص کی طرح شہر کے چوکوں میں بے‌ہوش ہو رہے ہیں

اور اُن کی زندگی*‏ اُن کی ماؤں کی بانہوں میں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔‏

מ ‏[‏میم]‏

13 اَے یروشلم کی بیٹی!‏ مَیں تجھے کون سی مثال دوں

یا تجھے کس سے تشبیہ دوں؟‏

اَے صِیّون کی کنواری بیٹی!‏ مَیں تجھے تسلی دینے کے لیے کس سے تیرا موازنہ کروں

کیونکہ تیرا زخم سمندر جتنا بڑا ہے؟ کون تجھے ٹھیک کر سکتا ہے؟‏

נ ‏[‏نون]‏

14 تیرے نبیوں نے تیرے لیے جو رُویات دیکھیں، وہ جھوٹی اور فضول تھیں؛‏

اُنہوں نے تیرے گُناہ کو بے‌نقاب نہیں کِیا تاکہ تُو قید میں جانے سے بچ جائے

بلکہ وہ تیرے لیے جھوٹی اور گمراہ‌کُن رُویات دیکھتے رہے۔‏

ס ‏[‏سامک]‏

15 راستے سے گزرنے والے سب لوگ تالیاں بجا کر تیرا مذاق اُڑاتے ہیں۔‏

وہ یروشلم کی بیٹی کو دیکھ کر حیرانی سے سیٹی بجاتے ہیں اور سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں:‏

‏”‏کیا یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں وہ کہتے تھے:‏ ”‏اِس کا حسن کامل ہے؛ یہ ساری زمین کے لیے خوشی کا باعث ہے“‏؟“‏

פ ‏[‏پے]‏

16 تیرے سب دُشمنوں نے تیرے خلاف اپنا مُنہ کھولا ہے۔‏

وہ سیٹی بجاتے ہیں اور دانت پیستے ہوئے کہتے ہیں:‏ ”‏ہم نے اُسے نگل لیا ہے۔‏

ہمیں اِسی دن کا اِنتظار تھا!‏ یہ دن آ گیا ہے اور ہم نے اِسے دیکھ لیا ہے!‏“‏

ע ‏[‏عین]‏

17 یہوواہ نے جو ٹھانا تھا، وہ کِیا ہے؛ اُس نے اپنی بات پوری کی ہے،‏

وہ بات جس کا اُس نے بہت پہلے حکم دیا تھا۔‏

اُس نے بِنا ترس کھائے تجھے ڈھا دیا ہے۔‏

اُس نے تیرے دُشمن کو تیری ہار پر خوش ہونے دیا ہے؛ اُس نے تیرے مخالفوں کی طاقت بڑھائی ہے۔‏*‏

צ ‏[‏صادے]‏

18 اَے صِیّون کی بیٹی کی دیوار!‏ اُن کا دل یہوواہ کو پکارتا ہے۔‏

اپنے آنسوؤں کو دن رات ندی کی طرح بہنے دے۔‏

خود کو ایک پَل کے لیے بھی سکون نہ لینے دے؛ اپنی آنکھ*‏ کو آرام نہ کرنے دے۔‏

ק ‏[‏قوف]‏

19 اُٹھ!‏ رات کو، ہاں، رات کے پہروں کے شروع میں فریاد کر۔‏

اپنا دل یہوواہ کے حضور پانی کی طرح اُنڈیل دے۔‏

اُس کے سامنے اپنے بچوں کی زندگی*‏ کی خاطر دُعا میں اپنے ہاتھ اُٹھا

جو قحط کی وجہ سے ہر گلی کے سِرے پر بے‌ہوش ہو رہے ہیں۔‏

ר ‏[‏ریش]‏

20 اَے یہوواہ !‏ دیکھ اور اُس پر دھیان دے جس کے ساتھ تُو اِتنی سختی سے پیش آیا ہے۔‏

کیا عورتوں کو اپنی اولاد*‏ کو، ہاں، اپنی کوکھ سے پیدا ہوئے صحت‌مند بچوں کو کھاتے رہنا چاہیے

یا کیا کاہنوں اور نبیوں کو یہوواہ کے مُقدس مقام میں قتل کِیا جانا چاہیے؟‏

ש ‏[‏شین]‏

21 جوان لڑکے اور بوڑھے آدمی گلیوں میں زمین پر مُردہ پڑے ہیں۔‏

میری کنواریاں*‏ اور میرے جوان آدمی تلوار سے مارے گئے ہیں۔‏

تُو نے اُنہیں اپنے غضب کے دن مار ڈالا ہے؛ تُو نے اُنہیں بِنا ترس کھائے قتل کر دیا ہے۔‏

ת ‏[‏تاو]‏

22 تُو ہر سمت سے دہشت کو ایسے بُلاتا ہے جیسے عید کے دن لوگوں کو بُلایا جاتا ہے۔‏

یہوواہ کے غضب کے دن نہ تو کوئی بچا اور نہ زندہ رہا؛‏

مَیں نے جنہیں جنم دیا*‏ اور پالا، اُنہیں میرے دُشمن نے مٹا دیا۔‏

א ‏[‏آلف]‏

3 مَیں وہ شخص ہوں جس نے اُس کے غضب کی لاٹھی کی وجہ سے مصیبت دیکھی ہے۔‏

 2 اُس نے مجھے باہر نکال دیا ہے اور وہ مجھے روشنی میں نہیں بلکہ تاریکی میں چلاتا ہے۔‏

 3 بے‌شک وہ سارا دن بار بار میرے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔‏

ב ‏[‏بیتھ]‏

 4 اُس نے میرے جسم اور میری جِلد کو خراب کر دیا ہے؛‏

اُس نے میری ہڈیوں کو توڑ دیا ہے۔‏

 5 اُس نے مجھے گھیر لیا ہے؛ اُس نے مجھے کڑوے زہر اور مصیبت سے گھیر لیا ہے۔‏

 6 اُس نے مجھے اُن آدمیوں کی طرح تاریک جگہوں میں بیٹھنے پر مجبور کِیا ہے جو بہت عرصہ پہلے مر چُکے ہیں۔‏

ג ‏[‏گیمل]‏

 7 اُس نے میری چاروں طرف ایک دیوار کھڑی کر دی ہے تاکہ مَیں بھاگ نہ سکوں؛‏

اُس نے مجھے تانبے کی بھاری بیڑیوں سے جکڑ دیا ہے۔‏

 8 جب مَیں مدد کے لیے شدت سے اُسے پکارتا ہوں تو وہ میری دُعا کو ٹھکرا دیتا ہے۔‏*‏

 9 اُس نے میرے راستے تراشے ہوئے پتھروں سے بند کر دیے ہیں؛‏

اُس نے میری راہیں ٹیڑھی میڑھی کر دی ہیں۔‏

ד ‏[‏دالتھ]‏

10 وہ ریچھ کی طرح گھات لگا کر اور شیر کی طرح چھپ کر میری تاک میں رہتا ہے۔‏

11 اُس نے مجھے راہوں سے ہٹا دیا ہے اور میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں؛‏*‏

اُس نے مجھے اُجاڑ دیا ہے۔‏

12 اُس نے اپنی کمان کَس لی ہے اور مجھے تیر کے نشانے پر رکھا ہے۔‏

ה ‏[‏ہے]‏

13 اُس نے اپنے ترکش*‏ کے تیروں*‏ سے میرے گُردے چھلنی کر دیے ہیں۔‏

14 مَیں سب لوگوں کے لیے مذاق بن گیا ہوں؛ مَیں سارا دن اُن کے گانوں کا موضوع بنا رہتا ہوں۔‏

15 اُس نے مجھے کڑوی چیزوں سے بھر دیا ہے اور خوب ناگ‌دون*‏ پلایا ہے۔‏

ו ‏[‏واو]‏

16 وہ کنکروں سے میرے دانت توڑتا ہے

وہ مجھے نیچے راکھ میں جھکا دیتا ہے۔‏

17 تُو میرا*‏ سکون چھین لیتا ہے؛ مَیں بھول چُکا ہوں کہ خوشی کیا ہوتی ہے۔‏

18 اِس لیے مَیں کہتا ہوں:‏ ”‏میری شان‌وشوکت ختم ہو گئی ہے اور یہوواہ سے میری اُمید بھی۔“‏

ז ‏[‏زین]‏

19 یاد کر کہ مَیں مصیبت میں ہوں اور بے‌گھر ہو گیا ہوں؛ یاد کر کہ مَیں ناگ‌دون اور کڑوا زہر کھا رہا ہوں۔‏

20 تُو*‏ ضرور یاد کرے گا اور میرے لیے نیچے جھکے گا۔‏

21 مَیں اِس بات کو اپنے دل میں رکھتا ہوں اِس لیے مَیں صبر سے تیرا اِنتظار کروں گا۔‏

ח ‏[‏خیتھ]‏

22 یہوواہ کی اٹوٹ محبت کی وجہ سے ہم فنا نہیں ہوئے

کیونکہ اُس کی رحمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔‏

23 یہ ہر صبح نئی ہوتی ہیں؛ تیری وفاداری کی کوئی اِنتہا نہیں۔‏

24 مَیں*‏ نے کہا:‏ ”‏یہوواہ میرا حصہ ہے اِس لیے مَیں صبر سے اُس کا اِنتظار کروں گا۔“‏

ט ‏[‏طیتھ]‏

25 یہوواہ اُس شخص*‏ کے ساتھ اچھا ہے جو اُس سے اُمید لگاتا ہے اور اُس کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔‏

26 خاموشی*‏ سے یہوواہ کی طرف سے ملنے والی نجات کا اِنتظار کرنا اچھا ہے۔‏

27 اِنسان کے لیے اچھا ہے کہ وہ جوانی میں اپنا جُوا اُٹھائے۔‏

י ‏[‏یود]‏

28 جب خدا اِسے اُس پر رکھتا ہے تو وہ اکیلا اور خاموش بیٹھا رہے۔‏

29 وہ اپنا مُنہ خاک میں رکھے؛ شاید ابھی بھی کوئی اُمید باقی ہو۔‏

30 وہ اپنا گال اُس کی طرف کر دے جو اُسے مارتا ہے؛ وہ جتنی بے‌عزتی برداشت کر سکتا ہے، کرے۔‏

כ ‏[‏کاف]‏

31 یہوواہ ہمیں ہمیشہ کے لیے نہیں ٹھکرائے گا۔‏

32 حالانکہ وہ دُکھ لایا ہے لیکن وہ اپنی بے‌اِنتہا اٹوٹ محبت کی وجہ سے رحم بھی کرے گا

33 کیونکہ وہ اِنسان کے بیٹوں کو تکلیف اور دُکھ نہیں دینا چاہتا۔‏

ל ‏[‏لامد]‏

34 زمین کے سب قیدیوں کو پاؤں تلے کچلنا،‏

35 کسی شخص کو خدا تعالیٰ کے سامنے اِنصاف سے محروم رکھنا

36 یا کسی شخص کو اُس کے قانونی مُقدمے میں دھوکا دینا ایسی باتیں ہیں

جو یہوواہ برداشت نہیں کرتا۔‏

מ ‏[‏میم]‏

37 جب تک یہوواہ حکم نہ دے، کون بول سکتا ہے اور اِسے پورا کروا سکتا ہے؟‏

38 خدا تعالیٰ کے مُنہ سے اچھی اور بُری باتیں ایک ساتھ نہیں نکلتیں۔‏

39 ایک اِنسان*‏ اپنے گُناہ کے انجام کے بارے میں شکایت کیوں کرتا ہے؟‏

נ ‏[‏نون]‏

40 آؤ اپنی روِش کو پرکھیں اور اِس کا جائزہ لیں اور یہوواہ کے پاس لوٹ جائیں۔‏

41 آؤ آسمان کے خدا کے سامنے اپنے ہاتھ اُٹھا کر سچے دل سے یہ کہیں:‏

42 ‏”‏ہم نے گُناہ اور بغاوت کی ہے اور تُو نے ہمیں معاف نہیں کِیا ہے۔‏

ס ‏[‏سامک]‏

43 تُو نے غصے میں ہمارا راستہ روک دیا ہے؛‏

تُو نے ہمارا پیچھا کِیا ہے اور بِنا ترس کھائے ہمیں مار ڈالا ہے۔‏

44 تُو نے بادل سے اپنے پاس آنے کا راستہ روک دیا ہے تاکہ ہماری دُعا اُس سے پار نہ جا سکے۔‏

45 تُو ہمیں قوموں کے بیچ کُوڑاکرکٹ اور کچرا بنا دیتا ہے۔“‏

פ ‏[‏پے]‏

46 ہمارے سب دُشمن ہمارے خلاف اپنا مُنہ کھولتے ہیں۔‏

47 دہشت اور گڑھے ہمارا حصہ بن گئے ہیں اور تباہی اور بربادی بھی۔‏

48 میری قوم کی بیٹی کی تباہی پر میری آنکھوں سے پانی کی ندیاں بہتی ہیں۔‏

ע ‏[‏عین]‏

49 میری آنکھوں سے تب تک بِنا رُکے اور بِنا تھمے آنسو بہتے رہیں گے

50 جب تک یہوواہ نیچے نہیں دیکھتا اور آسمان سے نظر نہیں کرتا۔‏

51 اپنے شہر کی سب بیٹیوں کی حالت دیکھ کر مَیں*‏ بہت دُکھی ہوں۔‏

צ ‏[‏صادے]‏

52 میرے دُشمنوں نے بِلاوجہ پرندے کی طرح میرا شکار کِیا ہے۔‏

53 اُنہوں نے مجھے گڑھے میں پھینک کر خاموش کرا دیا؛ وہ مجھ پر پتھر برساتے رہے۔‏

54 پانیوں نے مجھے ڈبو دیا اور مَیں نے کہا:‏ ”‏اب مَیں نہیں بچوں گا!‏“‏

ק ‏[‏قوف]‏

55 اَے یہوواہ!‏ مَیں نے گڑھے کی گہرائیوں سے تیرا نام پکارا۔‏

56 میری سُن؛ مدد اور چھٹکارے کے لیے میری فریاد پر کان لگا۔‏

57 جس دن مَیں نے تجھے پکارا، تُو میرے قریب آ گیا۔ تُو نے کہا:‏ ”‏ڈرو مت۔“‏

ר ‏[‏ریش]‏

58 اَے یہوواہ!‏ تُو نے میرا*‏ مُقدمہ لڑا ہے؛ تُو نے میری جان بچائی ہے۔‏

59 اَے یہوواہ!‏ تُو نے میرے ساتھ ہونے والی نااِنصافی دیکھی ہے؛ مہربانی سے مجھے اِنصاف دِلا۔‏

60 تُو نے دیکھا ہے کہ اُنہوں نے کیسے کیسے بدلہ لیا ہے اور میرے خلاف کیسی کیسی سازشیں گھڑی ہیں۔‏

ש ‏[‏سین]‏ یا ‏[‏شین]‏

61 اَے یہوواہ!‏ تُو نے اُن کے طعنے اور میرے خلاف اُن کی سب سازشیں سنی ہیں؛‏

62 تُو نے سنا ہے کہ سارا دن میرے مخالف کیا باتیں کرتے ہیں اور میرے خلاف کیا پُھسپُھساتے ہیں۔‏

63 اُن کو دیکھ؛ چاہے وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے، وہ اپنے گانوں میں میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔‏

ת ‏[‏تاو]‏

64 اَے یہوواہ!‏ تُو اُنہیں اُن کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔‏

65 تُو اُنہیں لعنت کے طور پر سخت‌دل بنا دے گا۔‏

66 اَے یہوواہ!‏ تُو اپنے غصے میں اُن کا پیچھا کرے گا اور اُنہیں اپنے آسمان کے نیچے سے مٹا دے گا۔‏

א ‏[‏آلف]‏

4 ہائے سونے کی چمک، ہاں، خالص سونے کی چمک کیسے پھیکی پڑ گئی ہے!‏

ہائے مُقدس پتھر ہر گلی کے سِرے پر کیسے بکھرے پڑے ہیں!‏

ב ‏[‏بیتھ]‏

 2 صِیّون کے بیش‌قیمت بیٹوں کو خالص سونے کے برابر تولا جاتا تھا۔‏*‏

ہائے اب اُنہیں مٹی کے مٹکوں کی طرح سمجھا جاتا ہے

جو کُمہار کے ہاتھوں سے بنے ہیں!‏

ג ‏[‏گیمل]‏

 3 گیدڑیاں تک اپنے تھنوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں

لیکن میری قوم کی بیٹی ویرانے کے شُترمُرغوں کی طرح ظالم بن گئی ہے۔‏

ד ‏[‏دالتھ]‏

 4 دودھ پیتے بچے کی زبان پیاس کی وجہ سے اُس کے تالُو سے چپک گئی ہے۔‏

بچے روٹی کی بھیک مانگتے ہیں لیکن کوئی اُنہیں روٹی نہیں دیتا۔‏

ה ‏[‏ہے]‏

 5 جو لوگ عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے تھے، وہ گلیوں میں بھوکے*‏ پڑے ہیں۔‏

جو لوگ بچپن سے گہرا سُرخ لباس پہنتے تھے، وہ راکھ کے ڈھیروں پر پڑے ہیں۔‏

ו ‏[‏واو]‏

 6 میری قوم کی بیٹی کی سزا*‏ سدوم کے گُناہ کی سزا سے بھی زیادہ بڑی ہے

جسے پَل بھر میں تباہ کر دیا گیا تھا اور جس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔‏

ז ‏[‏زین]‏

 7 اُس کے نذیر برف سے زیادہ پاک اور دودھ سے زیادہ سفید تھے۔‏

وہ مرجان*‏ سے زیادہ سُرخ تھے اور نیلم کی طرح چمک‌دار تھے۔‏

ח ‏[‏خیتھ]‏

 8 وہ کوئلے*‏ سے بھی زیادہ کالے ہو گئے ہیں؛‏

اُنہیں گلیوں میں کوئی نہیں پہچانتا۔‏

اُن کی جِلد سکڑ کر اُن کی ہڈیوں سے چپک گئی ہے؛ وہ سُوکھی لکڑی کی طرح ہو گئی ہے۔‏

ט ‏[‏طیتھ]‏

 9 تلوار سے ہلاک ہونے والے قحط سے ہلاک ہونے والوں سے بہتر ہیں،‏

ہاں، اُن سے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور ہوتے جاتے ہیں جیسے وہ چھلنی ہو گئے ہوں۔‏

י ‏[‏یود]‏

10 ممتا سے بھری عورتوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو اُبالا ہے۔‏

وہ میری قوم کی بیٹی کی زخمی حالت کے دوران اُن کے لیے ماتم کا کھانا بن گئے ہیں۔‏

כ ‏[‏کاف]‏

11 یہوواہ نے اپنا غضب نازل کِیا ہے؛‏

اُس نے اپنا بھڑکتا ہوا غصہ اُنڈیلا ہے۔‏

اُس نے صِیّون میں ایک آگ بھڑکائی ہے جو اُس کی بنیادوں کو بھسم کر رہی ہے۔‏

ל ‏[‏لامد]‏

12 زمین کے بادشاہوں اور زرخیز زمین کے سب باشندوں نے اِس بات پر یقین نہیں کِیا

کہ مخالف اور دُشمن یروشلم کے دروازوں سے داخل ہوں گے۔‏

מ ‏[‏میم]‏

13 ایسا اُس کے نبیوں کے گُناہوں اور اُس کے کاہنوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہوا

جنہوں نے اُس کے بیچ نیک لوگوں کا خون بہایا۔‏

נ ‏[‏نون]‏

14 وہ گلیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے پھرتے ہیں۔‏

وہ خون سے آلودہ ہیں

اِس لیے کوئی اُن کے کپڑوں کو چُھو نہیں سکتا۔‏

ס ‏[‏سامک]‏

15 وہ اُونچی آواز میں اُن سے کہتے ہیں:‏ ”‏دُور رہو!‏ ناپاک!‏ دُور رہو!‏ دُور رہو!‏ ہمیں چُھونا مت!‏“‏

کیونکہ وہ بے‌گھر ہو گئے ہیں اور اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں۔‏

قوموں کے لوگوں نے کہا ہے:‏ ”‏وہ ہمارے ساتھ یہاں نہیں رہ سکتے۔‏*‏

פ ‏[‏پے]‏

16 یہوواہ*‏ نے اُنہیں تتربتر کر دیا ہے؛‏

اب وہ اُن پر نظرِکرم نہیں کرے گا۔‏

لوگ کاہنوں کا احترام نہیں کریں گے اور بزرگوں کا لحاظ نہیں کریں گے۔“‏

ע ‏[‏عین]‏

17 ہماری آنکھیں فضول میں مدد کا اِنتظار کرتے کرتے اب بھی تھکی ہوئی ہیں۔‏

ہم مدد کے لیے ایک ایسی قوم کی راہ تکتے رہے جو ہمیں بچا نہیں سکتی تھی۔‏

צ ‏[‏صادے]‏

18 اُنہوں نے قدم قدم پر ہمارا پیچھا کِیا ہے اِس لیے ہم اپنے چوکوں میں چل پھر نہیں سکتے۔‏

ہمارا خاتمہ قریب ہے؛ ہمارے دن پورے ہو گئے ہیں کیونکہ ہمارا خاتمہ آ گیا ہے۔‏

ק ‏[‏قوف]‏

19 ہمارا پیچھا کرنے والے آسمان میں اُڑنے والے عقابوں سے زیادہ تیزرفتار تھے۔‏

اُنہوں نے پہاڑوں پر ہمارا پیچھا کِیا اور ویرانے میں ہم پر حملہ کرنے کے لیے گھات لگائی۔‏

ר ‏[‏ریش]‏

20 ہمارے نتھنوں کی سانس کو یعنی یہوواہ کے مسح‌شُدہ*‏ بندے کو اُن کے بڑے گڑھے میں پکڑ لیا گیا ہے،‏

ہاں، اُسے جس کے بارے میں ہم کہتے تھے کہ ”‏ہم اُس کے سائے میں قوموں کے بیچ رہیں گے۔“‏

ש ‏[‏سین]‏

21 اَے ادوم کی بیٹی!‏ تُو جو ملک عُوض میں رہتی ہے، خوشیاں اور جشن منا۔‏

لیکن یہ پیالہ تجھ تک بھی پہنچے گا اور تُو اِسے پی کر دُھت ہو جائے گی اور اپنا ننگاپن دِکھائے گی۔‏

ת ‏[‏تاو]‏

22 اَے صِیّون کی بیٹی!‏ تیرے گُناہ کی سزا ختم ہو گئی ہے۔‏

وہ دوبارہ تجھے قید میں نہیں لے جائے گا۔‏

لیکن اَے ادوم کی بیٹی!‏ وہ تجھے تیرے گُناہ کی سزا دے گا۔‏

وہ تیرے گُناہوں کا پردہ فاش کر دے گا۔‏

5 اَے یہوواہ!‏ ہم پر جو بیتی ہے، اُسے یاد کر۔‏

ہماری رُسوائی کو دیکھ اور اِس پر نظر کر۔‏

 2 ہماری وراثت اجنبیوں کے اور ہمارے گھر پردیسیوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔‏

 3 ہمارے سروں سے والدوں کا سایہ اُٹھ گیا ہے، ہم یتیم ہو گئے ہیں؛ ہماری مائیں بیواؤں کی طرح ہو گئی ہیں۔‏

 4 ہمیں پینے کے لیے اپنا ہی پانی خریدنا پڑ رہا ہے اور اپنی ہی لکڑی کے لیے قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‏

 5 ہمارا پیچھا کرنے والے ہماری گردن تک پہنچ گئے ہیں؛‏

ہم نڈھال ہو گئے ہیں لیکن ہمیں ذرا بھی آرام نہیں کرنے دیا جا رہا۔‏

 6 ہم مصر اور اسور کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ ہمیں گزارے لائق روٹی مل سکے۔‏

 7 ہمارے باپ‌دادا جنہوں نے گُناہ کِیا تھا، اب نہیں رہے لیکن ہمیں اُن کے گُناہوں کا انجام بھگتنا پڑ رہا ہے۔‏

 8 اب نوکر ہم پر حکمرانی کرتے ہیں؛ ہمیں اُن کے ہاتھ سے چھڑانے والا کوئی نہیں ہے۔‏

 9 ہم ویرانے کی تلوار کی وجہ سے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روٹی لاتے ہیں۔‏

10 شدید بھوک کی وجہ سے ہماری جِلد بھٹی کی طرح تپ رہی ہے۔‏

11 صِیّون میں رہنے والی شادی‌شُدہ عورتوں اور یہوداہ کے شہروں میں رہنے والی کنواریوں کو رُسوا کِیا گیا ہے۔‏*‏

12 حاکموں کو ہاتھ سے باندھ کر لٹکا دیا گیا اور بزرگوں کا ذرا بھی احترام نہیں کِیا گیا۔‏

13 جوان آدمی ہاتھ والی چکی اُٹھاتے ہیں اور لڑکے لکڑی کا بوجھ اُٹھائے لڑکھڑاتے ہیں۔‏

14 بزرگ شہر کے دروازے سے چلے گئے ہیں؛ جوان آدمی موسیقی نہیں بجا رہے۔‏

15 ہمارے دلوں میں خوشی نہیں رہی؛ ہمارا ناچ ماتم میں بدل گیا ہے۔‏

16 ہمارے سر سے تاج گِر گیا ہے۔ ہم پر افسوس کیونکہ ہم نے گُناہ کِیا ہے!‏

17 اِس وجہ سے ہمارا دل بیمار ہے

اور اِن باتوں کی وجہ سے ہماری آنکھیں دُھندلا گئی ہیں،‏

18 ہاں، کوہِ‌صِیّون کی وجہ سے جو ویران پڑا ہے۔‏

اب اُس پر لومڑیاں گھومتی پھرتی ہیں۔‏

19 اَے یہوواہ!‏ تُو ہمیشہ تخت‌نشین رہتا ہے۔‏

تیرا تخت نسل‌درنسل قائم رہتا ہے۔‏

20 تُو ہمیں ہمیشہ کے لیے بھول کیوں گیا ہے؟ تُو نے ہمیں اِتنے لمبے عرصے کے لیے چھوڑ کیوں دیا ہے؟‏

21 اَے یہوواہ!‏ ہمیں اپنے پاس واپس لا اور ہم خوشی خوشی تیرے پاس لوٹ آئیں گے۔‏

ہمارے پُرانے دن ہمیں لوٹا دے۔‏

22 لیکن تُو نے تو ہمیں بالکل ٹھکرا دیا ہے۔‏

تجھے ابھی بھی ہم پر شدید غصہ ہے۔‏

اِس کتاب کے پہلے چار ابواب ماتمی گیت ہیں۔ اِن گیتوں کا ہر حصہ عبرانی حروفِ‌تہجی کی ترتیب کے مطابق کسی عبرانی حرف سے شروع ہوتا ہے۔‏

یا ”‏ضلعوں“‏

یا ”‏جوان عورتیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یروشلم“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی جان بحال ہو۔“‏

یہاں یروشلم کو ایک عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہوواہ نیک ہے“‏

یا ”‏جوان عورتیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان بحال کرنے کے لیے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری آنتوں میں“‏

یا ”‏طاقت“‏

گھاس‌پھوس سے بنی سایہ‌دار جگہ

یا ”‏تباہ“‏

پُشتہ کسی جگہ کے گِرد بنایا جانے والا حفاظتی بند یا دیوار ہوتی تھی۔‏

یا ”‏ہدایت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری آنتوں میں“‏

یہ شاعرانہ اِصطلا‌ح شاید رحم یا ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کی گئی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کا سینگ اُونچا کِیا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی آنکھ کی بیٹی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏کوکھ کے پھل“‏

یا ”‏میری جوان عورتیں“‏

یا ”‏صحت‌مند پیدا کِیا“‏

یا ”‏روک دیتا ہے؛ کو نہیں سنتا۔“‏

یا شاید ”‏اور مجھے بے‌کار پڑے رہنے پر مجبور کر دیا ہے؛“‏

تیر رکھنے کا خول

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹوں“‏

ایک قسم کا پودا جس میں زہریلا اور کڑوا مادہ ہوتا ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تیری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏صبر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زندہ اِنسان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کا“‏

یا ”‏بیش‌قیمت بیٹے خالص سونے جتنے قیمتی تھے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تباہ‌حال“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گُناہ“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کالک“‏

یا ”‏یہاں پردیسیوں کے طور پر نہیں رہ سکتے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہوواہ کے چہرے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کی عزت لُوٹی گئی ہے۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں