یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د 2-‏تواریخ 1:‏1-‏36:‏23
  • 2-‏تواریخ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 2-‏تواریخ
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
2-‏تواریخ

تواریخ کی دوسری کتاب

1 داؤد کے بیٹے سلیمان کی بادشاہت مضبوط ہوتی گئی اور اُن کا خدا یہوواہ اُن کے ساتھ تھا اور اُس نے اُنہیں بڑی عزت بخشی۔‏

2 سلیمان نے سارے اِسرائیل کو بُلایا جس میں ہزار ہزار اور سو سو کے دستوں کے سربراہ، قاضی اور سارے اِسرائیل کے سب سربراہ یعنی آبائی خاندانوں کے سربراہ شامل تھے۔ 3 پھر سلیمان اور ساری جماعت جِبعون میں اُونچی جگہ پر گئی کیونکہ وہاں سچے خدا کا خیمۂ‌اِجتماع تھا جسے یہوواہ کے بندے موسیٰ نے ویرانے میں بنایا تھا۔ 4 لیکن داؤد سچے خدا کے صندوق کو قِریت‌یعریم سے اُس جگہ لے آئے تھے جو اُنہوں نے اِس کے لیے تیار کی تھی۔ اُنہوں نے اِس کے لیے یروشلم میں ایک خیمہ کھڑا کِیا تھا۔ 5 اور تانبے کی اُس قربان‌گاہ کو جو حُور کے بیٹے اُوری کے بیٹے بِضلی‌ایل نے بنائی تھی، یہوواہ کے مُقدس خیمے کے سامنے رکھا گیا تھا۔ سلیمان اور ساری جماعت اُس کے سامنے دُعا کرتی تھی۔‏*‏ 6 سلیمان نے وہاں یہوواہ کے حضور قربانیاں پیش کیں۔ اُنہوں نے خیمۂ‌اِجتماع کے سامنے موجود تانبے کی قربان‌گاہ پر 1000 بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کیں۔‏

7 اُس رات خدا سلیمان پر ظاہر ہوا اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏بتاؤ مَیں تمہیں کیا دوں؟“‏ 8 اِس پر سلیمان نے خدا سے کہا:‏ ”‏تُو نے میرے والد داؤد کے لیے عظیم اٹوٹ محبت ظاہر کی ہے اور تُو نے مجھے اُن کی جگہ بادشاہ بنایا ہے۔ 9 اب اَے یہوواہ خدا!‏ تیرا وہ وعدہ سچا ثابت ہو جو تُو نے میرے والد داؤد سے کِیا تھا کیونکہ تُو نے مجھے ایک ایسی قوم کا بادشاہ بنایا ہے جو خاک کے ذرّوں کی طرح بے‌شمار ہے۔ 10 مجھے دانش‌مندی اور علم عطا کر تاکہ مَیں اِس قوم کی پیشوائی کر سکوں*‏ کیونکہ کون تیری اِس بڑی قوم کا اِنصاف کر سکتا ہے؟“‏

11 تب خدا نے سلیمان سے کہا:‏ ”‏چونکہ یہ تمہاری دلی خواہش ہے اور تُم نے مال‌ودولت اور عزت یا اُن کی موت*‏ نہیں مانگی ہے جو تُم سے نفرت کرتے ہیں اور نہ ہی لمبی عمر مانگی ہے بلکہ تُم نے دانش‌مندی اور علم مانگا ہے تاکہ تُم میری اُس قوم کا اِنصاف کر سکو جس کا مَیں نے تمہیں بادشاہ بنایا ہے 12 اِس لیے تمہیں دانش‌مندی اور علم عطا کِیا جائے گا بلکہ مَیں تمہیں اِتنا مال‌ودولت اور عزت بھی دوں گا جتنا نہ تو تُم سے پہلے کسی بادشاہ کو ملا اور نہ تمہارے بعد ملے گا۔“‏

13 پھر سلیمان جِبعون میں اُونچی جگہ سے یعنی خیمۂ‌اِجتماع کے سامنے سے یروشلم آئے۔ وہ اِسرائیل پر حکمرانی کرتے رہے۔ 14 سلیمان رتھ اور گھوڑے*‏ جمع کرتے رہے۔ اُن کے پاس 1400 رتھ اور 12 ہزار گھوڑے*‏ تھے جنہیں وہ رتھوں والے شہروں میں اور یروشلم میں اپنے پاس رکھتے تھے۔ 15 بادشاہ نے یروشلم میں اِتنی بڑی تعداد میں چاندی اور سونا اِکٹھا کِیا جیسے پتھر ہوں اور اِتنی زیادہ دیودار کی لکڑی اِکٹھی کی جیسے شِفیلہ میں گُولر*‏ کے درخت ہوں۔ 16 بادشاہ سلیمان کے گھوڑے مصر سے آتے تھے اور بادشاہ کے تاجر مقررہ قیمت پر گھوڑوں کے غول کے غول خرید کر لاتے تھے۔‏*‏ 17 مصر سے منگوائے جانے والے ہر رتھ کی قیمت چاندی کے 600 ٹکڑے تھی اور ہر گھوڑے کی قیمت چاندی کے 150 ٹکڑے۔ پھر وہ تاجر اِن رتھوں اور گھوڑوں کو حِتّیوں کے سب بادشاہوں اور سُوریہ کے بادشاہوں کو بیچتے*‏ تھے۔‏

2 سلیمان نے یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر اور اپنے لیے ایک شاہی محل بنانے کا حکم دیا۔ 2 اُنہوں نے 70 ہزار عام*‏ مزدور اور 80 ہزار ایسے مزدور چُنے جو پہاڑوں میں پتھر کاٹیں اور اُن پر 3600 نگران مقرر کیے۔ 3 اِس کے علاوہ سلیمان نے صُور کے بادشاہ حِیرام کے پاس یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏جیسے آپ نے میرے والد داؤد کے لیے کِیا اور اُنہیں اپنا محل بنانے کے لیے دیودار کی لکڑی بھیجی ویسے ہی میرے لیے بھی کریں۔ 4 مَیں اپنے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بنانے لگا ہوں تاکہ اِسے اُس کے لیے مخصوص کِیا جائے، اِس میں اُس کے حضور خوشبودار بخور جلایا جائے، باقاعدگی سے تہہ‌درتہہ روٹیاں*‏ رکھی جائیں اور صبح شام، سبت پر، نئے چاند پر اور ہمارے خدا یہوواہ کی عیدوں پر بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کی جائیں۔ یہ ہمیشہ کے لیے اِسرائیل پر فرض ہوگا۔ 5 مَیں جو گھر بنانے لگا ہوں، وہ عظیم ہوگا کیونکہ ہمارا خدا باقی سب خداؤں سے عظیم ہے۔ 6 لیکن کون اِس لائق ہے کہ اُس کے لیے گھر بنا سکے کیونکہ وہ تو آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی نہیں سما سکتا؟ اِس لیے میری کیا حیثیت ہے کہ مَیں اُس کے لیے گھر بنا سکوں؟ مَیں تو بس ایک ایسی جگہ بنا سکتا ہوں جہاں اُس کے حضور قربانیاں پیش کی جا سکیں تاکہ اُن کا دُھواں اُٹھے۔ 7 میرے پاس کسی ایسے کاریگر کو بھیج دیں جو سونے، چاندی، تانبے، لوہے، جامنی اُون، گہرے سُرخ دھاگے اور نیلے دھاگے کے کام میں ماہر ہو اور نقش‌کاری جانتا ہو۔ وہ یہوداہ اور یروشلم میں میرے ماہر کاریگروں کے ساتھ کام کرے گا جنہیں میرے والد داؤد نے مقرر کِیا تھا۔ 8 مجھے لبنان سے دیودار، صنوبر اور صندل کی لکڑی بھیج دیں کیونکہ مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کے خادم لبنان کے درخت کاٹنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ میرے خادم آپ کے خادموں کے ساتھ مل کر کام کریں گے 9 تاکہ وہ میرے لیے بڑی تعداد میں لکڑی تیار کریں کیونکہ جو گھر مَیں بنانے والا ہوں، وہ اِنتہائی عالی‌شان ہوگا۔ 10 مَیں آپ کے خادموں یعنی لکڑہاروں کو 20 ہزار کور*‏ گندم، 20 ہزار کور*‏ جَو، 20 ہزار بت*‏ مے اور 20 ہزار بت تیل خوراک کے لیے دوں گا۔“‏

11 اِس پر صُور کے بادشاہ حِیرام نے بادشاہ سلیمان کو یہ پیغام بھیجا جو تحریری شکل میں تھا:‏ ”‏یہوواہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے اِس لیے اُس نے آپ کو بادشاہ بنایا ہے۔“‏ 12 پھر حِیرام نے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے آسمان اور زمین کو بنایا کیونکہ اُس نے بادشاہ داؤد کو ایک دانش‌مند بیٹا دیا جسے سمجھ‌داری اور عقل‌مندی سے نوازا گیا ہے۔ وہ یہوواہ کے لیے ایک گھر اور اپنے لیے شاہی محل بنائے گا۔ 13 اب مَیں آپ کے پاس ایک ماہر اور سمجھ‌دار کاریگر حِیرام‌ابی کو بھیج رہا ہوں۔ 14 وہ دان کے قبیلے کی ایک عورت کا بیٹا ہے اور اُس کا والد صُور سے تھا۔ وہ سونے، چاندی، تانبے، لوہے، پتھر، لکڑی، جامنی اُون، نیلے دھاگے، نفیس کپڑے اور گہرے سُرخ دھاگے کے کام میں تجربہ رکھتا ہے۔ وہ ہر طرح کی نقش‌کاری کر سکتا ہے اور اُسے جو بھی نمونہ دیا جائے، اُس کے مطابق کچھ بھی بنا سکتا ہے۔ وہ آپ کے ماہر کاریگروں اور آپ کے والد یعنی میرے مالک داؤد کے ماہر کاریگروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ 15 اب میرے مالک!‏ وہ گندم، جَو، تیل اور مے بھیج دیں جس کا آپ نے اپنے خادموں سے وعدہ کِیا ہے۔ 16 ہم لبنان سے اُتنے درخت کاٹیں گے جتنے آپ چاہیں گے اور ہم اُنہیں لٹھوں کی شکل میں سمندر کے راستے یافا تک لائیں گے اور پھر آپ اُنہیں یروشلم لے جانا۔“‏

17 اِس کے بعد سلیمان نے اُن سب آدمیوں کو گنا جو اِسرائیل میں پردیسی تھے جیسے اُن کے والد داؤد نے کِیا تھا۔ اُن آدمیوں کی تعداد 1 لاکھ 53 ہزار 600 تھی۔ 18 سلیمان نے اُن میں سے 70 ہزار عام*‏ مزدور اور 80 ہزار ایسے مزدور چُنے جو پہاڑوں میں پتھر کاٹیں اور 3600 نگران مقرر کیے تاکہ وہ لوگوں سے کام کروائیں۔‏

3 اِس کے بعد سلیمان نے کوہِ‌موریاہ پر یروشلم میں یہوواہ کا گھر بنانا شروع کِیا جہاں یہوواہ اُن کے والد داؤد پر ظاہر ہوا تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جو داؤد نے اُرنان یبوسی کے کھلیان*‏ میں تیار کی تھی۔ 2 سلیمان نے اِس گھر کو اپنی حکمرانی کے چوتھے سال میں دوسرے مہینے کے دوسرے دن بنانا شروع کِیا۔ 3 اُنہوں نے سچے خدا کے گھر کی تعمیر کے لیے جو بنیاد ڈالی، وہ پُرانی پیمائش*‏ کے مطابق 60 ہاتھ لمبی اور 20 ہاتھ چوڑی تھی۔ 4 سامنے والی ڈیوڑھی کی لمبائی 20 ہاتھ تھی جو کہ گھر کی چوڑائی کے برابر تھی۔ اُس کی اُونچائی 20 ہاتھ*‏ تھی اور اُس میں اندر کی طرف خالص سونے کی پرت لگائی گئی تھی۔ 5 اُنہوں نے بڑے کمرے*‏ میں صنوبر کی لکڑی کے تختے لگوائے، اُس میں خالص سونے کی پرت لگوائی اور پھر اُسے کھجور کے درختوں کے نقش‌ونگار اور زنجیروں سے سجایا۔ 6 اِس کے علاوہ اُنہوں نے گھر میں خوب‌صورت قیمتی پتھر لگوائے۔ اُنہوں نے جو سونا اِستعمال کِیا، وہ پروائم کا تھا۔ 7 اُنہوں نے گھر، شہتیروں، دہلیزوں، دیواروں اور دروازوں پر سونا لگوایا اور دیواروں پر کروبی کندہ کرائے۔‏

8 پھر اُنہوں نے مُقدس‌ترین خانہ*‏ بنوایا جس کی لمبائی گھر کی چوڑائی کے برابر یعنی 20 ہاتھ تھی اور اُس کی چوڑائی بھی 20 ہاتھ تھی۔ اُنہوں نے اُس پر 600 قِنطار*‏ خالص سونا لگوایا۔ 9 کیلوں کے لیے 50 مِثقال*‏ سونا اِستعمال کِیا گیا۔ اُنہوں نے چھت پر موجود کمروں میں سونے کی پرتیں لگوائیں۔‏

10 اِس کے بعد اُنہوں نے مُقدس‌ترین خانے*‏ میں کروبیوں کے دو مجسّمے بنوائے اور اُن پر سونا لگوایا۔ 11 کروبیوں کے پَروں کی کُل لمبائی 20 ہاتھ تھی۔ ایک کروبی کے ایک پَر کی لمبائی پانچ ہاتھ تھی اور وہ گھر کی دیوار کو چُھو رہا تھا۔ اُس کا دوسرا پَر پانچ ہاتھ لمبا تھا جو دوسرے کروبی کے ایک پَر کو چُھو رہا تھا۔ 12 دوسرے کروبی کا ایک پَر پانچ ہاتھ لمبا تھا اور وہ گھر کی دوسری دیوار کو چُھو رہا تھا اور اُس کے دوسرے پَر کی لمبائی پانچ ہاتھ تھی جو پہلے کروبی کے ایک پَر کو چُھو رہا تھا۔ 13 اُن کروبیوں کے پَر 20 ہاتھ تک پھیلے ہوئے تھے۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے تھے اور اُن کا رُخ اندر کی طرف*‏ تھا۔‏

14 سلیمان نے نیلے دھاگے، جامنی اُون، گہرے سُرخ دھاگے اور نفیس کپڑے کا پردہ بھی بنوایا اور اُس پر کروبی بنوائے۔‏

15 پھر اُنہوں نے گھر کے سامنے دو ستون بنوائے جن کی لمبائی 35 ہاتھ تھی اور ہر ستون کے اُوپر موجود تاج پانچ ہاتھ کا تھا۔ 16 اُنہوں نے ہار جیسی زنجیریں بنوائیں اور اُنہیں ستونوں کے اُوپر والے حصے پر لگوایا۔ اُنہوں نے 100 انار بنوائے اور اُنہیں زنجیروں پر لگوایا۔ 17 اُنہوں نے ہیکل کے سامنے ستون کھڑے کرائے۔ ایک ستون دائیں*‏ طرف تھا اور ایک بائیں*‏ طرف۔ اُنہوں نے دائیں طرف والے ستون کا نام یاکن*‏ رکھا اور بائیں طرف والے ستون کا نام بوعز*‏ رکھا۔‏

4 پھر سلیمان نے تانبے کی قربان‌گاہ بنائی جس کی لمبائی 20 ہاتھ، چوڑائی 20 ہاتھ اور اُونچائی 10 ہاتھ تھی۔‏

2 اُنہوں نے دھات کو ڈھال کر ایک بڑا سا حوض*‏ بنایا جو گول تھا۔ اُس کے مُنہ کی چوڑائی ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک 10 ہاتھ تھی۔ اُس کی اُونچائی 5 ہاتھ تھی اور گھیرا 30 ہاتھ تھا۔‏*‏ 3 اُس کے نیچے ہر طرف سجاوٹ کے لیے کدو بنائے گئے تھے۔ حوض کے گِرد ایک ایک ہاتھ کی جگہ پر دس دس کدوؤں کی دو قطاریں بنائی گئی تھیں جنہیں حوض کے ساتھ ہی ڈھال کر بنایا گیا تھا۔ 4 اُس حوض کو 12 بیلوں پر رکھا گیا تھا جن میں سے 3 کا رُخ شمال کی طرف تھا، 3 کا مغرب کی طرف، 3 کا جنوب کی طرف اور 3 کا مشرق کی طرف۔ سبھی بیلوں کے پچھلے حصوں کا رُخ اندر کی طرف تھا اور حوض کو اِن بیلوں پر ٹکایا گیا تھا۔ 5 حوض کی موٹائی چار اُنگل*‏ تھی۔ اُس کا مُنہ پیالے کے مُنہ کی طرح بنایا گیا تھا جو سوسن کے کِھلے ہوئے پھول کی طرح دِکھتا تھا۔ اُس حوض میں 3000 بت*‏ پانی آ سکتا تھا۔‏

6 اُنہوں نے دس چھوٹے حوض بھی بنائے جن میں سے پانچ دائیں طرف رکھے گئے اور پانچ بائیں طرف۔ اُن حوضوں میں وہ چیزیں دھوئی جاتی تھیں جو بھسم ہونے والی قربانی کے لیے اِستعمال ہوتی تھیں۔ لیکن بڑا حوض کاہنوں کے ہاتھ پاؤں دھونے کے لیے تھا۔‏

7 پھر اُنہوں نے ہدایت کے مطابق سونے کے دس شمع‌دان بنائے اور اُنہیں ہیکل میں رکھا، پانچ دائیں طرف اور پانچ بائیں طرف۔‏

8 اُنہوں نے دس میزیں بھی بنائیں اور اُنہیں ہیکل میں رکھا، پانچ دائیں طرف اور پانچ بائیں طرف۔ اُنہوں نے سونے کے 100کٹورے بھی بنائے۔‏

9 اِس کے بعد اُنہوں نے کاہنوں کا صحن، بڑا صحن اور اُس کے دروازے بنائے اور دروازوں پر تانبے کی پرت لگوائی۔ 10 اُنہوں نے بڑے حوض کو دائیں طرف جنوب مشرق میں رکھا۔‏

11 حِیرام نے راکھ‌دان، بیلچے اور کٹورے بھی بنائے۔‏

اِس طرح حِیرام نے سچے خدا کے گھر کے حوالے سے بادشاہ سلیمان کا کام مکمل کِیا۔ اُنہوں نے یہ چیزیں بنائیں:‏ 12 دو ستون، دو ستونوں کے اُوپر دو کٹورانما تاج، ستونوں کے اُوپر دو کٹورانما تاجوں کو ڈھکنے کے لیے دو جالیاں؛ 13 دو جالیوں کے لیے 400 انار یعنی ہر جالی کے لیے اناروں کی دو قطاریں تاکہ ستونوں کے دو کٹورانما تاجوں کو ڈھکا جا سکے؛ 14 دس ہتھ‌گاڑیاں*‏ اور اُن پر رکھنے کے لیے دس چھوٹے حوض؛ 15 بڑا حوض اور اُس کے نیچے 12 بیل؛ 16 راکھ‌دان، بیلچے، کانٹے اور باقی سب چیزیں جو حِیرام‌ابیو نے بادشاہ سلیمان کے کہنے پر یہوواہ کے گھر کے لیے چمکتے ہوئے تانبے سے بنائیں۔ 17 بادشاہ نے یہ چیزیں اُردن*‏ کے علاقے میں سُکات اور صریدہ کے بیچ مٹی کے سانچوں میں ڈھلوائیں۔ 18 سلیمان نے یہ سب چیزیں بڑی تعداد میں بنوائیں۔ اِس لیے جو تانبا اِستعمال ہوا تھا، اُس کا وزن معلوم نہیں ہو سکا۔‏

19 سلیمان نے سچے خدا کے گھر کے لیے یہ سب چیزیں بنوائیں:‏ سونے کی قربان‌گاہ؛ وہ میزیں جن پر نذرانے کی روٹی رکھی جاتی تھی؛ 20 خالص سونے کے شمع‌دان اور اُن کے چراغ تاکہ اُنہیں قاعدے کے مطابق سب سے اندر والے کمرے کے سامنے روشن کِیا جا سکے؛ 21 سونے بلکہ خالص سونے کے کِھلے ہوئے پھول، چراغ اور چمٹیاں؛ 22 بتی کاٹنے والی قینچیاں جو خالص سونے کی تھیں؛ خالص سونے کے کٹورے، پیالے اور کوئلہ‌دان اور گھر کا داخلی دروازہ، مُقدس‌ترین خانے کے اندرونی دروازے اور مُقدس خانے*‏ کے دروازے جو سونے کے تھے۔‏

5 اِس طرح سلیمان نے یہوواہ کے گھر کے لیے وہ سارا کام مکمل کِیا جو اُنہیں کرنا تھا۔ پھر سلیمان وہ چیزیں لائے جو اُن کے والد داؤد نے پاک کی تھیں اور اُنہوں نے چاندی، سونا اور باقی سب چیزیں سچے خدا کے گھر کے خزانوں میں رکھ دیں۔ 2 اُس وقت سلیمان نے اِسرائیل کے بزرگوں یعنی سب قبیلوں کے سربراہوں اور گھرانوں کے سربراہوں کو اِکٹھا کِیا۔ وہ یروشلم آئے تاکہ داؤد کے شہر یعنی صِیّون سے یہوواہ کے عہد کا صندوق لائیں۔ 3 اِسرائیل کے سب مرد ساتویں مہینے میں منائی جانے والی عید*‏ پر بادشاہ کے سامنے اِکٹھے ہوئے۔‏

4 جب اِسرائیل کے سب بزرگ آئے تو لاویوں نے عہد کا صندوق اُٹھایا۔ 5 کاہن اور لاوی*‏ عہد کا صندوق، خیمۂ‌اِجتماع اور وہ ساری پاک چیزیں لائے جو خیمے میں تھیں۔ 6 بادشاہ سلیمان اور اِسرائیل کا وہ سارا مجمع جسے اُنہوں نے بُلوایا تھا، عہد کے صندوق کے سامنے تھا۔ اُس موقعے پر اِتنی زیادہ بھیڑیں اور گائے بیل قربان کیے گئے کہ اُنہیں گنا نہیں جا سکتا تھا۔ 7 پھر کاہن یہوواہ کے عہد کے صندوق کو اُس کی جگہ پر گھر کے سب سے اندر والے کمرے یعنی مُقدس‌ترین خانے میں لائے اور اُسے کروبیوں کے پَروں کے نیچے رکھ دیا۔ 8 اِس طرح کروبیوں کے پَر اُس جگہ کے اُوپر پھیلے ہوئے تھے جہاں عہد کا صندوق رکھا گیا۔ لہٰذا کروبیوں نے عہد کے صندوق اور اُس کے ڈنڈوں کو اُوپر سے ڈھکا ہوا تھا۔ 9 ڈنڈے اِتنے لمبے تھے کہ اُن کے سِرے سب سے اندر والے کمرے کے سامنے موجود مُقدس خانے سے نظر آتے تھے لیکن باہر سے نظر نہیں آتے تھے۔ اور وہ آج تک وہاں ہیں۔ 10 عہد کے صندوق میں دو تختیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ تختیاں موسیٰ نے حَورِب میں اُس وقت اِس صندوق میں رکھی تھیں جب بنی‌اِسرائیل مصر سے نکل رہے تھے اور یہوواہ نے اُن کے ساتھ عہد باندھا تھا۔‏

11 جب کاہن مُقدس مقام سے باہر آئے (‏وہاں موجود سب کاہنوں نے خود کو پاک کِیا تھا پھر چاہے وہ کسی بھی گروہ سے تھے)‏ 12 تو اُن سب گلوکار لاویوں نے نفیس لباس پہنے ہوئے تھے جن کی پیشوائی آسَف، ہیمان، یدوتون اور اُن کے بیٹے اور بھائی کر رہے تھے۔ اُنہوں نے جھانجھیں، تاردار ساز اور بربط*‏ اُٹھائے ہوئے تھے اور وہ قربان‌گاہ کے مشرق کی طرف کھڑے تھے۔ اُن کے ساتھ 120 کاہن نرسنگے بجا رہے تھے۔ 13 نرسنگے بجانے والے اور گلوکار مل کر یہوواہ کی بڑائی اور شکرگزاری کر رہے تھے اور نرسنگوں، جھانجھوں اور دوسرے تاردار سازوں کی آوازیں گُونج رہی تھیں اور وہ یہوواہ کی بڑائی کر رہے تھے ”‏کیونکہ وہ اچھا ہے؛ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏ اُس لمحے وہ گھر یعنی یہوواہ کا گھر بادل سے بھر گیا۔ 14 اُس بادل کی وجہ سے کاہن خدمت کرنے کے لیے وہاں کھڑے نہیں رہ پائے کیونکہ سچے خدا کا گھر یہوواہ کی شان سے بھر گیا تھا۔‏

6 تب سلیمان نے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے کہا تھا کہ وہ گھنے بادلوں میں بسے گا۔ 2 مَیں نے تیرے لیے ایک عالی‌شان گھر، ہاں، ایک مستقل جگہ بنائی ہے جہاں تُو ہمیشہ بسے۔“‏

3 پھر بادشاہ مُڑا اور اِسرائیل کی ساری جماعت کو جو وہاں کھڑی تھی، دُعا دینے لگا۔ 4 اُس نے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے اپنے مُنہ سے میرے والد داؤد کے ساتھ وعدہ کِیا اور اپنے ہاتھوں سے اِسے پورا کِیا۔ اُس نے کہا تھا:‏ 5 ‏”‏جس دن سے مَیں اپنی قوم کو مصر سے نکال کر لایا، مَیں نے اِسرائیل کے سارے قبیلوں میں کوئی ایسا شہر نہیں چُنا جہاں میرے نام کی بڑائی کے لیے گھر بنایا جائے اور نہ ہی مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کی پیشوائی کرنے کے لیے کسی شخص کو چُنا۔ 6 لیکن مَیں نے یروشلم کو چُنا ہے تاکہ میرا نام وہاں رہے اور مَیں نے داؤد کو اپنی قوم اِسرائیل کا بادشاہ چُنا ہے۔“‏ 7 میرے والد داؤد کی دلی خواہش تھی کہ وہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بنائیں۔ 8 لیکن یہوواہ نے میرے والد داؤد سے کہا:‏ ”‏تمہاری دلی خواہش تھی کہ تُم میرے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بناؤ اور یہ اچھی بات ہے کہ تمہارے دل میں یہ خواہش تھی۔ 9 مگر تُم یہ گھر نہیں بناؤ گے بلکہ تمہارا اپنا بیٹا جو تُم سے پیدا ہونے والا ہے، میرے نام کی بڑائی کے لیے گھر بنائے گا۔“‏ 10 یہوواہ نے اپنا وعدہ پورا کِیا ہے کیونکہ یہوواہ کے وعدے کے مطابق مَیں اپنے والد داؤد کی جگہ بادشاہ بنا ہوں اور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں۔ مَیں نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بھی بنایا ہے۔ 11 وہاں مَیں نے وہ صندوق رکھا ہے جس میں وہ عہد ہے جو یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل کے ساتھ باندھا تھا۔“‏

12 اِس کے بعد سلیمان اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے یہوواہ کی قربان‌گاہ کے آگے کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ پھیلائے۔ 13 ‏(‏سلیمان نے تانبے کا ایک چبوترا بنوایا تھا اور اُسے صحن کے درمیان میں رکھا تھا۔ وہ چبوترا پانچ ہاتھ*‏ لمبا، پانچ ہاتھ چوڑا اور تین ہاتھ اُونچا تھا اور سلیمان اُس پر کھڑے تھے۔)‏ پھر سلیمان نے اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے گُھٹنے ٹیکے اور آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے 14 اور کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ آسمان میں یا زمین پر تجھ جیسا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔ تُو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور اپنے اُن بندوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو پورے دل سے تیری راہوں پر چلتے ہیں۔ 15 تُو نے اپنا وہ وعدہ پورا کِیا جو تُو نے میرے والد اور اپنے بندے داؤد سے کِیا تھا۔ تُو نے اپنے مُنہ سے یہ وعدہ کِیا تھا اور آج اپنے ہاتھ سے اِسے پورا کِیا ہے۔ 16 اب اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ میرے والد اور اپنے بندے داؤد سے کِیا اپنا یہ وعدہ پورا کر:‏ ”‏تمہاری نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو میرے حضور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھے گا بشرطیکہ تمہارے بیٹے اپنے چال‌چلن پر دھیان دیں اور میری شریعت کے مطابق چلیں جیسے تُم میری راہوں پر چلتے رہے۔“‏ 17 اب اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ اپنے اُس وعدے کو سچا ثابت کر جو تُو نے اپنے بندے داؤد سے کِیا تھا۔‏

18 لیکن کیا خدا واقعی اِنسانوں کے ساتھ زمین پر بسے گا؟ دیکھ، تُو آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی نہیں سما سکتا!‏ تو پھر یہ گھر تو کچھ بھی نہیں جو مَیں نے بنایا ہے!‏ 19 اَے میرے خدا یہوواہ!‏ اپنے بندے کی دُعا پر توجہ فرما اور اُس کی رحم کی اِلتجا سُن۔ مدد کے لیے اُس کی پکار سُن اور اپنے بندے کی وہ دُعا سُن جو وہ تیرے حضور کر رہا ہے۔ 20 تیری نظریں دن رات اِس گھر، ہاں، اِس جگہ کی طرف لگی رہیں جس کے بارے میں تُو نے کہا تھا کہ تیرا نام یہاں رہے گا تاکہ جب تیرا بندہ اِس کی طرف رُخ کر کے دُعا کرے تو تُو اُس کی دُعا سنے۔ 21 اپنے بندے کی مدد کی اِلتجائیں سننا اور اپنی قوم اِسرائیل کی وہ اِلتجائیں بھی جو وہ اِس جگہ کا رُخ کر کے کرے۔ تُو آسمان سے، ہاں، اپنی رہائش‌گاہ سے سُن لینا، ہاں، تُو سُن لینا اور معاف کر دینا!‏

22 اگر کوئی شخص کسی کے خلاف گُناہ کرے اور اُسے قسم دِلائی جائے*‏ اور وہ اِس قسم*‏ کے تحت جواب‌دہ ہو اور اِس قسم*‏ کے تحت ہوتے ہوئے اِس گھر میں تیری قربان‌گاہ کے سامنے آئے 23 تو تُو آسمان سے سُن لینا اور کارروائی کرنا۔ تُو اپنے بندوں کا اِنصاف کرتے ہوئے بُرے شخص کو بدلہ دینا اور اُس کا کِیا اُسی کے سر ڈالنا اور نیک شخص کو بے‌قصور*‏ قرار دینا اور اُسے اُس کی نیکی کا اجر دینا۔‏

24 اور اگر تیری قوم اِسرائیل کو تیرے خلاف گُناہ کرتے رہنے کی وجہ سے دُشمن کے ہاتھوں شکست ہو اور وہ لوٹ آئے اور تیرے نام کی بڑائی کرے اور اِس گھر میں تیرے حضور دُعا کرے اور رحم کی اِلتجا کرے 25 تو تُو آسمان سے سُن لینا اور اپنی قوم اِسرائیل کا گُناہ معاف کر دینا اور اُنہیں اُس ملک میں واپس لانا جو تُو نے اُنہیں اور اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا۔‏

26 اگر وہ تیرے خلاف گُناہ کرتے رہیں اور اِس وجہ سے آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور تُو اُنہیں پست کرے*‏ اور وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کر کے دُعا کریں اور تیرے نام کی بڑائی کریں اور گُناہ کرنے سے باز آ جائیں 27 تو تُو آسمان سے اُن کی سُن لینا اور اپنے بندوں یعنی اپنی قوم اِسرائیل کا گُناہ معاف کر دینا کیونکہ تُو اُنہیں اُس اچھی راہ کے بارے میں سکھائے گا جس پر اُنہیں چلنا چاہیے اور تُو اپنے اُس ملک پر بارش برسانا جو تُو نے اپنی قوم کو وراثت کے طور پر دیا تھا۔‏

28 اگر ملک میں قحط، وبا، جھلسا دینے والی لُو، پھپھوندی، ٹڈی‌دَل یا بھوکی ٹڈیاں*‏ ہوں یا اگر تیرے بندوں کے دُشمن اُنہیں ملک کے کسی شہر میں*‏ گھیر لیں یا اگر کسی اَور طرح کی وبا یا بیماری آ جائے 29 تو جو بھی شخص یا تیری ساری قوم اِسرائیل اِس گھر کی طرف ہاتھ اُٹھا کر تجھ سے جو بھی دُعا کرے یا رحم کی اِلتجا کرے (‏کیونکہ ہر کوئی اپنی تکلیف اور اپنا درد جانتا ہے)‏ 30 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، سُن لینا اور معاف کر دینا اور ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دینا کیونکہ تُو اُس کے دل کا حال جانتا ہے (‏صرف تُو ہی صحیح معنوں میں اِنسان کے دل کا حال جانتا ہے)‏ 31 تاکہ وہ جب تک اُس ملک میں رہیں جو تُو نے ہمارے باپ‌دادا کو دیا تھا، تیری راہوں پر چلیں اور تیرا خوف رکھیں۔‏

32 اور اگر کوئی پردیسی جو تیری قوم اِسرائیل سے نہ ہو اور جو تیرے عظیم نام،‏*‏ تیرے طاقت‌ور ہاتھ اور تیرے زورآور بازو*‏ کی وجہ سے کسی دُوردراز ملک سے آئے اور اِس گھر کا رُخ کر کے دُعا کرے 33 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، سُن لینا اور وہ سب کرنا جس کی وہ پردیسی تجھ سے درخواست کرے تاکہ زمین کی سب قومیں تیرا نام جان لیں اور تیرا خوف رکھیں جیسے تیری قوم اِسرائیل رکھتی ہے اور وہ یہ بھی جان لیں کہ یہ گھر جو مَیں نے بنایا ہے، تیرے نام سے کہلاتا ہے۔‏

34 اگر تیرے بندے اپنے دُشمنوں کے خلاف وہاں جنگ لڑنے جائیں جہاں تُو اُنہیں بھیجے اور تیرے چُنے ہوئے اِس شہر اور اِس گھر کا رُخ کر کے تجھ سے دُعا کریں جسے مَیں نے تیرے نام کی بڑائی کے لیے بنایا ہے 35 تو تُو آسمان سے اُن کی دُعا اور رحم کی اِلتجا سُن لینا اور اُن کی خاطر کارروائی کرنا۔‏

36 اگر وہ تیرے خلاف گُناہ کریں (‏کیونکہ کوئی ایسا اِنسان نہیں جو گُناہ نہ کرے)‏ اور تُو اُن پر بھڑک اُٹھے اور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالے کر دے اور وہ اُنہیں قیدی بنا کر دُور یا نزدیک کسی ملک میں لے جائیں 37 اور جس ملک میں اُنہیں قیدی بنا کر لے جایا جائے، وہاں جا کر اُنہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ تیری طرف لوٹ آئیں اور اُس ملک میں تجھ سے رحم کی اِلتجا کریں جہاں وہ قیدی ہوں اور کہیں:‏ ”‏ہم نے گُناہ کِیا ہے؛ ہم سے غلطی ہوئی ہے؛ ہم نے بُرائی کی ہے“‏ 38 اور وہ اُس ملک میں جہاں اُنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا تھا، پورے دل اور پوری جان*‏ سے تیرے پاس لوٹ آئیں اور اُس ملک کی طرف جو تُو نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا اور اُس شہر کی طرف جو تُو نے چُنا ہے اور اُس گھر کی طرف جو مَیں نے تیرے نام کی بڑائی کے لیے بنایا ہے، رُخ کر کے دُعا کریں 39 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، اُن کی دُعا اور رحم کی اِلتجا سُن لینا اور اُن کی خاطر کارروائی کرنا اور تُو اپنے بندوں کو معاف کر دینا جنہوں نے تیرے خلاف گُناہ کِیا۔‏

40 اب اَے میرے خدا!‏ مہربانی سے اپنی نظریں اور اپنے کان اُس دُعا پر لگائے رکھ جو اِس جگہ پر*‏ کی جاتی ہے۔ 41 اَے یہوواہ خدا!‏ اب اُٹھ اور اپنی آرام‌گاہ میں آ، تُو بھی اور تیرا صندوق بھی جو تیری طاقت کی نشانی ہے۔ اَے یہوواہ خدا!‏ تیرے کاہن نجات کا لباس پہنیں اور تیرے وفادار بندے تیری اچھائی سے خوش ہوں۔ 42 اَے یہوواہ خدا!‏ اپنے مسح‌شُدہ*‏ بندے کو رد نہ کر۔‏*‏ اپنے بندے داؤد کے لیے اپنی اٹوٹ محبت کو یاد رکھ۔“‏

7 جیسے ہی سلیمان نے دُعا ختم کی، آسمان سے آگ نازل ہوئی جس نے بھسم ہونے والی قربانی اور دوسری قربانیوں کو جلا دیا اور وہ گھر یہوواہ کی شان سے بھر گیا۔ 2 کاہن یہوواہ کے گھر میں داخل نہیں ہو سکے کیونکہ یہوواہ کا گھر یہوواہ کی شان سے بھر گیا تھا۔ 3 جب آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اُس گھر پر یہوواہ کی شان چھا گئی تو سب اِسرائیلی دیکھ رہے تھے۔ وہ زمین پر مُنہ کے بل جھک گئے اور فرش پر لیٹ گئے اور اُنہوں نے یہوواہ کا شکر ادا کِیا ”‏کیونکہ وہ اچھا ہے؛ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏

4 پھر بادشاہ اور سب لوگوں نے یہوواہ کے حضور قربانیاں پیش کیں۔ 5 بادشاہ سلیمان نے 22 ہزار گائے بیلوں اور 1 لاکھ 20 ہزار بھیڑوں کی قربانی پیش کی۔ اِس طرح بادشاہ اور سب لوگوں نے سچے خدا کے گھر کا اِفتتاح کِیا۔ 6 کاہن اپنی ذمے‌داریاں انجام دینے کے لیے اپنی اپنی جگہ کھڑے تھے اور لاوی بھی اپنی جگہ کھڑے تھے جن کے پاس یہوواہ کے لیے گائے جانے والے گیت کے ساتھ بجائے جانے والے ساز تھے۔ (‏بادشاہ داؤد نے یہ ساز بنائے تھے تاکہ یہ اُس وقت بجائے جائیں جب وہ اُن*‏ کے ساتھ مل کر یہوواہ کی بڑائی کریں اور اُس کا شکر ادا کریں ”‏کیونکہ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏)‏ کاہن اُن کے سامنے اُونچی آواز میں نرسنگے بجا رہے تھے اور سب اِسرائیلی کھڑے تھے۔‏

7 تانبے کی وہ قربان‌گاہ جو سلیمان نے بنائی تھی، بھسم ہونے والی قربانیوں، اناج کے نذرانوں اور چربی والے حصوں کے لیے چھوٹی پڑ گئی۔ اِس لیے سلیمان نے یہوواہ کے گھر کے سامنے والے صحن کا درمیانی حصہ مخصوص کِیا تاکہ وہاں بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح*‏ والی قربانیوں کے چربی والے حصے پیش کیے جا سکیں۔ 8 اُس وقت سلیمان نے سارے اِسرائیل کے ساتھ مل کر سات دن تک عید منائی۔ اُس عید میں لبوحمات*‏ سے لے کر نیچے مصر کی وادی*‏ تک لوگوں کا ایک بہت بڑا مجمع تھا۔ 9 آٹھویں دن*‏ اُنہوں نے ایک خاص اِجتماع رکھا کیونکہ اُنہوں نے سات دن تک قربان‌گاہ کا اِفتتاح کِیا تھا اور سات دن تک عید منائی تھی۔ 10 پھر ساتویں مہینے کے 23ویں دن سلیمان نے لوگوں کو اُن کے گھروں کو روانہ کِیا۔ لوگ جشن مناتے ہوئے اور اُس ساری اچھائی پر دل میں خوش ہوتے ہوئے لوٹ گئے جو یہوواہ نے داؤد، سلیمان اور اپنی قوم اِسرائیل سے کی تھی۔‏

11 اِس طرح سلیمان نے یہوواہ کا گھر، اپنا محل اور وہ سب کچھ بنا لیا جو یہوواہ کے گھر اور اپنے محل کے حوالے سے اُن کے دل میں آیا۔ اُنہوں نے کامیابی سے یہ سارا کام مکمل کِیا۔ 12 پھر رات میں یہوواہ سلیمان پر ظاہر ہوا اور اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں نے تمہاری دُعا سنی ہے اور اِس گھر کو اپنے لیے چُنا ہے تاکہ یہاں قربانیاں پیش کی جائیں۔ 13 اگر مَیں آسمان کو بند کر دوں اور کوئی بارش نہ ہو اور اگر مَیں ٹڈوں کو حکم دوں کہ وہ ملک کو اُجاڑ دیں اور اگر مَیں اپنے بندوں پر وبا بھیجوں 14 اور میرے بندے جو میرے نام سے کہلاتے ہیں، خاکسار بنیں اور دُعا کریں اور میری خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اپنی بُری راہوں پر چلنا چھوڑ دیں تو مَیں آسمان سے اُن کی سنوں گا اور اُن کا گُناہ معاف کر دوں گا اور اُن کے ملک کو پھر سے زرخیز بنا دوں گا۔ 15 میری آنکھیں اور میرے کان اُس دُعا پر لگے رہیں گے جو اِس جگہ کی جائے گی۔ 16 مَیں نے اِس گھر کو چُنا اور پاک*‏ ٹھہرایا ہے تاکہ میرا نام سدا اِس میں رہے۔ میری نظریں اور میرا دل ہمیشہ اِس کی طرف لگا رہے گا۔‏

17 اگر تُم میرے ہر حکم پر عمل کرو گے اور اپنے باپ داؤد کی طرح میری راہوں پر چلو گے اور میرے معیاروں اور فیصلوں کو مانو گے 18 تو مَیں تمہاری بادشاہت کا تخت ہمیشہ کے لیے قائم کروں گا جیسے مَیں نے تمہارے باپ داؤد سے عہد باندھا تھا کہ ”‏تمہاری نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو اِسرائیل پر حکمرانی کرے گا۔“‏ 19 لیکن اگر تُم مجھ سے مُنہ موڑ لو گے اور میرے قوانین اور میرے حکموں پر عمل کرنا چھوڑ دو گے جو مَیں نے تمہیں دیے ہیں اور جا کر دوسرے خداؤں کی پرستش کرو گے اور اُن کے سامنے جھکو گے 20 تو مَیں اِسرائیل کو اپنے ملک سے اُکھاڑ دوں گا جو مَیں نے اُسے دیا ہے اور اُس گھر کو جسے مَیں نے اپنے نام کے لیے پاک*‏ ٹھہرایا ہے، اپنی نظروں سے دُور کر دوں گا اور مَیں اُسے سب قوموں کے لیے مذاق*‏ بنا دوں گا اور وہ اُس کا تمسخر اُڑائیں گی۔ 21 یہ گھر کھنڈر بن جائے گا اور جو بھی اِس کے پاس سے گزرے گا، وہ حیرت سے اِسے دیکھے گا اور کہے گا:‏ ”‏یہوواہ نے اِس ملک اور اِس گھر کے ساتھ ایسا کیوں کِیا؟“‏ 22 پھر وہ کہیں گے:‏ ”‏ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ اُنہوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا جو اُنہیں مصر سے نکال کر لایا تھا اور اُنہوں نے دوسرے خداؤں کو اپنا لیا اور اُن کے سامنے جھکے اور اُن کی پرستش کی۔ اِسی لیے وہ اُن پر یہ ساری تباہی لایا۔“‏“‏

8 سلیمان کو یہوواہ کا گھر اور اپنا محل بنانے میں 20 سال لگے۔ 2 اِس کے بعد سلیمان نے اُن شہروں کو دوبارہ بنایا جو حِیرام نے اُنہیں دیے تھے اور وہاں بنی‌اِسرائیل کو بسایا۔ 3 اِس کے علاوہ سلیمان حمات‌ضوباہ گئے اور اُس پر قبضہ کر لیا۔ 4 پھر اُنہوں نے ویرانے میں تدمور اور گوداموں والے اُن تمام شہروں کو مضبوط کِیا*‏ جو اُنہوں نے حمات میں بنوائے تھے۔ 5 سلیمان نے بالائی بیت‌حورون اور نشیبی بیت‌حورون بھی بنوائے جنہیں دیواروں، دروازوں اور کُنڈوں سے مضبوط کِیا گیا۔ 6 اُنہوں نے بعلات، سلیمان کے گوداموں والے سب شہر، رتھوں والے سب شہر اور گُھڑسواروں کے لیے شہر بھی بنوائے۔ اُنہوں نے یروشلم، لبنان اور اپنی سلطنت کے سارے علاقوں میں وہ سب کچھ بنوایا جو وہ بنوانا چاہتے تھے۔‏

7 جہاں تک حِتّیوں، اموریوں، فِرِزّیوں، حِویوں اور یبوسیوں کے سب بچے ہوئے لوگوں کی بات ہے جو بنی‌اِسرائیل کا حصہ نہیں تھے 8 اور جنہیں اِسرائیلیوں نے ہلاک نہیں کِیا تھا تو ملک میں اُن کی بچی ہوئی اولاد کو سلیمان کی خدمت کرنے کے لیے بُلایا گیا اور وہ آج تک ایسا کرتے ہیں۔ 9 لیکن سلیمان نے کسی بھی اِسرائیلی کو اپنے کام کے لیے غلام نہیں بنایا کیونکہ وہ اُن کے جنگجو، فوجی افسروں کے سربراہ اور رتھ‌بانوں اور گُھڑسواروں کے سربراہ تھے۔ 10 سلیمان نے نگرانوں پر 250 سربراہ مقرر کیے جو کام کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے۔‏

11 سلیمان فِرعون کی بیٹی کو بھی داؤد کے شہر سے اُس محل میں لے آئے جو اُنہوں نے اُس کے لیے بنوایا تھا کیونکہ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏چاہے وہ میری بیوی ہے لیکن پھر بھی اُسے اِسرائیل کے بادشاہ داؤد کے محل میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ جن جگہوں پر یہوواہ کا صندوق آیا ہے، وہ پاک ہیں۔“‏

12 پھر سلیمان نے یہوواہ کی اُس قربان‌گاہ پر یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کیں جو اُنہوں نے ڈیوڑھی کے سامنے بنائی تھی۔ 13 وہ موسیٰ کے حکم کے مطابق ہر روز، سبتوں، نئے چاند اور سال میں تین بار مقررہ عیدوں پر یعنی بے‌خمیری روٹی کی عید، ہفتوں کی عید اور جھونپڑیوں*‏ کی عید پر قربانیاں پیش کرتے تھے۔ 14 اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے والد داؤد کے قانون کے مطابق کاہنوں کے گروہوں کو مقرر کِیا تاکہ وہ اپنی ذمے‌داریاں انجام دیں۔ اُنہوں نے لاویوں کو اُن کی ذمے‌داریاں سونپیں تاکہ وہ روز کے معمول کے مطابق کاہنوں کے سامنے خدا کی بڑائی اور خدمت کریں۔ اُنہوں نے دربانوں کے گروہوں کو بھی فرق فرق دروازوں پر تعینات کِیا۔ اُنہوں نے سچے خدا کے بندے داؤد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ایسا کِیا۔ 15 کاہنوں اور لاویوں کو گوداموں اور دوسرے سب معاملوں کے حوالے سے بادشاہ کی طرف سے جو حکم دیا گیا تھا، وہ اُسے ماننے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 16 اِس لیے یہوواہ کے گھر کی بنیاد ڈالے جانے کے دن سے لے کر اِس کے مکمل ہونے تک سلیمان کا کام اِنتہائی منظم تھا۔ اِس طرح یہوواہ کا گھر مکمل ہو گیا۔‏

17 اُس وقت سلیمان ادوم کے علاقے میں ساحل پر عِصیون‌جابر اور اِیلوت گئے۔ 18 حِیرام نے اپنے خادموں کے ذریعے اُنہیں جہاز اور ماہر ملاح بھیجے۔ وہ سلیمان کے خادموں کے ساتھ اوفیر گئے اور وہاں سے 450 قِنطار*‏ سونا بادشاہ سلیمان کے پاس لائے۔‏

9 سبا کی ملکہ نے سلیمان کے بارے میں سنا۔ اِس لیے وہ اُن کے پاس یروشلم آئی تاکہ مشکل سوال*‏ پوچھ کر اُن کا اِمتحان لے۔ وہ ایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ آئی جس میں اُونٹوں پر بلسان کا تیل اور بہت زیادہ سونا اور قیمتی پتھر لدے ہوئے تھے۔ وہ سلیمان کے پاس گئی اور اُن سے وہ سارے سوال پوچھے جو اُس کے دل میں تھے۔ 2 سلیمان نے اُسے اُس کے سارے سوالوں کے جواب دیے۔ اُن کے لیے کوئی بھی بات اِتنی مشکل نہیں تھی*‏ کہ وہ اُس کی وضاحت نہ کر سکیں۔‏

3 سبا کی ملکہ نے سلیمان کی دانش‌مندی اور اُن کا بنایا ہوا گھر دیکھا۔ 4 اُس نے اُن کی میز پر رکھا جانے والا کھانا، اُن کے خادموں کے بیٹھنے کا اِنتظام، کھانا پیش کرنے والے خادموں کی خدمات اور اُن کا لباس، اُن کے ساقی اور اُن کا لباس اور بھسم ہونے والی وہ قربانیاں بھی دیکھیں جو وہ باقاعدگی سے یہوواہ کے گھر میں پیش کرتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر اُس کے ہوش اُڑ گئے۔‏*‏ 5 اِس لیے اُس نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏مَیں نے اپنے ملک میں آپ کی کامیابیوں*‏ اور آپ کی دانش‌مندی کے بارے میں جو کچھ سنا تھا، وہ سچ تھا۔ 6 لیکن مجھے اِن باتوں پر تب تک یقین نہیں آیا جب تک مَیں نے یہاں آ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا۔ سچ کہوں تو مجھے آپ کی زبردست دانش‌مندی کے بارے میں آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ مَیں نے جتنا سنا تھا، آپ اُس سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔ 7 آپ کے آدمی اور آپ کے خادم کتنے بابرکت ہیں جو ہمیشہ آپ کے حضور کھڑے رہتے ہیں اور آپ کی دانش‌بھری باتیں سنتے ہیں!‏ 8 آپ کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے آپ سے خوش ہو کر آپ کو اپنے تخت پر بٹھایا ہے تاکہ آپ اپنے خدا یہوواہ کی طرف سے بادشاہ ہوں۔ آپ کا خدا اِسرائیل سے محبت کرتا ہے اور اُسے ہمیشہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اِسی لیے اُس نے آپ کو اُس پر بادشاہ مقرر کِیا ہے تاکہ آپ اِنصاف اور نیکی سے کام لیں۔“‏

9 پھر اُس نے بادشاہ کو 120 قِنطار*‏ سونا اور بڑی مقدار میں بلسان کا تیل اور قیمتی پتھر دیے۔ سبا کی ملکہ نے بادشاہ سلیمان کو بلسان کا جو تیل دیا، ویسا پھر کبھی کسی نے نہیں دیا۔‏

10 اِس کے علاوہ حِیرام کے خادم اور سلیمان کے خادم اوفیر سے سونے کے ساتھ ساتھ صندل کی لکڑی اور قیمتی پتھر بھی لائے۔ 11 بادشاہ نے صندل کی لکڑی سے یہوواہ کے گھر اور اپنے محل کے لیے سیڑھیاں بنوائیں اور گلوکاروں کے لیے بربط*‏ اور تاردار ساز بھی بنوائے۔ اِس سے پہلے یہوداہ میں کسی نے ایسی چیزیں نہیں دیکھی تھیں۔‏

12 سبا کی ملکہ بادشاہ سلیمان کے لیے جو کچھ لائی تھی، اُنہوں نے اُسے اُس سب سے کہیں زیادہ دیا۔‏*‏ سلیمان نے اُسے وہ سب دیا جو وہ چاہتی تھی یا جو اُس نے مانگا۔ پھر ملکہ اپنے خادموں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ گئی۔‏

13 سلیمان کے پاس ایک سال میں جتنا سونا آتا تھا، اُس کا وزن 666 قِنطار ہوتا تھا۔ 14 اِس کے علاوہ سوداگر، تاجر، عرب کے سب بادشاہ اور ملک کے ناظم بھی سلیمان کے لیے سونا اور چاندی لاتے تھے۔‏

15 بادشاہ سلیمان نے سونے میں اَور دھاتیں ملا کر اِن سے 200 بڑی ڈھالیں بنوائیں (‏ ہر ڈھال پر دوسری دھاتوں سے ملا 600 مِثقال*‏ سونا لگا)‏۔ 16 اُنہوں نے سونے میں اَور دھاتیں ملا کر 300 چھوٹی ڈھالیں*‏ بھی بنوائیں (‏ہر چھوٹی ڈھال پر تین مینا*‏ سونا لگا)‏۔ پھر بادشاہ نے اُنہیں اُس گھر میں رکھوا دیا جو لبنان کے جنگل کا گھر کہلاتا ہے۔‏

17 بادشاہ نے ہاتھی‌دانت کا ایک بڑا تخت بھی بنوایا اور اُس پر خالص سونے کی پرت لگوائی۔ 18 تخت تک جانے کے لیے چھ سیڑھیاں تھیں اور اُس کے ساتھ سونے کی ایک چوکی جُڑی ہوئی تھی۔ تخت کی دونوں طرف بازو تھے اور بازوؤں کے پاس شیروں کے دو مجسّمے تھے۔ 19 چھ سیڑھیوں پر شیروں کے 12 مجسّمے تھے یعنی ہر سیڑھی کے دونوں سِروں پر شیر کا ایک ایک مجسّمہ تھا۔ کسی اَور سلطنت میں ایسا کچھ نہیں بنایا گیا تھا۔ 20 بادشاہ سلیمان کے سب پیالے سونے کے تھے اور اُس گھر کے سب برتن خالص سونے کے تھے جو لبنان کے جنگل کا گھر کہلاتا ہے۔ کوئی بھی چیز چاندی کی نہیں تھی کیونکہ بادشاہ سلیمان کے زمانے میں چاندی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ 21 بادشاہ کے جہاز حِیرام کے خادموں کے ساتھ ترسیس جاتے تھے۔ ہر تیسرے سال ترسیس کے جہاز سونے، چاندی، ہاتھی‌دانت، بندروں اور موروں سے لدے ہوئے آتے تھے۔‏

22 بادشاہ سلیمان کے پاس زمین کے سب بادشاہوں سے زیادہ دولت اور دانش‌مندی تھی۔ 23 دُنیا بھر کے بادشاہ سلیمان سے ملنے کی کوشش میں رہتے تھے تاکہ اُن کی دانش‌بھری باتیں سُن سکیں جو سچے خدا نے اُن کے دل میں ڈالی تھیں۔ 24 وہ سب سلیمان کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لاتے تھے جیسے کہ چاندی کی چیزیں، سونے کی چیزیں، کپڑے، ہتھیار، بلسان کا تیل، گھوڑے اور خچر۔ یہ سلسلہ سال‌درسال چلتا رہا۔ 25 سلیمان کے پاس اپنے گھوڑوں اور رتھوں کے لیے 4000 اِصطبل تھے اور 12 ہزار گھوڑے*‏ تھے جنہیں وہ رتھوں والے شہروں میں اور یروشلم میں اپنے پاس رکھتے تھے۔ 26 سلیمان بڑے دریا*‏ سے لے کر فِلِستیوں کے علاقے اور مصر کی سرحد تک سب بادشاہوں پر حکمرانی کرتے تھے۔ 27 بادشاہ نے یروشلم میں اِتنی بڑی تعداد میں چاندی اِکٹھی کی جیسے پتھر ہوں اور اِتنی زیادہ دیودار کی لکڑی اِکٹھی کی جیسے شِفیلہ میں گُولر*‏ کے درخت ہوں۔ 28 سلیمان کے لیے مصر اور باقی سب ملکوں سے گھوڑے لائے جاتے تھے۔‏

29 شروع سے لے کر آخر تک سلیمان کی باقی کہانی ناتن نبی کی تحریروں، اخیاہ سیلانی کی نبوّت کی تحریروں اور اِدّو کی رُویات کی تحریروں میں لکھی ہے جو نِباط کے بیٹے یرُبعام کے حوالے سے رُویات دیکھتے تھے۔ 30 سلیمان نے یروشلم میں 40 سال تک سارے اِسرائیل پر حکمرانی کی۔ 31 پھر سلیمان اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُن کے والد داؤد کے شہر میں دفنایا گیا اور اُن کا بیٹا رحبُعام اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

10 رحبُعام سِکم گیا کیونکہ سارا اِسرائیل اُسے بادشاہ بنانے کے لیے سِکم آیا تھا۔ 2 جیسے ہی نِباط کے بیٹے یرُبعام نے اِس بارے میں سنا (‏وہ ابھی تک مصر میں تھا کیونکہ وہ بادشاہ سلیمان کی وجہ سے وہاں بھاگ گیا تھا)‏، وہ مصر سے واپس آیا۔ 3 پھر لوگوں نے اُسے بُلایا اور یرُبعام اور سارا اِسرائیل رحبُعام کے پاس آیا اور کہا:‏ 4 ‏”‏آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ اُس بھاری*‏ جُوئے کو ہلکا کر دیں اور اُس کڑی محنت کے سلسلے میں جو ہم آپ کے والد کے لیے کرتے تھے، ہمارے ساتھ تھوڑی رعایت برتیں تو ہم آپ کی خدمت کریں گے۔“‏

5 اِس پر رحبُعام نے اُن سے کہا:‏ ”‏تین دن بعد میرے پاس واپس آئیں۔“‏ تب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ 6 پھر بادشاہ رحبُعام نے اُن بزرگوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے والد سلیمان کے جیتے جی اُن کے مُشیر ہوا کرتے تھے۔ اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے خیال میں مجھے اِن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے؟“‏ 7 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اگر آپ اِن لوگوں سے اچھی طرح پیش آئیں گے، اِنہیں خوش کریں گے اور اِنہیں نرمی سے جواب دیں گے تو یہ ہمیشہ آپ کے خادم رہیں گے۔“‏

8 لیکن اُس نے بزرگوں کے مشورے کو رد کر دیا اور اُن جوانوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے اور اب اُس کے خادم تھے۔ 9 اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے خیال میں ہمیں اُن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے جنہوں نے مجھ سے کہا ہے:‏ ”‏آپ کے والد نے ہم پر جو جُوا لادا تھا، اُسے ہلکا کر دیں“‏؟“‏ 10 جو جوان آدمی اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے، اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں نے آپ سے کہا ہے کہ ”‏آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا لیکن آپ اُسے ہلکا کر دیں،“‏ آپ کو اُن سے یہ کہنا چاہیے:‏ ”‏میری چھوٹی اُنگلی میرے والد کی کمر سے بھی موٹی ہوگی۔ 11 میرے والد نے آپ پر بھاری جُوا لادا لیکن مَیں اِس جُوئے کو اَور بھاری کروں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں نوکیلے کوڑوں سے ایسا کروں گا۔“‏“‏

12 یرُبعام اور سب لوگ تیسرے دن بادشاہ رحبُعام کے پاس آئے جیسے کہ اُس نے کہا تھا:‏ ”‏تیسرے دن میرے پاس واپس آنا۔“‏ 13 لیکن بادشاہ نے اُنہیں سختی سے جواب دیا۔ اِس طرح بادشاہ رحبُعام نے اُس مشورے کو ٹھکرا دیا جو بزرگوں نے اُسے دیا تھا۔ 14 اُس نے جوان آدمیوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کے جُوئے کو بھاری بلکہ بہت بھاری کر دوں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں نوکیلے کوڑوں سے ایسا کروں گا۔“‏ 15 اِس طرح بادشاہ نے لوگوں کی بات نہیں مانی۔ یہ سچے خدا کی طرف سے تھا کہ حالات نے ایسے کروٹ لی تاکہ وہ بات پوری ہو جو یہوواہ نے اخیاہ سیلانی کے ذریعے نِباط کے بیٹے یرُبعام سے کہی تھی۔‏

16 جب بادشاہ نے سب اِسرائیلیوں کی بات ماننے سے اِنکار کر دیا تو اُنہوں نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏ہم داؤد کے ساتھ حصے‌دار نہیں ہیں اور نہ ہی یسی کے بیٹے کی وراثت میں ہمارا کوئی حصہ ہے۔ اِسرائیلیو!‏ ہر کوئی اپنے خدا کی طرف لوٹ جائے۔ داؤد!‏ اب اپنے گھرانے کو خود سنبھالو۔“‏ پھر سب اِسرائیلی اپنے اپنے گھروں*‏ کو لوٹ گئے۔‏

17 لیکن رحبُعام اُن اِسرائیلیوں پر حکمرانی کرتا رہا جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے۔‏

18 پھر بادشاہ رحبُعام نے ہدورام کو جو اُن لوگوں کے سربراہ تھے جنہیں بادشاہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا جاتا تھا، اِسرائیلیوں کے پاس بھیجا۔ لیکن اِسرائیلیوں نے اُنہیں سنگسار کر دیا۔ بادشاہ رحبُعام کسی طرح اپنے رتھ پر سوار ہو کر یروشلم بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ 19 اور اِسرائیلی آج تک داؤد کے گھرانے کے خلاف بغاوت کرتے آ رہے ہیں۔‏

11 جب رحبُعام یروشلم پہنچا تو اُس نے فوراً یہوداہ اور بِنیامین کے گھرانے سے 1 لاکھ 80 ہزار ماہر*‏ جنگجوؤں کو اِکٹھا کِیا تاکہ وہ اُس کی بادشاہت کو بحال کرنے کے لیے اِسرائیل سے لڑیں۔ 2 پھر یہوواہ کا یہ کلام سچے خدا کے بندے سِمعیاہ تک پہنچا:‏ 3 ‏”‏یہوداہ کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے رحبُعام اور یہوداہ اور بِنیامین کے سب اِسرائیلیوں سے کہو:‏ 4 ‏”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏تُم اپنے بھائیوں سے جنگ کرنے نہ جاؤ۔ تُم میں سے ہر ایک اپنے اپنے گھر لوٹ جائے کیونکہ یہ سب میری طرف سے ہوا ہے۔“‏“‏“‏ وہ یہوواہ کی بات مان کر واپس چلے گئے اور یرُبعام کے خلاف نہیں گئے۔‏

5 رحبُعام یروشلم میں رہتا تھا اور اُس نے یہوداہ میں قلعہ‌بند شہر بنائے۔ 6 اُس نے یہ شہر بنائے:‏*‏ بیت‌لحم، عیطام، تقوع، 7 بیت‌صُور، شوکو، عدُلّام، 8 جات، مریسہ، زِیف، 9 ادوریم، لکیس، عزیقہ، 10 صُرعہ، ایالون اور حِبرون۔ یہ یہوداہ اور بِنیامین کے قلعہ‌بند شہر تھے۔ 11 اِس کے علاوہ اُس نے قلعہ‌بند جگہوں کو مضبوط کِیا اور اُن میں سپہ‌سالار تعینات کیے اور اُنہیں کھانا، تیل اور مے مہیا کی۔ 12 اُس نے سب شہروں کو بڑی ڈھالیں اور نیزے فراہم کیے۔ اُس نے اُنہیں بہت زیادہ مضبوط کِیا اور یہوداہ اور بِنیامین پر اُس کی حکمرانی رہی۔‏

13 سارے اِسرائیل سے کاہن اور لاوی رحبُعام کا ساتھ دینے کے لیے اپنے اپنے علاقوں سے آ گئے۔ 14 لاوی اپنی چراگاہیں اور اپنی جائیداد چھوڑ کر یہوداہ اور یروشلم میں آ گئے کیونکہ یرُبعام اور اُس کے بیٹوں نے اُنہیں کاہنوں کے طور پر یہوواہ کی خدمت کرنے کی ذمے‌داری سے ہٹا دیا تھا۔ 15 پھر یرُبعام نے اُونچی جگہوں، بکرانما دیوتاؤں*‏ اور اُن بچھڑوں کے لیے اپنے کاہن مقرر کیے جو اُس نے بنائے تھے۔ 16 اِسرائیل کے سب قبیلوں کے جن لوگوں نے اپنے دل میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا عزم کِیا ہوا تھا، وہ کاہنوں اور لاویوں کے پیچھے یروشلم گئے تاکہ اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے حضور قربانی پیش کریں۔ 17 تین سال تک اُنہوں نے یہوداہ کی سلطنت کو مضبوط کِیا اور سلیمان کے بیٹے رحبُعام کا ساتھ دیا۔ وہ تین سال تک اُسی راہ پر چلتے رہے جس پر داؤد اور سلیمان چلے تھے۔‏

18 پھر رحبُعام نے داؤد کے بیٹے یریموت کی بیٹی محالات سے شادی کر لی۔ محالات کی والدہ کا نام ابی‌خیل تھا جو یسی کے بیٹے اِلیاب کی بیٹی تھیں۔ 19 کچھ وقت بعد اُن سے رحبُعام کے یہ بیٹے پیدا ہوئے:‏ یعوس، سِمریاہ اور زہم۔ 20 محالات کے بعد رحبُعام نے ابی‌سلوم کی نواسی معکہ سے شادی کر لی۔ کچھ وقت بعد معکہ سے رحبُعام کے یہ بچے پیدا ہوئے:‏ ابی‌یاہ، عتّی، زِیزا اور سِلومیت۔ 21 رحبُعام ابی‌سلوم کی نواسی معکہ سے اپنی باقی سب بیویوں اور حرموں سے زیادہ پیار کرتا تھا۔ اُس کی 18 بیویاں اور 60 حرمیں تھیں اور اُس کے 28 بیٹے اور 60 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ 22 رحبُعام نے معکہ کے بیٹے ابی‌یاہ کو اُس کے بھائیوں کا سربراہ اور رہنما مقرر کِیا کیونکہ وہ اُسے بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ 23 لیکن رحبُعام نے سمجھ‌داری سے کام لیتے ہوئے اپنے کچھ بیٹوں کو یہوداہ اور بِنیامین کے سب علاقوں کے قلعہ‌بند شہروں میں بھیج دیا*‏ اور اُنہیں بڑی مقدار میں خوراک دی اور بہت سی عورتوں سے اُن کی شادیاں کرائیں۔‏

12 جیسے ہی رحبُعام کی سلطنت مضبوطی سے قائم ہوئی اور وہ طاقت‌ور ہو گیا، اُس نے اور اُس کے ساتھ سارے اِسرائیل نے یہوواہ کی شریعت کو ترک کر دیا۔ 2 بادشاہ رحبُعام کی حکمرانی کے پانچویں سال میں مصر کا بادشاہ سیسق یروشلم پر حملہ کرنے آیا کیونکہ سب اِسرائیلیوں نے یہوواہ سے بے‌وفائی کی تھی۔ 3 سیسق کے پاس 1200 رتھ اور 60 ہزار گُھڑسوار تھے اور اُس کے ساتھ مصر سے بے‌شمار سپاہی آئے تھے جو لیبیائی، سُوکی اور اِیتھیوپیائی تھے۔ 4 اُس نے یہوداہ کے قلعہ‌بند شہروں پر قبضہ کر لیا اور آخرکار یروشلم پہنچ گیا۔‏

5 سِمعیاہ نبی رحبُعام اور یہوداہ کے حاکموں کے پاس آئے جو سیسق کی وجہ سے یروشلم میں جمع تھے۔ اُنہوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏تُم نے مجھے ترک کر دیا ہے اِس لیے مَیں نے بھی تمہیں ترک کر کے سیسق کے حوالے کر دیا ہے۔“‏“‏ 6 اِس پر بادشاہ اور اِسرائیل کے حاکموں نے خود کو خاکسار بنا لیا اور کہا:‏ ”‏یہوواہ نیک ہے۔“‏ 7 جب یہوواہ نے دیکھا کہ اُنہوں نے خود کو خاکسار بنا لیا ہے تو یہوواہ کا یہ کلام سِمعیاہ تک پہنچا:‏ ”‏اُنہوں نے خود کو خاکسار بنا لیا ہے اِس لیے مَیں اُنہیں ہلاک نہیں کروں گا اور جلد ہی اُنہیں چھڑا لوں گا۔ مَیں سیسق کے ذریعے یروشلم پر اپنا غضب نازل نہیں کروں گا۔ 8 لیکن وہ سیسق کے خادم بنیں گے تاکہ اُنہیں پتہ چلے کہ میری خدمت کرنے اور دوسرے ملکوں کے بادشاہوں*‏ کی خدمت کرنے میں کیا فرق ہے۔“‏

9 لہٰذا مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کر دیا۔ وہ یہوواہ کے گھر اور بادشاہ کے محل کے خزانے لے گیا۔ اُس نے سب کچھ لے لیا جس میں سونے کی وہ ڈھالیں بھی شامل تھیں جو سلیمان نے بنوائی تھیں۔ 10 اِس لیے بادشاہ رحبُعام نے اُن کی جگہ تانبے کی ڈھالیں بنوائیں اور محافظوں*‏ کے سربراہوں کو دیں جو بادشاہ کے محل کے داخلی دروازے پر پہرا دیتے تھے۔ 11 جب بھی بادشاہ یہوواہ کے گھر میں آتا تھا، محافظ آ کر اُن ڈھالوں کو اُٹھاتے تھے اور پھر اُنہیں محافظوں کے کمرے میں واپس رکھ دیتے تھے۔ 12 چونکہ بادشاہ نے خود کو خاکسار بنا لیا اِس لیے یہوواہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور اُس نے اُن لوگوں کو پوری طرح تباہ نہیں کِیا۔ اِس کے علاوہ یہوداہ کے لوگوں میں کچھ اچھائیاں بھی دیکھنے کو ملی تھیں۔‏

13 بادشاہ رحبُعام نے یروشلم میں اپنی حکومت مضبوط کی اور حکمرانی کرتا رہا۔ جب رحبُعام بادشاہ بنا تو وہ 41 سال کا تھا اور اُس نے 17 سال یروشلم میں حکمرانی کی یعنی اُس شہر میں جسے یہوواہ نے اِسرائیل کے قبیلوں کے سب شہروں میں سے چُنا تاکہ اُس کا نام وہاں رہے۔ رحبُعام کی والدہ کا نام نعمہ تھا جو عمونی تھیں۔ 14 رحبُعام نے بُرے کام کیے کیونکہ اُس نے اپنے دل میں یہ عزم نہیں کِیا تھا کہ وہ یہوواہ کی تلاش کرے۔‏

15 شروع سے لے کر آخر تک رحبُعام کی کہانی سِمعیاہ نبی کی تحریروں اور رُویات دیکھنے والے اِدّو کی تحریروں میں نسب‌نامے میں لکھی ہے۔ رحبُعام اور یرُبعام کے بیچ مسلسل جنگ چلتی رہی۔ 16 پھر رحبُعام اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے داؤد کے شہر میں دفنایا گیا اور اُس کا بیٹا ابی‌یاہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

13 بادشاہ یرُبعام کی حکمرانی کے 18ویں سال میں ابی‌یاہ یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ 2 اُس نے یروشلم میں تین سال حکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام میکایاہ تھا جو جِبعہ سے تعلق رکھنے والے اُوری‌ایل کی بیٹی تھی۔ ابی‌یاہ اور یرُبعام کے بیچ جنگ چلتی رہی۔‏

3 پھر ابی‌یاہ 4 لاکھ طاقت‌ور اور ماہر*‏ جنگجوؤں کی فوج کو ساتھ لے کر جنگ کرنے گیا۔ اور یرُبعام نے ابی‌یاہ سے جنگ لڑنے کے لیے 8 لاکھ ماہر*‏ اور طاقت‌ور جنگجوؤں کے ساتھ صفیں باندھیں۔ 4 ابی‌یاہ کوہِ‌صمریم پر کھڑا ہو گیا جو اِفرائیم کے پہاڑی علاقے میں ہے اور کہنے لگا:‏ ”‏یرُبعام اور سارے اِسرائیلیو!‏ میری بات سنو!‏ 5 کیا تُم نہیں جانتے کہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے نمک کے عہد*‏ کے ذریعے داؤد اور اُن کے بیٹوں کو ہمیشہ کے لیے اِسرائیل کی بادشاہت دی؟ 6 لیکن نِباط کا بیٹا یرُبعام جو داؤد کے بیٹے سلیمان کا خادم تھا، اپنے مالک کے خلاف کھڑا ہوا اور بغاوت کر دی۔ 7 اور بے‌کار اور فضول آدمی اُس کے پاس جمع ہونے لگے۔ جب سلیمان کا بیٹا رحبُعام کم‌عمر اور بزدل تھا تو وہ لوگ اُس پر بھاری پڑ گئے اور وہ اُن کے سامنے ٹک نہیں پایا۔‏

8 اب تمہیں لگتا ہے کہ تُم یہوواہ کی اُس بادشاہت کے سامنے ٹک پاؤ گے جو داؤد کے بیٹوں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ تمہاری تعداد بہت زیادہ ہے اور تمہارے پاس سونے کے وہ بچھڑے ہیں جو یرُبعام نے تمہارے خداؤں کے طور پر بنائے تھے۔ 9 تُم نے یہوواہ کے کاہنوں یعنی ہارون کی اولاد اور لاویوں کو بھگا دیا اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کی طرح اپنے کاہن مقرر کر لیے۔ جو بھی شخص ایک جوان بیل اور سات مینڈھے اپنے ساتھ لاتا،‏*‏ وہ اُن خداؤں کا کاہن بن جاتا جو اصل میں خدا نہیں ہیں۔ 10 جہاں تک ہماری بات ہے، ہمارا خدا یہوواہ ہے اور ہم نے اُسے نہیں چھوڑا۔ ہمارے کاہن یعنی ہارون کے بیٹے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اور لاوی اُن کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ 11 ہر صبح اور ہر شام وہ یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے، خوشبودار بخور جلاتے ہیں اور خالص سونے کی میز پر تہہ‌درتہہ روٹیاں*‏ رکھتے ہیں۔ وہ ہر شام سونے کے شمع‌دان روشن کرتے ہیں اور اُن کے چراغ جلاتے ہیں۔ ہم ایسا اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے خدا یہوواہ کے لیے اپنی ذمے‌داری نبھا رہے ہیں۔ لیکن تُم نے اُسے ترک کر دیا ہے۔ 12 دیکھو!‏ سچا خدا ہمارے ساتھ ہے اور وہ اپنے کاہنوں کے ذریعے ہماری رہنمائی کر رہا ہے جن کے پاس تمہارے خلاف جنگ کا اِعلان کرنے کے لیے نرسنگے ہیں۔ اِسرائیل کے آدمیو!‏ اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے خلاف نہ لڑو کیونکہ تُم کامیاب نہیں ہو گے۔“‏

13 لیکن یرُبعام نے اپنے ایک فوجی دستے کو گھات میں بٹھایا تاکہ وہ پیچھے کی طرف سے حملہ کرے۔ اِس طرح اُس کی فوج کا ایک حصہ یہوداہ کے آدمیوں کے سامنے تھا اور ایک حصہ اُن کے پیچھے گھات لگائے ہوئے تھا۔ 14 جب یہوداہ کے آدمی مُڑے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُنہیں آگے اور پیچھے دونوں طرف سے جنگ لڑنی ہوگی۔ اِس لیے وہ یہوواہ کو پکارنے لگے۔ اِس دوران کاہن اُونچی آواز میں نرسنگے بجا رہے تھے۔ 15 یہوداہ کے آدمی جنگ کے لیے للکارے اور جب اُنہوں نے ایسا کِیا تو سچے خدا نے ابی‌یاہ اور یہوداہ کو یرُبعام اور سارے اِسرائیل پر فتح دِلائی۔ 16 اِسرائیلی یہوداہ کے سامنے سے بھاگ گئے اور خدا نے اُنہیں یہوداہ کے حوالے کر دیا۔ 17 ابی‌یاہ اور اُس کے آدمیوں نے بڑی تعداد میں اِسرائیلیوں کی لاشیں گِرائیں اور اُن کے 5 لاکھ ماہر*‏ سپاہیوں کو مار ڈالا۔ 18 اِس طرح اِسرائیل کے آدمیوں کا سر نیچا ہوا جبکہ یہوداہ کے آدمی سرفراز ہوئے کیونکہ اُنہوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ پر بھروسا کِیا تھا۔ 19 ابی‌یاہ یرُبعام کا پیچھا کرتا رہا اور اُس نے یرُبعام سے یہ شہر لے لیے:‏ بیت‌ایل اور اُس کے آس‌پاس کے*‏ قصبے، یسانہ اور اُس کے آس‌پاس کے قصبے اور عِفراین اور اُس کے آس‌پاس کے قصبے۔ 20 ابی‌یاہ کی حکمرانی کے دوران یرُبعام پھر کبھی پہلے جیسی طاقت حاصل نہیں کر پایا۔ پھر یہوواہ نے اُسے مار ڈالا اور وہ مر گیا۔‏

21 لیکن ابی‌یاہ مضبوط ہوتا گیا۔ اُس نے 14 عورتوں سے شادی کی اور اُس کے 22 بیٹے اور 16 بیٹیاں ہوئیں۔ 22 ابی‌یاہ کی باقی کہانی اور اُس کے کاموں اور باتوں کے بارے میں تفصیل اِدّو نبی کی تحریروں*‏ میں لکھی ہے۔‏

14 پھر ابی‌یاہ اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے داؤد کے شہر میں دفنایا گیا اور اُس کے بیٹے آسا اُس کی جگہ بادشاہ بنے۔ آسا کے دَور میں دس سال تک ملک میں سکون رہا۔‏

2 آسا نے وہی کام کیے جو اُن کے خدا یہوواہ کی نظر میں اچھے اور صحیح تھے۔ 3 اُنہوں نے دوسرے خداؤں کی قربان‌گاہوں اور اُونچی جگہوں کو ڈھا دیا، مُقدس ستونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور مُقدس بَلّیوں*‏ کو کاٹ دیا۔ 4 اِس کے علاوہ اُنہوں نے یہوداہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی تلاش کریں اور شریعت اور حکموں پر عمل کریں۔ 5 اُنہوں نے یہوداہ کے سب شہروں سے اُونچی جگہوں اور بخور کی قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا اور اُن کی حکمرانی کے دوران ملک میں امن رہا۔ 6 اُنہوں نے یہوداہ میں قلعہ‌بند شہر بنائے کیونکہ ملک میں امن تھا اور اُن سالوں کے دوران کسی نے اُن کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں سکون بخشا تھا۔ 7 آسا نے یہوداہ کے لوگوں سے کہا:‏ ”‏آئیں یہ شہر بنائیں اور اِن کے گِرد دیواریں اور بُرج تعمیر کریں اور دروازے*‏ اور کُنڈے لگائیں۔ ابھی ملک ہمارے ہاتھ میں ہے کیونکہ ہم نے اپنے خدا یہوواہ کی تلاش کی ہے۔ ہم نے اُس کی تلاش کی ہے اور اُس نے ہمیں چاروں طرف سے سکون بخشا ہے۔“‏ اِس طرح وہ لوگ اپنے تعمیراتی کام میں کامیاب رہے۔‏

8 آسا کی فوج میں یہوداہ سے 3 لاکھ سپاہی تھے جو بڑی ڈھالوں اور نیزوں سے لیس تھے اور بِنیامین سے 2 لاکھ 80 ہزار طاقت‌ور جنگجو تھے جو چھوٹی ڈھالیں*‏ اُٹھاتے تھے اور کمانوں سے لیس تھے۔‏

9 بعد میں زارح اِیتھیوپیائی 10 لاکھ سپاہیوں اور 300 رتھوں کی فوج کے ساتھ اُن سے جنگ لڑنے آیا۔ جب وہ مریسہ پہنچا 10 تو آسا اُس کا مقابلہ کرنے گئے اور اُنہوں نے مریسہ کی وادیِ‌صِفاتہ میں جنگ کے لیے صفیں باندھیں۔ 11 پھر آسا نے اپنے خدا یہوواہ کو پکارا اور کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ تیرے نزدیک یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ جن کی تُو مدد کر رہا ہے، وہ زیادہ ہیں یا کمزور ہیں۔ اَے ہمارے خدا یہوواہ!‏ ہماری مدد کر کیونکہ ہمارا بھروسا تجھ پر ہے اور ہم تیرے نام سے اِس ہجوم کا مقابلہ کرنے آئے ہیں۔ اَے یہوواہ!‏ تُو ہمارا خدا ہے۔ فانی اِنسان کو اپنے خلاف زور نہ پکڑنے دے۔“‏

12 تب یہوواہ نے آسا اور یہوداہ کو اِیتھیوپیائی فوج پر فتح دِلائی اور اِیتھیوپیائی بھاگ گئے۔ 13 آسا اور اُن کے لوگ جِرار تک اُن کے پیچھے گئے اور اُنہیں مار گِراتے رہے، یہاں تک کہ اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا۔ یہوواہ اور اُس کی فوج نے اُنہیں کچل دیا۔ اِس کے بعد یہوداہ کے لوگ اُن کا بہت سارا مال لُوٹ کر لے گئے۔ 14 اِس کے علاوہ وہ جِرار کے آس‌پاس کے سب شہروں پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ اُن شہروں پر یہوواہ کا خوف چھا گیا تھا۔ اُنہوں نے سب شہروں کو لُوٹ لیا کیونکہ وہاں لُوٹنے کے لیے کافی کچھ تھا۔ 15 اُنہوں نے مویشی پالنے والوں کے خیموں پر بھی حملہ کِیا اور بڑی تعداد میں بھیڑبکریاں اور اُونٹ لُوٹ لیے۔ اِس کے بعد وہ یروشلم واپس چلے گئے۔‏

15 پھر خدا کی روح عودِد کے بیٹے عزریاہ پر نازل ہوئی۔ 2 اِس لیے وہ آسا سے ملنے گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏آسا اور یہوداہ اور بِنیامین کے سب لوگو!‏ میری بات سنیں!‏ جب تک آپ یہوواہ کے ساتھ رہیں گے، وہ آپ کے ساتھ رہے گا۔ اگر آپ اُسے ڈھونڈیں گے تو وہ آپ کو مل جائے گا لیکن اگر آپ اُسے چھوڑ دیں گے تو وہ آپ کو چھوڑ دے گا۔ 3 اِسرائیلی ایک لمبے عرصے*‏ تک سچے خدا، تعلیم دینے والے کاہنوں اور شریعت کے بغیر زندگی گزارتے رہے۔ 4 لیکن جب وہ مصیبت کے عالم میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی طرف لوٹے اور اُس کی تلاش کی تو وہ اُنہیں مل گیا۔ 5 اُس زمانے میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا*‏ کیونکہ ملک کے فرق فرق علاقوں میں بڑی بدامنی پھیلی تھی۔ 6 ایک قوم دوسری قوم کو اور ایک شہر دوسرے شہر کو کچل رہا تھا کیونکہ خدا اُن پر طرح طرح کی پریشانیاں لا کر اُنہیں بدنظمی کا شکار کرتا رہا۔ 7 لیکن آپ مضبوط ہوں اور ہمت نہ ہاریں*‏ کیونکہ آپ کو اپنے کام کا اجر ملے گا۔“‏

8 جیسے ہی آسا نے یہ الفاظ اور عودِد نبی کی پیش‌گوئی سنی، اُنہوں نے ہمت باندھی اور یہوداہ اور بِنیامین کے سارے علاقے اور اِفرائیم کے پہاڑی علاقے کے اُن شہروں سے جن پر اُنہوں نے قبضہ کِیا تھا، گھناؤنے بُتوں کو نکال دیا۔ اُنہوں نے یہوواہ کی اُس قربان‌گاہ کی مرمت کی جو یہوواہ کے گھر کی ڈیوڑھی کے سامنے تھی۔ 9 اُنہوں نے یہوداہ اور بِنیامین کے سب لوگوں اور اِفرائیم، منسّی اور شمعون سے آنے والے پردیسیوں کو جمع کِیا کیونکہ جب اُن لوگوں نے دیکھا تھا کہ آسا کا خدا یہوواہ اُن کے ساتھ ہے تو وہ بڑی تعداد میں اِسرائیل کو چھوڑ کر آسا کے پاس آ گئے تھے۔ 10 وہ آسا کی حکمرانی کے 15ویں سال کے تیسرے مہینے میں یروشلم میں جمع ہوئے۔ 11 اُس دن اُنہوں نے لُوٹ کے اُس مال میں سے جو وہ لائے تھے، 700 گائے‌بیل اور 7000 بھیڑیں یہوواہ کے حضور قربان کیں۔ 12 اِس کے علاوہ اُنہوں نے یہ عہد باندھا کہ وہ اپنے پورے دل اور اپنی پوری جان*‏ سے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی تلاش کریں گے 13 اور جو کوئی اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی تلاش نہیں کرے گا، اُسے مار ڈالا جائے گا پھر چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت۔ 14 اُنہوں نے خوشی سے للکارتے ہوئے اور نرسنگے اور سینگ بجاتے ہوئے اُونچی آواز میں یہوواہ سے قسم کھائی۔ 15 سارا یہوداہ اِس قسم پر خوش تھا کیونکہ اُنہوں نے پورے دل سے یہ قسم کھائی تھی۔ اُنہوں نے لگن سے خدا کی تلاش کی اور وہ اُنہیں مل گیا۔ اور یہوواہ اُنہیں ہر طرف سے سکون بخشتا رہا۔‏

16 بادشاہ آسا نے اپنی دادی معکہ تک کو اُس کے اعلیٰ عہدے سے*‏ ہٹا دیا کیونکہ اُس نے مُقدس بَلّی*‏ کی پرستش کے لیے ایک فحش بُت بنایا تھا۔ آسا نے اُس فحش بُت کو کاٹ کر چُور چُور کر دیا اور اُسے وادیِ‌قِدرون میں جلا دیا۔ 17 لیکن اِسرائیل میں سے اُونچی جگہیں نہیں ڈھائی گئیں۔ پھر بھی آسا کا دل عمر بھر پوری طرح خدا کی طرف لگا رہا۔ 18 وہ اُس چاندی، سونے اور فرق فرق چیزوں کو جو اُنہوں نے اور اُن کے باپ نے پاک کی تھیں، سچے خدا کے گھر میں لائے۔ 19 آسا کی حکمرانی کے 35ویں سال تک کوئی جنگ نہیں ہوئی۔‏

16 آسا کی حکمرانی کے 36ویں سال میں اِسرائیل کے بادشاہ بعشا نے یہوداہ پر حملہ کر دیا اور رامہ کو بنانے*‏ لگا تاکہ نہ تو کوئی یہوداہ کے بادشاہ آسا کے پاس آ سکے اور نہ کوئی اُس کے پاس سے جا سکے۔‏*‏ 2 اِس پر آسا یہوواہ کے گھر کے خزانوں اور بادشاہ کے محل کے خزانوں سے سونا چاندی لائے اور اِسے سُوریہ کے بادشاہ بِن‌ہدد کے پاس بھیجا جو دمشق میں رہ رہا تھا اور ساتھ یہ پیغام بھیجا:‏ 3 ‏”‏آپ کے اور میرے بیچ ایک معاہدہ*‏ ہے جیسے آپ کے اور میرے والد کے بیچ تھا۔ مَیں آپ کو چاندی اور سونا بھیج رہا ہوں۔ آئیں اور اِسرائیل کے بادشاہ بعشا کے ساتھ اپنا معاہدہ*‏ توڑ دیں تاکہ وہ یہاں سے چلا جائے۔“‏

4 بِن‌ہدد نے بادشاہ آسا کی بات مانی اور اپنی فوج کے سربراہوں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے بھیجا۔ اُنہوں نے عِیّون، دان اور ابیل‌مائم اور نفتالی کے شہروں کے سارے گوداموں پر قبضہ کر لیا۔ 5 جب بعشا نے اِس بارے میں سنا تو اُس نے فوراً رامہ کو بنانا*‏ چھوڑ دیا اور اِس پر کام بند کر دیا۔ 6 پھر بادشاہ آسا نے یہوداہ کے سارے لوگوں کو ساتھ لیا اور وہ اُن پتھروں اور لکڑیوں کو اُٹھا کر لے گئے جن سے بعشا رامہ کو بنوا رہا تھا اور آسا نے اِن سے جبع اور مِصفاہ کو بنایا۔‏*‏

7 اُس وقت حنانی جو کہ بصیر*‏ تھے، یہوداہ کے بادشاہ آسا کے پاس آئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏آپ نے اپنے خدا یہوواہ پر بھروسا نہیں کِیا بلکہ سُوریہ کے بادشاہ پر بھروسا کِیا اِس لیے سُوریہ کے بادشاہ کی فوج آپ کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ 8 کیا اِیتھیوپیائی اور لیبیائی فوج بہت بڑی نہیں تھی؟ کیا اُن کے پاس بہت سے رتھ اور گُھڑسوار نہیں تھے؟ لیکن چونکہ آپ نے یہوواہ پر بھروسا کِیا اِس لیے اُس نے اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا۔ 9 یہوواہ ساری زمین پر نظر دوڑاتا رہتا ہے تاکہ اُن لوگوں کی خاطر اپنی طاقت ظاہر کرے*‏ جن کا دل پوری طرح اُس کی طرف لگا رہتا ہے۔ آپ نے اِس معاملے میں بے‌وقوفی کی ہے اِس لیے اب سے آپ کے خلاف جنگ ہی جنگ ہوگی۔“‏

10 لیکن آسا کو بصیر کی بات بُری لگی اور اُنہیں اُس پر بہت غصہ آیا اِس لیے اُنہوں نے اُسے قید*‏ میں ڈلوا دیا۔ اُس وقت آسا دوسرے لوگوں سے بھی بدسلوکی کرنے لگے۔ 11 شروع سے لے کر آخر تک آسا کی کہانی یہوداہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔‏

12 آسا کی حکمرانی کے 39ویں سال میں اُن کے پاؤں میں ایک بیماری لگ گئی اور وہ شدید بیمار ہو گئے۔ لیکن اِس حالت میں بھی اُنہوں نے یہوواہ سے رُجوع نہیں کِیا بلکہ حکیموں سے رُجوع کِیا۔ 13 پھر آسا اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے۔‏*‏ اُن کی وفات اُن کی حکمرانی کے 41ویں سال میں ہوئی۔ 14 اُنہیں اُس عالی‌شان قبر میں دفنایا گیا جو اُنہوں نے داؤد کے شہر میں اپنے لیے کھدوائی تھی۔ اُنہیں جس چارپائی پر لِٹایا گیا، وہ بلسان کے تیل اور فرق فرق مصالحوں اور خوشبودار تیلوں کے آمیزے سے بھری ہوئی تھی۔ اِس کے علاوہ آسا کے جنازے پر اُن کے اعزاز میں ایک بڑی آگ جلائی گئی۔‏*‏

17 پھر آسا کے بیٹے یہوسفط اُن کی جگہ بادشاہ بنے اور اُنہوں نے اِسرائیل پر اپنا اِختیار مضبوط کِیا۔ 2 اُنہوں نے یہوداہ کے سب قلعہ‌بند شہروں میں سپاہی تعینات کیے اور یہوداہ کے علاقے اور اِفرائیم کے اُن شہروں میں چوکیاں بنوائیں جن پر اُن کے والد آسا نے قبضہ کِیا تھا۔ 3 یہوواہ یہوسفط کے ساتھ رہا کیونکہ وہ اُسی راہ پر چلے جس پر پُرانے زمانے میں اُن کے بڑے بزرگ داؤد چلے تھے اور بعل دیوتاؤں کے پیچھے نہیں گئے۔ 4 اِس کی بجائے اُنہوں نے اپنے والد کے خدا کی تلاش کی اور اُس کے حکموں پر چلے نہ کہ اِسرائیل کے طورطریقوں پر۔ 5 یہوواہ نے سلطنت پر اُن کی پکڑ مضبوط رکھی اور سارا یہوداہ اُن کے لیے تحفے لاتا تھا اور اُنہیں بڑی دولت اور عزت ملی۔ 6 وہ یہوواہ کی راہوں پر چلنے کے لیے دلیری سے کام لیتے رہے، یہاں تک کہ اُنہوں نے یہوداہ میں موجود اُونچی جگہوں اور مُقدس بَلّیوں*‏ کو ڈھا دیا۔‏

7 یہوسفط نے اپنی حکمرانی کے تیسرے سال میں اپنے حاکموں بِن‌خیل، عبدیاہ، زکریاہ، نِتنی‌ایل اور میکایاہ کو بُلایا تاکہ یہوداہ کے شہروں میں تعلیم دی جا سکے۔ 8 اُن کے ساتھ یہ لاوی بھی تھے:‏ سِمعیاہ، نِتنیاہ، زِبدیاہ، عساہیل، شِمیراموت، یہونتن، ادونیاہ، طوبیاہ اور طوب‌ادونیاہ۔ اِس کے علاوہ اُن کے ساتھ کاہن اِلی‌سمع اور کاہن یہورام بھی تھے۔ 9 وہ یہوواہ کی شریعت کی کتاب ساتھ لے کر گئے اور یہوداہ میں تعلیم دینے لگے۔ وہ یہوداہ کے سب شہروں میں گئے اور لوگوں کو تعلیم دی۔‏

10 یہوداہ کے آس‌پاس کے علاقوں کی سب سلطنتوں پر یہوواہ کا خوف چھا گیا اور اُنہوں نے یہوسفط کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی۔ 11 فِلسطینی یہوسفط کے لیے خراج کے طور پر تحفے اور پیسے لاتے تھے اور عربی اُن کے لیے اپنے گلّوں سے 7700 مینڈھے اور 7700 بکرے لاتے تھے۔‏

12 وقت کے ساتھ ساتھ یہوسفط کی طاقت بڑھتی گئی۔ وہ یہوداہ میں قلعہ‌بند جگہیں اور گوداموں والے شہر بناتے رہے۔ 13 اُنہوں نے یہوداہ کے شہروں میں بڑے بڑے کام کرائے اور یروشلم میں اُن کے پاس سپاہی تھے جو طاقت‌ور جنگجو تھے۔ 14 اُن سپاہیوں کو اُن کے آبائی خاندانوں کے حساب سے گروہوں میں تقسیم کِیا گیا تھا۔ یہوداہ میں سے ہزار ہزار کے دستوں کے سربراہ یہ تھے:‏ عدنہ سربراہ تھے اور اُن کے ساتھ 3 لاکھ طاقت‌ور جنگجو تھے؛ 15 اُن کے تحت یہوحنان سربراہ تھے اور اُن کے ساتھ 2 لاکھ 80 ہزار سپاہی تھے؛ 16 اُن کے تحت زِکری کے بیٹے عمسیاہ بھی تھے جنہوں نے اپنی خوشی سے خود کو یہوواہ کی خدمت کے لیے پیش کِیا تھا اور اُن کے ساتھ 2 لاکھ طاقت‌ور جنگجو تھے۔ 17 بِنیامین میں سے اِلیدع ایک طاقت‌ور جنگجو تھے اور اُن کے ساتھ 2 لاکھ آدمی تھے جو کمانوں اور ڈھالوں سے لیس رہتے تھے۔ 18 اُن کے تحت یہوزبد تھے جن کے ساتھ 1 لاکھ 80 ہزار آدمی تھے جو جنگ کے لیے تیار رہتے تھے۔ 19 یہ لوگ بادشاہ کی خدمت کرتے تھے۔ یہ اُن کے علاوہ تھے جنہیں بادشاہ نے سارے یہوداہ کے قلعہ‌بند شہروں میں تعینات کِیا تھا۔‏

18 یہوسفط کو بہت دولت اور عزت ملی لیکن اُنہوں نے اخی‌اب سے رشتے‌داری کر کے اُس سے گٹھ‌جوڑ کر لیا۔ 2 کئی سال بعد یہوسفط اخی‌اب سے ملنے نیچے سامریہ گئے اور اخی‌اب نے اُن کے اور اُن کے ساتھ آئے لوگوں کے لیے ڈھیروں ڈھیر بھیڑیں اور گائے بیل ذبح کیے۔ اخی‌اب نے یہوسفط سے اِصرار کِیا*‏ کہ وہ رامات‌جِلعاد پر حملہ کریں۔ 3 پھر اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب نے یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط سے کہا:‏ ”‏کیا آپ میرے ساتھ رامات‌جِلعاد چلیں گے؟“‏ یہوسفط نے اُسے جواب دیا:‏ ”‏مَیں اور آپ ایک ہیں۔ میرے لوگوں اور آپ کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم جنگ میں آپ کا ساتھ دیں گے۔“‏

4 لیکن اُنہوں نے اِسرائیل کے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے پہلے یہوواہ کی مرضی جان لیں۔“‏ 5 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے نبیوں کو اِکٹھا کِیا جو 400 آدمی تھے اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏ہمیں رامات‌جِلعاد کے خلاف جنگ کرنے جانا چاہیے یا نہیں؟“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جائیں، سچا خدا اُسے بادشاہ سلامت کے حوالے کر دے گا۔“‏

6 پھر یہوسفط نے کہا:‏ ”‏کیا یہاں یہوواہ کا کوئی نبی نہیں ہے؟ آئیں اُس کے ذریعے بھی خدا سے رہنمائی مانگیں۔“‏ 7 اِس پر اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏ایک اَور آدمی بھی ہے جس کے ذریعے ہم یہوواہ سے رہنمائی مانگ سکتے ہیں۔ لیکن مجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کوئی اچھی پیش‌گوئی نہیں کرتا، ہمیشہ بُری ہی کرتا ہے۔ وہ اِملہ کا بیٹا میکایاہ ہے۔“‏ لیکن یہوسفط نے کہا:‏ ”‏بادشاہ کو ایسی بات نہیں کہنی چاہیے۔“‏

8 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے ایک درباری کو بُلایا اور کہا:‏ ”‏فوراً اِملہ کے بیٹے میکایاہ کو لے کر آؤ۔“‏ 9 اِسرائیل کے بادشاہ اور یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے شاہی لباس پہنا ہوا تھا اور وہ دونوں سامریہ کے دروازے کے پاس کھلیان*‏ میں اپنے اپنے تخت پر بیٹھے تھے۔ سارے نبی اُن کے سامنے نبوّت کر رہے تھے۔ 10 پھر کنعانہ کے بیٹے صِدقیاہ نے اپنے لیے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏اِن سے تُم تب تک سُوریانیوں کو مارتے*‏ رہو گے جب تک تُم اُن کا نام‌ونشان نہیں مٹا دو گے۔“‏“‏ 11 باقی سارے نبی بھی اِسی طرح کی پیش‌گوئی کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:‏ ”‏اُوپر رامات‌جِلعاد جائیں اور آپ کامیاب ہوں گے۔ یہوواہ اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“‏

12 جو قاصد میکایاہ کو بُلانے گیا تھا، اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، سب نبیوں کی ایک جیسی رائے ہے اور یہ رائے بادشاہ کے حق میں ہے۔ مہربانی سے آپ بھی اُن کی طرح بادشاہ کے حق میں بات کیجیے گا۔“‏ 13 لیکن میکایاہ نے کہا:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم، مَیں وہی کہوں گا جو میرا خدا کہے گا۔“‏ 14 پھر میکایاہ بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏میکایاہ!‏ ہمیں رامات‌جِلعاد کے خلاف جنگ کرنے جانا چاہیے یا نہیں؟“‏ میکایاہ نے فوراً جواب دیا:‏ ‏”‏جائیں، آپ کامیاب ہوں گے۔ اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا جائے گا۔“‏ 15 اِس پر بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں کتنی بار قسم دِلا کر کہوں کہ مجھ سے جو بھی کہو، یہوواہ کے نام سے سچ کہو؟“‏ 16 تب میکایاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں دیکھ رہا ہوں کہ سب اِسرائیلی اُن بھیڑوں کی طرح پہاڑوں پر بکھرے ہوئے ہیں جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔ یہوواہ کہتا ہے:‏ ”‏اِن کا کوئی مالک نہیں ہے۔ یہ سب سلامتی سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔“‏“‏

17 تب اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏مَیں نے آپ سے کہا تھا نا کہ ”‏وہ میرے بارے میں کوئی اچھی پیش گوئی نہیں کرے گا، صرف بُری ہی کرے گا“‏؟“‏

18 پھر میکایاہ نے کہا:‏ ”‏تو پھر اب یہوواہ کا فرمان سنیں:‏ مَیں نے یہوواہ کو اپنے تخت پر بیٹھے دیکھا اور آسمان کی ساری فوج اُس کی دائیں اور بائیں طرف کھڑی تھی۔ 19 یہوواہ نے پوچھا:‏ ”‏اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کو بے‌وقوف کون بنائے گا تاکہ وہ رامات‌جِلعاد جائے اور وہاں مارا جائے؟“‏ اِس پر کوئی کچھ کہنے لگا اور کوئی کچھ۔ 20 پھر ایک فرشتہ*‏ آگے آیا اور یہوواہ کے حضور کھڑا ہو کر کہنے لگا:‏ ”‏مَیں اُسے بے‌وقوف بناؤں گا۔“‏ یہوواہ نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏تُم ایسا کیسے کرو گے؟“‏ 21 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں جاؤں گا اور اُس کے سب نبیوں کے مُنہ سے جھوٹ بُلواؤں گا۔“‏*‏ اِس پر خدا نے کہا:‏ ”‏تُم اُسے بے‌وقوف بناؤ گے اور تُم کامیاب بھی ہو گے۔ جاؤ اور ایسا ہی کرو۔“‏ 22 اور اب یہوواہ نے آپ کے اِن نبیوں کے مُنہ سے جھوٹ بُلوایا ہے*‏ لیکن اصل میں یہوواہ نے آپ کے لیے تباہی کا اِعلان کِیا ہے۔“‏

23 کنعانہ کا بیٹا صِدقیاہ میکایاہ کے پاس آیا اور اُن کے مُنہ پر تھپڑ مار کر کہا:‏ ”‏یہوواہ کی روح*‏ مجھے چھوڑ کر تُم سے بات کرنے کب گئی؟“‏ 24 میکایاہ نے جواب دیا:‏ ”‏اِس کا جواب تمہیں اُس دن ملے گا جب تُم سب سے اندر والے کمرے میں جا کر چھپو گے۔“‏ 25 پھر اِسرائیل کے بادشاہ نے کہا:‏ ”‏میکایاہ کو لے جاؤ اور اِسے شہر کے حاکم امون اور بادشاہ کے بیٹے یوآس کے حوالے کر دو۔ 26 اُن سے کہو:‏ ”‏بادشاہ نے کہا ہے:‏ ”‏اِس آدمی کو قید میں رکھو اور جب تک مَیں صحیح سلامت واپس نہ آ جاؤں تب تک اِسے بس تھوڑی بہت روٹی اور پانی دیتے رہنا۔“‏“‏“‏ 27 لیکن میکایاہ نے کہا:‏ ”‏اگر آپ صحیح سلامت لوٹ آئے تو اِس کا مطلب ہوگا کہ یہوواہ نے مجھ سے بات نہیں کی۔“‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سب لوگ یہ بات یاد رکھنا۔“‏

28 اِس کے بعد اِسرائیل کا بادشاہ اور یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط رامات‌جِلعاد گئے۔ 29 اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏مَیں اپنا بھیس بدل کر میدانِ‌جنگ میں جاؤں گا۔ لیکن آپ اپنا شاہی لباس پہنے رکھنا۔“‏ پھر اِسرائیل کے بادشاہ نے بھیس بدلا اور وہ لوگ میدانِ‌جنگ میں گئے۔ 30 سُوریہ کے بادشاہ نے اپنے رتھوں کے سپہ‌سالاروں کو یہ حکم دیا تھا:‏ ”‏اِسرائیل کے بادشاہ کے سوا کسی سے بھی نہ لڑنا پھر چاہے وہ کوئی معمولی سپاہی ہو یا کوئی اعلیٰ افسر۔“‏ 31 جیسے ہی رتھوں کے سپہ‌سالاروں نے یہوسفط کو دیکھا، وہ سوچنے لگے:‏ ”‏یہ اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔“‏ اِس لیے وہ اُن پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ اِس پر یہوسفط مدد کے لیے پکارنے لگے۔ یہوواہ نے اُن کی مدد کی اور اُسی لمحے دُشمنوں کو اُن سے دُور ہٹا دیا۔ 32 جب رتھوں کے سپہ‌سالاروں نے دیکھا کہ یہ اِسرائیل کا بادشاہ نہیں ہے تو وہ فوراً مُڑ گئے اور یہوسفط کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔‏

33 لیکن ایک آدمی نے ایسے ہی ایک تیر چلایا جو اِسرائیل کے بادشاہ کے بکتر کے جوڑوں میں سے گزر کر اُسے جا لگا۔ اِس لیے بادشاہ نے اپنے رتھ‌بان سے کہا:‏ ”‏رتھ موڑو اور مجھے میدانِ‌جنگ*‏ سے باہر لے جاؤ۔ مَیں بُری طرح زخمی ہو گیا ہوں۔“‏ 34 پورا دن لڑائی زوروں پر رہی اور اِسرائیل کے بادشاہ کو سہارا دے کر شام تک سُوریانیوں کے سامنے رتھ میں کھڑا رکھنا پڑا اور سورج ڈوبنے کے وقت وہ مر گیا۔‏

19 پھر یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط صحیح سلامت یروشلم میں اپنے محل لوٹ گئے۔ 2 رُویات دیکھنے والے حنانی کے بیٹے یاہُو، بادشاہ یہوسفط سے ملنے آئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کو بُرے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے اور ایسے لوگوں سے محبت کرنی چاہیے جن سے یہوواہ نفرت کرتا ہے؟ آپ کی اِس حرکت کی وجہ سے یہوواہ کو آپ پر بہت غصہ ہے۔ 3 لیکن آپ میں کچھ اچھائیاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں کیونکہ آپ نے ملک کو مُقدس بَلّیوں*‏ سے پاک کِیا اور اپنے دل کو تیار کِیا*‏ تاکہ آپ سچے خدا کی تلاش کر سکیں۔“‏

4 یہوسفط یروشلم میں ہی رہے۔ وہ بِیرسبع سے لے کر اِفرائیم کے پہاڑی علاقے تک پھر سے لوگوں کے پاس گئے تاکہ اُنہیں اُن کے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی طرف واپس لائیں۔ 5 اُنہوں نے یہوداہ کے سارے علاقے کے سب قلعہ‌بند شہروں میں قاضی بھی مقرر کیے۔ 6 اُنہوں نے قاضیوں سے کہا:‏ ”‏آپ کو سوچ سمجھ کر کام کرنا ہوگا کیونکہ آپ کسی اِنسان کی طرف سے نہیں بلکہ یہوواہ کی طرف سے فیصلے سنائیں گے اور جب آپ فیصلے سنائیں گے تو وہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ 7 ہمیشہ یہوواہ کا خوف رکھیں۔ احتیاط سے اپنا کام کریں کیونکہ ہمارا خدا یہوواہ کبھی نااِنصافی نہیں کرتا، کبھی طرف‌داری نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی رشوت لیتا ہے۔“‏

8 یہوسفط نے یروشلم میں بھی کچھ لاویوں اور کاہنوں اور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے کچھ سربراہوں کو مقرر کِیا تاکہ وہ یہوواہ کی طرف سے قاضیوں کے طور پر خدمت کریں اور یروشلم میں رہنے والوں کے قانونی معاملے حل کریں۔ 9 یہوسفط نے اُنہیں حکم دیا:‏ ”‏آپ کو یہوواہ کا خوف رکھتے ہوئے وفاداری اور پورے دل سے یہ کرنا ہوگا:‏ 10 جب بھی آپ کے بھائی اپنے اپنے شہروں سے کوئی ایسا قانونی مُقدمہ لائیں جس میں کسی کا خون بہایا گیا ہو یا کوئی ایسا سوال لائیں جس کا تعلق کسی قانون، حکم، معیار یا فیصلے سے ہو تو آپ اُنہیں آگاہ کرنا تاکہ وہ یہوواہ کے حضور قصوروار نہ بن جائیں ورنہ آپ پر اور آپ کے بھائیوں پر اُس کا غصہ بھڑکے گا۔ آپ ایسا ہی کرنا تاکہ آپ قصوروار نہ ٹھہریں۔ 11 دیکھیں، کاہنِ‌اعظم امریاہ یہوواہ کی عبادت سے تعلق رکھنے والے سب معاملوں میں آپ کی پیشوائی کریں گے۔ اِسماعیل کے بیٹے زِبدیاہ بادشاہ سے تعلق رکھنے والے سب معاملوں میں یہوداہ کے گھرانے کی پیشوائی کریں گے۔ لاوی اعلیٰ عہدےداروں کے طور پر آپ کی مدد کریں گے۔ مضبوط بنیں اور کام میں لگ جائیں۔ یہوواہ اُن کے ساتھ رہے جو اچھے کام کرتے ہیں۔“‏*‏

20 اِس کے بعد موآبی اور عمونی کچھ عمونیمیوں*‏ کے ساتھ یہوسفط سے جنگ کرنے آئے۔ 2 اِس لیے یہوسفط کو بتایا گیا:‏ ”‏سمندر*‏ کے علاقے سے یعنی ادوم سے ایک بہت بڑی فوج آپ سے جنگ کرنے آئی ہے۔ ابھی وہ لوگ حصاصون‌تَمر یعنی عین‌جدی میں ہیں۔“‏ 3 اِس پر یہوسفط خوف‌زدہ ہو گئے اور اُنہوں نے یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے*‏ کی ٹھانی۔ اُنہوں نے سارے یہوداہ کے لیے روزے کا اِعلان کِیا۔ 4 اِس کے بعد یہوداہ کے لوگ یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اِکٹھے ہوئے۔ وہ یہوداہ کے سب شہروں سے یہوواہ کی مرضی جاننے آئے۔‏

5 پھر یہوسفط یہوواہ کے گھر میں نئے صحن کے سامنے یہوداہ اور یروشلم کی جماعت میں کھڑے ہوئے 6 اور کہنے لگے:‏

‏”‏ہمارے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ!‏ کیا آسمان میں تُو ہی خدا نہیں ہے؟ کیا قوموں کی سب بادشاہتوں پر تیرا اِختیار نہیں ہے؟ طاقت اور قوت تیرے ہاتھ میں ہیں اور کوئی تیرے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا۔ 7 اَے ہمارے خدا!‏ تُو نے اِس ملک کے باشندوں کو اپنی قوم اِسرائیل کے سامنے سے بھگا دیا اور پھر اِسے اپنے دوست اَبراہام کی نسل کو دیا تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے اُن کی ملکیت ہو۔ 8 وہ اِس میں آباد ہو گئے اور اُنہوں نے یہاں تیرے نام کی بڑائی کے لیے ایک مُقدس جگہ بنائی اور کہا:‏ 9 ‏”‏اگر ہم پر تلوار، سخت سزا، وبا یا قحط کی وجہ سے مصیبت ٹوٹ پڑے تو ہمیں اِس گھر کے سامنے اور اپنے حضور کھڑے ہونے دینا (‏کیونکہ تیرا نام اِس گھر میں رہتا ہے)‏ اور یہ اِجازت دینا کہ ہم مصیبت سے نکلنے کے لیے تجھ سے مدد مانگ سکیں اور ہماری سُن لینا اور ہمیں بچا لینا۔“‏ 10 اب عمون، موآب اور شعیر کے پہاڑی علاقے کے آدمی یہاں آئے ہیں جن پر تُو نے اِسرائیلیوں کو اُس وقت حملہ نہیں کرنے دیا تھا جب وہ مصر سے نکلے تھے۔ اِس لیے اِسرائیلی پیچھے ہٹ گئے تھے اور اُن کا خاتمہ نہیں کِیا تھا۔ 11 اب دیکھ وہ ہماری اچھائی کا بدلہ کیسے دے رہے ہیں؛ وہ ہمیں تیری ملکیت سے نکالنے آ رہے ہیں جو تُو نے ہمیں وراثت کے طور پر دی ہے۔ 12 اَے ہمارے خدا!‏ کیا تُو اُنہیں سزا نہیں دے گا؟ ہم تو اُس بڑی فوج کے سامنے بے‌بس ہیں جو ہم سے لڑنے آ رہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے بلکہ ہماری آنکھیں تیری طرف لگی ہیں۔“‏

13 اِس دوران یہوداہ کے سب آدمی اپنی بیویوں، بچوں*‏ اور چھوٹے بچوں کے ساتھ یہوواہ کے حضور کھڑے تھے۔‏

14 پھر یہوواہ کی روح*‏ جماعت کے بیچ میں یحزی‌ایل پر نازل ہوئی جو زکریاہ کے بیٹے تھے جو بِنایاہ کے بیٹے تھے جو یعی‌ایل کے بیٹے تھے جو متنیاہ کے بیٹے تھے جو آسَف کے بیٹوں میں سے ایک لاوی تھے۔ 15 یحزی‌ایل نے کہا:‏ ”‏یہوداہ کے سب لوگو، یروشلم کے رہنے والو اور بادشاہ یہوسفط!‏ دھیان سے میری بات سنیں۔ یہوواہ آپ سے کہتا ہے:‏ ”‏اِس بڑی فوج کی وجہ سے ڈرو نہیں اور خوف‌زدہ نہیں ہو کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ خدا کی ہے۔ 16 کل اُن کا سامنا کرنے نیچے کی طرف جاؤ۔ وہ صِیص کی گھاٹی سے اُوپر کی طرف آ رہے ہوں گے اور یروئیل کے ویرانے کے سامنے وادی کے سِرے پر تمہیں ملیں گے۔ 17 تمہیں یہ جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بس اپنی اپنی جگہ کھڑے رہنا اور دیکھنا کہ یہوواہ تمہیں کیسے نجات دِلاتا ہے۔ اَے یہوداہ اور یروشلم!‏ ڈرو نہیں اور خوف‌زدہ نہیں ہو۔ کل اُن کا سامنا کرنے جانا اور یہوواہ تمہارے ساتھ ہوگا۔“‏“‏

18 یہ سنتے ہی یہوسفط مُنہ کے بل زمین پر جھک گئے اور یہوداہ کے سب لوگوں اور یروشلم کے رہنے والوں نے یہوواہ کے حضور جھک کر یہوواہ کی عبادت کی۔ 19 پھر وہ لاوی جو قہات اور قورح کی اولاد تھے، کھڑے ہوئے تاکہ اُونچی آواز میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی بڑائی کریں۔‏

20 اگلے دن وہ صبح سویرے اُٹھے اور تقوع کے ویرانے کی طرف گئے۔ جب وہ روانہ ہوئے تو یہوسفط نے کھڑے ہو کر کہا:‏ ”‏یہوداہ کے لوگو اور یروشلم کے رہنے والو!‏ میری بات سنیں۔ اپنے خدا یہوواہ پر ایمان رکھیں تاکہ آپ قدم جما کر کھڑے رہ سکیں۔‏*‏ اُس کے نبیوں پر بھروسا رکھیں اور آپ کامیاب ہوں گے۔“‏

21 لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد یہوسفط نے کچھ آدمیوں کو مقرر کِیا تاکہ وہ پاک لباس پہن کر ہتھیاروں سے لیس آدمیوں کے آگے آگے چلیں اور یہوواہ کے لیے گیت گائیں اور یہ کہتے ہوئے اُس کی بڑائی کریں:‏ ”‏یہوواہ کا شکر کرو کیونکہ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏

22 جب وہ لوگ خوشی سے گیت گانے لگے تو یہوواہ نے عمون، موآب اور شعیر کے پہاڑی علاقے کے اُن آدمیوں پر گھات لگوا کر حملہ کروایا جو یہوداہ پر حملہ کرنے آئے تھے اور اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو مار ڈالا۔ 23 عمونی اور موآبی شعیر کے پہاڑی علاقے کے لوگوں کے خلاف ہو گئے تاکہ اُنہیں ہلاک کر دیں اور اُن کا نام‌ونشان مٹا دیں۔ شعیر کے لوگوں کو ختم کرنے کے بعد اُنہوں نے ایک دوسرے کو مار ڈالا۔‏

24 جب یہوداہ کے لوگ ویرانے میں پہرےداروں کے بُرج پر آئے اور دُشمن فوج کو دیکھا تو اُنہیں اُن کی لاشیں زمین پر پڑی ہوئی نظر آئیں۔ اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ 25 پھر یہوسفط اور اُن کے لوگ دُشمنوں کا مال لُوٹنے گئے۔ اُنہیں وہاں بہت سا سامان، کپڑے اور قیمتی چیزیں ملیں اور وہ لاشوں سے یہ چیزیں اُتارنے لگے۔ وہ تب تک ایسا کرتے رہے جب تک وہ اَور چیزیں نہیں لے جا سکتے تھے۔ لُوٹ کا مال اِتنا زیادہ تھا کہ اُنہیں اِسے لے جانے میں تین دن لگ گئے۔ 26 چوتھے دن وہ وادیِ‌بِراکاہ میں جمع ہوئے جہاں اُنہوں نے یہوواہ کی بڑائی کی۔ اِسی لیے اُس جگہ کا نام وادیِ‌بِراکاہ*‏ رکھا گیا اور آج تک اُس کا یہی نام ہے۔‏

27 پھر یہوداہ اور یروشلم کے سب آدمی یہوسفط کی پیشوائی میں خوشی مناتے ہوئے یروشلم لوٹے کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں اُن کے دُشمنوں پر جیت دِلا کر خوشی بخشی تھی۔ 28 وہ تاردار سازوں، بربطوں*‏ اور نرسنگوں کی آوازوں کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوئے اور یہوواہ کے گھر میں گئے۔ 29 جب سب ملکوں کی سلطنتوں نے سنا کہ یہوواہ اِسرائیل کے دُشمنوں کے خلاف لڑا ہے تو اُن پر خدا کا خوف چھا گیا۔ 30 اِس طرح یہوسفط کی حکمرانی میں امن رہا اور اُن کا خدا اُنہیں ہر طرف سے سکون بخشتا رہا۔‏

31 یہوسفط یہوداہ پر حکمرانی کرتے رہے۔ جب وہ بادشاہ بنے تو وہ 35 سال کے تھے اور اُنہوں نے 25 سال تک یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام عزوبہ تھا جو سِلحی کی بیٹی تھیں۔ 32 وہ اُس راہ پر چلتے رہے جس پر اُن کے والد آسا چلے تھے۔ وہ اُس راہ سے نہیں پھرے اور اُنہوں نے وہی کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 33 لیکن اُونچی جگہیں نہیں ڈھائی گئیں اور لوگوں نے ابھی تک اپنے دلوں کو اپنے باپ‌دادا کے خدا کی تلاش کرنے کے لیے تیار نہیں کِیا تھا۔‏

34 شروع سے لے کر آخر تک یہوسفط کی باقی کہانی حنانی کے بیٹے یاہُو کی تحریروں میں لکھی ہے جو اِسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں شامل ہیں۔ 35 اِس کے بعد یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط اِسرائیل کے بادشاہ اخزیاہ کے اِتحادی بن گئے جس نے بہت بُرے کام کیے۔ 36 یہوسفط نے ترسیس جانے والے جہاز بنانے کے لیے اخزیاہ کو ساتھ ملا لیا اور اُنہوں نے یہ جہاز عِصیون‌جابر میں بنوائے۔ 37 لیکن مریسہ سے تعلق رکھنے والے دوداواہو کے بیٹے اِلیعزر نے یہوسفط کے خلاف یہ پیش‌گوئی کی:‏ ”‏آپ نے اخزیاہ کے ساتھ اِتحاد کِیا ہے اِس لیے یہوواہ آپ کے کاموں کو مٹا دے گا۔“‏ اِس وجہ سے وہ جہاز تباہ ہو گئے اور ترسیس نہیں جا سکے۔‏

21 پھر یہوسفط اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں داؤد کے شہر میں اُن کے باپ‌دادا کے ساتھ دفنایا گیا اور اُن کا بیٹا یہورام اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔ 2 یہورام کے بھائی یعنی یہوسفط کے بیٹے یہ تھے:‏ عزریاہ، یحی‌ایل، زکریاہ، عزریاہ، میکائیل اور سِفطیاہ۔ یہ سب اِسرائیل کے بادشاہ یہوسفط کے بیٹے تھے۔ 3 اُن کے والد نے اُنہیں تحفے میں بہت سا سونا چاندی اور قیمتی چیزیں دیں اور ساتھ میں یہوداہ کے قلعہ‌بند شہر بھی دیے۔ لیکن یہوسفط نے بادشاہت یہورام کے حوالے کی کیونکہ وہ پہلوٹھا تھا۔‏

4 جب یہورام نے اپنے والد کا تخت سنبھال لیا تو اُس نے اپنے سب بھائیوں اور اِسرائیل کے کچھ حاکموں کو تلوار سے مروا دیا اور اِس طرح سلطنت پر اپنی پکڑ مضبوط کر لی۔ 5 جب یہورام بادشاہ بنا تو وہ 32 سال کا تھا اور اُس نے آٹھ سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ 6 وہ اخی‌اب کے گھرانے کی طرح اُسی راہ پر چلا جس پر اِسرائیل کے بادشاہ چلے تھے کیونکہ اخی‌اب کی بیٹی اُس کی بیوی تھی اور وہ ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ 7 لیکن یہوواہ اُس عہد کی وجہ سے داؤد کے گھرانے کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا جو اُس نے داؤد سے باندھا تھا کیونکہ اُس نے داؤد سے وعدہ کِیا تھا کہ اُن کا اور اُن کے بیٹوں کا چراغ ہمیشہ جلتا رہے گا۔‏

8 یہورام کے زمانے میں ادوم نے یہوداہ کے خلاف بغاوت کر دی اور اپنا ایک بادشاہ بنا لیا۔ 9 اِس لیے یہورام اور اُس کے سپہ‌سالار اپنے سب رتھوں کے ساتھ اُس پار گئے۔ یہورام نے رات کے وقت جا کر ادومیوں کو شکست دی جنہوں نے اُسے اور رتھوں کے سپہ‌سالاروں کو گھیرا ہوا تھا۔ 10 لیکن ادوم نے یہوداہ کے خلاف بغاوت جاری رکھی اور آج تک ایسا ہی ہے۔ لِبناہ نے بھی اُس وقت اُس کے خلاف بغاوت کی تھی کیونکہ اُس نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا تھا۔ 11 اُس نے یہوداہ کے پہاڑوں پر اُونچی جگہیں بنائیں اور اِس طرح یروشلم کے رہنے والوں کو خدا سے بے‌وفائی*‏ کرنے پر اُکسایا اور یہوداہ کو گمراہ کر دیا۔‏

12 آخر یہورام کو ایلیاہ نبی کی طرف سے یہ پیغام ملا جو تحریری شکل میں تھا:‏ ”‏آپ کے بڑے بزرگ داؤد کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏تُم اُن راہوں پر نہیں چلے جن پر تمہارا باپ یہوسفط اور یہوداہ کا بادشاہ آسا چلا تھا 13 بلکہ تُم اُس راہ پر چل رہے ہو جس پر اِسرائیل کے بادشاہ چلے اور تُم نے یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم کے رہنے والوں کو خدا سے بے‌وفائی*‏ کرنے پر اُکسایا ہے جیسے اخی‌اب کے گھرانے نے خدا سے بے‌وفائی*‏ کی تھی۔ تُم نے تو اپنے والد کے گھرانے کو بھی، ہاں، اپنے بھائیوں کو بھی مروا دیا جو تُم سے بہتر تھے۔ 14 اِس لیے یہوواہ تمہارے لوگوں، تمہارے بیٹوں، تمہاری بیویوں اور تمہاری سب چیزوں کو تباہ‌وبرباد کر دے گا۔ 15 تمہیں بہت سی بیماریاں لگیں گی جس میں آنتوں کی ایک بیماری بھی شامل ہوگی۔ وہ بیماری دن‌بہ‌دن اِتنی بڑھ جائے گی کہ تمہاری آنتیں باہر آ جائیں گی۔“‏“‏

16 پھر یہوواہ نے فِلِستیوں اور عربیوں کے دل*‏ کو جو اِیتھیوپیائیوں کے قریب رہتے تھے، یہورام کے خلاف اُبھارا۔ 17 اِس لیے اُنہوں نے یہوداہ پر حملہ کر دیا اور زبردستی اُس میں گُھس گئے۔ اُنہوں نے وہ ساری چیزیں لے لیں جو اُنہیں بادشاہ کے محل میں ملیں اور اُس کے بیٹوں اور اُس کی بیویوں کو بھی لے گئے۔ یہورام کے پاس صرف اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا یہوآخز*‏ بچا۔ 18 اِس سب کے بعد یہوواہ نے اُسے آنتوں کی ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا کر دیا۔ 19 کچھ وقت بعد یعنی پورے دو سال بعد اُس کی بیماری کی وجہ سے اُس کی آنتیں باہر نکل آئیں۔ اُس نے اِس بیماری کی وجہ سے شدید تکلیف سہی اور پھر وہ مر گیا۔ اُس کی قوم نے اُس کے لیے ویسی آگ نہیں جلائی جیسی اُس کے باپ‌دادا کے لیے جلائی گئی تھی۔ 20 جب وہ بادشاہ بنا تو وہ 32 سال کا تھا اور اُس نے آٹھ سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس کی موت پر کسی کو افسوس نہیں ہوا۔ اُسے داؤد کے شہر میں تو دفنایا گیا لیکن بادشاہوں کی قبروں میں نہیں۔‏

22 پھر یروشلم کے رہنے والوں نے یہورام کے سب سے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا کیونکہ عربیوں کے ساتھ خیمہ‌گاہ میں لُٹیروں کا جو گروہ آیا تھا، اُس نے اُس کے سب بڑے بیٹوں کو مار ڈالا تھا۔ اِس لیے یہورام کا بیٹا اخزیاہ یہوداہ کے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنے لگا۔ 2 جب اخزیاہ بادشاہ بنا تو وہ 22 سال کا تھا اور اُس نے ایک سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو عمری کی پوتی*‏ تھی۔‏

3 وہ بھی اُن راہوں پر چلا جن پر اخی‌اب کا گھرانہ چلا تھا کیونکہ اُس کی ماں اُسے بُرے کاموں کے حوالے سے مشورے دیتی تھی۔ 4 وہ اخی‌اب کے گھرانے کی طرح ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے کیونکہ اُس کے باپ کی موت کے بعد اخی‌اب کا گھرانہ اُس کا مُشیر بن گیا تھا اور یہ اُس کی تباہی کی وجہ بنا۔ 5 اُس نے اُن لوگوں کے مشورے پر عمل کِیا اور اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کے بیٹے یہورام کے ساتھ سُوریہ کے بادشاہ حزائیل سے جنگ لڑنے رامات‌جِلعاد گیا جہاں تیراندازوں نے یہورام کو زخمی کر دیا۔ 6 اِس لیے یہورام واپس یزرعیل گیا تاکہ اُس کے وہ زخم بھر جائیں جو اُسے اُس وقت لگے تھے جب وہ رامہ میں سُوریہ کے بادشاہ حزائیل سے جنگ لڑ رہا تھا۔‏

یہوداہ کے بادشاہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ*‏ اخی‌اب کے بیٹے یہورام کو دیکھنے نیچے یزرعیل گیا کیونکہ وہ زخمی*‏ تھا۔ 7 لیکن اخزیاہ کا یہورام کے پاس جانا اُس کی تباہی کی وجہ بنا اور یہ خدا کی طرف سے ہوا۔ جب وہ وہاں گیا تو وہ یہورام کے ساتھ نِمسی کے پوتے*‏ یاہُو سے ملنے گیا جنہیں یہوواہ نے اخی‌اب کے گھرانے کو مٹانے*‏ کے لیے مسح*‏ کِیا تھا۔ 8 جب یاہُو نے اخی‌اب کے گھرانے کو سزا دینی شروع کی تو اُنہیں یہوداہ کے حاکم اور اخزیاہ کے بھائیوں کے بیٹے ملے جو اخزیاہ کے خادم تھے۔ یاہُو نے اُنہیں قتل کر دیا۔ 9 پھر یاہُو اخزیاہ کو ڈھونڈنے لگے۔ اُن کے خادموں نے اُسے سامریہ میں اُس جگہ سے پکڑ لیا جہاں وہ چھپا ہوا تھا اور اُسے یاہُو کے پاس لا کر مار ڈالا۔ اُنہوں نے اُسے دفنا دیا کیونکہ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏وہ یہوسفط کا پوتا ہے جنہوں نے پورے دل سے یہوواہ کی تلاش کی تھی۔“‏ اخزیاہ کے گھرانے میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو بادشاہت سنبھالنے کے لائق ہو۔‏

10 جب اخزیاہ کی ماں عتلیاہ نے دیکھا کہ اُس کا بیٹا مر گیا ہے تو اُس نے یہوداہ کے گھرانے کی ساری شاہی نسل*‏ کو مٹانے کی کوشش کی۔ 11 لیکن بادشاہ کی بیٹی یہوسبعت اخزیاہ کے بیٹے یہوآس کو چپکے سے بادشاہ کے اُن بیٹوں میں سے لے گئیں جنہیں قتل کِیا جانا تھا۔ اُنہوں نے یہوآس اور اُن کی آیا کو اندر والے ایک کمرے میں چھپا دیا۔ بادشاہ یہورام کی بیٹی یہوسبعت نے (‏جو کاہن یہویدع کی بیوی اور اخزیاہ کی بہن تھیں)‏ کسی نہ کسی طرح یہوآس کو عتلیاہ سے چھپائے رکھا تاکہ وہ اُسے مار نہ ڈالے۔ 12 یہوآس چھ سال تک اُن کے ساتھ رہے۔ اُنہیں سچے خدا کے گھر میں چھپا کر رکھا گیا اور اِس دوران عتلیاہ ملک پر حکمرانی کرتی رہی۔‏

23 ساتویں سال میں یہویدع نے دلیری سے کام لیتے ہوئے سو سو محافظوں کے سربراہوں سے ایک معاہدہ*‏ کِیا۔ وہ سربراہ یہ تھے:‏ یروحام کے بیٹے عزریاہ، یہوحنان کے بیٹے اِسماعیل، عوبید کے بیٹے عزریاہ، عدایاہ کے بیٹے معسیاہ اور زِکری کے بیٹے اِلی‌سافط۔ 2 پھر وہ لوگ سارے یہوداہ میں گئے اور یہوداہ کے سب شہروں سے لاویوں اور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے سربراہوں کو اِکٹھا کِیا۔ جب وہ یروشلم آئے 3 تو ساری جماعت نے سچے خدا کے گھر میں بادشاہ سے ایک عہد باندھا جس کے بعد یہویدع نے لوگوں سے کہا:‏

‏”‏دیکھیں!‏ اب بادشاہ کا بیٹا حکمرانی کرے گا جیسے کہ یہوواہ نے داؤد کے بیٹوں کے حوالے سے وعدہ کِیا تھا۔ 4 آپ کو یہ کرنا ہوگا:‏ جو کاہن اور لاوی سبت کے دن کام پر آئیں گے، اُن میں سے ایک تہائی دربانوں کے طور پر ذمے‌داری نبھائیں گے؛ 5 ایک تہائی بادشاہ کے محل پر تعینات ہوں گے اور باقی ایک تہائی بنیاد دروازے پر ہوں گے جبکہ باقی سب لوگ یہوواہ کے گھر کے صحنوں میں ہوں گے۔ 6 کاہنوں اور لاویوں کے طور پر خدمت کرنے والوں کے علاوہ کسی کو یہوواہ کے گھر میں داخل نہ ہونے دینا۔ صرف کاہن اور لاوی اندر جا سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک پاک گروہ ہیں۔ سب لوگ یہوواہ کے حوالے سے اپنا فرض نبھائیں گے۔ 7 لاویوں کو اپنے ہاتھوں میں ہتھیار لیے ہر طرف سے بادشاہ کے گِرد گھیرا بنانا ہوگا۔ جو بھی گھر کے اندر آنے کی کوشش کرے گا، اُسے مار ڈالا جائے گا۔ بادشاہ جہاں بھی جائے،‏*‏ آپ کو اُس کے ساتھ ساتھ رہنا ہوگا۔“‏

8 لاویوں اور سارے یہوداہ نے بالکل ویسا ہی کِیا جیسا کاہن یہویدع نے کہا تھا۔ اُن میں سے ہر ایک نے اپنے اُن آدمیوں کو ساتھ لیا جو سبت کے دن کام پر تھے اور اُن آدمیوں کو بھی جو سبت کے دن کام پر نہیں تھے کیونکہ کاہن یہویدع نے کسی بھی گروہ کو کام سے چھٹی نہیں دی تھی۔ 9 کاہن یہویدع نے سو سو محافظوں کے سربراہوں کو وہ نیزے، چھوٹی ڈھالیں*‏ اور گول ڈھالیں دیں جو بادشاہ داؤد کی تھیں اور سچے خدا کے گھر میں پڑی تھیں۔ 10 پھر اُنہوں نے سب لوگوں کو جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اپنا ہتھیار تھا، گھر کی دائیں طرف سے لے کر گھر کی بائیں طرف تک قربان‌گاہ کے پاس اور گھر کے پاس بادشاہ کی چاروں طرف تعینات کِیا۔ 11 پھر وہ لوگ بادشاہ کے بیٹے کو باہر لائے اور اُس کے سر پر تاج اور گواہی‌نامہ*‏ رکھا اور اُسے بادشاہ بنایا اور یہویدع اور اُن کے بیٹوں نے اُسے مسح*‏ کِیا۔ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بادشاہ زندہ‌باد!‏“‏

12 جب عتلیاہ نے لوگوں کے بھاگنے کی آواز اور بادشاہ کے لیے لگنے والے نعرے سنے تو وہ فوراً یہوواہ کے گھر میں لوگوں کے پاس آئی۔ 13 پھر اُس نے بادشاہ کو دہلیز پر اپنے ستون کے پاس کھڑے دیکھا۔ حاکم اور نرسنگے بجانے والے بادشاہ کے ساتھ کھڑے تھے اور ملک کے سب لوگ خوشی منا رہے تھے اور نرسنگے بجا رہے تھے اور گلوکار سازوں کے ساتھ ستائشی گیتوں میں پیشوائی کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر عتلیاہ نے اپنے کپڑے پھاڑے اور چلّانے لگی:‏ ”‏یہ سازش ہے!‏ سازش!‏“‏ 14 لیکن کاہن یہویدع سو سو محافظوں کے سربراہوں کو جو فوج کے نگران تھے، باہر لائے اور اُن سے کہا:‏ ”‏اِسے سپاہیوں کے بیچ سے باہر لے جاؤ اور اگر کوئی اِس کے پیچھے جائے تو اُسے تلوار سے مار ڈالو!‏“‏ اصل میں کاہن یہویدع نے کہا تھا:‏ ”‏اِسے یہوواہ کے گھر میں موت کے گھاٹ نہ اُتارا جائے۔“‏ 15 اِس لیے اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا اور جب وہ بادشاہ کے محل کے گھوڑا دروازے کی دہلیز پر پہنچی تو اُنہوں نے فوراً اُسے مار ڈالا۔‏

16 پھر یہویدع نے اپنے اور بادشاہ اور سب لوگوں کے بیچ یہ عہد باندھا کہ وہ یہوواہ کی قوم رہیں گے۔ 17 اِس کے بعد سب لوگ بعل کے مندر*‏ میں گئے اور اُسے ڈھا دیا اور بعل کی قربان‌گاہوں اور بُتوں کو چکناچُور کر دیا۔ اُنہوں نے بعل کے پجاری متان کو قربان‌گاہوں کے سامنے مار ڈالا۔ 18 پھر یہویدع نے یہوواہ کے گھر کی نگرانی کاہنوں اور لاویوں کے ہاتھ میں دی جنہیں داؤد نے گروہوں میں تقسیم کر کے یہوواہ کے گھر کی ذمے‌داری سونپی تھی تاکہ وہ داؤد کی ہدایت کے مطابق خوشی مناتے اور گیت گاتے ہوئے یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کریں جیسے کہ موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔ 19 یہویدع نے یہوواہ کے گھر کے دروازوں پر دربان بھی تعینات کیے تاکہ کوئی ایسا شخص اندر داخل نہ ہو سکے جو کسی بھی لحاظ سے ناپاک ہو۔ 20 اُنہوں نے بادشاہ کو یہوواہ کے گھر سے لے جانے کے لیے سو سو محافظوں کے سربراہوں، نوابوں، لوگوں کے حاکموں اور ملک کے سب لوگوں کو ساتھ لیا۔ پھر وہ سب اُوپر والے دروازے سے بادشاہ کے محل میں داخل ہوئے اور بادشاہ کو شاہی تخت پر بٹھایا۔ 21 اِس لیے ملک کے سب لوگوں نے خوشی منائی اور شہر میں سکون تھا کیونکہ عتلیاہ کو تلوار سے مار ڈالا گیا تھا۔‏

24 جب یہوآس بادشاہ بنے تو وہ سات سال کے تھے اور اُنہوں نے 40 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام ضِبیاہ تھا جو بِیرسبع سے تھیں۔ 2 جب تک کاہن یہویدع زندہ رہے، یہوآس وہی کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 3 یہویدع نے یہوآس کی شادی دو عورتوں سے کرائی اور اُن کے بیٹے بیٹیاں ہوئے۔‏

4 بعد میں یہوآس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ یہوواہ کے گھر کی مرمت کرائیں۔ 5 اِس لیے اُنہوں نے کاہنوں اور لاویوں کو جمع کِیا اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہر سال اپنے خدا کے گھر کی مرمت کے لیے سارے اِسرائیل سے پیسے اِکٹھے کرنے یہوداہ کے شہروں میں جائیں۔ آپ کو فوراً یہ کام شروع کرنا ہوگا۔“‏ لیکن لاویوں نے فوراً کام شروع نہیں کِیا۔ 6 اِس لیے بادشاہ نے کاہنِ‌اعظم یہویدع کو بُلایا اور اُن سے کہا:‏ ”‏آپ نے لاویوں سے یہوداہ اور یروشلم سے وہ مُقدس ٹیکس لانے کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا جس کا حکم یہوواہ کے بندے موسیٰ نے دیا تھا یعنی اِسرائیل کی جماعت کا وہ مُقدس ٹیکس جو گواہی کے خیمے کے لیے ہے؟ 7 آپ کو یاد ہے نا کہ اُس بُری عورت عتلیاہ کے بیٹے سچے خدا کے گھر میں گُھس گئے تھے اور اُنہوں نے یہوواہ کے گھر کی سب پاک چیزیں بعل دیوتاؤں کے لیے اِستعمال کی تھیں؟“‏ 8 پھر بادشاہ کے حکم پر ایک صندوق بنایا گیا اور اُسے یہوواہ کے گھر کے باہر دروازے کے پاس رکھا گیا۔ 9 اِس کے بعد پورے یہوداہ اور یروشلم میں یہ اِعلان کِیا گیا کہ یہوواہ کے لیے وہ مُقدس ٹیکس لایا جائے جو سچے خدا کے بندے موسیٰ نے ویرانے میں اِسرائیل پر عائد کِیا تھا۔ 10 اِس پر سب حاکم اور سب لوگ خوش ہوئے اور تب تک آ کر صندوق میں عطیات ڈالتے رہے جب تک یہ بھر نہیں گیا۔‏*‏

11 جب بھی لاوی صندوق کو بادشاہ کے حضور لاتے تھے اور دیکھتے تھے کہ اُس میں کافی پیسہ جمع ہو گیا ہے تو بادشاہ کا مُنشی اور کاہنِ‌اعظم کا مددگار آ کر صندوق خالی کرتے تھے اور پھر اُسے واپس اُس کی جگہ پر رکھ دیتے تھے۔ وہ ہر روز ایسا کرتے تھے اور اُن کے پاس بہت زیادہ پیسہ جمع ہو گیا۔ 12 اِس کے بعد بادشاہ اور یہویدع یہ پیسہ اُن لوگوں کو دیتے تھے جو یہوواہ کے گھر کے کام کی نگرانی کرتے تھے اور وہ لوگ پتھر کاٹنے والوں اور کاریگروں کو یہوواہ کے گھر کی مرمت کے لیے اُجرت پر رکھتے تھے۔ وہ لوہے اور تانبے کا کام کرنے والوں کو بھی یہوواہ کے گھر کی مرمت کے لیے مزدوری پر لگاتے تھے۔ 13 اُن نگرانوں نے کام شروع کرایا اور اُن کی نگرانی میں مرمت کا کام آگے بڑھتا گیا۔ وہ سچے خدا کے گھر کو پہلے جیسی حالت میں لے آئے اور اُسے مضبوط کِیا۔ 14 جیسے ہی کام ختم ہوا، وہ بچا ہوا پیسہ بادشاہ اور یہویدع کے پاس لائے۔ اُنہوں نے اُس پیسے سے یہوواہ کے گھر کے لیے چیزیں بنائیں یعنی اُس کی خدمت اور قربانیوں کے لیے اِستعمال ہونے والی چیزیں اور پیالے اور سونے اور چاندی کی چیزیں۔ وہ یہویدع کے جیتے جی یہوواہ کے گھر میں باقاعدگی سے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرتے رہے۔‏

15 یہویدع نے ایک لمبی اور مطمئن زندگی جی اور پھر فوت ہو گئے۔ اُن کی وفات کے وقت اُن کی عمر 130 سال تھی۔ 16 اُنہیں داؤد کے شہر میں بادشاہوں کے ساتھ دفنایا گیا کیونکہ اُنہوں نے اِسرائیل میں سچے خدا اور اُس کے گھر کے لیے بہت سے اچھے کام کیے تھے۔‏

17 یہویدع کی وفات کے بعد یہوداہ کے حاکم بادشاہ کے پاس آئے اور اُس کے سامنے جھکے اور بادشاہ نے اُن کی بات سنی۔ 18 لوگوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے گھر کو ترک کر دیا اور مُقدس بَلّیوں*‏ اور بُتوں کی پرستش کرنے لگے۔ اُن کے گُناہ کی وجہ سے یہوداہ اور یروشلم پر خدا کا غصہ بھڑکا۔ 19 وہ اُنہیں یہوواہ کی طرف واپس لانے کے لیے نبی بھیجتا رہا جو اُنہیں خبردار کرتے رہے۔‏*‏ لیکن اُنہوں نے نبیوں کی بات نہیں سنی۔‏

20 خدا کی روح کاہن یہویدع کے بیٹے زکریاہ پر نازل ہوئی اور وہ ایک اُونچی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگے:‏ ”‏سچے خدا نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏آپ یہوواہ کے حکموں کی خلاف‌ورزی کیوں کر رہے ہیں؟ آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ آپ نے یہوواہ کو ترک کر دیا ہے اِس لیے وہ بھی آپ کو ترک کر دے گا۔“‏“‏ 21 لیکن اُنہوں نے زکریاہ کے خلاف سازش گھڑی اور بادشاہ کے حکم پر اُنہیں یہوواہ کے گھر کے صحن میں سنگسار کر دیا۔ 22 اِس طرح یہوآس اُس اٹوٹ محبت کو بھول گئے جو اُن کے والد*‏ یہویدع نے اُن کے لیے ظاہر کی تھی اور اُن کے بیٹے کو مار ڈالا جس نے مرتے ہوئے کہا:‏ ”‏یہوواہ یہ دیکھے اور آپ سے حساب لے۔“‏

23 جب سال شروع ہوا*‏ تو سُوریانی فوج یہوآس سے جنگ لڑنے آئی اور یہوداہ اور یروشلم پر حملہ کر دیا۔ پھر سُوریانیوں نے لوگوں کے سب حاکموں کو مار ڈالا اور وہ سارا مال دمشق کے بادشاہ کو بھیج دیا جو اُنہوں نے لُوٹا تھا۔ 24 حالانکہ حملہ کرنے والی سُوریانی فوج میں بہت کم آدمی تھے پھر بھی یہوواہ نے یہوداہ کی بڑی فوج کو اُن کے حوالے کر دیا کیونکہ اُنہوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو ترک کر دیا تھا۔ اِس لیے یہوآس کو اُن*‏ کے ہاتھوں سزا ملی۔ 25 جب وہ یہوآس کے پاس سے چلے گئے (‏وہ اُنہیں شدید زخمی حالت میں*‏ چھوڑ کر گئے)‏ تو یہوآس کے اپنے خادموں نے اُن کے خلاف سازش گھڑی کیونکہ اُنہوں نے کاہن یہویدع کے بیٹوں*‏ کا خون بہایا تھا۔ اُنہوں نے یہوآس کو اُن کے بستر پر مار ڈالا۔ اُن کی موت کے بعد اُنہیں داؤد کے شہر میں دفنایا گیا لیکن بادشاہوں کی قبروں میں نہیں۔‏

26 یہوآس کے خلاف سازش گھڑنے والے یہ تھے:‏ زاباد جو عمونی عورت سِمعات کا بیٹا تھا اور یہوزبد جو موآبی عورت سِمریت کا بیٹا تھا۔ 27 یہوآس کے بیٹوں، یہوآس کے خلاف سنائے گئے بہت سے پیغامات اور سچے خدا کے گھر کی مرمت*‏ کے حوالے سے تفصیل بادشاہوں کی کتاب کی تحریروں*‏ میں لکھی ہے۔ یہوآس کے بعد اُن کے بیٹے اَمصیاہ اُن کی جگہ بادشاہ بنے۔‏

25 جب اَمصیاہ بادشاہ بنے تو وہ 25 سال کے تھے اور اُنہوں نے یروشلم میں 29 سال حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام یہوعدان تھا جو یروشلم سے تھیں۔ 2 وہ ایسے کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے لیکن پورے دل سے نہیں۔ 3 جیسے ہی بادشاہت پر اَمصیاہ کی پکڑ مضبوط ہوئی، اُنہوں نے اپنے اُن خادموں کو مار ڈالا جنہوں نے اُن کے والد یعنی بادشاہ کو قتل کِیا تھا۔ 4 لیکن اُنہوں نے اُن کے بیٹوں کو نہیں مروایا کیونکہ اُنہوں نے شریعت یعنی موسیٰ کی کتاب میں لکھے یہوواہ کے اِس حکم پر عمل کِیا:‏ ”‏بیٹوں کی وجہ سے اُن کے والد نہ مارے جائیں اور والدوں کی وجہ سے اُن کے بیٹے نہ مارے جائیں بلکہ ہر شخص اپنے گُناہ کی وجہ سے مارا جائے۔“‏

5 اَمصیاہ نے یہوداہ کے آدمیوں کو اِکٹھا کِیا اور یہوداہ اور بِنیامین کے سب آدمیوں کو آبائی خاندانوں کے مطابق اُن کے ہزار ہزار اور سو سو کے دستوں کے سربراہوں کے ساتھ کھڑا کِیا۔ اُنہوں نے 20 سال اور اِس سے اُوپر کی عمر کے آدمیوں کے نام لکھے اور دیکھا کہ اُن کے پاس 3 لاکھ ماہر*‏ جنگجو ہیں جو فوج میں بھرتی ہو سکتے ہیں اور نیزے اور بڑی ڈھالیں اِستعمال کر سکتے ہیں۔ 6 اِس کے علاوہ اُنہوں نے 100 قِنطار*‏ چاندی دے کر اِسرائیل سے 1 لاکھ طاقت‌ور جنگجو کرائے پر لیے۔ 7 لیکن سچے خدا کا ایک بندہ اُن کے پاس آیا اور اُن سے کہا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ اِسرائیل کی فوج کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ یہوواہ اِسرائیل کے ساتھ نہیں ہے، وہ کسی بھی اِفرائیمی کے ساتھ نہیں ہے۔ 8 آپ خود ہی جائیں اور دلیری سے جنگ لڑیں۔ اگر آپ اُنہیں ساتھ لے جائیں گے تو سچا خدا آپ کو دُشمن کے سامنے گِرا دے گا کیونکہ خدا کے پاس مدد کرنے کی بھی طاقت ہے اور گِرانے کی بھی۔“‏ 9 اِس پر اَمصیاہ نے سچے خدا کے اُس بندے سے کہا:‏ ”‏لیکن اُس 100 قِنطار چاندی کا کیا جو مَیں اِسرائیل کے فوجی دستوں کو دے چُکا ہوں؟“‏ سچے خدا کے بندے نے جواب دیا:‏ ”‏یہوواہ آپ کو اِس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہے۔“‏ 10 تب اَمصیاہ نے اُن فوجی دستوں کو اُن کے گھر واپس بھیج دیا جو اِفرائیم سے اُن کے پاس آئے تھے۔ لیکن اُن سپاہیوں کو یہوداہ پر بہت غصہ آیا اور وہ آگ‌بگولا ہو کر اپنے گھروں کو لوٹے۔‏

11 پھر اَمصیاہ نے ہمت باندھی اور اپنی فوج کو لے کر وادیِ‌شور میں گئے اور شعیر کے 10 ہزار آدمیوں کو مار ڈالا۔ 12 یہوداہ کے آدمیوں نے 10 ہزار آدمیوں کو زندہ پکڑ لیا۔ وہ اُنہیں چٹان کی چوٹی پر لے گئے اور اُنہیں نیچے گِرا دیا اور اُن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ 13 لیکن اُن فوجی دستوں کے سپاہی جنہیں اَمصیاہ نے واپس بھیج دیا تھا اور جنگ میں ساتھ نہیں لے کر گئے تھے، سامریہ سے بیت‌حورون تک یہوداہ کے شہروں پر دھاوا بول رہے تھے۔ اُنہوں نے 3000 لوگوں کو قتل کر دیا اور بہت سا مال لُوٹ کر لے گئے۔‏

14 لیکن جب اَمصیاہ ادومیوں کو مارنے کے بعد واپس آئے تو وہ شعیر کے لوگوں کے خداؤں کے بُت ساتھ لے آئے اور اُنہیں اپنے خداؤں کے طور پر نصب کِیا۔ وہ اُن کے سامنے جھکنے لگے اور اُن کے لیے قربانیاں پیش کرنے لگے تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔ 15 اِس لیے یہوواہ کو اَمصیاہ پر بہت غصہ آیا اور اُس نے ایک نبی کو اُن کے پاس بھیجا جس نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ قوموں کے خداؤں کی پرستش کیوں کر رہے ہیں جو اپنے ہی لوگوں کو آپ کے ہاتھ سے نہیں بچا سکے؟“‏ 16 جب وہ نبی بادشاہ سے بات کر رہا تھا تو بادشاہ نے کہا:‏ ”‏تمہیں کس نے بادشاہ کا مُشیر مقرر کِیا ہے؟ چپ ہو جاؤ ورنہ تمہیں مار ڈالا جائے گا!‏“‏ اِس پر نبی خاموش ہو گیا لیکن یہ کہنے کے بعد:‏ ”‏مجھے پتہ ہے کہ خدا نے آپ کو برباد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ آپ نے یہ حرکت کی ہے اور میرا مشورہ نہیں مانا۔“‏

17 اپنے مُشیروں سے مشورہ کرنے کے بعد یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ نے یہوآس کو جو یہوآخز کے بیٹے اور اِسرائیل کے بادشاہ یاہُو کے پوتے تھے، یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏آؤ، جنگ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔“‏ 18 اِسرائیل کے بادشاہ یہوآس نے یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ کو یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏لبنان کے کانٹے‌دار جنگلی پودے نے لبنان کے دیودار کو یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرا دو۔“‏ لیکن لبنان کا ایک جنگلی جانور گزرا اور اُس نے کانٹے‌دار جنگلی پودے کو روند ڈالا۔ 19 تُم نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں*‏ نے ادوم کو مار گِرایا ہے۔“‏ اِس لیے تمہارا دل غرور سے پھول گیا ہے اور شان‌وشوکت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر اب اپنے گھر میں رہو۔ تُم کیوں مصیبت اور تباہی کو دعوت دے رہے ہو اور اپنے ساتھ ساتھ یہوداہ کو بھی ڈبونا چاہتے ہو؟“‏

20 لیکن اَمصیاہ نے اِسرائیل کے بادشاہ کی بات نہیں مانی۔ اصل میں یہ سچے خدا کی طرف سے تھا کہ وہ اُنہیں دُشمن کے حوالے کر دے کیونکہ اُنہوں نے ادوم کے خداؤں کی پرستش کی تھی۔ 21 اِس لیے اِسرائیل کا بادشاہ یہوآس نکلا اور اُس نے اور یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ نے یہوداہ کے علاقے بیت‌شمس میں ایک دوسرے سے جنگ کی۔ 22 اِسرائیل نے یہوداہ کو شکست دی اور یہوداہ کے سارے سپاہی اپنے اپنے گھر*‏ بھاگ گئے۔ 23 اِسرائیل کے بادشاہ یہوآس نے بیت‌شمس میں یہوداہ کے بادشاہ اَمصیاہ کو پکڑ لیا جو یہوآس کے بیٹے تھے جو یہوآخز*‏ کے بیٹے تھے۔ پھر وہ اَمصیاہ کو یروشلم لایا اور یروشلم کی دیوار میں اِفرائیمی دروازے سے لے کر کونا دروازے تک 400 ہاتھ*‏ لمبا شگاف ڈال دیا۔ 24 یہوآس عوبیدادوم سمیت*‏ وہ سارا سونا، چاندی اور باقی سب چیزیں لے گیا جو سچے خدا کے گھر میں اور بادشاہ کے محل کے خزانوں میں تھیں۔ اِس کے علاوہ وہ کچھ قیدیوں کو بھی لے کر سامریہ لوٹ گیا۔‏

25 اِسرائیل کے بادشاہ یہوآخز کے بیٹے یہوآس کی موت کے بعد یہوداہ کے بادشاہ یہوآس کے بیٹے اَمصیاہ 15 سال اَور زندہ رہے۔ 26 شروع سے لے کر آخر تک اَمصیاہ کی باقی کہانی یہوداہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔ 27 جب سے اَمصیاہ یہوواہ کی راہ سے ہٹے تب سے یروشلم میں اُن کے خلاف سازش گھڑی جانے لگی اور وہ لکیس بھاگ گئے۔ لیکن سازش کرنے والوں نے اپنے آدمیوں کو اُن کے پیچھے لکیس بھیجا اور وہاں اُنہیں مروا ڈالا۔ 28 وہ اُن کی لاش کو گھوڑوں پر واپس لائے اور اُنہیں یہوداہ کے شہر میں اُن کے باپ‌دادا کے ساتھ دفنایا۔‏

26 پھر یہوداہ کے سب لوگوں نے عُزّیاہ کو اُن کے والد اَمصیاہ کی جگہ بادشاہ بنایا۔ اُس وقت عُزّیاہ کی عمر 16 سال تھی۔ 2 جب بادشاہ*‏ اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ تو عُزّیاہ نے اِیلوت کو دوبارہ تعمیر کِیا اور اِسے پھر سے یہوداہ کا حصہ بنا لیا۔ 3 جب عُزّیاہ بادشاہ بنے تو وہ 16 سال کے تھے اور اُنہوں نے 52 سال تک یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام یکولیاہ تھا جو یروشلم سے تھیں۔ 4 وہ اپنے والد اَمصیاہ کی طرح ایسے کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 5 وہ زکریاہ کے جیتے جی خدا کی تلاش کرتے رہے جنہوں نے اُنہیں سچے خدا کا خوف رکھنا سکھایا تھا۔ جس دوران وہ یہوواہ کی تلاش کرتے رہے، سچا خدا اُنہیں برکتیں دیتا رہا۔‏

6 عُزّیاہ فِلِستیوں سے جنگ لڑنے گئے اور جات، یبنہ اور اشدود کی دیواروں میں شگاف ڈال کر اُن شہروں میں گُھس گئے۔ پھر اُنہوں نے اشدود کے علاقے اور فِلِستیوں کے علاقے میں شہر بنائے۔ 7 سچا خدا فِلِستیوں، معونیمیوں اور جُوربعل میں رہنے والے عربیوں سے جنگ لڑنے میں اُن کی مدد کرتا رہا۔ 8 عمونی عُزّیاہ کو خراج دینے لگے۔ کرتے کرتے عُزّیاہ کی شہرت مصر تک پھیل گئی کیونکہ وہ اِنتہائی طاقت‌ور ہو گئے تھے۔ 9 عُزّیاہ نے یروشلم میں کونا دروازے، وادی دروازے اور پُشتے کے پاس مضبوط بُرج بنوائے۔ 10 اُنہوں نے ویرانے میں بھی بُرج بنوائے اور بہت سے حوض کھدوائے*‏ (‏کیونکہ اُن کے پاس بے‌شمار مویشی تھے)‏۔ اُنہوں نے شِفیلہ اور میدان*‏ میں بھی ایسا ہی کِیا۔ اُن کے پاس پہاڑوں اور کرمِل میں کسان اور انگور کے باغوں کے مالی تھے کیونکہ وہ کھیتی‌باڑی کے شوقین تھے۔‏

11 اِس کے علاوہ عُزّیاہ کے پاس ایک فوج تھی جو جنگ کے لیے ہتھیاروں سے لیس رہتی تھی۔ اُسے فرق فرق گروہوں میں تقسیم کِیا گیا تھا جنہیں جنگوں میں بھیجا جاتا تھا۔ مُنشی یعی‌ایل اور عہدےدار معسیاہ نے بادشاہ کے ایک حاکم حنانیاہ کی نگرانی میں سپاہیوں کو گنا اور اُن کے نام لکھے۔ 12 یہ طاقت‌ور جنگجو آبائی خاندانوں کے جن سربراہوں کی نگرانی میں تھے، اُن کی کُل تعداد 2600 تھی۔ 13 اُن سربراہوں کی زیرِنگرانی ہتھیاروں سے لیس 3 لاکھ 7 ہزار 500 سپاہی تھے جو جنگ کے لیے تیار رہتے تھے۔ یہ ایک طاقت‌ور فوج تھی جو بادشاہ کی طرف سے دُشمن سے لڑتی تھی۔ 14 عُزّیاہ نے پوری فوج کو ڈھالوں، نیزوں، ہیلمٹوں، بکتروں، کمانوں اور فلاخن کے پتھروں سے لیس کِیا۔ 15 اِس کے علاوہ اُنہوں نے یروشلم میں ماہر کاریگروں سے جنگی آلات بنوائے جنہیں بُرجوں اور دیواروں کے کونوں پر رکھا گیا۔اِن آلات سے تیر اور بڑے بڑے پتھر پھینکے جا سکتے تھے۔ عُزّیاہ کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی کیونکہ اُنہیں زبردست مدد حاصل تھی اور وہ بہت طاقت‌ور ہو گئے۔‏

16 لیکن جیسے ہی اُن کی طاقت بڑھی، اُن کے دل میں غرور سما گیا جو اُن کی بربادی کی وجہ بنا۔ وہ بخور کی قربان‌گاہ پر بخور جلانے کے لیے یہوواہ کی ہیکل میں گئے اور اِس طرح اپنے خدا یہوواہ سے بے‌وفائی کی۔ 17 کاہن عزریاہ اور یہوواہ کے 80 دوسرے دلیر کاہن فوراً عُزّیاہ کے پیچھے گئے۔ 18 اُنہوں نے بادشاہ عُزّیاہ کو روکتے ہوئے کہا:‏ ”‏عُزّیاہ!‏ یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ یہوواہ کے لیے بخور جلائیں!‏ صرف کاہن ہی بخور جلا سکتے ہیں کیونکہ وہ ہارون کی اولاد ہیں اور اُنہیں پاک کِیا گیا ہے۔ مُقدس مقام سے باہر چلے جائیں کیونکہ آپ نے خدا سے بے‌وفائی کی ہے اور آپ کو اِس کام کی وجہ سے یہوواہ خدا سے عزت نہیں ملے گی۔“‏

19 لیکن عُزّیاہ جن کے ہاتھ میں بخور جلانے کے لیے بخوردان تھا، طیش میں آ گئے۔ اور جب وہ کاہنوں پر بھڑکے ہوئے تھے تو اُن کے ماتھے پر کوڑھ ہو گیا۔ ایسا یہوواہ کے گھر میں بخور کی قربان‌گاہ کے پاس کاہنوں کی موجودگی میں ہوا۔ 20 جب کاہنِ‌اعظم عزریاہ اور باقی سب کاہن عُزّیاہ کی طرف مُڑے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے ماتھے پر کوڑھ ہو گیا ہے۔ اِس لیے وہ فوراً عُزّیاہ کو وہاں سے باہر نکالنے لگے بلکہ عُزّیاہ خود بھی جلدی جلدی وہاں سے نکلنے لگے کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں سزا دی تھی۔‏

21 بادشاہ عُزّیاہ اپنی موت کے دن تک کوڑھی رہے۔ وہ ایک الگ گھر میں رہتے تھے کیونکہ وہ کوڑھی تھے اور اُنہیں یہوواہ کے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ اُن کے بیٹے یوتام اُن کی جگہ محل کا اِنتظام سنبھالتے تھے اور ملک کے لوگوں کا اِنصاف کرتے تھے۔‏

22 شروع سے لے کر آخر تک عُزّیاہ کی باقی کہانی آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے لکھی۔ 23 پھر عُزّیاہ اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُن کے باپ‌دادا کے ساتھ دفنایا گیا۔ لیکن لوگوں نے اُنہیں قبرستان والی اُس زمین میں دفنایا جو بادشاہوں کی تھی کیونکہ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏وہ کوڑھی ہیں۔“‏ پھر اُن کے بیٹے یوتام اُن کی جگہ بادشاہ بنے۔‏

27 جب یوتام بادشاہ بنے تو وہ 25 سال کے تھے اور اُنہوں نے 16 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام یروساہ تھا جو صدوق کی بیٹی تھیں۔ 2 وہ اپنے والد عُزّیاہ کی طرح ایسے کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ لیکن وہ اپنے والد کی طرح زبردستی یہوواہ کی ہیکل میں نہیں گُھسے۔ مگر لوگ اب بھی بُرے کام کر رہے تھے۔ 3 یوتام نے یہوواہ کے گھر کا اُوپر والا دروازہ بنوایا اور عوفلِ کی دیوار پر بہت سا تعمیراتی کام کرایا۔ 4 اُنہوں نے یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں شہر بھی بنوائے اور جنگلوں میں قلعہ‌بند جگہیں اور بُرج بنوائے۔ 5 اُنہوں نے عمونیوں کے بادشاہ کے خلاف جنگ لڑی اور آخرکار اُسے ہرا دیا۔ اِس لیے عمونیوں نے اُس سال اُنہیں 100 قِنطار*‏ چاندی، 10 ہزار کور*‏ گندم اور 10 ہزار کور*‏ جَو دیا۔ عمونیوں نے اُنہیں یہ سب چیزیں دوسرے اور تیسرے سال بھی دیں۔ 6 اِس طرح یوتام کی طاقت بڑھتی گئی کیونکہ اُنہوں نے اپنے خدا یہوواہ کی راہوں پر چلنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔‏*‏

7 یوتام کی باقی کہانی اور اُن کی ساری جنگوں اور کاموں کے بارے میں تفصیل اِسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔ 8 جب وہ بادشاہ بنے تو وہ 25 سال کے تھے اور اُنہوں نے 16 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ 9 پھر یوتام اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں داؤد کے شہر میں دفنایا گیا اور اُن کا بیٹا آخز اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

28 جب آخز بادشاہ بنا تو وہ 20 سال کا تھا اور اُس نے 16 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس نے ایسے کام نہیں کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے جیسے اُس کے بڑے بزرگ داؤد نے کیے تھے۔ 2 اِس کی بجائے وہ اُس راہ پر چلا جس پر اِسرائیل کے بادشاہ چلے بلکہ اُس نے تو دھات سے بعل دیوتاؤں کے بُت بھی بنوائے۔ 3 اُس نے ہِنّوم کے بیٹے کی وادی*‏ میں قربانیاں پیش کیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے اور اپنے بیٹوں کو آگ میں قربان کِیا۔ اِس طرح اُس نے اُن قوموں کی گھناؤنی رسموں کو اپنا لیا جنہیں یہوواہ نے اِسرائیلیوں کے سامنے سے نکال دیا تھا۔ 4 اِس کے علاوہ وہ اُونچی جگہوں اور پہاڑیوں پر اور ہر ایک گھنے درخت کے نیچے قربانیاں پیش کرتا رہا تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔‏

5 اِس لیے اُس کے خدا یہوواہ نے اُسے سُوریہ کے بادشاہ کے حوالے کر دیا۔ سُوریانیوں نے اُسے شکست دی اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو قیدی بنا کر دمشق لے گئے۔ خدا نے اُسے اِسرائیل کے بادشاہ کے حوالے بھی کِیا جس نے اُس کے بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔ 6 رِملیاہ کے بیٹے فِقح نے یہوداہ میں ایک ہی دن میں 1 لاکھ 20 ہزار بہادر آدمیوں کو مار ڈالا کیونکہ اُنہوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو ترک کر دیا تھا۔ 7 ایک اِفرائیمی جنگجو زِکری نے بادشاہ کے بیٹے معسیاہ کو، محل کے نگران عزری‌قام کو اور اِلقانہ کو جن کے پاس بادشاہ کے بعد سب سے زیادہ اِختیار تھا، مار ڈالا۔ 8 اِس کے علاوہ اِسرائیلی، عورتوں اور بچوں سمیت اپنے 2 لاکھ بھائیوں کو قیدی بنا کر لے گئے۔ اُنہوں نے اُن کا بہت سا مال بھی لُوٹ لیا اور اِسے سامریہ لے گئے۔‏

9 لیکن یہوواہ کے ایک نبی عودِد وہاں موجود تھے۔ وہ اُس فوج کے پاس گئے جو سامریہ آ رہی تھی اور اُس سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ آپ کے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو یہوداہ کے لوگوں پر غصہ تھا اِس لیے اُس نے اُنہیں آپ کے حوالے کر دیا اور آپ نے جتنے طیش سے اُنہیں ہلاک کِیا ہے، خدا نے اُسے دیکھا ہے۔ 10 اور اب آپ یہوداہ اور یروشلم کے لوگوں کو اپنے نوکر اور نوکرانیاں بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا آپ بھی اپنے خدا یہوواہ کی نظر میں قصوروار نہیں ہیں؟ 11 اب میری بات مانیں اور اپنے اُن بھائیوں کو واپس بھیج دیں جنہیں آپ قیدی بنا کر لائے ہیں کیونکہ آپ کے خلاف یہوواہ کا غصہ بھڑکا ہوا ہے۔“‏

12 اِس پر اِفرائیمیوں کے کچھ سربراہ یعنی یہوحنان کے بیٹے عزریاہ، مِسِلّیموت کے بیٹے بِرکیاہ، سلّوم کے بیٹے یحزقیاہ اور ہدلائی کے بیٹے عماسا جا کر اُن لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے جو جنگ سے واپس آ رہے تھے 13 اور اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏قیدیوں کو یہاں نہ لائیں کیونکہ اِس طرح ہم یہوواہ کی نظر میں قصوروار ٹھہریں گے۔ آپ جو کرنا چاہ رہے ہیں، اُس کی وجہ سے ہمارے گُناہوں اور غلطیوں میں اِضافہ ہوگا کیونکہ ہمارا قصور پہلے ہی بہت بڑا ہے اور اِسرائیل کے خلاف خدا کا غصہ بھڑک رہا ہے۔“‏ 14 تب ہتھیاروں سے لیس سپاہیوں نے قیدیوں اور لُوٹ کے مال کو حاکموں اور ساری جماعت کے حوالے کر دیا۔ 15 پھر وہ آدمی جنہیں نام لے کر چُنا گیا تھا، اُٹھے اور قیدیوں کو ساتھ لیا۔ اُنہوں نے اُن سب قیدیوں کو لُوٹ کے مال میں سے کپڑے دیے جن کے پاس کپڑے نہیں تھے۔ اُنہوں نے اُنہیں کپڑوں کے علاوہ جُوتے، کھانے پینے کی چیزیں اور جسم پر لگانے کے لیے تیل بھی دیا۔ اِس کے علاوہ وہ اُن میں سے کمزور لوگوں کو گدھوں پر سوار کر کے اُنہیں کھجور کے درختوں کے شہر یریحو میں اُن کے بھائیوں کے پاس لائے۔ اِس کے بعد وہ سامریہ لوٹ گئے۔‏

16 اُس وقت بادشاہ آخز نے اسور کے بادشاہوں سے مدد مانگی۔ 17 ادومی ایک بار پھر آئے اور یہوداہ پر حملہ کِیا اور لوگوں کو قیدی بنا کر لے گئے۔ 18 فِلِستیوں نے بھی شِفیلہ کے شہروں اور یہوداہ کے نِجِب میں دھاوا بولا اور بیت‌شمس، ایالون، جِدیروت، شوکو اور اُس کے آس‌پاس کے*‏ قصبوں، تِمنت اور اُس کے آس‌پاس کے قصبوں اور جِمزو اور اُس کے آس‌پاس کے قصبوں پر قبضہ کر لیا اور وہاں بس گئے۔ 19 یہوواہ نے اِسرائیل کے بادشاہ آخز کی وجہ سے یہوداہ کا سر نیچا کِیا کیونکہ اُس نے یہوداہ کو کُھلی چُھوٹ دی ہوئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے یہوواہ سے بے‌وفائی کی حد پار کر دی تھی۔‏

20 آخرکار اسور کا بادشاہ تِلگت‌پِلناسر آخز سے جنگ لڑنے آیا اور اُس کی مدد کرنے کی بجائے اُسے مشکل میں ڈال دیا۔ 21 آخز نے یہوواہ کے گھر، بادشاہ کے محل اور حاکموں کے گھروں سے چیزیں لُوٹ لُوٹ کر اسور کے بادشاہ کو تحفے میں دی تھیں لیکن اُسے اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 22 مصیبت کے وقت میں بادشاہ آخز نے یہوواہ سے اَور بھی زیادہ بے‌وفائی کی۔ 23 وہ دمشق کے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرنے لگا جنہوں نے اُسے شکست دی تھی اور کہنے لگا:‏ ”‏سُوریہ کے بادشاہوں کے خدا اُن کی مدد کر رہے ہیں۔ مَیں اُن کے لیے قربانیاں پیش کروں گا تاکہ وہ میری مدد کریں۔“‏ لیکن اُن خداؤں کی وجہ سے آخز اور پورا اِسرائیل برباد ہو گیا۔ 24 اِس کے علاوہ آخز نے سچے خدا کے گھر کی چیزیں اِکٹھی کیں اور اُس نے سچے خدا کے گھر کی اُن چیزوں کو چُور چُور کر دیا۔ اُس نے یہوواہ کے گھر کے دروازے بند کر دیے اور یروشلم کے ہر کونے میں اپنے لیے قربان‌گاہیں بنائیں۔ 25 اُس نے یہوداہ کے سب شہروں میں اُونچی جگہیں بنائیں تاکہ اُن پر دوسری قوموں کے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرے اور اِن کا دُھواں اُٹھے۔ اِس طرح اُس نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کو غصہ دِلایا۔‏

26 آخز کی باقی کہانی یعنی شروع سے لے کر آخر تک اُس کے سارے کاموں کے بارے میں تفصیل یہوداہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔ 27 پھر آخز اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا۔‏*‏ اُس کی لاش کو اُس جگہ نہیں لے جایا گیا جہاں اِسرائیل کے بادشاہوں کی قبریں تھیں بلکہ شہر میں یعنی یروشلم میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کے بیٹے حِزقیاہ اُس کی جگہ بادشاہ بنے۔‏

29 حِزقیاہ 25 سال کی عمر میں بادشاہ بنے اور اُنہوں نے 29 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام ابی‌یاہ تھا جو زکریاہ کی بیٹی تھیں۔ 2 وہ اپنے بڑے بزرگ داؤد کی طرح ایسے کام کرتے رہے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 3 اپنی حکمرانی کے پہلے سال کے پہلے مہینے میں حِزقیاہ نے یہوواہ کے گھر کے دروازے کھلوائے اور اُن کی مرمت کروائی۔ 4 پھر اُنہوں نے کاہنوں اور لاویوں کو مشرقی چوک میں اِکٹھا کِیا۔ 5 حِزقیاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏لاویو!‏ میری بات سنیں۔ خود کو اور اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے گھر کو پاک کریں اور پاک جگہ سے ہر ناپاک چیز کو نکال دیں۔ 6 ہمارے والدوں نے خدا سے بے‌وفائی کی اور ایسے کام کیے جو ہمارے خدا یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ اُنہوں نے اُسے چھوڑ دیا، اُس کی طرف پیٹھ کر لی اور یہوواہ کے مُقدس خیمے سے مُنہ موڑ لیا۔ 7 اُنہوں نے ہیکل کی ڈیوڑھی کے دروازے بھی بند کر دیے اور چراغ بجھا دیے۔ اُنہوں نے بخور جلانا اور مُقدس جگہ میں اِسرائیل کے خدا کے لیے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنی چھوڑ دیں۔ 8 اِس لیے یہوداہ اور یروشلم کے خلاف یہوواہ کا غصہ بھڑک اُٹھا۔ اُس نے اُنہیں خوف کی علامت بنا دیا اور اُن کا ایسا حال کر دیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے اور اُن کا مذاق اُڑانے*‏ لگے۔ آپ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ 9 ہمارے باپ‌دادا تلوار سے مارے گئے اور ہمارے بیٹے بیٹیوں اور ہماری بیویوں کو قیدی بنا کر لے جایا گیا۔ 10 اب میری دلی خواہش ہے کہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ سے عہد باندھا جائے تاکہ اُس کا وہ غصہ ٹھنڈا ہو جائے جو ہمارے خلاف بھڑک رہا ہے۔ 11 میرے بیٹو!‏ یہ لاپروائی برتنے*‏ کا وقت نہیں ہے کیونکہ یہوواہ نے آپ کو چُنا ہے تاکہ آپ اُس کے سامنے کھڑے ہو کر اُس کے خادموں کے طور پر اُس کی خدمت کریں اور اُس کے حضور قربانیاں پیش کریں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔“‏

12 تب یہ لاوی خدمت کے لیے اُٹھے:‏ قہاتیوں میں سے عماسی کے بیٹے محت اور عزریاہ کے بیٹے یُوایل؛ مِراریوں میں سے عبدی کے بیٹے قِیس اور یہلل‌ایل کے بیٹے عزریاہ؛ جیرسونیوں میں سے زِمّہ کے بیٹے یوآخ اور یوآخ کے بیٹے عدن؛ 13 اِلی‌صفن کے بیٹوں میں سے سِمری اور یعوایل؛ آسَف کے بیٹوں میں سے زکریاہ اور متنیاہ؛ 14 ہیمان کے بیٹوں میں سے یحی‌ایل اور سِمعی اور یدوتون کے بیٹوں میں سے سِمعیاہ اور عُزّی‌ایل۔ 15 پھر اُنہوں نے اپنے بھائیوں کو جمع کِیا، خود کو پاک کِیا اور یہوواہ کے گھر کو پاک کرنے آئے جیسے بادشاہ نے یہوواہ کے کہنے پر حکم دیا تھا۔ 16 اِس کے بعد کاہن یہوواہ کے گھر کو پاک کرنے کے لیے اِس کے اندر گئے۔ اُنہوں نے یہوواہ کی ہیکل میں سے وہ ساری ناپاک چیزیں باہر نکالیں جو اُنہیں ملیں اور اُنہیں یہوواہ کے گھر کے صحن میں لائے۔ پھر لاوی اُن چیزوں کو باہر وادیِ‌قِدرون میں لے گئے۔ 17 اِس طرح اُنہوں نے پہلے مہینے کے پہلے دن ہیکل کو پاک کرنا شروع کِیا اور اُسی مہینے کے آٹھویں دن یہوواہ کی ہیکل کی ڈیوڑھی تک پہنچ گئے۔ اُنہوں نے مزید آٹھ دن یہوواہ کے گھر کو پاک کِیا اور پہلے مہینے کے 16ویں دن یہ کام ختم کر لیا۔‏

18 اِس کے بعد وہ بادشاہ حِزقیاہ کے پاس گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہم نے یہوواہ کے پورے گھر، بھسم ہونے والی قربانیوں کی قربان‌گاہ اور اِس کی ساری چیزوں اور تہہ‌درتہہ رکھی جانے والی روٹیوں*‏ کی میز اور اِس کی ساری چیزوں کو پاک کر دیا ہے۔ 19 ہم نے اُن ساری چیزوں کو بھی تیار اور پاک کر دیا ہے جنہیں خدا سے بے‌وفائی کرنے والے بادشاہ آخز نے اپنی حکمرانی کے دوران نکال دیا تھا۔ یہ چیزیں اب یہوواہ کی قربان‌گاہ کے سامنے پڑی ہیں۔“‏

20 بادشاہ حِزقیاہ صبح سویرے اُٹھے اور شہر کے حاکموں کو اِکٹھا کِیا۔ پھر وہ سب یہوواہ کے گھر میں گئے۔ 21 وہ سات بیل، سات مینڈھے، سات میمنے اور سات بکرے لائے تاکہ اُنہیں سلطنت، مُقدس مقام اور یہوداہ کی خاطر گُناہ کی قربانی کے طور پر پیش کریں۔ بادشاہ نے کاہنوں یعنی ہارون کی اولاد سے کہا کہ وہ یہ جانور یہوواہ کی قربان‌گاہ پر قربان کریں۔ 22 پھر اُنہوں نے بیل ذبح کیے اور کاہنوں نے اُن کا خون لے جا کر قربان‌گاہ پر چھڑکا۔ اِس کے بعد اُنہوں نے مینڈھے ذبح کیے اور اُن کا خون قربان‌گاہ پر چھڑکا اور پھر میمنے ذبح کیے اور اُن کا خون قربان‌گاہ پر چھڑکا۔ 23 پھر وہ اُن بکروں کو بادشاہ اور جماعت کے سامنے لائے جنہیں گُناہ کی قربانی کے طور پر پیش کِیا جانا تھا اور اُن پر ہاتھ رکھے۔ 24 کاہنوں نے اُنہیں ذبح کِیا اور اُن کے خون کو قربان‌گاہ پر چھڑک کر گُناہ کی قربانی پیش کی تاکہ سارے اِسرائیل کے لیے کفارہ ادا ہو کیونکہ بادشاہ نے کہا تھا کہ بھسم ہونے والی قربانی اور گُناہ کی قربانی سارے اِسرائیل کے لیے ہوگی۔‏

25 اِس دوران بادشاہ نے لاویوں سے کہا کہ جھانجھیں، تاردار ساز اور بربط*‏ لے کر یہوواہ کے گھر میں کھڑے ہوں جیسے داؤد نے، جد نے جو بادشاہ کے لیے رُویات دیکھتے تھے اور ناتن نبی نے حکم دیا تھا۔ یہ حکم یہوواہ نے اپنے نبیوں کے ذریعے دیا تھا۔ 26 اِس لیے لاوی داؤد کے ساز لے کر اور کاہن نرسنگے لے کر کھڑے تھے۔‏

27 پھر حِزقیاہ نے حکم دیا کہ قربان‌گاہ پر بھسم ہونے والی قربانی پیش کی جائے۔ جب بھسم ہونے والی قربانی پیش کرنی شروع کی گئی تو یہوواہ کے بارے میں گیت گانا اور اِسرائیل کے بادشاہ داؤد کے سازوں کی دُھن پر نرسنگے بجانا بھی شروع کِیا گیا۔ 28 جب گیت گایا جا رہا تھا اور نرسنگے بجائے جا رہے تھے تو ساری جماعت مُنہ کے بل جھک گئی۔ یہ سب تب تک چلتا رہا جب تک بھسم ہونے والی قربانی ختم نہیں ہوئی۔ 29 جیسے ہی اُنہوں نے قربانی پیش کی، بادشاہ اور اُن کے ساتھ موجود سب لوگ جھکے اور مُنہ کے بل لیٹ گئے۔ 30 پھر بادشاہ حِزقیاہ اور حاکموں نے لاویوں سے کہا کہ وہ داؤد اور رُویات دیکھنے والے آسَف کے گیت گا کر یہوواہ کی بڑائی کریں۔ اُنہوں نے بے‌حد خوشی سے خدا کی بڑائی کی اور وہ جھکے اور مُنہ کے بل لیٹ گئے۔‏

31 اِس کے بعد حِزقیاہ نے کہا:‏ ”‏اب آپ کو یہوواہ کے لیے مخصوص کِیا گیا ہے۔‏*‏ اِس لیے آئیں اور یہوواہ کے گھر قربانی کے جانور اور شکرگزاری کے نذرانے لائیں۔“‏ اِس پر جماعت قربانی کے جانور اور شکرگزاری کے نذرانے لانے لگی اور کچھ لوگ دل کی خوشی سے بھسم ہونے والی قربانی کے لیے جانور لائے۔ 32 جماعت بھسم ہونے والی قربانی کے لیے 70 بیل، 100 مینڈھے اور 200 میمنے لائی۔ یہ سب جانور یہوواہ کے لیے بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیے لائے گئے۔ 33 اور پاک قربانیوں کے لیے 600 بیل اور 3000 بھیڑیں لائی گئیں۔ 34 بھسم ہونے والی قربانی کے جانوروں کی کھال اُتارنے کے لیے کاہن کم تھے اِس لیے اُن کے لاوی بھائیوں نے اُن کی مدد کی۔ اُنہوں نے تب تک ایسا کِیا جب تک کام ختم نہیں ہو گیا اور کاہنوں نے خود کو پاک نہیں کر لیا۔ اصل میں کاہنوں سے زیادہ لاویوں کو اِس بات کی پروا تھی کہ وہ خود کو پاک کریں۔‏*‏ 35 اِس کے علاوہ وہاں بھسم ہونے والی بہت سی قربانیاں، صلح*‏ والی قربانیوں کے چربی والے حصے اور بھسم ہونے والی قربانیوں کے ساتھ دیے جانے والے مے کے نذرانے پیش کیے گئے۔ اِس طرح یہوواہ کے گھر میں پھر سے خدمات انجام دی جانے لگیں۔‏*‏ 36 حِزقیاہ اور تمام لوگوں نے اِس بات پر خوشی منائی کہ سچے خدا نے اُن کے لیے اِتنا کچھ کِیا تھا اور یہ سب اِتنی جلدی جلدی ہو گیا تھا۔‏

30 حِزقیاہ نے سارے اِسرائیل اور یہوداہ کو پیغام بھجوایا اور اِفرائیم اور منسّی کو بھی خط بھجوائے کہ وہ یروشلم میں یہوواہ کے گھر آئیں اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے لیے عیدِفسح منائیں۔ 2 لیکن بادشاہ، اُس کے عہدےداروں اور یروشلم کی ساری جماعت نے فیصلہ کِیا کہ عیدِفسح دوسرے مہینے میں منائی جائے گی 3 کیونکہ وہ اِسے مقررہ وقت پر نہیں منا پائے تھے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ جن کاہنوں نے خود کو پاک کِیا تھا، وہ کافی نہیں تھے اور لوگ بھی یروشلم میں جمع نہیں ہوئے تھے۔ 4 بادشاہ اور پوری جماعت کو یہ فیصلہ پسند آیا۔ 5 اِس لیے اُنہوں نے طے کِیا کہ پورے اِسرائیل میں بِیرسبع سے دان تک یہ اِعلان کرایا جائے کہ لوگ یروشلم میں آ کر اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے لیے عیدِفسح منائیں کیونکہ اِس سے پہلے اُنہوں نے اِسے شریعت کے مطابق جماعت کے طور پر نہیں منایا تھا۔‏

6 پھر قاصد*‏ پورے اِسرائیل اور یہوداہ میں بادشاہ اور اُس کے عہدےداروں کی طرف سے خط لے کر گئے جن میں بادشاہ نے حکم دیا تھا:‏ ”‏اِسرائیل کے لوگو!‏ اَبراہام، اِضحاق اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں تاکہ وہ آپ کے بچے ہوئے حصے کے پاس لوٹ آئے جو اسور کے بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ گیا ہے۔ 7 اپنے باپ‌دادا اور اپنے بھائیوں کی طرح نہ بنیں جنہوں نے اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ سے بے‌وفائی کی۔ اِس وجہ سے خدا نے اُنہیں خوف کی علامت بنا دیا جیسا کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ 8 اپنے باپ‌دادا کی طرح ڈھیٹھ نہ بنیں۔ یہوواہ کے تابع ہو جائیں اور اُس کے مُقدس مقام میں آئیں جسے اُس نے ہمیشہ کے لیے پاک کِیا ہے اور اپنے خدا یہوواہ کی خدمت کریں تاکہ اُس کا وہ غصہ ٹھنڈا ہو جائے جو آپ کے خلاف بھڑک رہا ہے۔ 9 جب آپ یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں گے تو آپ کے بھائیوں اور بیٹوں کو قیدی بنانے والے اُن پر رحم کریں گے اور اُنہیں اِس ملک میں واپس آنے دیں گے کیونکہ آپ کا خدا یہوواہ مہربان*‏ اور رحیم ہے۔ اگر آپ اُس کے پاس لوٹ آئیں گے تو وہ آپ سے مُنہ نہیں موڑے گا۔“‏

10 قاصد*‏ اِفرائیم اور منسّی کے پورے علاقے کے سب شہروں میں، یہاں تک کہ زِبُولون کے علاقے میں بھی گئے۔ لیکن لوگ اُن کا مذاق اُڑانے اور اُن پر ہنسنے لگے۔ 11 مگر آشر، منسّی اور زِبُولون کے کچھ لوگوں نے خود کو خاکسار بنایا اور یروشلم آئے۔ 12 سچے خدا کا ہاتھ یہوداہ پر بھی تھا تاکہ اُسے اُس حکم پر عمل کرنے کے لیے متحد*‏ کرے جو بادشاہ اور حاکموں نے یہوواہ کے کہنے پر دیا تھا۔‏

13 دوسرے مہینے میں لوگوں کا ایک ہجوم یروشلم میں بے‌خمیری روٹی کی عید منانے کے لیے جمع ہوا۔ یہ ہجوم بہت ہی بڑا تھا۔ 14 وہ لوگ اُٹھے اور یروشلم میں موجود قربان‌گاہوں اور بخور کی سب قربان‌گاہوں کو نکال کر اُنہیں وادیِ‌قِدرون میں پھینک دیا۔ 15 پھر اُنہوں نے دوسرے مہینے کے 14ویں دن عیدِفسح کے جانور ذبح کیے۔ اِس پر کاہنوں اور لاویوں کو شرمندگی محسوس ہوئی۔ اِس لیے اُنہوں نے خود کو پاک کِیا اور یہوواہ کے گھر میں بھسم ہونے والی قربانیاں لائے۔ 16 وہ سچے خدا کے بندے موسیٰ کی شریعت کے مطابق اپنی مقررہ جگہوں پر کھڑے ہو گئے۔ پھر کاہنوں نے لاویوں کے ہاتھ سے خون لے کر قربان‌گاہ پر چھڑکا۔ 17 جماعت میں ایسے بہت سے لوگ تھے جنہوں نے خود کو پاک نہیں کِیا تھا۔ اِس لیے لاویوں کو یہ ذمے‌داری دی گئی کہ وہ اُن سب لوگوں کی طرف سے جو پاک نہیں تھے، عیدِفسح کے جانور ذبح کریں تاکہ اُن لوگوں کو یہوواہ کے لیے پاک کِیا جا سکے۔ 18 لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے، خاص طور پر اِفرائیم، منسّی، اِشّکار اور زِبُولون کے لوگوں نے خود کو پاک نہیں کِیا تھا پھر بھی اُنہوں نے شریعت کے خلاف جا کر عیدِفسح کا کھانا کھایا۔ لیکن حِزقیاہ نے اُن لوگوں کی خاطر یہ دُعا کی:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ تُو اچھا ہے، تُو ہر ایسے شخص کو معاف کر دے 19 جس نے اپنے دل کو سچے خدا یعنی اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی تلاش کرنے کے لیے تیار کِیا ہے پھر چاہے اُس نے پاکیزگی کے معیار کے مطابق خود کو پاک نہ کِیا ہو۔“‏ 20 یہوواہ نے حِزقیاہ کی دُعا سنی اور لوگوں کو معاف کر دیا۔‏*‏

21 یروشلم میں موجود اِسرائیلیوں نے سات دن تک بڑی خوشی سے بے‌خمیری روٹی کی عید منائی اور لاوی اور کاہن ہر روز اُونچی آواز میں یہوواہ کے لیے اپنے ساز بجا کر یہوواہ کی تعریف کرتے رہے۔ 22 حِزقیاہ نے اُن سب لاویوں سے بات کی اور اُن کا حوصلہ بڑھایا جو سمجھ‌داری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے۔ وہ عید کے سات دنوں کے دوران کھاتے پیتے رہے اور صلح*‏ والی قربانیاں پیش کرتے رہے اور اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کا شکر ادا کرتے رہے۔‏

23 پھر ساری جماعت نے فیصلہ کِیا کہ وہ سات اَور دن عید منائیں گے۔ اِس لیے اُنہوں نے خوشی سے سات اَور دن عید منائی۔ 24 یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ نے جماعت کے لیے 1000 بیل اور 7000 بھیڑیں عطیہ کیں اور حاکموں نے جماعت کے لیے 1000 بیل اور 10ہزار بھیڑیں عطیہ کیں۔ اور کاہنوں کی ایک بڑی تعداد نے خود کو پاک کِیا۔ 25 یہوداہ کی ساری جماعت، کاہن، لاوی، اِسرائیل سے آنے والی ساری جماعت، اِسرائیل کے علاقے سے آنے والے پردیسی اور یہوداہ میں رہنے والے پردیسی خوشی مناتے رہے۔ 26 یروشلم میں بڑا جشن منایا گیا کیونکہ داؤد کے بیٹے یعنی اِسرائیل کے بادشاہ سلیمان کے زمانے سے یروشلم میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ 27 پھر لاوی کاہن اُٹھے اور اُنہوں نے لوگوں کو دُعا دی۔ خدا نے اُن کی دُعا سنی اور اُن کی دُعا خدا کی مُقدس رہائش‌گاہ یعنی آسمان تک پہنچی۔‏

31 جیسے ہی عید ختم ہوئی، وہاں موجود سب اِسرائیلی یہوداہ کے شہروں میں گئے اور یہوداہ اور بِنیامین کے سارے علاقے اور اِفرائیم اور منسّی کے علاقے میں بھی مُقدس ستونوں کو چُور چُورکر دیا، مُقدس بَلّیوں*‏ کو کاٹ دیا اور اُونچی جگہوں اور قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا۔ اُنہوں نے تب تک ایسا کِیا جب تک اُنہوں نے اِن چیزوں کو پوری طرح مٹا نہیں دیا۔ اِس کے بعد سب اِسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں اپنی اپنی جائیداد کی طرف لوٹ گئے۔‏

2 پھر حِزقیاہ نے کاہنوں کو اُن کے گروہوں کے مطابق اور لاویوں کو اُن کے گروہوں کے مطابق مقرر کِیا یعنی ہر کاہن اور ہر لاوی کو اُس کی ذمے‌داری سونپی تاکہ وہ یہوواہ کے گھر کے صحنوں*‏ کے دروازوں کے اندر بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح*‏ والی قربانیاں پیش کریں، اپنی خدمات انجام دیں اور خدا کی شکرگزاری اور بڑائی کریں۔ 3 بادشاہ اپنی چیزوں میں سے بھسم ہونے والی قربانیوں کے لیے حصہ دیتا تھا یعنی یہوواہ کی شریعت کے مطابق صبح اور شام پیش کی جانے والی قربانیوں اور بھسم ہونے والی اُن قربانیوں کے لیے جو سبتوں، نئے چاند اور عیدوں پر پیش کی جاتی تھیں۔‏

4 اِس کے علاوہ بادشاہ نے یروشلم میں رہنے والے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کاہنوں اور لاویوں کو اُن کا حصہ دیں تاکہ وہ یہوواہ کی شریعت پر سختی سے عمل کریں۔‏*‏ 5 جیسے ہی یہ حکم جاری ہوا، اِسرائیلیوں نے اپنی پیداوار کی پہلی فصل میں سے بڑی مقدار میں اناج، نئی مے، تیل، شہد اور اپنے کھیتوں کی ساری پیداوار دی۔ وہ کثرت سے ہر چیز کا دسواں حصہ لائے۔ 6 یہوداہ کے شہروں میں رہنے والے اِسرائیل کے لوگ اور یہوداہ کے لوگ بھی گائے‌بیلوں اور بھیڑوں کا دسواں حصہ اور اُن پاک چیزوں کا دسواں حصہ لائے جنہیں اُن کے خدا یہوواہ کے لیے پاک کِیا گیا تھا۔ اُنہوں نے یہ چیزیں لا کر اِن کے کئی ڈھیر لگا دیے۔ 7 اُنہوں نے تیسرے مہینے میں ہدیوں کے ڈھیر لگانے شروع کیے اور ساتویں مہینے تک ایسا کرتے رہے۔ 8 جب حِزقیاہ اور حاکموں نے آ کر وہ ڈھیر دیکھے تو اُنہوں نے یہوواہ کی بڑائی کی اور اُس کی قوم اِسرائیل کو دُعا دی۔‏

9 حِزقیاہ نے کاہنوں اور لاویوں سے اُن ڈھیروں کے بارے میں پوچھا۔ 10 اِس پر صدوق کے گھرانے سے کاہنِ‌اعظم عزریاہ نے حِزقیاہ کو بتایا:‏ ”‏جب سے لوگوں نے یہوواہ کے گھر میں ہدیے لانے شروع کیے ہیں، لوگ جی بھر کر کھا رہے ہیں اور ابھی بھی بہت سی چیزیں بچی ہوئی ہیں کیونکہ یہوواہ نے اپنے بندوں کو برکت دی ہے۔ اور دیکھیں، کتنا کچھ بچا ہوا ہے!‏“‏

11 تب حِزقیاہ نے حکم دیا کہ یہوواہ کے گھر میں گودام*‏ تیار کیے جائیں۔ اِس لیے گودام تیار کیے گئے۔ 12 وہ وفاداری سے ہدیے، دسویں حصے*‏ اور پاک چیزیں لاتے رہے۔ کوننیاہ کو جو ایک لاوی تھے، اِس سب کا نگران بنایا گیا اور اُن کے بھائی سِمعی اُن کے بعد تھے۔ 13 بادشاہ حِزقیاہ کے حکم پر یحی‌ایل، عززیاہ، نحت، عساہیل، یریموت، یوزباد، اِلی‌ایل، اِسماکیاہ، محت اور بِنایاہ کو کوننیاہ اور اُن کے بھائی سِمعی کے مددگار مقرر کِیا گیا۔ اور عزریاہ سچے خدا کے گھر کے نگران تھے۔ 14 یِمنہ کے بیٹے قورے جو ایک لاوی اور مشرق کی طرف تعینات دربان تھے، اُن نذرانوں کے نگران تھے جو سچے خدا کے لیے اپنی خوشی سے لائے جاتے تھے۔ وہ یہوواہ کے لیے لائے جانے والے ہدیوں اور پاک‌ترین چیزوں کو تقسیم کرتے تھے۔ 15 قورے کی زیرِہدایت کاہنوں کے شہروں میں عدن، مِنیامین، یشوع، سِمعیاہ، امریاہ اور سِکنیاہ تھے۔ اُنہیں بھروسے‌مند ہونے کی وجہ سے یہ ذمے‌داری دی گئی تھی کہ وہ اپنے بھائیوں کے گروہوں میں چھوٹوں بڑوں سب کو برابر حصہ دیں۔ 16 اِس کے علاوہ وہ اُن مردوں میں بھی چیزیں تقسیم کرتے تھے جن کے نام نسب‌ناموں میں لکھے تھے اور جو روزانہ یہوواہ کے گھر میں خدمت کرنے اور اپنے گروہوں کے مطابق ذمے‌داریاں انجام دینے آتے تھے۔ یہ چیزیں اُن لڑکوں کو بھی دی جاتی تھیں جن کی عمر تین سال یا اِس سے زیادہ تھی اور جن کے نام نسب‌ناموں میں لکھے تھے۔‏

17 کاہنوں کے نسب‌نامے میں اُن کے نام اور لاویوں کے نسب‌نامے میں 20 سال اور اِس سے اُوپر کی عمر کے لاویوں کے نام اُن کے آبائی خاندان کے مطابق اور اُن کے گروہوں کی ذمے‌داریوں کے مطابق لکھے گئے۔ 18 نسب‌نامے میں لاویوں کے سب بچوں، بیویوں، بیٹوں اور بیٹیوں یعنی اُن کی ساری جماعت کے نام لکھے گئے کیونکہ لاویوں نے مُقدس خدمت کے لیے خود کو پاک رکھا تھا جو اُنہیں بھروسے‌مند ہونے کی وجہ سے سونپی گئی تھی۔ 19 نسب‌نامے میں ہارون کی اولاد یعنی اُن کاہنوں کے نام بھی لکھے گئے جو اپنے شہروں کے اِردگِرد موجود چراگاہوں کے میدانوں میں رہتے تھے۔ سب شہروں میں آدمیوں کو نام لے کر چُنا گیا تھا تاکہ وہ کاہنوں میں سے ہر مرد کو اور ہر اُس شخص کو اُس کا حصہ دیں جس کا نام لاویوں کے نسب‌نامے میں لکھا تھا۔‏

20 حِزقیاہ نے پورے یہوداہ میں ایسا کِیا۔ وہ ایسے کام کرتے رہے جو اُن کے خدا یہوواہ کی نظر میں اچھے اور صحیح تھے اور وہ اُس کے وفادار رہے۔ 21 اُنہوں نے اپنے خدا کی خدمت*‏ میں جو بھی کام کیے، پورے دل سے کیے اور وہ کامیاب ہوئے پھر چاہے اُن کاموں کا تعلق سچے خدا کے گھر میں خدمت سے تھا یا خدا کی شریعت اور اُس کے حکم سے۔‏

32 جب حِزقیاہ نے وفاداری سے یہ سارے کام کر لیے تو اِس کے بعد اسور کا بادشاہ سِنّحیرِب آیا اور یہوداہ میں گُھس گیا۔ اُس نے قلعہ‌بند شہروں کو گھیر لیا کیونکہ اُس نے اِن میں گُھس کر اِن پر قبضہ کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔‏

2 جب حِزقیاہ نے دیکھا کہ سِنّحیرِب وہاں آ گیا ہے اور اُس نے یروشلم سے جنگ کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے 3 تو اُنہوں نے اپنے حاکموں اور اپنے جنگجوؤں سے مشورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کِیا کہ شہر سے باہر چشموں کا پانی بند کر دیا جائے اور اُنہوں نے حِزقیاہ کا ساتھ دیا۔ 4 بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور اُنہوں نے اُن سب چشموں اور ندیوں کا پانی بند کر دیا جو ملک میں بہہ رہی تھیں اور کہا:‏ ”‏اسور کے بادشاہوں کو یہاں آ کر اِتنا سارا پانی کیوں ملے؟“‏

5 اِس کے علاوہ حِزقیاہ نے مضبوط اِرادے کے ساتھ ٹوٹی ہوئی ساری دیوار کو دوبارہ بنایا اور اِس پر بُرج کھڑے کیے اور باہر ایک اَور دیوار بنائی۔ اُنہوں نے داؤد کے شہر کے ٹیلے*‏ کی بھی مرمت کی اور بڑی تعداد میں ہتھیار اور ڈھالیں بنوائیں۔ 6 پھر اُنہوں نے لوگوں پر فوجی سربراہ مقرر کیے اور اُنہیں شہر کے دروازے کے چوک میں جمع کِیا اور اُن کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا:‏ 7 ‏”‏دلیر اور مضبوط بنیں۔ اسور کے بادشاہ اور اُس کے ساتھ آئی بڑی فوج کی وجہ سے ڈریں نہیں اور خوف‌زدہ نہیں ہوں کیونکہ جو ہمارے ساتھ ہیں، وہ اُن سے زیادہ ہیں جو اُس کے ساتھ ہیں۔ 8 اُس کے ساتھ اِنسانی طاقت*‏ ہے مگر ہمارے ساتھ ہمارا خدا یہوواہ ہے جو ہماری مدد کرتا ہے اور ہماری جنگیں لڑتا ہے۔“‏ لوگوں کو یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کی باتوں سے ہمت ملی۔‏

9 پھر جب اسور کا بادشاہ سِنّحیرِب اپنی ساری شاہی طاقت*‏ کے ساتھ لکیس میں تھا تو اُس نے اپنے خادموں کو یروشلم بھیجا اور اُن کے ہاتھ یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ اور یروشلم میں رہنے والے سب یہودیوں کے پاس یہ پیغام بھجوایا:‏

10 ‏”‏اسور کے بادشاہ سِنّحیرِب نے کہا ہے:‏ ”‏تُم کس چیز پر بھروسا کر کے یروشلم میں ٹکے ہوئے ہو جبکہ اِسے گھیر لیا گیا ہے؟“‏ 11 حِزقیاہ تُم سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏ہمارا خدا یہوواہ ہمیں اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے بچا لے گا۔“‏ اِس طرح وہ تمہیں گمراہ کر رہا ہے اور تمہیں بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مار ڈالنا چاہتا ہے۔ 12 یہ وہی حِزقیاہ ہے نا جس نے تمہارے خدا*‏ کی اُونچی جگہوں اور اُس کی قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا تھا اور پھر یہوداہ اور یروشلم سے کہا تھا:‏ ”‏آپ کو صرف ایک قربان‌گاہ کے سامنے جھکنا چاہیے اور صرف اِسی پر قربانیاں پیش کرنی چاہئیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے“‏؟ 13 کیا تمہیں نہیں پتہ کہ مَیں نے اور میرے باپ‌دادا نے دوسری قوموں کے سب لوگوں کے ساتھ کیا کِیا تھا؟ کیا اُن قوموں کے خدا اپنے ملکوں کو میرے ہاتھ سے بچا سکے تھے؟ 14 اُن قوموں کے سب خداؤں میں سے جنہیں میرے باپ‌دادا نے تباہ کر دیا، کون سا خدا اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچا پایا جو تمہارا خدا تمہیں میرے ہاتھ سے بچا پائے گا؟ 15 حِزقیاہ کے دھوکے میں نہ آؤ، وہ تمہیں گمراہ کر رہا ہے!‏ اُس پر بھروسا نہ کرو کیونکہ کسی بھی قوم یا سلطنت کا کوئی بھی خدا اپنے لوگوں کو میرے اور میرے باپ‌دادا کے ہاتھ سے نہیں بچا سکا۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہارا خدا تمہیں میرے ہاتھ سے بچا لے؟“‏“‏

16 اُس کے خادموں نے سچے خدا یہوواہ اور اُس کے بندے حِزقیاہ کے خلاف اَور بھی بہت کچھ کہا۔ 17 اُس نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی توہین کرنے کے لیے خط بھی لکھے اور اُن میں اُس کے خلاف یہ باتیں کہیں:‏ ”‏جیسے دوسری قوموں کے خدا اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکے ویسے ہی حِزقیاہ کا خدا اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکے گا۔“‏ 18 وہ یروشلم کے لوگوں کے سامنے جو دیوار پر کھڑے تھے، اُونچی آواز میں یہودیوں کی زبان میں بولتے رہے تاکہ اُنہیں ڈرا کر اور اُن کے اندر خوف پیدا کر کے شہر پر قبضہ کر لیں۔ 19 اُنہوں نے یروشلم کے خدا کے خلاف اُسی طرح سے باتیں کیں جس طرح سے وہ زمین کی دوسری قوموں کے خداؤں کے خلاف کرتے تھے جو اِنسان کے ہاتھ کا کام ہیں۔ 20 لیکن بادشاہ حِزقیاہ اور آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی اِس بارے میں دُعا کرتے رہے اور آسمان کی طرف مدد کے لیے پکارتے رہے۔‏

21 پھر یہوواہ نے ایک فرشتہ بھیجا اور اسور کے بادشاہ کی خیمہ‌گاہ میں ہر طاقت‌ور جنگجو، رہنما اور سربراہ کو مار ڈالا۔ اِس طرح سِنّحیرِب بے‌عزت ہو کر اپنے ملک لوٹ گیا۔ بعد میں وہ اپنے خدا کے مندر*‏ میں گیا اور وہاں اُس کے اپنے کچھ بیٹوں نے اُسے تلوار سے مار ڈالا۔ 22 یوں یہوواہ نے حِزقیاہ اور یروشلم کے رہنے والوں کو اسور کے بادشاہ سِنّحیرِب کے ہاتھ سے اور باقی سب کے ہاتھ سے بچایا اور اُنہیں ہر طرف سے سکون بخشا۔ 23 اور بہت سے لوگ یروشلم میں یہوواہ کے لیے نذرانے اور یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کے لیے عمدہ عمدہ چیزیں لائے۔ اِس کے بعد سے ساری قومیں حِزقیاہ کی بڑی عزت کرنے لگیں۔‏

24 اُن دنوں میں حِزقیاہ بیمار پڑ گئے۔ اُن کی حالت اِتنی خراب ہو گئی کہ وہ مرنے والے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا کی اور اُس نے اُنہیں جواب دیا اور ایک نشانی دی۔ 25 لیکن حِزقیاہ نے اُس اچھائی کی قدر نہیں کی جو اُن کے ساتھ کی گئی تھی کیونکہ اُن کے دل میں غرور سما گیا جس کی وجہ سے اُن پر اور یہوداہ اور یروشلم پر خدا کا غصہ بھڑکا۔ 26 مگر حِزقیاہ نے اپنے دل سے غرور نکالا اور اُنہوں نے اور یروشلم میں رہنے والوں نے خود کو خاکسار بنایا۔ اِس لیے حِزقیاہ کے زمانے میں اُن لوگوں پر یہوواہ کا غضب نازل نہیں ہوا۔‏

27 حِزقیاہ نے بے‌شمار دولت اور شان‌وشوکت حاصل کی۔ اُنہوں نے چاندی، سونے، قیمتی پتھروں، بلسان کے تیل، ڈھالوں اور سب دل‌پسند چیزوں کے لیے گودام بنوائے۔ 28 اُنہوں نے اناج، نئی مے اور تیل ذخیرہ کرنے کے لیے بھی گودام بنوائے اور ہر طرح کے مویشیوں اور گلّوں کے لیے باڑے بنوائے۔ 29 اُنہوں نے اپنے لیے شہر بھی بنوائے اور بڑی تعداد میں مویشی، گلّے اور ریوڑ حاصل کیے کیونکہ خدا نے اُنہیں بہت زیادہ مال‌ودولت عطا کِیا تھا۔ 30 حِزقیاہ نے جیحون کے پانیوں کے اُوپر والے چشمے بند کر دیے اور اُن کا رُخ مغرب میں داؤد کے شہر کی طرف موڑ دیا۔ حِزقیاہ کو اپنے ہر کام میں کامیابی ملی۔ 31 لیکن جب بابل کے حاکموں کے نمائندوں کو اُس نشانی کے بارے میں پوچھنے کے لیے حِزقیاہ کے پاس بھیجا گیا جو ملک میں نظر آئی تھی تو سچے خدا نے حِزقیاہ کا اِمتحان لینے کے لیے اُنہیں اکیلا چھوڑ دیا تاکہ دیکھے کہ اُن کے دل میں کیا ہے۔‏

32 حِزقیاہ کی باقی کہانی اور اُن کے اُن کاموں کے بارے میں تفصیل جو اُنہوں نے اٹوٹ محبت کی بِنا پر کیے، آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کی رُویا اور یہوداہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔ 33 پھر حِزقیاہ اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُس چڑھائی پر دفنایا گیا جو داؤد کے بیٹوں کی قبروں کی طرف جاتی تھی۔ سارے یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں نے اُنہیں بڑی عزت کے ساتھ دفنایا۔ پھر اُن کا بیٹا منسّی اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

33 جب منسّی بادشاہ بنا تو وہ 12 سال کا تھا اور اُس نے 55 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔‏

2 منسّی نے ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُن قوموں کی گھناؤنی رسمیں اپنا لیں جنہیں یہوواہ نے اِسرائیل کے لوگوں کے سامنے سے نکال دیا تھا۔ 3 اُس نے اُونچی جگہیں دوبارہ بنوائیں جو اُس کے والد حِزقیاہ نے ڈھا دی تھیں۔ اُس نے بعل دیوتاؤں کے لیے قربان‌گاہیں اور مُقدس بَلّیاں*‏ بھی بنوائیں۔ وہ آسمان کی ساری چیزوں*‏ کے سامنے جھکا اور اُن کی پرستش کی۔ 4 اُس نے یہوواہ کے گھر میں بھی قربان‌گاہیں بنوائیں جس کے بارے میں یہوواہ نے کہا تھا:‏ ”‏میرا نام ہمیشہ یروشلم میں رہے گا۔“‏ 5 اُس نے یہوواہ کے گھر کے دونوں صحنوں میں آسمان کی ساری چیزوں*‏ کے لیے قربان‌گاہیں بنوائیں۔ 6 اُس نے اپنے بیٹوں کو ہِنّوم کے بیٹے کی وادی میں آگ میں قربان کِیا،‏*‏ جادوٹونا کِیا، غیب‌دانی کی اور مُردوں سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں اور مستقبل کا حال بتانے والوں کو مقرر کِیا۔ اُس نے بڑے پیمانے پر ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور یوں اُسے غصہ دِلایا۔‏

7 اُس نے اُس تراشی ہوئی مورت کو جو اُس نے بنوائی تھی، سچے خدا کے گھر میں رکھا جس کے بارے میں خدا نے داؤد اور اُن کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا:‏ ”‏اِس گھر میں اور یروشلم میں جسے مَیں نے اِسرائیل کے سب قبیلوں کے شہروں میں سے چُنا ہے، میرا نام ہمیشہ رہے گا۔ 8 مَیں پھر کبھی اِسرائیل کو اُس ملک سے نہیں نکالوں گا جو مَیں نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا بشرطیکہ وہ میرے سب حکموں پر پوری طرح عمل کریں یعنی اُس پوری شریعت، معیاروں اور فیصلوں پر جو موسیٰ کے ذریعے دیے گئے تھے۔“‏ 9 منسّی یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم میں رہنے والوں کو گمراہ کرتا رہا اور اُن سے اُن قوموں سے بھی زیادہ بُرے کام کرائے جنہیں یہوواہ نے اُن کے سامنے سے مٹا دیا تھا۔‏

10 یہوواہ منسّی اور اُس کی قوم سے کلام کرتا رہا لیکن اُنہوں نے اُس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ 11 اِس لیے یہوواہ نے اسور کے بادشاہ کی فوج کے سربراہوں کو اُن کے خلاف بھیجا۔ اُنہوں نے منسّی کو کُنڈیاں ڈال کر*‏ پکڑ لیا اور اُسے تانبے کی دو بیڑیوں سے باندھ کر بابل لے گئے۔ 12 اُس مشکل میں اُس نے اپنے خدا یہوواہ سے رحم کی بھیک مانگی اور خود کو اپنے باپ‌دادا کے خدا کے حضور بے‌حد خاکسار بنانے لگا۔ 13 وہ خدا سے دُعا کرتا رہا۔ اُس کی اِلتجاؤں کی وجہ سے خدا کو اُس پر ترس آیا اور اُس نے اُس کی رحم کی درخواست سنی اور یروشلم میں اُس کی بادشاہت کو بحال کِیا۔ اِس طرح منسّی جان گیا کہ یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔‏

14 اِس کے بعد اُس نے داؤد کے شہر کے لیے جیحون کے مغرب کی طرف وادی میں اور مچھلی دروازے تک باہر والی دیوار بنائی۔ اُس نے عوفلِ تک اِس دیوار کو بنایا۔ یہ دیوار شہر کو گھیرے ہوئے تھی اور بہت اُونچی تھی۔ اِس کے علاوہ اُس نے یہوداہ کے سب قلعہ‌بند شہروں میں فوج کے سربراہ مقرر کیے۔ 15 پھر اُس نے دوسرے خداؤں کے بُتوں اور مورت کو یہوواہ کے گھر سے نکال دیا۔ اُس نے اُن سب قربان‌گاہوں کو بھی ہٹا دیا جو اُس نے یہوواہ کے گھر کے پہاڑ پر اور یروشلم میں بنوائی تھیں اور اُنہیں شہر سے باہر پھنکوا دیا۔ 16 اُس نے یہوواہ کی قربان‌گاہ بھی تیار کی اور اُس پر صلح*‏ والی قربانیاں اور شکرگزاری کی قربانیاں پیش کرنے لگا اور یہوداہ سے کہا کہ وہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی عبادت کرے۔ 17 لوگ اب بھی اُونچی جگہوں پر قربانیاں پیش کر رہے تھے لیکن صرف اپنے خدا یہوواہ کے لیے۔‏

18 منسّی کی باقی کہانی، اپنے خدا سے اُس کی دُعا اور رُویات دیکھنے والوں کی وہ باتیں جو اُنہوں نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام سے اُسے بتائیں، اِسرائیل کے بادشاہوں کی تاریخ میں لکھی ہیں۔ 19 اِس بارے میں تفصیل کہ اُس نے کیا دُعا کی، اُس کی اِلتجا کا جواب کیسے ملا، اُس نے کون کون سے گُناہ کیے اور خدا سے بے‌وفائی کیسے کی، اُن تحریروں میں درج ہے جو اُس کے لیے رُویات دیکھنے والوں نے لکھیں۔ اُن تحریروں میں یہ بھی لکھا ہے کہ اُس نے خود کو خاکسار بنانے سے پہلے کہاں کہاں اُونچی جگہیں بنائیں، مُقدس بَلّیاں*‏ کھڑی کیں اور تراشی ہوئی مورتیں بنائیں۔ 20 پھر منسّی اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے اُس کے گھر میں دفنایا گیا اور اُس کا بیٹا امون اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

21 جب امون بادشاہ بنا تو وہ 22 سال کا تھا اور اُس نے دو سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ 22 وہ اپنے باپ منسّی کی طرح ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ امون اُن سب تراشی ہوئی مورتوں کے سامنے قربانیاں پیش کرتا رہا جو اُس کے باپ منسّی نے بنوائی تھیں اور اُن کی پرستش کرتا رہا۔ 23 لیکن اُس نے خود کو یہوواہ کے حضور خاکسار نہیں بنایا جیسے اُس کے باپ منسّی نے خود کو خاکسار بنایا تھا بلکہ اُس نے اَور بھی زیادہ گُناہ کیے۔ 24 بعد میں امون کے خادموں نے اُس کے خلاف سازش کی اور اُسے اُسی کے گھر میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ 25 لیکن ملک کے لوگوں نے اُن سب لوگوں کو مار ڈالا جنہوں نے بادشاہ امون کے خلاف سازش گھڑی تھی اور اُس کے بیٹے یوسیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنا دیا۔‏

34 جب یوسیاہ بادشاہ بنے تو وہ آٹھ سال کے تھے اور اُنہوں نے 31 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ 2 یوسیاہ نے ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ وہ اُن سب راہوں پر چلے جن پر اُن کے بڑے بزرگ داؤد چلے تھے اور اُن راہوں سے دائیں یا بائیں نہیں مُڑے۔‏

3 اپنی حکمرانی کے آٹھویں سال میں جب یوسیاہ ابھی کم‌عمر ہی تھے تو وہ اپنے بڑے بزرگ داؤد کے خدا کی تلاش کرنے لگے۔ وہ اپنی حکمرانی کے 12ویں سال میں یہوداہ اور یروشلم کو اُونچی جگہوں، مُقدس بَلّیوں،‏*‏ تراشی ہوئی مورتوں اور دھات کے بُتوں سے پاک کرنے لگے۔ 4 اِس کے علاوہ لوگوں نے یوسیاہ کی موجودگی میں بعل دیوتاؤں کی قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا اور یوسیاہ نے اُن کے اُوپر موجود بخور کی قربان‌گاہوں کو توڑ دیا۔ یوسیاہ نے مُقدس بَلّیوں،‏*‏ تراشی ہوئی مورتوں اور دھات کے بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اُنہیں پیس کر اُن لوگوں کی قبروں پر چھڑک دیا جو اُن کے سامنے قربانیاں پیش کرتے تھے۔ 5 اِس کے علاوہ اُنہوں نے کاہنوں کی ہڈیاں اُن کی قربان‌گاہوں پر جلا دیں۔ اِس طرح اُنہوں نے یہوداہ اور یروشلم کو پاک کِیا۔‏

6 یوسیاہ نے منسّی، اِفرائیم، شمعون اور نفتالی کے شہروں تک اور اُن کے آس‌پاس کے کھنڈروں میں 7 قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا اور مُقدس بَلّیوں*‏ اور تراشی ہوئی مورتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پیس دیا۔ اُنہوں نے سارے اِسرائیل سے بخور کی سب قربان‌گاہوں کو بھی ڈھا دیا۔ اِس کے بعد وہ یروشلم لوٹ گئے۔‏

8 اپنی حکمرانی کے 18ویں سال میں جب یوسیاہ نے ملک اور ہیکل*‏ کو پاک کر لیا تو اُنہوں نے اَصلیاہ کے بیٹے سافن، شہر کے سربراہ معسیاہ اور تاریخ‌نویس یوآخز کے بیٹے یوآخ کو اپنے خدا یہوواہ کے گھر کی مرمت کرنے بھیجا۔ 9 وہ کاہنِ‌اعظم خِلقیاہ کے پاس آئے اور اُنہیں وہ سارا پیسہ دیا جو خدا کے گھر میں لایا گیا تھا۔ یہ پیسہ دربانوں کے طور پر خدمت کرنے والے لاویوں نے منسّی، اِفرائیم اور باقی سارے اِسرائیل سے اور یہوداہ، بِنیامین اور یروشلم کے رہنے والوں سے اِکٹھا کِیا تھا۔ 10 پھر اُنہوں نے یہ پیسہ اُن لوگوں کو دیا جنہیں یہوواہ کے گھر میں کام کی نگرانی کرنے کے لیے مقرر کِیا گیا تھا۔ یہوواہ کے گھر میں کام کرنے والوں نے یہ پیسہ گھر کی مرمت کرنے اور اِسے ٹھیک کرنے کے لیے اِستعمال کِیا۔ 11 اُنہوں نے یہ پیسہ کاریگروں اور مستریوں کو دیا تاکہ وہ تراشے ہوئے پتھر اور ٹیکوں کے لیے لکڑی خریدیں اور شہتیروں سے وہ گھر بنائیں جنہیں یہوداہ کے بادشاہوں نے تباہ ہونے دیا تھا۔‏

12 اُن آدمیوں نے پوری ایمان‌داری سے کام کِیا۔ اُن کے کام کی نگرانی کرنے کے لیے اِن لاویوں کو مقرر کِیا گیا:‏ مِراریوں میں سے یحت اور عبدیاہ اور قہاتیوں میں سے زکریاہ اور مِسُلّام۔ لاوی جو سب کے سب ماہر موسیقار تھے، 13 عام مزدوروں*‏ اور ہر طرح کی خدمت انجام دینے والوں کے نگران تھے۔ کچھ لاوی مُنشی، عہدےدار اور دربان تھے۔‏

14 جب وہ لوگ یہوواہ کے گھر میں لایا ہوا پیسہ نکال رہے تھے تو کاہن خِلقیاہ کو یہوواہ کی شریعت کی کتاب ملی جو موسیٰ کے ذریعے*‏ دی گئی تھی۔ 15 پھر خِلقیاہ نے مُنشی سافن سے کہا:‏ ”‏مجھے یہوواہ کے گھر میں شریعت کی کتاب ملی ہے۔“‏ اِس کے ساتھ ہی خِلقیاہ نے سافن کو وہ کتاب دی۔ 16 اِس کے بعد سافن وہ کتاب بادشاہ کے پاس لائے اور اُس سے کہا:‏ ”‏آپ کے خادم وہ سارا کام کر رہے ہیں جو اُنہیں دیا گیا ہے۔ 17 اُنہوں نے یہوواہ کے گھر سے پیسہ نکال کر نگرانوں اور کام کرنے والوں کو دے دیا ہے۔“‏ 18 مُنشی سافن نے بادشاہ سے یہ بھی کہا:‏ ”‏کاہن خِلقیاہ نے مجھے ایک کتاب دی ہے۔“‏ پھر سافن بادشاہ کے سامنے اُس کتاب میں سے پڑھنے لگے۔‏

19 جیسے ہی بادشاہ نے شریعت میں لکھی باتیں سنیں، اُس نے اپنے کپڑے پھاڑ دیے۔ 20 پھر اُس نے خِلقیاہ، سافن کے بیٹے اخی‌قام، میکاہ کے بیٹے عبدون، مُنشی سافن اور اپنے خادم عسایاہ کو یہ حکم دیا:‏ 21 ‏”‏جاؤ اور میری خاطر اور اِسرائیل اور یہوداہ میں بچے ہوئے لوگوں کی خاطر یہوواہ سے اُس کتاب میں لکھی باتوں کے بارے میں پوچھو جو ہمیں ملی ہے۔ ہم پر یہوواہ کا جو قہر نازل ہوگا، وہ بہت شدید ہوگا کیونکہ ہمارے باپ‌دادا نے اُن سب باتوں پر عمل نہیں کِیا جو اِس کتاب میں لکھی ہیں اور اِس طرح یہوواہ کا حکم نہیں مانا۔“‏

22 اِس پر خِلقیاہ اُن سب لوگوں کے ساتھ جنہیں بادشاہ نے بھیجا تھا، خُلدہ نبِیّہ کے پاس گئے۔ خُلدہ سلّوم کی بیوی تھیں جو کپڑوں کی دیکھ‌بھال کرتے تھے۔ سلّوم تِقوہ کے بیٹے تھے جو خرخس کے بیٹے تھے۔ خُلدہ یروشلم کے نئے حصے میں رہتی تھیں اور اُن سب نے وہاں جا کر اُن سے بات کی۔ 23 خُلدہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏جس آدمی نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے، اُس سے کہو:‏ 24 ‏”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏مَیں اِس جگہ پر اور اِس کے رہنے والوں پر تباہی نازل کروں گا، ہاں، وہ سب لعنتیں جو اُس کتاب میں لکھی ہیں جو یہوداہ کے بادشاہ کے سامنے پڑھی گئی ہے۔ 25 اُن لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور وہ دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کر رہے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے اور اِس طرح اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مجھے غصہ دِلا رہے ہیں۔ میرا قہر اِس جگہ پر نازل ہوگا اور میرے قہر کی آگ نہیں بجھے گی۔“‏“‏ 26 لیکن تُم یہوداہ کے بادشاہ سے جس نے تمہیں یہوواہ سے رہنمائی مانگنے کے لیے بھیجا ہے، یہ کہنا:‏ ”‏جہاں تک اُن باتوں کا تعلق ہے جو تُم نے سنی ہیں، اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ 27 ‏”‏جب تُم نے سنا کہ مَیں نے اِس جگہ اور اِس کے رہنے والوں کے بارے میں کیا کہا ہے تو تُم نے اپنے دل کو نرم کِیا اور خدا کے حضور خاکسار بنے اور تُم نے اپنے کپڑے پھاڑے اور میرے سامنے روئے۔ لہٰذا یہوواہ فرماتا ہے کہ مَیں نے بھی تمہاری دُعا سُن لی ہے۔ 28 اِس لیے مَیں تمہیں تمہارے باپ‌دادا سے ملا دوں گا*‏ اور تُم سکون سے قبر میں لیٹ جاؤ گے اور تُم وہ ساری تباہی نہیں دیکھو گے جو مَیں اِس جگہ اور اِس میں رہنے والوں پر نازل کروں گا۔“‏“‏“‏“‏

اِس کے بعد وہ لوگ یہ پیغام لے کر بادشاہ کے پاس گئے۔ 29 تب بادشاہ یوسیاہ نے پیغام بھیجا اور یہوداہ اور یروشلم کے سب بزرگوں کو بُلایا۔ 30 اِس کے بعد یوسیاہ یہوداہ کے سب آدمیوں، یروشلم کے سب رہنے والوں اور کاہنوں اور لاویوں یعنی چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب لوگوں کو لے کر یہوواہ کے گھر گئے۔ بادشاہ نے اُنہیں عہد کی وہ پوری کتاب پڑھ کر سنائی جو یہوواہ کے گھر میں ملی تھی۔ 31 بادشاہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور یہوواہ کے حضور یہ عہد کِیا*‏ کہ وہ عہد کی کتاب میں لکھی باتوں پر عمل کرے گا اور پورے دل اور پوری جان*‏ سے یہوواہ کی راہوں پر چلے گا اور اُس کے حکموں، اُس کی یاددہانیوں اور اُس کے معیاروں کو مانے گا۔ 32 اُس نے یروشلم اور بِنیامین کے سب لوگوں کو بھی اِس عہد میں شریک کِیا۔ یروشلم میں رہنے والوں نے خدا، ہاں، اپنے باپ‌دادا کے خدا کے عہد پر عمل کِیا۔ 33 پھر یوسیاہ نے اِسرائیلیوں کے سب علاقوں سے ساری گھناؤنی چیزیں*‏ نکال دیں اور سب اِسرائیلیوں سے اُن کے خدا یہوواہ کی خدمت کرائی۔ یوسیاہ کے جیتے جی وہ اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی راہ سے نہیں ہٹے۔‏

35 یوسیاہ نے یروشلم میں یہوواہ کے لیے عیدِفسح منائی۔ اُن لوگوں نے پہلے مہینے کے 14ویں دن عیدِفسح کے جانور ذبح کیے۔ 2 یوسیاہ نے کاہنوں کو اُن کی ذمے‌داریاں سونپیں اور اُن کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ یہوواہ کے گھر میں اپنی خدمت انجام دیتے رہیں۔ 3 پھر اُنہوں نے لاویوں سے جو سارے اِسرائیل کو تعلیم دیتے تھے اور یہوواہ کے لیے پاک تھے، کہا:‏ ”‏پاک صندوق کو اُس گھر میں رکھیں جسے اِسرائیل کے بادشاہ اور داؤد کے بیٹے سلیمان نے بنایا تھا۔ اب سے آپ کو اِسے اپنے کندھوں پر اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اپنے خدا یہوواہ اور اُس کی قوم اِسرائیل کی خدمت کریں۔ 4 اپنے آبائی خاندانوں اور اپنے گروہوں کے مطابق اپنے آپ کو تیار کریں اور اُن ہدایتوں پر عمل کریں جو اِسرائیل کے بادشاہ داؤد اور اُن کے بیٹے سلیمان نے لکھی تھیں۔ 5 مُقدس مقام میں اِس طرح کھڑے ہوں کہ لاویوں کے آبائی خاندان کا ایک ایک گروہ باقی قوم*‏ یعنی اپنے بھائیوں کے آبائی خاندانوں کے ایک ایک گروہ کے لیے موجود ہو۔ 6 عیدِفسح کے جانور ذبح کریں، خود کو پاک کریں اور اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کی تیاری کریں تاکہ یہوواہ کے اُس حکم پر عمل کِیا جا سکے جو موسیٰ کے ذریعے دیا گیا تھا۔“‏

7 یوسیاہ نے وہاں موجود سب لوگوں کو عیدِفسح کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے میمنے اور بکری کے نر بچے دیے جن کی کُل تعداد 30 ہزار تھی۔ اُنہوں نے لوگوں کو 3000 بیل بھی دیے۔ یہ سب جانور بادشاہ کی ملکیت تھے۔ 8 بادشاہ کے عہدےداروں نے بھی لوگوں، کاہنوں اور لاویوں کے لیے اپنی خوشی سے جانور عطیہ کیے۔ سچے خدا کے گھر کے پیشواؤں خِلقیاہ، زکریاہ اور یحی‌ایل نے عیدِفسح پر قربان کرنے کے لیے کاہنوں کو 2600 جانور اور 300 بیل دیے۔ 9 کوننیاہ اور اُن کے بھائیوں سِمعیاہ اور نِتنی‌ایل نے اور لاویوں کے سربراہوں حسَبیاہ، یعی‌ایل اور یوزباد نے عیدِفسح پر قربان کرنے کے لیے لاویوں کو 5000 جانور اور 500 بیل دیے۔‏

10 ساری تیاری ہو گئی اور بادشاہ کے حکم کے مطابق کاہن اپنی اپنی جگہ اور لاوی اپنے اپنے گروہوں کے مطابق کھڑے ہو گئے۔ 11 اُنہوں نے عیدِفسح کے جانور ذبح کیے اور کاہنوں نے اُن سے خون لے کر قربان‌گاہ پر چھڑکا جبکہ لاوی جانوروں کی کھالیں اُتارتے رہے۔ 12 پھر اُنہوں نے اُن باقی لوگوں میں بانٹنے کے لیے بھسم ہونے والی قربانیاں تیار کیں جنہیں آبائی خاندان کے حساب سے گروہوں میں تقسیم کِیا گیا تھا تاکہ یہ قربانیاں یہوواہ کے حضور پیش کی جا سکیں جیسے کہ موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔ اُنہوں نے بیلوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کِیا۔ 13 اُنہوں نے عیدِفسح کی قربانی کو دستور کے مطابق آگ پر جلایا*‏ اور پاک قربانیوں کو دیگوں، دیگچوں اور دیگچیوں میں پکایا اور اُنہیں فوراً باقی سب لوگوں کے پاس لے آئے۔ 14 اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے لیے اور کاہنوں کے لیے تیاری کی کیونکہ کاہن جو ہارون کی اولاد تھے، رات گئے تک بھسم ہونے والی قربانیاں اور چربی والے حصے پیش کرتے رہے۔ اِس لیے لاویوں نے اپنے لیے اور ہارون کی اولاد یعنی کاہنوں کے لیے تیاری کی۔‏

15 گلوکار یعنی آسَف کے بیٹے اپنی اپنی جگہ کھڑے تھے جیسے داؤد، آسَف، ہیمان اور بادشاہ کے لیے رُویات دیکھنے والے یدوتون نے حکم دیا تھا اور دربان فرق فرق دروازوں پر تعینات تھے۔ اُنہیں اپنی خدمت چھوڑنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اُن کے بھائیوں یعنی لاویوں نے اُن کے لیے تیاری کی تھی۔ 16 اِس طرح اُس دن یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے ساری تیاری کی گئی تاکہ عیدِفسح منائی جا سکے اور بادشاہ یوسیاہ کے حکم کے مطابق یہوواہ کی قربان‌گاہ پر بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کی جا سکیں۔‏

17 وہاں موجود اِسرائیلیوں نے اُس وقت عیدِفسح منائی اور پھر سات دن کے لیے بے‌خمیری روٹی کی عید منائی۔ 18 جیسی عیدِفسح یوسیاہ، کاہنوں، لاویوں، وہاں موجود یہوداہ اور اِسرائیل کے سارے لوگوں اور یروشلم کے رہنے والوں نے منائی ویسی عیدِفسح نہ تو سموئیل نبی کے زمانے سے اِسرائیل میں منائی گئی اور نہ ہی اِسرائیل کے کسی اَور بادشاہ کے زمانے میں۔ 19 یہ عیدِفسح یوسیاہ کی حکمرانی کے 18ویں سال میں منائی گئی۔‏

20 اِس سب کے بعد جب یوسیاہ ہیکل*‏ کو تیار کر چُکے تو مصر کا بادشاہ نِکوہ جنگ لڑنے کے لیے کرکِمیس آیا جو دریائے‌فرات کے پاس ہے۔ تب یوسیاہ اُس کا مقابلہ کرنے گئے۔ 21 اِس پر نِکوہ نے یوسیاہ کو قاصدوں کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏یہوداہ کے بادشاہ!‏ تمہارا اِس سے کیا لینا دینا؟ آج مَیں تُم سے لڑنے نہیں آیا بلکہ میری لڑائی کسی اَور گھرانے کے خلاف ہے اور خدا نے مجھ سے کہا ہے کہ مَیں جلدی کروں۔ تمہاری بھلائی اِسی میں ہے کہ تُم خدا کے خلاف نہ جاؤ کیونکہ وہ میرے ساتھ ہے ورنہ وہ تمہیں برباد کر دے گا۔“‏ 22 لیکن یوسیاہ پیچھے نہیں ہٹے۔ اُنہوں نے نِکوہ سے لڑنے کے لیے اپنا بھیس بدلا اور اُس کی وہ بات نہیں مانی جو اصل میں خدا کے مُنہ سے نکلی تھی اور اُس سے لڑنے کے لیے مجِدّو کے میدان میں گئے۔‏

23 پھر تیراندازوں نے بادشاہ یوسیاہ پر تیر چلائے۔ تب بادشاہ نے اپنے خادموں سے کہا:‏ ”‏مجھے یہاں سے لے چلو کیونکہ مَیں بُری طرح زخمی ہوں۔“‏ 24 اِس لیے اُن کے خادموں نے اُنہیں رتھ سے اُتار کر اُن کے دوسرے جنگی رتھ میں ڈالا اور اُنہیں یروشلم لے آئے۔ اِس طرح یوسیاہ فوت ہو گئے اور اُنہیں اُن کے باپ‌دادا کی قبر میں دفنایا گیا اور سارے یہوداہ اور یروشلم نے اُن کے لیے ماتم کِیا۔ 25 یرمیاہ نے یوسیاہ کے لیے ماتمی گیت گایا اور سب گلوکار اور گلوکارائیں آج تک یوسیاہ کے بارے میں ماتمی گیت گاتے ہیں۔ پھر یہ طے کِیا گیا کہ یہ گیت اِسرائیل میں گائے جائیں اور یہ ماتمی گیتوں کی کتاب میں لکھے ہیں۔‏

26 یوسیاہ کی باقی کہانی، اُنہوں نے یہوواہ کی شریعت میں لکھی باتوں پر عمل کرتے ہوئے اٹوٹ محبت کی وجہ سے جو کچھ کِیا 27 اور اُن کے کاموں کے بارے میں تفصیل شروع سے آخر تک اِسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔‏

36 اِس کے بعد ملک کے لوگوں نے یوسیاہ کے بیٹے یہوآخز کو یروشلم میں اُس کے والد کی جگہ بادشاہ بنا دیا۔ 2 جب یہوآخز بادشاہ بنا تو وہ 23 سال کا تھا اور اُس نے تین مہینے یروشلم میں حکمرانی کی۔ 3 لیکن مصر کے بادشاہ نے اُسے یروشلم میں اُس کے تخت سے ہٹا دیا اور ملک پر 100 قِنطار*‏ چاندی اور ایک قِنطار سونے کا جُرمانہ عائد کر دیا۔ 4 اِس کے علاوہ مصر کے بادشاہ نے یہوآخز کے بھائی اِلیاقیم کو یہوداہ اور یروشلم کا بادشاہ بنا دیا اور اُس کا نام بدل کر یہویقیم رکھ دیا۔ لیکن نِکوہ اُس کے بھائی یہوآخز کو مصر لے گیا۔‏

5 جب یہویقیم بادشاہ بنا تو وہ 25 سال کا تھا اور اُس نے 11 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ وہ ایسے کام کرتا رہا جو اُس کے خدا یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ 6 بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اُس پر حملہ کرنے آیا تاکہ اُسے تانبے کی دو بیڑیوں میں جکڑ کر بابل لے جائے۔ 7 نبوکدنضر یہوواہ کے گھر کی کچھ چیزیں بابل لے گیا اور اُنہیں بابل میں اپنے محل میں رکھ دیا۔ 8 یہویقیم کی باقی کہانی اور اُس کے گھناؤنے کاموں اور اُس کی ساری بُرائیوں کے بارے میں تفصیل اِسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں لکھی ہے۔ پھر اُس کا بیٹا یہویاکین اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

9 جب یہویاکین بادشاہ بنا تو وہ 18 سال کا تھا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلم میں حکمرانی کی۔ وہ ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ 10 سال کے شروع میں*‏ بادشاہ نبوکدنضر نے اپنے آدمیوں کو بھیجا تاکہ وہ یہویاکین اور یہوواہ کے گھر کی قیمتی چیزوں کو بابل لے آئیں۔ اُس نے اُس کے والد کے بھائی صِدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کا بادشاہ بنا دیا۔‏

11 جب صِدقیاہ بادشاہ بنا تو وہ 21 سال کا تھا اور اُس نے 11 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ 12 وہ ایسے کام کرتا رہا جو اُس کے خدا یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ اُس نے خود کو یرمیاہ نبی کے سامنے خاکسار نہیں بنایا جنہوں نے یہوواہ کے حکم سے پیغام سنایا تھا۔ 13 اُس نے بادشاہ نبوکدنضر کے خلاف بغاوت بھی کی جس نے اُسے خدا کی قسم دِلائی تھی۔ وہ ڈھیٹھ بنا رہا*‏ اور سخت‌دل رہا اور اُس نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی طرف آنے سے اِنکار کر دیا۔ 14 کاہنوں کے سب سربراہوں اور لوگوں نے دوسری قوموں جیسے گھناؤنے کام کر کے خدا سے بے‌وفائی کی ساری حدیں پار کر دیں۔ اُنہوں نے یہوواہ کے گھر کو ناپاک کر دیا جسے اُس نے یروشلم میں پاک کِیا تھا۔‏

15 اُن کے باپ‌دادا کا خدا یہوواہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے بار بار اُنہیں خبردار کرتا رہا کیونکہ اُسے اپنے بندوں اور اپنی رہائش‌گاہ پر ترس آتا تھا۔ 16 لیکن وہ سچے خدا کے پیغمبروں کا مذاق اُڑاتے رہے۔ اُنہوں نے اُس کی باتوں کو حقیر سمجھا اور اُس کے نبیوں کا تمسخر اُڑایا۔ وہ تب تک ایسا کرتے رہے جب تک یہوواہ کا قہر اپنے بندوں پر نازل نہیں ہوا اور جب تک اُن کے ٹھیک ہونے کی اُمید ختم نہیں ہو گئی۔‏

17 اِس لیے خدا نے کسدیوں کے بادشاہ کو اُن کے خلاف بھیجا جس نے اُن کے مُقدس مقام کے اندر اُن کے جوان آدمیوں کو تلوار سے مار ڈالا۔ اُسے جوان آدمیوں، کنواریوں، بوڑھوں اور بیماروں کسی پر ترس نہیں آیا۔ خدا نے سب کچھ اُس کے حوالے کر دیا۔ 18 کسدیوں کا بادشاہ سب کچھ یعنی سچے خدا کے گھر کی ہر چھوٹی بڑی چیز، یہوواہ کے گھر کے خزانے اور بادشاہ اور اُس کے حاکموں کے خزانے بابل لے گیا۔ 19 اُس نے سچے خدا کے گھر کو جلا دیا، یروشلم کی دیوار کو ڈھا دیا، اِس کے سارے مضبوط بُرجوں کو آگ سے جلا دیا اور ہر قیمتی چیز کو تباہ کر دیا۔ 20 وہ اُن لوگوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا جو تلوار سے بچ گئے۔ وہ لوگ تب تک اُس کے اور اُس کے بیٹوں کے خادم رہے جب تک فارس کی سلطنت*‏ کا راج شروع نہیں ہوا 21 یعنی تب تک جب تک ملک نے اپنے سب سبتوں کا قرض نہیں چُکایا تاکہ یہوواہ کی وہ بات پوری ہو جو اُس نے یرمیاہ کے ذریعے فرمائی تھی۔ جتنا عرصہ ملک ویران پڑا رہا، اُس نے سبت منایا یعنی 70 سال پورے ہونے تک۔‏

22 فارس کے بادشاہ خورس کی حکمرانی کے پہلے سال میں*‏ یہوواہ نے اُس کے دل*‏ کو اُبھارا کہ وہ اپنی پوری سلطنت میں ایک اِعلان کروائے تاکہ یہوواہ کی وہ بات پوری ہو جو اُس نے یرمیاہ کے ذریعے فرمائی تھی۔ فارس کے بادشاہ خورس نے اُس اِعلان کو لکھوایا بھی۔ اور وہ اِعلان یہ تھا:‏ 23 ‏”‏فارس کے بادشاہ خورس نے کہا ہے:‏ ”‏آسمان کے خدا یہوواہ نے زمین کی ساری سلطنتیں میرے حوالے کر دی ہیں اور مجھے حکم دیا ہے کہ مَیں یہوداہ کے شہر یروشلم میں اُس کے لیے ایک گھر بناؤں۔ آپ میں سے جو بھی اُس کی قوم میں سے ہے، اُس کا خدا یہوواہ اُس کے ساتھ ہو اور وہ وہاں جائے۔“‏“‏

یا ”‏وہاں خدا سے رہنمائی مانگتی تھی۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے سامنے باہر جا سکوں اور اندر آ سکوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

اِنجیر کی طرح کا ایک پھل

یا شاید ”‏مصر سے اور قوعی سے آتے تھے اور بادشاہ کے تاجر اُنہیں قوعی سے خرید کر لاتے تھے۔“‏ شاید یہاں قوعی سے مُراد کِلکیہ ہے۔‏

یا ”‏برآمد کرتے“‏

یا ”‏وزن اُٹھانے والے“‏

یعنی نذرانے کی روٹیاں

‏ 32 لاکھ کلوگرام؛ 44 لاکھ لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 26 لاکھ کلوگرام؛ 44 لاکھ لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک بت 22 لیٹر (‏18.‏5 گیلن)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏وزن اُٹھانے والے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

عموماً ایک ہاتھ 5.‏44 سینٹی‌میٹر (‏5.‏17 اِنچ)‏ کا تھا۔ لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ”‏پُرانی پیمائش“‏ کے مطابق ایک ہاتھ 8.‏51 سینٹی‌میٹر (‏4.‏20 اِنچ)‏ کا تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

کچھ قدیم نسخوں میں یہاں ”‏120“‏ لکھا ہے جبکہ دوسرے نسخوں اور کچھ ترجموں میں یہاں ”‏20 ہاتھ“‏ لکھا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بڑے گھر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک مِثقال 4.‏11 گرام (‏367.‏0 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

یعنی مُقدس خانے کی طرف

یا ”‏جنوبی“‏

یا ”‏شمالی“‏

معنی:‏ ”‏وہ [‏یعنی یہوواہ]‏ مضبوطی سے قائم کرے۔“‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏طاقت سے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک سمندر“‏

یا ”‏اور اُس کا گھیرا ناپنے کے لیے 30 ہاتھ لمبی ڈوری لگتی تھی۔“‏

تقریباً 4.‏7 سینٹی‌میٹر (‏9.‏2 اِنچ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک بت 22 لیٹر (‏18.‏5 گیلن)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏پانی والی گاڑیاں“‏

یا ”‏یردن“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہیکل کے گھر“‏

یعنی جھونپڑیوں کی عید

یا ”‏لاوی کاہن“‏

ایک قسم کا تاردار ساز

ایک ہاتھ 5.‏44 سینٹی‌میٹر (‏5.‏17 اِنچ )‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اور وہ شخص اُسے بددُعا دے۔“‏ یہاں ایسی قسم کی بات ہو رہی ہے جس کے تحت جھوٹی قسم کھانے یا قسم توڑنے والے پر سزا کے طور پر لعنت ہوتی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏لعنت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏لعنت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نیک“‏

یا ”‏مصیبت میں ڈالے“‏

یا ”‏گھاس کے ٹڈے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کے دروازوں کے ملک میں“‏

یا ”‏تیری عظیم شہرت،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے بازو“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اِس جگہ کے حوالے سے“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کا مُنہ نہ موڑ۔“‏

غالباً یہاں لاویوں کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏حمات میں داخل ہونے کے مقام“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی عید کے بعد والے دن یا 15ویں دن

یا ”‏خاص“‏

یا ”‏خاص“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کہاوت“‏

یا ”‏دوبارہ بنایا“‏

یا ”‏عارضی پناہ‌گاہوں“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏پہلیاں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن سے کوئی بھی بات چھپی نہیں تھی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس میں روح باقی نہ رہی۔“‏

یا ”‏باتوں“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک قسم کا تاردار ساز

یا شاید ”‏اُسے اُس سب کی قیمت کے تحفوں کے علاوہ بھی تحفے دیے۔“‏

ایک مِثقال 4.‏11 گرام (‏367.‏0 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یہ ایسی ڈھالیں تھیں جو اکثر تیرانداز اُٹھاتے تھے۔‏

عبرانی صحیفوں میں ذکرکردہ ایک مینا 570 گرام (‏35.‏18 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

یعنی دریائے‌فرات

اِنجیر کی طرح کا ایک پھل

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

یا ”‏ظالمانہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیموں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

یا ”‏مضبوط کیے:‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بکروں“‏

یا ”‏بکھیر دیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کی سلطنتوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دوڑنے والوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

یعنی ہمیشہ قائم رہنے والے اور کبھی نہ بدلنے والے عہد

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سات مینڈھوں کے ساتھ اپنے ہاتھ بھرنے آتا،“‏

یعنی نذرانے کی روٹیاں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

یا ”‏اُس کے ماتحت“‏

یا ”‏تفسیر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دُہرے دروازے“‏

یہ ایسی ڈھالیں تھیں جو اکثر تیرانداز اُٹھاتے تھے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بہت دنوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏باہر جانے اور اندر آنے والے شخص کے لیے کوئی امن نہیں تھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور اپنے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے دیں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی مادرملکہ کے عہدے سے

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مضبوط کرنے؛ دوبارہ تعمیر کرنے“‏

یا ”‏کے علاقے میں آ سکے اور نہ کوئی باہر جا سکے۔“‏

یا ”‏عہد“‏

یا ”‏عہد“‏

یا ”‏مضبوط کرنا؛ دوبارہ تعمیر کرنا“‏

یا ”‏مضبوط کِیا؛ دوبارہ تعمیر کِیا۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کا ساتھ دے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹھوں کے گھر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے۔“‏

ظاہری بات ہے کہ آسا کی لاش کو نہیں بلکہ مصالحوں کو جلایا گیا تھا۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کو قائل کِیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دھکیلتے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے مُنہ میں گمراہ کرنے والی روح بن جاؤں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے مُنہ میں گمراہ کرنے والی روح ڈالی ہے“‏

یا ”‏قوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیمہ‌گاہ“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اپنے دل میں عزم کِیا“‏

یا ”‏یہوواہ اچھائی کے ساتھ رہے۔“‏

یا شاید ”‏معونیوں“‏

غالباً بحیرۂ‌مُردار

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہوواہ کی تلاش کرنے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹوں“‏

یا ”‏قوت“‏

یا ”‏ثابت‌قدم رہیں۔“‏

معنی:‏ ”‏بڑائی کی وادی“‏

بربط ایک قسم کا تاردار ساز تھا۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

یا ”‏دوسرے خداؤں کے ساتھ حرام‌کاری“‏

یا ”‏دوسرے خداؤں کے ساتھ حرام‌کاری“‏

یا ”‏دوسرے خداؤں کے ساتھ حرام‌کاری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

جسے اخزیاہ بھی کہا گیا ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹی“‏

کچھ عبرانی نسخوں میں یہاں ”‏عزریاہ“‏ لکھا ہے۔‏

یا ”‏بیمار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ ڈالنے“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بادشاہت کے سارے بیج“‏

یا ”‏عہد“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جب بادشاہ باہر جائے اور اندر آئے،“‏

یہ ایسی ڈھالیں تھیں جو اکثر تیرانداز اُٹھاتے تھے۔‏

شاید یہاں ایک طُومار کی بات ہو رہی ہے جس پر خدا کی شریعت لکھی تھی۔‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

یا شاید ”‏جب تک اُن سب نے دے نہیں دیا۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُن کے خلاف گواہی دیتے رہے۔“‏

یعنی زکریاہ کے والد

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جب سال بدل رہا تھا“‏

یعنی سُوریانیوں

یا ”‏بہت سی بیماریوں میں مبتلا“‏

یا ”‏بیٹے۔“‏ شاید یہاں صیغۂ‌جمع یہویدع کے بیٹے زکریاہ کو عزت دینے کے لیے اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کی بنیاد ڈالے جانے“‏

یا ”‏تفسیر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تُم“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیمے کو“‏

جسے اخزیاہ بھی کہا گیا ہے

تقریباً 178 میٹر (‏584 فٹ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کی نگرانی میں موجود“‏

یعنی عُزّیاہ کے والد اَمصیاہ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

شاید یہ حوض چٹان کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔‏

یا ”‏سطح‌مُرتفع“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 16 لاکھ کلوگرام؛ 22 لاکھ لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 13 لاکھ کلوگرام؛ 22 لاکھ لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کے سامنے اپنی راہوں کو تیار کِیا تھا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏وادیِ‌ہِنّوم“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُس کے ماتحت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پر سیٹی بجانے“‏

یا ”‏آرام کرنے“‏

یعنی نذرانے کی روٹیوں

ایک قسم کا تاردار ساز

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آپ نے یہوواہ کے لیے اپنے ہاتھ بھر لیے ہیں۔“‏

یا ”‏لاویوں نے کاہنوں سے زیادہ نیک‌دلی سے خود کو پاک کِیا تھا۔“‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏خدمات انجام دینے کی تیاری کی گئی۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دوڑنے والے“‏

یا ”‏ہمدرد“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دوڑنے والے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یک‌دل“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏شفا دی۔“‏

یا ”‏شراکت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیمہ‌گاہوں“‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏کی شریعت کے لیے خود کو پوری طرح وقف کریں۔“‏

یا ”‏کھانے کے کمرے“‏

یا ”‏دہ‌یکی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تلاش“‏

یا ”‏مِلّو۔“‏ یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کا معنی ”‏بھرنا“‏ ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گوشت پوست کا بازو“‏

یا ”‏ساری فوجی طاقت اور شان‌وشوکت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آگ میں سے گزارا،“‏

یا شاید ”‏گڑھوں میں سے“‏

یا ”‏شراکت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

یا ”‏وزن اُٹھانے والوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ سے“‏

یہ ایک شاعرانہ اِصطلا‌ح ہے جو موت کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔‏

یا ”‏کے حضور دوبارہ یہ عہد کِیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏بُت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏قوم کے بیٹوں“‏

یا شاید ”‏بھونا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

شاید موسمِ‌بہار میں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس نے اپنی گردن اکڑا لی“‏

یا ”‏کے شاہی گھرانے“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں بابل پر خورس کی حکمرانی کے پہلے سال کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں