یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د 1-‏سلاطین 1:‏1-‏22:‏53
  • 1-‏سلاطین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 1-‏سلاطین
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
1-‏سلاطین

سلاطین کی پہلی کتاب

1 بادشاہ داؤد بوڑھے ہو چُکے تھے اور اُن کی کافی عمر ہو گئی تھی۔ اُنہیں کئی کمبل اُڑھائے جاتے تھے لیکن اُن کا جسم گرم نہیں ہوتا تھا۔ 2 اِس لیے اُن کے خادموں نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر اِجازت ہو تو ہم اپنے مالک بادشاہ سلامت کے لیے ایک کنواری لڑکی ڈھونڈ کر لائیں جو آپ کی خدمت میں حاضر رہے اور آپ کی دیکھ‌بھال کرے۔ وہ آپ کے ساتھ لیٹا کرے گی تاکہ بادشاہ سلامت کے جسم کو گرمی ملے۔“‏ 3 وہ اِسرائیل کے سارے علاقے میں ایک خوب‌صورت لڑکی ڈھونڈنے لگے اور اُنہیں ایک شُونیمی لڑکی ملی جس کا نام ابی‌شاگ تھا۔ وہ اُسے بادشاہ کے پاس لائے۔ 4 وہ لڑکی بے‌حد خوب‌صورت تھی۔ وہ بادشاہ کی دیکھ‌بھال کرنے لگی اور اُس کی خدمت میں حاضر رہنے لگی۔ لیکن بادشاہ نے اُس سے جنسی تعلق قائم نہیں کِیا۔‏

5 اِس دوران حجّیت کا بیٹا ادونیاہ سر اُٹھانے لگا اور کہنے لگا:‏ ”‏مَیں بادشاہ بنوں گا!‏“‏ اُس نے اپنے لیے ایک رتھ بنوایا اور کچھ گُھڑسوار رکھے۔ اُس نے 50 آدمی بھی رکھے تاکہ وہ اُس کے آگے آگے دوڑیں۔ 6 لیکن اُس کے والد نے کبھی اُسے یہ کہہ کر نہیں ٹوکا تھا*‏ کہ ”‏آپ ایسا کیوں کر رہے ہو؟“‏ وہ بھی بہت خوب‌صورت تھا اور ابی‌سلوم کے بعد پیدا ہوا تھا۔ 7 اُس نے ضِرُویاہ کے بیٹے یوآب اور کاہن ابی‌آتر سے بات کی اور اُنہوں نے ادونیاہ کی مدد کرنے اور اُس کا ساتھ دینے کی حامی بھری۔ 8 لیکن کاہن صدوق، یہویدع کے بیٹے بِنایاہ، ناتن نبی، سِمعی، رِیعی اور داؤد کے طاقت‌ور جنگجوؤں نے ادونیاہ کا ساتھ نہیں دیا۔‏

9 آخرکار ادونیاہ نے زُحلت کے پتھر کے نزدیک جو عین‌راجل کے قریب ہے، بھیڑوں، گائے بیلوں اور موٹے‌تازے جانوروں کی قربانی پیش کی۔ اُس نے اپنے سب بھائیوں یعنی بادشاہ کے بیٹوں اور یہوداہ کے سب آدمیوں یعنی بادشاہ کے خادموں کو بُلایا۔ 10 لیکن اُس نے ناتن نبی، بِنایاہ، طاقت‌ور جنگجوؤں اور اپنے بھائی سلیمان کو نہیں بُلایا۔ 11 تب ناتن نے سلیمان کی والدہ بَت‌سبع سے کہا:‏ ”‏کیا آپ نے نہیں سنا کہ حجّیت کا بیٹا ادونیاہ بادشاہ بن گیا ہے اور ہمارے مالک داؤد کو اِس بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ؟ 12 اِس لیے مہربانی سے آئیں تاکہ مَیں آپ کو ایک مشورہ دوں جس سے آپ کی اور آپ کے بیٹے سلیمان کی جان بچ سکے گی۔ 13 بادشاہ داؤد کے پاس جائیں اور اُن سے کہیں:‏ ”‏میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ آپ نے اپنی اِس خادمہ سے یہ قسم کھائی تھی:‏ ”‏آپ کا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ بنے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھے گا۔“‏ تو پھر ادونیاہ کیوں بادشاہ بن بیٹھا ہے؟“‏ 14 جب آپ بادشاہ سے بات کر رہی ہوں گی تو مَیں آپ کے پیچھے اندر آؤں گا اور آپ کی ہاں میں ہاں ملاؤں گا۔“‏

15 اِس لیے بَت‌سبع بادشاہ کے کمرے میں گئیں۔ بادشاہ بہت بوڑھا ہو چُکا تھا اور ابی‌شاگ شُونیمی اُس کی خدمت کر رہی تھیں۔ 16 پھر بَت‌سبع بادشاہ کے سامنے جھکیں اور مُنہ کے بل زمین پر لیٹ گئیں۔ تب بادشاہ نے کہا:‏ ”‏بتائیں آپ کیا چاہتی ہیں؟“‏ 17 بَت‌سبع نے کہا:‏ ”‏میرے مالک!‏ آپ ہی نے اپنے خدا یہوواہ کی قسم کھا کر اپنی اِس خادمہ سے کہا تھا:‏ ”‏آپ کا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ بنے گا اور وہی میرے تخت پر بیٹھے گا۔“‏ 18 لیکن دیکھیں!‏ ادونیاہ بادشاہ بن گیا ہے اور میرے مالک بادشاہ سلامت اِس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ 19 اُس نے ڈھیروں ڈھیر بیل، موٹے‌تازے جانور اور بھیڑیں قربان کی ہیں اور بادشاہ کے سب بیٹوں، کاہن ابی‌آتر اور فوج کے سربراہ یوآب کو بُلایا ہے لیکن آپ کے خادم سلیمان کو نہیں بُلایا۔ 20 اور اب میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ سارے اِسرائیل کی نظریں آپ کی طرف لگی ہیں تاکہ آپ بتائیں کہ میرے مالک بادشاہ سلامت کے بعد کون اُن کے تخت پر بیٹھے گا 21 ورنہ جیسے ہی میرے مالک بادشاہ سلامت اپنے باپ‌دادا کے ساتھ سو جائیں گے، مجھے اور میرے بیٹے سلیمان کو غدار سمجھا جائے گا۔“‏

22 ابھی وہ بادشاہ سے بات کر ہی رہی تھیں کہ ناتن نبی بھی اندر آ گئے۔ 23 بادشاہ کو فوراً بتایا گیا:‏ ”‏ناتن نبی آئے ہیں!‏“‏ وہ بادشاہ کے حضور آئے اور اُس کے سامنے مُنہ کے بل زمین پر لیٹ گئے۔ 24 ناتن نے کہا:‏ ”‏میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ کیا آپ نے کہا ہے کہ ”‏ادونیاہ میرے بعد بادشاہ بنے گا اور میرے تخت پر بیٹھے گا؟“‏ 25 کیونکہ آج وہ بڑی تعداد میں بیل، موٹے‌تازے جانور اور بھیڑیں قربان کرنے گیا ہے اور اُس نے بادشاہ کے سب بیٹوں، فوج کے سربراہوں اور کاہن ابی‌آتر کو بُلایا ہے۔ وہ لوگ وہاں اُس کے ساتھ کھا پی رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں:‏ ”‏بادشاہ ادونیاہ زندہ‌باد!‏“‏ 26 لیکن اُس نے آپ کے اِس خادم، کاہن صدوق، یہویدع کے بیٹے بِنایاہ اور آپ کے خادم سلیمان کو نہیں بُلایا۔ 27 کیا میرے مالک بادشاہ سلامت نے اِس کی اِجازت دی ہے؟ کیا آپ نے اپنے اِس خادم کو بتائے بغیر ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کون میرے مالک بادشاہ سلامت کے بعد اُن کے تخت پر بیٹھے گا؟“‏

28 پھر بادشاہ داؤد نے کہا:‏ ”‏بَت‌سبع کو بُلاؤ۔“‏ اِس پر وہ اندر آئیں اور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ 29 پھر بادشاہ نے یہ قسم کھائی:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جس نے مجھے*‏ میری تمام مصیبتوں سے چھڑایا، 30 مَیں آج اپنی اُس قسم کو پورا کروں گا جو مَیں نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کا نام لے کر آپ سے کھائی تھی کہ ”‏آپ کا بیٹا سلیمان میرے بعد بادشاہ بنے گا اور وہی میری جگہ میرے تخت پر بیٹھے گا!‏“‏“‏ 31 تب بَت‌سبع بادشاہ کے سامنے جھکیں اور مُنہ کے بل زمین پر لیٹ گئیں اور کہنے لگیں:‏ ”‏میرے مالک بادشاہ داؤد لمبی عمر پائیں!‏“‏

32 اُسی وقت بادشاہ داؤد نے کہا:‏ ”‏کاہن صدوق، ناتن نبی اور یہویدع کے بیٹے بِنایاہ کو بُلائیں۔“‏ وہ سب بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئے۔ 33 بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے خادموں کو اپنے ساتھ لے جائیں اور میرے بیٹے سلیمان کو میرے خچر پر بٹھائیں اور اُسے نیچے جیحون کی طرف لے جائیں۔ 34 وہاں کاہن صدوق اور ناتن نبی اُسے اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر مسح*‏ کریں گے۔ پھر آپ نرسنگا*‏ بجانا اور کہنا:‏ ”‏بادشاہ سلیمان زندہ‌باد!‏“‏ 35 اِس کے بعد آپ اُس کے پیچھے پیچھے واپس آنا۔ وہ یہاں آ کر میرے تخت پر بیٹھے گا اور میری جگہ بادشاہ ہوگا اور مَیں اُسے اِسرائیل اور یہوداہ کا رہنما مقرر کروں گا۔“‏ 36 یہویدع کے بیٹے بِنایاہ نے فوراً بادشاہ سے کہا:‏ ”‏آمین!‏ میرے مالک بادشاہ سلامت کا خدا یہوواہ ایسا ہی کرے۔ 37 جیسے یہوواہ میرے مالک بادشاہ سلامت کے ساتھ تھا ویسے ہی وہ سلیمان کے ساتھ بھی ہو اور اُن کے تخت کی عظمت میرے مالک بادشاہ داؤد کے تخت سے بھی زیادہ بڑھائے۔“‏

38 پھر کاہن صدوق، ناتن نبی، یہویدع کے بیٹے بِنایاہ اور کِرِیتیوں اور فلیتیوں نے سلیمان کو بادشاہ داؤد کے خچر پر بٹھایا اور اُنہیں نیچے جیحون کی طرف لے گئے۔ 39 تب کاہن صدوق نے خیمے سے تیل والا سینگ لیا اور سلیمان کو مسح کِیا۔ پھر اُن لوگوں نے نرسنگا*‏ بجایا اور سب لوگ اُونچی آواز میں کہنے لگے:‏ ”‏بادشاہ سلیمان زندہ‌باد!‏“‏ 40 اِس کے بعد سب لوگ سلیمان کے پیچھے پیچھے اُوپر کی طرف گئے۔ وہ بانسریاں بجا رہے تھے اور بڑا جشن منا رہے تھے۔ اُن کے شور سے زمین کانپ رہی تھی۔‏

41 ادونیاہ اور اُن سب لوگوں نے یہ شور سنا جنہیں اُس نے بُلایا تھا۔ اُس وقت تک وہ کھا پی چُکے تھے۔ نرسنگے*‏ کی آواز سنتے ہی یوآب نے کہا:‏ ”‏شہر میں اِتنا شورشرابہ کیوں ہو رہا ہے؟“‏ 42 ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کہ کاہن ابی‌آتر کے بیٹے یونتن آئے۔ ادونیاہ نے کہا:‏ ”‏اندر آؤ۔ تُم ایک اچھے*‏ آدمی ہو۔ تُم ضرور کوئی اچھی خبر لائے ہو گے!‏“‏ 43 لیکن یونتن نے ادونیاہ سے کہا:‏ ”‏ایسا نہیں ہے!‏ ہمارے مالک بادشاہ داؤد نے سلیمان کو بادشاہ بنا دیا ہے۔ 44 بادشاہ نے کاہن صدوق، ناتن نبی، یہویدع کے بیٹے بِنایاہ اور کِرِیتیوں اور فلیتیوں کو اُس کے ساتھ بھیجا اور اُنہوں نے اُسے بادشاہ کے خچر پر بٹھایا۔ 45 پھر کاہن صدوق اور ناتن نبی نے جیحون میں اُسے بادشاہ کے طور پر مسح کِیا۔ اِس کے بعد وہ جشن مناتے ہوئے اُوپر کی طرف آئے۔ اِسی لیے شہر میں شورشرابہ مچا ہوا ہے۔ آپ نے اِسی شور کی آواز سنی ہے۔ 46 اَور تو اَور سلیمان شاہی تخت پر بیٹھ گیا ہے۔ 47 اِس کے علاوہ بادشاہ کے خادم ہمارے مالک بادشاہ داؤد کو مبارک‌باد دینے آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں:‏ ”‏آپ کا خدا سلیمان کے نام کی شان آپ کے نام سے بھی زیادہ بڑھائے اور اُن کے تخت کی عظمت آپ کے تخت سے بھی زیادہ کرے!‏“‏ اِس پر بادشاہ سلامت اپنے بستر پر جھکے۔ 48 بادشاہ سلامت نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے آج کسی کو میرے تخت پر بٹھایا ہے اور مجھے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنے کا موقع دیا ہے!‏“‏“‏

49 اِس پر وہ سب لوگ جنہیں ادونیاہ نے بُلایا تھا، خوف‌زدہ ہو گئے اور ہر کوئی اُٹھ کر اپنے اپنے راستے چلا گیا۔ 50 ادونیاہ بھی سلیمان کی وجہ سے خوف‌زدہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ اُٹھا اور جا کر قربان‌گاہ کے سینگ پکڑ لیے۔ 51 بادشاہ سلیمان کو بتایا گیا:‏ ”‏ادونیاہ، بادشاہ سلیمان سے خوف‌زدہ ہے اور اُس نے قربان‌گاہ کے سینگوں کو پکڑا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے:‏ ”‏مَیں یہاں سے تب تک نہیں ہلوں گا جب تک بادشاہ سلیمان مجھ سے یہ قسم نہیں کھائیں گے کہ وہ اپنے اِس خادم کو تلوار سے نہیں ماریں گے۔“‏“‏ 52 اِس پر سلیمان نے کہا:‏ ”‏اگر وہ خود کو ایک اچھا اِنسان ثابت کرے گا تو اُس کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِرے گا۔ لیکن اگر اُس میں کوئی بُرائی پائی جائے گی تو اُسے مار ڈالا جائے گا۔“‏ 53 پھر بادشاہ سلیمان نے کسی کو بھیجا تاکہ وہ ادونیاہ کو قربان‌گاہ سے لائے۔ ادونیاہ، بادشاہ سلیمان کے پاس آ کر اُن کے سامنے جھکا جس کے بعد سلیمان نے اُس سے کہا:‏ ”‏اپنے گھر چلے جاؤ۔“‏

2 جب داؤد کی موت کا وقت قریب آیا تو اُنہوں نے اپنے بیٹے سلیمان کو یہ ہدایتیں کیں:‏ 2 ‏”‏مَیں اب زیادہ دن نہیں جیوں گا۔‏*‏ اِس لیے مضبوط ہو اور مرد بنو۔ 3 آپ اپنا فرض نبھاتے ہوئے اپنے خدا یہوواہ کی راہوں پر چلنا اور اُس کے اُن قوانین، حکموں، فیصلوں اور یاددہانیوں پر عمل کرنا جو موسیٰ کی شریعت میں لکھی ہیں۔ پھر آپ جو کچھ بھی کرو گے اور جہاں بھی جاؤ گے، آپ کو کامیابی ملے گی۔‏*‏ 4 اور یہوواہ میرے سلسلے میں اپنا یہ وعدہ پورا کرے گا:‏ ”‏اگر تمہارے بیٹے اپنے چال‌چلن پر دھیان دیں گے اور پورے دل، پوری جان*‏ اور وفاداری سے میری راہوں پر چلیں گے تو تمہاری نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو اِسرائیل کے تخت پر بیٹھے گا۔“‏

5 آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ ضِرُویاہ کے بیٹے یوآب نے میرے ساتھ اور اِسرائیل کی فوج کے دو سربراہوں کے ساتھ کیا کِیا یعنی نِیر کے بیٹے ابنیر اور یتر کے بیٹے عماسا کے ساتھ۔ اُس نے اُس وقت اُنہیں قتل کر کے خون بہایا جب جنگ نہیں تھی بلکہ امن تھا۔ اِس طرح اُس نے اپنی پیٹی*‏ اور اپنے جُوتوں کو خون میں رنگا۔ 6 اب آپ دانش‌مندی سے کام لینا اور اُس کے سفید بالوں کو سکون سے قبر*‏ میں نہ اُترنے دینا۔‏

7 لیکن برزِلّی جِلعادی کے بیٹوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرنا اور اُنہیں اپنی میز پر کھانے پینے والے لوگوں میں شامل کرنا کیونکہ جب مَیں آپ کے بھائی ابی‌سلوم سے بھاگ رہا تھا تو اُنہوں نے میرا ساتھ دیا تھا۔‏

8 آپ کے قریب بحوریم سے تعلق رکھنے والے جیرا بِنیامینی کا بیٹا سِمعی بھی رہتا ہے۔ جس دن مَیں محنایم جا رہا تھا، اُس نے مجھے بڑی سخت بددُعائیں دی تھیں۔ لیکن جب وہ دریائے‌اُردن*‏ پر مجھ سے ملنے آیا تو مَیں نے یہوواہ کی قسم کھاتے ہوئے اُس سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو تلوار سے نہیں ماروں گا۔“‏ 9 آپ اُسے سزا ضرور دینا کیونکہ آپ ایک دانش‌مند اِنسان ہو اور جانتے ہو کہ آپ کو اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ آپ اُس کے سفید بالوں کو خون میں رنگ کر قبر*‏ میں اُتارنا۔“‏

10 پھر داؤد اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں داؤد کے شہر میں دفنایا گیا۔ 11 اِسرائیل پر داؤد کی حکمرانی کا دورانیہ 40 سال تھا۔ اُنہوں نے 7 سال حِبرون میں اور 33 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔‏

12 اِس کے بعد سلیمان اپنے والد داؤد کے تخت پر بیٹھ گئے اور آہستہ آہستہ اُن کی سلطنت مضبوط ہوتی گئی۔‏

13 کچھ وقت بعد حجّیت کا بیٹا ادونیاہ سلیمان کی والدہ بَت‌سبع کے پاس آیا۔ بَت‌سبع نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ نیک*‏ اِرادے سے آئے ہو؟“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏جی، نیک*‏ اِرادے سے آیا ہوں۔“‏ 14 پھر اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“‏ بَت‌سبع نے کہا:‏ ”‏بولو۔“‏ 15 ادونیاہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:‏ ”‏آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ بادشاہت مجھے ملنی تھی اور سارا اِسرائیل یہ توقع کر رہا تھا کہ مَیں بادشاہ بنوں گا۔ لیکن بادشاہت میرے ہاتھ سے نکل گئی اور میرے بھائی کی ہو گئی کیونکہ یہوواہ چاہتا تھا کہ یہ اُس کی ہو۔ 16 لیکن اب مَیں آپ سے بس ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ میری درخواست کو رد نہ کیجیے گا۔“‏ بَت‌سبع نے اُس سے کہا:‏ ”‏کہو۔“‏ 17 پھر اُس نے کہا:‏ ”‏مہربانی سے بادشاہ سلیمان سے کہیں کہ وہ میری شادی ابی‌شاگ شُونیمی سے کرا دیں۔ وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔“‏ 18 اِس پر بَت‌سبع نے کہا:‏ ”‏ٹھیک ہے۔ مَیں اِس بارے میں بادشاہ سے بات کروں گی۔“‏

19 اِس کے بعد بَت‌سبع بادشاہ سلیمان کے پاس گئیں تاکہ اُنہیں ادونیاہ کی درخواست کے بارے میں بتائیں۔ بادشاہ فوراً اُن سے ملنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور اُن کے سامنے جھکا۔ پھر وہ اپنے تخت پر بیٹھ گیا اور اُس نے اپنی دائیں طرف اپنی والدہ کے لیے ایک تخت لگوایا تاکہ وہ وہاں بیٹھیں۔ 20 پھر بَت‌سبع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے ایک چھوٹی سی درخواست کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے اِنکار مت کرنا۔“‏ بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏جی امی، بتائیں۔ مَیں اِنکار نہیں کروں گا۔“‏ 21 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ابی‌شاگ شُونیمی کی شادی اپنے بھائی ادونیاہ سے کرا دیں۔“‏ 22 اِس پر سلیمان نے اپنی والدہ سے کہا:‏ ”‏آپ ادونیاہ کے لیے صرف ابی‌شاگ شُونیمی کیوں مانگ رہی ہیں؟ آپ اُس کے لیے بادشاہت بھی مانگ لیں کیونکہ وہ میرا بڑا بھائی ہے اور کاہن ابی‌آتر اور ضِرُویاہ کے بیٹے یوآب بھی اُس کا ساتھ دے رہے ہیں۔“‏

23 پھر سلیمان نے یہوواہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا:‏ ”‏ادونیاہ کو اِس درخواست کی قیمت اپنی جان دے کر چُکانی پڑے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا مجھے اِس کی کڑی سے کڑی سزا دے۔ 24 اب زندہ خدا یہوواہ کی قسم جس نے اپنے وعدے کے مطابق مجھے مضبوطی سے قائم کِیا اور مجھے میرے والد داؤد کے تخت پر بٹھایا اور میرے لیے ایک گھر*‏ بنایا، ادونیاہ کو آج ہی موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔“‏ 25 بادشاہ سلیمان نے اُسی وقت یہویدع کے بیٹے بِنایاہ کو بھیجا جنہوں نے جا کر ادونیاہ پر وار کِیا اور وہ مر گیا۔‏

26 پھر بادشاہ نے کاہن ابی‌آتر سے کہا:‏ ”‏عنتوت میں اپنے کھیتوں میں چلے جائیں!‏ ویسے تو آپ موت کی سزا کے لائق ہیں لیکن مَیں آج آپ کو نہیں ماروں گا کیونکہ آپ نے میرے والد داؤد کے سامنے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ کا صندوق اُٹھایا اور آپ نے میرے والد کی سب مصیبتوں میں اُن کا ساتھ دیا۔“‏ 27 اِس طرح سلیمان نے ابی‌آتر کو یہوواہ کے کاہن کی ذمے‌داری سے ہٹا دیا۔ یوں یہوواہ کی وہ بات پوری ہوئی جو اُس نے سیلا میں عیلی کے گھرانے کے بارے میں کہی تھی۔‏

28 جب یہ خبر یوآب تک پہنچی تو وہ بھاگ کر یہوواہ کے خیمے میں چلے گئے اور قربان‌گاہ کے سینگ پکڑ لیے۔ اُنہوں نے ابی‌سلوم کا ساتھ تو نہیں دیا تھا لیکن ادونیاہ کا ساتھ دیا تھا۔ 29 بادشاہ سلیمان کو بتایا گیا:‏ ”‏یوآب یہوواہ کے خیمے میں بھاگ گئے ہیں اور قربان‌گاہ کے پاس موجود ہیں۔“‏ سلیمان نے یہویدع کے بیٹے بِنایاہ سے کہا:‏ ”‏جاؤ اُسے مار ڈالو!‏“‏ 30 بِنایاہ یہوواہ کے خیمے میں گئے اور یوآب سے کہا:‏ ”‏بادشاہ نے کہا ہے:‏ ”‏باہر آؤ!‏“‏“‏ لیکن یوآب نے کہا:‏ ”‏نہیں، مَیں یہیں مروں گا۔“‏ بِنایاہ نے واپس آ کر بادشاہ کو بتایا کہ یوآب نے کیا کہا ہے اور اُنہیں کیا جواب دیا ہے۔ 31 بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏جیسا وہ کہہ رہا ہے، ویسا ہی کرو۔ اُسے مار ڈالو اور دفنا دو اور مجھ سے اور میرے والد کے گھرانے سے اُس خون کا داغ ہٹا دو جو یوآب نے بِلاوجہ بہایا ہے۔ 32 یہوواہ اُس کا خون اُسی کے سر ڈالے کیونکہ اُس نے میرے والد کے علم میں لائے بغیر دو ایسے آدمیوں کو تلوار سے مار ڈالا جو اُس سے زیادہ نیک اور اچھے تھے یعنی نِیر کے بیٹے ابنیر کو جو اِسرائیل کی فوج کے سربراہ تھے اور یتر کے بیٹے عماسا کو جو یہوداہ کی فوج کے سربراہ تھے۔ 33 اُن کا خون یوآب اور اُس کی اولاد کے سر پر ہمیشہ رہے گا۔ لیکن یہوواہ داؤد، اُن کی اولاد، اُن کے گھرانے اور اُن کے تخت کو ہمیشہ سلامتی عطا کرے۔“‏ 34 تب یہویدع کے بیٹے بِنایاہ نے جا کر یوآب پر وار کِیا اور اُنہیں ہلاک کر دیا۔ پھر یوآب کو ویرانے میں اُن کے گھر میں دفنا دیا گیا۔ 35 اِس کے بعد بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بِنایاہ کو یوآب کی جگہ فوج کا سربراہ مقرر کِیا اور ابی‌آتر کی جگہ صدوق کو کاہن مقرر کِیا۔‏

36 پھر بادشاہ نے سِمعی کو بُلایا اور اُس سے کہا:‏ ”‏اپنے لیے یروشلم میں ایک گھر بناؤ اور وہیں رہو۔ وہاں سے کسی اَور جگہ نہ جانا۔ 37 جس دن آپ باہر نکلے اور وادیِ‌قِدرون پار کی، یقین مانو، آپ کو اُسی دن مار ڈالا جائے گا۔ آپ کا خون آپ کے اپنے سر پر ہوگا۔“‏ 38 سِمعی نے بادشاہ کو جواب دیا:‏ ”‏آپ نے جو کہا ہے، وہ بالکل جائز ہے۔ آپ کا خادم ویسے ہی کرے گا جیسے میرے مالک بادشاہ سلامت نے فرمایا ہے۔“‏ اِس لیے سِمعی کافی عرصے تک یروشلم میں ہی رہا۔‏

39 لیکن تین سال بعد سِمعی کے دو غلام بھاگ کر جات کے بادشاہ اَکیس کے پاس چلے گئے جو معکہ کا بیٹا تھا۔ سِمعی کو بتایا گیا:‏ ”‏دیکھیں، آپ کے غلام جات میں ہیں۔“‏ 40 تب سِمعی نے فوراً اپنے گدھے پر زِین کَسی اور اپنے غلاموں کو ڈھونڈنے جات میں اَکیس کے پاس گیا۔ جب سِمعی اپنے غلاموں کے ساتھ جات سے واپس آیا 41 تو سلیمان کو بتایا گیا:‏ ”‏سِمعی یروشلم سے باہر جات گیا تھا اور اب وہ واپس آ گیا ہے۔“‏ 42 تب بادشاہ نے سِمعی کو بُلایا اور اُس سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں نے آپ کو یہوواہ کی قسم دِلا کر خبردار نہیں کِیا تھا کہ ”‏جس دن آپ یہاں سے نکل کر کسی اَور جگہ جاؤ گے، یقین مانو، آپ کو اُسی دن مار ڈالا جائے گا“‏؟ اور کیا آپ نے مجھ سے نہیں کہا تھا کہ ”‏جو آپ نے کہا ہے، وہ بالکل جائز ہے۔ مَیں آپ کی بات مانوں گا“‏؟ 43 تو پھر آپ اُس قسم پر قائم کیوں نہیں رہے جو مَیں نے آپ کو یہوواہ کے نام سے دِلائی تھی اور اُس حکم کی پابندی کیوں نہیں کی جو مَیں نے آپ کو دیا تھا؟“‏ 44 پھر بادشاہ نے سِمعی سے کہا:‏ ”‏آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ آپ نے میرے والد داؤد کے ساتھ کتنا بُرا کِیا تھا۔ اب یہوواہ آپ کو اُس بُرائی کا بدلہ دے گا۔ 45 لیکن بادشاہ سلیمان کو برکت ملے گی اور داؤد کا تخت یہوواہ کے حضور ہمیشہ مضبوطی سے قائم رہے گا۔“‏ 46 یہ کہہ کر بادشاہ نے یہویدع کے بیٹے بِنایاہ کو حکم دیا جس پر اُنہوں نے جا کر سِمعی پر وار کِیا اور وہ مر گیا۔‏

اِس طرح سلیمان کے ہاتھوں میں سلطنت مضبوطی سے قائم ہو گئی۔‏

3 سلیمان نے مصر کے بادشاہ فِرعون کے ساتھ رشتے‌داری کر کے اُس سے گٹھ‌جوڑ کر لیا۔ اُنہوں نے فِرعون کی بیٹی سے شادی کر لی اور اُسے تب تک داؤد کے شہر میں رکھا جب تک اُن کے گھر، یہوواہ کے گھر اور یروشلم کے گِرد دیوار کی تعمیر مکمل نہیں ہو گئی۔ 2 لیکن لوگ ابھی تک اُونچی جگہوں پر قربانیاں پیش کر رہے تھے کیونکہ اُس وقت تک یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے کوئی گھر نہیں بنایا گیا تھا۔ 3 سلیمان اپنے والد داؤد کے قوانین پر عمل کرنے سے یہوواہ کے لیے محبت ظاہر کرتے رہے۔ لیکن وہ اُونچی جگہوں پر قربانیاں اور نذرانے پیش کرتے تھے تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔‏

4 بادشاہ سلیمان قربانیاں پیش کرنے جِبعون گئے کیونکہ وہ اُونچی جگہ سب سے خاص*‏ تھی۔سلیمان نے وہاں قربان‌گاہ پر 1000 بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کیں۔ 5 جِبعون میں یہوواہ رات کو ایک خواب میں سلیمان پر ظاہر ہوا اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏بتاؤ مَیں تمہیں کیا دوں؟“‏ 6 اِس پر سلیمان نے کہا:‏ ”‏تُو نے اپنے بندے اور میرے والد داؤد کے لیے عظیم اٹوٹ محبت ظاہر کی ہے کیونکہ وہ وفاداری، نیکی اور سچے دل سے تیری راہوں پر چلتے رہے۔ تُو آج بھی اُن سے عظیم اٹوٹ محبت کرتا ہے۔ اِسی لیے تُو نے اُنہیں ایک بیٹا دیا جو اُن کے تخت پر بیٹھے۔ 7 اب میرے خدا یہوواہ!‏ تُو نے اپنے اِس بندے کو میرے والد داؤد کی جگہ بادشاہ بنایا ہے حالانکہ مَیں کم‌عمر*‏ ہوں اور ناتجربہ‌کار ہوں۔‏*‏ 8 تیرا یہ بندہ اُن لوگوں میں شامل ہے جنہیں تُو نے چُنا ہے، اُن لوگوں میں جو اِتنے زیادہ ہیں کہ اُنہیں گنا نہیں جا سکتا۔ 9 کون اِس لائق ہے کہ تیری اِس بڑی*‏ قوم کا اِنصاف کر سکے؟ اِس لیے اپنے بندے کو ایک فرمانبردار دل عطا کر تاکہ مَیں تیرے بندوں کا اِنصاف کر سکوں اور اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکوں۔“‏

10 یہوواہ سلیمان کی یہ درخواست سُن کر خوش ہوا۔ 11 خدا نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم نے اپنے لیے لمبی عمر، دولت یا اپنے دُشمنوں کی موت*‏ نہیں مانگی بلکہ سمجھ‌داری مانگی تاکہ تُم مُقدموں کا صحیح فیصلہ کر سکو۔‏*‏ 12 اِس لیے مَیں تمہاری درخواست پوری کروں گا۔ مَیں تمہیں دانش اور سمجھ سے بھرا دل عطا کروں گا تاکہ جیسے پہلے کبھی تُم جیسا کوئی نہیں ہوا، آئندہ بھی تُم جیسا کوئی نہ ہو۔ 13 اِس کے ساتھ ساتھ مَیں تمہیں وہ بھی دوں گا جس کی تُم نے درخواست نہیں کی یعنی دولت اور شان‌وشوکت تاکہ تمہاری زندگی میں تُم جیسا کوئی اَور بادشاہ نہ ہو۔ 14 اگر تُم اپنے باپ داؤد کی طرح میرے معیاروں اور حکموں پر عمل کرو گے اور میری راہوں پر چلو گے تو مَیں تمہیں لمبی زندگی بھی دوں گا۔“‏*‏

15 جب سلیمان جاگے تو اُنہیں احساس ہوا کہ یہ ایک خواب تھا۔ پھر وہ یروشلم گئے اور یہوواہ کے عہد کے صندوق کے سامنے کھڑے ہوئے اور بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح*‏ والی قربانیاں پیش کیں اور اپنے سب خادموں کے لیے ایک ضیافت رکھی۔‏

16 بعد میں دو فاحشائیں بادشاہ کے پاس آئیں اور اُس کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ 17 ایک عورت نے کہا:‏ ”‏میرے مالک!‏ مَیں اور یہ عورت ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ میرا بچہ پیدا ہوا اور اُس وقت یہ بھی گھر پر ہی تھی۔ 18 میرا بچہ ہونے کے بعد تیسرے دن اِس عورت کا بھی بچہ پیدا ہوا۔ اُس وقت صرف ہم دونوں گھر پر تھیں۔ ہمارے سوا کوئی اَور نہیں تھا۔ 19 رات کو اِس کا بچہ مر گیا کیونکہ یہ اُس کے اُوپر لیٹ گئی تھی۔ 20 پھر یہ آدھی رات کو اُٹھی جب آپ کی یہ غلام سو رہی تھی۔ اِس نے میرے بیٹے کو میرے پاس سے اُٹھا کر اپنے پاس سُلا لیا اور اپنے مرے ہوئے بیٹے کو میرے پاس لِٹا دیا۔ 21 جب مَیں صبح اپنے بیٹے کو دودھ پلانے کے لیے اُٹھی تو مَیں نے دیکھا کہ وہ مرا ہوا ہے۔ جب مَیں نے اُسے غور سے دیکھا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے جسے مَیں نے جنم دیا تھا۔“‏ 22 لیکن دوسری عورت نے کہا:‏ ”‏نہیں، زندہ بچہ میرا بیٹا ہے اور مرا ہوا بچہ تمہارا بیٹا ہے!‏“‏ مگر پہلی عورت نے کہا:‏ ”‏نہیں، مرا ہوا بچہ تمہارا بیٹا ہے اور زندہ بچہ میرا بیٹا ہے۔“‏ اِس طرح وہ بادشاہ کے سامنے بحث کرنے لگیں۔‏

23 آخرکار بادشاہ نے کہا:‏ ”‏ایک کہتی ہے:‏ ”‏زندہ بچہ میرا بیٹا ہے اور مرا ہوا بچہ تمہارا بیٹا ہے!‏“‏ اور دوسری کہتی ہے:‏ ”‏نہیں، مرا ہوا بچہ تمہارا بیٹا ہے اور زندہ بچہ میرا بیٹا ہے!‏“‏“‏ 24 پھر بادشاہ نے کہا:‏ ”‏میرے پاس ایک تلوار لاؤ۔“‏ بادشاہ کے پاس ایک تلوار لائی گئی۔ 25 تب بادشاہ نے کہا:‏ ”‏زندہ بچے کے دو ٹکڑے کر دو۔ آدھا بچہ ایک عورت کو دے دو اور آدھا دوسری کو۔“‏ 26 یہ سنتے ہی زندہ بچے کی اصلی ماں بادشاہ سے مِنت‌سماجت کرنے لگی کیونکہ اُس کے دل میں اپنے بیٹے کے لیے ممتا اُبلنے لگی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏میرے مالک!‏ مَیں آپ کی مِنت کرتی ہوں کہ اِسے نہ ماریں۔ اِسے اِس عورت کو دے دیں۔“‏ لیکن دوسری عورت نے کہا:‏ ”‏یہ نہ مجھے ملے گا اور نہ تمہیں!‏ کر دیں اِس کے دو ٹکڑے!‏“‏ 27 اِس پر بادشاہ نے کہا:‏ ”‏بچے کو نہ مارو!‏ اِسے پہلی عورت کو دے دو کیونکہ وہی اِس کی ماں ہے۔“‏

28 سارے اِسرائیل نے بادشاہ کے اِس فیصلے کے بارے میں سنا اور وہ بادشاہ کا گہرا احترام کرنے لگے*‏ کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ خدا نے اُسے اِنصاف کرنے کے لیے دانش‌مندی دی ہے۔‏

4 بادشاہ سلیمان سارے اِسرائیل پر حکمرانی کرتے تھے۔ 2 اُن کے اعلیٰ عہدےداروں*‏ کے نام یہ تھے:‏ صدوق کے بیٹے عزریاہ کاہن تھے؛ 3 شِیشا کے بیٹے اِلی‌حورِف اور اخیاہ مُنشی تھے؛ اخی‌لُود کے بیٹے یہوسفط شاہی تاریخ‌نویس تھے؛ 4 یہویدع کے بیٹے بِنایاہ فوج کے سربراہ تھے؛ صدوق اور ابی‌آتر کاہن تھے؛ 5 ناتن کے بیٹے عزریاہ نگرانوں کے سربراہ تھے؛ ناتن کے بیٹے زبُود کاہن تھے اور بادشاہ کے دوست تھے؛ 6 اخی‌سر شاہی گھرانے کے نگران تھے اور عبدا کے بیٹے ادونرام اُن کے سربراہ تھے جنہیں بادشاہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔‏

7 سلیمان نے سارے اِسرائیل میں 12 نگران مقرر کیے جو بادشاہ اور اُس کے گھرانے کے لیے کھانے کا اِنتظام کرتے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک کی ذمے‌داری تھی کہ وہ سال میں ایک ایک مہینہ کھانے کا اِنتظام کرے۔ 8 اُن کے نام یہ تھے:‏ حُور کا بیٹا جس کے تحت اِفرائیم کا پہاڑی علاقہ تھا؛ 9 دِقر کا بیٹا جس کے تحت مقص، سعلبیم، بیت‌شمس اور اِیلون‌بیت‌حنان کا علاقہ تھا؛ 10 حصد کا بیٹا جس کے تحت ارُبوّت کا علاقہ تھا (‏اُس کے تحت شوکہ اور حفر کا سارا علاقہ تھا)‏؛ 11 ابی‌نداب کا بیٹا جس کے تحت دور کی ساری ڈھلانیں تھیں (‏سلیمان کی بیٹی طافت کی شادی اُس سے ہوئی)‏؛ 12 اخی‌لُود کے بیٹے بعنہ جن کے تحت تعنک، مجِدّو اور بیت‌شان کا سارا علاقہ تھا جو ضرتان کے پاس اور یزرعیل سے نیچے ہے اور بیت‌شان سے ابیل‌محولہ تک اور وہاں سے یُقمعام تک کا علاقہ تھا؛ 13 جبر کا بیٹا جس کے تحت رامات‌جِلعاد کا علاقہ تھا (‏اُس کے تحت منسّی کے بیٹے یائیر کی خیمہ بستیاں تھیں جو جِلعاد میں ہیں؛ اُس کے تحت ارجوب کا علاقہ بھی تھا جو بسن میں ہے یعنی 60 بڑے قلعہ‌بند شہر جن کے دروازوں پر تانبے کے کُنڈے لگے ہوئے تھے)‏؛ 14 اِدّو کے بیٹے اخی‌نداب جن کے تحت محنایم کا علاقہ تھا؛ 15 اخی‌معض جن کے تحت نفتالی کا علاقہ تھا (‏اُن کی شادی سلیمان کی بیٹی بشامتھ سے ہوئی)‏؛ 16 حُوسی کے بیٹے بعنہ جن کے تحت آشر اور بعلوت کا علاقہ تھا؛ 17 فروح کے بیٹے یہوسفط جن کے تحت اِشّکار کا علاقہ تھا؛ 18 اِیلہ کے بیٹے سِمعی جن کے تحت بِنیامین کا علاقہ تھا؛ 19 اُوری کے بیٹے جبر جن کے تحت جِلعاد کا علاقہ تھا جس پر پہلے اموریوں کے بادشاہ سیحون اور بسن کے بادشاہ عوج کی حکومت تھی۔ ملک کے اِن سب نگرانوں کے اُوپر بھی ایک نگران تھا۔‏

20 یہوداہ اور اِسرائیل کے لوگوں کی تعداد ساحل کی ریت کے ذرّوں کی طرح بے‌شمار تھی۔ اُنہیں کھانے پینے کی چیزوں کی کوئی کمی نہیں تھی اور وہ ایک خوش‌باش زندگی گزار رہے تھے۔‏

21 سلیمان کی حکمرانی بڑے دریا*‏ سے لے کر فِلِستیوں کے علاقے اور مصر کی سرحد تک کی ساری سلطنتوں پر تھی۔ وہ لوگ سلیمان کی پوری زندگی اُنہیں خراج دیتے رہے اور اُن کے خدمت‌گزار رہے۔‏

22 سلیمان کے محل میں ہر روز کھانے کے لیے یہ چیزیں اِستعمال ہوتی تھیں:‏ 30 کور*‏ میدہ، 60 کور*‏ آٹا، 23 10 موٹے تازے گائے بیل، چراگاہوں میں چرنے والے 20 گائے بیل، 100 بھیڑیں اور کچھ ہِرن، غزال،‏*‏ چھوٹے ہِرن اور موٹے‌تازے کوئل۔ 24 سلیمان کے اِختیار میں بڑے دریا کے اِس پار*‏ کے سارے علاقے تھے یعنی تِفسح سے غزہ تک۔ بڑے دریا کے اِس پار کے سب بادشاہ اُن کے ماتحت تھے اور اُن کے آس‌پاس کے سب علاقوں میں امن تھا۔ 25 سلیمان کی ساری حکمرانی کے دوران دان سے بِیرسبع تک یہوداہ اور اِسرائیل کے سبھی لوگ اپنی اپنی انگور کی بیل اور اپنے اپنے اِنجیر کے درخت کے نیچے سلامتی سے رہ رہے تھے۔‏

26 سلیمان کے پاس اپنے رتھوں کے گھوڑوں کے لیے 4000‏* اِصطبل تھے اور 12 ہزار گھوڑے*‏ تھے۔‏

27 یہ نگران بادشاہ سلیمان اور اُن کی میز پر کھانے والے ہر شخص کے لیے کھانے کا اِنتظام کرتے تھے۔ ہر مہینے جس نگران کی ذمے‌داری ہوتی تھی، وہ اِس بات کا خیال رکھتا تھا کہ کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ 28 وہ اپنی اپنی ذمے‌داری کے مطابق جہاں کہیں بھی ضرورت ہوتی تھی، گھوڑوں اور رتھ کھینچنے والے گھوڑوں کے لیے جَو اور بھوسے کا بھی اِنتظام کرتے تھے۔‏

29 خدا نے سلیمان کو بے‌اِنتہا دانش‌مندی اور سُوجھ‌بُوجھ عطا کی اور اُنہیں اِتنا وسیع*‏ دل دیا جو ساحل کی ریت کی طرح تھا۔ 30 سلیمان کی دانش‌مندی مشرق کے سب لوگوں اور مصر کے سب لوگوں کی دانش‌مندی سے کہیں زیادہ تھی۔ 31 وہ سب اِنسانوں سے زیادہ دانش‌مند تھے۔ وہ اِیتان اِزراخی اور محول کے بیٹوں ہیمان، کل‌کول اور دردع سے زیادہ دانش‌مند تھے۔ اُن کی شہرت آس‌پاس کی سب قوموں میں پھیل گئی۔ 32 اُنہوں نے 3000 اَمثال*‏ کہیں اور اُن کے گیتوں کی تعداد 1005 تھی۔ 33 وہ درختوں کے بارے میں بات کرتے تھے یعنی لبنان کے دیوداروں سے لے کر زوفا کے بارے میں جو دیواروں پر اُگتا ہے۔ وہ جانوروں، پرندوں،‏*‏ رینگنے والے جانوروں، کیڑے مکوڑوں اور مچھلیوں کے بارے میں بھی بات کرتے تھے۔ 34 سب لوگ سلیمان کی دانش‌بھری باتیں سننے آتے تھے۔ اِن میں ساری زمین کے وہ بادشاہ بھی شامل ہوتے تھے جنہوں نے اُن کی دانش‌مندی کے بارے میں سنا ہوتا تھا۔‏

5 جب صُور کے بادشاہ حِیرام نے سنا کہ سلیمان کو اُن کے والد داؤد کی جگہ بادشاہ کے طور پر مسح*‏ کِیا گیا ہے تو اُنہوں نے اپنے خادموں کو سلیمان کے پاس بھیجا کیونکہ حِیرام ہمیشہ سے داؤد کے دوست رہے تھے۔‏*‏ 2 اِس پر سلیمان نے حِیرام کے پاس یہ پیغام بھیجا:‏ 3 ‏”‏آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے والد داؤد اپنے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے گھر نہیں بنا سکے کیونکہ اُن کے خلاف ہر طرف سے جنگیں ہوتی رہیں جب تک کہ یہوواہ نے اُن کے دُشمنوں کو اُن کے پاؤں کے تلوے کے نیچے نہیں کر دیا۔ 4 لیکن اب میرے خدا یہوواہ نے مجھے ہر طرف سے امن‌وسکون بخشا ہے۔ نہ تو کوئی میرے خلاف ہے اور نہ ہی کچھ بُرا ہو رہا ہے۔ 5 اِس لیے مَیں نے اِرادہ کِیا ہے کہ مَیں اپنے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بناؤں گا جیسے یہوواہ نے میرے والد داؤد سے وعدہ کِیا تھا کہ ”‏مَیں تمہارے بعد تمہارے جس بیٹے کو تمہارے تخت پر بٹھاؤں گا، وہی میرے نام کی بڑائی کے لیے گھر بنائے گا۔“‏ 6 اب اپنے لوگوں کو حکم دیں کہ وہ میرے لیے لبنان کے دیودار کاٹیں۔ میرے خادم آپ کے خادموں کے ساتھ کام کریں گے اور مَیں آپ کے خادموں کو اُتنی ہی مزدوری دوں گا جتنی آپ طے کریں گے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو بھی صیدانیوں کی طرح درخت کاٹنے نہیں آتے۔“‏

7 جب حِیرام نے سلیمان کی باتیں سنیں تو وہ بہت خوش ہوئے اور اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آج یہوواہ کی بڑائی ہو کیونکہ اُس نے اِس بڑی قوم پر حکمرانی کرنے کے لیے داؤد کو ایک دانش‌مند بیٹا دیا!‏“‏ 8 پھر حِیرام نے سلیمان کو یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏مجھے آپ کا پیغام مل گیا ہے۔ مَیں وہ سب کروں گا جو آپ چاہتے ہیں۔ مَیں آپ کو دیودار اور صنوبر کی لکڑی فراہم کروں گا۔ 9 میرے خادم اُسے لبنان سے نیچے سمندر تک لائیں گے اور مَیں اُس کے لٹھے بنوا کر اُسے سمندر کے راستے اُس جگہ بھجوا دوں گا جو آپ کہیں گے۔ وہاں مَیں اُن لٹھوں کو کھلوا دوں گا اور پھر آپ اُنہیں وہاں سے لے جانا۔ بدلے میں آپ میری درخواست کے مطابق میرے گھرانے کے لیے کھانے پینے کا اِنتظام کر دینا۔“‏

10 اِس لیے حِیرام نے سلیمان کو دیودار اور صنوبر کی اُتنی لکڑی فراہم کی جتنی اُنہوں نے مانگی۔ 11 سلیمان نے حِیرام کے گھرانے کی خوراک کے لیے 20 ہزار کور*‏ گندم اور 20 کور*‏ زیتون کا خالص تیل بھیجا۔ سلیمان ہر سال حِیرام کو یہ چیزیں دیا کرتے تھے۔ 12 یہوواہ نے اپنے وعدے کے مطابق سلیمان کو دانش‌مندی عطا کی۔ سلیمان اور حِیرام کے بیچ صلح تھی اور اُن دونوں نے ایک دوسرے سے ایک عہد باندھا۔‏*‏

13 بادشاہ سلیمان کے حکم پر بادشاہ کی خدمت کے لیے سارے اِسرائیل میں سے 30 ہزار آدمیوں کو بُلایا گیا۔ 14 وہ اُن میں سے دس دس ہزار آدمیوں کو ہر مہینے باری باری لبنان بھیجتے تھے۔ وہ آدمی ایک مہینہ لبنان میں رہتے تھے اور دو مہینے اپنے اپنے گھروں میں۔ ادونرام اُن کے سربراہ تھے جنہیں بادشاہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ 15 سلیمان کے 70 ہزار عام*‏ مزدور تھے اور 80 ہزار ایسے مزدور تھے جو پہاڑوں میں پتھر کاٹتے تھے۔ 16 اِس کے ساتھ ساتھ سلیمان نے 3300 نگران بھی مقرر کیے جو کام کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے۔ 17 اُنہوں نے بادشاہ کے حکم پر پہاڑوں سے بڑے بڑے قیمتی پتھر کاٹے تاکہ تراشے ہوئے پتھروں سے خدا کے گھر کی بنیاد رکھی جا سکے۔ 18 اِس طرح سلیمان کے مستریوں، حِیرام کے مستریوں اور جِبلیوں نے کٹائی کا کام کِیا اور خدا کا گھر بنانے کے لیے لکڑی اور پتھر تیار کیے۔‏

6 بنی‌اِسرائیل کے مصر سے نکلنے کے بعد 480ویں سال میں یعنی سلیمان کے بادشاہ بننے کے بعد چوتھے سال میں زِیو*‏ کے مہینے میں (‏جو کہ دوسرا مہینہ ہے)‏ سلیمان نے یہوواہ کے گھر*‏ کی تعمیر شروع کی۔ 2 بادشاہ سلیمان نے یہوواہ کے لیے جو گھر بنایا، اُس کی لمبائی 60 ہاتھ،‏*‏ چوڑائی 20 ہاتھ اور اُونچائی 30 ہاتھ تھی۔ 3 ہیکل*‏ کے سامنے والی ڈیوڑھی کی چوڑائی*‏ 20 ہاتھ تھی جو کہ گھر کی چوڑائی کے برابر تھی۔ گھر کے سامنے سے ناپنے پر اُس کی لمبائی 10 ہاتھ تھی۔‏

4 اُنہوں نے گھر میں ایسی کھڑکیاں بنوائیں جو اندر کی طرف بڑی اور باہر کی طرف چھوٹی تھیں۔ 5 اِس کے علاوہ اُنہوں نے گھر کی دیوار کے ساتھ ایک اِضافی عمارت بھی بنوائی جو گھر کی دیواروں یعنی ہیکل*‏ اور سب سے اندر والے کمرے*‏ کے گِرد تھی۔ اُنہوں نے اُس اِضافی عمارت میں ہر طرف کمرے بنوائے۔ 6 اُن کمروں کی سب سے نچلی منزل کی چوڑائی پانچ ہاتھ تھی، بیچ والی منزل کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور تیسری منزل کی چوڑائی سات ہاتھ تھی۔ اُنہوں نے گھر کی چاروں طرف طاقیں بنوائیں تاکہ شہتیروں کو گھر کی دیواروں کے ساتھ جوڑنے کی بجائے اُن پر ٹکایا جا سکے۔‏

7 گھر کو تراشے ہوئے پتھروں سے بنایا گیا جنہیں پہلے سے تیار کِیا گیا تھا۔ اِس لیے اُس کی تعمیر کے دوران ہتھوڑے، کلہاڑے یا لوہے کے کسی اَور اوزار کی آواز سنائی نہیں دی۔ 8 اِضافی عمارت کی نچلی منزل کا دروازہ گھر کی جنوبی*‏ طرف تھا۔ گول سیڑھیاں بیچ والی منزل تک جاتی تھیں اور بیچ والی منزل سے تیسری منزل تک۔ 9 سلیمان نے گھر کی تعمیر جاری رکھی اور اُسے ختم کِیا۔ گھر کی چھت میں دیودار کے شہتیر اور تختے لگائے گئے۔ 10 اُنہوں نے گھر کے گِرد جو کمرے بنوائے، اُن میں ہر ایک پانچ ہاتھ اُونچا تھا اور دیودار کی لکڑی سے گھر سے جُڑا ہوا تھا۔‏

11 اِس دوران یہوواہ کا یہ کلام سلیمان تک پہنچا:‏ 12 ‏”‏اگر تُم میرے قوانین اور معیاروں پر چلو گے اور میرے سب حکموں کو مانو گے تو مَیں اپنا وہ وعدہ پورا کروں گا جو مَیں نے تمہارے باپ داؤد سے کِیا تھا، خاص طور پر وہ وعدہ جو اِس گھر کے بارے میں تھا جسے تُم بنا رہے ہو 13 اور مَیں اِسرائیلیوں کے بیچ رہوں گا اور اپنی قوم اِسرائیل کو ترک نہیں کروں گا۔“‏

14 سلیمان نے خدا کے گھر کی تعمیر جاری رکھی تاکہ اُسے ختم کر سکیں۔ 15 اُنہوں نے گھر کے اندر کی دیواریں دیودار کے تختوں سے بنوائیں۔ اُنہوں نے اندر کی دیواروں پر فرش سے لے کر چھت کے شہتیروں تک لکڑی اِستعمال کی اور گھر کے فرش پر صنوبر کے تختے لگوائے۔ 16 اُنہوں نے گھر کے اندر پچھلی طرف 20 ہاتھ کا ایک حصہ بنوایا اور اُس میں فرش سے لے کر شہتیروں تک دیودار کے تختے لگائے۔ اُنہوں نے اُس میں*‏ سب سے اندر والا کمرا یعنی مُقدس‌ترین خانہ بنوایا۔ 17 اُس سے آگے والے حصے یعنی ہیکل*‏ کی لمبائی 40 ہاتھ تھی۔ 18 گھر کے اندر دیودار کی لکڑی پر کدو اور کِھلے ہوئے پھول کندہ تھے۔ ہر طرف دیودار کی لکڑی لگی تھی اِس لیے کوئی بھی پتھر نظر نہیں آتا تھا۔‏

19 سلیمان نے گھر میں سب سے اندر والا کمرا تیار کرایا تاکہ وہاں یہوواہ کے عہد کا صندوق رکھا جا سکے۔ 20 اُس کمرے کی لمبائی 20 ہاتھ، چوڑائی 20 ہاتھ اور اُونچائی 20 ہاتھ تھی۔ اُنہوں نے اُس پر خالص سونے کی پرت لگوائی اور قربان‌گاہ پر دیودار کی لکڑی لگوائی۔ 21 سلیمان نے گھر کے اندر کی طرف خالص سونے کی پرت لگوائی اور سب سے اندر والے کمرے کے سامنے جس پر سونے کی پرت لگائی گئی تھی، سونے کی زنجیریں لگوائیں۔ 22 اُنہوں نے پورے کے پورے گھر میں سونے کی پرتیں لگوائیں۔ اُنہوں نے اُس پوری قربان‌گاہ پر بھی سونے کی پرت لگوائی جو سب سے اندر والے کمرے کے نزدیک تھی۔‏

23 اُنہوں نے سب سے اندر والے کمرے میں چیڑ کی لکڑی*‏ سے دو کروبی بنوائے۔ ہر کروبی کی اُونچائی دس ہاتھ تھی۔ 24 ایک کروبی کے ایک پَر کی لمبائی پانچ ہاتھ تھی اور دوسرے پَر کی لمبائی بھی پانچ ہاتھ تھی۔ ایک پَر کے سِرے سے دوسرے پَر کے سِرے کا فاصلہ دس ہاتھ تھا۔ 25 دوسرے کروبی کے پَروں کا فاصلہ بھی دس ہاتھ تھا۔ دونوں کروبی ایک ہی ناپ اور شکل کے تھے۔ 26 دونوں کروبیوں کی اُونچائی دس دس ہاتھ تھی۔ 27 پھر اُنہوں نے دونوں کروبیوں کو گھر کے اندر والے کمرے میں رکھوا دیا۔ کروبیوں کے پَروں کو اِس طرح پھیلایا گیا تھا کہ ایک کروبی کا ایک پَر ایک دیوار کو چُھو رہا تھا اور دوسرے کروبی کا ایک پَر دوسری دیوار کو چُھو رہا تھا۔ اُن کے باقی دونوں پَر کمرے کے بیچ کی طرف اِس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ وہ ایک دوسرے کو چُھو رہے تھے۔ 28 اور اُنہوں نے کروبیوں پر سونے کی پرت لگوائی۔‏

29 اُنہوں نے گھر کے اندر اور باہر والے کمروں*‏ کی سب دیواروں پر کروبی، کھجور کے درخت اور کِھلے ہوئے پھول کندہ کرائے۔ 30 اُنہوں نے گھر کے اندر اور باہر والے کمروں کے فرش پر سونے کی پرت لگوائی۔ 31 اُنہوں نے سب سے اندر والے کمرے میں داخل ہونے کے لیے چیڑ کی لکڑی کے دروازے، ستون اور چوکھٹیں بنوائیں جو پانچواں حصہ*‏ تھا۔ 32 دو دروازے چیڑ کی لکڑی سے بنائے گئے اور اُنہوں نے اُن پر کروبی، کھجور کے درخت اور کِھلے ہوئے پھول کندہ کرائے۔ اُنہوں نے اُن پر سونے کی پرتیں لگوائیں۔ کروبیوں اور کھجور کے درختوں پر ہتھوڑے سے پِیٹ پِیٹ کر سونا لگایا گیا۔ 33 اِسی طرح اُنہوں نے ہیکل*‏ کے اندر جانے کے لیے چیڑ کی لکڑی کی چوکھٹیں بھی بنوائیں جو کہ چوتھا حصہ*‏ تھا۔ 34 اُنہوں نے صنوبر کی لکڑی کے دو دروازے بنوائے۔ ایک دروازے کے دو پلّے تھے جو قبضوں سے مُڑ کر دُہرے ہو جاتے تھے اور دوسرے دروازے کے بھی دو پلّے تھے جو قبضوں سے مُڑ کر دُہرے ہو جاتے تھے۔ 35 اُنہوں نے دروازوں پر کروبی، کھجور کے درخت اور کِھلے ہوئے پھول کندہ کرائے اور اُن پر سونے کی پرتیں لگوائیں۔‏

36 اُنہوں نے تراشے ہوئے پتھروں کی تین قطاروں اور دیودار کے شہتیروں کی ایک قطار سے اندرونی صحن بنوایا۔‏

37 چوتھے سال میں زِیو*‏ کے مہینے میں یہوواہ کے گھر کی بنیاد ڈالی گئی 38 اور گیارہویں سال میں بُول*‏ کے مہینے میں (‏جو کہ آٹھواں مہینہ ہے)‏ اِس گھر کی تعمیر نقشے کے عین مطابق مکمل ہوئی اور اِس دوران ہر باریکی کا خیال رکھا گیا۔ سلیمان کو اِسے بنانے میں سات سال لگے۔‏

7 سلیمان نے اپنے لیے ایک محل بنوایا اور اُسے مکمل کرنے میں اُنہیں 13 سال لگے۔‏

2 سلیمان نے ایک گھر بنوایا جو لبنان کے جنگل کا گھر کہلاتا ہے۔ اُس کی لمبائی 100 ہاتھ،‏*‏ چوڑائی 50 ہاتھ اور اُونچائی 30 ہاتھ تھی۔ اُسے دیودار کے ستونوں کی چار قطاروں پر کھڑا کِیا گیا اور ستونوں کے اُوپر دیودار کے شہتیر ڈالے گئے۔ 3 ستونوں کے اُوپر گارڈر بھی رکھے گئے جن پر دیودار کے تختے لگائے گئے۔ اُن کی تعداد 45 تھی یعنی ہر قطار میں 15۔ 4 اُس گھر میں چوکھٹ والی کھڑکیوں کی تین قطاریں تھیں جو اُوپر نیچے تھیں۔ ہر کھڑکی کے سامنے ایک اَور کھڑکی تھی۔ 5 سارے دروازے اور اُن کی چوکھٹیں چوکور*‏ تھیں جیسے وہ کھڑکیاں چوکور تھیں جو تین قطاروں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں۔‏

6 اُنہوں نے ایک برآمدہ بھی بنوایا جسے ستونوں کا برآمدہ*‏ کہا جاتا تھا۔ اُس کی لمبائی 50 ہاتھ اور چوڑائی 30 ہاتھ تھی۔ اُس کے سامنے ایک ڈیوڑھی تھی جس میں ستون تھے اور ایک چھجا بھی تھا۔‏

7 اُنہوں نے ایک اَور برآمدہ بھی بنوایا جہاں وہ عدالت کر سکیں۔ اُسے تخت کا برآمدہ*‏ یا عدالت کا برآمدہ کہا جاتا تھا۔ اُنہوں نے اُس میں فرش سے شہتیروں تک دیودار کے تختے لگوائے۔‏

8 جس محل میں اُنہوں نے رہنا تھا، اُسے اُس برآمدے*‏ کے پیچھے دوسرے صحن میں بنایا گیا اور اُسے اُسی برآمدے کی طرح بنایا گیا۔ سلیمان نے اُس برآمدے جیسا ایک محل فِرعون کی بیٹی کے لیے بھی بنوایا جس سے اُنہوں نے شادی کی تھی۔‏

9 سبھی عمارتوں کو بنیاد سے لے کر اُوپر تک اور باہر بڑے صحن تک قیمتی پتھروں سے بنایا گیا جنہیں ناپ کے مطابق کاٹا گیا تھا اور اندر اور باہر سے پتھر کاٹنے کے آرے سے تراشا گیا تھا۔ 10 عمارتوں کی بنیاد بہت بڑے اور قیمتی پتھروں سے ڈالی گئی۔ کچھ پتھر دس ہاتھ کے تھے اور کچھ آٹھ ہاتھ کے۔ 11 اِن کے اُوپر قیمتی پتھر لگائے گئے جنہیں ناپ کے مطابق تراشا گیا تھا اور دیودار کی لکڑی بھی لگائی گئی۔ 12 بڑے صحن کے گِرد تراشے ہوئے پتھروں کے تین ردّے تھے اور دیودار کے شہتیروں کا ایک ردّا تھا جیسے یہوواہ کے گھر کے اندرونی صحن اور گھر کی ڈیوڑھی میں تھا۔‏

13 بادشاہ سلیمان نے صُور سے حِیرام کو بُلوایا۔ 14 وہ نفتالی کے قبیلے کی ایک بیوہ کے بیٹے تھے اور اُن کے والد صُور سے تھے اور تانبے کا کام کرتے تھے۔ حِیرام تانبے*‏ کے ہر طرح کے کام کے ماہر تھے اور اِس کام کے حوالے سے کافی سمجھ اور تجربہ رکھتے تھے۔ وہ بادشاہ سلیمان کے پاس آئے اور اُن کا سارا کام کِیا۔‏

15 اُنہوں نے تانبے کو ڈھال کر دو ستون بنائے۔ ہر ستون کی لمبائی 18 ہاتھ تھی اور گھیرا 12 ہاتھ تھا۔‏*‏ 16 اُنہوں نے ستونوں پر رکھنے کے لیے تانبے کو ڈھال کر دو تاج بنائے۔ دونوں تاجوں کی اُونچائی پانچ پانچ ہاتھ تھی۔ 17 ہر ستون کے اُوپر تاج پر جالیاں تھیں جو لپٹی ہوئی زنجیروں سے بنی ہوئی تھیں، سات ایک تاج پر اور سات دوسرے تاج پر۔ 18 اُنہوں نے دونوں ستونوں کے اُوپر لگے تاجوں کو ڈھکنے کے لیے جالیوں کے گِرد اناروں کی دو دو قطاریں بنائیں۔ 19 ڈیوڑھی کے ستونوں کے تاج چار ہاتھ تک سوسن کے پھول کی طرح بنائے گئے تھے۔ 20 دونوں ستونوں کے تاج گول حصے کے بالکل اُوپر تھے جو جالی کے ساتھ تھا۔ ہر تاج کے گِرد قطاروں میں 200 انار تھے۔‏

21 اُنہوں نے ہیکل*‏ کی ڈیوڑھی میں ستون کھڑے کرائے۔ اُنہوں نے دائیں*‏ طرف ایک ستون کھڑا کرایا اور اُس کا نام یاکن*‏ رکھا اور پھر بائیں*‏ طرف ایک ستون کھڑا کرایا اور اُس کا نام بوعز*‏ رکھا۔ 22 ستونوں کا اُوپر والا حصہ سوسن کے پھولوں کی طرح بنایا گیا۔ اِس طرح ستونوں کا کام مکمل ہوا۔‏

23 پھر اُنہوں نے دھات کو ڈھال کر ایک بڑا سا حوض*‏ بنایا جو گول تھا۔ اُس کے مُنہ کی چوڑائی ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک 10 ہاتھ تھی۔ اُس کی اُونچائی 5 ہاتھ اور گھیرا 30 ہاتھ تھا۔‏*‏ 24 حوض کے مُنہ کے بالکل نیچے ہر طرف سجاوٹ کے لیے کدو بنائے گئے تھے۔ حوض کے گِرد ایک ایک ہاتھ کی جگہ پر دس دس کدوؤں کی دو قطاریں بنائی گئی تھیں جنہیں حوض کے ساتھ ہی ڈھال کر بنایا گیا تھا۔ 25 اُس حوض کو 12 بیلوں پر رکھا گیا تھا جن میں سے 3 کا رُخ شمال کی طرف تھا، 3 کا مغرب کی طرف، 3 کا جنوب کی طرف اور 3 کا مشرق کی طرف۔ سبھی بیلوں کے پچھلے حصوں کا رُخ اندر کی طرف تھا اور حوض کو اِن بیلوں پر ٹکایا گیا تھا۔ 26 حوض کی موٹائی چار اُنگل*‏ تھی۔ اُس کا مُنہ پیالے کے مُنہ کی طرح بنایا گیا تھا جو سوسن کے کِھلے ہوئے پھول کی طرح دِکھتا تھا۔ اُس میں 2000 بت*‏ پانی آ سکتا تھا۔‏

27 پھر اُنہوں نے تانبے کی دس ہتھ‌گاڑیاں*‏ بنائیں۔ ہر ہتھ‌گاڑی کی لمبائی چار ہاتھ، چوڑائی چار ہاتھ اور اُونچائی تین ہاتھ تھی۔ 28 ہتھ‌گاڑیوں کو اِس طرح بنایا گیا تھا:‏ اِن کی اطراف میں تختے لگائے گئے اور یہ تختے اُن سلاخوں کے بیچ میں لگائے گئے جو لمبائی اور چوڑائی کے رُخ لگی تھیں۔ 29 سلاخوں کے بیچ میں جو تختے تھے، اُن پر شیر، بیل اور کروبی بنائے گئے تھے اور یہی سب سلاخوں پر بھی بنایا گیا تھا۔ شیروں اور بیلوں کے اُوپر نیچے لٹکے ہوئے ہار جیسے بنائے گئے تھے۔ 30 ہر ہتھ‌گاڑی میں تانبے کے چار پہیے اور تانبے کے چار دُھرے*‏ تھے۔ گاڑی کے چار پائے تھے جو پہیوں اور دُھروں کو سہارا دیتے تھے۔ یہ پائے چھوٹے حوض کے نیچے اُسے بھی سہارا دیتے تھے۔ پایوں کی اطراف پر ہار بنائے گئے تھے جنہیں پایوں کے ساتھ ڈھالا گیا تھا۔ 31 حوض کا مُنہ ہتھ‌گاڑی کے اُوپر والے حصے کے اندر تھا اور ایک ہاتھ اُوپر کو نکلا ہوا تھا۔ ہتھ‌گاڑی کا مُنہ گول تھا اور اُس حصے کے ساتھ ملا کر ڈیڑھ ہاتھ اُونچا تھا جو حوض کو سہارا دیتا تھا۔ ہتھ‌گاڑی کے مُنہ پر نقش‌ونگار بنے تھے۔ ہتھ‌گاڑیوں کی اطراف میں جو تختے لگے تھے، وہ گول نہیں بلکہ چوکور تھے۔ 32 ہتھ‌گاڑی کے چاروں پہیے اطراف میں لگے تختوں کے نیچے تھے اور پہیوں کے دُھرے ہتھ‌گاڑی کے ساتھ جُڑے تھے۔ ہر پہیے کی اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ تھی۔ 33 پہیوں کو رتھ کے پہیوں کی طرح بنایا گیا تھا۔ اُن کے دُھرے، چکّے، ڈنڈے اور نافیں سب دھات کو ڈھال کر بنائے گئے تھے۔ 34 ہر ہتھ‌گاڑی کے چار کونوں میں چار پائے تھے۔ وہ پائے ہتھ‌گاڑی کے ساتھ ہی ڈھال کر بنائے گئے تھے۔ 35 ہر ہتھ‌گاڑی کے اُوپر ایک گول پتری تھی جس کی اُونچائی آدھا ہاتھ تھی۔ ہتھ‌گاڑی کے اُوپر والے حصے کی چوکھٹیں اور اُس کی اطراف میں لگے تختے ہتھ‌گاڑی کے ساتھ ہی ڈھالے گئے تھے۔ 36 اِس کی چوکھٹوں اور اطراف میں لگے تختوں پر جگہ کے حساب سے کروبی، شیر اور کھجور کے درخت کندہ کیے گئے اور ہر طرف ہار بنائے گئے۔ 37 اِس طرح اُنہوں نے دس ہتھ‌گاڑیاں بنائیں۔ اُن سب کو ایک ہی طرح سے ڈھالا گیا تھا اور وہ ایک ہی ناپ اور شکل کی تھیں۔‏

38 اُنہوں نے تانبے کے دس چھوٹے حوض بنائے۔ ہر حوض میں 40 بت پانی آ سکتا تھا اور ہر حوض چار ہاتھ کا تھا۔‏*‏ دس ہتھ‌گاڑیوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک ایک حوض تھا۔ 39 پھر اُنہوں نے پانچ ہتھ‌گاڑیاں گھر کی دائیں طرف اور پانچ گھر کی بائیں طرف رکھیں اور بڑے حوض کو گھر کی دائیں طرف جنوب مشرق میں رکھا۔‏

40 حِیرام نے چھوٹے حوض، بیلچے اور کٹورے بھی بنائے۔‏

اِس طرح حِیرام نے یہوواہ کے گھر کے حوالے سے بادشاہ سلیمان کا سارا کام مکمل کِیا۔ اُنہوں نے یہ چیزیں بنائیں:‏ 41 دو ستون، دو ستونوں کے اُوپر دو کٹورانما تاج، ستونوں کے اُوپر دو کٹورانما تاجوں کو ڈھکنے کے لیے دو جالیاں؛ 42 دو جالیوں کے لیے 400 انار یعنی ہر جالی کے لیے اناروں کی دو قطاریں تاکہ دو ستونوں کے دو کٹورانما تاجوں کو ڈھکا جا سکے؛ 43 دس ہتھ‌گاڑیاں اور اُن پر رکھنے کے لیے دس چھوٹے حوض؛ 44 بڑا حوض اور اُس کے نیچے 12 بیل؛ 45 راکھ‌دان، بیلچے، کٹورے اور باقی سب چیزیں جو حِیرام نے بادشاہ سلیمان کے کہنے پر یہوواہ کے گھر کے لیے چمکتے ہوئے تانبے سے بنائیں۔ 46 بادشاہ نے یہ چیزیں اُردن*‏ کے علاقے میں سُکات اور ضرتان کے بیچ مٹی کے سانچوں میں ڈھلوائیں۔‏

47 سلیمان نے اِن سب چیزوں کا وزن نہیں کِیا کیونکہ اِن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اِس لیے جو تانبا اِستعمال ہوا تھا، اُس کا وزن معلوم نہیں ہو سکا۔ 48 سلیمان نے یہوواہ کے گھر کے لیے یہ سب چیزیں بنوائیں:‏ سونے کی قربان‌گاہ؛ سونے کی میز جس پر نذرانے کی روٹی رکھی جاتی تھی؛ 49 خالص سونے کے شمع‌دان جن میں سے پانچ سب سے اندر والے کمرے کے سامنے دائیں طرف رکھے تھے اور پانچ بائیں طرف؛ سونے کے کِھلے ہوئے پھول، چراغ اور چمٹیاں؛ 50 خالص سونے کے چھوٹے حوض، بتی کاٹنے والی قینچیاں، کٹورے، پیالے اور کوئلہ‌دان اور اندر والے کمرے یعنی مُقدس‌ترین خانے کے دروازوں اور مُقدس خانے*‏ کے دروازوں کے لیے سونے کے قبضے۔‏

51 اِس طرح بادشاہ سلیمان نے یہوواہ کے گھر کے لیے وہ سارا کام مکمل کِیا جو اُنہیں کرنا تھا۔ پھر سلیمان وہ چیزیں لائے جو اُن کے والد داؤد نے پاک کی تھیں اور اُنہوں نے چاندی، سونا اور باقی سب چیزیں یہوواہ کے گھر کے خزانوں میں رکھ دیں۔‏

8 اُس وقت سلیمان نے اِسرائیل کے بزرگوں یعنی سب قبیلوں کے سربراہوں اور گھرانوں کے سربراہوں کو اِکٹھا کِیا۔ وہ یروشلم میں بادشاہ سلیمان کے پاس آئے تاکہ داؤد کے شہر یعنی صِیّون سے یہوواہ کے عہد کا صندوق لائیں۔ 2 اِسرائیل کے سب مرد اِیتانیم*‏ کے مہینے میں (‏جو کہ ساتواں مہینہ ہے)‏ عید*‏ کے موقعے پر بادشاہ سلیمان کے سامنے اِکٹھے ہوئے۔ 3 جب اِسرائیل کے سب بزرگ آئے تو کاہنوں نے عہد کا صندوق اُٹھایا۔ 4 کاہن اور لاوی یہوواہ کے عہد کا صندوق، خیمۂ‌اِجتماع اور وہ ساری پاک چیزیں لائے جو خیمے میں تھیں۔ 5 بادشاہ سلیمان اور اِسرائیل کا وہ سارا مجمع جسے اُنہوں نے بُلوایا تھا، عہد کے صندوق کے سامنے تھا۔ اُس موقعے پر اِتنی زیادہ بھیڑیں اور گائے بیل قربان کیے گئے کہ اُنہیں گنا نہیں جا سکتا تھا۔‏

6 پھر کاہن یہوواہ کے عہد کے صندوق کو اُس کی جگہ پر گھر کے سب سے اندر والے کمرے یعنی مُقدس‌ترین خانے میں لائے اور اُسے کروبیوں کے پَروں کے نیچے رکھ دیا۔‏

7 اِس طرح کروبیوں کے پَر اُس جگہ کے اُوپر پھیلے ہوئے تھے جہاں عہد کا صندوق رکھا گیا۔ لہٰذا کروبیوں نے عہد کے صندوق اور اُس کے ڈنڈوں کو ڈھکا ہوا تھا۔ 8 ڈنڈے اِتنے لمبے تھے کہ اُن کے سِرے سب سے اندر والے کمرے کے سامنے موجود مُقدس خانے سے نظر آتے تھے لیکن باہر سے نظر نہیں آتے تھے۔ اور وہ آج تک وہاں ہیں۔ 9 عہد کے صندوق میں پتھر کی دو تختیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ تختیاں موسیٰ نے حَورِب میں اُس وقت اِس صندوق میں رکھی تھیں جب بنی‌اِسرائیل مصر سے نکل رہے تھے اور یہوواہ نے اُن کے ساتھ عہد باندھا تھا۔‏

10 جب کاہن مُقدس مقام سے باہر آئے تو یہوواہ کا گھر بادل سے بھر گیا۔ 11 اُس بادل کی وجہ سے کاہن خدمت کرنے کے لیے وہاں کھڑے نہیں رہ پائے کیونکہ یہوواہ کا گھر یہوواہ کی شان سے بھر گیا تھا۔ 12 تب سلیمان نے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے کہا تھا کہ وہ گھنے بادلوں میں بسے گا۔ 13 مَیں تیرے لیے ایک عالی‌شان گھر، ہاں، ایک مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں جہاں تُو ہمیشہ بسے۔“‏

14 پھر بادشاہ مُڑا اور اِسرائیل کی ساری جماعت کو جو وہاں کھڑی تھی، دُعا دینے لگا۔ 15 اُس نے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے اپنے مُنہ سے میرے والد داؤد کے ساتھ وعدہ کِیا اور اپنے ہاتھ سے اِسے پورا کِیا۔ اُس نے کہا تھا:‏ 16 ‏”‏جس دن سے مَیں اپنی قوم اِسرائیل کو مصر سے نکال کر لایا، مَیں نے اِسرائیل کے سارے قبیلوں میں کوئی ایسا شہر نہیں چُنا جہاں میرے نام کی بڑائی کے لیے گھر بنایا جائے لیکن مَیں نے داؤد کو اپنی قوم اِسرائیل کا بادشاہ چُنا ہے۔“‏ 17 اور میرے والد داؤد کی دلی خواہش تھی کہ وہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بنائیں۔ 18 لیکن یہوواہ نے میرے والد داؤد سے کہا:‏ ”‏تمہاری دلی خواہش تھی کہ تُم میرے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بناؤ اور یہ اچھی بات ہے کہ تمہارے دل میں یہ خواہش تھی۔ 19 مگر تُم یہ گھر نہیں بناؤ گے بلکہ تمہارا اپنا بیٹا جو تُم سے پیدا ہونے والا ہے، میرے نام کی بڑائی کے لیے گھر بنائے گا۔“‏ 20 یہوواہ نے اپنا وعدہ پورا کِیا ہے کیونکہ یہوواہ کے وعدے کے مطابق مَیں اپنے والد داؤد کی جگہ بادشاہ بنا ہوں اور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھا ہوں۔ مَیں نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک گھر بھی بنایا ہے۔ 21 وہاں مَیں نے اُس صندوق کے لیے جگہ تیار کی ہے جس میں وہ عہد ہے جو یہوواہ نے ہمارے باپ‌دادا سے اُس وقت باندھا تھا جب وہ اُنہیں مصر سے باہر لا رہا تھا۔“‏

22 اِس کے بعد سلیمان اِسرائیل کی ساری جماعت کے سامنے یہوواہ کی قربان‌گاہ کے آگے کھڑے ہوئے۔ پھر اُنہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے 23 اور کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر تجھ جیسا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔ تُو اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور اپنے اُن بندوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو پورے دل سے تیری راہوں پر چلتے ہیں۔ 24 تُو نے اپنا وہ وعدہ پورا کِیا جو تُو نے میرے والد اور اپنے بندے داؤد سے کِیا تھا۔ تُو نے اپنے مُنہ سے یہ وعدہ کِیا تھا اور آج اپنے ہاتھ سے اِسے پورا کِیا ہے۔ 25 اب اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ میرے والد اور اپنے بندے داؤد سے کِیا اپنا یہ وعدہ پورا کر:‏ ”‏تمہاری نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو میرے حضور اِسرائیل کے تخت پر بیٹھے گا بشرطیکہ تمہارے بیٹے اپنے چال‌چلن پر دھیان دیں اور میری راہوں پر چلیں جیسے تُم میری راہوں پر چلتے رہے۔“‏ 26 اب اِسرائیل کے خدا!‏ مہربانی سے اپنے اُس وعدے کو سچا ثابت کر جو تُو نے میرے والد اور اپنے بندے داؤد سے کِیا تھا۔‏

27 لیکن کیا خدا واقعی زمین پر بسے گا؟ دیکھ، تُو آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی نہیں سما سکتا!‏ تو پھر یہ گھر تو کچھ بھی نہیں جو مَیں نے بنایا ہے!‏ 28 اَے میرے خدا یہوواہ!‏ اپنے بندے کی دُعا پر توجہ فرما اور اُس کی رحم کی اِلتجا سُن۔ مدد کے لیے اُس کی پکار سُن اور اپنے بندے کی وہ دُعا سُن جو وہ آج تیرے حضور کر رہا ہے۔ 29 تیری نظریں دن رات اِس گھر، ہاں، اِس جگہ کی طرف لگی رہیں جس کے بارے میں تُو نے کہا تھا کہ ”‏میرا نام وہاں رہے گا“‏ تاکہ جب تیرا بندہ اِس کی طرف رُخ کر کے دُعا کرے تو تُو اُس کی دُعا سنے۔ 30 اپنے بندے کی رحم کی اِلتجا سننا اور اپنی قوم اِسرائیل کی وہ درخواست بھی جو وہ اِس جگہ کا رُخ کر کے کرے۔ تُو آسمان پر اپنی رہائش‌گاہ سے سُن لینا، ہاں، تُو سُن لینا اور معاف کر دینا!‏

31 جب کوئی شخص کسی کے خلاف گُناہ کرے اور اُسے قسم دِلائی جائے*‏ اور وہ اِس قسم*‏ کے تحت جواب‌دہ ہو اور اِس قسم*‏ کے تحت ہوتے ہوئے اِس گھر میں تیری قربان‌گاہ کے سامنے آئے 32 تو تُو آسمان سے سُن لینا اور کارروائی کرنا۔ تُو اپنے بندوں کا اِنصاف کرتے ہوئے بُرے شخص کو قصوروار*‏ قرار دینا اور اُس کا کِیا اُسی کے سر ڈالنا اور نیک شخص کو بے‌قصور*‏ قرار دینا اور اُسے اُس کی نیکی کا اجر دینا۔‏

33 جب تیری قوم اِسرائیل کو تیرے خلاف گُناہ کرتے رہنے کی وجہ سے دُشمن کے ہاتھوں شکست ہو اور وہ تیری طرف لوٹ آئے اور تیرے نام کی بڑائی کرے اور اِس گھر میں تجھ سے دُعا کرے اور رحم کی اِلتجا کرے 34 تو تُو آسمان سے سُن لینا اور اپنی قوم اِسرائیل کا گُناہ معاف کر دینا اور اُنہیں اُس ملک میں واپس لانا جو تُو نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا۔‏

35 اگر وہ تیرے خلاف گُناہ کرتے رہیں اور اِس وجہ سے آسمان بند ہو جائے اور بارش نہ ہو اور تُو اُنہیں پست کرے*‏ اور وہ اِس جگہ کی طرف رُخ کر کے دُعا کریں اور تیرے نام کی بڑائی کریں اور گُناہ کرنے سے باز آ جائیں 36 تو تُو آسمان سے اُن کی سُن لینا اور اپنے بندوں یعنی اپنی قوم اِسرائیل کا گُناہ معاف کر دینا کیونکہ تُو اُنہیں اُس اچھی راہ کے بارے میں سکھائے گا جس پر اُنہیں چلنا چاہیے اور تُو اپنے اُس ملک پر بارش برسانا جو تُو نے اپنی قوم کو وراثت کے طور پر دیا تھا۔‏

37 اگر ملک میں قحط، وبا، جھلسا دینے والی لُو، پھپھوندی، ٹڈی‌دَل یا بھوکی ٹڈیاں*‏ ہوں یا اگر تیرے بندوں کے دُشمن اُنہیں ملک کے کسی شہر میں*‏ گھیر لیں یا اگر کسی اَور طرح کی وبا یا بیماری آ جائے 38 تو جو بھی شخص یا تیری ساری قوم اِسرائیل اِس گھر کی طرف ہاتھ اُٹھا کر تجھ سے جو بھی دُعا کرے یا رحم کی اِلتجا کرے (‏کیونکہ ہر کوئی اپنے دل کی تکلیف جانتا ہے)‏ 39 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، سُن لینا اور معاف کر دینا اور کارروائی کرنا اور ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دینا کیونکہ تُو اُس کے دل کا حال جانتا ہے (‏صرف تُو ہی صحیح معنوں میں ہر اِنسان کے دل کا حال جانتا ہے)‏ 40 تاکہ وہ جب تک اُس ملک میں رہیں جو تُو نے ہمارے باپ‌دادا کو دیا تھا، تیرا خوف رکھیں۔‏

41 اور اگر کوئی پردیسی جو تیری قوم اِسرائیل سے نہ ہو اور جو تیرے نام*‏ کی وجہ سے کسی دُوردراز ملک سے آئے 42 ‏(‏کیونکہ وہ تیرے عظیم نام، تیرے طاقت‌ور ہاتھ اور تیرے زورآور بازو*‏ کے بارے میں سنیں گے)‏ اور اِس گھر کا رُخ کر کے دُعا کرے 43 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، سُن لینا اور وہ سب کرنا جس کی وہ پردیسی تجھ سے درخواست کرے تاکہ زمین کی سب قومیں تیرا نام جان لیں اور تیرا خوف رکھیں جیسے تیری قوم اِسرائیل رکھتی ہے اور وہ یہ بھی جان لیں کہ یہ گھر جو مَیں نے بنایا ہے، تیرے نام سے کہلاتا ہے۔‏

44 اَے یہوواہ!‏ اگر تیرے بندے اپنے دُشمنوں کے خلاف وہاں جنگ لڑنے جائیں جہاں تُو اُنہیں بھیجے اور تیرے چُنے ہوئے شہر اور اِس گھر کا رُخ کر کے تجھ سے دُعا کریں جسے مَیں نے تیرے نام کی بڑائی کے لیے بنایا ہے 45 تو تُو آسمان سے اُن کی دُعا اور رحم کی اِلتجا سُن لینا اور اُن کی خاطر کارروائی کرنا۔‏

46 اگر وہ تیرے خلاف گُناہ کریں (‏کیونکہ کوئی ایسا اِنسان نہیں جو گُناہ نہ کرے)‏ اور تُو اُن پر بھڑک اُٹھے اور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالے کر دے اور وہ اُنہیں قیدی بنا کر دُور یا نزدیک اپنے ملک لے جائیں 47 اور جس ملک میں اُنہیں قیدی بنا کر لے جایا جائے، وہاں جا کر اُنہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ تیری طرف لوٹ آئیں اور اپنے دُشمنوں کے ملک میں تجھ سے رحم کی اِلتجا کریں اور کہیں:‏ ”‏ہم نے گُناہ کِیا ہے؛ ہم سے غلطی ہوئی ہے؛ ہم نے بُرائی کی ہے“‏ 48 اور وہ اپنے دُشمنوں کے ملک میں جو اُنہیں قیدی بنا کر لے گئے تھے، پورے دل اور پوری جان*‏ سے تیرے پاس لوٹ آئیں اور اُس ملک کی طرف جو تُو نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا اور اُس شہر کی طرف جو تُو نے چُنا ہے اور اُس گھر کی طرف جو مَیں نے تیرے نام کی بڑائی کے لیے بنایا ہے، رُخ کر کے تجھ سے دُعا کریں 49 تو تُو آسمان سے جو تیری رہائش‌گاہ ہے، اُن کی دُعا اور رحم کی اِلتجا سُن لینا اور اُن کی خاطر کارروائی کرنا 50 اور تُو اپنے بندوں کو معاف کر دینا جنہوں نے تیرے خلاف گُناہ کِیا، ہاں، اُن کی اُن سب خطاؤں کو معاف کر دینا جو اُنہوں نے تیرے خلاف کیں۔ تُو اُنہیں قیدی بنانے والوں کے دل میں اُن کے لیے رحم ڈالنا تاکہ وہ اُن پر رحم کریں 51 ‏(‏کیونکہ وہ تیری قوم اور تیری وراثت ہیں جنہیں تُو مصر سے، ہاں، لوہا پگھلانے والی بھٹی کے اندر سے نکال لایا)‏۔ 52 تیری نظریں تیرے بندے اور تیری قوم اِسرائیل کی اُن اِلتجاؤں پر لگی رہیں جو وہ رحم کے لیے تجھ سے کریں۔ وہ جب بھی تجھے پکاریں،‏*‏ تُو اُن کی سننا۔ 53 اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏ تُو نے اُنہیں زمین کی سب قوموں میں سے اپنی وراثت کے طور پر الگ کِیا جیسے تُو نے اُس وقت اپنے بندے موسیٰ کے ذریعے فرمایا تھا جب تُو ہمارے باپ‌دادا کو مصر سے نکال کر لایا تھا۔“‏

54 جب سلیمان نے یہوواہ سے یہ ساری دُعا اور رحم کی اِلتجا کر لی تو وہ یہوواہ کی قربان‌گاہ کے سامنے سے اُٹھے جہاں وہ گُھٹنوں کے بل آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے بیٹھے تھے۔ 55 پھر وہ کھڑے ہوئے اور اُونچی آواز میں اِسرائیل کی ساری جماعت کو دُعا دی اور کہا:‏ 56 ‏”‏یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے اپنے وعدے کے مطابق اپنی قوم اِسرائیل کو ایک پُرسکون جگہ دی ہے۔ اُس نے اپنے بندے موسیٰ کے ذریعے جو عمدہ وعدہ کِیا، اُس کا ایک ایک حرف پورا ہوا۔ 57 ہمارا خدا یہوواہ ہمارے ساتھ رہے جیسے وہ ہمارے باپ‌دادا کے ساتھ تھا۔ وہ ہمیں کبھی ترک نہ کرے اور ہمیں کبھی نہ چھوڑے۔ 58 وہ ہمارا دل اپنی طرف لگائے تاکہ ہم اُس کی سب راہوں پر چلیں اور اُس کے حکموں، معیاروں اور فیصلوں کو مانیں جن پر عمل کرنے کا حکم اُس نے ہمارے باپ‌دادا کو دیا تھا۔ 59 ہمارا خدا یہوواہ میری اُن باتوں کو جو مَیں نے یہوواہ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے کہی ہیں، دن رات یاد رکھے تاکہ وہ اپنے بندے اور اپنی قوم اِسرائیل کی خاطر ہر دن ضرورت کے مطابق کارروائی کرے۔ 60 اِس طرح زمین کی سب قومیں جان لیں کہ یہوواہ سچا خدا ہے۔ کوئی اَور خدا نہیں ہے!‏ 61 اِس لیے آج کی طرح اپنے خدا یہوواہ کے معیاروں کو مانیں اور اُس کے حکموں پر چلیں اور یوں اپنا دل پوری طرح اُس کی طرف لگائے رکھیں۔“‏

62 پھر بادشاہ اور سارے اِسرائیل نے یہوواہ کے حضور بہت ساری قربانیاں پیش کیں۔ 63 سلیمان نے صلح*‏ والی قربانی کے طور پر یہوواہ کے حضور یہ چیزیں پیش کیں:‏ 22 ہزار گائے بیل اور 1 لاکھ 20 ہزار بھیڑیں۔ اِس طرح بادشاہ اور سب اِسرائیلیوں نے یہوواہ کے گھر کا اِفتتاح کِیا۔ 64 اُس دن تانبے کی وہ قربان‌گاہ جو یہوواہ کے حضور تھی، بھسم ہونے والی قربانیوں، اناج کے نذرانوں اور صلح*‏ والی قربانیوں کے چربی والے حصوں کو پیش کرنے کے لیے چھوٹی پڑ گئی۔ اِس لیے بادشاہ کو یہوواہ کے گھر کے سامنے والے صحن کا درمیانی حصہ مخصوص کرنا پڑا تاکہ وہاں بھسم ہونے والی قربانیاں، اناج کے نذرانے اور صلح*‏ والی قربانیوں کے چربی والے حصے پیش کیے جا سکیں۔ 65 اُس وقت سلیمان نے سارے اِسرائیل کے ساتھ مل کر عید منائی۔ اُس عید میں لبوحمات*‏ سے لے کر نیچے مصر کی وادی*‏ تک کے لوگوں کا ایک بہت بڑا مجمع تھا۔ اُنہوں نے ہمارے خدا یہوواہ کے حضور 7 دن تک عید منائی اور پھر 7 اَور دن تک یعنی کُل 14 دن تک عید منائی۔ 66 اگلے*‏ دن بادشاہ نے لوگوں کو روانہ کِیا اور لوگوں نے اُسے دُعا دی اور جشن مناتے ہوئے اور اُس ساری اچھائی پر دل میں خوش ہوتے ہوئے اپنے گھر لوٹ گئے جو یہوواہ نے اپنے بندے داؤد اور اپنی قوم اِسرائیل سے کی تھی۔‏

9 جب سلیمان نے یہوواہ کا گھر، اپنا محل اور وہ سب کچھ بنا لیا جو وہ بنانا چاہتے تھے تو اُس کے فورا بعد 2 یہوواہ دوسری بار اُن پر ظاہر ہوا جیسے وہ جِبعون میں اُن پر ظاہر ہوا تھا۔ 3 یہوواہ نے سلیمان سے کہا:‏ ”‏مَیں نے تمہاری دُعا اور رحم کی وہ اِلتجا سنی ہے جو تُم نے مجھ سے کی ہے۔ مَیں نے اِس گھر کو پاک*‏ ٹھہرایا ہے جو تُم نے بنایا ہے اور میرا نام سدا اِس میں رہے گا اور میری نظریں اور میرا دل ہمیشہ اِس کی طرف لگا رہے گا۔ 4 اگر تُم میرے ہر حکم پر عمل کرو گے اور میرے معیاروں اور فیصلوں کو مانو گے اور اِس طرح اپنے باپ داؤد کی طرح سچے دل اور راستی سے میری راہوں پر چلو گے 5 تو مَیں تمہاری بادشاہت کا تخت اِسرائیل پر ہمیشہ کے لیے قائم کروں گا جیسے مَیں نے تمہارے باپ داؤد سے وعدہ کِیا تھا کہ ”‏تمہاری نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو اِسرائیل کے تخت پر بیٹھے گا۔“‏ 6 لیکن اگر تُم اور تمہارے بیٹے میری راہ پر چلنا چھوڑ دو گے اور میرے حکموں اور میرے قوانین پر عمل نہیں کرو گے جو مَیں نے تمہیں دیے ہیں اور جا کر دوسرے خداؤں کی پرستش کرو گے اور اُن کے سامنے جھکو گے 7 تو مَیں اِسرائیل کو اُس ملک سے مٹا دوں گا جو مَیں نے اُسے دیا ہے اور اُس گھر کو جسے مَیں نے اپنے نام کے لیے پاک*‏ ٹھہرایا ہے، اپنی نظروں سے دُور کر دوں گا اور اِسرائیل سب قوموں کے لیے مذاق*‏ بن جائے گا اور وہ اُس کا تمسخر اُڑائیں گی۔ 8 یہ گھر کھنڈر بن جائے گا اور جو بھی اِس کے پاس سے گزرے گا، وہ حیرت سے اِسے دیکھے گا اور سیٹی بجا کر کہے گا:‏ ”‏یہوواہ نے اِس ملک اور اِس گھر کے ساتھ ایسا کیوں کِیا؟“‏ 9 پھر وہ کہیں گے:‏ ”‏ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ اُنہوں نے اپنے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا جو اُن کے باپ‌دادا کو مصر سے نکال کر لایا تھا اور اُنہوں نے دوسرے خداؤں کو اپنا لیا اور اُن کے سامنے جھکے اور اُن کی پرستش کی۔ اِسی لیے یہوواہ اُن پر یہ ساری تباہی لایا۔“‏“‏

10 سلیمان کو دو گھر یعنی یہوواہ کا گھر اور اپنا محل بنانے میں 20 سال لگے۔ 11 اِس کے بعد سلیمان نے صُور کے بادشاہ حِیرام کو گلیل کے علاقے میں 20 شہر دیے کیونکہ حِیرام نے سلیمان کو دیودار اور صنوبر کی لکڑی اور جتنا سونا اُنہوں نے مانگا تھا، دیا تھا۔ 12 حِیرام صُور سے وہ شہر دیکھنے گئے جو سلیمان نے اُنہیں دیے تھے لیکن اُنہیں وہ شہر پسند نہیں آئے۔‏*‏ 13 اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے بھائی!‏ آپ نے مجھے یہ کیسے شہر دیے ہیں؟“‏ اِس لیے اُن شہروں کو آج کے دن تک کابُول کی سرزمین*‏ کہا جاتا ہے۔ 14 اِس دوران حِیرام نے بادشاہ سلیمان کو 120 قِنطار*‏ سونا بھیجا۔‏

15 یہ اُن لوگوں کی تفصیل ہے جنہیں بادشاہ سلیمان کی خدمت کے لیے بُلایا گیا تاکہ وہ یہوواہ کا گھر، بادشاہ کا محل، ٹیلا،‏*‏ یروشلم کی دیوار، حصور، مجِدّو اور جِزر کو بنائیں۔ 16 ‏(‏مصر کے بادشاہ فِرعون نے آ کر جِزر پر قبضہ کر لیا تھا اور اُسے آگ سے جلا دیا تھا۔ اُس نے شہر میں رہنے والے کنعانیوں کو بھی قتل کروا دیا تھا۔ پھر اُس نے یہ شہر اپنی بیٹی یعنی سلیمان کی بیوی کو رُخصتی کے تحفے*‏ کے طور پر دے دیا تھا۔)‏ 17 سلیمان نے جِزر اور نشیبی بیت‌حورون بنوائے۔‏*‏ 18 اُنہوں نے بعلات اور ملک کے اندر ویرانے میں تَمر 19 اور سلیمان کے گوداموں والے سب شہر، رتھوں والے شہر اور گُھڑسواروں کے لیے شہر بنوائے۔ اُنہوں نے یروشلم، لبنان اور اپنی سلطنت کے سارے علاقوں میں وہ سب کچھ بنوایا جو وہ بنوانا چاہتے تھے۔ 20 جہاں تک اموریوں، حِتّیوں، فِرِزّیوں، حِویوں اور یبوسیوں کے سب بچے ہوئے لوگوں کی بات ہے جو بنی‌اِسرائیل کا حصہ نہیں تھے 21 اور جنہیں اِسرائیلی ہلاک نہیں کر پائے تھے تو ملک میں اُن کی بچی ہوئی اولاد کو غلاموں کے طور پر سلیمان کی خدمت کرنے کے لیے بُلایا گیا اور وہ آج تک ایسا کرتے ہیں۔ 22 لیکن سلیمان نے کسی بھی اِسرائیلی کو غلام نہیں بنایا کیونکہ وہ اُن کے جنگجو، خادم، حاکم، فوجی افسر اور رتھ‌بانوں اور گُھڑسواروں کے سربراہ تھے۔ 23 سلیمان کا کام کرنے کے لیے نگرانوں پر 550 سربراہ تھے جو کام کرنے والوں کی نگرانی کرتے تھے۔‏

24 لیکن فِرعون کی بیٹی داؤد کے شہر سے اپنے محل میں آ گئی جو سلیمان نے اُس کے لیے بنوایا تھا۔ پھر سلیمان نے ٹیلا*‏ بنوایا۔‏

25 سال میں تین بار سلیمان اُس قربان‌گاہ پر جو اُنہوں نے یہوواہ کے لیے بنوائی تھی، بھسم ہونے والی قربانیاں اور صلح*‏ والی قربانیاں پیش کرتے تھے۔ وہ اُس قربان‌گاہ پر جو یہوواہ کے سامنے تھی، قربانیاں پیش کرتے تھے تاکہ اُن کا دُھواں اُٹھے۔ اِس طرح اُنہوں نے خدا کے گھر کی تعمیر مکمل کی۔‏

26 بادشاہ سلیمان نے عِصیون‌جابر میں بہت سے جہازبھی بنائے۔ عِصیون‌جابر ادوم کے علاقے میں بحیرۂ‌احمر*‏ کے کنارے اِیلوت کے پاس ہے۔ 27 حِیرام نے اُن جہازوں کے ساتھ اپنے خادموں کو بھیجا جو ماہر ملاح تھے تاکہ وہ سلیمان کے خادموں کے ساتھ کام کریں۔ 28 وہ لوگ اوفیر گئے اور وہاں سے 420 قِنطار سونا بادشاہ سلیمان کے پاس لائے۔‏

10 سبا کی ملکہ نے سنا کہ سلیمان کو یہوواہ کے نام کی وجہ سے کتنی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اِس لیے وہ اُن کے پاس آئی تاکہ مشکل سوال*‏ پوچھ کر اُن کا اِمتحان لے۔ 2 وہ ایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ یروشلم آئی جس میں اُونٹوں پر بلسان کا تیل اور بہت زیادہ سونا اور قیمتی پتھر لدے ہوئے تھے۔ وہ سلیمان کے پاس گئی اور اُن سے وہ سارے سوال پوچھے جو اُس کے دل میں تھے۔ 3 سلیمان نے اُسے اُس کے سارے سوالوں کے جواب دیے۔ بادشاہ کے لیے کوئی بھی بات اِتنی مشکل نہیں تھی*‏ کہ وہ اُس کی وضاحت نہ کر سکے۔‏

4 سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری دانش‌مندی اور اُن کا بنایا ہوا گھر دیکھا۔ 5 اُس نے اُن کی میز پر رکھا جانے والا کھانا، اُن کے خادموں کے بیٹھنے کا اِنتظام، کھانا پیش کرنے والے خادموں کی خدمات اور اُن کا لباس، اُن کے ساقی اور بھسم ہونے والی وہ قربانیاں بھی دیکھیں جو وہ باقاعدگی سے یہوواہ کے گھر میں پیش کرتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر اُس کے ہوش اُڑ گئے۔‏*‏ 6 اِس لیے اُس نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏میں نے اپنے ملک میں آپ کی کامیابیوں*‏ اور آپ کی دانش‌مندی کے بارے میں جو کچھ سنا تھا، وہ سچ تھا۔ 7 لیکن مجھے اِن باتوں پر تب تک یقین نہیں آیا جب تک مَیں نے یہاں آ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ سچ کہوں تو مجھے اِس سب کے بارے میں آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ مَیں نے جتنا سنا تھا، آپ کی دانش‌مندی اور خوش‌حالی تو اُس سے کہیں زیادہ ہے۔ 8 آپ کے آدمی اور آپ کے خادم کتنے بابرکت ہیں جو ہمیشہ آپ کے حضور کھڑے رہتے ہیں اور آپ کی دانش‌بھری باتیں سنتے ہیں!‏ 9 آپ کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے آپ سے خوش ہو کر آپ کو اِسرائیل کے تخت پر بٹھایا ہے۔ یہوواہ اِسرائیل سے ابدی محبت کرتا ہے۔ اِسی لیے اُس نے آپ کو بادشاہ بنایا ہے تاکہ آپ اِنصاف اور نیکی سے کام لیں۔“‏

10 پھر اُس نے بادشاہ کو 120 قِنطار*‏ سونا اور بڑی مقدار میں بلسان کا تیل اور قیمتی پتھر دیے۔ جتنی مقدار میں سبا کی ملکہ نے بادشاہ سلیمان کو بلسان کا تیل دیا، اُتنا پھر کبھی کسی نے نہیں دیا۔‏

11 حِیرام کے جن جہازوں پر اوفیر سے سونا آیا تھا، اُن پر اوفیر سے بڑی تعداد میں صندل کی لکڑی اور قیمتی پتھر بھی لائے گئے۔ 12 بادشاہ نے صندل کی لکڑی سے یہوواہ کے گھر اور اپنے محل کے لیے سہارے بنوائے اور گلوکاروں کے لیے بربط*‏ اور تاردار ساز بھی بنوائے۔ صندل کی ایسی لکڑی آج تک نہ تو پھر کبھی لائی گئی اور نہ دیکھی گئی۔‏

13 بادشاہ سلیمان نے سبا کی ملکہ کو دل کھول کر*‏ بہت کچھ دیا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے ملکہ کو وہ سب بھی دیا جو وہ چاہتی تھی یا جو اُس نے مانگا۔ اِس کے بعد ملکہ اپنے خادموں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ گئی۔‏

14 سلیمان کے پاس ایک سال میں جتنا سونا آتا تھا، اُس کا وزن 666 قِنطار ہوتا تھا۔ 15 اِس کے علاوہ اُنہیں سوداگروں، تاجروں، عرب کے سب بادشاہوں اور ملک کے ناظموں سے منافع بھی ملتا تھا۔‏

16 بادشاہ سلیمان نے سونے میں اَور دھاتیں ملا کر اِن سے 200 بڑی ڈھالیں بنوائیں (‏ہر ڈھال پر 600 مِثقال*‏ سونا لگا)‏۔ 17 اُنہوں نے سونے میں اَور دھاتیں ملا کر 300 چھوٹی ڈھالیں*‏ بھی بنوائیں (‏ہر چھوٹی ڈھال پر تین مینا*‏ سونا لگا)‏۔ پھر بادشاہ نے اِنہیں اُس گھر میں رکھوا دیا جو لبنان کے جنگل کا گھر کہلاتا ہے۔‏

18 بادشاہ نے ہاتھی‌دانت کا ایک بڑا تخت بھی بنوایا اور اُس پر خالص سونے کی پرت لگوائی۔ 19 تخت تک جانے کے لیے چھ سیڑھیاں تھیں اور اُس کے پیچھے ایک گول چھجا تھا۔ تخت کی دونوں طرف بازو تھے اور بازوؤں کے پاس شیروں کے دو مجسّمے تھے۔ 20 چھ سیڑھیوں پر شیروں کے 12 مجسّمے تھے یعنی ہر سیڑھی کے دونوں سِروں پر شیر کا ایک ایک مجسّمہ تھا۔ کسی اَور سلطنت میں ایسا کچھ نہیں بنایا گیا تھا۔‏

21 بادشاہ سلیمان کے سب پیالے سونے کے تھے اور اُس گھر کے سب برتن خالص سونے کے تھے جو لبنان کے جنگل کا گھر کہلاتا ہے۔ کوئی بھی چیز چاندی کی نہیں تھی کیونکہ بادشاہ سلیمان کے زمانے میں چاندی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ 22 بادشاہ کے پاس ترسیس کے بہت سے جہاز تھے جو حِیرام کے جہازوں کے ساتھ سمندر میں جایا کرتے تھے۔ ہر تیسرے سال ترسیس کے جہاز سونے، چاندی، ہاتھی‌دانت، بندروں اور موروں سے لدے ہوئے آتے تھے۔‏

23 بادشاہ سلیمان کے پاس زمین کے سب بادشاہوں سے زیادہ دولت اور دانش‌مندی تھی۔ 24 دُنیا بھر کے لوگ سلیمان سے ملنے کی کوشش میں رہتے تھے تاکہ اُن کی دانش‌بھری باتیں سُن سکیں جو خدا نے اُن کے دل میں ڈالی تھیں۔ 25 وہ سب سلیمان کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لاتے تھے جیسے کہ چاندی کی چیزیں، سونے کی چیزیں، کپڑے، ہتھیار، بلسان کا تیل، گھوڑے اور خچر۔ یہ سلسلہ سال‌درسال چلتا رہا۔‏

26 سلیمان گھوڑے*‏ اور رتھ جمع کرتے رہے۔ اُن کے پاس 1400 رتھ اور 12 ہزار گھوڑے*‏ تھے جنہیں وہ رتھوں والے شہروں میں اور یروشلم میں اپنے پاس رکھتے تھے۔‏

27 بادشاہ نے یروشلم میں اِتنی بڑی تعداد میں چاندی اِکٹھی کی جیسے پتھر ہوں اور اِتنی زیادہ دیودار کی لکڑی اِکٹھی کی جیسے شِفیلہ میں گُولر*‏ کے درخت ہوں۔‏

28 بادشاہ سلیمان کے گھوڑے مصر سے آتے تھے اور بادشاہ کے تاجر مقررہ قیمت پر گھوڑوں کے غول کے غول خرید کر لاتے تھے۔‏*‏ 29 مصر سے منگوائے جانے والے ہر رتھ کی قیمت چاندی کے 600 ٹکڑے تھی اور ہر گھوڑے کی قیمت چاندی کے 150 ٹکڑے۔ پھر وہ تاجر اِن رتھوں اور گھوڑوں کو حِتّیوں کے سب بادشاہوں اور سُوریہ کے بادشاہوں کو بیچتے*‏ تھے۔‏

11 لیکن بادشاہ سلیمان کو فِرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی دوسری غیرقوم عورتوں سے بھی محبت ہو گئی جن میں موآبی، عمونی، ادومی، صیدانی اور حِتّی عورتیں شامل تھیں۔ 2 اُن عورتوں کا تعلق اُن قوموں سے تھا جن کے بارے میں یہوواہ نے اِسرائیلیوں سے کہا تھا:‏ ”‏نہ تو تُم اُن کے بیچ جانا*‏ اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے خداؤں کی طرف پھیر لیں گی۔“‏ لیکن سلیمان کو اُن عورتوں سے گہرا لگاؤ تھا اور وہ اُن سے محبت کرتے تھے۔ 3 اُن کی 700 بیویاں تھیں جو شہزادیاں تھیں اور 300 حرمیں تھیں۔ اُن کی بیویوں نے آہستہ آہستہ اُن کے دل کو گمراہ کر دیا۔‏*‏ 4 سلیمان کے بڑھاپے میں اُن کی بیویوں نے اُن کے دل کو دوسرے خداؤں کی طرف پھیر لیا*‏ اور اُن کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہ رہا جیسے اُن کے والد داؤد کا دل تھا۔ 5 اور سلیمان صیدانیوں کی دیوی عستارات اور عمونیوں کے گھناؤنے دیوتا مِلکوم کو پوجنے لگے۔ 6 سلیمان نے وہ کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور وہ اپنے والد داؤد کی طرح پورے دل سے یہوواہ کی راہ پر نہیں چلے۔‏

7 اُسی دوران سلیمان نے موآب کے گھناؤنے دیوتا کموس اور عمونیوں کے گھناؤنے دیوتا مولک کے لیے یروشلم کے سامنے پہاڑ پر ایک اُونچی جگہ بنائی۔ 8 اُنہوں نے اپنی سب غیرقوم بیویوں کے لیے ایسا ہی کِیا جو اپنے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کرتی تھیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔‏

9 یہوواہ سلیمان پر بھڑک اُٹھا کیونکہ اُن کا دل اِسرائیل کے خدا یہوواہ سے پھر گیا تھا جس نے دو بار اُن پر ظاہر ہو کر 10 اُنہیں اِسی بات کے حوالے سے خبردار کِیا تھا کہ اُنہیں دوسرے خداؤں کی پرستش نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اُنہوں نے یہوواہ کا حکم نہیں مانا۔ 11 پھر یہوواہ نے سلیمان سے کہا:‏ ”‏تُم نے یہ سب کچھ کِیا اور میرے عہد پر قائم نہیں رہے اور میرے اُن قوانین کو نہیں مانا جن کا مَیں نے تمہیں حکم دیا تھا۔ اِس لیے مَیں ضرور تُم سے تمہاری بادشاہت چھین لوں گا اور تمہارے ایک خادم کو دے دوں گا۔ 12 لیکن تمہارے باپ داؤد کی خاطر مَیں تمہاری زندگی میں ایسا نہیں کروں گا۔ مَیں تمہارے بیٹے کے ہاتھ سے بادشاہت چھین لوں گا۔ 13 مگر مَیں پوری بادشاہت نہیں چھینوں گا۔ مَیں اپنے بندے داؤد کی خاطر اور یروشلم کی خاطر جسے مَیں نے چُنا ہے، ایک قبیلہ تمہارے بیٹے کو دوں گا۔“‏

14 پھر یہوواہ نے ہدد ادومی کو سلیمان کا مخالف بنا کر کھڑا کِیا جو ادوم کے شاہی گھرانے سے تھا۔ 15 جب داؤد نے ادومیوں کو شکست دی تھی اور اُن کی فوج کے سربراہ یوآب لاشوں کو دفنانے گئے تھے تو یوآب نے ادوم کے ہر مرد کو مار ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ 16 ‏(‏کیونکہ یوآب اور سارا اِسرائیل چھ مہینے تک وہاں رہا جب تک کہ یوآب نے ادوم کے ہر مرد کو مار*‏ نہیں ڈالا۔)‏ 17 لیکن ہدد اپنے والد کے کچھ ادومی خادموں کے ساتھ وہاں سے بھاگ کر مصر چلا گیا۔ اُس وقت وہ ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ 18 وہ لوگ مِدیان سے نکل کر فاران آئے۔ اُنہوں نے فاران سے کچھ آدمیوں کو ساتھ لیا اور مصر کے بادشاہ فِرعون کے پاس مصر آئے۔ فِرعون نے ہدد کو ایک گھر دیا، اُسے باقاعدگی سے راشن پہنچانے کا حکم دیا اور اُسے زمین بھی دی۔ 19 فِرعون ہدد پر اِتنا مہربان ہوا کہ اُس نے اپنی بیوی یعنی ملکہ*‏ تحفِنیس کی بہن کی شادی اُس سے کرا دی۔ 20 کچھ وقت بعد تحفِنیس کی بہن سے ہدد کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام جنوبت تھا۔تحفِنیس نے فِرعون کے گھر میں اُس کی پرورش کی*‏ اور جنوبت فِرعون کے گھر میں فِرعون کے بیٹوں کے ساتھ رہا۔‏

21 مصر میں ہدد نے سنا کہ داؤد اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے ہیں*‏ اور اُن کی فوج کے سربراہ یوآب مر گئے ہیں۔ اِس لیے ہدد نے فِرعون سے کہا:‏ ”‏مجھے اِجازت دیں کہ مَیں اپنے ملک لوٹ جاؤں۔“‏ 22 لیکن فِرعون نے اُس سے کہا:‏ ”‏کیا میرے پاس رہتے ہوئے آپ کو کسی چیز کی کمی ہوئی ہے جو آپ اپنے ملک جانا چاہتے ہو؟“‏ اِس پر ہدد نے کہا:‏ ”‏کسی چیز کی نہیں۔ لیکن مہربانی سے مجھے جانے کی اِجازت دیں۔“‏

23 خدا نے ایک اَور شخص کو بھی سلیمان کا مخالف بنا کر کھڑا کِیا جس کا نام رِزون تھا۔ وہ اِلیدع کا بیٹا تھا اور اپنے مالک یعنی ضوباہ کے بادشاہ ہددعزر کے پاس سے بھاگ گیا تھا۔ 24 جب داؤد نے ضوباہ کے لوگوں کو ہرایا*‏ تو رِزون نے کچھ آدمیوں کو اِکٹھا کِیا اور لُٹیروں کے ایک گروہ کا سربراہ بن گیا۔ پھر وہ لوگ دمشق جا کر وہاں بس گئے اور وہاں حکمرانی کرنے لگے۔ 25 رِزون سلیمان کی ساری زندگی اِسرائیل کا مخالف رہا اور اُس نے بھی ہدد کی طرح اِسرائیل کو بہت نقصان پہنچایا۔ جب وہ سُوریہ پر حکمرانی کر رہا تھا تو وہ اِسرائیل سے گِھن کھاتا تھا۔‏

26 ایک اَور شخص بھی بادشاہ سلیمان کے خلاف بغاوت کرنے لگا۔‏*‏ اُس کا نام یرُبعام تھا اور وہ سلیمان کا ایک خادم تھا۔ وہ صریدہ سے تعلق رکھنے والا ایک اِفرائیمی تھا جس کے والد کا نام نِباط اور والدہ کا نام صِرُوعہ تھا جو کہ ایک بیوہ تھیں۔ 27 اُس نے اِس وجہ سے بادشاہ سلیمان کے خلاف بغاوت کی تھی کہ اُنہوں نے ایک ٹیلا*‏ بنایا تھا اور اپنے والد داؤد کے شہر کے شگاف کو بھرا تھا۔ 28 یرُبعام ایک قابل آدمی تھا۔ جب سلیمان نے دیکھا کہ یہ جوان بڑا محنتی ہے تو اُنہوں نے اُسے یوسف کے گھرانے کے اُن سب لوگوں کا نگران بنا دیا جن سے جبری مشقت کرائی جاتی تھی۔ 29 اُس دوران یرُبعام یروشلم سے باہر گیا اور اخیاہ نبی جو سیلا سے تھے، راستے میں اُسے ملے۔ اخیاہ نے ایک نیا چوغہ پہنا ہوا تھا اور میدان میں اُن دونوں کے علاوہ اَور کوئی نہیں تھا۔ 30 اخیاہ نے اپنا نیا چوغہ اُتارا اور اِسے پھاڑ کر اِس کے 12 ٹکڑے کر دیے۔ 31 پھر اُنہوں نے یرُبعام سے کہا:‏

‏”‏دس ٹکڑے لے لو کیونکہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏مَیں سلیمان کے ہاتھ سے بادشاہت چھین کر اِس کے ٹکڑے کر دوں گا اور دس قبیلے تمہیں دوں گا۔ 32 لیکن مَیں اپنے بندے داؤد کی خاطر اور یروشلم کی خاطر جسے مَیں نے اِسرائیل کے قبیلوں کے سب شہروں میں سے چُنا ہے، ایک قبیلہ اُس کے پاس رہنے دوں گا۔ 33 مَیں ایسا اِس لیے کروں گا کیونکہ میرے بندوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور وہ صیدانیوں کی دیوی عستارات، موآب کے دیوتا کموس اور عمونیوں کے دیوتا مِلکوم کے سامنے جھکتے ہیں۔ اُنہوں نے وہ کام نہیں کیے جو میری نظر میں صحیح ہیں اور میرے قوانین اور فیصلوں کو نہیں مانا۔ اِس طرح وہ میری راہوں پر نہیں چلے جیسے سلیمان کا باپ داؤد چلا تھا۔ 34 لیکن مَیں اُس کے ہاتھ سے پوری بادشاہت نہیں لوں گا اور اُس کی ساری زندگی اُسے ایک سربراہ رہنے دوں گا۔ مَیں ایسا اپنے بندے داؤد کی خاطر کروں گا جسے مَیں نے چُنا کیونکہ اُس نے میرے حکموں اور میرے قوانین کو مانا۔ 35 لیکن مَیں اُس کے بیٹے کے ہاتھ سے بادشاہت لوں گا اور دس قبیلے تمہیں دے دوں گا۔ 36 مَیں اُس کے بیٹے کو ایک قبیلہ دوں گا تاکہ میرے بندے داؤد کا چراغ یروشلم میں ہمیشہ میرے حضور جلتا رہے یعنی اُس شہر میں جسے مَیں نے چُنا تاکہ میرا نام وہاں رہے۔ 37 مَیں تمہیں چُنوں گا اور تُم اِسرائیل کے بادشاہ بنو گے اور اُس سب پر حکمرانی کرو گے جس پر تُم*‏ حکمرانی کرنا چاہتے ہو۔ 38 اگر تُم میرے سب حکموں پر عمل کرو گے اور میری راہوں پر چلو گے اور میرے قوانین اور حکموں کو مان کر وہ کرو گے جو میری نظر میں صحیح ہے جیسے میرے بندے داؤد نے کِیا تو مَیں تمہارے بھی ساتھ ہوں گا۔ مَیں تمہارے گھرانے کو ہمیشہ قائم رکھوں گا جیسے مَیں نے داؤد کے گھرانے کے سلسلے میں کِیا ہے اور مَیں تمہیں اِسرائیل کا حکمران بناؤں گا۔ 39 مَیں داؤد کی نسل کو اُن کاموں کی وجہ سے رُسوا کروں گا جو اُس نے کیے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔“‏“‏

40 اِس لیے سلیمان نے یرُبعام کو مار ڈالنے کی کوشش کی لیکن یرُبعام مصر کے بادشاہ سیسق کے پاس مصر بھاگ گیا اور سلیمان کی موت تک وہیں رہا۔‏

41 سلیمان کی باقی کہانی اور اُن کے سارے کاموں اور اُن کی دانش‌مندی کے بارے میں تفصیل سلیمان کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 42 سلیمان نے یروشلم میں 40 سال تک سارے اِسرائیل پر حکمرانی کی۔ 43 پھر سلیمان اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُن کے والد داؤد کے شہر میں دفنایا گیا اور اُن کا بیٹا رحبُعام اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

12 رحبُعام سِکم گیا کیونکہ سارا اِسرائیل اُسے بادشاہ بنانے کے لیے سِکم آیا تھا۔ 2 جیسے ہی نِباط کے بیٹے یرُبعام نے اِس بارے میں سنا (‏وہ ابھی تک مصر میں تھا کیونکہ وہ بادشاہ سلیمان کی وجہ سے وہاں بھاگ گیا تھا اور وہیں رہ رہا تھا)‏، 3 لوگوں نے اُسے بُلایا۔ اِس کے بعد یرُبعام اور اِسرائیل کی ساری جماعت رحبُعام کے پاس آئی اور کہا:‏ 4 ‏”‏آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ اُس بھاری*‏ جُوئے کو ہلکا کر دیں اور اُس کڑی محنت کے سلسلے میں جو ہم آپ کے والد کے لیے کرتے تھے، ہمارے ساتھ تھوڑی رعایت برتیں تو ہم آپ کی خدمت کریں گے۔“‏

5 اِس پر رحبُعام نے اُن سے کہا:‏ ”‏ابھی جائیں اور تین دن بعد میرے پاس واپس آئیں۔“‏ تب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ 6 پھر بادشاہ رحبُعام نے اُن بزرگوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے والد سلیمان کے جیتے جی اُن کے مُشیر ہوا کرتے تھے۔ اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے خیال میں مجھے اِن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے؟“‏ 7 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اگر آج آپ اِن لوگوں کے خادم بن جائیں اور اِن کی درخواست مان لیں اور اِنہیں نرمی سے جواب دیں تو یہ ہمیشہ آپ کے خادم رہیں گے۔“‏

8 لیکن اُس نے بزرگوں کے مشورے کو رد کر دیا اور اُن جوانوں سے مشورہ کِیا جو اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے اور اب اُس کے خادم تھے۔ 9 اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے خیال میں ہمیں اُن لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے جنہوں نے مجھ سے کہا ہے:‏ ”‏آپ کے والد نے ہم پر جو جُوا لادا تھا، اُسے ہلکا کر دیں“‏؟“‏ 10 جو جوان آدمی اُس کے ساتھ پلے بڑھے تھے، اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں نے آپ سے کہا ہے کہ ”‏آپ کے والد نے ہمارا جُوا بھاری کر دیا تھا لیکن آپ اُسے ہلکا کر دیں،“‏ آپ کو اُن سے یہ کہنا چاہیے:‏ ”‏میری چھوٹی اُنگلی میرے والد کی کمر سے بھی موٹی ہوگی۔ 11 میرے والد نے آپ پر بھاری جُوا لادا لیکن مَیں اِس جُوئے کو اَور بھاری کروں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں آپ کو نوکیلے کوڑوں*‏ سے سزا دوں گا۔“‏“‏

12 یرُبعام اور سب لوگ تیسرے دن بادشاہ رحبُعام کے پاس آئے جیسے کہ اُس نے کہا تھا:‏ ”‏تیسرے دن میرے پاس واپس آنا۔“‏ 13 لیکن بادشاہ نے لوگوں کو سختی سے جواب دیا اور اُس مشورے کو ٹھکرا دیا جو بزرگوں نے اُسے دیا تھا۔ 14 اُس نے جوان آدمیوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہا:‏ ”‏میرے والد نے آپ کا جُوا بھاری کِیا تھا لیکن مَیں اِس جُوئے کو اَور بھاری کروں گا۔ میرے والد نے آپ کو کوڑوں سے سزا دی لیکن مَیں آپ کو نوکیلے کوڑوں*‏ سے سزا دوں گا۔“‏ 15 اِس طرح بادشاہ نے لوگوں کی بات نہیں مانی۔ یہ یہوواہ کی طرف سے تھا کہ حالات نے ایسے کروٹ لی تاکہ وہ بات پوری ہو جو یہوواہ نے اخیاہ سیلانی کے ذریعے نِباط کے بیٹے یرُبعام سے کہی تھی۔‏

16 جب سب اِسرائیلیوں نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی بات ماننے سے اِنکار کر دیا ہے تو اُنہوں نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏ہم داؤد کے ساتھ حصے‌دار نہیں ہیں اور نہ ہی یسی کے بیٹے کی وراثت میں ہمارا کوئی حصہ ہے۔ اِسرائیلیو!‏ اپنے اپنے خدا کی طرف لوٹ جاؤ۔ داؤد!‏ اب اپنے گھرانے کو خود سنبھالو۔“‏ پھر اِسرائیلی اپنے اپنے گھروں*‏ کو لوٹ گئے۔ 17 لیکن رحبُعام اُن اِسرائیلیوں پر حکمرانی کرتا رہا جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے۔‏

18 پھر بادشاہ رحبُعام نے ادورام کو جو اُن لوگوں کے سربراہ تھے جنہیں بادشاہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا جاتا تھا، اِسرائیلیوں کے پاس بھیجا۔ لیکن سب اِسرائیلیوں نے اُنہیں سنگسار کر دیا۔ بادشاہ رحبُعام کسی طرح اپنے رتھ پر سوار ہو کر یروشلم بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ 19 اور اِسرائیلی آج تک داؤد کے گھرانے کے خلاف بغاوت کرتے آ رہے ہیں۔‏

20 جیسے ہی سارے اِسرائیلیوں نے سنا کہ یرُبعام لوٹ آیا ہے، اُنہوں نے ایک مجمع اِکٹھا کِیا اور یرُبعام کو بُلایا۔ وہاں اُنہوں نے اُسے سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔ یہوداہ کے قبیلے کے علاوہ کسی نے بھی داؤد کے گھرانے کا ساتھ نہیں دیا۔‏

21 جب رحبُعام یروشلم پہنچا تو اُس نے فوراً یہوداہ کے سارے گھرانے اور بِنیامین کے قبیلے سے 1 لاکھ 80 ہزار ماہر*‏ جنگجوؤں کو اِکٹھا کِیا تاکہ وہ سلیمان کے بیٹے رحبُعام کی بادشاہت کو بحال کرنے کے لیے اِسرائیل کے گھرانے سے لڑیں۔ 22 پھر سچے خدا کا یہ کلام سچے خدا کے بندے سِمعیاہ تک پہنچا:‏ 23 ‏”‏یہوداہ کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے رحبُعام اور یہوداہ کے سارے گھرانے اور بِنیامین اور باقی سب لوگوں سے کہو:‏ 24 ‏”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏تُم اپنے اِسرائیلی بھائیوں سے جنگ کرنے نہ جاؤ۔ تُم میں سے ہر ایک اپنے اپنے گھر لوٹ جائے کیونکہ یہ سب میری طرف سے ہوا ہے۔“‏“‏“‏ اُنہوں نے یہوواہ کی بات مانی اور یہوواہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔‏

25 پھر یرُبعام نے اِفرائیم کے پہاڑی علاقے میں سِکم کو بنایا*‏ اور وہاں رہنے لگا۔ اِس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا اور فِنُوایل کو بنایا۔‏*‏ 26 یرُبعام نے دل میں سوچا:‏ ”‏اب بادشاہت پھر سے داؤد کے گھرانے کو مل جائے گی۔ 27 اگر یہ لوگ یروشلم میں یہوواہ کے گھر میں قربانیاں پیش کرنے جاتے رہیں گے تو اِن کے دل پھر سے اپنے مالک یہوداہ کے بادشاہ رحبُعام کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ پھر یہ مجھے مار ڈالیں گے اور یہوداہ کے بادشاہ رحبُعام کے پاس لوٹ جائیں گے۔“‏ 28 صلاح مشورے کے بعد بادشاہ نے سونے کے دو بچھڑے بنوائے اور لوگوں سے کہا:‏ ”‏آپ لوگوں کے لیے یروشلم جانا بہت مشکل ہے۔ اِسرائیلیو!‏ یہ ہے آپ کا خدا جو آپ کو ملک مصر سے نکال کر لایا ہے۔“‏ 29 پھر اُس نے ایک بچھڑا بیت‌ایل میں رکھوایا اور دوسرا دان میں۔ 30 اِس وجہ سے لوگ گُناہ کرنے لگے اور جو بچھڑا دان میں تھا، اُسے پوجنے کے لیے دُور دان تک جانے لگے۔‏

31 اِس کے علاوہ اُس نے اُونچی جگہوں پر عبادت‌گاہیں بھی بنوائیں اور وہاں عام لوگوں کو کاہن مقرر کِیا جو لاوی نہیں تھے۔ 32 اِس کے ساتھ ساتھ یرُبعام نے آٹھویں مہینے کے 15ویں دن ایک عید شروع کی جو یہوداہ میں منائی جانے والی عید کی طرح تھی۔ اُس نے اُس قربان‌گاہ پر بچھڑے قربان کیے جو اُس نے بیت‌ایل میں بنائی تھی اور بیت‌ایل کی اُن اُونچی جگہوں پر کاہن مقرر کیے جو اُس نے بنائی تھیں۔ 33 اُس نے آٹھویں مہینے کے 15ویں دن اُس قربان‌گاہ پر قربانیاں پیش کرنی شروع کیں جو اُس نے بیت‌ایل میں بنائی تھی۔ اُس نے یہ مہینہ خود چُنا تھا۔ اُس نے اِسرائیل کے لوگوں کے لیے ایک عید شروع کی اور اُوپر قربان‌گاہ پر جا کر قربانیاں پیش کیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔‏

13 یہوواہ کے حکم پر خدا کا ایک بندہ یہوداہ سے بیت‌ایل آیا۔ اُس وقت یرُبعام قربان‌گاہ کے پاس کھڑا تھا تاکہ قربانی پیش کرے جس سے دُھواں اُٹھے۔ 2 پھر خدا کے اُس بندے نے یہوواہ کے حکم کے مطابق اُونچی آواز میں قربان‌گاہ سے کہا:‏ ”‏اَے قربان‌گاہ!‏ اَے قربان‌گاہ!‏ یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏دیکھ!‏ داؤد کے گھرانے میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام یوسیاہ ہوگا۔ وہ تجھ پر اُونچی جگہوں کے کاہنوں کو قربان کرے گا یعنی اُن کو جو تجھ پر قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اُن کا دُھواں اُٹھے اور وہ تجھ پر اِنسانوں کی ہڈیاں جلائے گا۔“‏“‏ 3 خدا کے اُس بندے نے اُس دن ایک نشانی دیتے ہوئے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ نشانی دی ہے:‏ دیکھو!‏ قربان‌گاہ پھٹ جائے گی اور اِس پر پڑی راکھ*‏ بکھر جائے گی۔“‏

4 جیسے ہی بادشاہ یرُبعام نے سچے خدا کے بندے کے وہ الفاظ سنے جو اُس نے بیت‌ایل کی قربان‌گاہ کے بارے میں کہے تھے، اُس نے اپنا ہاتھ قربان‌گاہ سے ہٹا کر سچے خدا کے بندے کی طرف بڑھایا اور کہا:‏ ”‏پکڑ لو اِسے!‏“‏ اُسی وقت اُس کا وہ ہاتھ سُوکھ گیا*‏ اور وہ اُسے واپس اپنی طرف نہ کھینچ سکا۔ 5 تب قربان‌گاہ پھٹ گئی اور اِس پر پڑی راکھ بکھر گئی، بالکل اُس نشانی کے مطابق جو سچے خدا کے بندے نے یہوواہ کے حکم سے بتائی تھی۔‏

6 پھر بادشاہ نے سچے خدا کے بندے سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اپنے خدا یہوواہ سے رحم کی بھیک مانگیں اور میرے لیے دُعا کریں کہ میرا ہاتھ ٹھیک ہو جائے۔“‏ اِس پر سچے خدا کے بندے نے یہوواہ سے رحم کی بھیک مانگی اور بادشاہ کا ہاتھ پہلے کی طرح ٹھیک ہو گیا۔ 7 اِس کے بعد بادشاہ نے سچے خدا کے بندے سے کہا:‏ ”‏میرے ساتھ گھر چلیں اور کچھ کھائیں پئیں۔ مَیں آپ کو ایک تحفہ بھی دینا چاہتا ہوں۔“‏ 8 لیکن سچے خدا کے بندے نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏اگر آپ مجھے اپنا آدھا گھر بھی دیں تو مَیں آپ کے ساتھ نہیں آؤں گا۔ مَیں اِس جگہ نہ تو روٹی کھاؤں گا اور نہ پانی پیوں گا 9 کیونکہ یہوواہ نے مجھے حکم دیا تھا:‏ ”‏تُم نہ تو روٹی کھانا اور نہ پانی پینا اور نہ اُس راستے سے لوٹنا جس سے تُم آئے ہو۔“‏“‏ 10 اِس لیے وہ دوسرے راستے سے واپس گیا اور وہ راستہ نہیں لیا جس سے وہ بیت‌ایل آیا تھا۔‏

11 بیت‌ایل میں ایک بوڑھا نبی رہتا تھا۔ اُس کے بیٹے گھر آئے اور اُسے وہ سب کچھ بتایا جو سچے خدا کے بندے نے اُس دن بیت‌ایل میں کِیا تھا اور وہ باتیں بھی بتائیں جو اُس نے بادشاہ سے کہی تھیں۔ جب اُنہوں نے اپنے والد کو سب کچھ بتا لیا 12 تو اُن کے والد نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏وہ کس طرف گیا ہے؟“‏ تب اُس کے بیٹوں نے اُسے وہ راستہ دِکھایا جس سے یہوداہ سے آنے والا سچے خدا کا وہ بندہ گیا تھا۔ 13 اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا:‏ ”‏میرے لیے گدھے پر زِین کَسو۔“‏ اُنہوں نے اُس کے لیے گدھے پر زِین کَسی اور وہ اُس پر سوار ہو گیا۔‏

14 وہ سچے خدا کے اُس بندے کے پیچھے گیا اور دیکھا کہ وہ ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا ہے۔ اُس نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ سچے خدا کے وہ بندے ہیں جو یہوداہ سے آئے ہیں؟“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏جی۔“‏ 15 پھر بوڑھے نبی نے اُس سے کہا:‏ ”‏میرے ساتھ گھر چلیں اور کھانا کھائیں۔“‏ 16 لیکن اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کے ساتھ واپس نہیں جا سکتا اور آپ کی دعوت قبول نہیں کر سکتا۔ مَیں اِس جگہ آپ کے ساتھ نہ تو روٹی کھا سکتا ہوں اور نہ پانی پی سکتا ہوں 17 کیونکہ یہوواہ نے مجھے حکم دیا تھا:‏ ”‏تُم نہ تو وہاں روٹی کھانا اور نہ پانی پینا۔ تُم اُس راستے سے نہیں لوٹنا جس سے تُم آئے ہو۔“‏“‏ 18 اِس پر اُس بوڑھے نبی نے اُس سے کہا:‏ ”‏مَیں بھی آپ کی طرح ایک نبی ہوں اور ایک فرشتے نے یہوواہ کے حکم سے مجھ سے کہا ہے:‏ ”‏اُسے اپنے ساتھ واپس لائیں۔ اُسے اپنے گھر لائیں تاکہ وہ روٹی کھائے اور پانی پیے۔“‏“‏ (‏بوڑھے نبی نے اُس سے جھوٹ بولا۔)‏ 19 اِس لیے وہ اُس کے ساتھ واپس گیا اور اُس کے گھر میں روٹی کھائی اور پانی پیا۔‏

20 جب وہ میز پر بیٹھے تھے تو یہوواہ کا کلام اُس نبی تک پہنچا جو اُسے واپس لایا تھا۔ 21 اُس نے اُونچی آواز میں یہوداہ سے آنے والے سچے خدا کے اُس بندے سے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏تُم نے یہوواہ کے فرمان کی خلاف‌ورزی کی اور اپنے خدا یہوواہ کے حکم کو نہیں مانا 22 بلکہ تُم اُس جگہ روٹی کھانے اور پانی پینے واپس آ گئے جس کے بارے میں تُم سے کہا گیا تھا:‏ ”‏وہاں نہ تو روٹی کھانا اور نہ پانی پینا۔“‏ اِس لیے تمہاری لاش تمہارے باپ‌دادا کی قبر میں نہیں پہنچے گی۔“‏“‏

23 جب سچے خدا کے بندے نے کھا پی لیا تو بوڑھے نبی نے اُس نبی کے لیے گدھے پر زِین کَسی جسے وہ واپس لایا تھا۔ 24 پھر وہ روانہ ہو گیا۔ لیکن راستے میں اُسے ایک شیر ملا جس نے اُسے مار ڈالا۔ اُس کی لاش راستے میں پڑی ہوئی تھی اور گدھا اور شیر اُس کی لاش کے پاس کھڑے تھے۔ 25 وہاں سے گزرنے والے آدمیوں نے دیکھا کہ راستے میں لاش پڑی ہے اور شیر اُس کے پاس کھڑا ہے۔ پھر وہ اُس شہر میں آئے جہاں بوڑھا نبی رہتا تھا اور اِس بارے میں بتایا۔‏

26 جب اُس نبی نے جو سچے خدا کے بندے کو راستے سے واپس لایا تھا، یہ سنا تو اُس نے فوراً کہا:‏ ”‏یہ سچے خدا کا وہ بندہ ہے جس نے یہوواہ کے فرمان کی خلاف‌ورزی کی۔ اِس لیے یہوواہ نے اُسے شیر کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُسے چیر پھاڑ ڈالے۔ یہ بالکل اُس بات کے مطابق ہوا جو یہوواہ نے اُس سے کہی تھی۔“‏ 27 پھر اُس نے اپنے بیٹوں سے کہا:‏ ”‏میرے لیے گدھے پر زِین کَسو۔“‏ اِس لیے اُنہوں نے گدھے پر زِین کَسی۔ 28 اِس کے بعد وہ بوڑھا نبی روانہ ہوا اور اُس نے دیکھا کہ راستے میں لاش پڑی ہے اور گدھا اور شیر اُس کے پاس کھڑے ہیں۔ شیر نے نہ تو لاش کو کھایا تھا اور نہ ہی گدھے کو کوئی نقصان پہنچایا تھا۔ 29 اُس نبی نے سچے خدا کے بندے کی لاش کو اُٹھایا اور اُسے گدھے پر رکھا۔ وہ اُسے اپنے شہر لایا تاکہ اُس کے لیے ماتم کرے اور اُسے دفنائے۔ 30 اُس نے اُس کی لاش کو اپنی قبر میں رکھا اور لوگ روتے ہوئے کہنے لگے:‏ ”‏ہائے میرے بھائی!‏ کتنا بُرا ہوا!‏“‏ 31 اُسے دفنانے کے بعد اُس نبی نے اپنے بیٹوں سے کہا:‏ ”‏جب مَیں مر جاؤں تو تُم مجھے اِسی جگہ دفنانا جہاں سچے خدا کے اِس بندے کو دفنایا گیا ہے۔ میری ہڈیاں اِس کی ہڈیوں کے ساتھ رکھنا۔ 32 اُس نے یہوواہ کے کلام کے مطابق بیت‌ایل کی قربان‌گاہ اور سامریہ کے شہروں کی اُونچی جگہوں پر بنی سب عبادت‌گاہوں کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، وہ ضرور ہوگا۔“‏

33 اِس سب کے باوجود یرُبعام نے اپنی بُری روِش نہیں چھوڑی بلکہ وہ عام لوگوں میں سے اُونچی جگہوں کے کاہن مقرر کرتا رہا۔ وہ ہر اُس شخص کو کاہن بنا دیتا تھا*‏ جو کاہن بننا چاہتا تھا اور کہتا تھا:‏ ”‏اِسے اُونچی جگہ کا کاہن بننے دو۔“‏ 34 یرُبعام کے گھرانے کے اِس گُناہ کی وجہ سے اُس کا گھرانہ تباہ ہوا اور زمین سے اُس کا نام‌ونشان مٹ گیا۔‏

14 اُس دوران یرُبعام کا بیٹا ابی‌یاہ بیمار پڑ گیا۔ 2 اِس لیے یرُبعام نے اپنی بیوی سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اُٹھو اور سیلا جاؤ۔ اپنا بھیس بدل کر جانا تاکہ کوئی پہچان نہ سکے کہ آپ یرُبعام کی بیوی ہو۔ دیکھو وہاں اخیاہ نبی ہیں۔ اُنہوں نے ہی مجھ سے کہا تھا کہ مَیں اِس قوم کا بادشاہ بنوں گا۔ 3 اپنے ساتھ دس روٹیاں، کچھ ٹکیاں اور شہد کا ایک مرتبان لو اور اُن کے پاس جاؤ۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ہمارے بیٹے کے ساتھ کیا ہوگا۔“‏

4 یرُبعام کی بیوی نے وہی کِیا جو اُس کے شوہر نے کہا تھا۔ وہ اُٹھ کر سیلا گئی اور اخیاہ کے گھر پہنچی۔ بڑھاپے کی وجہ سے اخیاہ کی آنکھیں ایک جگہ ٹکی رہتی تھیں اور وہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔‏

5 لیکن یہوواہ اخیاہ کو بتا چُکا تھا کہ ”‏یرُبعام کی بیوی تُم سے یہ پوچھنے کے لیے آ رہی ہے کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوگا کیونکہ وہ بیمار ہے۔ مَیں تمہیں بتاؤں گا کہ تمہیں اُس سے کیا کہنا ہے۔‏*‏ جب وہ پہنچے گی تو وہ اپنی پہچان چھپائے گی۔“‏

6 جب یرُبعام کی بیوی دروازے سے اندر آ رہی تھی تو اخیاہ نے اُس کے قدموں کی چاپ سنتے ہی اُس سے کہا:‏ ”‏یرُبعام کی بیوی!‏ اندر آ جائیں۔ آپ اپنی پہچان کیوں چھپا رہی ہیں؟ مجھے آپ کو ایک سخت پیغام سنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ 7 جائیں اور یرُبعام سے کہیں:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏مَیں نے تمہیں تمہاری قوم میں سے چُنا تاکہ تمہیں اپنی قوم اِسرائیل کا رہنما بناؤں۔ 8 پھر مَیں نے داؤد کے گھرانے سے بادشاہت چھین لی اور تمہیں دے دی۔ لیکن تُم میرے بندے داؤد کی طرح نہیں بنے جس نے میرے حکموں پر عمل کِیا اور پورے دل سے میری راہوں پر چلا اور صرف وہی کام کیے جو میری نظر میں صحیح تھے۔ 9 لیکن تُم نے اُن سب سے زیادہ بُرے کام کیے جو تُم سے پہلے آئے۔ تُم نے اپنے لیے دوسرا خدا اور دھات کے بُت بنائے اور اِس طرح مجھے غصہ دِلایا۔ تُم نے مجھ سے ہی پیٹھ پھیر لی۔ 10 اِسی وجہ سے مَیں یرُبعام کے گھرانے پر تباہی لاؤں گا اور مَیں اُس کے گھرانے کے ہر مرد*‏ کو ہلاک کر دوں گا،‏*‏ یہاں تک کہ اِسرائیل کے بے‌سہارا اور کمزور لوگوں کو بھی۔ اور مَیں یرُبعام کے گھرانے کا پوری طرح صفایا کر دوں گا جیسے کوئی گوبر کو تب تک صاف کرتا ہے جب تک وہ پوری طرح صاف نہ ہو جائے۔ 11 یرُبعام سے تعلق رکھنے والا جو بھی شخص شہر میں مرے گا، اُسے کُتے کھائیں گے اور جو بھی شخص میدان میں مرے گا، اُسے آسمان کے پرندے کھائیں گے کیونکہ یہوواہ نے یہ فرمایا ہے۔“‏“‏

12 اب اُٹھیں اور اپنے گھر جائیں۔ جب آپ شہر میں قدم رکھیں گی تو آپ کا بچہ مر جائے گا۔ 13 سارا اِسرائیل اُس کے لیے ماتم کرے گا اور اُسے دفنائے گا۔ یرُبعام کے گھرانے میں صرف اُسے ہی قبر ملے گی کیونکہ یرُبعام کے گھرانے میں صرف وہی ہے جس میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے کچھ اچھا دیکھا ہے۔ 14 یہوواہ اپنے لیے اِسرائیل سے ایک بادشاہ کھڑا کرے گا جو اُس دن بلکہ ابھی سے یرُبعام کے گھرانے کا نام‌ونشان مٹا دے گا۔‏*‏ 15 یہوواہ اِسرائیل پر ایسا وار کرے گا کہ وہ پانی میں جُھولتے سرکنڈے کی طرح ہو جائے گا۔ وہ اِسرائیل کو اِس عمدہ ملک سے اُکھاڑ دے گا جو اُس نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا اور وہ اُنہیں بڑے دریا*‏ کے پار تتربتر کر دے گا کیونکہ اُنہوں نے مُقدس بَلّیاں*‏ بنا کر یہوواہ کو غصہ دِلایا۔ 16 یرُبعام نے جو گُناہ کیے ہیں اور اِسرائیل سے جو گُناہ کرائے ہیں، اُن کی وجہ سے خدا اِسرائیل کو ترک کر دے گا۔“‏

17 پھر یرُبعام کی بیوی اُٹھ کر روانہ ہوئی اور تِرضہ پہنچی۔ جب وہ گھر کی دہلیز پر پہنچی تو لڑکا مر گیا۔ 18 اُسے دفنایا گیا اور سارے اِسرائیل نے اُس کے لیے ماتم کِیا، بالکل اُس بات کے مطابق جو یہوواہ نے اپنے بندے اخیاہ نبی کے ذریعے فرمائی تھی۔‏

19 یرُبعام کی باقی کہانی اور اِس بارے میں تفصیل کہ اُس نے جنگیں کیسے لڑیں اور حکمرانی کیسے کی، اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 20 یرُبعام نے 22 سال حکمرانی کی جس کے بعد وہ اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُس کا بیٹا ندب اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

21 اِس دوران یہوداہ میں سلیمان کا بیٹا رحبُعام بادشاہ بن گیا۔ جب رحبُعام بادشاہ بنا تو وہ 41 سال کا تھا اور اُس نے 17 سال یروشلم میں حکمرانی کی یعنی اُس شہر میں جسے یہوواہ نے اِسرائیل کے قبیلوں کے سب شہروں میں سے چُنا تاکہ اُس کا نام وہاں رہے۔ رحبُعام کی والدہ کا نام نعمہ تھا جو عمونی تھیں۔ 22 یہوداہ کے لوگوں نے ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُنہوں نے اپنے گُناہوں کی وجہ سے خدا کو اپنے باپ‌دادا سے بھی زیادہ غصہ دِلایا۔ 23 وہ بھی ہر ایک پہاڑی پر اور ہر ایک گھنے درخت کے نیچے اپنے لیے اُونچی جگہیں، مُقدس ستون اور مُقدس بَلّیاں*‏ بناتے رہے۔ 24 اِس کے علاوہ ملک میں مندر کے جسم‌فروش مرد بھی تھے۔ لوگ ایسے سب گھناؤنے کام کرتے تھے جو وہ قومیں کرتی تھیں جنہیں یہوواہ نے اِسرائیلیوں کے سامنے سے نکال دیا تھا۔‏

25 بادشاہ رحبُعام کی حکمرانی کے پانچویں سال میں مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم پر حملہ کر دیا۔ 26 وہ یہوواہ کے گھر اور بادشاہ کے محل کے خزانے لے گیا۔ اُس نے سب کچھ لے لیا جس میں سونے کی وہ سب ڈھالیں بھی شامل تھیں جو سلیمان نے بنوائی تھیں۔ 27 اِس لیے بادشاہ رحبُعام نے اُن کی جگہ تانبے کی ڈھالیں بنوائیں اور محافظوں*‏ کے سربراہوں کو دیں جو بادشاہ کے محل کے داخلی دروازے پر پہرا دیتے تھے۔ 28 جب بھی بادشاہ یہوواہ کے گھر میں آتا تھا، محافظ اُن ڈھالوں کو اُٹھاتے تھے اور پھر اُنہیں محافظوں کے کمرے میں واپس رکھ دیتے تھے۔‏

29 رحبُعام کی باقی کہانی اور اُس کے سارے کاموں کے بارے میں تفصیل یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 30 رحبُعام اور یرُبعام کے بیچ مسلسل جنگ چلتی رہی۔ 31 پھر رحبُعام اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے داؤد کے شہر میں اُس کے باپ‌دادا کے ساتھ دفنایا گیا۔ اُس کی والدہ کا نام نعمہ تھا جو عمونی تھیں۔ پھر رحبُعام کا بیٹا ابی‌یام*‏ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

15 نِباط کے بیٹے یرُبعام کی حکمرانی کے 18ویں سال میں ابی‌یام یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ 2 اُس نے یروشلم میں تین سال حکمرانی کی۔ اُس کی ماں کا نام معکہ تھا جو ابی‌سالوم کی نواسی تھی۔ 3 ابی‌یام وہ سارے گُناہ کرتا رہا جو اُس سے پہلے اُس کے والد نے کیے تھے اور اُس کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہیں تھا جیسے اُس کے بڑے بزرگ داؤد کا دل تھا۔ 4 لیکن اُس کے خدا یہوواہ نے داؤد کی خاطر اُسے یروشلم میں ایک چراغ دیا یعنی اُس کے بعد اُس کے بیٹے کو بادشاہ بنایا اور یروشلم کو قائم رکھا 5 کیونکہ داؤد نے وہی کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے اور وہ اپنی ساری زندگی خدا کے کسی حکم سے نہیں پھرے سوائے اُوریاہ حِتّی کے معاملے کے۔ 6 اور رحبُعام کی ساری زندگی اُس کے اور یرُبعام کے بیچ جنگ چلتی رہی۔‏

7 ابی‌یام کی باقی کہانی اور اُس کے سارے کاموں کے بارے میں تفصیل یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ ابی‌یام اور یرُبعام کے بیچ بھی جنگ چلتی رہی۔ 8 پھر ابی‌یام اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے داؤد کے شہر میں دفنایا گیا۔ پھر اُس کے بیٹے آسا اُس کی جگہ بادشاہ بنے۔‏

9 اِسرائیل کے بادشاہ یرُبعام کی حکمرانی کے 20ویں سال میں آسا نے یہوداہ پر حکمرانی شروع کی۔ 10 اُنہوں نے 41 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی دادی کا نام معکہ تھا جو ابی‌سالوم کی نواسی تھی۔ 11 آسا نے اپنے بڑے بزرگ داؤد کی طرح وہی کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ 12 اُنہوں نے ملک سے مندر کے جسم‌فروش مردوں کو نکال دیا اور اُن گھناؤنے بُتوں*‏ کو بھی جو اُن کے باپ‌دادا نے بنائے تھے۔ 13 اُنہوں نے اپنی دادی معکہ تک کو اُس کے اعلیٰ عہدے سے*‏ ہٹا دیا کیونکہ اُس نے مُقدس بَلّی*‏ کی پرستش کے لیے ایک فحش بُت بنایا تھا۔ آسا نے اُس فحش بُت کو کاٹ ڈالا اور اُسے وادیِ‌قِدرون میں جلا دیا۔ 14 لیکن اُونچی جگہیں نہیں ڈھائی گئیں۔ پھر بھی آسا کا دل عمر بھر پوری طرح یہوواہ کی طرف لگا رہا۔ 15 اور وہ اُس چاندی، سونے اور فرق فرق چیزوں کو جو اُنہوں نے اور اُن کے باپ نے پاک کی تھیں، یہوواہ کے گھر میں لائے۔‏

16 آسا اور اِسرائیل کے بادشاہ بعشا کے بیچ مسلسل جنگ چلتی رہی۔ 17 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ بعشا نے یہوداہ پر حملہ کر دیا اور رامہ کو بنانے*‏ لگا تاکہ نہ تو کوئی یہوداہ کے بادشاہ آسا کے پاس آ سکے اور نہ کوئی اُس کے پاس سے جا سکے۔‏*‏ 18 اِس پر آسا نے وہ سارا سونا چاندی لیا جو یہوواہ کے گھر کے خزانوں اور بادشاہ کے محل کے خزانوں میں بچا تھا اور اِسے اپنے خادموں کو دیا۔ پھر بادشاہ آسا نے اِسے سُوریہ کے بادشاہ حِزیون کے بیٹے طاب‌رمّوِن کے بیٹے بِن‌ہدد کے پاس بھیجا جو دمشق میں رہ رہا تھا اور ساتھ یہ پیغام بھیجا:‏ 19 ‏”‏آپ کے اور میرے بیچ ایک معاہدہ*‏ ہے جیسے آپ کے اور میرے والد کے بیچ تھا۔ مَیں آپ کو چاندی اور سونے کا تحفہ بھیج رہا ہوں۔ آئیں اور اِسرائیل کے بادشاہ بعشا کے ساتھ اپنا معاہدہ*‏ توڑ دیں تاکہ وہ یہاں سے چلا جائے۔“‏ 20 بِن‌ہدد نے بادشاہ آسا کی بات مانی اور اپنی فوج کے سربراہوں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے بھیجا۔ اُنہوں نے عِیّون، دان، ابیل‌بیت‌معکہ اور کِنّرِت اور نفتالی کے سارے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ 21 جب بعشا نے اِس بارے میں سنا تو اُس نے فوراً رامہ کو بنانا*‏ چھوڑ دیا اور تِرضہ میں ہی رہنے لگا۔ 22 پھر بادشاہ آسا نے سارے یہوداہ کو بُلایا، کسی کو بھی یہ چُھوٹ نہیں تھی کہ وہ نہ آئے۔ وہ لوگ اُن پتھروں اور لکڑیوں کو اُٹھا کر لے گئے جن سے بعشا رامہ کو بنوا رہا تھا اور بادشاہ آسا نے اِن سے مِصفاہ اور بِنیامین کے علاقے میں جبع کو بنایا۔‏*‏

23 آسا کی باقی کہانی اور اُن کے سارے کارناموں،‏*‏ سارے کاموں اور اُن شہروں کے بارے میں تفصیل جو اُنہوں نے بنائے تھے،‏*‏ یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ لیکن بڑھاپے میں اُنہیں پاؤں کی ایک بیماری لگ گئی۔ 24 پھر آسا اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُن کے باپ‌دادا کے ساتھ داؤد کے شہر میں دفنایا گیا۔ اُن کے بیٹے یہوسفط اُن کی جگہ بادشاہ بنے۔‏

25 یرُبعام کا بیٹا ندب یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے دوسرے سال میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اور اُس نے دو سال اِسرائیل پر حکمرانی کی۔ 26 وہ ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُسی راہ پر چلا جس پر اُس کا باپ چلا تھا اور وہی گُناہ کِیا جو اُس کے باپ نے اِسرائیل سے کرایا تھا۔ 27 اخیاہ کے بیٹے بعشا نے جو اِشّکار کے گھرانے سے تھا، اُس کے خلاف سازش گھڑی۔ جب ندب اور سارے اِسرائیل نے جِبّتون کو گھیرا ہوا تھا جو کہ فِلِستیوں کا علاقہ ہے تو بادشاہ نے اُسے مار گِرایا۔ 28 اِس طرح بعشا نے یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے تیسرے سال میں ندب کو مار ڈالا اور اُس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔ 29 جیسے ہی وہ بادشاہ بنا، اُس نے یرُبعام کے گھرانے کے سب لوگوں کو مار ڈالا۔ اُس نے یرُبعام کے گھرانے کے کسی بھی شخص کو زندہ نہیں چھوڑا۔ اُس نے اُن کا نام‌ونشان مٹا دیا۔ اِس طرح یہوواہ کی وہ بات پوری ہوئی جو اُس نے اپنے بندے اخیاہ سیلانی کے ذریعے کہی تھی۔ 30 ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ یرُبعام نے گُناہ کیے اور اِسرائیل سے گُناہ کرائے اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ کو شدید غصہ دِلایا۔ 31 ندب کی باقی کہانی اور اُس کے سارے کاموں کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 32 آسا اور اِسرائیل کے بادشاہ بعشا کے درمیان مسلسل جنگ چلتی رہی۔‏

33 یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے تیسرے سال میں اخیاہ کا بیٹا بعشا تِرضہ میں سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنا اور اُس نے 24 سال تک حکمرانی کی۔ 34 لیکن وہ ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُسی راہ پر چلا جس پر یرُبعام چلا تھا اور وہی گُناہ کِیا جو یرُبعام نے اِسرائیل سے کرایا تھا۔‏

16 پھر بعشا کے خلاف یہوواہ کا یہ کلام حنانی کے بیٹے یاہُو تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏مَیں نے تمہیں خاک سے اُٹھایا اور اپنی قوم اِسرائیل کا رہنما بنایا۔ لیکن تُم اُس راہ پر چلتے رہے جس پر یرُبعام چلا اور میری قوم اِسرائیل سے گُناہ کرایا جس کی وجہ سے اُنہوں نے اپنے گُناہوں سے مجھے غصہ دِلایا۔ 3 اِس لیے مَیں بعشا اور اُس کے گھرانے کا پوری طرح صفایا کر دوں گا اور اُس کے گھرانے کو نِباط کے بیٹے یرُبعام کے گھرانے کی طرح بنا دوں گا۔ 4 بعشا کے گھرانے کا جو بھی شخص شہر میں مرے گا، اُسے کُتے کھائیں گے اور اُس کے گھرانے کا جو بھی شخص میدان میں مرے گا، اُسے آسمان کے پرندے کھائیں گے۔“‏

5 بعشا کی باقی کہانی اور اُس کے کاموں اور کارناموں*‏ کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 6 پھر بعشا اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے تِرضہ میں دفنایا گیا۔ اِس کے بعد اُس کا بیٹا اِیلاہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔ 7 یہوواہ نے حنانی کے بیٹے یاہُو نبی کے ذریعے بعشا اور اُس کے گھرانے کے خلاف اپنا کلام پہنچایا۔ اِس کی ایک وجہ وہ ساری بُرائی تھی جو اُس نے یہوواہ کے حضور کی تھی اور اِس طرح اپنے کاموں سے اُسے غصہ دِلایا تھا جیسے یرُبعام کے گھرانے نے کِیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اُس نے اُسے*‏ مار ڈالا۔‏

8 یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے 26ویں سال میں بعشا کا بیٹا اِیلاہ تِرضہ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اور اُس نے دو سال حکمرانی کی۔ 9 اُس کا ایک خادم تھا جس کا نام زِمری تھا۔ وہ اُس کے رتھوں کی آدھی فوج کا سربراہ تھا۔ جب اِیلاہ تِرضہ میں اَرضہ کے گھر جو وہاں اُس کے گھرانے کا نگران تھا، مے پی پی کر نشے میں دُھت ہو رہا تھا تو زِمری نے اُس کے خلاف سازش گھڑی۔ 10 زِمری اندر آیا اور اُس پر وار کر کے اُسے مار ڈالا اور اُس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔ یہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے 27ویں سال کی بات ہے۔ 11 جب وہ بادشاہ بنا تو تخت سنبھالتے ہی اُس نے بعشا کے سارے گھرانے کو مار ڈالا۔ اُس نے اُس کے رشتے‌داروں*‏ یا دوستوں میں سے ایک بھی مرد*‏ کو زندہ نہیں چھوڑا۔ 12 اِس طرح زِمری نے بعشا کے سارے گھرانے کو مٹا دیا۔ یوں یہوواہ کی وہ بات پوری ہوئی جو اُس نے یاہُو نبی کے ذریعے بعشا کے خلاف کہی تھی۔ 13 یہ اُن سب گُناہوں کی وجہ سے ہوا جو بعشا اور اُس کے بیٹے اِیلاہ نے کیے اور اُن گُناہوں کی وجہ سے جو اُنہوں نے اِسرائیلیوں سے کرائے جنہوں نے اپنے بے‌کار بُتوں کی پرستش کر کے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کو غصہ دِلایا۔ 14 اِیلاہ کی باقی کہانی اور اُس کے سارے کاموں کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔‏

15 یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے 27ویں سال میں زِمری سات دن کے لیے تِرضہ میں بادشاہ بنا۔ اُس وقت اِسرائیلی فوجوں نے جِبّتون کے باہر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا جو کہ فِلِستیوں کا ایک شہر ہے۔ 16 جن فوجیوں نے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا، اُنہوں نے کچھ دیر بعد یہ خبر سنی:‏ ”‏زِمری نے سازش کی ہے اور بادشاہ کو مار ڈالا ہے۔“‏ اِس لیے سارے اِسرائیل نے عمری کو جو فوج کا سربراہ تھا، اُس دن خیمہ‌گاہ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنایا۔ 17 عمری اور اُس کے ساتھ سارا اِسرائیل جِبّتون سے اُوپر کی طرف گیا اور تِرضہ کو گھیر لیا۔ 18 جب زِمری نے دیکھا کہ شہر پر قبضہ ہو گیا ہے تو وہ بادشاہ کے محل کے مضبوط بُرج میں چلا گیا۔ اُس نے محل کو آگ لگا دی اور جل کر مر گیا۔ 19 ایسا اُس کے اپنے گُناہوں کی وجہ سے ہوا کیونکہ اُس نے یرُبعام کی روِش پر چل کر ایسے کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُس گُناہ کی وجہ سے بھی جو اُس نے اِسرائیل سے کرایا۔ 20 زِمری کی باقی کہانی اور اُس کی سازش کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔‏

21 اُس وقت اِسرائیل کے لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ جِنیت کے بیٹے تِبنی کی طرف ہو گیا اور اُسے بادشاہ بنانا چاہتا تھا جبکہ دوسرا گروہ عمری کی طرف ہو گیا۔ 22 لیکن جو لوگ عمری کی طرف تھے، وہ اُن لوگوں پر حاوی ہو گئے جو جِنیت کے بیٹے تِبنی کی طرف تھے۔ پھر تِبنی کی موت ہو گئی اور عمری بادشاہ بن گیا۔‏

23 یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے 31ویں سال میں عمری اِسرائیل کا بادشاہ بن گیا اور اُس نے 12 سال تک حکمرانی کی۔ اُس نے چھ سال تک تِرضہ میں حکمرانی کی۔ 24 اُس نے سمر کو دو قِنطار*‏ چاندی دے کر سامریہ کا پہاڑ خرید لیا اور اُس پہاڑ پر ایک شہر بنایا۔ اُس نے اُس شہر کا نام پہاڑ کے مالک سمر کے نام پر سامریہ*‏ رکھا۔ 25 عمری وہی کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ وہ اُن سب سے زیادہ بُرا تھا جو اُس سے پہلے آئے۔ 26 وہ پوری طرح سے نِباط کے بیٹے یرُبعام کی روِش پر چلا اور وہ گُناہ کِیا جو یرُبعام نے اِسرائیلیوں سے کرایا تھا جنہوں نے اپنے بے‌کار بُتوں کی پرستش کر کے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کو غصہ دِلایا تھا۔ 27 عمری کی باقی کہانی اور اُس کے کاموں اور کارناموں*‏ کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 28 پھر عمری اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُسے سامریہ میں دفنایا گیا اور اُس کا بیٹا اخی‌اب اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

29 عمری کا بیٹا اخی‌اب یہوداہ کے بادشاہ آسا کی حکمرانی کے 38ویں سال میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اور عمری کے بیٹے اخی‌اب نے سامریہ میں رہ کر 22 سال تک اِسرائیل پر حکمرانی کی۔ 30 عمری کا بیٹا اخی‌اب یہوواہ کی نظر میں اُن سب بادشاہوں سے زیادہ بُرا تھا جو اُس سے پہلے آئے تھے۔ 31 اُس نے نِباط کے بیٹے یرُبعام کی روِش پر چل کر گُناہ کیے اور اِتنا ہی نہیں بلکہ اُس نے صیدانیوں کے بادشاہ اِتبعل کی بیٹی اِیزِبل سے شادی بھی کر لی اور بعل کی پرستش کرنے اور اُس کے سامنے جھکنے لگا۔ 32 اِس کے علاوہ اُس نے بعل کے مندر*‏ میں جو اُس نے سامریہ میں بنوایا تھا، بعل کے لیے قربان‌گاہ بھی بنوائی۔‏

33 اخی‌اب نے مُقدس بَلّی*‏ بھی بنوائی۔ اخی‌اب نے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کو اُن سب بادشاہوں سے زیادہ غصہ دِلایا جو اُس سے پہلے آئے تھے۔‏

34 اُس کے زمانے میں حی‌ایل بیت‌ایلی نے یریحو کو دوبارہ بنایا۔ جب اُس نے اُس کی بنیادیں ڈالیں تو اُس کا پہلوٹھا بیٹا ابی‌رام مر گیا اور جب اُس نے اُس کے دروازے لگائے تو اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا سجوب مر گیا۔ یہ یہوواہ کی اُس بات کے مطابق ہوا جو اُس نے نُون کے بیٹے یشوع کے ذریعے کہی تھی۔‏

17 جِلعاد کے رہنے والے ایلیاہ*‏ تِشبی نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے زندہ خدا یہوواہ کی قسم جس کی مَیں عبادت کرتا ہوں،‏*‏ جب تک مَیں نہیں کہوں گا، اِن سالوں کے دوران نہ تو اوس پڑے گی اور نہ بارش ہو گی!‏“‏

2 پھر یہوواہ کا یہ کلام ایلیاہ تک پہنچا:‏ 3 ‏”‏یہاں سے مشرق کی طرف چلے جاؤ اور وادیِ‌کِرِیت میں چھپ جاؤ جو اُردن*‏ کے مشرق میں ہے۔ 4 تُم وہاں ندی کا پانی پینا اور مَیں کوّوں کو حکم دوں گا کہ وہ تمہیں وہاں کھانا پہنچائیں۔“‏ 5 ایلیاہ یہوواہ کے حکم کے مطابق فوراً وہاں سے نکلے اور اُردن کے مشرق میں وادیِ‌کِرِیت میں جا کر وہاں رہے۔ 6 کوّے صبح شام اُن کے لیے روٹی اور گوشت لاتے تھے اور وہ ندی کا پانی پیتے تھے۔ 7 لیکن کچھ دن بعد ندی سُوکھ گئی کیونکہ ملک میں بارش نہیں ہو رہی تھی۔‏

8 تب یہوواہ کا یہ کلام اُن تک پہنچا:‏ 9 ‏”‏اُٹھو اور صارپت جاؤ جو صیدا کے علاقے میں ہے اور وہیں رہو۔ دیکھو!‏ مَیں وہاں ایک بیوہ کو حکم دوں گا کہ وہ تمہیں کھانا دے۔“‏ 10 اِس لیے وہ اُٹھے اور صارپت گئے۔ جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو اُنہوں نے ایک بیوہ کو دیکھا جو لکڑیاں جمع کر رہی تھی۔ اُنہوں نے اُسے آواز دے کر کہا:‏ ”‏مہربانی سے مجھے ایک پیالے میں پینے کے لیے تھوڑا سا پانی لا دیں۔“‏ 11 جب وہ پانی لینے جا رہی تھی تو اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے تھوڑی سی روٹی بھی لے آئیے گا۔“‏ 12 اِس پر اُس نے کہا:‏ ”‏آپ کے زندہ خدا یہوواہ کی قسم، میرے پاس روٹی نہیں ہے۔ صرف ایک بڑے مرتبان میں مُٹھی بھر آٹا ہے اور چھوٹے مرتبان میں تھوڑا سا تیل ہے۔ ابھی مَیں کچھ لکڑیاں اِکٹھی کر رہی ہوں تاکہ جا کر اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے آخری بار کچھ بناؤں کیونکہ اِس کے بعد تو ہمیں مر ہی جانا ہے۔“‏

13 اِس پر ایلیاہ نے اُس سے کہا:‏ ”‏گھبرائیں مت!‏ جائیں اور جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی کریں۔ لیکن پہلے بچے ہوئے آٹے سے میرے لیے ایک چھوٹی روٹی بنا کر لائیں۔ بعد میں آپ اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے کچھ بنا لیجیے گا 14 کیونکہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏جس دن تک یہوواہ زمین پر بارش نہیں برسائے گا، اُس دن تک نہ تو آٹے کا بڑا مرتبان خالی ہوگا اور نہ تیل کا چھوٹا مرتبان۔“‏“‏ 15 اِس لیے وہ گئی اور ویسا ہی کِیا جیسا ایلیاہ نے کہا تھا۔ اور اُس کے اور اُس کے گھرانے کے لیے اور ایلیاہ کے لیے بہت دنوں تک کھانا دستیاب رہا۔ 16 یہوواہ کی اُس بات کے مطابق جو اُس نے ایلیاہ کے ذریعے کہی تھی، نہ تو آٹے کا بڑا مرتبان خالی ہوا اور نہ تیل کا چھوٹا مرتبان۔‏

17 اِن سب باتوں کے بعد اُس عورت کا بیٹا بیمار پڑ گیا جس نے ایلیاہ کو اپنے ہاں ٹھہرایا ہوا تھا۔ اُس کی حالت اِتنی بگڑ گئی کہ اُس کی سانس رُک گئی۔ 18 تب اُس عورت نے ایلیاہ سے کہا:‏ ”‏سچے خدا کے بندے!‏ مَیں نے آپ کا کیا بگا‌ڑا ہے؟‏*‏ کیا آپ اِس لیے میرے ہاں آئے ہیں کہ مجھے میرے گُناہ یاد دِلائیں اور میرے بیٹے کو مار ڈالیں؟“‏ 19 لیکن اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏اپنا بیٹا مجھے دیں۔“‏ پھر اُنہوں نے اُس کے بیٹے کو اُس کی گود سے لیا اور اُسے اُٹھا کر چھت پر موجود کمرے میں لے گئے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے اُسے اپنے بستر پر لِٹا دیا۔ 20 پھر اُنہوں نے یہوواہ کو پکار کر کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ میرے خدا!‏ تُو اِس بیوہ پر بھی مصیبت لے آیا ہے جس کے ہاں مَیں ٹھہرا ہوا ہوں؟ تُو نے اِس کے بیٹے کو کیوں مار ڈالا ہے؟“‏ 21 پھر وہ تین بار بچے پر لیٹے اور یہوواہ کو پکار کر کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ میرے خدا!‏ مہربانی سے اِس بچے میں زندگی*‏ لوٹ آئے۔“‏ 22 یہوواہ نے ایلیاہ کی درخواست سنی اور اُس بچے میں زندگی*‏ لوٹ آئی اور وہ پھر سے زندہ ہو گیا۔ 23 ایلیاہ اُس بچے کو لے کر چھت پر موجود کمرے سے نیچے گھر میں آئے اور اُسے اُس کی ماں کو دے کر کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ آپ کا بیٹا زندہ ہو گیا ہے۔“‏ 24 اِس پر اُس عورت نے ایلیاہ سے کہا:‏ ”‏اب مَیں جان گئی ہوں کہ آپ واقعی خدا کے بندے ہیں اور یہوواہ کا جو کلام آپ کے مُنہ سے نکلتا ہے، وہ سچا ہے۔“‏

18 کچھ وقت بعد تیسرے سال میں یہوواہ کا یہ کلام ایلیاہ تک پہنچا:‏ ”‏اخی‌اب کے پاس جاؤ کیونکہ مَیں زمین پر بارش برسانے والا ہوں۔“‏ 2 اِس لیے ایلیاہ اخی‌اب کے پاس گئے۔ اُس وقت سامریہ میں شدید قحط تھا۔‏

3 اِس دوران اخی‌اب نے عبدیاہ کو بُلایا جو اُن کے گھرانے کے نگران تھے۔ (‏عبدیاہ یہوواہ کا بڑا خوف رکھتے تھے۔ 4 جب اِیزِبل یہوواہ کے نبیوں کو ہلاک کروا رہی تھی تو عبدیاہ نے 100 نبیوں کو دو غاروں میں چھپا دیا، 50 ایک غار میں اور 50 دوسرے غار میں اور اُنہیں روٹی اور پانی پہنچاتے رہے۔)‏ 5 اخی‌اب نے عبدیاہ سے کہا:‏ ”‏ملک میں موجود پانی کے سب چشموں اور سب وادیوں کے پاس سے گزرو۔ شاید ہمیں گھوڑوں اور خچروں کو زندہ رکھنے کے لیے گھاس مل جائے اور ہمارے سب جانور نہ مریں۔“‏ 6 اِس لیے اخی‌اب اور عبدیاہ نے پورے ملک کو آپس میں بانٹ کر فیصلہ کِیا کہ وہ کہاں کہاں جائیں گے۔ اخی‌اب ایک طرف گیا اور عبدیاہ دوسری طرف۔‏

7 جب عبدیاہ راستے میں تھے تو ایلیاہ وہاں اُن سے ملنے کے لیے موجود تھے۔ عبدیاہ نے فوراً ایلیاہ کو پہچان لیا اور اُن کے سامنے مُنہ کے بل گِر کر کہنے لگے:‏ ”‏میرے مالک ایلیاہ!‏ کیا یہ آپ ہیں؟“‏ 8 ایلیاہ نے عبدیاہ کو جواب دیا:‏ ”‏جی مَیں ہوں۔ جائیں اور اپنے مالک سے کہیں:‏ ”‏ایلیاہ آیا ہے۔“‏“‏ 9 لیکن عبدیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں نے ایسا کون سا گُناہ کِیا ہے کہ آپ اپنے اِس خادم کو اخی‌اب کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مجھے مار ڈالے؟ 10 آپ کے زندہ خدا یہوواہ کی قسم، ایسی کوئی قوم یا سلطنت نہیں جہاں میرے مالک نے آپ کو ڈھونڈنے کے لیے اپنے آدمی نہ بھیجے ہوں۔ جب بھی کوئی سلطنت یا قوم یہ کہتی تھی کہ ”‏وہ یہاں نہیں ہے“‏ تو میرے مالک اُن لوگوں سے قسم لیتے تھے کہ وہ آپ کو ڈھونڈ نہیں پائے۔ 11 اور اب آپ کہہ رہے ہیں:‏ ”‏جاؤ اور اپنے مالک سے کہو:‏ ”‏ایلیاہ آیا ہے۔“‏“‏ 12 جب مَیں آپ کے پاس سے جاؤں گا تو یہوواہ کی روح آپ کو کسی ایسی جگہ لے جائے گی جس کا مجھے نہیں پتہ ہوگا۔ پھر جب مَیں اخی‌اب کو بتاؤں گا اور آپ اُنہیں نہیں ملیں گے تو وہ ضرور مجھے مار ڈالیں گے۔ آپ کا خادم تو بچپن سے یہوواہ کا خوف رکھتا آیا ہے۔ 13 میرے مالک!‏ کیا آپ کو نہیں بتایا گیا کہ جب اِیزِبل یہوواہ کے نبیوں کو مروا رہی تھی تو مَیں نے یہوواہ کے 100 نبیوں کو دو غاروں میں چھپایا، 50 کو ایک غار میں اور 50 کو دوسرے غار میں اور مَیں اُنہیں روٹی اور پانی پہنچاتا رہا؟ 14 لیکن اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں:‏ ”‏جاؤ اور اپنے مالک سے کہو:‏ ”‏ایلیاہ آیا ہے۔“‏“‏ وہ ضرور مجھے مار ڈالیں گے۔“‏ 15 لیکن ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو فوجوں کا خدا ہے اور جس کی مَیں عبادت کرتا ہوں،‏*‏ آج مَیں ضرور اخی‌اب سے ملوں گا۔“‏

16 اِس لیے عبدیاہ جا کر اخی‌اب سے ملے اور اُسے ایلیاہ کے بارے میں بتایا۔ پھر اخی‌اب ایلیاہ سے ملنے گیا۔‏

17 جیسے ہی اخی‌اب نے ایلیاہ کو دیکھا، اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ تُم ہی ہو نا جس کی وجہ سے اِسرائیل پر اِتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے؟“‏

18 اِس پر ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏میری وجہ سے اِسرائیل پر مصیبت نہیں آئی بلکہ تمہاری اور تمہارے باپ کے گھرانے کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ تُم لوگوں نے یہوواہ کے حکم ماننا چھوڑ دیے اور بعل دیوتاؤں کو پوجنے لگے۔ 19 اب سارے اِسرائیل کو میرے پاس کوہِ‌کرمِل پر بُلاؤ اور بعل کے 450 نبیوں اور مُقدس بَلّی*‏ کے 400 نبیوں کو بھی جو اِیزِبل کی میز پر کھانا کھاتے ہیں۔“‏ 20 اِس لیے اخی‌اب نے اِسرائیل کے سب لوگوں کو پیغام بھجوایا اور نبیوں کو کوہِ‌کرمِل پر اِکٹھا کِیا۔‏

21 پھر ایلیاہ سب لوگوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگ کب تک دو خیالوں میں بٹے رہیں گے؟‏*‏ اگر یہوواہ سچا خدا ہے تو اُس کی عبادت کریں اور اگر بعل ہے تو اُس کی پرستش کریں!‏“‏ لیکن لوگوں نے جواب میں اُن سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ 22 پھر ایلیاہ نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏یہوواہ کے نبیوں میں سے صرف مَیں ہی اکیلا بچا ہوں جبکہ بعل کے نبیوں کی تعداد 450 ہے۔ 23 ہمیں دو جوان بیل دیے جائیں۔ بعل کے نبی ایک جوان بیل چُن لیں اور اُس کے ٹکڑے کر کے اُنہیں لکڑیوں پر رکھ دیں لیکن آگ نہ جلائیں۔ مَیں دوسرے جوان بیل کو تیار کروں گا اور اُسے لکڑیوں پر رکھوں گا لیکن لکڑیوں کو آگ نہیں لگاؤں گا۔ 24 پھر آپ اپنے خدا کا نام لے کر اُسے پکارنا اور مَیں یہوواہ کا نام لے کر اُسے پکاروں گا۔ جو خدا جواب میں آگ نازل کرے گا، وہی سچا خدا ثابت ہوگا۔“‏ اِس پر سب لوگوں نے کہا:‏ ”‏یہ صحیح رہے گا۔“‏

25 پھر ایلیاہ نے بعل کے نبیوں سے کہا:‏ ”‏تُم لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اِس لیے پہلے تُم ایک جوان بیل چُنو اور اُسے تیار کرو۔ پھر اپنے خدا کا نام لے کر اُسے پکارنا لیکن آگ نہ جلانا۔“‏ 26 اِس لیے اُنہوں نے وہ جوان بیل لیا جو اُنہیں دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے اُسے تیار کِیا اور صبح سے دوپہر تک بعل کا نام لے کر اُسے پکارتے رہے اور کہتے رہے:‏ ”‏اَے بعل!‏ ہمیں جواب دے!‏“‏ لیکن اُنہیں کوئی جواب نہیں ملا اور نہ ہی کوئی آواز سنائی دی۔ وہ اُس قربان‌گاہ کے گِرد اُچھلتے کُودتے رہے جو اُنہوں نے بنائی تھی۔ 27 دوپہر کے وقت ایلیاہ اُن کا مذاق اُڑانے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏اَور اُونچی آواز سے پکارو!‏ آخر وہ ایک خدا ہے!‏ شاید وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہو یا حاجت رفع کرنے گیا ہو۔‏*‏ یا شاید وہ سو رہا ہو اور کسی کو اُسے جگانے کی ضرورت ہو!‏“‏ 28 وہ اپنے دستور کے مطابق گلا پھاڑ پھاڑ کر پکارنے لگے اور تب تک اپنے آپ کو خنجروں اور نیزوں سے زخمی کرتے رہے جب تک وہ لہولہان نہیں ہو گئے۔ 29 دوپہر گزر گئی اور وہ شام کے اناج کے نذرانے کے وقت تک پاگلوں جیسی حرکتیں*‏ کرتے رہے۔ لیکن اُنہیں نہ تو کوئی جواب ملا اور نہ ہی کوئی آواز سنائی دی؛ اُن کی بات پر دھیان دینے والا کوئی نہیں تھا۔‏

30 آخرکار ایلیاہ نے سب لوگوں سے کہا:‏ ”‏میرے پاس آ جائیں۔“‏ اِس لیے سب لوگ اُن کے پاس آ گئے۔ پھر اُنہوں نے یہوواہ کی اُس قربان‌گاہ کی مرمت کی جسے ڈھا دیا گیا تھا۔ 31 اِس کے بعد ایلیاہ نے 12 پتھر لیے۔ یہ پتھر یعقوب کے بیٹوں کے قبیلوں کی گنتی کے حساب سے تھے جن سے یہوواہ نے کہا تھا:‏ ”‏تمہارا نام اِسرائیل ہوگا۔“‏ 32 اُنہوں نے اُن پتھروں سے یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے ایک قربان‌گاہ بنائی۔ پھر اُنہوں نے اُس قربان‌گاہ کی چاروں طرف ایک خندق کھودی۔ وہ خندق اِتنی بڑی تھی کہ اُس میں دو سِعاہ*‏ بیج بوئے جا سکتے تھے۔ 33 اِس کے بعد ایلیاہ نے ترتیب سے لکڑیاں رکھیں اور جوان بیل کے ٹکڑے کر کے اِنہیں لکڑیوں پر رکھ دیا۔ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏پانی کے چار بڑے مٹکے بھرو اور اِنہیں بھسم ہونے والی قربانی اور لکڑیوں کے اُوپر اُنڈیل دو۔“‏ 34 اِس کے بعد ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏پھر سے ایسا کرو۔“‏ اِس لیے اُنہوں نے پھر سے ایسا کِیا۔ پھر ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏ایک بار اَور ایسا کرو۔“‏ اِس لیے اُنہوں نے تیسری بار ایسا کِیا۔ 35 قربان‌گاہ کی چاروں طرف پانی بہنے لگا اور ایلیاہ نے خندق بھی پانی سے بھروا دی۔‏

36 شام کے اناج کے نذرانے کے وقت ایلیاہ نبی آگے بڑھے اور کہنے لگے:‏ ”‏اَبراہام، اِضحاق اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ آج یہ ظاہر کر دے کہ اِسرائیل میں تُو ہی خدا ہے اور مَیں تیرا بندہ ہوں اور مَیں نے یہ سب کچھ تیرے حکم سے کِیا ہے۔ 37 مجھے جواب دے!‏ اَے یہوواہ!‏ مجھے جواب دے!‏ تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ تُو اَے یہوواہ!‏ ہاں، تُو ہی سچا خدا ہے اور تُو اِن کے دلوں کو پھر سے اپنی طرف پھیر رہا ہے۔“‏

38 پھر یہوواہ کی طرف سے آسمان سے آگ نازل ہوئی جس نے بھسم ہونے والی قربانی، لکڑیوں، پتھروں اور مٹی کو جلا دیا اور گڑھے کا پانی سُکھا دیا۔ 39 یہ دیکھتے ہی سب لوگ مُنہ کے بل زمین پر گِر گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یہوواہ ہی سچا خدا ہے!‏ یہوواہ ہی سچا خدا ہے!‏“‏ 40 اِس کے بعد ایلیاہ نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏بعل کے نبیوں کو پکڑ لو!‏ اُن میں سے ایک بھی بھاگ نہ پائے!‏“‏ لوگوں نے فوراً اُن نبیوں کو پکڑ لیا اور ایلیاہ اُنہیں قِیسون ندی*‏ کے پاس لائے اور وہاں اُنہیں قتل کر دیا۔‏

41 پھر ایلیاہ نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏اُوپر جاؤ اور کھاؤ پیو کیونکہ مُوسلادھار بارش کی آواز سنائی دے رہی ہے۔“‏ 42 اِس لیے اخی‌اب کھانے پینے کے لیے اُوپر گیا جبکہ ایلیاہ کوہِ‌کرمِل کی چوٹی پر گئے۔ وہ گُھٹنوں کے بل زمین پر جھکے اور اپنا مُنہ اپنے گُھٹنوں کے بیچ رکھ لیا۔ 43 پھر اُنہوں نے اپنے خادم سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اُوپر جاؤ اور سمندر کی طرف دیکھو۔“‏ اِس لیے اُس نے اُوپر جا کر دیکھا اور کہا:‏ ”‏وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔“‏ ایلیاہ نے سات بار اُس سے کہا:‏ ”‏پھر سے جاؤ۔“‏ 44 ساتویں بار اُن کے خادم نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ سمندر سے آدمی کے ہاتھ جتنا ایک چھوٹا سا بادل اُٹھ رہا ہے۔“‏ اِس پر ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏جاؤ اور اخی‌اب سے کہو:‏ ”‏اپنا رتھ تیار کر کے نیچے کی طرف چلے جاؤ تاکہ تُم مُوسلادھار بارش کی وجہ سے پھنس نہ جاؤ۔“‏“‏ 45 اِسی دوران آسمان گھنے بادلوں کی وجہ سے سیاہ ہو گیا، آندھی چلنے لگی اور مُوسلادھار بارش ہونے لگی۔ اخی‌اب اپنے رتھ پر سوار یزرعیل کی طرف بڑھتا گیا۔ 46 لیکن یہوواہ نے اپنے ہاتھ سے ایلیاہ کو طاقت دی۔ اُنہوں نے اپنا لباس اپنی کمر کے گِرد باندھا اور دوڑتے دوڑتے اخی‌اب سے آگے نکل کر یزرعیل پہنچ گئے۔‏

19 پھر اخی‌اب نے اِیزِبل کو وہ سب کچھ بتایا جو ایلیاہ نے کِیا تھا اور یہ بھی کہ اُنہوں نے سب نبیوں کو تلوار سے مار ڈالا۔ 2 اِس پر اِیزِبل نے ایک قاصد کے ذریعے ایلیاہ کو یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏اگر مَیں نے کل اِس وقت تک تمہارا وہ حشر نہیں کِیا جو تُم نے اُن نبیوں کا کِیا ہے*‏ تو دیوتا مجھے اِس کی کڑی سے کڑی سزا دیں!‏“‏ 3 یہ سُن کر ایلیاہ بہت ڈر گئے۔ وہ اُٹھ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے اور بِیرسبع پہنچے جو یہوداہ کے علاقے میں ہے۔ اُنہوں نے اپنے خادم کو وہیں چھوڑ دیا۔ 4 اُنہوں نے ویرانے میں ایک دن کا سفر کِیا اور جا کر جھاڑ کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور اپنے لیے*‏ موت مانگنے لگے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ بس بہت ہو گیا!‏ اب میری جان لے لے کیونکہ مَیں اپنے باپ‌دادا سے بہتر نہیں ہوں۔“‏

5 پھر وہ جھاڑ کے درخت کے نیچے لیٹ گئے اور سو گئے۔ لیکن اچانک ایک فرشتے نے اُنہیں چُھوا اور اُن سے کہا:‏ ”‏اُٹھیں اور کچھ کھائیں۔“‏ 6 اُنہوں نے اُٹھ کر دیکھا کہ اُن کے سرہانے تپتے پتھروں پر ایک روٹی پڑی ہے اور ساتھ میں پانی کی ایک صراحی ہے۔ اُنہوں نے روٹی کھائی اور پانی پیا اور پھر سے لیٹ گئے۔ 7 بعد میں یہوواہ کا فرشتہ پھر سے اُن کے پاس آیا اور اُنہیں چُھو کر کہا:‏ ”‏اُٹھیں اور کچھ کھائیں کیونکہ آپ کا آگے کا سفر بہت مشکل ہوگا۔“‏ 8 اِس لیے وہ اُٹھے اور کچھ کھایا پیا اور کھانے سے ملنے والی طاقت کے ذریعے 40 دن اور 40 رات سفر کرتے رہے اور آخر سچے خدا کے پہاڑ حَورِب پہنچ گئے۔‏

9 وہاں وہ ایک غار میں گئے اور رات گزاری۔ پھر یہوواہ کا کلام اُن تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ ”‏ایلیاہ!‏ تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟“‏ 10 اِس پر ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں فوجوں کے خدا یہوواہ کے لیے بڑی غیرت ظاہر کرتا رہا ہوں کیونکہ اِسرائیل کے لوگ تیرے عہد سے پھر گئے ہیں۔ اُنہوں نے تیری قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا ہے اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کر دیا ہے۔ صرف مَیں ہی اکیلا بچا ہوں اور اب وہ میری جان لینے پر تُلے ہیں۔“‏ 11 لیکن خدا نے کہا:‏ ”‏باہر جاؤ اور یہوواہ کے حضور پہاڑ پر کھڑے ہو جاؤ۔“‏ اور دیکھو!‏ یہوواہ وہاں سے گزر رہا تھا اور ایک بڑی اور زوردار آندھی یہوواہ کے سامنے پہاڑوں کو چیر رہی تھی اور چٹانوں کو توڑ رہی تھی۔ لیکن یہوواہ آندھی میں نہیں تھا۔ آندھی کے بعد ایک زلزلہ آیا لیکن یہوواہ زلزلے میں نہیں تھا۔ 12 زلزلے کے بعد آگ نظر آئی۔ لیکن یہوواہ آگ میں نہیں تھا۔ آگ کے بعد ایک نرم اور دھیمی آواز سنائی دی۔ 13 جیسے ہی ایلیاہ نے وہ آواز سنی، اُنہوں نے اپنے کپڑے*‏ سے اپنا چہرہ ڈھک لیا اور باہر جا کر غار کے مُنہ پر کھڑے ہو گئے۔ پھر ایک آواز نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏ایلیاہ!‏ تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟“‏ 14 اِس پر ایلیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں فوجوں کے خدا یہوواہ کے لیے بڑی غیرت ظاہر کرتا رہا ہوں کیونکہ اِسرائیل کے لوگ تیرے عہد سے پھر گئے ہیں۔ اُنہوں نے تیری قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا ہے اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کر دیا ہے۔ صرف مَیں ہی اکیلا بچا ہوں اور اب وہ میری جان لینے پر تُلے ہیں۔“‏

15 یہوواہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہاں سے لوٹ جاؤ اور دمشق کے ویرانے میں جاؤ۔ وہاں پہنچ کر حزائیل کو سُوریہ کے بادشاہ کے طور پر مسح*‏ کرو؛ 16 نِمسی کے پوتے یاہُو کو اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر مسح کرو اور ابیل‌محولہ سے تعلق رکھنے والے سافط کے بیٹے اِلیشع*‏ کو اپنی جگہ نبی کے طور پر مسح کرو۔ 17 جو شخص حزائیل کی تلوار سے بچے گا، یاہُو اُسے مار ڈالے گا اور جو یاہُو کی تلوار سے بچے گا، اِلیشع اُسے مار ڈالے گا۔ 18 ابھی بھی اِسرائیل میں میرے 7000 بندے ہیں یعنی وہ سب جنہوں نے بعل کے سامنے گُھٹنے نہیں ٹیکے اور اُسے نہیں چُوما۔“‏

19 اِس لیے ایلیاہ وہاں سے نکلے اور سافط کے بیٹے اِلیشع سے ملے۔ اُس وقت اِلیشع بیلوں کی 12 جوڑیوں کے ساتھ ہل چلا رہے تھے اور خود سب سے پیچھے 12ویں جوڑی کے ساتھ تھے۔ ایلیاہ اُن کے پاس گئے اور اپنا کپڑا*‏ اُن پر ڈال دیا۔ 20 اِس پر اِلیشع بیلوں کو چھوڑ کر اُن کے پیچھے بھاگے اور اُن سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے مجھے اِجازت دیں کہ مَیں اپنے والد اور والدہ کو چُوم آؤں۔ پھر مَیں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔“‏ ایلیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏جاؤ، مَیں نے آپ کو کب روکا ہے؟“‏ 21 تب اِلیشع واپس گئے اور بیلوں کی ایک جوڑی لے کر اُسے قربان کِیا۔ اُنہوں نے بیلوں کے گوشت کو اُبالنے کے لیے ہل جوتنے کا سامان اِستعمال کِیا۔ پھر اُنہوں نے وہ گوشت لوگوں کو دیا اور اُنہوں نے کھایا۔ اِس کے بعد اِلیشع اُٹھے اور ایلیاہ کی پیروی اور خدمت کرنے لگے۔‏

20 سُوریہ کے بادشاہ بِن‌ہدد نے اپنی ساری فوج کو اور 32 اَور بادشاہوں کو اُن کے گھوڑوں اور رتھوں سمیت اِکٹھا کِیا۔ اُس نے اُوپر کی طرف جا کر سامریہ کو گھیر لیا اور اُس کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ 2 پھر اُس نے شہر میں اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کو قاصدوں کے ہاتھ یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏بِن‌ہدد نے کہا ہے:‏ 3 ‏”‏تمہاری چاندی اور تمہارا سونا میرا ہے اور تمہاری سب سے خوب‌صورت بیویاں اور تمہارے بیٹے بھی میرے ہیں۔“‏“‏ 4 اِس پر اِسرائیل کے بادشاہ نے یہ جواب بھجوایا:‏ ”‏میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ آپ کے فرمان کے مطابق مَیں اور میرا سب کچھ آپ کا ہے۔“‏

5 بعد میں قاصد واپس آئے اور کہا:‏ ”‏بِن‌ہدد نے کہا ہے:‏ ”‏مَیں نے تمہیں یہ پیغام بھجوایا تھا:‏ ”‏اپنی چاندی، اپنا سونا، اپنی بیویاں اور اپنے بیٹے مجھے دے دو۔“‏ 6 لیکن اب کل اِسی وقت مَیں اپنے خادموں کو تمہارے پاس بھیجوں گا اور وہ تمہارے اور تمہارے خادموں کے گھروں کی اچھی طرح تلاشی لیں گے اور تمہاری سب پسندیدہ چیزیں ضبط کر کے لے جائیں گے۔“‏“‏

7 اِس پر اِسرائیل کے بادشاہ نے ملک کے سب بزرگوں کو بُلایا اور کہا:‏ ”‏مہربانی سے اِس بات پر توجہ دیں کہ یہ آدمی مصیبت لانے پر تُلا ہوا ہے کیونکہ اُس نے مجھ سے میری بیویاں، میرے بیٹے، میری چاندی اور میرا سونا مانگا اور مَیں نے اُسے اِنکار نہیں کِیا۔“‏ 8 تب سب بزرگوں اور سب لوگوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏اُس کی نہ سنیں۔ اُس کی بات ماننے پر راضی نہ ہوں۔“‏ 9 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے بِن‌ہدد کے قاصدوں سے کہا:‏ ”‏میرے مالک بادشاہ سلامت سے یہ کہیں:‏ ”‏آپ کا خادم وہ کرے گا جو آپ نے پہلے کہا تھا۔ لیکن یہ مَیں نہیں کر سکتا۔“‏“‏ اِس پر وہ قاصد چلے گئے اور بِن‌ہدد کو اُس کا پیغام پہنچایا۔‏

10 پھر بِن‌ہدد نے یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏اگر مَیں نے سامریہ میں اِتنی مٹی بھی چھوڑ دی کہ میرے ہر سپاہی کو مُٹھی‌بھر مٹی مل سکے تو دیوتا مجھے اِس کی کڑی سے کڑی سزا دیں!‏“‏ 11 اِسرائیل کے بادشاہ نے یہ جواب بھجوایا:‏ ”‏اُس سے کہو:‏ ”‏ابھی جنگ شروع بھی نہیں ہوئی اور تُم ایسے شیخی مار رہے ہو جیسے تُم نے جنگ جیت لی ہو۔“‏“‏*‏ 12 جب بِن‌ہدد کو یہ پیغام ملا تو وہ اور دوسرے بادشاہ اپنے خیموں*‏ میں مے‌نوشی کر رہے تھے۔ بِن‌ہدد نے فوراً اپنے خادموں سے کہا:‏ ”‏حملے کے لیے تیار ہو جاؤ!‏“‏ اِس لیے وہ شہر پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔‏

13 لیکن ایک نبی اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کے پاس آیا اور کہا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏مَیں اِس بڑی فوج کو جسے تُم دیکھ رہے ہو، آج تمہارے حوالے کر دوں گا اور پھر تُم جان جاؤ گے کہ مَیں یہوواہ ہوں۔“‏“‏ 14 اخی‌اب نے پوچھا:‏ ”‏کس کے ذریعے؟“‏ نبی نے جواب دیا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏صوبوں*‏ کے حاکموں کے خادموں کے ذریعے۔“‏“‏ پھر اخی‌اب نے پوچھا:‏ ”‏جنگ کون شروع کرے گا؟“‏ نبی نے کہا:‏ ”‏آپ۔“‏

15 پھر اخی‌اب نے صوبوں کے حاکموں کے خادموں کو گنا۔ اُن کی تعداد 232 تھی۔ اِس کے بعد اُس نے اِسرائیل کے سارے آدمیوں کو گنا اور اُن کی تعداد 7000 تھی۔ 16 وہ دوپہر کے وقت نکلے۔ اُس وقت بِن‌ہدد اور اُس کی مدد کے لیے آئے ہوئے 32 بادشاہ خیموں*‏ میں مے پی پی کر نشے میں دُھت ہو رہے تھے۔ 17 صوبوں کے حاکموں کے خادم پہلے نکلے۔ جب وہ نکلے تو بِن‌ہدد نے فوراً اپنے قاصدوں کو خبر لینے کے لیے بھیجا۔ اُنہوں نے واپس آ کر اُسے بتایا:‏ ”‏سامریہ سے آدمی نکلے ہیں۔“‏ 18 اِس پر اُس نے کہا:‏ ”‏اگر وہ صلح کے اِرادے سے آئے ہیں تو اُنہیں زندہ پکڑ لاؤ اور اگر وہ جنگ کے اِرادے سے آئے ہیں تو بھی اُنہیں زندہ پکڑ لاؤ۔“‏ 19 لیکن جب صوبوں کے حاکموں کے خادم اور اُن کے پیچھے آنے والی فوج شہر سے باہر نکلی 20 تو وہ اپنے مخالفوں کو مار گِرانے لگے۔ سُوریانی بھاگ نکلے اور اِسرائیلیوں نے اُن کا پیچھا کِیا لیکن سُوریہ کا بادشاہ بِن‌ہدد کچھ گُھڑسواروں کے ساتھ ایک گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہو گیا۔ 21 مگر اِسرائیل کا بادشاہ نکلا اور گھوڑوں اور رتھوں پر وار کرتا گیا اور اُس نے سُوریانیوں کو بڑی بُری شکست دی۔‏*‏

22 بعد میں وہ نبی اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور اُس سے کہا:‏ ”‏اگلے سال*‏ کے شروع میں سُوریہ کا بادشاہ پھر سے آپ سے جنگ کرنے آئے گا۔ اِس لیے اپنی جنگی طاقت بڑھائیں اور سوچیں کہ آپ کیا کریں گے۔“‏

23 سُوریہ کے بادشاہ کے خادموں نے اُس سے کہا:‏ ”‏اُن کا خدا پہاڑوں کا خدا ہے۔ اِسی لیے وہ ہم پر حاوی ہو گئے۔ لیکن اگر ہم اُن سے میدانی علاقے میں لڑیں گے تو ہم اُن پر حاوی ہو جائیں گے۔ 24 اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کریں:‏ سب بادشاہوں کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیں اور اُن کی جگہ ناظموں کو مقرر کریں۔ 25 پھر اُتنی فوج، گھوڑے اور رتھ اِکٹھے*‏ کریں جتنے آپ نے کھوئے ہیں۔ آئیں ہم اُن سے میدانی علاقے میں لڑیں۔ پھر ہم ضرور اُن پر حاوی ہو جائیں گے۔“‏ بِن‌ہدد نے اُن کا مشورہ سنا اور اُس پر عمل کِیا۔‏

26 سال کے شروع میں*‏ بِن‌ہدد نے سُوریانی سپاہیوں کو اِکٹھا کِیا اور اِسرائیل سے جنگ لڑنے کے لیے اَفیق گیا۔ 27 اِسرائیل کے لوگوں کو بھی اِکٹھا کِیا گیا اور اُنہیں ضروری سامان دیا گیا اور وہ سُوریانی فوج سے جنگ کرنے کے لیے نکلے۔ جب اِسرائیل کے سپاہیوں نے اُن کے سامنے پڑاؤ ڈالا تو وہ بکریوں کے دو چھوٹے گلّوں کی طرح لگ رہے تھے جبکہ سُوریانی پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ 28 پھر سچے خدا کا بندہ اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس آیا اور کہا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏سُوریانیوں نے کہا ہے:‏ ”‏یہوواہ پہاڑوں کا خدا ہے، میدانوں کا نہیں۔“‏ اِس لیے مَیں اِس بڑی فوج کو تمہارے حوالے کر دوں گا اور تُم ضرور جان جاؤ گے کہ مَیں یہوواہ ہوں۔“‏“‏

29 دونوں فوجوں نے سات دن تک ایک دوسرے کے سامنے پڑاؤ ڈالے رکھا اور ساتویں دن جنگ شروع ہوئی۔ اِسرائیلیوں نے ایک دن میں سُوریہ کے 1 لاکھ پیدل سپاہیوں کو مار گِرایا۔ 30 سُوریہ کے باقی سپاہی شہر اَفیق کے اندر بھاگ گئے۔ لیکن بچے ہوئے 27 ہزار سپاہیوں پر دیوار گِر گئی۔ بِن‌ہدد بھی بھاگ کر شہر کے اندر چلا گیا اور ایک گھر کے اندر والے کمرے میں چھپ گیا۔‏

31 تب بِن‌ہدد کے خادموں نے اُس سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، ہم نے سنا ہے کہ اِسرائیل کے گھرانے کے بادشاہ رحم‌دل ہیں۔‏*‏ اِس لیے مہربانی سے ہمیں اِجازت دیں کہ ہم اپنی کمر پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھیں اور اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس جائیں۔ شاید وہ آپ کی جان بخش دے۔“‏ 32 اِس لیے اُنہوں نے اپنی کمر پر ٹاٹ اور اپنے سروں پر رسیاں باندھیں اور اِسرائیل کے بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگے:‏ ”‏آپ کے خادم بِن‌ہدد نے کہا ہے:‏ ”‏مہربانی سے میری جان بخش دیں۔“‏“‏ اِس پر اُس نے کہا:‏ ”‏کیا وہ اب تک زندہ ہے؟ وہ تو میرا بھائی ہے۔“‏ 33 اُن آدمیوں نے اِسے نیک شگون سمجھا اور اِسرائیل کے بادشاہ کی بات پر یقین کر لیا۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بِن‌ہدد آپ کا بھائی ہے۔“‏ اِس پر اِسرائیل کے بادشاہ نے کہا:‏ ”‏جاؤ اور اُسے لے کر آؤ۔“‏ پھر بِن‌ہدد باہر نکل کر اُس کے پاس آیا اور اِسرائیل کے بادشاہ نے اُسے رتھ پر بٹھا لیا۔‏

34 بِن‌ہدد نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏میرے والد نے آپ کے والد سے جو شہر لیے تھے، مَیں اُنہیں واپس کر دوں گا اور آپ دمشق میں بازار بنوانا*‏ جیسے میرے والد نے سامریہ میں کِیا تھا۔“‏

اخی‌اب نے جواب دیا:‏ ”‏اِس معاہدے*‏ کی بِنا پر مَیں آپ کو جانے دیتا ہوں۔“‏

پھر اخی‌اب نے بِن‌ہدد سے معاہدہ کِیا اور اُسے جانے دیا۔‏

35 یہوواہ کے حکم پر نبیوں کے بیٹوں*‏ میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے مجھ پر وار کرو۔“‏ لیکن اُس آدمی نے اُس پر وار کرنے سے اِنکار کر دیا۔ 36 اِس لیے اُس نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏تُم نے یہوواہ کی بات نہیں مانی۔ اِس لیے جیسے ہی تُم یہاں سے جاؤ گے، ایک شیر تمہیں مار ڈالے گا۔“‏ جب وہ آدمی وہاں سے گیا تو ایک شیر آیا اور اُسے مار ڈالا۔‏

37 پھر اُسے ایک اَور آدمی ملا اور اُس نے اُس سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے مجھ پر وار کرو۔“‏ اُس آدمی نے اُس پر وار کِیا اور اُسے زخمی کر دیا۔‏

38 پھر وہ نبی وہاں سے چلا گیا اور راستے کے کنارے بادشاہ کا اِنتظار کرنے لگا۔ اُس نے اپنی پہچان چھپانے کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی۔ 39 جب بادشاہ وہاں سے گزر رہا تھا تو اُس نے بادشاہ کو پکار کر کہا:‏ ”‏جب جنگ زوروں پر تھی تو آپ کا خادم وہاں گیا۔ میدانِ‌جنگ سے ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو میرے پاس لایا اور کہا:‏ ”‏اِس پر نظر رکھو۔ اگر یہ کہیں غائب ہوا تو اِس کی جان کے بدلے تمہاری جان لی جائے گی یا تمہیں ایک قِنطار*‏ چاندی دینی ہوگی۔“‏ 40 اور جب آپ کا خادم کسی اَور کام میں مصروف تھا تو اچانک وہ آدمی کہیں چلا گیا۔“‏ اِسرائیل کے بادشاہ نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ نے خود فیصلہ سنایا ہے؛ آپ کو اُسی کے مطابق سزا ملے گی۔“‏ 41 پھر اُس نے فوراً اپنی آنکھوں سے پٹی اُتار دی اور اِسرائیل کے بادشاہ نے پہچان لیا کہ وہ ایک نبی ہے۔ 42 اُس نبی نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏تُم نے اُس آدمی کو اپنے ہاتھ سے جانے دیا جس کے بارے میں مَیں نے تُم سے کہا تھا کہ اُسے ہلاک کر دینا۔ اِس لیے اُس کی جان کے بدلے تمہاری جان لی جائے گی اور اُس کے لوگوں کی جگہ تمہارے لوگ مارے جائیں گے۔“‏“‏ 43 اِس پر اِسرائیل کا بادشاہ اُداس ہو کر اور مُنہ لٹکا کر سامریہ میں اپنے گھر چلا گیا۔‏

21 اِس سب کے بعد نبوت یزرعیلی کے انگور کے باغ کے حوالے سے ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ باغ یزرعیل میں سامریہ کے بادشاہ اخی‌اب کے محل کے ساتھ تھا۔ 2 اخی‌اب نے نبوت سے کہا:‏ ”‏مجھے اپنا انگور کا باغ دے دو۔ مَیں اِسے سبزیوں کا باغ بنانا چاہتا ہوں کیونکہ یہ میرے گھر کے قریب ہے۔ مَیں تمہیں اِس کی جگہ اِس سے بہتر انگور کا باغ دے دوں گا یا اگر تُم چاہو تو مَیں تمہیں اِس کی قیمت ادا کر دوں گا۔“‏ 3 لیکن نبوت نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو یہ زمین دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا جو مجھے میرے باپ‌دادا سے وراثت میں ملی ہے کیونکہ یہ یہوواہ کی نظر میں غلط ہوگا۔“‏ 4 جب نبوت یزرعیلی نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو اپنے باپ‌دادا سے وراثت میں ملی زمین نہیں دوں گا“‏ تو اخی‌اب اُداس ہو کر اور مُنہ لٹکا کر اپنے گھر چلا گیا۔ اُس نے اپنے بستر پر لیٹ کر مُنہ پھیر لیا اور کھانا کھانے سے اِنکار کر دیا۔‏

5 اُس کی بیوی اِیزِبل نے اُس کے پاس آ کر کہا:‏ ”‏تُم*‏ اِتنے اُداس کیوں ہو کہ تُم نے کھانا کھانے سے اِنکار کر دیا؟“‏ 6 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں نے نبوت یزرعیلی سے کہا تھا کہ ”‏مجھے اپنا انگور کا باغ دے دو اور مجھ سے اِس کی قیمت لے لو یا اگر تُم چاہو تو مَیں تمہیں اِس کی جگہ دوسرا انگور کا باغ دے دوں گا۔“‏ لیکن اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو اپنا انگور کا باغ نہیں دوں گا۔“‏“‏ 7 اُس کی بیوی اِیزِبل نے اُس سے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے بادشاہ تُم ہی ہو نا؟ اُٹھو اور کچھ کھاؤ اور خوش ہو۔ مَیں تمہیں نبوت یزرعیلی کا انگور کا باغ دِلاؤں گی۔“‏ 8 اِس کے بعد اُس نے اخی‌اب کے نام سے خط لکھے اور اُن پر اُس کی مُہر لگائی۔ پھر اُس نے یہ خط نبوت کے شہر میں رہنے والے بزرگوں اور نوابوں کو بھیج دیے۔ 9 خطوں میں اُس نے یہ لکھا:‏ ”‏روزے کا اِعلان کرو اور لوگوں کو اِکٹھا کر کے نبوت کو اُن کے آگے بٹھاؤ۔ 10 اور دو فضول آدمیوں کو اُس کے سامنے بٹھاؤ جو اُس کے خلاف یہ گواہی دیں:‏ ”‏تُم نے خدا اور بادشاہ کی توہین کی ہے!‏“‏ پھر اُسے باہر لے جا کر سنگسار کر دو۔“‏

11 اِس لیے نبوت کے شہر کے آدمیوں نے یعنی اُس کے شہر میں رہنے والے بزرگوں اور نوابوں نے ویسا ہی کِیا جیسا اُن خطوں میں لکھا تھا جو اِیزِبل نے اُنہیں بھیجے تھے۔ 12 اُنہوں نے روزے کا اِعلان کِیا اور لوگوں کو اِکٹھا کر کے نبوت کو اُن کے آگے بٹھایا۔ 13 پھر دو فضول آدمی آئے اور نبوت کے سامنے بیٹھ گئے۔ وہ لوگوں کے سامنے نبوت کے خلاف یہ گواہی دینے لگے:‏ ”‏نبوت نے خدا اور بادشاہ کی توہین کی ہے!‏“‏ اِس کے بعد وہ نبوت کو شہر سے باہر لے گئے اور اُنہیں سنگسار کر دیا۔ 14 پھر اُنہوں نے اِیزِبل کو یہ پیغام بھیجا:‏ ”‏نبوت کو سنگسار کر دیا گیا ہے۔“‏

15 جیسے ہی اِیزِبل نے سنا کہ نبوت کو سنگسار کر دیا گیا ہے، اُس نے اخی‌اب سے کہا:‏ ”‏اُٹھو اور نبوت یزرعیلی کے انگور کے باغ پر قبضہ کر لو جسے اُس نے قیمت کے بدلے دینے سے اِنکار کِیا تھا کیونکہ نبوت اب زندہ نہیں رہا۔ وہ مر گیا ہے۔“‏ 16 جب اخی‌اب نے سنا کہ نبوت مر گیا ہے تو وہ فوراً اُٹھا اور نبوت یزرعیلی کے انگور کے باغ پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں گیا۔‏

17 لیکن یہوواہ کا یہ کلام ایلیاہ تِشبی تک پہنچا:‏ 18 ‏”‏اُٹھو اور اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب سے ملنے سامریہ جاؤ۔ وہ وہاں نبوت کے انگور کے باغ پر قبضہ کرنے گیا ہوا ہے اور اِس وقت وہیں ہے۔ 19 اُس سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏تُم نے ایک آدمی کو قتل کِیا اور اُس کی جائیداد بھی لے لی!‏“‏“‏*‏ پھر اُس سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏جس جگہ کُتوں نے نبوت کا خون چاٹا، اُسی جگہ کُتے تمہارا خون چاٹیں گے۔“‏“‏“‏

20 اخی‌اب نے ایلیاہ سے کہا:‏ ”‏تو تُم نے مجھے ڈھونڈ لیا، میرے دُشمن!‏“‏ ایلیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏ہاں، مَیں نے تمہیں ڈھونڈ لیا۔ خدا نے کہا ہے:‏ ”‏تُم وہ کام کرنے پر تُلے ہو*‏ جو یہوواہ کی نظر میں بُرے ہیں۔ 21 اِس لیے مَیں تُم پر تباہی لانے والا ہوں۔ مَیں تمہاری نسل کا پوری طرح صفایا کر دوں گا اور تمہارے گھرانے کے ہر مرد*‏ کو ہلاک کر دوں گا، یہاں تک کہ اِسرائیل کے بے‌سہارا اور کمزور لوگوں کو بھی۔ 22 مَیں تمہارے گھرانے کو نِباط کے بیٹے یرُبعام کے گھرانے اور اخیاہ کے بیٹے بعشا کے گھرانے کی طرح بنا دوں گا کیونکہ تُم نے میرا غصہ بھڑکایا اور اِسرائیل سے گُناہ کرایا۔“‏ 23 اور اِیزِبل کے حوالے سے یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏یزرعیل کی زمین پر کُتے اِیزِبل کو کھا جائیں گے۔ 24 اخی‌اب سے تعلق رکھنے والا جو بھی شخص شہر میں مرے گا، اُسے کُتے کھائیں گے اور جو بھی شخص میدان میں مرے گا، اُسے آسمان کے پرندے کھائیں گے۔ 25 اصل میں آج تک اخی‌اب جیسا کوئی اَور شخص نہیں آیا۔ اپنی بیوی اِیزِبل کے اُکسانے پر وہ ایسے کام کرنے پر تُل گیا*‏ جو یہوواہ کی نظر میں بُرے ہیں۔ 26 اُس نے گھناؤنے بُتوں*‏ کی پرستش کر کے سب سے گھٹیا کام کِیا، بالکل ویسے ہی جیسے سب اموریوں نے کِیا تھا جنہیں یہوواہ نے اِسرائیلیوں کے سامنے سے نکال دیا تھا۔“‏“‏

27 یہ سنتے ہی اخی‌اب نے اپنے کپڑے پھاڑ دیے اور اپنے جسم پر ٹاٹ اوڑھ لیا اور روزہ رکھا۔ وہ ٹاٹ اوڑھ کر لیٹا رہتا تھا اور مایوسی کے عالم میں اِدھر اُدھر چلتا رہتا تھا۔ 28 پھر یہوواہ کا یہ کلام ایلیاہ تِشبی تک پہنچا:‏ 29 ‏”‏کیا تُم نے دیکھا ہے کہ اخی‌اب نے کس طرح میرے سامنے خود کو خاکسار بنا لیا ہے؟ اُس نے خود کو میرے حضور خاکسار بنایا ہے۔ اِس لیے مَیں اُس کے گھرانے پر اُس کی زندگی کے دوران نہیں بلکہ اُس کے بیٹے کی زندگی کے دوران تباہی لاؤں گا۔“‏

22 تین سال تک سُوریہ اور اِسرائیل میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ 2 تیسرے سال میں یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط اِسرائیل کے بادشاہ سے ملنے گئے۔ 3 اِسرائیل کے بادشاہ نے اپنے خادموں سے کہا:‏ ”‏کیا رامات‌جِلعاد ہمارا علاقہ نہیں ہے؟ تو پھر ہم اِسے سُوریہ کے بادشاہ سے واپس لینے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟“‏ 4 پھر اُس نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏کیا آپ جنگ کرنے کے لیے میرے ساتھ رامات‌جِلعاد چلیں گے؟“‏ یہوسفط نے اِسرائیل کے بادشاہ کو جواب دیا:‏ ”‏مَیں اور آپ ایک ہیں۔ میرے لوگوں اور آپ کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میرے گھوڑے آپ ہی کے گھوڑے ہیں۔“‏

5 لیکن اُنہوں نے اِسرائیل کے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے پہلے یہوواہ کی مرضی جان لیں۔“‏ 6 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے نبیوں کو اِکٹھا کِیا جو تقریباً 400 آدمی تھے اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏مجھے رامات‌جِلعاد کے خلاف جنگ کرنے جانا چاہیے یا نہیں؟“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جائیں، یہوواہ اُسے بادشاہ سلامت کے حوالے کر دے گا۔“‏

7 پھر یہوسفط نے کہا:‏ ”‏کیا یہاں یہوواہ کا کوئی نبی نہیں ہے؟ آئیں اُس کے ذریعے بھی خدا سے رہنمائی مانگیں۔“‏ 8 اِس پر اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏ایک اَور آدمی بھی ہے جس کے ذریعے ہم یہوواہ سے رہنمائی مانگ سکتے ہیں۔ لیکن مجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی کوئی اچھی پیش‌گوئی نہیں کرتا، ہمیشہ بُری ہی کرتا ہے۔ وہ اِملہ کا بیٹا میکایاہ ہے۔“‏ لیکن یہوسفط نے کہا:‏ ”‏بادشاہ کو ایسی بات نہیں کہنی چاہیے۔“‏

9 اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے ایک درباری کو بُلایا اور کہا:‏ ”‏فوراً اِملہ کے بیٹے میکایاہ کو لے کر آؤ۔“‏ 10 اِسرائیل کے بادشاہ اور یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے شاہی لباس پہنا ہوا تھا اور وہ دونوں سامریہ کے دروازے کے پاس کھلیان*‏ میں اپنے اپنے تخت پر بیٹھے تھے۔ سارے نبی اُن کے سامنے نبوّت کر رہے تھے۔ 11 پھر کنعانہ کے بیٹے صِدقیاہ نے اپنے لیے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏اِن سے تُم تب تک سُوریانیوں کو مارتے*‏ رہو گے جب تک تُم اُن کا نام‌ونشان نہیں مٹا دو گے۔“‏“‏ 12 باقی سارے نبی بھی اِسی طرح کی پیش‌گوئی کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:‏ ”‏اُوپر رامات‌جِلعاد جائیں اور آپ کامیاب ہوں گے۔ یہوواہ اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“‏

13 جو قاصد میکایاہ کو بُلانے گیا تھا، اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، سب نبیوں کی ایک جیسی رائے ہے اور یہ رائے بادشاہ کے حق میں ہے۔ مہربانی سے آپ بھی اُن کی طرح بادشاہ کے حق میں بات کیجیے گا۔“‏ 14 لیکن میکایاہ نے کہا:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم، مَیں وہی کہوں گا جو یہوواہ مجھے بتائے گا۔“‏ 15 پھر میکایاہ بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏میکایاہ!‏ ہمیں رامات‌جِلعاد کے خلاف جنگ کرنے جانا چاہیے یا نہیں؟“‏ میکایاہ نے فوراً جواب دیا:‏ ”‏جائیں، آپ کامیاب ہوں گے۔ یہوواہ اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“‏ 16 اِس پر بادشاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں کتنی بار قسم دِلا کر کہوں کہ مجھ سے جو بھی کہو، یہوواہ کے نام سے سچ کہو؟“‏ 17 تب میکایاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں دیکھ رہا ہوں کہ سب اِسرائیلی اُن بھیڑوں کی طرح پہاڑوں پر بکھرے ہوئے ہیں جن کا کوئی چرواہا نہ ہو۔ یہوواہ کہتا ہے:‏ ”‏اِن کا کوئی مالک نہیں ہے۔ یہ سب سلامتی سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔“‏“‏

18 تب اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏مَیں نے آپ سے کہا تھا نا کہ ”‏وہ میرے بارے میں کوئی اچھی پیش‌گوئی نہیں کرے گا، صرف بُری ہی کرے گا“‏؟“‏

19 پھر میکایاہ نے کہا:‏ ”‏تو پھر اب یہوواہ کا فرمان سنیں:‏ مَیں نے یہوواہ کو اپنے تخت پر بیٹھے دیکھا اور آسمان کی ساری فوج اُس کے پاس اُس کی دائیں اور بائیں طرف کھڑی تھی۔ 20 یہوواہ نے پوچھا:‏ ”‏اخی‌اب کو بے‌وقوف کون بنائے گا تاکہ وہ رامات‌جِلعاد جائے اور وہاں مارا جائے؟“‏ اِس پر کوئی کچھ کہنے لگا اور کوئی کچھ۔ 21 پھر ایک فرشتہ*‏ آگے آیا اور یہوواہ کے حضور کھڑا ہو کر کہنے لگا:‏ ”‏مَیں اُسے بے‌وقوف بناؤں گا۔“‏ یہوواہ نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏تُم ایسا کیسے کرو گے؟“‏ 22 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں جاؤں گا اور اُس کے سب نبیوں کے مُنہ سے جھوٹ بُلواؤں گا۔“‏*‏ اِس پر خدا نے کہا:‏ ”‏تُم اُسے بے‌وقوف بناؤ گے اور تُم کامیاب بھی ہو گے۔ جاؤ اور ایسا ہی کرو۔“‏ 23 اور اب یہوواہ نے آپ کے اِن سب نبیوں کے مُنہ سے جھوٹ بُلوایا ہے*‏ لیکن اصل میں یہوواہ نے آپ کے لیے تباہی کا اِعلان کِیا ہے۔“‏

24 کنعانہ کا بیٹا صِدقیاہ میکایاہ کے پاس آیا اور اُن کے مُنہ پر تھپڑ مار کر کہا:‏ ”‏یہوواہ کی روح*‏ مجھے چھوڑ کر تُم سے بات کرنے کب گئی؟“‏ 25 میکایاہ نے جواب دیا:‏ ”‏اِس کا جواب تمہیں اُس دن ملے گا جب تُم سب سے اندر والے کمرے میں جا کر چھپو گے۔“‏ 26 پھر اِسرائیل کے بادشاہ نے کہا:‏ ”‏میکایاہ کو لے جاؤ اور اِسے شہر کے حاکم امون اور بادشاہ کے بیٹے یوآس کے حوالے کر دو۔ 27 اُن سے کہو:‏ ”‏بادشاہ نے کہا ہے:‏ ”‏اِس آدمی کو قید میں رکھو اور جب تک مَیں صحیح سلامت واپس نہ آ جاؤں تب تک اِسے بس تھوڑی بہت روٹی اور پانی دیتے رہنا۔“‏“‏“‏ 28 لیکن میکایاہ نے کہا:‏ ”‏اگر آپ صحیح سلامت لوٹ آئے تو اِس کا مطلب ہوگا کہ یہوواہ نے مجھ سے بات نہیں کی۔“‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سب لوگ یہ بات یاد رکھنا۔“‏

29 اِس کے بعد اِسرائیل کا بادشاہ اور یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط رامات‌جِلعاد گئے۔ 30 اِسرائیل کے بادشاہ نے یہوسفط سے کہا:‏ ”‏مَیں اپنا بھیس بدل کر میدانِ‌جنگ میں جاؤں گا۔ لیکن آپ اپنا شاہی لباس پہنے رکھنا۔“‏ پھر اِسرائیل کے بادشاہ نے بھیس بدلا اور میدانِ‌جنگ میں گیا۔ 31 سُوریہ کے بادشاہ نے اپنے رتھوں کے 32 سپہ‌سالاروں کو یہ حکم دیا تھا:‏ ”‏اِسرائیل کے بادشاہ کے سوا کسی سے بھی نہ لڑنا پھر چاہے وہ کوئی معمولی سپاہی ہو یا کوئی اعلیٰ افسر۔“‏ 32 جیسے ہی رتھوں کے سپہ‌سالاروں نے یہوسفط کو دیکھا، وہ سوچنے لگے:‏ ”‏ضرور یہی اِسرائیل کا بادشاہ ہوگا۔“‏ اِس لیے وہ اُن پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ اِس پر یہوسفط مدد کے لیے پکارنے لگے۔ 33 جب رتھوں کے سپہ‌سالاروں نے دیکھا کہ یہ اِسرائیل کا بادشاہ نہیں ہے تو وہ فوراً مُڑ گئے اور یہوسفط کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔‏

34 لیکن ایک آدمی نے ایسے ہی ایک تیر چلایا جو اِسرائیل کے بادشاہ کے بکتر کے جوڑوں میں سے گزر کر اُسے جا لگا۔ اِس لیے بادشاہ نے اپنے رتھ‌بان سے کہا:‏ ”‏رتھ موڑو اور مجھے میدانِ‌جنگ*‏ سے باہر لے جاؤ۔ مَیں بُری طرح زخمی ہو گیا ہوں۔“‏ 35 پورا دن لڑائی زوروں پر رہی اور بادشاہ کو سہارا دے کر سُوریانیوں کے سامنے رتھ میں کھڑا رکھنا پڑا۔ اُس کے زخم سے خون نکل نکل کر جنگی رتھ میں گِرتا رہا اور شام تک وہ مر گیا۔ 36 جب سورج غروب ہونے والا تھا تو خیمہ‌گاہ میں یہ اِعلان کِیا گیا:‏ ”‏ہر کوئی اپنے شہر کو چلا جائے!‏ ہر کوئی اپنے علاقے کو چلا جائے!‏“‏ 37 اِس طرح اِسرائیل کا بادشاہ مر گیا اور اُسے سامریہ لایا گیا اور وہاں دفنایا گیا۔ 38 جب اُنہوں نے سامریہ کے تالاب کے پاس جنگی رتھ کو دھویا تو کُتوں نے وہاں اُس کا خون چاٹا اور فاحشائیں وہاں نہائیں۔‏*‏ اِس طرح وہ بات پوری ہوئی جو یہوواہ نے فرمائی تھی۔‏

39 اخی‌اب کی باقی کہانی اور جو کچھ اُس نے کِیا اور ہاتھی‌دانت کا جو محل اُس نے تعمیر کروایا اور وہ سب شہر جو اُس نے بنوائے، اُن کے بارے میں تفصیل اِسرائیل کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 40 پھر اخی‌اب اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گیا*‏ اور اُس کا بیٹا اخزیاہ اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

41 آسا کے بیٹے یہوسفط اِسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کی حکمرانی کے چوتھے سال میں یہوداہ کے بادشاہ بنے تھے۔ 42 جب یہوسفط بادشاہ بنے تو وہ 35 سال کے تھے اور اُنہوں نے 25 سال تک یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُن کی والدہ کا نام عزوبہ تھا جو سِلحی کی بیٹی تھیں۔ 43 وہ پوری طرح سے اُس راہ پر چلتے رہے جس پر اُن کے والد آسا چلے تھے۔ وہ اُس راہ سے نہیں پھرے اور اُنہوں نے وہی کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔ لیکن اُونچی جگہیں نہیں ڈھائی گئیں اور لوگ ابھی تک اُونچی جگہوں پر قربانیاں پیش کر رہے تھے تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے۔ 44 یہوسفط نے اِسرائیل کے بادشاہ کے ساتھ صلح برقرار رکھی۔ 45 یہوسفط کی باقی کہانی اور اُن کے کارناموں*‏ اور اُن جنگوں کے بارے میں تفصیل جو اُنہوں نے لڑیں، یہوداہ کے بادشاہوں کے زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھی ہے۔ 46 اُنہوں نے ملک سے مندر کے جسم‌فروش مردوں کو بھی نکال دیا جو اُن کے والد آسا کے زمانے میں باقی رہ گئے تھے۔‏

47 اُس وقت ادوم میں کوئی بادشاہ نہیں تھا بلکہ ایک نگران بادشاہ کے طور پر حکمرانی کر رہا تھا۔‏

48 یہوسفط نے ترسیس کے جہاز*‏ بھی بنوائے تاکہ اُنہیں سونا لینے کے لیے اوفیر بھیجا جا سکے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ وہ جہاز عِصیون‌جابر میں تباہ ہو گئے۔ 49 اُس وقت اخی‌اب کے بیٹے اخزیاہ نے یہوسفط سے کہا تھا:‏ ”‏میرے خادموں کو اپنے خادموں کے ساتھ جہازوں پر جانے دیں۔“‏ لیکن یہوسفط اِس پر راضی نہیں ہوئے تھے۔‏

50 پھر یہوسفط اپنے باپ‌دادا کی طرح فوت ہو گئے*‏ اور اُنہیں اُن کے بڑے بزرگ داؤد کے شہر میں اُن کے باپ‌دادا کے ساتھ دفنایا گیا اور اُن کا بیٹا یہورام اُن کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

51 اخی‌اب کا بیٹا اخزیاہ یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط کی حکمرانی کے 17ویں سال میں سامریہ میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اور اُس نے دو سال اِسرائیل پر حکمرانی کی۔ 52 وہ ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے اور اُسی راہ پر چلتا رہا جس پر اُس کا باپ، اُس کی ماں اور نِباط کا بیٹا یرُبعام چلے تھے جس نے اِسرائیل سے گُناہ کرایا تھا۔ 53 وہ اپنے باپ کی طرح بعل کی پرستش کرتا رہا اور اُس کے سامنے جھکتا رہا اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ کو غصہ دِلاتا رہا۔‏

یا ”‏ٹھیس نہیں پہنچائی تھی؛ نہیں ڈانٹا تھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏لائق“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مَیں اُس راستے جانے والا ہوں جو ساری دُنیا کا ہے۔“‏

یا ”‏آپ دانش‌مندی سے کام لو گے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دریائے‌یردن“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

یا ”‏صلح کے“‏

یا ”‏صلح کے“‏

یا ”‏شاہی گھرانہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بڑی“‏

یا ”‏چھوٹا لڑکا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور مجھے باہر جانے اور اندر آنے کا نہیں پتہ۔“‏

یا شاید ”‏مشکل۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏بھاری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جانیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مُقدمے سُن سکو۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہارے دن لمبے کروں گا۔“‏

یا ”‏شراکت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کا خوف رکھنے لگے“‏

یا ”‏حاکموں“‏

یعنی دریائے‌فرات

‏ 3300 کلوگرام؛ 6600 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 6600 کلوگرام؛ 13 ہزار 200 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ہِرن کی ایک قسم

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب

یہ تعداد عبرانی صحیفوں کے کچھ نسخوں اور 2تو 9:‏25 میں دی گئی ہے۔ دوسرے نسخوں میں یہاں 40 ہزار لکھا ہے۔‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

یا ”‏سمجھ سے بھرا“‏

یا ”‏کہاوتیں“‏

یا ”‏اُڑنے والے جان‌داروں،“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏سے محبت کرتے رہے تھے۔“‏

‏ 32 لاکھ کلوگرام؛ 44 لاکھ لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 4400 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏معاہدہ کِیا۔“‏

یا ”‏وزن اُٹھانے والے“‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 8.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک ہاتھ 5.‏44 سینٹی میٹر (‏5.‏17 اِنچ)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر کی ہیکل۔“‏ غالباً یہاں مُقدس خانے کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏لمبائی“‏

یہاں مُقدس خانے کی بات ہو رہی ہے۔‏

یعنی مُقدس‌ترین خانے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دائیں“‏

یعنی گھر میں

یعنی مُقدس خانہ جو مُقدس‌ترین خانے کے سامنے تھا

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تیل کی لکڑی۔“‏ غالباً حلب چیڑ کی لکڑی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اندر اور باہر“‏

غالباً یہاں دروازوں کی چوکھٹ کی بناوٹ یا دروازوں کے ناپ کی بات ہو رہی ہے۔‏

یہاں مُقدس خانے کی بات ہو رہی ہے۔‏

غالباً یہاں دروازوں کی چوکھٹ کی بناوٹ یا دروازوں کے ناپ کی بات ہو رہی ہے۔‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک ہاتھ 5.‏44 سینٹی میٹر (‏5.‏17 اِنچ)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏چار اطراف والی؛ مستطیل“‏

یا ”‏ڈیوڑھی“‏

یا ”‏ڈیوڑھی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏برآمدے کے گھر“‏

یا ”‏کانسی۔“‏ اِس آیت اور اِس باب کی اگلی آیتوں میں جہاں تانبے کا ذکر ہے، وہ کانسی بھی ہو سکتی ہے۔‏

یا ”‏اور اُس کا گھیرا ناپنے کے لیے 12 ہاتھ لمبی ڈوری لگتی تھی۔“‏

یہاں مُقدس خانے کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏جنوبی“‏

معنی:‏ ”‏وہ ‏[‏یعنی یہوواہ‏]‏ مضبوطی سے قائم کرے۔“‏

یا ”‏شمالی“‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏طاقت سے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک سمندر“‏

یا ”‏اور اُس کا گھیرا ناپنے کے لیے 30 ہاتھ لمبی ڈوری لگتی تھی۔“‏

تقریباً 4.‏7 سینٹی میٹر (‏9.‏2 اِنچ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک بت 22 لیٹر (‏18.‏5 گیلن)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏پانی والی گاڑیاں“‏

یعنی وہ سلاخ جس پر پہیا گھومتا ہے

یا ”‏ہر حوض کا قطر چار ہاتھ تھا۔“‏

یا ”‏یردن“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہیکل کے گھر“‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

یعنی جھونپڑیوں کی عید

یا ”‏اور وہ شخص اُسے بددُعا دے۔“‏ یہاں ایسی قسم کی بات ہو رہی ہے جس کے تحت جھوٹی قسم کھانے یا قسم توڑنے والے پر سزا کے طور پر لعنت ہوتی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏لعنت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏لعنت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بُرا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نیک“‏

یا ”‏مصیبت میں ڈالے“‏

یا ”‏گھاس کے ٹڈے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُنہیں اُس کے دروازوں کے ملک میں“‏

یا ”‏تیری شہرت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے بازو“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏وہ جو بھی تجھ سے مانگیں،“‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏حمات میں داخل ہونے کے مقام“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آٹھویں“‏ یعنی دوسرے سات دن کے عرصے کے بعد اگلے دن

یا ”‏خاص“‏

یا ”‏خاص“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کہاوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی نظر میں وہ شہر صحیح نہیں تھے۔“‏

یا شاید ”‏ناکارہ سرزمین“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مِلّو۔“‏ یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کا معنی ”‏بھرنا“‏ ہے۔‏

یا ”‏شادی کے تحفے؛ جہیز“‏

یا ”‏مضبوط کرائے۔“‏

یا ”‏مِلّو۔“‏ یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کا معنی ”‏بھرنا“‏ ہے۔‏

یا ”‏شراکت“‏

یا ”‏بحیرۂ‌قلزم“‏

یا ”‏پہلیاں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بادشاہ سے کوئی بھی بات چھپی نہیں تھی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس میں روح باقی نہ رہی۔“‏

یا ”‏باتوں“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک قسم کا تاردار ساز

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بادشاہ سلیمان کے ہاتھ کے مطابق“‏

ایک مِثقال 4.‏11 گرام (‏367.‏0 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یہ ایسی ڈھالیں تھیں جو اکثر تیرانداز اُٹھاتے تھے۔‏

عبرانی صحیفوں میں ذکرکردہ ایک مینا 570 گرام (‏35.‏18 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

اِنجیر کی طرح کا ایک پھل

یا شاید ”‏مصر سے اور قوعی سے آتے تھے اور بادشاہ کے تاجر اُنہیں قوعی سے خرید کر لاتے تھے۔“‏ شاید یہاں قوعی سے مُراد کِلکیہ ہے۔‏

یا ”‏برآمد کرتے“‏

یا ”‏نہ تو تُم اُن سے شادی بیاہ کرنا“‏

یا ”‏اُن کی بیویوں کا اُن پر بہت زیادہ اثر تھا۔“‏

یا ”‏مائل کر لیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ“‏

یہ حکمرانی کرنے والی ملکہ نہیں تھی۔‏

یا شاید ”‏اُس کا دودھ چھڑایا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے ہیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مار ڈالا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے خلاف ہاتھ اُٹھانے لگا۔“‏

یا ”‏مِلّو۔“‏ یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کا معنی ”‏بھرنا“‏ ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

یا ”‏ظالمانہ“‏

یہاں جو عبرانی لفظ اِستعمال ہوا ہے، اُس کا مطلب ”‏بچھو“‏ بھی ہے۔ یہ عبرانی لفظ اِست 8:‏15 میں بھی اِستعمال ہوا ہے۔‏

یہاں جو عبرانی لفظ اِستعمال ہوا ہے، اُس کا مطلب ”‏بچھو“‏ بھی ہے۔ یہ عبرانی لفظ اِست 8:‏15 میں بھی اِستعمال ہوا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیموں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چُنے ہوئے“‏

یا ”‏مضبوط کِیا“‏

یا ”‏مضبوط کِیا۔“‏

یا ”‏چربی ملی راکھ“‏ یعنی قربان کیے جانے والے جانوروں کی چربی سے گیلی ہو جانے والی راکھ

یا ”‏فالج‌زدہ ہو گیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ بھر دیتا تھا“‏

یا ”‏تُم اُس سے یہ یہ کہنا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیوار پر پیشاب کرنے والے ہر شخص۔“‏ یہ عبرانی اِصطلا‌ح مردوں کے لیے حقارت ظاہر کرنے کے لیے بولی جاتی تھی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ ڈالوں گا،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کو کاٹ ڈالے گا۔“‏

یعنی دریائے‌فرات

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دوڑنے والوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

جسے ابی‌یاہ بھی کہا گیا ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

یہاں اِستعمال ہونے والی عبرانی اِصطلا‌ح کا تعلق شاید اُس لفظ سے ہے جس کا مطلب ”‏گوبر“‏ ہے۔ اِسے حقارت ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏

یعنی مادرملکہ کے عہدے سے

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مضبوط کرنے؛ دوبارہ تعمیر کرنے“‏

یا ”‏کے علاقے میں آ سکے اور نہ کوئی باہر جا سکے۔“‏

یا ”‏عہد“‏

یا ”‏عہد“‏

یا ”‏مضبوط کرنا؛ دوبارہ تعمیر کرنا“‏

یا ”‏مضبوط کِیا؛ دوبارہ تعمیر کِیا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏طاقت،“‏

یا ”‏مضبوط کیے تھے؛ دوبارہ تعمیر کیے تھے،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏طاقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

یعنی یرُبعام کے بیٹے ندب کو

یا ”‏اُس کے خون کا بدلہ لینے والوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیوار پر پیشاب کرنے والے ایک بھی شخص۔“‏ یہ عبرانی اِصطلا‌ح مردوں کے لیے حقارت ظاہر کرنے کے لیے بولی جاتی تھی۔‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

معنی:‏ ”‏سمر قبیلے کا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏طاقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

معنی:‏ ”‏میرا خدا یہوواہ ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جس کے سامنے مَیں کھڑا ہوتا ہوں،“‏

یا ”‏یردن“‏

یا ”‏میرا آپ سے کیا لینا دینا؟“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جس کے سامنے مَیں کھڑا ہوتا ہوں،“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دو بیساکھیوں پر لنگڑاتے رہیں گے؟“‏

یا شاید ”‏سفر پر گیا ہو۔“‏

یا ”‏نبیوں جیسا برتاؤ“‏

تقریباً 10 کلوگرام؛ تقریباً 15 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏وادیِ‌قِیسون“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان اُن کی جان جیسی نہ بنا دی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کے لیے“‏

یا ”‏نبی والے لباس“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

معنی:‏ ”‏خدا نجات ہے۔“‏

یا ”‏نبی والا لباس“‏

یا ”‏جنگی لباس پہننے والے کو جنگی لباس اُتارنے والے کی طرح شیخی نہیں مارنی چاہیے۔“‏

یا ”‏جھونپڑیوں“‏

یا ”‏ضلعوں“‏

یا ”‏جھونپڑیوں“‏

یا ”‏بُری طرح قتل کِیا۔“‏

یعنی اگلے موسمِ‌بہار

یا ”‏شمار“‏

یعنی موسمِ‌بہار میں

یا ”‏اٹوٹ محبت کرتے ہیں۔“‏

یا ”‏گلیاں مقرر کرنا“‏

یا ”‏عہد“‏

ایسا لگتا ہے کہ اِصطلا‌ح ”‏نبیوں کے بیٹوں“‏ نبیوں کے ایک گروہ یا پھر اُس مدرسے کی طرف اِشارہ کرتی ہے جہاں نبیوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور قبضہ بھی کر لیا!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تُم نے خود کو وہ کام کرنے کے لیے بیچ دیا ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیوار پر پیشاب کرنے والے ہر شخص۔“‏ یہ عبرانی اِصطلا‌ح مردوں کے لیے حقارت ظاہر کرنے کے لیے بولی جاتی تھی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس نے خود کو ایسے کام کرنے کے لیے بیچ دیا“‏

یہاں اِستعمال ہونے والی عبرانی اِصطلا‌ح کا تعلق شاید اُس لفظ سے ہے جس کا مطلب ”‏گوبر“‏ ہے۔ اِسے حقارت ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دھکیلتے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے مُنہ میں گمراہ کرنے والی روح بن جاؤں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے مُنہ میں گمراہ کرنے والی روح ڈالی ہے“‏

یا ”‏قوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خیمہ‌گاہ“‏

یا شاید ”‏جنگی رتھ کو دھویا جہاں فاحشائیں نہاتی تھیں تو کُتوں نے اُس کا خون چاٹا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏طاقت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ساتھ لیٹ گئے“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں